Ayah 6:94تفسیر ابن جریر میں عکرمہ سے روایت ہے کہ نضربن عارث ایک شخص مشرک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پروا ہے لات و منات خدا کے کے روبرو میری شفاعت کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل 2 ؎ فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں اور مالداروں کا مال اولاد والوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا صحیح بخاری و مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا قبر تک ہر انسان کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اولاد مال اور عمل۔ اولاد اور مال تو اس کی قبر میں اکیلا چھوڑ کر پلٹ آنے والی چیزیں ہیں اگلا عمل اس کے ساتھ رہنے کی چیز ہے 3 ؎ صحیح مسلم ‘ ترمذی اور نسائی میں وبد اللہ میں عبداللہ بن شخیر ؓ وغیرہ روایت ہے کہ ہر آدمی آٹھ پہر میرا مال میرا مال جھینکتا رہتا ہے اس کا مال کیا ہے کھیل سو گنوایا پہنا سو پہاڑا ہاں کو اللہ کے نام پر دیا سو رہا 4 ؎ ترمذی اور مسندامام احمد اور دارمی میں حضرت انس ؓ اور زیدبن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ دنیا میں جو شخ صدین کے کاموں میں لگا رہتا ہے اس کا دل دنیا سے غنی رہتا ہے اور بغیر کوشش کے بقدر ضرورت دنیا بھی اس کے ہاتھ آتی ہے اور جو شخص بالکل دنیا کی طرف را غب ہوجاتا ہے وہ ہیمشہ پریشان حال رہتا ہے
اور تقدیرے زیادہ کچھ اس کو نہیں 1 ؎ اسی مضمون کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث ترمذی میں ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے اور معقل بن یسار ؓ کی حدیث مستدرک حاکم میں ہے جس کو عاکم نے صحیح کہا ہے 3 غرض اس باب میں جو روایتیں ہیں ان میں ایک کو دوسری سے تقویت ہوجاتی ہے ان حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جانے کی چیز ہے تو نیک عمل ہے باقی دنیا میں پھنسنے اور دین دنیا کی پریشانی کے سوا سب چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں جن کو چھوڑ جانے سے پہلے چھوڑ دیتا موجب نجات ہے حاصل کلام یہ ہے کہ کہ نفربن عارث جیسے لوگوں کی زندگی اور دارو مدار وہی چیزوں پر تھا ایک مال اور اولاد کی ترقی کی کوشش دوسرے بتوں کی پوچا کر کے ان کو قیامت کے دن اپنا سفارشی قرار دینا۔ ان کی اس زندگی کو لا حاصل ٹھہرانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مال اور اولاد تو قبر تک کے ساتھی ہیں اور جن لوگوں کے بہکانے سے انہوں نے بتوں کو اپنا سفارشی ٹھہرایا ہے قیامت کے دن وہ بہکانے والے ان سے اس طرح کی بیزاری ظاہر کریں گے کہ ان بہکنے والوں کو یہ تمنا نہیں کرنا پڑے گی کہ دنیا میں انکا دوبارہ جانا ہوتا تو یہ بھی ان سے ایسی بیزاری ظاہر کرتے۔ ان بہکانے والوں اور بہکنے والوں کی بیزاری کا ذکر سورة بقر میں گذر چکا ہے۔ عالوہ سورة بقرہ کے یہ ذکر سورة ابراہیم میں بھی آوے گا جس میں شیطان بھی بہکنے والے لوگوں سے اپنی بیزاری ظاہر کرے گا ناقابل اعتراض سند سے تفسیر کلبی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیث بن آدم کی اولاد حضرت آدم (علیہ السلام) کی قبر پر جا کر دعا اور قبر کی تعظیم کیا کرتے تھے یہ حال دیکھ کر شیطان کے بہکانے سے قابیل بن آدم کی اولاد میں سے ایک شخص نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا اگر تم کہو تو میں حضرت آدم کے نام کی ایک مورت بنا دیتا ہوں تم لوگ گھر بیٹھے اس مورت کی تعظیم کیا کرو 4 ؎ اولاد قابیل نے اس بات کو مان لیا اور یہ پہلی مورت تھی جو دنیا میں بنائی گئی اور رفتہ رفتہ اس مورت کی پوجا ہونے لگی ان بت پرستوں کا اعتقاد یہ ہے کہ جن لوگوں کی مورتوں کو یہ پوجتے ہیں وہ لوگ قیامت کے دن اللہ سے ان بت پرستوں کی سفارش کر کے ان کو عذاب الہی سے بچاویں گے حضرت ادریس (علیہ السلام) اسی قوم کی ہدایت اور اسی کی بت پرستی مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے لیکن ان لوگوں نے حضرت ادریس (علیہ السلام) اسی قوم کی ہدایت اور اسی کی بت پرستی مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے لیکن ان لوگوں نے حضرت ادریس ( علیہ السلام) کو جھٹلایا اور بت پرستی سے باز نہ آئے پھر اس قوم میں کے پانچ نیک شخص مرگئے جن کے نام۔ ود۔ سواع۔ یغوث۔ یعوق۔ نسر تھے شیطان نے اس قوم کے دل میں یہ بات ڈالی کہ برکت کے لیے ان پانچوں شخص کی مورتیں بنالی جاویں اب رفتہ رفتہ اس پہلی مورت کے علاوہ ان پانچوں مورتوں کی بھی پوجا ہونے لگی حضرت نوح ( علیہ السلام) اسی بت پرستی کے مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے اور جب اس وقت کے لوگوں نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اسی بت پرستی کے مٹانے کے لیے نبی ہو کر آئے اور جب اس وقت کے لوگوں نے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی نبوت کو نہ مانا تو طوفان آیا جس سے اس زمانے کے سب بت پرست ہلاک ہوگئے طوفان میں یہ پانچوں بت بہہ کر جدہ میں آگئے اور مٹی کے نیچے دب گئے۔
ایک عرصہ کے بعد شیطان کے بہکانے سے عمرو بن لحی مکہ کا ایک شخص ان بتوں کو مکہ میں لایا اور یہاں بھی بت پرستی پھیل گئی۔ سورة مائدہ میں گذر چکا ہے کہ یہ عمرو بن لحی قبیلہ خزاعہ کا ایک سردار تھا اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ دین ابراہیمی کو اسی شخص نے بگاڑا۔ اور آنحضرت ﷺ نے اس کو دوزخ میں جلتے ہوئے دیکھا الغرض بت پرستی کے جاری کرنے میں شیطان اور انسان دونوں کی شراکت ہے اس لیے قیامت کے دن یہ دونوں بت پرست لوگوں سے پانی بیزاری ظاہر کریں گے ان پانچ بتوں کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت صحیح بخاری میں ہے جس کا ذکر سورة نوح میں آئے گا :۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 142۔ 143 باب مایقال عند من حضرہ الموت
2 ؎ تفسیر ابن جریر ج 7 ص 170
3 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 964 باب سکرات الموت صحیح مسلم ج 2 ص 407 کتاب ب الزہد
4 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 407 کتاب الزہد وجامع ترمذی ج 2 ص 57 باب ماجاء فی الزھادۃ فی الدنیا والتر غیب الترہیب ج 2
