4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بیشک خدا سنتا (اور) دیکھتا ہے

اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت ابن عثمان بن طلحہ کی شان میں اتری ہے جو ابو طلحہ بشیر بن عثمان کے چچا زاد بھائی اور اسی گھرانے میں کعبہ کی دربانی آج تک ہے۔ معتبر سند سے ابن اسحاق وغیرہ نے اس قصہ کو نقل کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے عثمان بن طلحہ سے کعبہ کی کنجی لے کر کعبہ کو کھولا۔ اور کعبہ کے دروازہ پر خطبہ پڑھا۔ لوگوں کو طرح طرح کی نصیحت کی اسی موقع پر حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست کی کہ کعبہ کی کنجی ان دونوں میں سے کسی کو مل جائے تاکہ کعبہ کی دربانی آئندہ ان کے گھرانے میں رہے اتنے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور جن عثمان بن طلحہ سے آنحضرت ﷺ نے وہ کنجی بطور امامت کے لی تھی۔ اس آیت کے موافق ان کو واپس کردی 1۔ بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کنجی واپس دیتے وقت عثمان بن طلحہ سے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کنجی تم کو واپس دلوائی ہے اس لئے اب جو کوئی بعد اس کے تم سے یہ کنجی چھینے گا وہ ظالم کہلائے گا 2۔ اس روایت کے لفظوں سے یہ بھی نکلتا ہے کہ آیت کا نزول اسی قصہ کے متعلق ہے۔ اس شان نزول کے بیان کرنے کے بعد اکثر مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اگرچہ اس آیت کے نازل ہونے کا سبب خاص ہے۔ لیکن امانت کا لفط ان سب حقوق کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ذمے کئے ہیں۔ مثلاً توحید اور عبادت یا وہ حقوق جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ مثلاً امانت کی چیز یا مانگی ہوئی چیز کا واپس کرنا آیت انا عرضنا الا مانۃ (34۔ 72) کی تفسیر علی بن ابی طلحہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو صحیح روایت کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ امانت سے وہ باتیں مقصود ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کیا ہے جن کے بغیر کسی خیانت کے ادا کرنے کے انسان کی نجات ہی نہیں مثلاً جو عبادت بغیر ریا کاری کی خیانت کے اد ہوئی وہ نجات کا موجب ہے ورنہ عبادت کی محنت رائیگاں اور ریاکاری کا مواخذہ قائم انہی شرائط کے ڈر سے آسمان و زمین۔ اور پہاڑوں نے اس امانت کو قبول نہیں کیا 1۔ اس کی پوری تفصیل تو سورة احزاب میں آئے گی۔ مگر یہاں مطلب اسی قدر ہے کہ آیت ان اللہ یامرکم ان تؤدوالامانات اور آیت انا عرضنا الاماتہ ان دونوں آیتوں میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے نزدیک امانت کا لفظ سب حقوق اللہ اور حقوق الناس کو شامل ہے اور اس عام حکم میں یہود کو یہ تنبیہ ہے کہ تورات میں نبی آخر الزماں کے اوصاف کی آیتوں میں ان لوگوں نے تبدل تغیر جو کیا ہے وہ اللہ کی امانت میں انہوں نے خیانت کی ہے۔ وقت مقرر پر جس کا مواخذہ ہوگا صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے منافق کی علامتوں میں سے امانت کی خیانت کو بھی ایک علامت فرمایا ہے 2۔ ترمذی ‘ ابو داؤد اور مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان آدمی کو امانت کا واپس کرنا لازم ہے اگر اس کے مال میں کوئی دوسرا شخص خیانت بھی کرے تو اس کو کسی کے مال میں خیانت نہیں چاہیے 3۔ اس حدیث کی سند میں اگرچہ بعض علماء نے کلام کیا ہے لیکن ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا 4 اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے 5۔ مستدرک 6 حاکم میں اس طرح کی ایک روایت انس ؓ کی بھی ہے جس کی سند میں ایوب بن سوید ایک راوی ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف الحافظ کہا ہے۔ لیکن حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے 6۔ قاضی حاکم۔ امیر۔ والی۔ جن کے سپرد لوگوں کے ہر طرح کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ہے ان کے ذمہ بھی اللہ کی یہ امانت ہے کہ بغیر کسی کی رعایت کے ان کو ہر ایک فیصلہ انصاف سے کرنا چاہیے۔ چناچہ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ سے یہ روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوذر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے کسی بستی پر حاکم ہوجانے کی خواہش کی آپ نے ابوذر ؓ کو جواب دیا کہ تمہارے مزاج میں ایک طرح کا ضعف ہے اور حکومت اللہ تعالیٰ کی بڑی بھاری امانت ہے جس کی ذمہ داری صاحب ضعف آدمی سے دشوار ہے 7۔ غرض اسی تعلق کے سبب سے امانت کے ذکر میں حاکم لوگوں کا یہ ذکر فرمایا کہ ” جب چکوتی کرنے لگو لوگوں میں چکوتی کرو انصاف سے “ مسند امام احمد صحیح مسلم اور نسائی میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انصاف سے لوگوں کا فیصلہ کرنے والے حاکموں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ کی جانب نور کے منبروں پر عزت سے بٹھائے گا۔ پھر فرمایا یہ محض شفقت حاکموں کی عزت بڑھانے کیلئے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں 1۔ یہ ان حاکموں کا ذکر ہے جن کی اصلی کوشش انصاف سے فیصلہ کرنے کی ہے اس لئے اکثر فیصلے تو ان کے منصفانہ ہیں اور شاذو نادر اقتضاء بشریت سے بعض فیصلوں میں ان سے کچھ غلطی بھی ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل درگذر ہے۔ رہے وہ حاکم جو رشوت لالچ یا سعی وسفارش کے مان لینے کے سبب سے منصفانہ فیصلہ کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے اس واسطے اکثر فیصلہ تو ان کے رعایتی اور نامنصفانہ ہیں اور کچھ تھوڑے سے فیصلے منصفانہ بھی ان کے قلم سے نکل گئے ہیں ایسے حاکموں اور قاضی کا سیدھا ٹھکانہ جہنم ہے۔ چناچہ معتبر سند سے ابو داؤد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس حاکم کے منصفانہ فیصلوں کی تعداد نا منصفانہ فیصلوں پر قیامت کے دن غالب آئے گی وہ جنتی ہے اور جس حاکم کا حال اس کے برخلاف ہے وہ دوزخی ہے 2۔ اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے وہ نصیحت فرمائی ہے جس پر عمل کرنے سے آدمی کی نجات ہوسکتی اس لئے فرمایا ” اللہ نصیحت کرتا ہے تم کو۔ اللہ ہے سنتا دیکھتا “۔ کا یہ مطلب ہے کہ اس نصیحت کی تعمیل میں جو اللہ تعالیٰ کے سننے سے متعلق ہے مثلاً آپس میں تمہارا وعظ و نصیحت پر قائم رہنا سچی گواہی کا ادا کرنا اس سب کو سنتا ہے اور جو عمل دیکھنے سے متعلق ہے نماز روزہ حج زکوٰۃ ان سب نیک عملوں کو دیکھتا ہے۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کی کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہے ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اسکے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو اور یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

