Ayahs 4:128–130(128 ۔ 130) ۔ ابو داؤد، ترمذی، اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے جس کو مستدرک حاکم میں روایت کیا جاکر صحیح کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ام المومنین سودہ ؓ حضرت ﷺ کی بی بی جب ضعیف ہوگئیں تو ان کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید آنحضرت ﷺ ان کو چھوڑدیں گے۔ اس لئے انہوں نے اپنی باری کی رات حضرت عائشہ ؓ کو ہبہ کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 سو اس شان نزول کے مفسروں نے اور شان نزول جو اس آیت کی بیان کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قصہ پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ اصل شان نزول وہی ہے جو صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر بیان کی ہوئی ہے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ عورت اپنے شوہر کی بےدلی اور بےتوجہی دیکھ کر اس کے خوش کرنے کو اپنے مہر یا حق نان و نفقہ میں سے کچھ دیوے تو مرد ضرور راضی ہوجائے گا۔ کیونکہ انسان کے جی میں مال کی حرص ہے اس لئے مال کی بچت سب کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح شب باشی کی نوبت میں اگر عورت کچھ چھوڑدے تو اس پر بھی صلح ہوسکتی ہے۔ اور جدائی سے صلح اللہ کے نزدیک بہتر ہے اسلئے جو میاں بی بی خدا کا خوف کر کے آپس میں حسن سلوک سے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کا نیک بدلہ دینے سے بیخبر نہیں ہے۔ میاں بی بی کے حسن سلوک کی رغبت کا ذکر جو آیت میں ہے اس کی تفسیر جناب ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ کسی شخص کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک سے گذران کا کرنا اس شخص کے ایمان داری کی نشانی ہے۔ چناچہ ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2۔ سنن اربعہ صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ازواج مطہرات میں باری باری ٹھہرا کر یہ فرمایا کرتے تھے کہ یا اللہ یہ میری وہ تقسیم و باری ہے جو میرے اختیار میں ہے اور جو بات میرے اختیار سے باہر اور تیرے ید قدرت میں ہے اس پر مجھ کو ملامت نہ فرمائی جائے اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو مرسل کہا ہے۔ لیکن ابن حبان اور حاکم نے اس کو متصل اور صحیح کہا ہے 1۔ اس حدیث کے معنی میں علماء نے لکھا ہے کہ جس شخص کی مثلا دو بیبیاں ہوں ان میں باری کے ٹھہرانے میں اور روٹی کپڑے میں برابر کا برتنا آدمی کے اختیار میں ہے۔ رہی ذاتی الفت اس میں عام لوگ تو درکنار اس حدیث کے موافق یہ امر انبیاء کے اختیار سے بھی باہر ہے۔ اس صورت میں آیت و لن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم کے یہ معنی ہیں کہ دلی الفت میں برابری کا برتنا انسان کے اختیار سے باہر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی کمی بیشی کو تو معاف کیا۔ لیکن اس کی کمی بیشی کو اس حدت تک نہ پہنچانا چاہیے کہ رفتہ رفتہ ایک عورت کو بالکل بیخبر ی سے اندھیر میں رکھو کہ نہ اس کے ساتھ خود اختیاری امور میں برابری برتو نہ اس کو بالکل چھوڑ ہی دو کہ وہ اور کسی سے نکاح کرلے۔ اب آگے میاں بی بی کی علیحدگی ہوجائے تو اس کا ذکر فرما کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب فضل اور صاحب تدبیر ہے اور اس کے فضل سے ناامید نہ ہونا چاہیے اس کے فضل سے کچھ دور نہیں کہ اس جدائی اور علیحدگی کے بعد بھی میاں بی بی دونوں کے لئے کوئی اور بہتر صورت نکال دے۔ صحیح مسلم، ابو داؤد، نسائی ترمذی، وغیرہ میں ام سلمہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سلمہ ؓ سے میرا نکاح آنحضرت ﷺ سے ہوا 2۔ اس طرح کی مثالیں شریعت کی کتابوں میں اور تجربہ کے حالات میں اور بھی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے نکاح میں میاں بی بی کی مفارقت ہوجائے تو اس علیحدگی کے بعد اللہ اپنے فضل سے کبھی پہلی صورت سے بہتر نکال دیتا ہے۔
Ayahs 4:131–134(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ جس کو چاہے اپنے فضل سے خوش حال کر دے کیونکہ وہ بڑا صاحب فضل ہے ان آیتوں میں کشائش رزق بےپرواہی کار برابری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے تاکہ جو لوگ ایسے بڑے صاحب اختیار مالک کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو پوجتے یا کسی دوسرے سے اپنی حاجت روائی چاہتے ہیں ان کی نادانی معلوم ہوجائے اور جو لوگ دین اور دنیا کی بھلائی اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں دین اور دنیا کی بھلائی ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسی تنبیہ کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر اسی کی عبادت کرنا یہ ایک پرانی شریعت ہے کوئی نئی بات نہیں ہے اول صاحب شریعت نبی نوح علی السلام سے لے کر اب تک سب شریعتوں میں اسی کی تاکید ہے پھر فرمایا کہ جو اس کا منکر ہو تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے آسمان و زمین میں سب اسی کا ہے بنی آدم سے زیادہ فرمانبرداری آسمان پر اس خالق کی مخلوقات موجود ہے۔ پھر پچھلی نافرمان امتوں کی حالت یاد دلاکر فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو جس طرح اس نے نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون تک ایک نافرمانی قوم کو غارت کر کے دوسرے قوم کو اس کی جگہ پیدا کردیا۔ اسی طرح اسی زمانہ کے نافرمان لوگوں کو ہلاک کر کے دوسری مخلوق کو ان کی جگہ پدیا کر دے۔ عرب کے مشرک لوگ قیامت کے تو منکر تھے۔ اس لئے وہ دنیا میں جو کچھ بھلائی کرتے تھے فقط اسی نیت سے کرتے تھے کہ ان کی دنیا میں کچھ بہبودی ہوجئے۔ اسی طرح بعض کچے مسلمان بھی دنیا کی بہبودی پر غش تھے اس لئے فرمایا کہ جو لوگ عقبیٰ کے منکر یا عقبیٰ سے غافل ہیں اور انہوں نے اپنے سب کاموں کا دارومدار فقط دنیا پر ہی رکھا ہے وہ بڑے نادان ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے جس طرح دنیا کو چھوڑ کر ان کے بڑے بوڑھے دنیا سے اٹھ گئے ایک دن یہی حال ان کا بھی ہونیوالا ہے اور یہ تو دنیاوی حال تھا خود جتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کا اتنا بڑا انتظام کھیل تماشے کے طور پر نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ انتظام ایک بہت بڑے مقصد کے لئے کیا گیا ہے جو گھڑی گھڑی ان لوگوں کو جتلایا جاتا ہے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد ایک اور جہاد دنیا کے نتیجہ کے طور پر پیدا کیا جائے گا جس میں دنیا کے سب نیک و بد کی جزا سزا دی جائے گی۔ اس لئے ان لوگوں کو چاہیے کہ بجائے فقط دنیا کی پابندی کے دین و دنیا دونوں کے پابند ہوجائیں۔ اور دین و دنیا دونوں جہاں کی بہبودی کمائیں کہ اللہ کی بارگاہ میں دنیا کی بہبودی عقبیٰ کا ثواب سب کچھ موجود ہے۔ اور بندوں کے ہر طرح کے قول فعلوں کو وہ سنتا اور دیکھتا ہے کہ کس کا قول فعل دنیا کی نیت سے اور کس کا عقبٰی کی نیت سے ہے۔ معتبر سند سے ابن ماجہ وغیرہ میں زید بن ثابت کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص عقبیٰ کی درستی کے خیال میں لگا ہوا ہے اس نے دونوں جہانوں کا پھل پایا۔ اور جو شخص فقط دنیا کے درپے ہے دنیا تو اس کو نصیب سے زیادہ ملنے والی نہیں ہاں عقبیٰ ایسے شخص کی برباد ہے 1۔
Ayah 4:135اوپر طعمہ کے قصہ میں گزرا کہ طعمہ کی قوم کے لوگوں نے ہم قومی کی رعایت سے جھوٹی گواہی دی۔ اب ان آیتوں میں سچی گواہی ادا کرنے کی تاکید فرمائی تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر سدی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشی میں ایک مال دار شخص اور ایک محتاج شخص کا جھگڑا پیش ہوا۔ آنحضرت ﷺ کے دل میں یہ خیال گزرا کہ مال دار شخص نے محتاج شخص پر زیادوتی کی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ اس شان نزول کی بنا پر یہ آیت حاکم اور گواہ دونوں کے حکم کو شامل ہے حاکم کو تو یہ حکم ہے کہ فریقین کا بیان سننے سے پہلے کوئی رائے دل میں نہ قائم کرے اس باب میں صریح حدیث بھی حضرت علی ؓ کی روایت سے مسند امام احمد، ترمذی، ابو داؤد، صحیح ابن حبان میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ فریقین کا بیان سنے بغیر کسی مقدمہ میں کوئی حکم نہیں دینا چاہیے ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور ابن حبان نے اس کو صحیح کہا ہے 1۔ گواہوں کو اس آیت میں یہ حکم ہے کہ ان کا اپنا ذاتی یا ان کے کسی رشتہ دار کا نقصان بھی سچی گواہی کے ادا کرنے سے ہوتا ہے تو اس نقصان کے خیال سے بھی سچی گواہی کے ادا کرنے میں کچھ پس و پیش نہ کریں اور گواہی صاف لفظوں میں ادا کریں۔ نہ مال دار آدمی کا کچھ پاس کریں نہ محتاج آدمی پر کچھ ترس کھائیں کیونکہ مال دار اور محتاج ہر ایک شخص کی مصلحت اللہ کو خوب معلوم ہے خواش نفسانی کو دخل دے کر ایسی دو 2 رخی بات دبی زبان سے نہ کہیں جس سے سچی گواہی میں بل پڑ کر حاکم کو شبہ ہوجائے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو گواہ سچی گواہی میں کچھ کوتاہی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے باز پرس فرمائے گا۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس ؓ اور ابو بکرہ ؓ سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہ فرمایا ہے 2۔ گواہی میں رعایت سے کوئی بات گھڑی جائے یا دبی زبان سے کوئی دوزخی شہادت ادا کی جائے تو یہ باتیں بھی اس آیت کے حکم کے موافق جھوٹی گواہی میں داخل ہیں ان تعدلوا کا مطلب یہ ہے کہ گواہی میں خلل ڈال کر حق بات سے نہ پھرنا چاہیے۔
Ayah 4:136اوپر سچی گواہی کے ادا کرنے کی تاکید تھی ان آیتوں میں اہل کتاب کا ذکر اس تنبیہ کے لئے فرمایا کہ یہود کے ذمہ یہ ایک بڑی شہادت تھی کہ تورات کی آیتوں میں جو اوصاف نبی آخر الزمان کے ہیں ان کے موافق وہ لوگوں کے روبرو شہادت ادا کردیں۔ لیکن انہوں نے اس سچی گواہی کو چھپا کر یہ جھوٹی گواہی لوگوں کے روبرو ادا کی کہ یہ نبی وہ آخر الزمان نبی نہیں ہیں اسی پر فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اپنے آپ کو ایمان دار کہتے ہیں لیکن جب تک تورات کے عہد کے موافق یہ لوگ قرآن اور نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائیں گے تو راہ راست سے بہت دور پڑے رہیں گے۔ کیونکہ ہر ایک شریعت میں دوسری شریعت کی صداقت موجود ہے پھر جو شخص اللہ تعالیٰ کی شریعت کے احکام اللہ کے فرشتہ جبرئیل کو عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد رسول اللہ کو نہ مانے گا وہ اس وقت تک ایماندار نہیں کہلا سکتا۔ جب تک ان سب باتوں پر ایمان نہ لائے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ جو یہودی یا نصرانی میرا حال سنے گا۔ اور پھر قرآن کے کتاب آسمانی اور میرے رسول ہونے کی صداقت ادا نہ کرے گا اس کی نجات نہیں ہوسکتی 1۔ یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے ان آیتوں میں یہود کو ایمان دار اس لئے فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو تورات کا پابند کہتے تھے۔ اس لفظ ایمان دار سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جتلادیا کہ تورات کا پابند اور اس کے موافق ایمان دار وہی شخص ہوسکتا ہے جو اس کی باتیں مانے ورنہ زبانی ایمان دار بننے سے کچھ فائدہ نہیں۔