Ayahs 6:95–97(95 ۔ 97) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور نبوت کا ذکر فرمایا تھا اب اس ڈیڑھ رکوع میں ان عجائبات موجودات دنیا کا ذکر فرمایا ہے جن کے پیدا کرنے میں وہ وحدہ لاشریک منفرد ہے مقصد ان موجودات کے ذکر فرمانے سے یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں دوسخت عیب جو تھے اس کی اصلاح ہوجائے بڑا عیب تو بت پرستی کا تھا اس کی اصلاح موجودات پر غور کرنے سے یوں ہوسکتی ہے کہ دیکھنے میں تو وہ موجودات روز مرہ کی چیزیں معلوم ہوتی ہیں لیکن ہر شے کے پیدا کرنے میں وہ قدرت اور حکمت نہیں حاصل ہوسکتی مثلا علاوہ روایات شرعی کے عقل سے بھی یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ زمین پانی پر پھیلائی گئی ہے کیونکہ جہاں زمین کو کھودا جاتا ہے وہاں پانی نکلتا ہے اب ان بادشاہوں اولوالعزم سے جو ملک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو قبضہ میں لانے کے لیے اپنی اور اپنی فوج کی ہزارہا آدمیوں کی جانیں کھوتے ہیں اور یہ کہا جاوے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے منفرد اپنی ذات سے پانی پر زمین بچھادی ہے۔ تم کئی بادشاہ مل کر اور اپنی فوج ساتھ لیا کرو سمندر پر زمین بچھا دو کہ دنیا سے کئی حصہ زیادہ ملک کے بادشاہ بن جائیں گے انار کی یا آم کی کچھ گٹھلیاں پرانی سوکھی ہوئی لے کر دنیا بھر کے حکیموں سے پوچھا جائے کہ ان سب گھٹلیوں کا ایک ساسوکھی لکڑی کا مزہ ہے پھر ذراعقل تو لگاؤ کہ ایک گٹھلی سے میٹھا انار اور آم اور دوسرے سے کھٹا کیونکہ پیدا ہوتا ہے ان دونوں سوالوں کے جواب میں دونوں فریق سواحیران رہنے کے کچھ جواب نہ دین گے اس سے معلوم ہوا کہ تمام مخلوقات میں سے کوئی فرد بشر اس وحدہ لاشریک کی قدرت کا شریک نہیں پھر معبود بنے کا شریک کوئی کس استحقاق اور برتے پر بن کستا ہے دوسرا عیب یہ تھا کہ وہ مر کر پھر جینے کے حکم کو جب سنتے تھے تو کبھی کہتے تھے ھذاشیء عجیب اور کبھی کہتے تھے من یحییٰ العظام وھی رمیم (32۔ 178) موجودات پر غور کرنے سے اس عیب کی اصلاح یوں ہوسکتی ہے کہ جب منی جیسی رقیق چیز سے ایسی سخت ہڈیاں بنیں اور باوجود سر و تر مزاج منی کے اس طرح مختلف مزاج کے پتلے اور جسیم تنگ جائے میں اسی منی سے بن چکے ہیں اور اندھیرے میں گھبرانے والی شیٔ روح کا تعلق اس کے جسم کے ساتھ پیٹ کے اندر اندہیرے میں ہوچکا ہے تو زمین کی مٹی سے جس میں مردوں کی مٹی مل چکی ہے جس کو چاروں کیفیتوں گرم سروتر اور خشک کا خمیر کہنا چاہئے دوبارہ جسموں کا بن جانا اور کھلے روشن میدان میں روح کا تعلق ان جسموں سے ہوجانا کیا ایسا مشکل ہے جس طرح پہلی دفعہ جسم کا بننا ورروح کا تعلق مشکل تھا نہیں نہیں ہرگز نہیں شیطان نے آسمان سے اتارے جانے کے وقت اللہ تعالیٰ سے یہ کہا تھا لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا (4۔ 188) اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کی امت سے لے کر اب تک بت پرستی اور سب برے کام جو روئے زمین پر ہوتے ہیں شیطان اور اس کے شیاطینوں کے بہکانے سے ہوتے ہیں اور برے کاموں کے کرنے میں وہ شیطان کی اطاعت نکلتی ہے جو اچھے کاموں کے کرنے میں خدا کو زیبا تھی اسی واسطے ان آیات میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی عبادت میں لوگوں نے شیطانوں کو شریک ٹھہرا رکھا ہے حاصل یہ ہے کہ زمین میں لوہے کی کوئی چیز وبائی جاوے تو وہ خاک ہوجاتی ہے یہ اللہ کی قدرت ہے کہ بجائے خاک ہوجانے کے سوکھا دانہ اور خشک گٹھلی بوئی جاکر پھر ان میں سے سبز پیڑ نکلتا ہے اور اس پیڑ میں ایک دانہ سے بہت سے اناج کے دانے اور گٹھلی سے بہت سے میوے کے پھل پیدا ہوجاتے ہیں۔ بےجان انڈے سے جاندار مرغی کا بچہ پیدا ہوتا ہے اور جاندار مرغی کے پیٹ سے بےجان انڈانکلتا ہے اللہ کی یہ قدرت دیکھ کر جو لوگ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان کو فرمایا کہ وہ سیدھے راستے سے پھرے ہوئے ہیں یہ ایک اور اس کی قدرت کا نمونہ ہے کہ وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ صحیح کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندا کرلے اور دن پھر کے کام دھندے سے انسان تھک جاتا ہے اس لیے اس خالق نے انسان کے آرام کے لیے رات کو پیدا کیا تاکہ رات کو انسان آرام پاکر دوسرے دن پھر کام دھندے کے قابل ہوجاوے۔ سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس زبردست صاحب قدرت اور صاحب علم نے اس حساب سے رکھے ہیں جس سے دن مہینہ اور سال کا حساب معلوم ہوتا ہے جس پر دین کا نماز روزہ حج زکوٰۃ کا حساب اور دنیا کے بےگنتی معاملات کا حساب منحصر ہے لوگ دین کے کاموں کا وقت ٹھہرانے کا کام سورج اور چاند سے لیتے ہیں ان کو آنحضرت ﷺ نے اللہ کے اچھے بندے فرمایا 1 ؎ آسمان پر تارے اس کی قدرت کی ایک بڑی نشانی ہے جس سے جنگل اور دریا کے مسافروں کو اندھیرے راتوں میں سیدھا راستہ معلوم ہوجاتا ہے بخاری میں بغیر سند کے اور تفسیر عبد بن حمید میں مع معتبر سند کے قتادہ کا قول ہے کہ تارے آسمان کی زینت شیطانوں کی مار اور اندہیری رات میں مسافروں کو سیدھا راستہ معلوم ہوجانے کے لیے پیدا ہوئے 2 ؎ ہیں جس کسی نے سوا اس کے تاروں سے اور کوئی کام لیا وہ غلطی پر ہے آخر کو فرمایا کہیے سب نشانیاں ان لوگوں کے لئے ہیں جن میں کچھ ہوشیاری اور جنگو کچھ سمجھ ہے جو لوگ رات دن غفلت آپ پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں وہ ان نشانیوں سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاسکتے اسی واسطے ایسے لوگ ان نشانیوں کے پیدا کر نیوالے کی تعظیم کو چھوڑ کر اوروں کی تعظیم میں لگے ہوئے ہیں صحیح بخاری میں زیدبن خالد جہنی ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ مینہ کا برسنا اللہ کے فضل سے جانتے ہیں وہ ایماندار ہیں اور جو لوگ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تاروں کی تاثیر سے مینہ برسا کرتا ہے وہ کافر ہیں حاصل معنی حدیث کے یہ ہیں کہ جو لوگ تاروں میں مستقل تاثیر مینہ برسانے کے جانتے ہیں وہ مشرک ہیں کیونکہ اللہ کی قدرت میں وہ تاروں کو شریک ٹھہراتے ہیں ہاں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تاروں کی تاثیر کا یہ ایک تجرب ہوا ہے کہ تاروں کے خاص خاص طلوع و غروب کے وقت مینہ برستا ہے وہ لوگ مشرک تو نہیں مگر غلطی پر ضرور ہیں کیونکہ با رہا ان کا تجربہ غلط ٹھہراتا ہے اس لیے سچے ایمان دار وہی ہیں جو مینہ کا برسنا اللہ کے فضل سے جانتے ہیں اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں ان صحیح حدیثوں کے موافق قتادہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جس نے سوا ان تین باتوں کے تاروں سے اور کوئی کام لیا اور یہ اعتقاد رکھا کہ تاروں میں اس کام کی مستقل تاثیر ہے تو وہ مشرک ہے ورنہ غلطی پر ہے سورة والصافات میں آویگا کہ جب شیاطین غیب کی باتیں سننے کو آسمان تک جاپہنچتے ہیں تو فرشتے تاروں کی روشنی میں سے شعلے لے کر ان کو مارتے ہیں قتادہ کے قول میں شیاطینوں کی مار کا یہی مطلب ہے :۔