اوپر کی آیت میں حاکموں کا ذکر فرما کر اس آیت میں محکوم لوگوں کا ذکر فرمایا اس آیت کی شان نزول قصہ طلب ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبد اللہ بن حذافہ ؓ صحابی کو سردار کر کے اور کچھ لوگ ان کے ساتھ کر کے بخد کی طرف ایک چھوٹی سے لڑائی پر ان کو بھیجا تھا۔ راستے میں عبد اللہ بن حذافہ ؓ کو اپنے ساتھ کے لوگوں سے کچھ رنجش ہوگی۔ انہوں نے اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا کیا آنحضرت ﷺ نے تم لوگوں کو میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے ان لوگوں نے کہا ہاں دیا ہے۔ اس پر عبد اللہ نے حذافہ ؓ جنگل سے لکڑیاں جمع کرا کے ان لکڑیوں میں آگ لگادی۔ اور اپنے ساتھ کے سب آدمیوں سے کہا کہ تم سب اس آگ میں کود پڑو۔ اب عبد اللہ بن حذافہ ؓ کے ساتھوں کے دو گروہ ہوگئے کچھ لوگ تو آگ میں کودنے کو راضی ہوگئے اور کچھ لوگوں نے کہا کہ آگ سے بچنے کے لئے تو ہم آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے ہیں بغیر اجازت آنحضرت ﷺ کے ہم ہرگز یہ فعل نہ کریں گے۔ آخر یہ قصہ آنحضرت ﷺ تک آیا آپ نے فرمایا کہ جس امر کی شریعت اجازت دے حاکم کی اطاعت ایسے امر میں ہے تم اگر آگ میں کود پڑتے تو ہمیشہ اس آگ میں رہتے 1۔ اس شان نزول کو امام بخاری (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بخاری 2 میں روایت کیا ہے اور داؤدی شارح صحیح نے اس شان نزول پر جو اعتراض کیا ہے اس کا جواب اچھی طرح علامہ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری 3 میں دے دیا ہے۔ اور مفسرین نے سوا اس شان نزول کے اور شان نزول جو اس آیت کے بیان کئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حالات پر بھی آیت کا مطلب صادق آتا ہے۔ ورنہ اصل شان نزول وہی ہے جو امام بخاری کی اس شان نزول کی روایت پر بخاری کی شرح داؤدی میں جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر آیت کا نزول کی روایت پر بخاری کی روایت پر دوسری روایت کو فوقیت نہیں ہوسکی بخاری کی اس شان نزول عبد اللہ بن حذافہ ؓ کے قصے سے پہلے ماناجائے تو آیت کو قصہ سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا اگر آیت کا نزول قصے سے بعد مانا جائے تو عبد اللہ ؓ کے نافرمان لوگوں کو آیت میں کچھ سرزنش نہیں ہے حالانکہ جب آیت اولی الامر کی فرماں برداری کے حکم میں ہے اور قصے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے سردار کا حکم نہیں مانا تو آیت میں ان کا کچھ ذکر ہونا چاہیے تھا۔ حافظ ابن حجر (رح) کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ قصہ میں حاکم اور محکوم کا اس پر جھگڑا تھا کہ عبد اللہ ؓ کے حکم سے جو آگ جلائی گئی ہے اس میں کود پڑنا جائز ہے یا نہیں اس کا حکم آیت میں یہ ہے کہ ایسی باہمی نزاع کی صورت میں آپس کی نزاع کو بڑھانا نہیں چاہیے۔ بلکہ ہر ایماندار آدمی کو چاہیے کہ ایسے نزاع کی حالت میں اللہ اور اللہ کے رسول کا حکم تلاش کر کے اس کے موافق آپس کے جھگڑے کا تصفیہ کرے تاکہ بغیر حکم خدا اور رسول کے عقلی طور پر کسی کام کو کرلینے سے دین کی کوئی خرابی نہ لازم آجائے جس طرح عبد اللہ کے ساتھوں کو آنحضرت ﷺ نے اتنی بڑی خرابی جتلائی کہ اگر وہ بغیر آنحضرت سے پوچھنے کے اپنی سمجھ سے اس آگ میں کود پڑتے تو قیامت تک اس آگ رہتے یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ یہ ایک صورت خود کشی کی تھی اور خود کشی کا حکم اوپر آیت و لا تقتلو انفسکم کی تفسیر میں گذر چکا ہے کہ جس طرح سے کوئی شخص خود کشی کرے گا اسی طرح کا عذاب اس پر ہمیشہ کیا جائے گا۔ اولی الامر کی تفسیر میں سلف کا اختلاف ہے بعضوں نے اس لفظ کی تفسیر امراء کی ہے اور بعضوں نے علماء دونوں تفسیروں میں کوئی تفسیر بھی لی جائے جب کہ آیت کی شان نزول کی بعض روایتوں میں الطاعۃ فی المعروف اور بعض روایویتوں میں انما الطاعۃ فی المعروف کا لفظ موجود ہے تو معنی آیت کے یہی ہوں گے اولی الامر منکم کی اطاعت اسی حد تک ہے جو حد کسی شرعی حکم سے شریعت میں معروف ہے اسی واسطے اللہ اور رسول کے نام کے ساتھ اطیعوا کا لفظ فرمایا اور اولی الامر کے ساتھ اطیعوا کا لفظ نہیں فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اولی الامر کا حکم مستقل طور پر شرعی حکم نہیں ہے بلکہ اللہ اور رسول کے حکم کی یہ ایک شاخ ہے اور دنیا میں کوئی شاخ بغیر جڑ کے قائم نہیں رہ سکتی چناچہ اسی بنا پر اہل سنت اور مخالف اہل سنت فر قوں کے ما بین قدیم سے یہ جھگڑا چلا آتا ہے کہ ان فرقوں نے احادیث شفاعت ‘ حوض ‘ میزان ‘ عذاب قبر ‘’ صفات وغیرہ کے مخالف فقط قیاس سے اپنے مذہب کی چند شاخیں قائم کی ہیں جن کے رد قدح کے اہل سنت درپے ہیں اور کہتے ہیں کہ صریح حکم شرعی کے مقابلہ میں کوئی قیاس مقبول نہیں ہوسکتا۔ اسی بحث میں دفتر کے دفتر تالیف ہوگئے۔ اور قیامت تک ہوں گے بعض علماء نے اس بحث کے متعلق یہ لکھا ہے کہ اہل سنت کی کی وہ بحث مسائل اعتقادی سے متعلق ہے مسائل عملی سے متعلق نہیں ہے اور علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اطیعوا الرسول کے حکم سے اللہ کے رسول کی اطاعت تمام مسائل اعتقادی اور عملی میں فرض ہے باوجود اس کے اس اطاعت کو مسائل اعتقادی میں منحصر کردینا گویا نبوت کو اس کے ایک جز میں منحصر کردینا ہے۔ جس کی جرأت کسی مسلمان کو نہیں چاہیے۔ اب غور طلب یہ بات ہے کہ جب ایسے دو مختلف حکم ہوں کہ ایک طرف صحیح سند سے حکم رسول ہو۔ اور دوسری طرف کسی عالم کا فتویٰ تو ان میں معروف شرعی کس کو کہا جائے گا۔ اور انما الطاعۃ فی المعروف کے موافق ان دونوں حکموں میں کون سے حکم کو حصر کے طور پر واجب الطاعت ٹھہرایا جائے گا۔ جس کے دل میں نور ایمان کی کچھ جھلک ہے اس غور مطلب بات کا جواب اس کی زبان سے یہی نکلے گا کہ ایسی صورت میں واجب الاطاعت معروف شرعی وہی اللہ کے رسول کا حکم ٹھہرایا جائے گا جس کی معروفیت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی اطاعت کے بعد اور اولی الامر کی اطاعت کے ما قبل ذکر فرمایا ہے اس لئے حاصل آیت کا یہ ہے کہ ما قبل کو ما قبل کے اور ما بعد کو مابعد کے رتبہ پر رکھنا حکم الٰہی کی فرمانبرداری اور اس کے برعکس میں نافرمانی ہے جس سے ہر مسلمان کو خوف کرنا اور ان کنتم مومنین کی شرط کو پورا کرنا چاہیے۔ اس شرط کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ کہ جس کے دل میں نور ایمانی کی کچھ جھلک ہے اس کو اس طرح کے اختلاف کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی اس نصیحت کے مواف عمل کرنا چاہیے جو اس نے اس آیت میں فرمائی ہے ذلک خیر و احسن تاویلا کا مطلب یہ ہے کہ آیت کی ہدایت کے موافق عمل کرنے میں یہ خوبی ہے کہ جو اختلاف تھا وہ بھی رفع ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کا اجر بھی عقبیٰ میں ملے گا۔ تاویل کے معنی یہاں انجام کے ہیں۔
Ayahs 4:60–63

