4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 4:163–165

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو بھی وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہے جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

(163 ۔ 165) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ کی روایتوں میں ان آیتوں کی شان نزول یہ بیان کی گئ ہے کہ جب یہود نے انجیل اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کیا اور کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا کوئی کلام کسی بشر پر نازل نہیں فرمایا اور ان میں سے بعضوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن اگر کلام الٰہی ہوتا تو تورات کی طرح ایک ہی دفعہ نازل ہوتا تھوڑ تھوڑا کر کے نازل نہ ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1۔ اور فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء جن کی نبوت کو یہ لوگ مانتے ہیں۔ ان سب پر ہم نے اپنا کلام اسی طرح نازل فرمایا ہے جس طرح قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہو رہا ہے۔ پھر ان انبیاء کی نبوت کو تسلیم کرنا اور نبی آخر الزمان کی نبوت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں ایسے شبہات کا ذکر کرنا بڑی ہٹ دھرمی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی شفاعت کی بہت بڑی حدیث ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے پہلے صاحب شریعت نبی ہیں۔ 2۔ اس لئے قرآن شریف میں جہاں انبیاء کے سلسلہ کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس سلسلہ کو حضرت نوح ( علیہ السلام) (علیہ السلام) سے شروع کیا گیا ہے۔ اسباط حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نبوت پر سلف کا اتفاق ہے۔ باقی میں اختلاف ہے۔ آنحضرت ﷺ کو ملا کر 25 نبیوں کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ مسند امام احمد میں ابوذر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں جن میں تین سو پندرہ رسول ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اس حدیث کی سند کو معتبر قرار دیا ہے 3۔ غرض قرآن شریف میں سب رسولوں کا ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے فرمایا کتنے رسول جن کا احوالہ ہم نے اے نبی اللہ کے تم کو سنایا ہے اور کتنے ہیں جن کا احوال نہیں سنایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وحی میں فرشتہ کا واسطہ نہیں تھا۔ اسی واسطے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر سلسلہ سے الگ فرمایا۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا چھ باتوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اور انبیاء پر بزرگی اور فضیلت دی ہے ایک 1۔ تو تھوڑے لفظوں میں بہت سے مطلب کا بیان۔ دوسرے 2 فقط رعب سے لشکر اسلام کی فتح کا سامان ہوجانا۔ تیسرے 3 لوٹ کے مال کا شریعت محمدی میں حلال ہونا۔ چوتھے 4 روئے زمین پر ہر جگہ شریعت محمدی میں نماز کا جائز ہونا۔ پانچویں 5 میری نبوت کا تمام خلائق کے لئے عام ہونا۔ چھٹے 6 میرا خاتم النبیین ہونا 1۔ معتبر سند سے ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا میں سب اولاد آدم کا سردار ہوں 2۔ غرض اس قسم کی احادیث کے سبب سے علمائے سلف اس پر متفق ہیں کہ نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ افضل انبیاء ہیں لیکن صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں 3 ہیں ان میں خود آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے لوگوں کو اس سے منع فرمایا ہے کہ وہ انبیاء کی فضیلت باہمی میں بحث مباحثہ کر کے بعض انبیاء کی کسر شان کے درپے ہوں۔ اس لئے امت کے ہر صاحب احتیاط آدمی کو چاہیے کہ جس حد تک یہ مسئلہ شریعت میں ہے اس حد کا پابند رہے۔ اس حد سے آگے نہ بڑ ہے۔ چناچہ اس مسئلہ کے متعلق یہی فیصلہ َآیت تلک الرسل بعضہم علی بعض کی تفسیر میں گزرچکا ہے۔ شریعت میں اس مسئلہ کی مثال تقدیر کے مسئلہ کی سی ہے کہ اس مسئلہ میں حضرت ﷺ نے کچھ کچھ حال تقدیر کا چند حدیثوں 4 میں فرمایا اور پھر بحث مباحثہ کو اس مسئلہ میں منع فرمایا۔ اور معتبر سند کی طبرانی کی عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث میں یہ فرمایا کہ اس مسئلہ میں سکوت اولیٰ 5 ہے۔ اب آگے رسول کی خدمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمانبرداروں کو عقبیٰ کے اجر کی خوش خبری کا سنانا اور نافرمان لوگوں کو عقبیٰ کے عذاب سے ڈرانا یہ اللہ کے رسولوں کی خدمت ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا اس لئے ہے کہ قیا مت کے دن کسی کو عذر کی جگہ نہ رہے کہ اللہ کی مرضی اور ناراضی کی باتیں ہم کو معلوم نہ تھیں۔ صحیحین میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ سے بڑھ کر عذر کا قبول کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔ جس نے لوگوں کی انجانی کا عذر رفع کرنے کے لئے رسولوں کو بھیجا کتابیں نازل فرمائیں 1۔ مسند امام احمد صحیح بخاری اور نسائی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس شخص کی عمر ساٹھ برس کی ہوگی اس کو دین کی باتیں سمجھنے کا پورا موقع مل گیا۔ اس لئے ایسے شخص کا انجانی کا عذر خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہ ہوگا 2۔ آخر کو فرمایا کہ نافرمانی لوگوں سے بدلا لینے میں وہ زبردست ہے اس کے عذاب کو اس کی بلا مرضی کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ہر وقت کی مصلحت کے موافق شریعت کے احکام نازل فرمانے میں وہ ایسا صاحب حکمت ہے جس کی حکمت کے بھید اسی کو معلوم ہیں۔
Ayahs 4:166–170