1 ؎ تفسیر فتح البیان ج 1 ص 855۔ 856
2 ؎ تفسیر الدرالمنثور ج 3 ص 43 و صحیح بخاری ج 1 ص 454 باب فی النجوم۔
Ayahs 6:98–99(98 ۔ 99) ۔ کھیتی باغ سورج چاند تارے اوپر انسان کی ان ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا اور آگے بھی اس قسم کے چیزوں کا ذکر آوے گا۔ ان چیزوں کے ذکر کے بیچ میں یہ انسان کے پیدا کرنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جو غافل لوگ اپنی ضرورت کی چیزوں کی حالت پر غور کر کے ان چیزوں کے پیدا کرنے والے کو نہ پہچان سکے وہ خود اپنی پیدائش کی حالت پر غور کر کے اپنے خالق کو پہچانیں اور شرک سے باز آویں نفس واحد سے مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ بنی آدم کی پیدائش کا سلسلہ انہی سے شروع ہو ہے حضرت حوا حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور حضرت مریم حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں ہیں غرض بنی آدم میں سے کوئی شخص حضرت آدم ( علیہ السلام) کے سلسلہ سے باہر نہیں ہے۔ ترمذی ابوداؤد اور صحیح بان حبان میں ابوموسیٰ ؓ اشعری سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی تمام روئے زمین کی مٹی کو ملاکر لی ہے اس واسطے ان کی اولاد کے رنگ اور مزاج مختلف ہیں ابن حبان نے اس حدیث آیت کے ٹکڑے وھوالذی انشأ کم من نفس واحدۃ کی گویا تفسیر ہے جس سے بنی آدم کے رنگ و روپ اور مزاجوں کے مختلف ہونے کا سبب سمجھ میں آتا ہے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے ان روحوں کو نکالا جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہیں اور وہ روحیں حضرت آدم ( علیہ السلام) کو دکھا کر یہ فرمایا کہ یہ تمہاری وہ اولاد ہے جو سلسلہ بہ سلسلہ قیامت تک پیدا ہوگی ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں چند صحابہ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ماں کے رحم میں بچہ کا پتلا چار مہینے کے عرصہ میں بن کر تیار ہوجاتا ہے تو پھر اس پتلے میں اللہ کے حکم سے روح پھونکی جاتی ہے یہ حدیثیں بھی آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ روحیں جسموں سے پہلے پیدا کی جاکر حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پشت میں رکھی گئیں اور پھر وہ روحیں حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے نکالی جاکر حضرت آدم ( علیہ السلام) کو دکھلائی گئیں اور تفسیر سدی کی روایت کے موافق پھر وہ روحیں حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پشت میں سونپ دی گئیں اور یہی سونپنے کی حالت پشت بہ پشت اس پتلے میں پھونک دی جاتی ہے۔ فدافلح المؤمنون میں آویگا کہ نافرمان لوگ عذاب قبر سے تنگ آکر دنیا میں دو بارہ آنے اور نیک عمل کرنے کے خواہش کریں گے تو ان کی یہ خواہش بارگاہ الٰہی میں منظور نہ ہوگی بلکہ ان کو یہ جواب ملے گا کہ اب یہ خواہش بےفادہ اور ناممکن ہے معتبر سند سے مسندامام احمد میں حضرت عائشہ ؓ اور براء بن عازب ؓ سے جو روایتیں ہیں انکا حاصل یہ ہے کہ نافرمان لوگ جب مرتے ہیں تو فرشتے ان کا دوزخ کا ٹھکانا ان کو دکھا کر یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن تم لوگوں کو اس ٹھکانے میں جانا پڑے گا اور پھر ایسے لوگوں پر طرح طرح کا عذاب قبر شروع ہوجاتا ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ اس سے فرقہ آریہ کا آواگون کا مسئلہ غلط قرار پاتا ہے کیونکہ اس مسئلہ کا حاصل یہ ہے کہ بداعمال آدمیون کی روحوں کو دنیا میں حیوانوں کی صورت دی جاتی ہے تاکہ اس تبدیل صورت سے وہ اپنے اعمال کی سزا بھگتیں اور اوپر آیت اور حدیثوں کا جو مطلب بیان کیا گیا اس کے موافق روحوں کا دوبارہ دنیا میں آنا ممکن نہیں علاوہ اس کے اس آواگوں کے مسئلہ کو علماء اسلام نے عقلی طور پر یوں غلط ٹھہرایا ہے کہ بہ نسبت انسان کے حیوانات کی زندگی بڑی بےفکری سے بسر ہوتی ہے اس لیے گرفتار فکر جسم کی روح کو بےفکر جسم میں بدل دینا اور اس کو سزا قرار دینا عقل سلیم کے بخلاف ہے بلکہ آریہ لوگ اگر یوں کہتے کہ مثلا سانڈھ مر کر انسانی جیون میں پھر دوبارہ پیدا ہوتے ہیں تاکہ بےفکر زندگی کی سزا فکر مند زندگی میں بھگتی جاوے تو یہ صورت شاید کچھ سمجھ میں آجاتی لیکن پھر بھی آریہ لوگوں کا یہ جو را دعویٰ دلیل کا محتاج رہتا حاصل یہ ہے کہ اس آواگون کے مسئلہ کی بنیاد تو ایسی ضعیف ہے جس کا حال بیان کیا گیا باوجود اس کے فرقہ آریہ کا یہ اعتراض ہے کہ اسلام میں یہ مسئلہ نہیں ہے اس لئے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیُرِا لُمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْن کے کوئی معنی صحیح نہیں قرار پاسکتے کیونکہ بغیر آواگون کے مسئلہ کے صحیح ہونے کے اللہ کی مہربانی اور غصے کا کوئی موقعہ باقی نہیں رہتا۔ اہل اسلام نے اس اعتراض کا جو جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خود آواگون کے مسئلہ کی بنیاد صحیح نہیں ہے پہلے کسی مقبوط دلیل ہے اس مسئلہ کی صحیح بنیاد قائم کی جاوے پھر کچھ بات چیت کی جاوے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق مُسْتَقَرّ سے مقصود عورت کا رحم ہے جہاں نطفہ قرار پاکر مدت مقرہ کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے اور مُسْتَوْدَعَ سے مقصود مرو کی پشت ہے جہاں نطفہ فقط سپردگی کے طور پر رہتا ہے کچھ تبدل تغیر نطفہ میں وہاں نہیں ہوتا اب آخر آیت میں فرمایا کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کو مفید ہیں جو ان قدرت کی نشانیوں سے صاحب قدرت سے پہچاننے میں سمجھ دوڑاتے ہیں جو لوگ نہ ہر فرقہ کی طرح ان قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے کے بعد بھی صاحب قدرت کی ہستی کے منکر ہیں یا اس کی قدرت کے کار خانہ میں اوروں کو شریک کرتے ہیں ان کو ان نشانیوں سے کچھ فائدہ نہیں معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن معسود ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حال یہ ہے کہ مینہ برسنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو آسمان پر سے دریاؤں میں سے پانی اٹھاتی ہے اور پھر وہ پانی بادلوں میں پہنچاتی ہے اسی پانی سے مینہ برستا ہے یہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کو قول گویا آیت کے ٹکڑے وَھُوَالَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً کی تفسیر ہے اس سے حکماء کا یہ قول غلط قرار پاتا ہے کہ دھوپ کی گرمی سے زمین پر کے دریاؤں کی بھاپ اوپر جاتی ہے اور ہوا کی سردی سے کثیف ہو کر جس میں زیادہ کثافت ہوتی ہے وہ جم کر اس کا ابربن جاتا ہے اور جس میں کم کثافت ہوتی ہے وہ قطرہ قطرہ ہو کر زمین پر ٹپکتی ہے اسی کا نام مینہ ہے اب آگے فرمایا کہ اب مینہ کے پانی سے طرح طرح کا اناج اور میوہ انسان کی ضرورت کے لیے اور چارہ جانوروں کے لیے یہ سب کچھ پیدا ہوتا ہے۔ گیہوں اور جو کی بالیں مکئی اور جوار کے بھٹے بھی قدرت کا ایک نمونہ ہیں کہ ان میں اوپر تلے کس خوبصورتی اور حکمت سے دانے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اسی طرح کھجور کے گچھے اس کا گابھا انگور کے خوشے زیتون اناریہ سب اس کی قدرت کے نمونے ہیں کہ لکڑی سے یہ پھل کیونکر پیدا ہوتے اور پکتے ہیں لیکن یہ قدرت کی نشانیاں انہیں لوگوں کے لیے ہیں جن کو اللہ کی قدرت کے کارخانوں کا یقین ہے۔ طبعیات والوں کی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کچھ طبیعت کے خاصیت سے ہوجاتا ہے قدرت الٰہی کو اس میں کچھ دخل نہیں ان کو ان قدرت کی نشانیوں سے کچھ فائدہ نہیں مگر طبعیات والوں کی یہ غلطی ہے کہ جو وہ ایسی باتیں کرتے ہیں کیونکہ اللہ کے کارخانہ قدرت میں طبیعت کی خاصیت کے برخلاف بھی بہت سی چیزیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعتیں بھی کسی کی پیدا کی ہوئی ہیں جس کے حکم کے وہ تابع ہیں اور وہ جب اور جس موقعہ پر چاہتا ہے کسی طبیعت سے اس طبیعت کی خاصیت کے برخلاف کام لیتا ہے چناچہ زمین کی طبعی خاصیت یہ ہے کہ جو چیز اس میں دبائی جاوے وہ آخر کو خاک ہوجاتی ہے لیکن اناج کے بیچ اور میوے کی گٹھلی میں اس قادر مطلق نے طبعی خاصیت کے برخلاف زمین سے جو کام لیا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح سورج کی طبعی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو خشک کرتا ہے لیکن اس قادر مطلق نے مثلا گیہوں اور جو میں تو سورج کی طبعی خاصیت کے موافق سورج سے کام لیا اور انگور آم میں طبعی خاصیت کے برخلاف سورج سے کام لیا گیا کہ بجائے انگور اور آم کے سوکھا دینے کے سورج کی حرارت نے ان چیزوں کا اور الٹا تروتازہ کردیا کچے انگور اور آم کی کچھی کیری کی جو حالت تھی پکنے کے بعد جو انکی حالت ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے علاوہ اس کے طبعیت کوئی ذی شعور چیز نہیں ہے جو مثلا گیہوں کی بالوں میں اس طرح خوبصورتی ہے دانہ جڑے۔ پانی کی ایک طبعی خاصیت میں یہ شعور کہا ہے کہ کسی آم کے دانہ کو میٹھا کردے اور کسی کو کھٹا غرض طبعیات والے طرح طرح کی طبعی خاصتیں دریافت کر کے اللہ کی قدرت کا انکار نہیں کرسکتے بلکہ ان کو اس کی قدرت کا زیادہ یقین کرنا چاہئے کہ جس نے طرح طرح کی طبعی خاصتیں پیدا کیں اور جس طرح چاہا ان خاصیتوں سے کام لیا پابند طبعیات دہریہ لوگ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو آنکھ سے نہیں دیکھا اس لیے بغیر دیکھے ہم اس کی ہستی کا اقرار نہیں کرسکتے اس کا جواب علمائے پابند شریعت نے یہ دیا ہے کہ ان لوگوں نے روح اور عقل کو بھی آنکھ سے نہیں دیکھا فقط آثار روحانی اور عقلی سے یہ لوگ روح اور عقل کی ہستی کے قائل ہیں :۔
Ayah 6:100دنیا میں بت پرستی جس طرح شیطان کے بہکانے سے پھیلی ہے اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ بت پرستی کا شرک شیطان نے ان بت پرست لوگوں کی نظروں میں اچھا کر کے دکھایا جس سے یہ لوگ شیطان کا کہنا مان کر بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگے جس کے سبب سے گویا وراصل انہوں نے اس بانی شرک شیطان کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اسواسطے فرمایا کہ ان لوگوں نے جن یعنی شیطان کو اللہ کی عبادت میں شریک قرار دیا پھر فرمایا دوسرا شرک ان اہل مکہ کا یہ ہے کہ اللہ کے فررشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور اہل کتاب کا یہ شرک ہے کہ یہود نے عزیر کو اور نصاریٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا لیکن جب فرشتوں کو عزیر اور عیسیٰ ( علیہ السلام) سب کو اللہ تعالیٰ نے نیست سے ہست کیا تو اس طرح کی نیست سے ہست ہونے والی چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے قائم ودائم ذات کے ساتھ کیا مناسبت ہے کہ وہ اللہ کی اولاد قرار پاویں اس لیے جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ ناسمجھی سے کرتے ہیں اللہ کی شان ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی اوپر گذر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا بنی آدم نے بڑی گستاخی کی جو اللہ کو صاحب اولاد قرار دیا 1 ؎ اسی طرح ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے اپور گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بڑا بردبار ہے کہ لوگ شرک کرتے ہیں اللہ کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ ان کو صحت و عافیت سے رکھتا ہے ان کے رزق کا انتظام فرماتا 1 ؎ ہے یہ حدیثیں اس آیت کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے باتیں یہ لوگ اللہ کی شان میں کرتے ہیں وہ باتیں اگرچہ اللہ کی شان میں بڑی گستاخی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے اس گستاخی کی سزا میں جلدی نہیں فرمائی۔ سورة مریم میں آویگا کہ جن و انسان کے اللہ تعالیٰ کی اور مخلوقات کی گستاخی کا اتنا بڑا قلق ہے کہ اس گستاخی کے صدمہ سے آسمان و زمین پھٹ جاویں پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاویں جس سے یہ سب گستاخی کرنے والے فنا ہوجاویں تو یہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان سب بلاؤں کو ٹال رکھا ہے۔
