Ayah 6:70اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ کو آیات قرآنی کے مضمون کے موافق جس قدر سمجھایا جاتا تھا وہ اس قدر ان آیتوں کو مسخراپن میں اڑاتے اور جھٹلاتے تھے اس آیت میں ارشاد ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کھانے پینے شراب خوری گانا اور باجا سننے کو اپنا دین ٹھہرا رکھا ہے اور اصل دین کی باتوں کے اور ان باتوں کی سزا وجزا کے لیے دوبارہ زندگی کے یہ لوگ منکر ہیں۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ جس کے دل میں عقبے کا یقین نہیں وہ عقبے کی باتوں کو جلدی سے کیوں کر مان سکتا ہے اس لیے اے رسول اللہ کے ان منکر قیامت لوگوں کو چند روز ان کے حال پر چھوڑ دیا جاوے مگر اتنی بات ان کو سمجھا دی جاوے کہ جس طرح کے مسخرا پن اور کھیل تماشے کو ان لوگوں نے اپنا دین ٹھہرا رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے کھیل تماشے کے طور پر دنیا کو نہیں پیدا کیا بلکہ دنیا کے پیدا کرنے کا نتیجہ وہی ہے جو گھڑی گھڑی ان لوگوں کو جتلایا جاتا ہے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد دنیا کے نیک وبد کی جز اوسزا کے لیے دوسرا جہان ضرور قائم ہوگا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے سے لگے وہ دوسرا جہان ایسا ہوگا کہ جہاں ہر شخص اپنے عمل کے نتیجہ کا پابند کرایا جاوے گا۔ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کا وہاں کوئی حامی و مددگار نہیں ہے تمام دنیا کا مال ومتاع یہ لوگ سزا کے معاوضہ میں دینا چاہیں گے تو یہ معاوضہ ہرگز قبول نہ ہوگا۔ کھولتا ہوا پانی پینا۔ سینڈھ کھانا ہمیشہ آگ میں جلنا یہی ایسے لوگوں کی سزا ہے۔ مسند امام احمد ترمذی مستدرک حاکم میں ابو امامہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کا وہ پانی ایسا کھولتا ہوگا کہ جب وہ پانی دوزخیوں کو پلایا جاوے گا تو اس کی گرمی سے پیتے وقت ان کے منہ کی کھال جل کر گر پڑے گی اور پینے کے بعد ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی حاکم نے اس حدیث کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا 1 ؎ ہے ترمذی نسائی ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کے دوزخیوں کے کھانے کا تھوڑا ساسینڈھ زمین پر آن پڑے تو اہل دنیا کی زندگی مشکل ہوجاوے ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے
1 ؎ و 2 ؎ جامع ترمذی ج 2 ص 84 باب ماجاء فی صنقہ شراب اھل النار والترغیب والترہیب ج 2 ص 320
جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اونی درجہ کا دوزخ کا عذاب یہ ہوگا کہ دوزخیوں کے پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہناوی جاوینگی جس کی گرمی سے ان کے سر کا بھیجاپگھل کر نکل پڑیگا 3 ؎۔
3 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 971 باب صفۃ الجنۃ والنار و صحیح مسلم ج 1 ص 115 باب شفاعۃ النبی ﷺ لابی طالب الخ یہ تو دوزخ کا ادنی درجہ کا عذاب ہوا رہا دوزخ کے اعلیٰ درجہ کے عذاب کا حال وہ دنیا کا کا روبار قائم رہنے کے لیے اللہ کے رسول نے نہ صحابہ کو بتلایا نہ اس کی روایت ہم لوگوں تک آئی چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اگر دوزخ کے عذاب کی پوری تفصیل تم کو معلوم ہوجاوے تو سو رات دن کے رونے کے اور تم سے کچھ بھی نہ ہو سکے گا 1 ؎ یہ حدیثیں دوزخ کے کھانے پینے اور اس کے عذا اب کی گویا مختصر تفسیر ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 60ِ باب قول النبی ﷺ لوتعلمون ما اعلم الخ
Ayahs 6:71–74(71 ۔ 74) ۔ اسماعیل سدی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے مکہ میں موقعہ پاکر فہمائش کے طور پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے ٹیڑھے راستہ پر چلا جاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرما دیا کہ دین اسلام میں خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے جس نے زمین و آسمان پیدا کیا ہے اور دنیا کی عارضی مالکوں کی ہلاکت کے بعد پھر اس کا ملک اسی کے حوالہ میں رہے گا اور بت پرستی وہ طریقہ ہے جس میں خدا کی ناخشنودی سے ضرر یقینی ہونا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی بہت سی قومیں اللہ تعالیٰ کی ناخوشنودی کے سبب سے طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئیں اور پتھروں سے نفع کی توقع کسی عقلمند کا کام نہیں ہے اس لیے یہ توقع خلاف عقل ہے علاوہ اس کے جب زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور سب ملک اسی کا ہے تو پھر ان مشرکوں نے بتوں کو کون سے استحقاق سے اپنا معبود قرار دیا ہے یہ ان سے پوچھا جاوے بعضے مفسروں نے کہا ہے کہ صور کے معنے یہاں ” صورت “ کے ہیں اور معنے آیت کے یوں بتلائے ہیں کہ جب صورتوں میں روح پھونکی جاوے گی مگر یہ معنے صحیح حدیثوں کے مخالف ہیں اصل معنے صور کے وہی نرسنگ کے ہیں
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 145:۔
جن کی صراحت صحیح احادیث میں آچکی ہے کہ حضرت اسرافیل اس کو منہ میں لیے کھڑے اور ہر وقت اس کے پھونکنے کے حکم کے منتظر ہیں چناچہ ابوداؤد ترمذی اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی صورت کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا 1 ؎ ہے اور ابن حبان کی سند بھی صحیح ہے اس سے اوپر کی آیت وذرالذین اتخذزا دینھم لعباد ولھوا کو اگرچہ بعض علماء نے آیت جہاد سے منسوخ کہا ہے لیکن صحیح مذہب یہ ہے کہ اس طرح کی درگذر کی آیتوں کے لیے ایک مدت مقرر تھی جس مدت کا حکم اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا تھا فاعفواوا صفحوا حتی یاتی اللہ یاموہ وہ امرالٰہی یعنی جہاد کا حکم جب آیا تو سب درگذر کی آیتوں کی مدت پوری ہوگئی غرض یہ سب آیتیں منقضی المدت ہیں منسوخ نہیں ہیں اور منسوخ آیت اور منقضی المدت آیت میں بڑا فرق ہے منسوخ پر عمل بالکل منع ہوجاتا ہے اور منقضی المدت آیت پر عمل اس وقت تک جائز نہیں جب تک وہ سبب نہ پایا جاوے جس سبب کی ضرورت سے وہ مدت قرار دی گئی تھی حاصل یہ ہے کہ جس زمانہ میں وہ سبب پایا جاوے گا پھر سبب کے زمانہ تک وذر کی آیتوں کے موافق عمل کرنا ضرور ہے مثلا اب کسی شہر یا ملک میں مسلمانوں کی حالت اسی طرح ضعیف ہوجاوے جس طرح ہجرت سے پہلے اس وقت کے مسلمانوں کی حالت مکہ میں تھی تو زمانہ ضعف تک وہی درگذر کا عمل حال کے مسلمانوں کے لیے واجب اور ضروری ہے رمضان کے روزے حج ‘ زکوٰۃ یہ سب چیزیں ہجرت کے بعد مدینہ میں فرض ہوئی ہیں اس لیے ان مکی آیتوں میں فقط نماز کا ذکر فرمایا کیونکہ نماز مکہ میں معراج کی رات فرض ہوئی ہے۔ اب آگے فرمایا کہ اس صاحب قدرت کے فقط ایک کن کے کلمہ کے فرمانے سے جس طرح یہ سب کچھ پیدا ہوگیا جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح وقت مقررہ پر اس کے حکم سے فورا قیامت قائم ہوجاوے گی اور نیک وہ بدسب اس کے روبرو حاضر ہوجاویں گے۔ وہ اللہ صاحب تدبیر اور خبردار ہے کہ اس کا کوئی کام بےفائدہ کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہے اس لیے اس نے نیک وبد کے نتیجہ کے لئے دنیا کو پیدا کیا ہے اور اس نتیجہ کے دن کا نام قیامت ہے اور قیامت کے آنے کی خبر جو قرآن میں دی گئی ہے وہ ایسی برحق ہے کہ دنیا کے انتظام پر غور کرنے کے بعد کوئی عقلمند اس کا انکار نہیں کرسکتا کس لیے کہ جس کی عقل ٹھکانے ہے نہ وہ خود کو بےٹھکانے کام کرتا ہے نہ وہ ‘ اللہ تعالیٰ کی شان میں ایسا کلمہ منہ سے نکال سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو بغیر کسی نتیجہ کے کھل تماشے کے طور پر پیدا کیا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابن عمر ؓ کی حدیث ہے
1 ؎ جامع ترمذی ج 2 ص 65 باب ماجاء فی الصور یہ تمام بحث دیکھئے تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 145۔ 147
جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج وہ لوگ کہا گئے جن کو دنیا میں اپنی اپنی حکومت اور بادشاہت کا دعویٰ تھا پھر فرماویگا اصل بادشاہت اللہ کی ذات کے لیے ہی زیبا 1 ؎ ہے ولہ الملک یوم ینفخ فی الصور کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو عارضی طور پر لوگ اپنی بادشاہت اور حکومت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں مگر اس دن سوا اللہ کی ذات کے اور کوئی نہ ہوگا عالم الغیب والشہادۃ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ سز اوجزا کے وقت کوئی ظاہری یا باطنی عمل اس سے چھپانہ رہے گا۔
Ayahs 6:75–79(74 ۔ 79) ۔ مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) توبت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قصہ سے معلوم ہوگا پھر یہ لوگ بت پرستی میں گرفتار رہ کر اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کیونکر بتلاسکتے ہیں۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار تارے مشتری یا زہرہ کو اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربی جو کہا یہ قول انکا اس بچے پنے کے زمانہ کا ہے جس وقت تک ان کو توحید اور احکام شرع معلوم نہ تھے یا بڑی عمر میں اپنے باپ اور قوم کے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے انہوں نے یہ بات کی تھی۔ جو مفسر اس قول کو ابراہیم (علیہ السلام) کے بچہ اپنے کے زمانہ کا قول قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک اس وقت کا جو قصہ ہے اسکا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کے سال اس وقت کے نجومیوں نے نمرودبن کنعان ملک عراق کے باردشاہ سے یہ کہا تھا کہ اس سال ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے سبب سے سلطنت نمرودی کو بڑا صدمہ پہنچے گا۔ یہ خبر سن کر اگرچہ نمرود نے اس سال جو لڑکے پیدا ہوئے ان کے قتل کا بڑا انتظام کیا لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام کے آگے نہ انتظام نمرودی چل سکتا ہے نہ انتظام فرعونی آخر حضرت ابراہیم پیدا ہوئے ہاں انتظام نمرودی کے خوف سے اتنا ہوا کہ حضرت ابراہیم ایک تہہ خانہ میں پیدا ہوئے اور چند سال کی عمر تک ان کو اسی تہہ خانہ میں رکھا گیا۔
اور جب حضرت ابراہیم کو اس تہہ خانہ سے باہر نکالا اور پہلے پہل انہوں نے تاروں اور چاند سورج کو دیکھا تو اسی وقت کی ان کی یہ باتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے لیکن اکثر سلف کا قول یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عمر میں اپنے باپ اور تمام قوم کے الزام دینے کے لیے یہ باتیں منہ سے نکالی ہیں کیونکہ بچہ اپنے میں بھی سوا اللہ تعالیٰ کے ھذا اربی کا لفظ دوسرے کی شان میں نبی کی زبان سے ہرگز نہیں نکل سکتا کنعانی قوم ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کو پرستش کی غرض سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں زمین پر بھی بنا رکھی تھیں جن کی پوجا یہ لوگ کیا کرتے تھے اسی واسطے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کے روبروبت پرستی اور ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کی پرستش کی غرض سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں زمین پر بھی بنا رکھی تھیں جن کی پوجا یہ لوگ کیا کرتے تھے اسی واسطے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کے روبرو بت پرستی اور ستارہ پرستی دونوں باتوں کی مذمت بیان کی صحیح قول یہی ہے کہ آزر حضرت ابراہیم کے باپ کا نام ہے اور تاریخ ان ہی آزر کا لقب ہے۔ ملکوت کے معنے ملک کے ہیں ملک کے آخر میں (ت) مبالغہ کے لیے بڑھائی گئی ہے ملکوت السموات سے مقصد سورج چاند اور تارے ہیں اور ملکوت الارض سے مقصد پہاڑ پیڑ اور دریا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کو یہ سمجھ دی کہ وہ ان چیزوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے یقین میں ترقی حاصل کریں۔ حنیف کے معنے ایک طرف کو مائل ہونا حاصل مطلب یہ ہے کہ قوم کی ستارہ پرستی اور بت پرستی کے شریک کو چھوڑ کر میں تو توحید اور اللہ کی عبادت کی طرف مائل ہوا کیوں کہ جس نے آسمان زمین سب کچھ پیدا کیا تعظیم کے قابل وہی ہے اس کی تعظیم میں کسی کو شریک ٹھہرانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی شفاعت کی بڑی حدیث کا ذکر ایک جگہ گذر چکا ہے جس میں یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی توحید ہوگی وہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جاو 1 ؎ یگا۔ معتبر سند سے ابن ماجہ اور صحیح بان خزیمہ میں ابوہریرہ ؓ سے حدیث قدسی کی روایت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شرک کا کوئی نیک عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں 2 ؎ یہ حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید ذرہ برابر بھی قیامت کے دن فائدہ کی چیز ہے اور شریک ذرہ برابر بھی اس دن ضرر پہنچانے کی چیز ہے :۔