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب ہر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لیجا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر راستے سے دور ڈال دے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت) سے ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

ان لوگوں کے دلوں میں جو جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کا کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو۔ اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں پر اثر کر جائیں

(60 ۔ 63) ۔ اوپر اللہ و رسول کے حکم کے موافق عمل کرنے کی تاکیدتھی ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس تاکید کے پابند نہیں ہیں ان آیتوں کی شان نزول میں سلف کا اختلاف ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت کے موافق جس شان نزول کو حافظ ابن کثیر (رح) نے صحیح ٹھہرا کر اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک منافق اور یہودی میں کچھ جھگڑا تھا یہود کہتا تھا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ محمد ﷺ کی پیشی میں ہونا چاہیے اور منافق کعب بن اشرف یہودیوں کے سردار کی پیشی کا اصرار کرتا تھا۔ آخر مقدمہ آنحضرت ﷺ کی پیشی میں آیا۔ اور آپ نے یہودی کی طرف اس مقدمہ کا فیصلہ کردیا۔ منافق نے اس خیال سے کہ حضرت عمر ؓ شاید اس کو مسلمان سمجھ کر کچھ اس کی پاس داری کریں گے۔ اس یہودی کو اس پر مجبور کیا کہ مقدمہ از سر نو حضرت عمر ؓ کی پیشی میں لے جانا چاہیے۔ آنحضرت ﷺ کے حکم سے حضرت عمر ؓ ان دنوں میں مدینہ کے قاضی تھے 1 اس لئے اس منافق کے اصرار پر مقدمہ حضرت عمر ؓ کی پیش میں گیا۔ اور حضرت عمر ؓ نے اس یہود سے جب یہ سنا کہ آنحضرت ﷺ اس مقدمہ کا فیصلہ یہودی کی طرف کرچکے ہیں تو فورا ً اس منافق کو قتل کر ڈالا۔ اور اس کے قتل کے بعد یہ فرمایا جو شخص اللہ کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اس کا یہی فیصلہ ہے کہ اس کو قتل کر ڈالا جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 2۔ اور فرمایا کہ یہ منافق لوگ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کا ایمان پورا نہیں ہے کیونکہ اس آخری شریعت اور اس سے پہلے سب شریعتوں میں اللہ تعالیٰ نے ہر رسول وقت کی فرمانبرداری اس وقت کے لوگوں پر لازم کی ہے اور رسول وقت کے حکم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی بات کے ماننے سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے سوا جس کسی کی تعظیم اللہ کی تعظیم کے برابر کی جائے اس کو طاغوت کہتے ہیں یہاں اس منافق نے کعب بن اشرف کو اللہ کے رسول سے اور اسے فیصلہ کو اللہ کے سرلو کے فیصلہ سے بہتر ٹھہرایا تھا۔ اس لئے کعب بن اشرف اور اس کے فیصلہ کو طاغوت فرمایا پھر فرمایا کہ اگرچہ سب شریعتوں میں رسول وقت کے حکم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی بات کو ماننے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن شیطان لوگوں کو راہ راست سے روک کر گمراہی میں ڈالتا ہے اس منافق نے کعب بن اشرف کی پیشی میں مقدمہ لے جانے کی ضد جو اس یہودی سے کی تھی اور آنحضرت ﷺ کی پیشی میں وہ مقدمہ کو لانا نہیں چاہتا تھا اس پر یہ فرمایا کہ ” جب ان سے کہئے آؤ اللہ کے حکم کی طرف جو اس نے اتارا اور رسول کی طرف “ تو یہ منافق لوگ اللہ کے رسول کے پاس آنے سے کتراتے ہیں۔ صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس طرح مینہ سب جگہ یکساں برستا ہے لیکن اچھی زمین کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے اور ناکارہ زمین کو اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔ اس طرح اس ہدایت کا حال ہے جو میں اللہ کی طرف سے لایا ہوں کہ علم الٰہی میں جو دل اچھے اور قابل ہدایت قرار پائے ہیں ان میں اس ہدایت کا اثر ہوتا ہے نہیں تو نہیں 1 جب حضرت عمر ؓ نے اس منافق کو قتل کر ڈالا تو اور منافق لوگ بات بنانے کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے جن کو عمر ؓ نے قتل کر ڈالا وہ شخص آنحضرت ﷺ کے فیصلہ سے ناراض نہیں تھا بلکہ وہ تو عمر ؓ کے پاس فقط اس لئے گیا تھا کہ شاید عمر ؓ کے دباؤ سے فریقین میں راضی نامہ ہوجائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جب ان منافقوں پر ان کے نفاق کے سبب سے کوئی آفت آجاتی ہے تو یہ لوگ اپری دل سے ایسی ہی باتیں بناتے ہیں۔ مگر ان کے دل میں جو چور ہے اس کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے پھر اپنے رسول کو نصیحت فرمائی کہ جب تم کو ان لوگوں کے دل کا حال معلوم نہیں ہے تو تم اپنا ظاہر معاملہ ان لوگوں سے درگذرکا رکھو اور ہر وقت ان کو دلچسپ نصیحت کرتے رہو تاکہ کچھ لوگ ان میں کے راہ راست پر آجائیں۔ اس تفسیر میں یہ ذکر آچکا ہے کہ اس طرح کی درگذر کی آیتیں منسوخ نہیں ہیں اور اس تفسیر کے مقدمہ میں یہ بھی جتلادیا گیا ہے کہ مثل اس آیت کی شان نزول کے اختلاف کے جن آیتوں کی شان نزول میں سلف کا اختلاف ہے وہ اس سبب سے ہے کہ بعض سلف نے شان نزول کے اصل قصہ کو لیا ہے اور بعضوں نے ان قصوں کو لیا ہے۔ جن پر آیت کا مطلب صادق آتا ہے۔ غرض حقیقت میں یہ اختلاف کچھ شان نزول کا اختلاف نہیں ہے فقط طرز بیان کا اختلاف ہے۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے

اوپر اس منافق کا ذکر تھا جو اپنے مقدمہ کو آنحضرت ﷺ کی پیشی میں لانے پر رضامند نہیں تھا۔ بلکہ اس کو اصرار تھا کہ اس کا مقدمہ کعب بن اشرف کی پیشی میں فیصل ہو۔ اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس آیت میں اس زمانے کے عام منافقوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کچھ اس زمانہ پر منحصر نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) پہلے صاحب شریعت رسول سے لے کر آخر الرسل محمد ﷺ تک اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول بھیجے ہیں ان سب کے حق میں اللہ کا یہی ایک حکم تھا کہ ہر وقت کی امت پر اللہ کے رسول کی فرمانبرداری فرض ہے اس لئے جتنی پچھلی امتوں نے رسولوں کی نافرمانی کی ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ اور وہ لوگ طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہو کر غارت ہوگئے اس واسطے حال کے منافقوں میں سے جس کسی سے ایسی چوک ہوجائے جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے تو ایسے شخص کو اللہ کے رسول کے پاس آن کر خود بھی خالص دل سے توبہ استغفار کرنی چاہیے اور اللہ کے رسول سے بھی اپنے حق میں مغفرت کی دعا کرانی چاہیے تاکہ اپنے رسول کی دعا کی برکت سے اللہ ان پر مہربان ہو کر ان کے گناہ معاف کر دیوے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میری فرمانبرداری کی اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی 1۔ یہ حدیث آیت کی ویسی ہی تفسیر ہے جیسے آیت ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ اس آیت کی تفسیر ہے۔
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے

اوپر اللہ کے رسول کی اطاعت کی تاکید تھی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس تاکید کو اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر اور قوت دے دی ہے اس آیت کی شان نزول کی بابت صحاخ ستہ کی کتابوں میں عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری اور حضرت زبیر کا کھیت متصل تھا۔ اور ایک ہی ذریعہ آب پاشی سے دو کھیتوں کو پانی پہنچتا تھا۔ اس پانی کی بابت زبیر ؓ اور انصاری کا جھگڑا ہوا آنحضرت ﷺ کے پاس وہ جھگڑا فیصلہ کو آیا آنحضرت نے زبیر ؓ سے کہا کہ تم اپنے کھیت کو پانی دے کر انصاری کے کھیت کے لئے پانی چھوڑ دیا کرو انصاری نے کہا کہ زبیر ؓ آپ کے قرابت دار ہیں اس لئے آپ نے ان کی رعایت کا فیصلہ کیا ہے اس پر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے فرمایا کہ زبیر ؓ تم پانی کو یہاں تک روکا کرو کہ تمہارے کھیت کے مینڈتک پانی چڑھا جایا کرے۔ پھر پانی چھوڑا کرو اور انصاری کے خلاف شان نبوت گفتگو کرنے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ اور اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ رسول وقت کے فیصلہ اور حکم پر جو کوئی دل سے پابندی اختیار نہ کرے گا وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے جو لوگ قول رسول کے مقابلہ میں صریح قول رسول کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے قولوں کو مانتے ہیں ان کی نسبت پورا خوب ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی قسم پوری کرے اور ان لوگوں کو پورے مسلمانوں کے زمرہ میں شمار نہ فرمائے۔ یہ شان نزول از خود عروہ کی روایت سے مرسل طور پر بھی ہے اور عروہ نے اپنے بھائی عبد اللہ بن زبیر ؓ سے متصل طور پر بھی اس کو روایت کیا ہے چناچہ بخاری کی کتاب المساقات میں یہ دونوں روایتیں ہیں۔ یہ عبد اللہ بن زبیر ؓ وہی ہیں جن کو ہجرت کے بعد مہاجرین کی پہلی اولاد کہا جاتا ہے۔ امام بخاری نے عروہ کی مرسل روایت کو عروہ کے بھائی عبد اللہ کی متصل 2 روایت سے قوت دی ہے۔ عروہ کی مرسل روایت کو حاکم نے یہ جو کہا کہ صحیحین میں یہ روایت نہیں ہے 3۔ حاکم کا یہ قول سہو سے خالی نہیں کیونکہ یہ مرسل روایت بخاری میں موجود ہے 4۔ اس طرح حمیدی نے اپنی کتاب جمع بین الصحیحین میں یہ جو کہا ہے کہ صحیحین میں عرہ نے اپنے بھائی عبد اللہ سے اور انہوں نے اپنے باپ زبیر ؓ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ حمیدی کا بھی یہ قول سہو سے خالی نہیں کیونکہ اس طرح کی سند جس میں عبد اللہ کے بعد زبیر کا بھی ذکر ہے سوا نسائی 5 کے صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں ہے 6۔” نہ پائیں اپنے جی میں خفگی تیری چکوتی سے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ کے رسول کا حکم خالص دل سے ماننا چاہیے۔ اگر کسی نے اس کو ظاہری طور پر مان لیا اور دل میں کچھ خلجان باقی رکھا تو یہ سمجھ لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ایسا شخص اللہ کے نزدیک پورا مسلمان نہیں ہے جن انصاری سے زبیر ؓ کا پانی پر جھگڑا تا۔ ان کے نام کی صراحت بعض روایتوں میں ہے کہ وہ حاطب بن ابی بلتعہ 7 تھے۔
Ayahs 4:66–68

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالوا یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کار بند ہوتے جو ان کو کیجاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ بھی دکھاتے

(66 ۔ 68) ۔ اوپر اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کی تاکید اور طرح سے فرمائی۔ تفسیر سدی وغیرہ میں ان آیتوں کی شان نزول کی بابت جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان میں سے کسی نے بعض مسلمانوں کے روبرو ذکر کیا کہ ہمارے بڑوں پر بچھڑا پوجنے کی توبہ قتل قرار پائی۔ اور ہمارے بڑوں نے اس پر عمل کیا۔ مسلمانی شریعت میں تو ایسا سخت حکم کوئی بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں نے اس کا جواب دیا کہ ہمارے اوپر بھی اگر کوئی ایسا حکم نازل ہوتا تو ہم ضرور اس کی تعمیل کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1۔ اور فرمایا کہ حال کی شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی فرمانبرداری لازم کردی ہے وہ بھی اسے مسلمانوں سے پوری نہیں ہوسکتی جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا ایسی حالت میں قتل نفس یا جلا وطنی کا کوئی حکم حال کی شریعت میں نازل ہوتا تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے پھر فرمایا حال کی شریعت میں جن باتوں کے کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہے اگر حال کے مسلمان اس پر پوری پابندی نیک نیتی سے کریں گے تو ان کی بہتری اور ان کی فرمانبرداری کی مضبوطی کی نشانی ہے اور جب یہ لوگ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ان کو ہمیشہ راہ راست پر قائم رکھے گا اور ان کے تھوڑے سے عملوں کا بہت سا ثواب اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔ صحیح بخاری و مسلم، موطا اور صحیح ابن حبان میں حضرت عائشہ ؓ اور ام سلمہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایسا تھوڑا سے عمل بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے جس پر آدمی ہمیشہ قائم رہے 2۔ اسی واسطے فرمایا کہ ہم ” ان کو چلاویں راہ سیدہی “۔ اور ہمیشہ کا تھوڑا سا عمل بھی اللہ کو بہت پسند ہے۔ اس لئے ان کے تھوڑے سے عملوں پر اللہ تعالیٰ ان کو ایسا اجر دے گا جو ان کی نجات کا باعث ہوگا۔ جس نصیحت میں ثواب و عذاب کا ذکر ہو اس کو وعظ کہتے ہیں قرآن و حدیث میں ان دونوں باتوں کا ذکر ہے اس لئے قرآن و حدیث کو وعظ کہتے ہیں۔
Ayahs 4:69–70