Ayahs 6:101–102(101 ۔ 102) ۔ اللہ تعالیٰ نے پانی قدرت کے ایک اور نمونہ کا یہ ذکر فرمایا کہ جس طرح دنیا میں لوگ کسی چیز کا نمونہ دیکھ کر اس کے موافق کوئی چیز بنالیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اس طرح نہیں پیدا کیا بلکہ اس قادر مطلق نے بغیر کسی نمونے اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان زمین کو نیست سے ہمت کیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاض ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ آسمان و زمین کو اس طرح نہیں پیدا کیا بلکہ اس قادر مطلق نے بغیر کسی نمونے اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان زمین کو نیست سے ہمت کیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاض ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ قیامت تک پیدا ہونے والا تھا اس سب کا اندازہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھا ہے اور اس اندازہ کے لکھنے کے وقت اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا اس سے معلوم ہوا کہ پانی عرش لوح محفوظ قلم ان چیزوں کی پیدائش آسمان اور زمین کی پیدائش سے پہلے ہے مسند امام احمد اور ترمذی میں عباوہ بن صامت ؓ کی حدیث ہے جس کو ترمذی نے صحیح کہا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم اور لوح محفوظ کو پیدا کیا ہے 3 ؎ اس حدیث کا مطلب علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ پانی اور عرش کے بعد اور سب چیزوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ اور قلم کو پیدا کیا ہے یہ مطلب بالکل صحیح اور عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی صحیح حدیث کے موافق ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ سب کچھ سلسلہ بہ سلسلہ اسی قدیم ذات کا پیدا کیا ہوا ہے اس سلسلہ سے پہلے سوا اس کی ذات کے اور کچھ نہ تھا پھر ان نیست سے ہست ہونے والی چیزوں کو نہ اس کی ذات کہ کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس نامناسبتی کے سبب سے کسی کوس کی بی بی یا اولاد کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ جس نے سب کچھ پیدا کیا عبادت کے قابل وہی ایک معبود ہے۔ جس کو ہر ایک کی فرمانبرداری اور نافرمانی کا ذرا ذرا حال معلوم ہے اور تمام عالم کی نگہبانی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ نہ آسمان کی مجال ہے کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر گر پڑے اور اہل زمین کو ہلاک کر دیوے نہ سمندر کو یہ طاقت کہ اپنی حد سے بڑھ کر دنیا کو ڈبو دیوے۔ غور کرنے سے لے گنتی مثالیں دنیا میں اس طرح کی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم کے پیدا کرنے کے بعد عالم کی ہر ایک چیز کی نگہبانی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے دنیا میں کسی کام کا انتظام کسی شخص کو سونپا جاوے تو اپنے سونے کے وقت وہ شخص اس انتظام کی نگہبانی سے بیخبر ہوجاتا ہے اس لیے ہر وقت کی نگہبانی کے ثبوت کی غرض سے صحیح مسلم کو ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ سوتا نہیں ہے اور سونا اس کو سزاوار بھی نہیں ہے کیونکہ رات دن کے تمام عالم کے انتظام کی نگہبانی اس کے ہاتھ ہے رات کہ لوگوں کے سب عمل دن سے پہلے اور دن کے رات سے پہلے اس کے روبر وہ پیش ہو کر ان کی سزا وجزا کی حد قائم ہوجاتی ہے اسی طرح لوگوں کے رات دن کے رزق اور روزی وغیرہ کا انتظام اس کے روبرو پیش رہتا ہے اس قسم کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں جس میں انسان کی پیدائش موت وحیات کے طرح کے انتظام کا ذکر ہے یہ حدیثیں آیت کے ٹکڑے وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَکِیْل کی گویا تفسیر ہیں :۔
Ayah 6:103جن آیات متشابہت میں اہل سنت خارجی معتزلی اور مرجیہ فرقوں میں بڑی بحث ہے ان آیتوں میں کی یہ ایک آیت بھی ہے وہ فرقے س بات کے قائل ہیں کہ آخرت میں بھی خدا کا دیدار کسی کو نہیں ہوسکتا لیکن اہل سنت نے آیتوں اور حدیثوں سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اہل جنت میں ضرور خدا کا دیدار ہوگا ہاں دنیا کی آنکھوں سے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا آخرت کی بنائی آخرت کی قوت سب دنیا سے نرالی ہے اب رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے بھی دنیا کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں اکثر سلف کا یہ قول ہے کہ آنحضرت نے اللہ تعالیٰ کو دنیا میں دو دفعہ فقط خواب میں دیکھا ہے زیادہ تفصیل اس کی سورة نجم میں آوے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں تو یہ ذکر ہے کہ حضرت ﷺ نے معراج کی رات حصرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا لیکن معراج کی حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ معراج کی رات آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو بھی دیکھا ہے یہ معراج کی حدیثیں سورة بنی اسرائیل میں آویں گی اس آیت اور سورة قیامہ کی آیت وُجُوْہٌ یَّوْمَئَذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبّھَا نَاِظَرَہٌ میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ سورة قیامت کی آیت میں لفظ یومئذ موجود ہے جس کے معنے قیامت کے دن کہ ہیں اور اس آیت میں وہ لفظ نہیں ہے۔ اس لیے یہ آیت دنیا کے حال سے متعلق ہے اور سروہ قیامہ کی میت آخرت کے حال سے متعلق ہے اور ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے وہی معنے ہوئے جو اوپر بیان کئے گئے کہ دنیا کی آنکھوں سے کوئی اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا ہاں حساب و کتاب کے وقت نیک وبد سب کو اللہ تعالیٰ کے روبر وکھڑا رہنا پڑے گا پھر اہل جنت کو آخرت میں اللہ کا دیدار نصیب ہوگا صحیح مسلم میں ابوامامہ ؓ کی بڑی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا موت سے پہلے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے نہیں دیکھ سکتا اسی طرح صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخرت میں نیک لوگ اللہ تعالیٰ کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح اب دنیا میں سورج اور چاند کو دیکھتے ہیں یہ حدیثیں اس آیت اور سورة قیامۃ کی آیت دونوں کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ ان حدیثوں کو ملا کر پڑھنے سے وہی مطلب حاصل ہوتا ہے جو دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے اوپر حاصل ہوا تھا۔ دیدار الٰہی کے منکر فرقوں نے ان آیتوں اور حدیثوں کے معنے میں سلف کے برخلاف طرح طرح کی جدید شاخیں نکالی ہیں اور اہل سنت نے طرح طرح سے ان شاخوں کو قطع کیا ہے جس کی تفصیل بڑی تفسیروں میں ہے۔ ھُوَا للَّطِیْفُ الْخِبیْر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب نیک وبدعملوں کی خبر ہے جس دن دیدار الہی اور اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا موقعہ پیش آوے گا تو اللہ ہر ایک شخص کے ساتھ اس شخص کی نیت اور عملوں کی موافی برتاؤکرے گا صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعضے ایمان دار گنہگار قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان سے قریب ہو کر راز کے طور پر ان کے گناہ انہیں یاد دلاوے گا جب وہ لوگ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمادے گا جس طرح دنیا میں تمہارے یہ گناہ لوگوں پر ظاہر کر کے میں نے تمہیں رسوا نہیں کیا اسی طرح آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ منکرین قیامت اور منافقوں کے سارے گناہ تمام اہل محشر کو جتلائے جاکر ان کو رسوا کیا جاوے گا۔ کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے قابل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور اور دوزخ میں جانے کے قابل ہیں صحیح مسلم میں صہیب ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل جنت کو بلا حجاب اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا۔ یہ حدیثیں آیت کی گویا تفسیر ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے ہر ایک حال کی خبر رکھنے اور اس کے نتجیہ کی یہ تفصیل معلوم ہوسکتی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور مؤاخذہ کا برتاؤ کیونکر ہوگا اور اہل جنت کو جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کس طرح ہوگا :۔
Ayahs 6:104–107(104 ۔ 107) ۔ آنکھوں میں ہر چیز کے دیکھنے کی جو قوت ہے اس کو بصارت کہتے ہیں اور دل میں ہر چیز کے سمجھنے کی جو قوت ہے اس کو بصیرت کہتے ہیں بصائر بصیرت کی جمع ہے۔ شروع سورة سے توحید الٰہی اور قدرت الٰہی کو جو آیت قرآنی گذریں ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت نے ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت الٰہی کا اثر ڈالنے کے لیے اور اس اثر سے توحید الٰہی اس کے دل میں پیدا ہوجانے کے لیے کافی ہیں اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کے عقبی درست ہوجاوے گی اور جو کوئی ان نصیحتوں کے بعد بھی کور باطن رہے گا اس کا خمیازہ اسی کو بھگتنا پڑے گا پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں فقط اللہ کا حکم پہنچانے والا ہوں تمہاری بداعمالی کی گرفت میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جب چاہے گا تمہاری بداعمالی کا مؤاخذہ فرمادے گا۔ سورة انفال میں آوے گا کہ مشرکین مکہ قرآن کی آیتوں کو جھٹلاتے اور یہ کہتے تھے کہ اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو اس کے جھٹلانے کے وبال میں ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن میں جگہ جگہ یہ جتلا دیا ہے کہ عذاب کا بھیجنا اللہ کے وہ جب چاہے گا تمہاری بد اعمالی کا مؤاخذہ فرمادے گا۔ سورة انفال میں آوے گا کہ مشرکین مکہ قرآن کی آیتوں کو جھٹلاتے اور یہ کہتے تھے کہ اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو اس کے جھٹلانے کے وبال میں ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو معرفت قرآن میں جگہ جگہ یہ بتلا دیا ہے کہ عذاب کا بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے اللہ کے رسول کے اختیار میں نہیں ہے یہ لوگ ناحق عذاب کی جلدی کرتے ہیں وقت مقررہ پر عذاب کا آجانا بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا ظہور ہوا کہ عذاب کی جلدی کرنے والے ابوجہل وغیرہ اس لڑائی میں بےگور وکفن بڑی ذلت سے مارے گئے اب آگے فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کی نصیحت۔ مشرکین کے ہر ایک اعتراض کا جواب۔ سچی پیشین گوئی یہ سب کچھ تفصیل سے اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ جو لوگ علم ازلی میں نیک قرار پا چکے ہیں وہ جان لیویں کہ یہ باتیں ان پڑھ شخص سے بغیر غیب کی مدد کے ہرگز نہیں ہوسکتیں اور جو لوگ علم الٰہی میں بدٹھہر چکے ہیں وہ قرآن کی آیتیں سن کر طرح طرح کی باتیں بناویں کبھی کہویں یہ قرآن پچھلے لوگوں کی کہانی ہے کبھی کہویں محمد ﷺ خود تو ان پڑھ ہیں اہل کتاب سے کچھ باتیں سیکھ کر وہ ہمارے رو برو بیان کرتے ہیں اور اس کا کلام الٰہی مشہور کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ان لوگوں کی بےٹھکانے باتوں کا کچھ خیال نہ کرنا چاہئے بلکہ تم کو یہی چاہئے کہ تم قرآن کی ہدایت کے موافق ان لوگوں کو توحید کے احکام سنائے جاؤ تاکہ توحید سے ان کے کان آشنار ہیں اس کے بعد علم الہی کے موافق ان میں کے جو لوگ شریک پر اڑے ہیں نہ اللہ تعالیٰ ان کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا چاہتا ہے نہ اس نے تم کو اس بات پر مامور اور وکیل کیا ہے کہ ہر ایک مشرک کی حالت کی نگہبانی کر کے اس کو اسلام پر مجبور کیا جاوے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قرآن شریف ایک ایسا بڑا معجزہ مجھ کو دیا گیا ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن سب نبیوں کی امتوں سے میری امت کی تعداد زیادہ ہوگی۔ عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی صحیح مسلم کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ماں کے پیٹ میں جب بچہ کا پتلا بن کر تیار ہوجاتا ہے تو اس میں روح پھونکنے سے پہلے اللہ کے حکم کے موافق فرشتہ یہ لکھا لیتا ہے کہ بڑا ہو کر یہ بچہ نیک اٹھے گایا صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی برح زمین کی فرمائی ہے یہ حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں ایسی کامل نصیحت موجود ہے جس سے بہ نسبت اور امتوں کے آنحضرت ﷺ کی امت کے تعداد قیامت کے دن بڑھ جاوے گی لیکن علم الٰہی کے موافق پہلے لوح محفوظ میں اور پھر ماں کے پیٹ میں جو لوگ بد لکھے جاچکے ہیں ان کے دل میں قرآن کی نصیحت کا اسی طرح کچھ نیک اثر پیدا نہیں ہوگا جس طرح بری زمین میں مینہ کا کچھ نیک اثر نہیں پیدا ہوتا اور مجبور کر کے ایسے بدلوگوں کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کیونکہ یہ مجبوری اس انتظام الٰہی کے برخلاف ہے جس کی بنیاد پر دنیا پیدا کی گئی ہے کہ بغیر کسی مجبوری کے دنیا میں نیک وبد کو چانچا جاوے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اپنے قصد اور ارادہ سے ہر شخص عمر پھر جو کچھ کرے گا لوح محفوظ میں اور ماں کے پیٹ میں بچہ کے ہونے کے وقت میں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق ہر شخص کی وہ حالت لکھی گئی ہے اس حالت کے لکھے جانے سے جن لوگوں نے انسان کے مجبور ہونے کا مطلب نکالا ہے ان کی بڑی غلطی ہے :۔