1 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 371 باب صفتہ القیامۃ والجنۃ والنائ۔
2 ؎ الترغیب والترہیب ج 1 ص 19 باب الریاء الخ ومشکوٰۃ باب الریاوالسمعۃ فصل اول
Ayahs 6:80–81(80 ۔ 81) ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور پانی قوم کے روبرو ستارہ پرستی اور بت پرستی کی مذمت کی تو ان لوگوں کو یہ بات بری لگی اور ان لوگوں نے اس بات پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑنا شروع کیا کیونکہ ان ستارہ پرست بت پرستوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جس طرح انسان میں جسم اور روح دو چیزیں ہیں اسی طرح زحل مشتریٰ مریخ عطارد ‘ زہرہٗ سورج ‘ چاند میں بھی روح اور جسم دوچیزیں ہیں تمام دنیا کا انتظام ان ہی روحوں کی تدبیر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق چلتا ہے لیکن ہم لوگوں کی رسائی ان روحوں تک نہیں ہے اس لیے ان ستاروں کی مورتیں بنا کر ان روحوں سے مدد لینے کے لیے ان مورتوں کی ہم تعظیم اور پوجا کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے ان اعتقاد کو یوں غلط ٹھہرایا کہ جس نے آسمان اور زمین سب کچھ پیدا کیا ہے تمام دنیا کا انتظام بھی اسی کے اختیار میں ہے ستاروں کی روحوں کو آسمان پر اتنا اختیار نہیں کہ وہ ستاروں کو روز کے طلوع غروب کے تغیر سے بچالیویں تو پھر ان روحوں سے تمام دنیا کا انتظام کیونکر متعلق ہوسکتا ہے اور وہ روحیں زمین پر ستارہ پرستوں کی کیا مدد کرسکتی ہیں اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے یہ سمجھایا کہ باپ دادا کے دین کو چھوڑنا اچھا نہیں اور حضرت ابراہیم کو ان لوگوں نے اس فہمایش میں یوں ڈرایا کہ تم جو ہمارے ٹھاکروں کی مذمت کرتے ہو تو کیا عجب ہے کہ اس کے بدلہ میں ہمارا کوئی ٹھاکر تم کو کچھ صدمہ پہنچا دیوے۔ ان لوگوں کی ان باتوں کا جواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دیا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ اے لوگو اللہ تعالیٰ نے غیب سے مجھ کو جن باتوں کی ہدایت کی ہے ان کے چھوڑ دینے میں تم لوگ مجھ سے جھگڑتے اور اپنے ٹھاکروں سے مجھ کو ڈراتے ہو تو میں تمہارے ٹھاکروں سے کچھ نہیں ڈرتا کیونکہ مجھے خوب معلوم ہے کہ جب تک میرا اللہ مجھ کو کوئی نقصان پہنچانا نہ چاہے اس وقت تک تمہارے ٹھاکر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اگر تم لوگ ذرادھیان کرو تو تمہاری سمجھ میں یہ بات خود آسکتی ہے کر جس اللہ نے اپنے علم اور ارادہ کے موافق یہ سارا جہان پیدا کیا اس کا علم کیسا وسیع ہے پھر اس اللہ نے اپنے علم غیب کے موافق جو باتیں میرے دل میں ڈالی ہیں وہ اچھی یا تمہاری بےٹھکانی باتیں اچھی ہیں کہ سارے جہان کے پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر پتھر کی مورتوں کو تم نے اپنا معبود بنایا ہے غرض میں تو ان پتھر کی مورتوں سے کیوں ڈرنے لگا اصل ڈر تو تم کو چاہئے کہ تم اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہو کہ تم کو معلوم نہیں کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر اب تک اللہ کی تعظیم کرنے والے لوگ عذاب آسمانی سے کس طرح امن وامان میں رہے اور اللہ کی تعظیم میں فرق ڈالنے والوں کی آخر کار درگت ہوئی اور وقت پڑے پر ان کے بتوں نے کچھ بھی ان کی مدد نہ کی۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابومو سے اشعری (رح) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ہدایت آسمانی کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی 1 ؎ ہے۔ یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کنعانی قوم کے لوگ بری زمین کی طرح علم الٰہی میں ٹھہر چکے تھے اس لیے ان کے دل پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوا بلکہ ان کے حق میں یہ نصیحت ایسی ہی رائیگاں گئی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 1107 باب قول اللہ وجوہ یومئذ نافرۃ الی ربھا ناظرۃ :
Ayah 6:82اس آیت میں ظلم کی تفسیر خود آنحضرت نے فرمادی ہے کہ ظلم سے مطلب یہاں شرک ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے ظلم کے معنے عام گناہ کے سمجھے اور صحابہ پر یہ آیت بہت شاق گذری اور انہوں آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ جب امن ان ایمانداروں کی قیامت کے روز ملے گا جنہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہ کی ہو تو ہم میں تو کوئی ایسا نہیں ہے جو گنہگار نہ ہو آپ نے فرمایا جو تم لوگ نے گمان کیا ہے آیت کا وہ مطلب نہیں ہے بلکہ آیت میں ظلم سے مطلب شرک ہے کیا تم نے لقمان کا یہ قول نہیں سنا کہ سب سے بڑا ظلم شرک ہے غرض خود صاحب وحی ﷺ کے فرمانے سے حاصل معنے آیت کے یہ ہوئے کہ سوائے شرک کے کسی طرح کے گناہ کر کے کوئی شخص اگر بلا توبہ مرجائے تو اس کو قیامت میں یہ امن ملے گا کہ اس کی مغفرت کی توقع ہے یہ تفسیر تو متفق علیہ حدیث کو رو سے ہے اور بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب صحابہ پر یہ آیت شاق گذری تو خود اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تفسیر فرمائی اور آیت ان الشرک لظلم عظیم (31۔ 