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انیباء اور صدیق اور شہد اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

(69 ۔ 70) ۔ طبرانی ابن جریر ابی حاتم ابن مردویہ نے متعدد طریقوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آپ کے غلام ثوبان اور چند صحابہ نے ایک روز عرض کیا کہ دنیا میں تو جب ہمارا دل آپ کے دیکھنے کا مشتاق ہوتا ہے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو دیکھ لیتے ہیں جنت میں آپ تو عالی مقام میں تشریف رکھتے ہوں گے۔ اور ہم لوگ اپنے اپنے درجہ پر ہوں گے وہاں ہم لوگ آپ کو کیونکر دیکھ سکیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ جنت میں اوپر کے درجہ کے لوگ نیچے کے درجہ والوں سے اور نیچے کے درجہ والے اوپر کے درجہ والوں سے ملتے رہیں گے۔ مرفوع حدیث 2 میں یہی معنی آیت کے آئے ہیں جس کو ابن جریر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی اور امت کا درجہ جنت میں برابر ہوگا۔ کیونکہ آیات قرآن اور صحیح حدیثوں سے جنت کے درجوں کا تفاوت ثابت ہوا ہے، سورة الرحمان اور سورة واقعہ میں اس کا ذکر تفصیل سے آئے گا۔ نبی وہ جن پر اللہ کی طرف سے وحی آئے۔ صدیق جن میں وحی کی صداقت کا مادہ زیادہ ہو۔ شہید وہ جو اللہ کے حکم پر اپنی جان دینے کو تیار ہوں نیک وہ جس کی طبیعت میں ظاہر و باطن کی نیکی ہو۔
Ayahs 4:71–74

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

مومنو ! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکٹھے کوچ کیا کرو

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمدا) دیر لگاتا ہے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑجائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے پھر شہد ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

(71 ۔ 74) ۔ اوپر ذکر تھا کہ بعض مسلمانوں نے یہود کی توبہ قتل سے قبول ہونے کا حال یہود سے سن کر یہ کہا تھا کہ ہمارے اوپر کی اگر کوئی ایسا حکم نازل ہوتا تو ہم ضرور اس کی تعمیل کرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور ان میں جہاد کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے قتل کا سا حکم تو اس شریعت میں نہیں ہے۔ لیکن اس شریعت میں دین کی ترقی کے لئے دین کے مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے جس کو اجر کمانا ہو وہ اس حکم کی تعمیل میں کوشش اور جرأت کرلے لغت میں جہاد کے معنی مشقت کے ہیں اور شرع میں جہاد اس لڑائی کو کہتے ہیں جو خاص دین کی ترقی کے لئے کی جائے۔ مشہور قول علماء کا یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جہاد فرض کفایہ ہے فرض کفایہ اس فرض کو کہتے ہیں کہ قوم کے بعض لوگوں کے عمل سے تمام قوم کے ذمہ سے اس فرض کا بوجھ سا قط ہوجائے صحاح ستہ کے چھیؤں کتابوں میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شرعی جہاد وہ ہے جس میں فقط دین کی ترقی کے لئے لڑائی کی جائے۔ صرف دنیاوی فائدہ یا ناموری یا کسی بدلا لینے یا دکھاوے کے لئے جو لڑائی کی جائے گی۔ وہ شرعی جہاد نہیں ہے 1۔ خوف کی چیز سے بچنے کو حذر کہتے ہیں حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ ہتھیاروں سے فوج کی تعداد سے جب دشمن کا حملہ روکنے کے قابل ہوجاؤ تو پھر تھوڑے تھوڑے یا اکٹھے لڑائی کے لئے نکلو۔ پھر فرمایا بعض تم میں ایسے مسلمان بھی ہیں جو لڑائی پر جانے سے کچیاتے ہیں۔ اور جب تم کو کسی لڑائی میں کچھ صدمہ پہنچ جاتا ہے تو اپنی جان کی خیر منانے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا نے بڑی خیر کی کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ نہ تھے ورنہ ہمارا بھی یہی حال ہوتا جو ان کا ہوا۔ اور جب کسی لڑائی میں تم کو کچھ کامیابی ہوتی ہے تو بالکل غیروں کی طرح حسد سے یہ کہنے لگتے ہیں کہ کاش ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے تاکہ ہم بھی اس کامیابی کے حصہ دار ٹھہرتے ان کچے مسلمانوں کی حالت سے نفرت دلانے کے بعد پکے مسلمانوں کو دین کی لڑائی میں یوں ترغیب دلائی کہ جن لوگوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کو بیچ کر عقبیٰ کا اجر مول لیا ہے ان کو دین کی لڑائی پر ہمت باندھنی چاہیے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ ” لڑیں اللہ کی راہ میں “ کا ارشادان ہی کچے مسلمانوں کے حق میں ہے کہ پکے مسلمانوں کی فتح اور شکست پر گھر میں بیٹھ کر باتیں بنانے سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ ان لوگوں کو چاہیے کہ پکے مسلمان بن جائیں اور نیک نیتی سے دین کی لڑائی لڑیں۔ کیونکہ نیک نیتی کی دین کی لڑائی میں جان دینا فتح پانا دونوں حالتیں اجر عظیم سے خالی نہیں۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک نیتی سے دین کی لڑائی لڑنے والوں کو ہر طرح فائدہ ہے خدا کی راہ میں جان دی تو جنت کمائی جیتے بچ کر گھر آئے تو عقبیٰ کا اجر جدا کمایا۔ اور لوٹ کا مال جدا ہاتھ آیا 1۔
Ayahs 4:75–76

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو مومن ہیں سو وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مدد گاروں سے لڑو (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بود ہوتا ہے