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) ہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ۔ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

(166 ۔ 170) ۔ تفسیر ابن جریر، تفسیر خازن وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن کلام الٰہی ہے پھر تم اس کی صدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے۔ یہود نے یہ بات سن کر آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے اللہ کے کلام ہونے کی گواہی دینے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3 اور فرمایا اے رسول اللہ کے اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو۔ اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا ہے۔ اس لئے اہل مکہ نہ اس جیسا کلام بنا سکتے ہیں نہ اس میں پہلی کتابوں کی باتوں کو یہ اہل کتاب جھٹلا سکتے ہیں۔ لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اور وہاں سے زمین پر سب ملائکہ کے سامنے اس قرآن کا نزول ہوا ہے۔ اس واسطے سب فرشتے گواہی دیں گے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ پھر فرمایا ایک سچی گواہی سے یہ جھوٹے لوگ اگر مکر گئے تو اس سے کیا ہوتا ہے اللہ کی گواہی تمہارے رسول اور قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد فرمایا باوجود اس قدر معتبر گواہی کے بھی یہ لوگ قرآن کے منکر اور اللہ نے جو قرآن میں اپنی رضا مندی کا راستہ ان کو بتلایا ہے اس سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی بڑی گمراہی ہے۔ پھر فرمایا کہ ایک توبہ لوگ خود گمراہ ہیں۔ دوسرے انہوں نے یہ ظلم کیا کہ اور عام لوگوں کے دل میں بھی طرح طرح کے شک ڈال کر ان کو بھی گمراہ کیا ایسے لوگ اللہ کے علم میں جہنمی ٹھہر چکے ہیں اس واسطے سوائے جہنم کے راستے کے ان کے لئے اور کوئی راستہ نہیں اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخیوں کا ہمیشہ دوزخ میں رہ کر طرح طرح کے عذاب کا بھگتنا اور پھر جیتے رہنا انسان کی سمجھ کے آگے کچھ مشکل نہیں۔ اس کی قدرت کے آگے بڑے بڑے سب مشکل کام آسان ہیں۔ یہاں مختصر طور پر یہ فرمایا کہ یہ اللہ پر آسان ہے لیکن اور آیتوں میں انسان کی سمجھ کے موافق اس کی تفصیل بھی فرما دی ہے۔ چناچہ اس سورت میں اوپرگزر چکا ہے 1 کہ دوزخیوں کی جوں جوں کھال جلتی جائے گی اس کے معاوضہ میں فورا دوسری کھال بدل دی جائے گی اور سورة فاطر میں آئے گا لا یُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا (35۔ 36) جس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخیوں کی قبض روح کا حکم نہ ہوگا اس لئے باوجود طرح طرح کے عذاب کے ان کی جان نہ نکلے گی۔ اوپر اللہ اور اللہ کے فرشتوں کی گواہی سے آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے اور قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کا ذکر فرمایا تھا۔ یہاں اہل مکہ اہل کتاب سب کو فرمایا کہ اے لوگو یہ اللہ کے رسول اللہ کا سچا کلام لے کر تمہارے پاس آئے ہیں اگر تم اس کو مان لو گے تو اس میں تمہارا بھلا ہے ورنہ اللہ کو تمہارے ایمان تمہاری عبادت کی کچھ پرواہ نہیں زمین و آسمان سب جگہ میں اللہ کی حکومت ہے اور آسمان پر تم سے زیادہ عبادت کرنے والے اللہ کے فرشتے موجود صحیح مسلم ‘ ترمذی وغیرہ میں ابوذر ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سارے جن و انس ایمان دار اور نیک ہوجائیں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا۔ اور اگر یہ سب بد ہوجائیں تو اس کی بادشاہت میں سے کچھ گھٹ نہ جائے گا 2 حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ عَلِیْمًا کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کو سب کے نیک و بد کام ہر ایک معلوم ہیں ایک دن ان سب کی جزا و سزا ہونے والی ہے حَکِیْمًا کا یہ مطلب یہ ہے کہ اس نے یہ آخری شریعت وقت کی مناسبت سے اپنی حکمت کے موافق بھیجی ہے۔
Ayahs 4:171–173