Ayah 6:108تفسیر عبد الرزاق تفسیر سدی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کے گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کی قوت سے پہلے مسلمان جب شرکوں کے بتوں کو برا کہتے تھے تو وہ خدا کو برا کہنے سے منع فرمایا جب مسلمانوں کا زور ہوگیا تو بہتوں کو برا کہنا تو درکنار فتح مکہ کے وقت مسلمانوں نے ان بتوں کو توڑ ڈالا اس آیت کے حکم سے یہ مسئلہ نکلا کہ ضعف اسلام کے وقت کسی مباح کام سے کوئی بڑا فتنہ پیدا ہوتا ہو تو اس مباح کام کو نہیں کرنا چاہئے آیت جہاد سے اس آیت اور اس کی اوپر کی دو آیتوں کو بعض مفسروں نے جو منسوخ کہا ہے۔ اس کی تفصیل اوپر گذر چکی ہے کہ جہاد کی آیت سے درگذر کی آیتیں منسوخ نہیں ہیں۔ یہ عبدالرزاق بن ہمام صنعانی (رح) بخاری کے استاد ہیں بخاری نے کہا ہے کہ ان کی کتابوں کی روایت صحیح ہے آخر عمر میں یہ نابینا ہوگئے تھے اس زمانہ کی ان کی زبانی روایت میں محدیثین کو تردد ہے ان کی تفسیر ان کو نابینا ہونے سے پہلے کی ہے اس واسطے معتبر ہے ان کا شمار متقدمین مفسروں میں ہے اور ان کی تفسیر اہل حدیث کے طور کی منقول تفسیر ہے ابن ماجہ اور حاکم سے تفسیر کے باب میں انکا طبقہ مقدم ہے اب آگے فرمایا کہ جو حال ان مکہ کے مشرکوں کا ہے کہ باوجود طرح طرح کی نصیحت کے یہ اپنا بھلا برا نہیں سمجہتے اور اپنے شرک کی برائی کو یہ لوگ یہاں تک اچھا جانتے ہیں کہ ان کے پتھر کے بتوں کو اگر کوئی برا کہوے تو اس کے مقابلہ میں یہ اپنے پیدا کرنے والے کی مذمت پر آمادہ ہوجاتے ہیں قوم نوح سے لے کر فرعون اور اس کی قوم تک یہی حال سب پچھلی امتوں کا تھا کہ وہ لوگ شرک کو اچھا اور شرک کے چھوڑ دینے کی نصیحت کو برا جانتے تھے آخر نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ دنیا میں تو وہ لوگ طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے اور عقبے میں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی اور جواب دہی میں قائل ہو کر ان اعمال کی سزا بھگتنی پڑے گی معتبر سند سے ترمذی ‘ نسامذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان کے پھندے میں پھنس کر جب آدمی گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا ہے تو اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے جس سے اسکا دل مرجاتا ہے اور وہ مردہ دل نصیحت کے سمجہنے سے غافل ہو کر برے کاموں کو اچھا جاننے لگتا ہے اس سبب سے برے کاموں سے باز آنے کی اس کو توفیق نہیں ہوتی اور مجبور کر کہ کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور اس کا عقبے کا انجام وہی ہونے والا ہے جس کا ذکر آیت میں ہے حاصل یہ ہے کہ یہ حدیث آیت کی تفسیر ہے جس سے برے کاموں کو اچھا جاننے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے مسند امام احمد کے حوالہ سے معتبر سند کی ابوسعید خدری ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ شیطان اللہ کے روبرو اس بات پر قسم کھاچکا ہے کہ اس سے جہاں تک ہو سکے گا وہ بنی آدم کو بہکاوے گا صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے کہ شیطان نے اپنا تخت سمندر میں بچھا رکھا ہے جس پر خود تو وہ بیٹھ جاتا ہے اور وہ اپنے شیاطینوں کو طرح طرح سے بہکانے کے پٹی پڑھا کر لوگوں کے بہکانے کو بھیجتا ہے شیطان کے بہکانے کا مطلب یہی ہے کہ وہ حق بات کے مقابلہ میں ناحق بات کو ایسے اچھے ڈھنگ سے لوگوں کو دیکھاتا ہے جس سے بڑے بڑے عقل منددھوکا کھا جاتے ہیں اور ان کے شرعی صحیح عقیدہ یا عمل میں فتور پڑجاتا ہے۔ مثلا فلسفی لوگ باوجودیکہ بڑے عقل مند کہلاتے ہیں لیکن اس ملعون نے ان کو عقلی دلیلوں کے پھندے میں پھنسا کر اس عقیدہ پر نہیں اجمادیا کہ حشر میں جسم پھر دوبارہ پیدا نہ ہوگا بلکہ آدمی کے مرنے کے بعد فقط روح باقی رہے گی اور اچھے لوگوں کی روح کو اچھی باتوں کے تصور سے ایک طرح کی خوشی ہوگی اور برے لوگوں کی روح کو بڑے باتوں کے تصور سے ایک طرح کا رنج ہوگا اس کا نام جنت و دوزخ ہے اس کے سوا اور بھی اسی طرح کے غلط عقیدے ہیں جن پر یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور ان عقیدوں کو ایسا اچھا جانتے ہیں کہ ان کے مقابلہ میں انبیاء کی آسمانی ہدایت کو اپنے حق میں ضروری نہیں خیال کرتے چناچہ سقراط کو اس قوت کے بعض نیک لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جانے اور شریعت موسوی کی باتیں سیکھنے کی صلاح دی تو سقراط نے اس کا جواب یہ دیا کہ انبیاء عالم لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے ہیں ہم لوگوں کو انبیاء کی ہدایات کی ضرورت نہیں حالانکہ سقراط اور اس کے ہم عقیدہ فلسفیوں کا یہ قول کہ ان کو انبیاء کی ہدایت کی ضرورت نہیں بالکل ایک غلط اور شیطانی بہکاوے کا قول ہے کیونکہ عقبی کی غیب کی باتیں حواس اور عقل سے یہیں معلوم ہوسکتیں اس لیے ان کے سیکھنے میں انبیاء کی تعلیم کی ضرورت ہے ان لوگوں نے اس ضرورت کا انکار کیا اسی واسطے ایسی غیب کی باتوں میں ان کے اکثر قول غلط ہیں مثلا شیخ ابو علی سینا سے پہلے کے فلسفیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ سوا اپنی ذات کے اللہ تعالیٰ کو کسی اور چیز کا علم نہیں ہے شیخ بو علی بن سینا سے پہلے کے فلسفیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ سوا اپنی ذات کے اللہ تعالیٰ کو کسی اور چیز کا علم نہیں ہے شیخ بو علی بن سینا نے یہ قول تراشا کہ اللہ تعالیٰ کو سوا اپنی ذات کے کلیات کا علم ہے جزی باتوں کا علم نہیں ہے پہلا قول تو اس لیے غلط ہے کہ مخلوقات میں ہر شخص اپنی ذات کو اور اپنے پیدا کرنے والے کو جانتا ہے تو گویا نعوذ باللہ مخلوقات کا علم اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے علم سے بڑھا ہوا ہے۔ اس بات کا منہ سے نکالنا دیوانہ پن نہیں تو اور کیا ہے۔ دوسرا قول اس سبب سے غلط ہے کہ جو بادشاہ اپنی بادشاہت کا حال نہ جانے اس کی بادشاہت کیونکر چل سکتی ہے کیونکہ سلطنت کے جزوی امور میں کارپرداز جو چاہیں گے وہ اس انجان بادشاہ سے کر الیویں گے جس سے رفتہ رفتہ سلطنت کا انتظام خراب ہوجاوے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کا انتظام اس عیب سے بالکل پاک ہے اس واسطے انبیاء کی تعلیم یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام عالم کے ذرہ ذرہ کا علم ہے اور اسی علم کے موافق قیامت کے دن جزاوسزا گی انبیاء کی تعلم کے موافق جب ذرہ ذرہ برابر عمل کی جزاوسزا ہوگی تو اس وقت شیخ کو اپنے قول کی غلطی معلوم ہوجاوے گی اور اپنے غلط قول کا اسے اس وقت پچھتاوا ہوگا جس وقت کا پچھتاوا کچھ کام نہ آوے گا جس طرح اس عقیدہ کا فتور بیان کیا گیا ہے اسی طرح شیطان بدعت اور ریاکاری میں پھنسا کر لوگوں کے علموں میں طرح طرح کے فتور ڈالا دیتا ہے جس کی مثالیں شریعت کی کتابوں میں کثرت سے ہیں غرض اسی طرح کی باتوں کو کذلک زینا لکل امۃ عملھم۔ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے بہکاوے سے بعضے لوگوں کی نظروں میں برے کام یہاں تک اچھے لگنے لگتے ہیں کہ باوجود نصیحت کے وہ لوگ ان برے کاموں سے باز نہیں آتے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ مجبور کر کے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے :۔