(75 ۔ 76) ۔ اوپر کی آیتوں کی ترغیب کے علاوہ مشرکین مکہ سے دین کی لڑائی میں یہ اور طرح سے ترغیب مسلمانوں کو دلائی۔ مکہ میں کمزور لوگ عورتیں بچے ایسے بہت آدمی تھے جو حضرت کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ کو نہ آسکے اب وہ مظلوم بن کر مشرکین مکہ کے قابوں میں تھے اور مشرکین مکہ ان مظلوموں پر طرح طرح کی زیادتی کرتے تھے۔ تاکہ وہ تنگ آن کر اپنے دین سے پھرجائیں اس لئے فرمایا کہ اے مسلمانو ! تم کو اس بات سے کس نے روکا ہے کہ تم نہ لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو چھوڑانے میں جو مغلوب بن کر بےبس کافروں کے قابو میں ہیں اور رات دن اسی آفت سے نجات پانے کی اللہ سے التجا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یا اللہ جلدی ہمارا کوئی ایسا حمایتی کھڑا کر جس کی حمایت سے ہم ان ظالموں کی بستی سے نکلیں۔ صحیح بخاری۔ مسلم۔ سنن اور مستدرک حاکم میں ابن عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کی کسی طرح کی سختی رفع کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی سختی رفع فرمائے گا۔ اور دنیا میں بھی ایسے شخص کی ہر طرح سے مدد کرے 2 گا غرض اوپر کی آیتوں میں دین کی لڑائی کا جو اجر اور فائدہ تھا مشرکین مکہ سے لڑنے میں اس کے علاوہ مظلوموں کی مدد کا بھی اجر ہے۔ اس لئے اس کو خاص طور پر ان آیتوں میں فرمایا۔ پھر لڑائی پر مستعد ہوجانے کی مسلمانوں کی یوں جرأ ت بڑھائی کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہو اس لئے اللہ اپنے وعدہ کے موافق ہر حال میں تمہاری مدد کرے گا۔ اور اللہ کی مدد سے تمہارا ہی غلبہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور تمہارے دشمن شیطان کے ہوا خواہ ہیں جو خود بھی جھوٹا ہے اور اس کے سب وعدے بھی مکروفریب کے ہیں اس واسطے تمہارے دشمن آخر کو مغلوب ہوں گئے۔ اور جو مسلمان مظلوموں کی طرح دشمن کے قابو میں تھے ان کی رہائی ہوگئی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہجرت سے پہلے جب تک مسلمانوں کی جماعت تھوڑی سی تھی اور ان کے پاس لڑائی سامان بھی کچھ نہیں تھا۔ اس وقت تک اگرچہ مکہ کے موجودہ مسلمان مشرکین مکہ کی طرح طرح کی ایذا سے تنگ آکر آنحضرت ﷺ سے اجازت چاہتے تھے کہ مشرکین سے لڑیں۔ چناچہ آگے کی آیت میں اس کا ذکر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت میں اس وقت تک لڑائی کے حکم کا نازل فرمانا خلاف مصلحت تھا۔ ان مسلمانوں کی خواہش پر لڑائی کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ بلکہ درگذر کی آیتیں نازل ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ ہجرت کا حکم نازل ہو کر آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لے آئے مہاجرین اور انصار کے ایک جا ہونے سے مسلمانوں کی جماعت بڑھ گئی۔ لڑائی کا کچھ سامان بھی فراہم ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کی لڑائی کا حکم نازل فرمایا۔ اور اس حکم کی تعمیل کی یہ ترغیبیں ہیں جن کا ان آیتوں میں ذکر ہے شریعت موسوی سے لے کر شریعت محمدی تک دین کی لڑائی کے جائز کردینے میں بڑی مصلحت یہ ہے کہ اس سے دین کی حفاظت ہوتی ہے کوئی مخالف کسی دین کی ہتک نہیں کرسکتا۔ چناچہ تفصیل سے یہ ذکر سورة حج کی تفسیر میں آئے گا۔
Ayahs 4:77–79

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

بھلا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑ بڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا ؟ تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی ؟ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

(اے جہاد سے ڈرنے والو ! ) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہیں گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ (گزند) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج و راحت) سب اللہ ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال کی) وجہ سے ہے اور (اے محمد) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

(77 ۔ 79) ۔ اوپرجہاد کا ذکر تھا یہ آیتیں بھی اسی ذکر سے متعلق ہیں۔ معتبر سند سے نسائی، حاکم، ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلفیں دیتے تھے ایک روز ان تکلیفوں سے تنگ آکر عبد الرحمن بن عوف ؓ اور مقداد بن اسود ؓ اور قدامہ بن مظعون ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ اور چند صحابہ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرکین کی ایذا دہی کی شکایت پیش کی۔ اور لڑائی کی اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی لڑائی کی اجازت نہیں ہے اس لئے بالفعل لڑائی سے ہاتھ روکنا اور فقط نماز اور زکوٰۃ پر قائم رہنا چاہیے مدینہ میں آنے کے بعد لڑائی کا حکم آیا اور بدر اور احد کی لڑائی ہوئی اور بعض مسلمانوں کے دل میں مشرکوں سے لڑائی کا وہ جوش نہیں پایا گیا۔ جو لڑائی کے حکم سے پہلے مکہ میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاہنا دینے کو یہ آیات نازل فرمائیں 1۔ اس شان نزول کی چند روایتیں ہیں جن کے سبب سے ایک رویت کو دوسری روایت سے تقویت ہوجاتی ہے۔ اس مکی آیت میں زکوٰۃ کا جو ذکر ہے اس سے ان علماء کے قول کی تائید ہوتی ہے جو مکہ میں زکوٰۃ کے فرض ہونے کے قائل ہیں۔ لیکن بعض علماء کا یہ قول ہے کہ ہجرت سے پہلے جب مسلمان مکہ میں تھے تو ان کو محتاج لوگوں کے ساتھ مقدور کے موافق کچھ سلوک کرنے کا حکم تھا اسی کو ان آیتوں میں زکوٰۃ فرمایا ہے۔ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد کچے مسلمان دو طرح کی باتیں کرتے تھے ایک تو لڑائی پر جانے میں موت کے اندیشہ سے یہ کہتے تھے کہ جہاد کا حکم تھوڑی مدت تک ٹل جاتا تو اچھا تھا۔ اس کا جواب تو اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ لڑائی پر جانے سے کچھ وقت مقرر سے پہلے موت نہیں آتی۔ موت کا تو ایک خاص وقت مقرر ہے۔ اور جب وقت آجائے گا تو لڑائی کے میدان پر کیا موقوف ہے یہ لوگ اگر مضبوط قلعہ میں بھی ہوں تو موت ان کو ہرگز نہ چھوڑے گی۔ پھر جب یہ بات ہے کہ دنیا کے عیش و آرام دنیا کی زندگی چند روزہ ہے تو ایسے عارضی عیش و آرام ایسی عارضی زندگی کے پیچھے عقبیٰ کا ہمیشہ عیش و آرام ہمیشہ کی زندگی کے حاصل کرنے کی ہمت نہ باندھنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کیونکہ عقبیٰ میں پرہیزگاروں کے لئے جو عیش و آرام اللہ تعالیٰ نے ان کے ذ رہ ذرہ سے عمل کی جزا میں رکھے ہیں دنیا کے عیش و آرام ان کے آگے کچھ اصل نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں مستور دن شداد ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جس طرح کوئی شخص دریا میں انگلی ڈبو کر نکال اور اس کی انگلی میں پانی کی ذرا سی نمی رہ جائے دنیا اور عقبیٰ کی بالکل ایسی مثال ہے 1 کہ عقبیٰ کا عیش و آرام ایک دریا ہے اور اس کے مقابلہ میں دنیا کا عیش و آرام مثل اس نمی کے ہے جو کسی شخص کی انگلی کو لگ کر رہ گئی تھی۔ دوسری باتیں یہ کچے مسلمان اور ان کے ملنے جلنے والے یہود مل کر جو کرتے تھے وہ یہ تھیں کہ مثلاً جب بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو فتح ہوئی تو اس فتح کو اللہ کی قدرت سے ایک اتفاقی فتح کہتے تھے اس بات کے قائل نہیں تھے کہ آنحضرت ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی مدد فرمائی۔ اس لئے یہ فتح ہوئی۔ اسی طرح جب احد یک لڑائی میں معاملہ برعکس ہوا اور مدینہ کے کچھ لوگ اس میں کام آئے تو اس معاملہ کو آنحضرت کے مدینہ میں آنے کو ایک بد فالی خیال کر کے یوں کہتے تھے کہ نہ یہ نبی مدینہ میں آن کر اس طرح کی بےانتظامی کی لڑائی لڑتے نہ یوں مفت ہماری بستی کے لوگوں کی جانیں جاتیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں دنیا میں فتح و شکست اور رنج خوشی کی باتیں اللہ کے حکم سے ہوتی ہیں کسی بد فالی کا اس میں کچھ دخل نہیں رہی لشکر اسلام کی کبھی کبھی کی ناکامیابی اور اس ناکامی کا صدمہ وہ انسان کی شامت اعمال سے ہے جیسے تیر اندازوں کے گروہ نے پہاڑ کا ناکہ چھوڑ کر احد کی لڑائی میں ناکامی اٹھائی اور اس دنیا کے صدمہ میں عین اللہ کی مصلحت یہ ہے کہ مسلمانوں کے گناہوں کا کفارہ یہیں دنیا میں ہوجاتا ہے۔ عقبیٰ کامواخذہ باقی نہیں رہتا۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایمان دار آدمی کو دنیا میں ایک کانٹا چبھنے کا صدمہ بھی پہنچے تو اس کا حساب بھی اس کے گناہوں کے کفارے میں لگایا جائے گا 1۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے ہم نے تو اپنا نائب اور رسول بنا کر تم کو دنیا میں بھیجا ہے تاکہ یہ لوگ تم سے دین کے احکام سیکھیں اور ان پر عمل کریں۔ جس سے ان کی نجات ہو اور اللہ کی گواہی تمہارے رسول ہونے پر ایک کافی بشارت ہے باوجود اس کے یہ لوگ جو تم کو بد فالی کا سبب ٹھہراتے ہیں یہ ان کی کمال نادانی ہے۔
Ayahs 4:80–82