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور اس کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور خدا ہی کارساز کافی ہے۔

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندہ ہوں اور نہ مقرب فرشتے عار رکھتے ہیں اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کا پورا بدلہ دے گا۔ اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا اور جنہوں نے (بندہ ہونے سے) عار وانکار اور تکبّر کیا ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔

171 ۔ 173) ۔ غلو کہتے ہیں حد سے گزر جانے کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے اور یہود ان کی حقارت میں حد سے گزر کر طرح طرح کی گستاخی کی باتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی شان میں کہتے تھے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کہتا ہے اور ایک فرقہ ان کو خدا کا بیٹا کہتا ہے اور ایک فرقہ تثلیث کا قائل ہے۔ جس کا مطلب طرح طرح ان کی کتابوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ عیسائی مذہب میں جس طرح یہ خرابیاں پھیلی ہیں اس کا پورا قصد سورة توبہ میں آئے گا لیکن اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد 81 برس کے قریب تک تو عیسائی مذہب میں یہ خرابیاں ڈال دیں یہود اور نصاری کی زیادتیاں روکنے کے لئے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ دین میں حد سے بڑھنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ صحیح مسلم ترمذی اور نسائی میں زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایسے علم سے پناہ مانگا کرتے تھے جس علم سے دین میں کچھ نفع نہ ہو 1۔ یہ علم ویسا ہی علماء کا علم ہے جو علم پڑھ کر دین کی حد کے پابند نہیں ہیں یہی اہل کتاب کے ان علماء کا تھا جن کی حد سے گزرجانے کا ذکر اس آیت میں ہے پھر فرمایا اللہ کی شان میں اپنے جی سے گھڑ کر کوئی بات نہیں کہنی چاہیے جس طرح یہود عزیز (علیہ السلام) اور نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا بعض نصاریٰ اللہ کے ساتھ مریم اور عیسیٰ کو ملا کر تین خدا ہونے کے قائل ہیں پھر فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) تو فقط اللہ کے رسول ہیں بغیر اور عادتی اسباب کے اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن کے فرمانے سے اور اللہ کے حکم سے جبرئیل نے جو روح حضرت مریم ( علیہ السلام) میں پھونک دی تھی ان دونوں سببوں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی۔ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مرد اور عورت کا نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے۔ پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور ہڈیاں اسی گوشت سے بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھ جاتا ہے اور پتلا تیار ہوجاتا ہے غرض ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر اس پتلے میں اللہ کے حکم سے پھر روح پھونک دی جاتی ہے 1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش میں یہ بات نئی ہوئی کہ کلمہ کن کا حکم اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس حکم سے بجائے نطفہ کی رطوبت کے خود رحم کی رطوبت سے وہ پتلا تیار ہو کر پھر اس روح کا تعلق اس پتلے سے ہوگیا جو جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم ( علیہ السلام) کے جسم میں پھونک دی تھی۔ جس صاحب قدرت نے نطفہ کی رطوبت میں خلاف عقل ایک تاثیر دی تھی اس نے رحم کی رطوبت میں وہی تاثیر دے دی تو اس میں بڑا تعجب کہا سے پیدا ہوا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا جائے یوں کیوں نہ کہا جائے کہ جس نے آدم (علیہ السلام) کو بغیر عورت اور مرد کے نطفہ سے پیدا کردیا اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوتی تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اسی واسطے آگے فرمایا کہ اس باب میں اللہ اور اللہ کے رسول کی بات مانوں اپنے جی سے جو تم نے باتیں گھڑی ہیں انکو چھوڑ دو کہ وہ باتیں اللہ کی شریعت کے باہر ہیں۔ شریعت کی حد کے اندر رہنا تمہارے حق میں اچھا ہے اللہ وحدہٗ لا شریک ہے آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہت ہے۔ بیٹا بن کر نہ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک ہوسکتا ہے نہ اس کو اپنی بادشاہت کے چلانے میں بیٹے یا وزیر کی ضرورت ہے صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز خطبہ میں فرمایا کہ بندوں کے دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے دن سے پہلے اللہ تعالیٰ کے روبروپیش ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اسی وقت ان عملوں کو اپنی ذات خاص سے وزن کر کے جزاوسزا کا اندازہ قائم فرما دیتا ہے 2۔ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے کاموں میں نہ کسی کو کچھ دخل ہے نہ اس کی ذت خاص کو کسی مدد کی ضرورت ہے۔ تفسیر خطیب اور تفسیر خازن میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جن نجرانی عیسائیوں کا قصہ اوپر مباہلہ کی آیت میں گزر چکا انہوں نے جہاں آنحضرت ﷺ تم ہمارے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہتک کرتے ہو کہ ان کہ خدا کا بندہ کہتے ہو آپ نے فرمایا کہ ہتک تو اس میں ہے کہ آدمی خالق کو چھوڑ کر اپنے جیسی مخلوقات میں سے کسی کو اپنا معبود بنالے خالق کے بندہ بننے میں کیا ہتک ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1۔ اور فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) جن کو یہ لوگ خدا کا بیٹاسمجھتے ہیں یا فرشتے جن کو اہل مکہ خدا کی بیٹیاں جانتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی اللہ کا بندہ ہونے سے کچھ ننگ و عار نہیں ہے کیونکہ یہ سب جانتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کی عبادت سے انکار کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دے گا اور اس سزا سے ان کو کوئی اس چن بچانہ سکے گا اور یہ بھی ان سب کو معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ کی فرماں برداری اور عقبیٰ کے اجر کی نیت سے نیک کام کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بعض نیک کاموں کے اجر میں ایسے لوگوں کو اتنا ثواب دے گا جس کی مقدار نامہ ٔ اعمال والے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں چناچہ صحیح مسلم وغیرہ کے حوالے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزرچکی ہے 2۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شخص کے خلوص نیت کے موافق سوائے روزے کے اور نیکیوں کا ثواب دس 10 درجہ سے سات سو درجے تک لکھنے کا حکم فرشتوں کو دیا ہے مگر روزہ کے ثواب کے لئے فرمایا کہ روزہ کا ثواب میں اپنی رحمت اور اپنے فضل سے قیامت کے دن خو ددوں گا 3۔ صحیح ابن حبان اور مسند ابی یعلیٰ میں چند سلسلہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے بعض بندوں کو اللہ تعالیٰ عقبیٰ میں اپنے فضل سے بڑے بڑے درجے دیا چاہتا ہے لیکن ان لوگوں کے عمل ان درجوں کے قابل نہیں ہوتے اس لئے اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کو کچھ مرض وغیرہ کی تکلیف میں مبتلا فرما کر اس تکلیف پر صبر کی توفیق دیتا ہے اور اس صبر کا ثواب بڑھا کر ان درجوں تک ان کو پہنچا دیتا ہے 1۔ اس قسم کی اور بھی حدیثیں اور یہ سب حدیثیں آیت کے ٹکڑے وَیَزِیْدُ ھُمْ مِنْ فَضْلِہٖ کی گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 4:174–175