13) نازل فرمائی 2 ؎ یہاں تک تو خدا تعالیٰ نے اور رسول خدا نے ایک تفسیر جو اس آیت کی فرمائی تھی اس کا ذکر ہوچکا لیکن قول نبوی کے موافق ایک دوسری تفسیر کا ذکر کرنا بھی برکت سے خالی نہیں اس لیے آنحضرت نے دوسری تفسیر جو اس آیت کی فرمائی ہے وہ بھی ذکر کی جاتی ہے معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی اونٹ پر چڑھ کر آرہا تھا اور ہم چند صحابہ آنحضرت کے ساتھ مدینہ کے باہر کہیں جا رہے تھے آپ نے فرمایا شاید یہ اونٹ سوار ہم لوگوں ہی کی تلاش میں آرہا ہے اتنے میں وہ اونٹ سوار پاس آیا اور اس نے کا کہ میں جنگل کے پتے کھاتا ہوا دور سے آیا ہوں اور اللہ کے رسول کو ڈھونڈھتا ہوں لوگوں نے آنحضرت کو بتلایا اور اس نے آنحضرت سے کہا حضرت مجھ کو اسلام سکھاؤ آپ نے اسلام ان کو سکھایا اتنے میں وہ سوار اونٹ سے الجھ کر گرا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور فورا وہ مرگیا آپ نے فرمایا جس وقت اس سوار کی جان نکلی میں نے دیکھا کہ فرشتے اس کے منہ میں جنت کا میوہ دے رہے تھے وہ سچے کہتا تھا کہ جنگل کے پتے کھا کر آرہا ہوں اور بھوکا ہوں یہ کہہ کر پھر آپ نے فرمایا ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت اتری 3 ؎ ہے پہلی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ جس کا ایمان میں شرک کی آمیزش نہ ہو تو وہ گنہگار بھی بخشا جاوے گا۔
دوسری تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ جس کے ایمان میں شرک کی آمیزش نہ ہو اس کو نیک عمل کرنے کا موقع نہ ملا تو صرف ایمان بھی اس اس کی بخشش کا موجب ہوسکتا ہے ابوسعید خدری ؓ کی شفاعت کی بڑی حدیث صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم کے حوالہ سے ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ ملائکہ انبیاء اور نیک لوگوں کی شفاعت کے بعد خود اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ایسے لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کریگا جن کے دل میں کسی قدر توحید تو تھی لیکن انہوں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔ اس حدیث سے عبداللہ بن عباس ؓ کی اوپر کی حدیث کی پوری تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے جواب میں نای العریقین احق بالا من ان کنتم تعلمون مبہم طور پر کہا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول کر فرما دیا کہ دنیا میں سیدھے راستہ پر ہونا اور عقبے میں امن امان سے رہنا انہی لوگوں کے حصہ میں ہے جو ایماندار اور شرک سے بچے ہوئے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو معبود جاننے کی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا وہ ہمیشہ کے لیے دوزخی ہے اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کے اعمال نامہ میں شرک نہیں ہے اگر ایسا شخص شرک کے سوا اور گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے دوزخ میں گیا بھی تو آخر کو ایسا شخص جنت میں جاوے 2 ؎ گا۔ یہ حدیث اور ابوسعید خدری ؓ کی اوپر کی حدیث آیت کی گویا تفسیر ہیں جس سے اہل توحید کے آخری درجہ تک کے اس امن کا حاصل معلوم ہوا جو امن ان لوگوں کو عقبے میں ملے گا :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 18 باب فضل من علم وعلم
2 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 666 و 4 70 کتاب التفسیر و تفسیر ابن کثیرج 2 ص 152۔
3 ؎ تفسیر ابن کثیرج 2 ص 153۔
Ayahs 6:83–89(83 ۔ 89) ۔ اوپر کی آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو جن دلیلوں سے قائل کیا انہی کو فرمایا کہ وہ دلیلیں الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کے دل میں ڈالی تھی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کا مرتبہ بڑھایا کہ انہوں نے نمردو جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا اسی طرح اے رسول اللہ کے اللہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھا دیوے اس حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی اس میں آنحضرت ﷺ کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ یہ اہل مکہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے علم کے آگے ان کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوگی اور آخر کار ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے علم کے موافق ہونے ولا ہے۔
اللہ کا کلام سچا ہے بدر کا لڑائی سے لے کی فتح مکہ تک اللہ تعالیٰ کو اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق جو کچھ منظور تھا وہ سب ہوگیا اور کسی مخالف اسلام کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوئی۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سمجھایا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی مخالفت پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس صبر کے اجر میں اپنی حکمت کے موافق ان کو ملک عراق سے نکال کر ملک شام میں پہنچایا اور وہاں ان کو ایسی اولاو اور اولا دراولاد عنایت فرمائی جن کی نسل میں قیامت تک نبوت قائم رہے گی تم بھی اگر اپنی قوم کی مخالفت پر کچھ دن صبر کرو گے تو اس کا انجام اچھا ہوگا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کو عراق سے شام پہنچا کر ان کے صبر کا اجر دنیا میں دکھا دیا ہجرت کے بعد وہی انجام نبی آخر الزمان ﷺ کے صبر کا ہوا۔ طوفان کے بعد جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے دنیا کا سلسلہ قائم ہے اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے قیامت تک نبوت کا سلسلہ قائم ہے اسی واسطے قرآن شریف میں کئی جگہ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد کا ذکر ساتھ ہی ساتھ آیا ہے تفسیر ابن ابی حاتم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کا اور تفسیر ضحاک میں عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ الیاس ( علیہ السلام) اور ادریس ( علیہ السلام) ایک ہی نبی کا نام ہے لیکن اور علماء نے اس قول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیتوں میں الیاس ( علیہ السلام) کو حضرت نوح ( علیہ السلام) کی اولاد میں ذکر کیا ہے اور ادریس ( علیہ السلام) تو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے دادوں میں ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے ہزار برس پہلے نبی ہوئے ہیں پھر دونوں نبی الیاس ( علیہ السلام) اور ادریس ( علیہ السلام) ایک کیوں کر ہوسکتے ہیں۔ بعضے علماء نے الیسع حضرت خضر کو قرار دیا ہے من آبائھم کی مثال جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور حضرت اسحاق ( علیہ السلام) اخوانھم کی مثال جیسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) وہارون ( علیہ السلام) اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نبوت کے لئے پسند کر کے ان کو نبی بنایا ہے لیکن شرک ایسی بری چیز ہے کہ بالفرض اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کی سب نیکیاں اکارت ہوجاتیں اور ان کی نبوت کا کچھ پاس بارگاہ الٰہی میں نہ ہوتا کیونکہ بارگاہ الٰہی میں خالص نیت کا نیک کام مقبول ہوتا ہے شرک کے میل جول کا کوئی کام اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں مکہ کے مشرکوں کو اس فرضی مثال سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ جب شرک کی حالت میں انبیاء کی نیکیاں اکارت ہیں تو شرک پر اڑے رہنے کے بعد ان لوگوں سے اگر کچھ نیکی ہوئی تو اسکا کیا ٹھکانا ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کا ذکر نوح (علیہ السلام) سے لے کر آخر تک ہوا یہ وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے شریعت اور نبوت عطا کی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے اگر یہ اہل مکہ ان باتوں کے منکر رہیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق اور ایسے لوگ ٹھہرا رکھے ہیں جو ان باتوں کو اچھی طرح مان لیویں گے مکہ کے مشرک لوگوں نے اسلام کی مخالفت پر اور قرآن کے کلام الٰہی نہ ہونے پر جب کمر باندھ لی تو آنحضرت ﷺ موسم حج میں باہر کے لوگوں کو قرآن شریف کی آیتیں سنا کر ان کو اسلام کی امداد پر آمادہ کیا کرتے تھے ایک سال اہل مدینہ میں سے قبیلہ خزرج کے بارہ شخص حج کو آئے اور قرآن شریف کی آیتیں اور آنحضرت ﷺ کی نصیحت منیٰ کی گھاٹی کے پاس سن کر انہوں نے اسلام کی اور اسلام کی امداد کی بیعت کی اسی کو عقبہ اولیٰ کی بیعت کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مقام منیٰ کے پہاڑ کی گھاٹی کی یہ پہلی بیعت ہے منیٰ میں عقبہ اس گھاٹی کا نام ہے جہاں شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں اس سال کے بعد پھر اسی قبیلہ کے بہت سے لوگ حج کو آئے اور اسی گھاٹی میں پہلے بارہ شخصوں کی طرح انہوں نے بھی بیعت کی اس کو ثانی بیعت کہتے ہیں۔ اسی بیعت میں اسلام کے پھیلانے کی غرض سے بارہ چوہدری مدینہ اور گرو نواح مدینہ میں آنحضرت ﷺ نے مقرر کئے اور اسی بیعت کے بعد اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا جس کے مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں۔ صحیح باری ومسلم کی عبادہ بن الصامت ؓ کی حدیث میں اور بعضے صحابہ کی اور حدیثوں میں اس بیعت کا تذکرہ تفصیل وار 1 ؎ ہے یہ حدیثیں ان آیتوں کی تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا تھا کہ اگر یہ مکہ کی مخالفت کی جڑ اکھڑ گئی کیونکہ ان میں کے بڑے بڑے مخالف تو بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور پھر آخر کو تمام مکہ اسلام کا تابع ہوگیا مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں تین سوتیرہ اور بعضی روایتوں میں تین سو پندرہ رسول ہیں۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا 3 ؎ ہے ان نبیوں میں سے قرآن شریف میں پچیس نبیوں کا ذکر آیا ہے اٹھارہ کا ان آیتوں میں ہے باقی کے سات کا ذکر اور آیتوں میں ہے جن کے نام یہ ہیں۔ آدم ( علیہ السلام) ۔ ادریس ( علیہ السلام) ۔ شعیب ( علیہ السلام) ۔ صالح ( علیہ السلام) ۔ ہود ( علیہ السلام) ۔ ذوالکفل ( علیہ السلام) ۔ محمد رسول اللہ ﷺ ان نبیوں کے نبی ہونے کا یقین شریعت میں تفصیلی طور پر ہے باقی کا بغیر نام کے مبہم طور پر ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 550 باب وفوہ الانصار الخ
2 ؎ یعنی تفسیر احسن التفاسیر کی جلد اول کے ص 397 پر بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 586
Ayah 6:90اس آیت کے متعلق علماء اہل اصول کے دو مذہب ہیں ایک مذہب تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو انبیائے ساقی کی شریعت کے موافق عمل کرنیکا حکم ہے۔ جب تک کہ اس شریعت سابقہ کی منسوخی کا حکم شریعت محمدی میں نہ آجاوے اس مذہب کو ابن حاجب نے اختیار کیا ہے دوسرا مذہب یہ ہے کہ شریعت محمدی میں جب تک پچھلی کسی شریعت کے موافق حکم نہ آوے تو آنحضرت کو پچھلی شریعت کے موافق عمل کرنا ضروری نہیں ہے اور اس پچھلے مذہب کو عملاء اصول نے زیادہ واضح ٹھہرایا ہے اور اسی مذہب کی تائید قرآن شریف سے نکلتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین محمدی کی نسبت فرمایا ہے لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ یعنی ” دین محمدی کو اللہ تعالیٰ نے سب دینوں پر غالب کیا ہے “ پھر دین غالت کا نبی مغلوب دین کے مسئلہ پر اس وقت تک کیونکر عمل کرسکتا ہے جب تک وہ دین مغلوب کا مسئلہ دین غالب کا مسئلہ نہ ٹھہر جاوے صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب نبی گویا ایک باپ کی اولاد علاتی بھائی ہیں 1 ؎ ہاں مائیں ان کی جدا وجدوا 1 ؎ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مصلحت وقت کے موافق حلال و حرام کے احکام ہر ایک شریعت کے جدا جدا ہیں لیکن اصل دین جو توحید ہے اس میں سب ایک ہیں۔ یہ حدیث گویا آیت کی تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب ٹھہرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو توحید میں تو انبیائے سابق کی چال چلت چلنے کا حکم ہے رہے حلال و حرام کے احکام ان میں جہاں تک شریعت محمدی اور پچھلی شریعتوں میں مطابقت پائی جاوے گی وہاں تک تو پچھلی شریعتوں کہ احکام کو حال کی مصلحت کے موافق قرار دیا جا کر ان پر عمل کیا جانا عین شریعت محمدی کے کا عمل شمار کیا جاوے گا ورنہ اس حدیث کے موافق یہ کہا جاویگا کہ وقتیہ مصلحت کے لحاظ سے پچھلی شریعت کا حکم جدا ہے اور شریعت محمدی کا حکم جدا اس تفسیر کے بعد اہل اصول میں جو اختلاف تھا وہ بھی رفع ہوجاتا ہے اور آیت کی تفسیر بھی صحیح حدیث کے موافق ہوجاتی ہے مثال اس تفسیر کی یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جو لوگ مثلا بچھڑا پوج کر مرتد ہوگئے تھے شریعت موسوی میں ان کی توبہ قتل قرار پائی اب شریعت محمدی میں مرتد شخص کی توبہ بغیر قتل کے مقبول ہے اس لیے ہر وقت کی مصلحت کے مواق یہ دونوں شریعتوں کے حکم جدا جدا ہیں ایک شریعت میں دوسری شریعت کے موافق عمل نہیں ہے۔ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کہ تم ان مکہ مشرکوں سے کہہ دو کہ تم لوگ قرآن کی نصیحت کے سننے سے جو بھاگتے ہو تو میں تم لوگوں سے کچھ اجرت اس نصیحت پر نہیں مانگتا جس کے بوجھ سے تم گھبراتے ہو بلکہ بغیر معاوضہ اور اجرت کے یہ قرآن تو جن وانس سب کے حق میں ایک عام نصیحت ہے جو کوئی اس کو سنے گا اس کے دل پر اس کا اثر ہوگا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے 6 ہجری سے پہلے تک اہل مکہ قرآن کی نصیحت کے سننے سے گھبراتے رہے تو ان کے دل میں قرآن مجید کی نصیحت کا اثر کچھ نہیں ہوا 6 ہجری میں صلح حدیبیہ ہو کر خالد ؓ بن ولید اور عمر وبن العاض ؓ اور مکہ کے نامور اور رودار لوگوں کی آمدو رفت مکہ سے مدینہ کی جب کھل گئی اور صلح کے سبب سے مشرکوں اور اہل اسلام کی بات چیت اچھی طرح ہونے لگی جس میں قرآن کی نصیحت سے بھی مشرکوں کے کان کچھ آشنا ہوگئے تو تھوڑے ہی عرصہ میں اہل مکہ کی ایک بڑی جماعت تابع اسلام ہوگئی۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہ نسبت اور انبیاء کے مجھ کو قرآن ایک ایسا بڑا معجزہ دیا گیا ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کی تعداد اور انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوگی 1 ؎ قرآن کی نصیحت کے مفید ہونے اور قیامت تک اس نصیحت کے اثر کے باقی رہنے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ اس حدیث میں نبی آخرالزمان ﷺ کی پیشین گوئی کا یہ ایک معجزہ بھی ہے جس کا یہ ظہور سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں بھی فقط قرآن کی نصیحت کے اثر سے ہر سال اہل اسلام کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 489۔ 49 کتاب الانبیاء
Ayahs 6:91–92(91 ۔ 92) ۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین کا بڑا اختلاف ہے بعضے مفسرین کا یہ قول ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الٰہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچا جاتا لیکن اس شان نزول پر امام فخر الدین رازی اور اور مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر یہ آیت مشرکین مکہ کی شان میں نازل ہوتی تو ان کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت بطور الزام کے اس آیت میں کیوں ذکر کی جاتی اس لیے کہ مشرکین مکہ تو حضرت موسیٰ کو اور کسی نبی کو نہیں مانتے اور بعضے مفسرین نے کہا ہے کہ یہود کے حق میں یہ آیت اتری ہے ان مفسرین پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ساری سورة انعام مکی ہے اور یہود کا جھگڑا مدینہ میں آنحضرت کے آنے کے بعد شروع ہوا ہے پھر مکی آیت یہود کے حق میں کیونکر نازل ہوسکتی ہے رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ یہود اور مشرکین مکہ کی حالت مل کر ایک مجموعی حالت پیدا ہوئی تھی جس پر یہ آیت اتری ہے مشرکین مکہ کی حالت تو یہ تھی کہ ہجرت سے پہلے انہوں نے یہود کو اہل کتاب جان کر ان سے آنحضرت کا حال پوچھا تھا انہوں نے دنیا کے لالچ سے یہ کہہ دیا کہ اس دین جدید سے تمہارا قدیم دین اچھا ہے اس سے مشرکین مکہ کا انکار زیادہ بڑھ گیا اور یہود کی حالت یہ تھی کہ مالک بن صیف یہودی نے آنحضرت سے بحث کرتے وقت ایک روز کل انبیاء کی نبوت کا انکار کردیا تھا اس لیے اس حالت مجموعی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت میں دونوں فرقوں کو قائل کیا گیا ہے مشرکین مکہ کو تو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جن یہود کے بھروسہ پر تمہارا انکار نبوت کے قبول کرنے میں بڑھا ہے وہ تو حضرت موسیٰ کو نبی کہتے ہیں اور حضرت موسیٰ بشر تھے پھر تم کہاں سے کہتے ہو کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا اور مالک بن صیف یہودی نے باوجود یہودی ہونے کے غصہ میں سب انبیاء کا جو انکار کردیا تھا حضرت موسیٰ کی نبوت سے اس کا قائل کرنا تو ایک ظاہر بات ہے ابن جریر ابن ابی حاتم معالم التنزیل ان تینوں تفسیروں کی روایات 1 ؎ کو جمع کیا جاوے تو اس حالت مجموعی کے شان نزول ہونے کی پوری تصدیق نکل آتی ہے اور یہ سب اختلاف شان نزول کا رفع ہوجاتا ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے یہ جان لیا ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے کے بعد اس قدر مخلوق دوزخیوں کے سے کام کر کے دوزخ میں جاوے گی اور اس قدر مخلوق جنتیوں کے سے کام کر کے جنت میں جاوے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف سے لوگوں کے دوزخ اور جنت میں جانیکا مدار اپنے اس علم ازلی پر نہیں رکھا بلکہ ہر ایک کا عذر پورا ہوجانے کے لیے دنیا کے پیدا کرنے کے بعد لوگوں کی ہدایت کے واسطے انبیاء بھیجے کتابیں نازل فرمائیں باوجود اس کے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب آسمانی نازل نہیں کی وہ بڑے ناشکر میں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی کچھ قدر نہیں کیا پھر فرمایا کہ ان یہود نے کتاب آسمانی کی ایک یہ بھی ناقدری کی کہ اصل پوری کتاب کو چھپا کر کچھ الگ ورقوں پر تورات کی جابجا سے نقل کرلیا ہے اور ان ورقوں میں جب چاہتے ہیں اپنی مرضی کے موافق تغیر تبدل کرلیتے ہیں پھر فرمایا کہ قرآن میں بعض وہ باتیں ان کو بتلائی گئیں ہیں کہ اب تک اہل کتاب مشرکوں اور ان کے بڑوں کو معلوم نہ تھیں مگر قرآن کو کتاب آسمانی نہ ماننے کے سبب سے یہ لوگ ان باتوں کے جاننے سے محروم رہے پھر فرمایا کہ جب ان لوگوں سے پوچھا جاوے گا کہ موسیٰ پر تورات کس نے نازل کی تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ نے نازل کی پھر باوجود اس کے جو یہ بکواس ہے کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب آسمانی نازل نہیں فرمائی تو ایسے ہٹ دھرمی کرنے والوں کو بچوں کی طرح کھیل میں لگے رہنے دو وقت مقررہ آنے پر ان سے بھگت لیا جاویگا اب آگے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی اسی طرح اے نبی آخر الزمان تم پر اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا ہے جس سے قیامت تک لوگ نفع اٹھا دینگے اور وہ قرآن ایسا ہے کہ توحید الٰہی نیکوں کی جزا بدوں کی سزا کے بیان کرنے میں پچھلی کتابوں کی صداقت کرتا ہے اے نبی آخر الزمان یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ تم مکہ اور نواح مکہ کے رہنے والے بےراہ لوگوں کو عذاب الٰہی سے ذرا کر نیک راستہ پر لاؤ۔ جو لوگ مرنے کے بعد پھر جینے اور سزاو جزا کے منکر ہیں ان کا حال تو اوپر گذر چکا کہ وہ کسی بشر پر کتاب آسمانی کے نازل ہونے کو نہیں مانتے ہاں جو لوگ دنیا کے انتظام کا نتیجہ وہی ہے جس کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے کہ دنیا کے تمام نیک وبد کا ایک دن بدلہ ملنے والا ہے وہ اس قرآن کی نصیحتوں کا یقین کریں گے اور نماز کا جو ان کو حکم ہوا ہے اس کے پورے پابند رہیں گے۔ مکہ کے قیام تک فقط نماز فرض تھی اس لیے اس مکی سورة میں فقط نماز کا ذکر فرمایا سلف میں سے جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اس مکی سورة میں یہ آیت مدنی ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ شریعت میں نماز ایک بڑی چیز ہے اس لیے یہاں فقط نماز کا ذکر فرمایا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن ایک ایسا معجزہ مجھ کو دیا ہے جس کے سبب سے میری امت کی تعداد قیامت کے دن اور امتوں سے بڑھ جاوے 2 ؎ گی۔ یہ دونوں حدیثیں ان دونوں آیتوں تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش میں جو لوگ بری زمین کی طرح ازلی بد تھے ان کے دل پر قرآن کی نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوا بلکہ وہ یہی کہتے کہتے بدر کی لڑائی میں مارے گی کہ یہ قرآن کلام الٰہی نہیں ہے کیونکہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب آسمانی نازل نہیں فرمائی ہاں جو لوگ اچھی زمین کی طرح ازلی نیک تھے ان کے دل پر قرآن کے نازل ہونے کے زمانہ میں بھی اثر ہوا اور قیامت تک اثر ہو کر اس قدرت لوگ تابع اسلام ہوں گے کہ جس کے سبب سے قیامت کے دن نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی تعداد اور امتوں سے بڑھ جاوے گی اسی واسطے ان آیتوں میں قرآن کو برکت کی کتاب فرمایا کیونکہ برکت کی چیز وہ ہے جو ہمیشہ بڑھتی رہے اور یہی بات قرآن کی نصیحت میں اس صحیح حدیث سے پائی جاتی ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 744 باب کیف نزل الوحی و صحیح مسلم ج 1 ص 86 باب و جوب الایمان برسالۃ نبینا الخ
2 ؎ تفصیلی روایات کے لیے دیکھئے تفسیر ابن جریرج 7 ص 162۔ 163 و تفسیر معالم ج 3 ص 357۔ 358۔
Ayah 6:93اوپر کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو باوجود معجزوں کے دیکھنے اور کلام الٰہی کے اترنے کے آنحضرت کو نبی نہیں مانتے تھے ان کے قریب قریب وہ لوگ ہیں جو بغیر معجزہ اور بغیر شہادت کلام الٰہی کے پانے آپ کو نبی مشہور کرتے تھے جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جن دونوں کے وحشی اور فیروز کے ہاتھ سے مارے جانے کا قصہ اوپر گذر چکا ہے ان دونوں کے قریب قریب عبداللہ بن سرح کا قصہ ہے اس قسم کے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں کہ اللہ کا بیٹا ہے یا اللہ نے سانڈھ یا کان پھٹے جانور حرام کئے ہیں اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے تفسیر ابن 1 ؎ جریر اور تفسیر سدی میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کئی گئی ہے اس کا حاصل اسی قدر ہے جو بیان کیا گیا لیکن اور علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو شخص اب بھی عقلی بات کو دین کی بات مشہور کرے وہ اس حکم داخل ہے ترمذی ابو داؤد اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بغیر علم نقلی کے محض عقل سے قرآن کی تفسیر کے باب میں جو شخص کچھ کہے گا تو اس کی اپنا ٹھکانا دوزخ میں ٹھہرا لینا چاہئے 2 ؎ اس حدیث کی سند میں ایک راوی سہل بن عبداللہ کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن معین نے اس کو معتبر قرار دیا ہے اس باب میں اور بھی روایتیں ہیں جن کے سبب سے ایک روایت کو دوسری روایت سے تقویت ہوجاتی ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ شان نزول ناسخ منسوخ معنے آیت قرآنی یہ ایسی باتیں ہیں جن میں محض عقل سے مفسر کو کچھ ہیں کہنا چاہیے بلکہ اس میں تابعین تک کی روایت ضرور ہے۔ ہاں علم لغت اور صرف ونحو میں اس فن کی کتابوں کی مدد سے کوئی عقلی بات بھی ممکن ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص میرے ذمہ کوئی جھوٹی بات لگاوے گا تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں یہ حدیثیں اس آیت کی تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی جن باتوں میں عقل کو دخل نہیں ہے ان کی تفسیر عقل سے کرنا یا جان بوجھ کر حدیث کی غلط سلط روایت کرنا اسی طرح کے وبال کی بات ہے جس طرح کی وبال کی باتوں کا آیت میں ذکر ہے۔ ان حدیثوں سے علمائے مفسرین کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے عقلی بات کو دینی بات قرار دینے والا شخص اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ سورة انفال میں آویگا کہ عبداللہ بن سرح کی طرح قریش میں اور لوگ بھی تھے جو کہتے تھے لَوْنَشَاء ُ لَقُلْنَا مَثْلَ ھٰذَ اجنکا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم بھی چاہیں تو قرآن جیسا کلام بناسکتے ہیں لیکن ان لوگوں کا یہ دعویٰ جھوٹا تھا کیونکہ اس وقت کے تاریخی قصوں سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود تقاضے کے قرآن کے مانند ایک چھوٹی سی سورت بنا کر بھی یہ لوگ پیش نہ کرسکے۔ سورة مدثر میں ولیدبن مغیرہ کا قصہ آویگا جس کا حاصل یہ ہے کہ بڑا شاعر اور فصیح البیان جان کر ابوجہل وغیرہ نے اس کو قرآن کے مقابلہ کہ میں کچھ عبارت بنا کر پیش کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا وہ قرآن کی چند آیتیں سن کر حیران رہ گیا اور قرآن کی مقابلہ میں کچھ عبادت بنا کر نہ پیش کا سکا اور قرآن کو جادو بتلایا اس قسم کے اور بھی چند قصے میں حال یہ ہے کہ قرآن کے لفظ وحی میں جن کو رات دا اہل مکہ بولتے تھے اسی خیال سے وہ لوگ لونشاء لقلنا مثل ھذا کہہ دیتے تھے لیکن انہیں معلولی لفظوں میں طرز بیان قرآن شریف کا ایسا ہے جس کے مقابلہ سے وہ لوگ گھبرائے اور دین کی لڑائی کے حکم سے پہلے اس طرز بیان کے اثر سے ان میں کے صدہا آدمی مسلمان ہوگئے کیونکہ طرز بیان کی خوبی کی باتیں اور غیب کی باتیں قرآن میں سینکڑوں ایسی ہیں جن کو سوا اللہ کے نہ کوئی جان سکتا تھا نہ کسی کے کلام میں وہ باتیں پائی جاسکتی تھیں اس لیے ان باتوں کا اثر بھی ان لوگوں کے دل پر زیادہ پڑتا تھا اور وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان سب باتوں کا مقابلہ ناممکن ہے اس واسطے بلاشک یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں :۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اوپر کی میت میں ظالم فرمایا وہ یا ان کے سے عمل کرنے والے اور جو لوگ ہوں ان کے عذاب قبر اور عذاب حشر کا ذکر تو آگے آویگا اس آیت میں ان کی موت کے وقت کی شدت اور سختی کا ذکر ہے حدیث کی کتابوں میں اس شدت اور سختی کی تفصیلی بہت صراحت سے صحیح بخاری مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ انس ؓ ابوہریرہ ؓ وعباوہ بن صامت ؓ براء بن عازب ؓ کی روایتیں یہیں مختصر طور پر جن کا ذکر یہ ہے کہ علم الٰہی میں جو لوگ لائق عذاب کے ہیں ان کی قبض روح کے وقت بڑے ہیبت ناک صورت کے فرشتے آتے ہیں اور اس لائق عذاب شخص کی روح کو خبر سناتے ہیں کہ جسم سے الگ ہوتے ہی سخت عذاب قبر اس پر ہونے والا ہے اس عذاب کے خوف سے روح جسم میں جگہ جگہ چھپتی ہے اور فرشتے بڑی سختی سے اس روح کو نکالتے ہیں اور روح کے نکالتے وقت یہ کہتے جاتے ہیں کہ اے ناپاک روح اللہ کے عذاب میں پھنسنے کے لیے جلدی نکل اور اس شخص کے منہ اور پیٹھ پر طرح طرح کی مار مارتے ہیں جب اس خرابی سے روح نکلتی ہے تو ایک طرح کی بدبو روئے زمین پر پھیل جارہی ہے جس سے ان فرشتوں کو جو اپنے اپنے کام کے لیے روئے زمین پر ہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کوئی ناپاک روح کسی جسم سے جدا ہوئی ہے آنحضرت ﷺ اس بدبو کا ذکر فرمایا وقت اپنی ناک پر کپڑا ڈھاک لیا کرتے تھے کیونکہ برکت نبوت کے سبب سے بدبو کے فکر کے وقت اصلی بدبو آپ کے دماغ میں اثر کرنے لگتی تھی اس روح کو فرشتے آسمان پر لے جانا چاہتے ہیں لیکن آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اس بیان کے وقت آنحضرت یہ آیت پڑھا کرتے تھے لاتفتح لھم ابواب السماء ولاید خلن الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7۔ 140) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے مگر یہ نافرمان لوگ نہ جنت میں جاسکتے ہیں نہ ان کی روح کے لیے آسمان کے دروازے کھل سکئے ہیں 1 ؎ اب اس ناپاک روح کے لیے جب آسمان کی دروازے نہیں کھلتے تو روح پھر جس میں لائی جاتی ہے اور منکر نکیر کا سوال قبر ہو کر قیامت کے قائم ہونے تک طرح طرح کی قبر کے عذاب میں گرفتار رہتی ہے جس کی تفصیل عذاب قبر کے ذکر میں آوے گی بعضے علماء کا یہ مذہب ہے کر منکرنکیر صرف اہل قبلہ کی میت کے پاس آتی ہیں تاکہ خالص مسلمان اور منافق میں فرق پیدا ہوجاوے محض کافر کی میت پر منکر نکیر نہیں آتے لیکن اور علماء نے اکثر آیات اور احادیث سے اس مذہب کو غلط ثابت کیا ہے مسند اما احمد اور رابواد ‘ و کی براء بن عازب ؓ کی صحیح روایت میں کاروں اور منافقوں کی میت پر جبکہ منکرنکیر کے آنے اور سوال کرنے کا اور میت کے لاعلمی کے جواب کا صراحب سے ذکر آچکا ہے 1 ؎ تو یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ اہل قبلہ عیزابی قبلہ سب کی میت پر منکر نکیر آتے اور سوال کرتے ہیں حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ اے رسول اللہ کے اب تو یہ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں کوئی غیروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے کوئی اپنے آپ کو نبی بتلاتا ہے لیکن عذاب قبر اور عذاب قیامت کے علاوہ ان لوگوں کا جان کنی کا وقت بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ اللہ کے فرشتے بڑی دست درازی سے ان کو جان قبض کرتے ہیں اور یہ کہتے جاتے ہیں کہ اے نافرمان لوگوں عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجانے کے لیے جلدی اپنی جانیں ہمارے حوالہ کرو کہ تم لوگ اللہ کی شان میں جھوٹی باتیں جو کہا کرتے تھے اور قرآن کی آیتوں کو بڑی نخوت سے پچھلے لوگوں کی کہانیاں جو بتلایا کرتے تھے آج اس کا خمیازہ بھگتنے کا دن ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 18 باب فضل عن علم وعلم
2 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 744 باب کیف نزل لوحی وصعیع مسلم ج 1 ص 86 باب وجوب الایمان برستالۃ نبینا الخ