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو شخص رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بیشک اس نے خدا کی فرماں برداری کی اور جو نافرمانی کرے تو (اے پیغمبر ﷺ تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور) ہے لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ کرو اور خدا ہی کافی کار ساز ہے

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

(80 ۔ 82) ۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی گواہی سے آنحضرت ﷺ کے سچا نبی ہونے کا ذکر فرمایا تھا اب ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ میری نافرمانی عین اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے 2۔ یہ حدیث اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ارشاد فرماتا ہے کو جو کوئی اس فرمابنرداری میں گوتاہی کرے تو اے رسول اللہ کے ہم نے ایسے لوگوں کو تمہیں نگہبان نہیں ٹھہرایا اور پھر فرمانبرداری میں کوتاہی کرنے والوں منافقوں کی مذمت فرمائی کہ اے رسول کے وہ لوگ تمہارے روبرو تو فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی جان ان کے مال کو کوئی صدمہ نہ پہنچ جائے۔ لیکن تمہارے سامنے سے جب یہ لوگ ہٹ کر اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو اپنے اقرار کے برخلاف راتوں کو مشورے کرتے ہیں۔ اور اللہ کے دفتر میں ان کی یہ سب کرتوت لکھے جاتے ہیں۔ دنیا میں اے رسول اللہ کے تم ان کو ان کے حال پر چھوڑدو وقت مقررہ پر اللہ ان سے خود بھگت لے گا۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ لوگ قرآن کی فصاحت پر اس کی غیب کی خبروں پر اور ان خبروں کے بغیر کسی اختلاف کے آئندہ کے ظہور پر غور کرتے تو ان کو اچھی طرح یقین آجاتا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ نازل ہوا وہ اللہ کے رسول ہیں مگر اللہ کے علم ازلی میں جن لوگوں کا نفاق کی حالت میں دنیا سے اٹھنا قرار پاچکا ہے وہ اس راستہ پر کبھی نہ آئیں گے۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہرات سے کنارہ کشی اختیار کی تھی تو لوگوں نے مدینہ میں چرچا کردیا کہ آنحضرت نے سب ازواج کو طلاق دے دی میں اس چرچا کی برداشت نہ کرسکا اور میں نے جا کر حضرت سے پوچھا کہ کیا آپ نے سب بی بیوں کو طلاق دے دی آپ نے فرمایا نہیں پھر حضرت عمر ؓ نے مسجد نبوی کے دروازہ پر کھڑے ہو کر بآواز یہ پکاردیا کہ آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ مفسرین نے یہ جو کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت کی لڑائیوں کی خبریں فتح و شکست اوپری طور پر سن کر اس کو لوگ مشہور کردیا کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی 2۔ اس غرض ان مفسروں کی یہ ہے کہ اس مطلب پر بھی آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ صحیح شان نزول وہی ہے جو صحیح مسلم کی روایت میں ہے مگر اولیٰ یہی ہے کہ ان سب قصوں کے مجموعہ کو شان نزول قرار دیا جائے تاکہ اس آیت کو پچھلی جہاد کی آیتوں سے تعلق پیدا ہوجائے۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر یہ کچے مسلمان آنحضرت ﷺ اور واقف کار صحابہ سے اس خبر کی حقیقت دریافت کرکے اس کو شائع کرتے تو یہ غلط چرچا نہ کیا جاتا آئندہ کسی خبر کو بغیر سوچے سمجھے اور سمجھ داروں سے صلاح لینے کے شائع نہ کرنا چاہیے۔ علماء نے اس آٍیت کو قیاس کے جائز ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ زمانہ اللہ کے فضل اور رحمت کا ہے کہ اللہ کے رسول تم لوگوں میں موجود ہیں ہر روز قرآن کی آیتوں کے ذریعہ سے ہر طرح کی غلطی کی اصلاح ہو کر ہر طرح کی آئندہ کی ہدایت ہوتی رہتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شیطان بہت سے لوگوں کو بےاصل باتوں میں اپنا تابع کرلیتا۔
Ayahs 4:84–87

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہو اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کر دے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی سخت ہے

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے تو اس کو اس کے (عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو ، بیشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے ؟