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے۔ اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسّی) کو مضبوط پکڑے رہے۔ ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔

(174 ۔ 175) ۔ اوپر آنحضرت ﷺ کا اللہ کا رسول اور قرآن کا کلام ہونا ثابت فرما کر اس آیت میں اہل مکہ۔ اہل کتاب اور سب لوگو کو فرمایا اے لوگوں پاس یہ اللہ کا رسول اللہ کا کلام لے کر آئے ہیں جو ان کی پیروی کرے گا دنیا میں اللہ اس کو سیدھے راستہ پر قائم رکھے گا اور عقبیٰ میں اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ یہاں یہ بات محذوف ہے کہ جو کوئی ایسا نہ کرے گا وہ ایسے وقت پر پچھتائے گا جس وقت کا پچھتانا اس کے کچھ کام نہ آئے گا صحیح روایتوں 2 میں ہے کہ جس نے قرآن اور اللہ کے رسول کی نست کو مضبوط پکڑا اس نے نجات کا راستہ ڈھونڈ لیا۔ اس آیت میں برھان سے مطلب اللہ کے رسول کی ذات ہے کیونکہ آپ کا ہر ایک معجزہ آپ کی نبوت کی ایک سند ہے اور نُوْرٌمُبِیْنٌ سے قرآن مراد ہے۔ کیونکہ جس طرح اندھیرے میں روشنی سے آدمی کو راستہ نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح قرآن سے آدمی کو نجات کا راستہ نظر آنے لگتا ہے۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا کلالہ کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کے بہن کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا اور اگر بہن مرجائے اور اسکے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنیوالے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اسلئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