Ayahs 6:109–110(109 ۔ 110) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں مجاہد اور بعضے اور سلف کے قول کے موافق ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش طرح طرح کے معجزے آنحضرت ﷺ سے چاہتے تھے اور قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ ان معجزوں کے دیکھ لینے کے بعد وہ اسلام کے تابع ہوجاویں گے۔ مشرکوں کی قسما قسمیں دیکھ کر مسلمان لوگوں کو بھی یہ خواہش تھی کہ ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تو خوب ہے تاکہ ان معجزوں کے دیکھنے کے بعد اپنی قسماقسمی کے موافق شاید ان مشرکوں میں سے کچھ لوگ اسلام کے تابع ہوجاویں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاصل معنے ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت مشرکوں کی خواہش کا تو یہ جواب دیا کہ معجزہ اللہ کے اختیار میں ہے جب اس کی حکمت مقتضی ہوگی کسی معجزہ کا ظہور ہوجاویگا کسی کی خواہش اور قسما قسمی معجزات کا ظہور منحصر نہیں ہے کیونکہ یہ عادت الٰہی ہے کہ جس قوم کے خواہش پر کسی معجزہ کا ظہور ہو اور اس معجزے کے دیکھنے کے بعد بھی وہ قوم راہ راست پر نہ ملے تو اکثر ایسی قوم کسی عذاب میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو خواہش کا یہ جواب دیا کو جو لوگ اللہ کے علم میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں ان کا حال تم کو معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کو ان کا حال خوب معلوم ہے کہ اس خواہش اور قسما قسمی سے پہلے جس طرح معراج شق القمر وغیرہ معجزات کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوا اسی طرح وہ اپنے کفر میں سرگرد ان رہیں گے۔
1 ؎ تفسیر ابن جریر ج 7 ص 192۔
Ayah 6:111اوپر کی آیتوں کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگر ان مشرکوں کے روبرو فرشتے مرے ہوئے مردے اور جہاں بھر کی ہر ایک چیز اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی گواہی دیوے تو بھی جب تک اللہ نہ چاہے اس وقت تک یہ لوگ راہ راست پر نہ آویں گے لیکن اللہ یہ نہیں چاہتا کہ اپنے علم ازلی کے برخلاف کسی کو مجبور کر کے راہ راست پر لادے اس لیے ایسے لوگوں کی قسما قسمی پر مسلمانوں کے معجزہ کی خواہش ایک انجان پنے کی خواہش ہے جو مسلمانوں کے حق میں مناسب نہیں ہے بلکہ ان کے حق میں یہ مناسب ہے کہ وہ ایسے انجان معاملہ کو اللہ کی مرضی پر چھوڑ دیں اس کے علم ازلی کے موافق جو مناسب ہوگا وہ وقت مقررہ پر خود ظہور میں آجاوے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اس کے علم ازلی لیں جو اہل مکہ دوزخی ٹھہر چکے تھے وہ فتح مکہ تک شرک کی حالت میں مرگئے اور جو لوگ راہ راست پر آنے والے تھے فقط فتح مکہ نے ان کو بڑے سے بڑے معجزہ کا اثر دکھایا جس سے وہ سب تابع اسلام ہوگئے ان آیتوں میں قرآن شریف کا ایک بڑا یہ معجزہ ہے کہ اہل مکہ کا جو حال اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا تھا آخر کو کچھ عرصہ کے بعد ویسا ہی ظہور ہوا جس لوگوں کا راہ راست پر آنا اللہ تعالیٰ کے علم میں اور اس علم کے موافق اس کے ارادہ ازلی میں ٹھہر چکا تھا وہی لوگ اہل مکہ میں سے راہ راست پر آئے اور باقی کے لوگ اسی گمراہی کی حالت میں دنیا سے اٹھ گئے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک سو بیس دن کے عرصہ میں جب بچہ کا پتلا ماں کے پیٹ میں تیار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق فرشتہ یہ لکھ لیتا ہے کہ بڑا ہو کر یہ بچہ نیک ہوگا یا بد اس کے بعد اس پتلے میں روح پھونکی جاتی ہے اسی طرح صحیح بخاری ومسلم میں حضرت علی ؓ کی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں نیک ٹھہر چکے ہیں ان کے دل میں ہمیشہ نیک کا موں کا ارادہ اللہ کی طرف سے پیدا ہوتا رہتا ہے جس سے ہر ایک نیکی کام کا کرنا ان کو آسمان ہوجاتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم میں بدٹھہر چکے ہیں انکا دل نیک کام کی طرف مائل نہیں ہوتا اس واسطے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے دل میں نیک کاموں کا ارادہ پیدا نہیں ہوتا جس سے ایسے لوگ ہمیشہ بدکاموں میں لگے رہتے ہیں۔ یہ حدیثیں اس آیت اور اس سے اوپر کی آیتوں کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ اہل مکہ میں سے جو لوگ عمر بھر کفر میں سرگردان رہے اور پھر اسی حالت پر مرگئے نہ قرآن کی نصیحت نے ان کے دل میں کچھ اثر پیدا کیا نہ معراج اور شق القمر جیسے معجزات کو انہوں نے عبرت کی نگاہ سے دیکھا یہ وہی لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق ماں کے پیٹ میں بد لکھے گئے تھے جس کے سبب سے عمر پھر اسلام کی طرح انکا دل مائل نہیں ہوا اسی واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ فرشتے مرے ہوئے مردے اور جہاں بھر کی سب چیزیں ان کے روبر اور اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کے سچے ہونے کی گواہی دیویں جب بھی اللہ تعالیٰ کے علم کے برخلاف ان لوگوں کی قسموں کا کچھ ظہور نہ ہوگا نُقَلِّبُ اَنْئِدَ تَھُمْ وَاَبْصَارَ ھُمْ ۔ اس کا مطلب وہی ہے جو حضرت علی ؓ کی حدیث میں گذرا کہ یہ لوگ علم الٰہی میں بدٹھہر چکے ہیں اس لیے جو معجزات یہ لوگ چاہتے ہیں وہ اوپر کے دل سے ہیں ان معجزات کے دیکھنے کے بعد بھی ان کا دل حق بات کی طرف مائل ہوگا نہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی نیک ارادہ ان کے جی میں پیدا ہوگا اس واسطے حق بات کی طرف سے انکا دل جیسا پھرا ہوا تھا ویسا ہی رہے گا اور ان کی آنکھوں پر ان معجزات کے دیکھنے کے بعد بھی وہی پرد اپڑا رہے گا جو معراج اور شق القمر کے بعد تھا :۔