(84 ۔ 87) ۔ اوپر گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی سے واپسی کے وقت ابو سفیان نے سال آئندہ بدر صغریٰ پر لڑائی کے لئے آنے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدہ پر آنحضرت ﷺ سترہ صحابہ کو ساتھ لے کر وقت مقررہ پر بدر صغریٰ کو تشریف لے گئے اور تین روز تک وہاں قیام کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان وغیرہ کے دل میں رعب ڈال دیا۔ اس لئے یہ لوگ وعدہ کے موافق بدر صغریٰ پر نہیں آئے یہ بدر صغریٰ ایک مقام ہے جہاں سالانہ بازار بھرتا ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت آنحضرت ﷺ کے ترغیب دلانے پر ستر آدمی باوجود زخمی ہونے کے آنحضرت ﷺ کے ساتھ گئے تھے جن کی تعریف اوپر گذرچ کی ہے اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح اے نبی اللہ کے تم مسلمانوں کو دین کی لڑائی پر ترغیب دلایا کرو باقی رہی فتح شکست وہ لشکر کی مدد پر منحصر نہی ہے۔ بلکہ فتح شکست اللہ کے حکم سے ہوتی ہے تم تو ان کو فقط دین کی لڑائی کی تاکید کردو اور تم بذات خود اللہ کی راہ میں لڑو۔ اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ یہ جو فرمایا قریب ہے کہ ” اللہ کے بند کرے لڑائی “ یہ ایک غیب کی خبر تھی۔ چناچہ اسی کے موافق ظہور ہوا کہ اس موقع پر ابو سفیان وغیرہ کوئی منکر لڑائی کو نہیں آیا۔ قرآن شریف کی آیتوں میں جگہ جگہ پچھلی امتوں کے تباہ اور برباد ہوجانے کا حال اور دوزخ کے عذاب کا حال یہ لڑائی سے پہلے لڑائی سے پس و پیش کرنے والے مسلمان اور مکہ کے مشرک سب سن چکے تھے اس لئے ان سب کی تنبیہ کے لئے فرمایا کہ اللہ کی لڑائی اور عذاب سخت ہے اس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہیے ان آیتوں میں مکہ کے اہل شرک سے دین کی لڑائی کا حکم تھا اور ان اہل شرک میں لوگ ایسے تھے جو مسلمانوں کے قرابت دار بھی تھے اور ان کو مسلمانوں کی لڑائی سے کچھ واسطہ بھی نہ تھا۔ اس واسطے لڑائی کی آیتوں میں باہمی سفارش اور سلام اور دعا کا ذکر فرمایا۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ مکہ کے اہل شرک میں سے وہ لوگ جو لڑائی کے درپے ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو مکہ سے نکالا تھا۔ ان آیتوں کا حکم ان سے خصوصیت رکھتا ہے مکہ کے بقیہ قرابت داروں اور صلح والے قبیلوں خزاعہ وغیرہ سے آپس کا سلوک منع نہیں ہے سورة ممتحنہ کی تفسیر میں اس کی زیادہ تفصیل آئے گی۔ اسی حکم کے موافق آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں اور اہل شرک کے قربت داروں میں عمل در آمد بھی جاری رکھا تھا۔ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی اسماء ؓ سے صحیحین میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسماء ؓ کی والدہ حالت شرک میں مکہ سے مدینہ کو اپنی بیٹی سے ملنے آئیں انہوں نے ان کے ملنے سے اور کچھ تحفہ جو وہ اپنے ساتھ لائی تھیں اس کے لینے سے انکار کیا اور اپنی ماں کو اپنے گھر میں آنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ آنحضرت ﷺ نے جب یہ حال سنا تو اسماء ؓ سے سفارش فرما کر ان سب باتوں پر ان سے عمل کرا دیا 1۔ اسلام سے پہلے عرب میں سلام علیک کی جگہ حیاک اللہ کہنے کا دستور تھا جس کے معنی ہیں تو جیتا رہ اس سے یہ نہیں نکلتا تھا کہ اس جینے میں صحت و سلامتی بھی ہو یا نہ ہو۔ اس لئے اسلام میں حَیَّاکَ اللّٰہُ کی جگہ سَلاَمٌ عَلَیْکَ ٹھہرایا گیا۔ جو زندگی اور صحت و سلامتی سب کو شامل ہے۔ ابتداء میں سَلَامٌ عَلَیْکَ کرنا سنت کفایہ ہے جس کا مطلب یہ ہے جماعت میں سے ایک شخص نے بھی سلام کرلیا تو کافی ہے اگر نہ کیا تو ایک سنت کا ترک ہوا اور سلام کا جواب دینا فرض کفایہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت میں سے ایک شخص نے بھی جواب دے دیا تو سب کے ذمہ سے فرض ادا ہوگیا۔ ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان سے فرمایا اے آدم تم فرشتوں کی ایک جماعت سے السلام علیکم کہو پھر جو کچھ وہ جواب دیں وہی طریقہ تمہاری اولاد میں جاری رہنا چاہیے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق فرشتوں کی ایک جماعت سے السلام علیکم کہا۔ انہوں نے جواب میں کہا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ 2۔ معتبر سند سے ترمذی اور ابو داؤد میں عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا لفظ سلام علیک سے دس نیکیوں کا ثواب ہوتا ہے اور والسلام علیک ورحمۃ اللہ سے بیس نیکیوں کا اور سلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سے تیس نیکیوں 3 کا اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث معتبر سند سے ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص سلام علیک میں کوتاہی کرتا ہے وہ بڑا بخیل ہے 2۔ ترمذی، ابو داؤد اور نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مجلس میں جائے اس وقت بھی سلام کہے اور جب مجلس سے اٹھے اس وقت بھی السلام کہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 3۔ معتبر سند سے اوسط طبرانی میں حذیفہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب ایک شخص مسلمان دوسرے سے مل کر جب سلام علیک و مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں کسی پیڑ کے پتے جھڑ جاتے ہیں 4۔ اس سے معلوم ہوا گناہوں کی مغفرت کی امید سے ہر سلام علیک کے ساتھ مصافحہ بھی کرنا چاہیے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گذری جس اس کے موافق مجلس سے اٹھ کر چلتے وقت بھی سلام علیک سنت ہے۔ اور حدیفہ ؓ کی اس حدیث کے موافق گناہوں کی مغفرت کی امید سے ہر سلام علیک کے ساتھ مصافحہ بھی کرنا چاہیے تو بعض یہ جو کہتے ہیں کہ چلتے وقت کا مصافحہ جائز نہیں ہے ان کا قول تردد طلب ہے۔ معتبر سند سے طبرانی میں انس ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کا یہ عمل درآمد تھا کہ جب کوئی صحابی سفر کر کے واپس آتا تھا تو بجائے مصافحہ کے اس سے معانقہ کیا کرتے تھے 5۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سوار پیدل سے اور راہ چلتا بیٹھے ہوئے شخص سے سلام علیک کرے۔ اسی طرح تھوڑے سے ہوں تو وہ بہت سے آدمیوں سے سلام علیکم کہیں 6۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ چھوٹی عمر والا شخص بڑی عمر والے سے سلام علیک کرے 7۔ ابو امامہ ؓ سے ترمذی اور ابوداؤد میں ایک روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص سلام علیک کی ابتداء کرے وہ اللہ کے نزدیک بہتر ہے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 8۔ تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں سلمان فارسی ؓ کی روایت ناقابل اعتراض سند سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے السلام علیک کہا اس کے جواب میں آپ نے ورحمۃ اللہ بڑھایا۔ دوسرے نے السلام علیک ورحمۃ اللہ کہا اس کے جواب میں آپ نے ورحمۃ اللہ بڑھایا۔ تیسرے نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا تو آپ نے بھی جواب میں یہی لفظ فرمائے 9۔ یہ حدیث فحیوا باحسن منہا اور ردوھا کی تفسیر ہے۔ سلام علیک کے مسئلہ کی اس سے زیادہ تفصیل بڑی کتابوں میں ہے۔ تحیہ کے معنی دعا دینے کے ہیں جس کا مطلب آیت میں سلام علیک ہے مقیت کے معنی صاحب قدرت۔ حیب کے معنی حساب کرکے جزا دینے والا کہ کس نے سلام علیک کہا۔ اور کس نے ورحمۃ اللہ یا برکاتہ بڑھایا جن لوگوں سے لڑائی کا حکم ان آیتوں میں تھا۔ وہ بت پرست اور منکر حشر تھے اس واسطے ان کی تنبیہ کے لئے آخر پر توحید اور قسم کھا کر حشر کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچا کون ہوسکتا ہے۔ پھر جب اس نے توحید اور حشر کے سچے ہونے کی خبر دی ہے۔ تو اسے سب کو ماننا چاہیے۔