صحیحین اور نسائی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ان کے باب میں اتری ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بیمار تھا آنحضرت میری خبر کو تشریف لائے میں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ میں اپنی بہنوں کو تیرے حصہ مال کی وصیت کرتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں کلالہ کی تفسیر میں کہا ہے کہ کلالہ وہ شخص ہے کہ جس کے وارثوں میں باپ نہ ہو بیٹا 1 امام بخاری نے کلالہ کے معنی جو بیان کئے ہیں جمہور صحابہ تابعین اور ائمہ اربعہ کا یہی قول ہے اسی کے موافق حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فیصلہ بھی کیا ہے اور اس قول کی تائید میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیحین کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل فرائض سے جو مال بچ یجائے وہ عصبہ کے طور پر اس مرد کو دیناجائے جو میت سے قریب رشتہ رکھتا ہو 2۔ اب یہ ظاہرے کہ باپ بہ نسبت بھائی بہن کے میت سے زیادہ قریب ہے اس لئے صحابہ کا اس پر اتفاق ہے کہ باپ کے موجود ہوتے ہوئے میت سے زیادہ قریب ہے اس لئے صحابہ کا اس پر اتفاق ہے کہ باپ کے موجود ہوتے ہوئے میت کے بھائی بہن کو کچھ نہیں ملتا۔ اوپر جو حضرت جابر ؓ کی روایت سے اس آیت کی شان نزول گزری ہے وہ بھی اسی معنی کی موید ہے جو امام بخاری (رح) نے بیان کئے ہیں کیونکہ حضرت جابر ؓ کے باپ آیت کے نازل ہونے کے وقت زندہ نہیں تھے احد کی لڑائی کے وقت شہید ہوچکے تھے اور یہ آیت حجۃ الوداع کے راستہ میں نازل ہوئی ہے۔ ان احادیث اور اس اجماع کی بنا پر معنی آیت کے یہ ہیں کہ ایک شخص مرجائے اور وارثوں میں اس کا باپ ہو نہ بیٹا تو اس کی سگی یا باپ کی شریک بہن کا نصف حصہ ہے اور ماں کی شریک بہن کا چھٹا حصہ ہے جس کا ذکر اوپر گزرچکا اسی طرح جب بہن مرے اور وارثوں میں اس کا باپ ہو نہ بیٹا تو بھائی سارے ترکہ کا وارث ہوجائے گا اور بہن کی اولاد میں اگر لڑکا ہو تو بھائی کو کچھ نہیں ملنے کا۔ ہاں اگر لڑکی ہو تو اس لڑکے کے حصہ کے بعد جو کچھ باقی رہے گا وہ بھائی کو ملے گا اگر کلالہ کی دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی مال ملے گا۔ اور اگر بھائی بہن دونوں ہوں تو مرد کو دوہرا اور عورت کو اکہرا حصہ ملے گا۔ کلالہ کی لڑکی اور بہن دونوں ہوں تو نصفا نصفی مال دونوں کو ملے گا۔ جنانچہ معاذ بن جبل ؓ کا وہ فیصلہ اس باب میں مشہور ہے جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کیا تھا جو بلا اعتراض نافد رہا 3۔ لیکن یہ صورت بہن کے عصبہ ہونے کی ہے اور آیت میں جو صورت ہے وہ اس کے حصہ دار ہونے کی ہے یہ کلالہ کا مسئلہ صحابہ میں بڑا مشکل مسئلہ مشہور تھا اس لئے کہ میراث کے باب میں یہ آخری آیت ہے جو حجۃ الوداع کے راستہ میں نازل ہوئی ہے۔ اور اس کی سب صورتیں تفصیل سے صحابہ میں پھیلنی نہ پائی تھیں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی حضرت عمر ؓ نے اس مسئلہ کی تفصیل میں ایک کتاب لکھی تھی لیکن اپنی وفات سے پہلے انہوں نے اس کتاب کو ضائع کردیا لوگوں میں اس کو شائع نہیں کیا 1 اس مسئلہ کے مشکل ہونے کے سبب سے آخر کو فرمایا کہ اللہ نے اس مسئلہ کو اس لئے بیان کردیا کہ تم اس میں بہک نہ جاؤ پھر فرمایا اللہ اپنے بندوں کی سب ضرورتوں اور مصلحتوں سے واقف ہے اسی واسطے اس نے ہر طرح کے میراث کے مسئلے اپنی کتاب میں بیان فرمائے ہیں اور ہر ایک قرابت دار کا حصہ مصلحت کے موافق ٹھہرایا ہے جس مصلحت کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