Ayahs 4:137–140(137 ۔ 140) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود کا ذکر تھا ان آیتوں میں یہود اور منافقوں کو ملا کر دونوں کا ذکر فرمایا یہود کا یہ کہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر بچھڑے کو پوجا مشرک بنے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور سے واپس آنے کے بعد ایمان دار بنے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر بنے اس کے بعد قرآن اور نبی آخر الزمان ﷺ کے انکار سے اس کفر میں اور ترقی اور زیادتی کی اور اسی حالت پر مرگئے ایسے اڑیل لوگوں کو نہ دنیا میں توبہ کی توفیق ہے نہ عقبیٰ میں ان کی بخشش کی کوئی صورت ہے کیونکہ مصلحت الٰہی کے موافق آخری زمانہ میں یہ آخری شریعت ایسی شریعت ہے جس میں پچھلی سب شریعتوں کی تصدیق ہے اس کا منکر گویا سب پچھلی شریعتوں میں ہے ایسے منکر کی بخشش کی صورت کیونکر ہوسکتی ہے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جس نے میری نافرمانی کی اس کی نجات ممکن نہیں 2 اور مسلم کی روایت کی ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہودی خواہ عیسائی میری نبوت کی تصدیق نہ کرے گا اس کی نجات نہیں ہوسکتی 3 یہ حدیثیں گویا ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر ہیں۔ اب آگے مدینہ کے منافقوں کا ذکر فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کی رفاقت چھوڑ کر مدینہ کے گردونواح کے یہود کی رفاقت جو اختیار کی ہے قیامت کے دن جہنم میں ان کو یہی رفاقت نصیب ہوگی۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ یہود کے سرداروں سے میل جول رکھنے میں اپنی عزت جو خیال کرتے ہیں یہ ان کا خیال غلط ہے عزت تو اسی کی قائم رہتی ہے جس کو اللہ عزت دے فرعون جیسے دنیا کے صاحب عزت کو اس نے ایک دم میں غارت کردیا۔ اس کے آگے یہود کے چھوٹے چھوٹے سرداروں کی عزت کی کیا اصل ہے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا یہود اور ان کے سرداروں کی عزت کا جو انجام ہوا وہ سراپا ذلت ہے جس کا ذکر سورة حشر میں آئے گا یہود کہ مدینہ کے اطراف میں بنی قینقاع بنی نضیر اور بن قریظہ یہ تین قبیلے رہتے تھے ان میں سے بنی قریظہ کا قتل ہوا اور باقی کے دونوں قبیلوں کا اخراج ہوا۔ یہود اور منافقوں کی مجلسوں میں اکثر اسلام کی اہانت ہوتی رہتی تھی۔ اور ایک شہر کی سکونت کے سبب سے کبھی کبھی بعض مسلمان بھی ان مجلسوں میں بیٹھا کرتے تھے۔ اس لئے ان کو تنبیہ فرمادی۔ کہ ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ جب اپنی مجلسوں میں آیات قرآن اور اسلام کی اعانت کیا کرتے تھے تو سورة انعام کی مکی آیت واذا رأیت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنہم (6۔ 68) کے حکم سے ایسی مجلسوں میں بیٹھنے کی ممانعت ہوچکی ہے۔ پھر ایسی مجلسوں کی نشست کیوں اختیار کی جاتی ہے اور اہانت اسلام کے سننے کا گناہ اپنے ذمہ کیوں لیا جاتا ہے صحیح مسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے رایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس جگہ کسی مسلمان شخص کو کوئی خلافت شریعت بات نظر آئے تو جہاں تک ہو سکے اس بات کو مٹادے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ضعیف درجہ ایمان کا یہ ہے۔ کہ اس خلاف شریعت بات کو دل سے برا جانے 1 یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ مجبور سے کوئی شخص کسی خلاف شریعت مجلس میں بیٹھے اور خلاف شریعت بات کا مٹانا اس کے اختیار سے خار ج ہو تو جب تک دل سے اس خلاف بات کو یہ شخص برا جانے گا اس وقت تک اس کا شمار ضعیف الایمان مسلمانوں میں ہوگا۔ ورنہ اہل مجلس کے گناہ میں یہ شخص بھی شریک ہوگا۔
Ayah 4:141اوپر منافقوں کے یہود سے میل جول رکھنے کا ذکر تھا اس آیت میں اس سبب فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ضعیف الایمان ہونے کے سب سے دور لے ہو رہے ہیں۔ مسلمان اور یہود دونوں فریق سے ظاہر دوستی اس لئے جتلاتے ہیں کہ جس فریق کا غلبہ ہو اس سے کہہ دیں کہ ہم تم تمہاری ہی خیر مناتے تھے۔ لیکن ان ظاہر باتوں سے دنیا میں ان کے جان و مال کی کچھ حفاظت ہوجائے گی عقبیٰ میں ان اوپری باتوں سے کام نہیں چلتا وہاں تو آدمی کے سب دل کے بھید اس کے آجائیں گے اور ان دل کے بھیدوں کے موافق قیامت کے دن مسلمان اور منافق دونوں فریق کا فیصلہ اللہ تعالیٰ غیب دان کے روبرو ہوگا اس وقت ان کو اس دھوکے بازی کی قدر کھل جائے گی۔ یہ بھی فرمایا کہ اے مسلمانوں یہ منافق لوگ اس دور لے اپنے میں بھی کچھ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ ان کے دل میں یہ بسی ہوئی کہ ذرا بھی تمہارا ہوا بگڑتی ہوئی دیکھیں تو تمہارے مخالفوں سے پورے طور پر جا ملیں مگر یہ خیال ان کا غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے کبھی آزمائش کی طرح احد کی لڑائی کی سی ہل چل لشکر اسلام میں آن پڑے تو وہ اور بات ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے آخر غلبہ لشکر اسلام کو ہی رہے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے آخر کو یہود منافق سب مغلوب اور ذلیل ہوئے۔ اور مسلمان جب تک احکام الٰہی کے پورے پابند رہے اس وقت تک لشکر اسلام کا غلبہ دن بدن بڑھتا گیا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد نسائی میں براء بن عازب کی اور دلائل النبوۃ بیہقی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں اور صحابہ کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ احزاب کی لڑائی کے وقت مدینہ کے گرد جب خندق کھودی جا رہی تھی اور اس میں ایک سخت پتھر نکلا تھا جس کو خود آنحضرت ﷺ نے تین دفعہ پھاؤڑا مار کر توڑا اور پہلا پھاؤڑا مارنے کے وقت کسی قدر وہ پتھر ٹوٹا تو آپ نے ملک شام فتح ہونے کی اور پھر فارس اور یمن فتح ہونے کی خبر دی اور بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے مجھ کو خبر دی ہے کہ یہ ملک میری امت کے ہاتھ پر فتح ہوں گے 1۔ اور یہ بھی ہے کہ اس خبر کو سن کر پکے مسلمان بہت خوش ہوئے اور منافقوں نے یہ کہا کہ دشمنوں کے گھیرے کے سبب سے پیشاب پاخانہ جانے کو ٹھکانہ تو ہمیں نظر میں نہیں آتا۔ پھر ہمیں کیونکر یقین آوے کہ یہ ملک فتح ہوں گے 1 اس سے معلوم ہوا کہ آخر کو مسلمانوں کے غالب ہونے کی حدیثوں سے منافق لوگ کچھ بیخبر نہیں تھے اس کے کانوں تک اللہ کے رسول کی یہ پیشین گوئی پہنچ چکی تھی مگر ضعف ایمان کے سب سے ان لوگوں کو اس پیشین گوئی کا یقین نہیں تھا۔ اس واسطے یہ لوگ یہود سے دوستی رکھتے تھے کہ شاید کبھی مسلمان مغلوب ہوجائیں اور یہود کا غلبہ ہوجائے تو اس وقت یہ دوستی کام آئے۔
Ayahs 4:142–143(142 ۔ 143) ۔ منافق لوگ اپنی نادانی سے یہ خیال کرتے تھے کہ جس طرح دنیا میں ہم نے ظاہری مسلمان بن کر مسلمانوں کو دھوکا دے دیا جس دھوکے کے سبب سے ہماری جان ہمارا مال سب کچھ مسلمانوں کے ہاتھ سے بچ گیا۔ اسی طرح قیامت کے دن خدا کے روبرو بھی ہمارا یہ دھوکا چل جائے گا۔ اور اس ظاہری اسلام پر اس دن ہماری نجات ہوجائے گی۔ ان لوگوں کے اس خیال کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس غیب دان کے ساتھ تو یہ لوگ کیا دغا بازی اور دھوکا کرسکتے ہیں۔ بلکہ ان کی دغا بازی کا وبال ان ہی پر دونوں جہان میں یہ پڑ رہا ہے کہ دنیا میں تو یہ لوگ اپنی دغا بازی کو اچھا جان کر اسی میں پڑے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علم ازلی موافق جو ان میں سے اسی حالت پر مرنے والے ہی ان کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا دنیا ودارالامتحان کے انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم کے ساتویں طبقہ ہاویہ میں ہوگا۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ اور انس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ منافق لوگ قیامت کے دن اپنے ظاہری اسلام اور نماز روزہ کا حال اللہ تعالیٰ کے روبرو بیان کر کے اپنی نجات کی خواہش اللہ تعالیٰ سے ظاہر کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ پر مہر لگا کر ان کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔ اور اعضاء کی گواہی سے ایسے لوگوں کے منافقانہ سب عمل ظاہر ہوجائیں گے 2۔
یہ حدیثیں آیت کے ٹکڑے یخادعون اللہ کی گویا تفسیر ہیں عقبیٰ کی جزا و سزا کا پورا یقین تو منافق لوگوں کے جی میں ہوتا نہیں اس لئے وہ کوئی عبادت عقبیٰ کے ثواب کی نیت سے دل لگا کر نہیں کرتے بلکہ جو کچھ کرتے ہیں وہ مسلمان کہلانے کے لئے لوگوں کے دکھانے کے طور پر کرتے ہیں مثلاً نماز جیسی چیز کو جو دین کا ایک بڑا رکن ہے۔ بےوقت اوپری دل سے اس طرح جھٹ پٹ اس کو پڑھ لیتے ہیں کہ جس کا نہ رکوع ادا ہوتا ہے نہ سجدہ صحیح مسلم، ترمذی، نسائی، اور مؤطا میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا منافق لوگ عصر کی نماز میں یہاں تک دیر کرتے کہ جب سورج غروب کے قریب پہنچ جاتا تو اس وقت جانوروں کی طرح چار ٹھونگیں زمین پر مار لیتے ہیں جن میں اللہ کے ذکر کا بہت تھوڑا موقع ان کو ملا کرتا ہے 1 یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہے جس میں منافقوں کی نماز کا ذکر ہے منافق لوگ جب مسلمانوں میں آتے تو ان کی سی کہنے لگتے۔ اور جب مخالف لوگوں میں جاتے تو ان کی سی کہنے لگتے غرض پورے طور پر نہ ادھر تھے نہ ادھر اسی واسطے فرمایا یہ لوگ ادھر میں لٹک رہے ہیں نہ مسلمانوں میں ان کی گنی ہے نہ منکروں میں پھر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں بھٹکا ہوا قرار پا چکا وہ ہرگز راہ راست پر نہیں آسکتا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا منافق شخص کی مثال ایسی ہے جس طرح بھٹکی ہوئی بکری بکریوں میں دو ریوڑ دیکھ کر کبھی ایک ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی دوسرے میں 2۔ منافقوں جس سر گردانی کی حالت کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے کہ منافق لوگ گھڑی مسلمانوں کے گروہ میں ہیں گھڑی منکروں کے۔
Ayahs 4:144–147(144 ۔ 147) ۔ اوپر ذکر تھا کہ منافق لوگ یہود سے میل جول رکھتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ وہ منافقوں کی سی عادت اختیار نہ کریں تفسیر خازن وغیرہ میں ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض انصار اور یہود میں ہجرت سے پہلے کی دوستی اور دودھ پلانے کی رشتہ داری تھی ان انصارے اس تعلق کے باقی رکھنے کا مسئلہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا 3 اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا منافقوں کی عادت ہے جن کا ٹھکانہ جہنم کا ساتواں طبقہ ہے جس میں اور طبقوں سے زیادہ عذاب ہے کیونکہ ان لوگوں نے دنیا میں دلی کفر کے سوا ظاہری اسلام جتلا کر ایک طرح کی دغا بازی اللہ اور اللہ کے رسول سے کی تھی جس کے سبب سے ان کی سزا میں قیامت کے دن سختی ہوگی اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص منافقوں کی سی عادتیں اختیار کرتا ہے وہ اللہ کی خفگی اور اس کے عذاب کا ایک سبب مول لیتا ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے جنت کے ساتوں طبقوں کے درجات اور دوزخ کے ساتویں طبقوں کو درکات کہتے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھے رفیق کی مثال مشک پاس رکھنے والے شخص کی ہے کہ کبھی نہ کبھی اس سے کچھ فائدہ ضرور پہنچے گا زیادہ نہیں خوشبو ہی کا فائدہ سہی اور برے رفیق کی مثال کھال نوچنے والے شخص کی سی ہے کہ کبھی نہ کبھی اس سے نقصان ضرور پہنچے گا۔ زیادہ نہیں تو کبھی کوئی آگ کا پتنگا اڑ کر آن پڑے گا۔ جس سے کپڑے جل جائیں گے 1۔ حاصل یہ ہے کہ نیک صحبت سے نیک اثر پڑنے کی امید ہے اور بری صحبت سے برا اثر پڑنے کا خوف ان آیتوں میں مخالف دین لوگوں سے میل جول رکھنے کی جو ممانعت ہے یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ پھر فرمایا کہ دنیا میں تو یہ منافق لوگ یہود کی دوستی کے بھروسے پر ہیں لیکن عقبیٰ میں دوزخ کے عذاب سے بچانے کی مدد ان کو کسی سے نہ پہنچے گی یہ اس لئے فرمایا کہ کلمہ گو گناہ گاروں کو اپنے دوستوں سے شفاعت کی مدد ملے گی جس کا ذکر شفاعت کی صحیح 2 حدیثوں میں ہے جن منافق لوگوں کی اوپر مذمت تھی ان کی نجات کے لئے بطور استثنا کے یہ چار باتیں فرمائیں ایک تو یہ کہ ان لوگوں نے اب تک جو دو ولی کی باتیں کی ہیں ان پر یہ نادم ہوں عبد اللہ مغفل ؓ سے مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پچھلے گناہوں پر انسان کا نادم ہونا یہی توبہ ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 3۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس مذامت کے بعد آئندہ برے کاموں سے بچنے اور نیک کاموں میں مشغول ہونے کی کوشش کی جائے تاکہ اس مذامت کی ظاہر میں صداقت ہوجائے اور نیکیوں سے پچھلی بدیوں کا کفارہ ہوجائے۔ معتبر سند سے امام احمد اور ترمذی میں ابوذر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان سے کوئی برا کام ہوجائے تو اس کے بعد نیک کام ضرور کرنا چاہیے۔ تاکہ نیکی سے بدی کا کفارہ ہوجائے 4۔ تیسری بات یہ کہ اللہ کا سہارا مضبوط پکڑو جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں طاعت کے بجا لانے اور گناہ سے بچنے کے احکام جو نازل فرمائے ہیں دوزخی کو چھوڑ کر ان احکام کی پابندی مضبوطی سے کی جائے۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پچھلی امتیں اللہ کے رسولوں سے اختلاف کرنے کے سبب سے ہلاکت میں پڑگئیں 1 اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول جو احکام شرعی کی طرف سے لاتے ہیں جب تک انسان مضبوطی سے ان احکام کی پابندی نہ کرے تو وہ ہلاکت میں پڑجائے گا۔ چوتھی بات یہ کہ دین یہ کہ دین کا جو کام کیا جائے وہ خالص اللہ کے حکم کی تعمیل میں عقبیٰ کے اجر کی نیت سے ہو دنیا کے دکھاوے کا اس میں کچھ دخل نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ دنیا کے دکھاوے کی شراکت کا کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہے نسائی اور ابو داؤد میں معتبر سند سے ابو امامہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو کام خالص اللہ کے واسطے نہ ہو وہ اللہ کی بار گاہ میں مقبول نہیں ہوتا 2۔ اب آگے فرمایا کہ جن لوگوں میں یہ چار باتیں ہیں ان کی گنتی ان کامل ایمان داروں میں ہے جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے عقبیٰ میں بڑے بڑے اجر رکھے ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس کی شکر گزاری میں اگر انسان نے اتنا کیا کہ اللہ کو برحق معبود جانا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا تو اللہ کو کچھ ضرور نہیں کہ پھر بھی ایسے لوگوں کے عقبیٰ کے عذاب میں پکڑے صحیحین کی معاذ بن جبل ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے 3۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اگر اللہ کا یہ حق بندوں سے ادا ہوگیا تو اللہ نے اپنے بندوں کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ان کو عقبیٰ کے عذاب سے بچائے 4۔ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کی قدردانی یہ ہے کہ اس نے ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک اور اس سے بھی زیادہ ٹھہرایا ہے جیسی جس کی نیت ویسا ہی اس کا ثواب چناچہ اس کا ذکر صحیح بخاری وغیرہ 5 میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے آیا ہے ” اللہ سب جانتا ہے “ کا یہ مطلب یہ ہے کہ اس کو دل کے ارادہ اور نیت کا حال معلوم ہے اسی واسطے اس نے دل کے ارادہ اور نیت کے موافق ثواب کے درجے ٹھہرائے ہیں۔
Ayahs 4:148–149(148 ۔ 149) ۔ لڑائی کے وقت گالی کا منہ سے نکالنا منافقوں کی عادت ہے۔ چناچہ صحیحین میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی حدیث 1 میں اس کا ذکر ہے لیکن لڑائی کے وقت پہلے پہل ایک شخص گالی منہ سے نکالے اور بعد اس کے دوسرا مظلوم شخص بغیر کسی زیادہتی کے اسی گالی کے جواب میں گالی دیوے تو وہ منافقانہ عادت میں داخل نہیں ہے اس لئے منافقوں کے ذکر میں اس طرح کی لڑائی جھگڑے کا تذکرہ فرما کر مظلوم شخص کو بری بات کے وبال سے مستثنیٰ فرما دیا مگر ساتھ ہی اس کے سمیعا علیما فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظلوم شخص بدلہ میں کچھ زیادتی کرے گا تو اللہ اس کا سنتاجانتا ہے اور اس زیادتی کا مواخذہ مظلوم سے کرے گا۔ صحیح مسم، ابو داؤد، اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ آپس کے جھگڑے میں دو شخص گالیاں بکنے لگیں تو اس کا سارا وبال اس پر ہے جس نے پہلے پہل گالی منہ سے نکالی بہ شرطی کہ مظلوم شخص جواب کی حدیث سے نہ بڑ جائے 2۔ یہ حدث آیت کے ٹکڑے اِلَّا مَنْ ظُلِمَ کی پوری تفسیر ہے۔ جو شخص کسی کے گھر میں مہمانوں کے طور پر جائے اور صاحب خانہ اس مہمان کی پوری خاطر داری نہ کرے تو مجاہد کے قول کے موافق اس طرح کا مہمان بھی اِلاَّ مَنْ ظَلِمَ کے حکم میں داخل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صاحب خانہ کی واجب شکایت اس طرح کے مہمان کے منہ سے نکلے تو وہ غیبت نہ گنی جائے گی۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مہمان کی خاطر داری کا کرنا ایمان داری کی نشانی ہے 3۔ اس اب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں ان سب حدیثوں سے مجاہد کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ اس حدیثوں کے تاکیدی لفظوں کے لحاظ سے امام احمد (رح) مہمان کی خاطر داری کے واجب ہونے کے قائل ہیں 4۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم ایک رات دن اور زیادہ سے زیادہ تین دن مہمانی کی ہے۔ اس سے بڑھ کر پھر اختیاری صدقہ ہے 5۔ یہاں تک اس کا ذکر تھا کہ دو شخصوں میں سے ایک شخص دوسرے پر زیادتی کرے۔ اب آگے اس کا ذکر ہے کہ دو شخصوں میں سے ایک شخص دوسرے پر کچھ احسان کرے اس باب میں فرمایا کہ جس پر احسان کیا جائے وہ اس احسان کی شکر گزاری میں ظاہری طور پر کچھ بدلے کرے یا احسان کرنے والے کے حق میں مخفی کچھ دعائے خیر کرے تو یہ سب کچھ اللہ کو معلوم ہے۔ نسائی، ابو داؤد صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمروبن عاص ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص پر کوئی دوسرا شخص احسان کرے یا تو ظاہر اس کا کچھ بدلہ کیا جائے۔ اگر بدلہ لینا ممکن نہ ہو تو احسان کرنے والے کے حق میں دعا خیر کی جائے۔ حاکم نے اس حدیث کو شرط بخاری و مسلم پر صحیح کہا ہے 1۔ اس حدیث کا ٹکڑا آیت کے ٹکڑے ان تبدوا خیرا او تخفوہ کی تفسیر ہے۔ اور اسی تفسیر کو حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اختیار کیا ہے 2۔ اس سے آگے پہلی صورت کے متعلق مظلوم شخص کو دنیا میں ظلم و زیادتی کا بدلہ نہ لینے کی اور ظلم و زیادتی کے معاف کردینے کی یوں ترغیب فرمائی کہ باوجود بدلہ لینے اور انتقام کی قدرت کے اللہ کی عادت درگزر اور معافی کی ہے اس لئے جو مظلوم اللہ تعالیٰ کی اس عادت کے موافق دنیا میں ظلم و زیادتی کا بدلہ نہ لیوے گا بلکہ اس کو معاف کر دیوے گا تو اس کو عقبیٰ میں بڑا اجر ملے گا صحیح بخاری ومسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض مسلمان گنہگاروں کو ان کے گناہ یاد دلائے گا جب ان گناہوں کو یاد کر کے وہ لوگ خوف زدہ ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح دنیا میں تمہارے ان گناہوں کو میں نے کسی پر ظاہر ہونے نہیں دیا اسی طرح آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں 3۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی معتبر سند سے مسند امام احمد میں حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو مظلوم شخص دنیا میں ظلم و زیادتی کو معاف کردے گا۔ اور ظالم سے بدلہ نہ لے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا 4۔ اللہ تعالیٰ کی درگزر اور مظلوم کی معافی کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔ تفسیر مقاتل میں اس آیت کا شان نزول یہ بیان کی ہے کہ ایک مجلس میں آنحضرت ﷺ بھی تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی اس مجلس میں ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق کو برا بھلا کہا۔ تھوڑی دیر تک تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس شخص کا کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر کچھ جواب دیا ان کے جواب دینے کے بعد حضرت ﷺ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ کے اٹھ کھڑے ہونے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا جب تک تم نے اس شخص کا کچھ جواب نہیں دیا تھا اس وقت تک اللہ کا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے اس کا جواب دے رہا تھا۔ جب تم نے بد گوئی شروع کردی تو وہ فرشتہ چلا گیا اس لئے میں بھی اس مجلس سے اٹھ کھڑا ہوا 1۔ اس تفسیر میں یہ بات بیان کی چکی ہے اور تفسیر مقاتل ایک معتبر تفسیر ہے۔
Ayahs 4:150–152(150 ۔ 152) ۔ منافقوں کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں یہود کا ذکر ہے۔ قرآن شریف میں اکثر جگہ منافقوں کا اور یہود کا ذکر اس لئے ساتھ آیا ہے کہ منافقوں کی اور یہود کی حالت ملتی جلتی ہے کیونکہ جس طرح منافق لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو اسلام کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں اسلام کے پابند نہیں ہیں۔ بہت سی آیتیں تورات کی انہوں نے بدل ڈالی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی انہوں نے کی وہ بالکل تورات کے برخلاف ہے تورات کے موافق نبی آخر الزماں کا پہلے انہیں اقرار تھا۔ لیکن نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کے بعد ان کی نبوت کے منکر ہوگئے جو ان کا انکار تورات کے برخلاف ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ کی صحیحین میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کو وحدہ ٗ لا شریک اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور مجھ کو اللہ کا رسول جانے گا وہ جنت میں جائے گا 2۔ یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ توحید ہر رسول کی شریعت میں ہے اس لئے جو لوگ بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعضوں کو نہیں مانتے وہ توحید کے منکر اور اصل کافر ہیں۔ یہی مطلب حدیث کا ہے کہ جب تک یہود لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزماں کی نبوت کو تسلیم نہ کریں ان کی توحید پوری ہے نہ یہ جنتی ہوسکتے ہیں اسی واسطے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ بعض رسولوں کے منکر ہیں۔ منکر ہو کر اپنے آپ کو صاحب توحید اور ایمان دار جو کہتے ہیں شریعت موسوی اور شریعت محمدی کے علاوہ ان کا ایجاد کیا ہوا جدید راستہ ہے دونوں شریعتوں میں جس کا کہیں ذکر نہیں ہے اور سوائے پتہ ہونے کے اس راستہ میں یہ کتنی بڑی خرابی ہے کہ جن رسولوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنانائب ٹھہرا کر بھیجا ہے ان کی نیابت کو جھٹلایا جاتا ہے جو اللہ کی شان میں ایک جھوٹ اور کفر ہے۔ اس کے بعد عبد اللہ بن سلام وغیرہ سچے یہود کا ذکر فرمایا جو تورات کے موافق نبی آخر الزمان اور سب انبیاء (علیہم السلام) کو مانتے ہیں۔ اور فرمایا یہ لوگ پورے ایمان در ہیں ان کو عقبیٰ میں بڑا اجر ملنے والا ہے اور ان کے کچھ گناہ ہوں گے تو ان کی توحید کے سبب سے اللہ غفور الرحیم ان کے وہ گناہ معاف کر دے گا۔ اللہ توحید کے گناہ معاف ہوجانے کی عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے اور موحد اہل کتاب کے بڑے اجر کے باب میں ابو موسیٰ اشعری ؓ کی صحیحین میں حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو شخص سب انبیاء کو مانے گا۔ قیامت کے دن اس کو دہرا اجر ملے گا 1۔
Ayahs 4:153–154(153 ۔ 154) ۔ تفسیر سدی، ابن جریر وغیرہ میں سلف کی ایک جماعت سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز یہ کہا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو تختیوں پر لکھی ہوئی ساری تورات ایک ہی دفعہ اللہ کی طرف سے مل گئی تھی۔ اسی طرح یا تو سارا قرآن ایک دفعہ ہی آسمان سے لکھا ہوا تمہارے پاس آجائے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہم لوگوں کے نام ایک تحریر اللہ کی طرف سے آجائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نبی آخر الزمان ہیں۔ اس شرط کے پورا ہوجانے کے بعد ہم تم کو اللہ کا رسول مانیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 2۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ نادانی کا سوال کچھ تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ آخر یہ ان ہی کی اولاد ہیں جنہوں نے دنیا کی آنکھوں سے اللہ کو کھلم کھلا دیکھنا چاہا۔ جس سے ان پر بجلی گری جس کا قصہ بقرہ میں گزرا۔ بچھڑے کو پوجا جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا اور مفصل ذکر سورة اعراف میں آئے گا۔ تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے سے انکار کیا۔ اور پھر کوہ طور ان پر ڈالے جانے کا جب خوف دلایا گیا تو اس شرارت سے باز آئے۔ بیت المقدس کے دروازے میں گھستے وقت جو سجدہ شکر کا حکم ان کو دیا گیا تھا اس کے موافق عمل نہیں کیا۔ جس کے سبب سے ان پر طاعون کا عذاب آیا وجود ممانعت کے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں۔ جس کے عذاب میں آدمی سے بندر ہوگئے۔ چناچہ سورة بقرہ میں یہ سب قصے گزرے۔ غرض جب ان کے نے یہ سب شرارتیں کیں تو ان کی اولاد میں سے حال کے لوگوں نے شرارت سے جو سوال کیا ہے اے نبی اللہ کے ان کی شرارت کا کچھ خیال نہ کرنا چاہیے۔ عقبیٰ میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا ذکر صحیح حدیثوں میں آیا ہے 1۔ اس لئے اس دنیا کی آنکھوں سے دیدار کی ممانعت سے جن لوگوں نے عقبیٰ کے دیدار کی ممانعت نکالی ہے ان کی بڑی غلطی ہے۔
Ayahs 4:155–159(155 ۔ 159) ۔ اوپر ذکر تھا کہ کوہ طور جب اٹھایا جاکر یہود کے سروں پر لایا گیا اور اس کو اس پہاڑ کے ان پر ڈال دئے جانے کا خوف دلایا گیا تو اس وقت انہوں نے تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے کا عہد کیا تھا ان آیتوں میں ذکر ہے کہ ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طرح طرح کے معجزا دیکھ کر ان کو بھلا دینے سے اور بلا وجہ زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ وغیرہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور ان لوگوں کے اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون اور پانی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لئے جس طرح مقفل اور قفل پر مہر لگے ہوئے مکان کے اندر کوئی چیز نہیں جاسکتی ان کے دل میں بھی کسی نصیحت کا اثر نہیں سما سکتا اوپر ہی رہتا ہے۔ کیونکہ کثرت گناہوں سے ان کے دلوں پر یہاں تک زنگ چھا گیا ہے کہ زنگ کا ایک غلاف دل پر چڑھ گیا ہے۔ وہ غلاف کسی حق بات کو ان کے دل تک جانے نہیں دیتا۔ ابوہریرہ ؓ سے ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ صحیح ابن حبان ‘ مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کثرت گناہوں سے آدمی کے دل کا رنگ یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ تمام دل کو غلاف کی طرح ڈھانک لیتا ہے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1۔ یہ حدیث دل پر مہر ہوجانے اور حق بات کا اثر دل پر نہ ہونے کی گویا ایک تفسیر ہے۔ غرض یہود لوگ یہ جو کہتے تھے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں ان کا مطلب اس سے یہ تھا کہ شریعت موسوی کی باتوں کا علم ہمارے دلوں پر ایسا بھرا ہوا ہے کہ کسی دوسری شریعت کی باتیں سمجھنے سے ہمارے دل پر غلاف ہیں۔ آیت اور شریعت محمدی کہ انکار کے گناہوں کے سبب سے ان کے دل پر زنگ کا غلاف چڑھ کر خدا کی طرف سے اس زنگ کی ایک مہر ان کے دل پر لگ گئی ہے جس کی وجہ سے حق بات کے سمجھنے کی گنجائش ان کے دل میں باقی نہیں رہی۔ اسی واسطے باوجود روزانہ فہمائش کے ان میں کے تھوڑے آدمی عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ راہ راست پر آئے ہیں باقی کے سب لوگ گمراہ ہیں پھر ان کے دل پر زنگ آجانے کے اور گناہوں کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے مریم ( علیہ السلام) جیسی پاک دامن بی بی پر بدکاری کا الزام لگایا اور حقیقت میں تو یہ لوگ اللہ کے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کرسکے بلکہ ایک شخص پر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت ڈال دی تھی اس کو انہوں نے قتل کیا۔ لیکن ان کی جرأت یہ ہے کہ یہ لوگ آج تک اللہ کے رسول کے قتل کے مدعی ہیں پھر فرمایا کہ یہودی۔ عیسائی کوئی اس بات میں یقینی بات نہیں کہہ سکتا بلکہ اصل بات وہی ہے جو اللہ نے فرمائی کہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا قیامت کے قریب وہ زمین پر آئیں گے اور ان کی وفات سے پہلے اس زمانہ کا کوئی اہل کتاب ایسا نہ ہوگا جو ان پر ایمان نہ لائے گا۔ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دوبارہ زمین آنا صحیح حدیثوں 2 میں آیا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر زندہ ہیں کیونکہ ایک دفعہ مرنے کے بعد پھر کوئی دوبارہ زمین پر نہیں آسکتا۔ چناچہ { قَدَ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوَْن } میں فرمایا { وَمِنْ وَرَائِہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ } ( 23۔ 100) جس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد دنیا میں کوئی نہیں آسکتا۔ یہود اور عیسائیوں کے علاوہ اہل اسلام میں سے ” مرزا قادانی “ اور ان کے معتقد جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے قائل ہیں وہ اس آیت اور ان صحیح حدیثوں کے منکر ہیں 1۔ پھر فرمایا جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی فرمانبرداری کی اور جنہوں نے نافرمانی کی ان سب کی حالت کی گواہی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے روبرو ادا کریں گے۔ پہلے تو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے طرح طرح کی مخالفت کی پھر آخر کو اس زمانے کے ستارہ پرست دمشق کے بادشاہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نسبت یہ مخبری کی کہ بیت المقدس میں ایک شخص شاہی رعایا کو بادشاہ سے بغاوت کرنے پر آمادہ کرتا ہے وہ بادشاہ یہ خبر سن کر بہت برہم ہوا اور اپنے نائب کو جو ” قدس “ میں رہتا تھا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھانے کا اس نے حکم دیا۔ یہ نائب یہود کے ایک گروہ کو ایک ساتھ لے کر اس مکان پر گیا جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ باقی قصہ وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور جس شخص کی شباہت اللہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ جیسی ہوگئی تھی اس کو ان لوگوں نے سولی پر چڑھا دیا۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ جس شخص پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت ڈالی گئی آیا وہ شخص یہودی تھا یا منافق عیسائی۔ یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پورے فرمانبرداروں میں سے تھا لیکن نسائی اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت اس میں یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا کہ جس پر میری شباہت ڈالی جاکر میری جگہ اس کو قتل کیا جائے گا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا 2۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پورے فرمانبرداروں میں سے تھا۔
Ayahs 4:160–162(160 ۔ 162) ۔ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیریں حرام ہوگئیں ان کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی۔ کہ گائے بکری کی چربی وغیرہ یہود پر ان کی سرکشی کے سبب سے یہ چیزیں حرام ہوئی تھیں لیکن مشہور تفسیروں میں یہ تذکرہ کہیں نہیں ہے کہ کب اور کس نبی کے عہد میں یہ چیزیں یہود پر حرام ہوئیں۔ اس واسطے بعض مفسروں نے یہ کہا کہ خاص کسی نبی کے وقت میں یہ چیزیں حرام نہیں ہوئیں بلکہ جیسے جیسے یہود کی شرارت بڑھتی گئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مختلف زمانوں میں یہ چیزیں ان پر حرام ہوتی گئیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے مطابق علم پر ثابت قدم اور ایمان والے وہ لوگ ہیں جو یہود میں سے شریعت محمدی کے تابع اور پابند ہوگئے مثلاً جیسے عبداللہ بن سلام ؓ و ثعلبہ بن سعید ؓ وغیرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قرأت اور ان کے مصحف میں وَالْمُقِیْمِیْنَ کی جگہ وَالْمُقِیْمُوْنَ ہے اور قیاس بھی اسی کا مقتضی ہے۔ لیکن اور سب مصحفوں میں وَالْمُقِیْمِیْنَ ہے ابوجعفر ابن جریر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کلام عرب میں جس چیز کو خاص طور پر ذکر کرنا مقصود ہوتا ہے اس کو اس طرح بولا جاتا ہے اور آیت وَالْمُوْفُوْنَ بَعَہْدِہِمْ اِذَاعَاھَدُواوَالصَّابِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآ ئِ وَالضَّرَآ ئِ (177/2) کو اپنے کلام کی تائید میں حافظ ابن جریر (رح) نے پیش کیا ہے۔ بعض سلف سے جو یہ روایت ہے کہ وَالْمُقِیْمِیْنَ کی جگہ وَالصَّابِرُوْنَ کی جگہ وَالصَّابِرِیْنَ کاتبوں کی غلطی سے لکھا گیا ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اس روایت کا ضعف اپنی تفسیر میں اچھی طرح ثابت کردیا ہے 1۔