Ayahs 6:35–36(35 ۔ 36) ۔ ابو صالح کی روایت سے ابن جوزی نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ میں تشریف رکھنے کے زمانہ میں ہی سب قریش ایمان لے آویں اس آرزو کے سبب سے جو معجزے قریش چاہتے تھے آپ کا دل چاہتا تھا کہ فورًا اس معجزہ کا ظہور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوجاوے لیکن علم الٰہی میں ہر کام کا وقت مقرر ہے وقت سے پہلے کوئی کام نہیں ہوتا ازلی قرار دادیوں تھی کہ فتح مکہ کے بعد مکہ میں اسلام عام طور پر پھیلے اور اس بائیس برس کے عرصہ میں جو زمانہ آپ کی نبوت اور فتح مکہ کا ہے قریش میں سے جتنے آدمی علم ازلی میں شقی ٹھیر چکے ہیں وہ مکہ میں عام اسلام پھینلے سے پہلے بدر کی لڑائی میں کفر کی حالت میں مارے جاویں اس لئے بعض معجزوں کا ظہور اس وقت خلاف مصلحت الٰہی تھا چناچہ حارث بن عامر اور چند قریش نے ایک روز اکٹھے ہو کر آپ سے چند معجزوں کا ظہور چاہا اور آپ کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فور ًا ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تو شاید یہ لوگ اسلام لے آویں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ وقت سے پہلے اگر تم سے ہو سکے تو تم ان کے ایمان لانے کے لئے زمین آسمان کو ایک کر دو اور زمدین کے اندر کی اور آسمان کے اوپر کی سب نشانیاں معجزہ کے طور پر لے آؤ تو ہوگا وہ ی کہ ازل میں جن لوگوں کا حق بات کی طرف کان لگانا اور اسلام لانا ٹھہر چکا ہے وہی اسلام لاویں گے اور جن کا حالت کفر میں مرنا ٹھہر چکا ہے وہ اس یحال میں مر کر قیامت کے دن وہ اسی حالت میں اللہ کے روبرو آویں گے ہاں اگر اللہ چاہے تو ان سب کو ابھی ہدایت آسکتی ہے مگر قرار داد ازلی کے موافق نہ اللہ چاہے گا نہ ایسا ہوگا صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے کے پچاس ہزر برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے وال ہے اس سب کا اندازہ کر کے اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے 2 ؎ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے سب چیزوں کا اندازہ جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس کو علم الٰہی کا نتیجہ کہتے ہیں اور یہ علم الٰہی کے موافق دنیا کا حال لوح محفوظ میں جو لکھا گیا ہے اس کو قضاو قدر کہتے ہیں اسی قضا وقدر کے موافق دنیا بھر کے قیامت تک کے کام چلیت ہیں اور قیامت کے قائم ہونے پر اسی کے موافق جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں جائیں گے اس کے مخالف اب کچھ نہیں ہوسکتا اسی واسطے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں حضرت نے فرمایا کہ جو لکھا جانا تھا وہ لکھا جا کر اب تو قلم خشک بھی ہوچکا 1 ؎ اس قضاوقدر کے مسئلہ میں صحابہ کو شبہ ہوابھی پڑا چناچہ موطا، ترمذدی اور ابوداؤد میں حضرت عمر ؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت نے جب یوم میثاق کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ اسی روز اہل جنت اور اہل دوزخ کی ارواحیں قضاوقدر کے موافق چھٹ چکی ہیں تو بعض صحابہ نے کہا کہ حضرت پھر ہم عمل کس لئے کریں قضاو قدر میں ہمارا جنت میں جانا لکھا ہوگا تو بغیر عمل کے ہم جنت میں جاسکتے ہیں آپ نے فرمایا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت پیدا کیا ہے ان سے خود اللہ تعالیٰ اسی طرح کے کام کرالیتا ہے 2 ؎ اتنی بات اور جان لینے کے قابل ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے مثلاً ابو جہل کے کفر اور ابو سفیان کے اسلام کا اندازہ کیا ہے اس وقت ان دونوں روحوں کو کچھ مجبور کر کے انداز نہیں کیا بلکہ یہ اندازہ ہے کہ دنیا جب پیدا کی جاوے گی اجسام جسیں گے اور روحوں کا تعلق اجسام سے ہوگا اور ان کو ہر طرح کے کے نیک و بد عمل کرنے کا اختیار دیا جاوے گا تو ابو جہل سے کفر کے کام ہوں گے اور ابوسفیان سے کچھ دنوں کفر کے کام اور کچھ دنوں اسلام کے کام ہوں گے اسی کے موافق لوح محفوظ میں لرھا گیا ہے غرض لکھنے سے پہلے کچھ مجبور نہ تھی اور اب لکھنے کے مخالف کچھ ہو نہیں سکتا امور تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے چند روایتیں ہیں اور ان میں بعض ضعیف بھی ہیں اس لئے ابن جوزی سے یہ شان نزول کی روایت جو لی گئی ہے اس میں ابو صالح کا پتہ دے دیا ہے تاکہ ضعیف روایت کا شبہ نہ پڑے کیونکہ ابو صالح کے سلسلہ میں جب تک محمد بن مروان سدی صغیر شریک نہ ہو ابو صالح کی روایت مقول ہے اور اس میں محمد بن مروان شریک نہیں ہے۔{ وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْھُدٰی فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الجْاَھِلِیْنَ } اس کا مطلب یہ ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہے کیونکہ ہر کام کے کرنے نہ کرنے کا خیال پہلے دل میں پیدا ہوتا ہے پھر اس کام کے کرنے نہ کرنے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس لئے علم ازلی الٰہی میں جو لوگ دوزخ کے قابل قرار پاچکے ہیں ان کو مجبور کر کے راجہ راست پر لانے کا اللہ تعالیٰ کا ارادہ نہیں ہے کس لئے کہ یہ بات اللہ کے علم ازلی کے برخلاف ہے اس واسطے اے رسو اللہ کے بعض اہل مکہ تمہاری نصیحت کو نہ مانیں تو نہ اس کا کچھ رنج کرنا نہ اسرے اہ لم کہ کو ان کی خواہش کے موافق معجزات دکھاکر راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاوے یہ امر علم اور ارادہ الٰہی کے برخلاف ہے غرض اس طرح کی کوشش نادانوں کا کام ہے اس سے اے رسول اللہ کے تم کو بچنا چاہیے بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کے ارادہ کی دو قسمیں ٹھہرائی ہیں ایک ارادہ شرعی ہے دوسرا ارادہ تقدیری۔ ارادہ شرعی فقط خلقت کی فرمانبرداری اور نافرمانی سے متعلق ہے اور ارادہ تقدیری خلقت کی ہر حالت سے متعلق ہے۔ اس قول کے موافق معنی آیت کے یہ ہیں کہ علم ازلی کے موافق جو لوگ اللہ کے ارادہ تقدیر میں نیک نہیں قرار پائیں گے وہ ارادہ شرعی کی فرمانبرداری کے راستہ سے ہمیشہ دور بھاگتے رہیں گے ان کے حق میں راہ راست پر لانے کی کوشش بےسود ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گذرچ کی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی نصیحت کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے 1 ؎۔ یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح بری زمین میں مینہ رائگاں ہے اس طرح ازلی بد لوگوں کے حق میں نصیحت رائگاں ہے۔
Ayahs 6:37–39(37 ۔ 39) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ میں سے جو لوگ علم ازلی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں کوئی معجزہ مفید نہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعض جلد باز سرکش لوگ گھڑ ی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الٰہی کے یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے موافق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا اور پھر وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ اس عادت الٰہی سے واقف نہیں اس لئے یہ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ لوگ قدرت الٰہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں تو آسمان کی مخلوقات کا نمونہ ٹھہرانے کے لئے کافی ہیں جن میں ہر ایک کی حالت کو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے جانوروں پر شرع کی تو کچھ تکلیف نہیں ہے اس لئے عذاب وثواب کے واسطے تو ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جاوے گا ہاں کسی زور آور جانور نے کسی کمزور جانور پر کچھ زیادتی کی ہوگئی تو اس کے انصاف کے لئے ان کو بھی دوبارہ زندہ کیا جاوے گا اس میں منکر حشر انسان کو یہ تنبیہ ہے کہ انصاف کے لئے جب جانوروں تک کو دوبارہ زندہ کیا جاوے گا تو باوجود حرام حلال کی تکلیف شرعی کے حشر کا جو لوگ انکار کرتے وہ بڑے نادان ہیں اسی واسطے فرمایا کہ ایسے لوگ حق بات کے سننے سے گویا بہرے اور کلمہ توحید زبان پر لانے سے گونگے اور کفر کے طرح طرح کے اندھیرے میں نور ایمانی سے دور پڑے ہوئے ہیں جس کا سبب یہ ہے کہ علم ازلی کے موافق ہر ایک کا راہ راست پر آنا اور نہ آنا اللہ کے ہاتھ ہے صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی سینگ والی بکری بغیر سینگ والی بکری کے سینگ مار دیوے گی تو اس کا بدلہ بھی قیامت کے دن لیا جاوے گا 2 ؎۔ یہ حدیث انصاف کے لئے جانوروں کے دوبارہ زندہ ہونے کی گویا تفسیر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول جو مشہور ہے کہ جانوروں کا مر کر اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھے ہونا یہی انکا حشر ہے 1 ؎۔ اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جن جانوروں کے ذمہ کچھ مؤاخذہ نہیں وہ دوبارہ زندہ نہ ہوں گے ورنہ جن جانوروں کے ذمہ کچھ مؤاخذہ ہے ان کا دوبارہ زندہ ہونا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث اوپر گذری 2 ؎ جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی نصیحت کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی وہ حدیث بھی گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بری زمین کو جس طرح مینہ برسنے سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا اسی طرح ازلی بد لوگوں کو بڑے سے بڑا معجزہ دیکھنے سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا چناچہ اہل مکہ نے شق المقر جیسا معجزہ دیکھا اور اس کو جادو بتلایا۔
Ayahs 6:40–49(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں کو خوب آزما چکے کہ ان میں سے کچھ بھی نہ ہوسکا اب تم میں آخر کچھ لوگ بہرے اندھے دیوانے موجود ہیں ان کو اچھا کردینے میں اپنے بتوں سے مدد لی جاوے نتیجہ آخر وہی ہوگا جو مکہ کے قحط کے وقت میں ہوا۔ باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرے جاتے ہو تو یہ تمہارا قابل سزا ایک جرم ہے وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پر کوئی عذاب الٰہی آگیا تو اس سے تمہارا بچنا مشکل ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا بڑا شق القمر دیکھنے اور اس کو جادو بتلانے کے بعد تم لوگ ہر گھڑی اپنی خواہش کے موافق اللہ کے رسول سے معجزے جو چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اس نہیں بھیجا کہ وہ ہر گھڑی منکر شریعت لوگوں کو طرح طرح کے معجزے دکھاویں اور وہ منکر شریعت لوگ ان معجزوں کو جادو بتلاویں بلکہ اللہ کے رسول تو اس لئے آئے ہیں کہ وہ فرمانبرداری لوگوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشخبری سنا دیویں اور نافرمان لوگوں کو عقبیٰ کے عذاب سے ڈراویویں اب جو کوئی اللہ کے رسول کی نصیحت کو مان کر راہ راست پر آجاوے گا اس کو عقبٰی کے عذاب سے بےخوف رہنا چاہیے ہاں نافرمان لوگوں کو نافرمانی کی سزا میں عقبیٰ کا سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ جس خوشحالی اور اس خوشحالی کے عیش و عشرت کے گھمنڈ میں تم لوگ عقبیٰ کے عذاب سے غافل ہو کر تنگ دست مسلمانوں سے طرح طرح کا مسخرا پن کرتے ہو جب عقبیٰ کے عذاب سے پالا پڑے گا تو اس عذاب کے آگے یہ دنیا کا عیش تمہیں یاد بھی نہ رہے گا اسی طرح جن تنگ دست مسلمانوں سے تم لوگ یہاں دنیا میں مسخرا پن کرتے ہو جب عقبیٰ میں یہی لوگ اپنی تنگ دستی کی تکلیف پر صبر کرنے کے اجر میں جنت کی بڑی بڑی نعمتیں پاویں گے تو ان کو یہ دنیا کی تنگ دستی قابل قدر چیز معلوم ہوگی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بڑے بڑے نافرمان خوشحال لوگ دوزخ کے عذاب کے آگے قسم کھا کر دنیا کے عیش و آرام کا انکار کریں گے اسی طرح تنگ دست فرمانبردار لوگ جنت کی نعمتوں کے آگے دنیا کی تنگ دستی کو بالکل بھول جاویں گے 1 ؎۔ یہ حدیث دنیا کے نافرمان خوشحال اور فرمانبرار تنگ دست لوگوں کے عقبیٰ کے حال کی تفسیر ہے۔
Ayahs 6:50–51(50 ۔ 51) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے گھڑی گھڑی طرح طرح کے معجزوں کی خواہش کرتے تھے کبھی تو وہ یہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے دعا کر کے معجزہ کے طور پر ہم لوگوں کو ایسا مال دار بنا دیجئے کہ پھر ہم کو کسی چیز کی کمی نہ رہے۔ کبھی یہ کہتے تھے کہ معجزہ کے طور پر ہمیں معاملات دنیا کی سب نفع نقصان کی باتیں اس طرح سمجھا دیجئے کہ جس سے ہم آئندہ نفع کے حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کا انتظام کر لیویں۔ کبھی طعن کے طور پر یہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو عام آدمیوں کی طرح آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں اور عورتوں سے واسطہ کیوں رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ نہ تو اللہ کے غیب کے خزانے میرے اختیار میں ہیں کہ میں تم کو مال دار بنا دوں اور نہ مجھ کو سب غیب کی باتیں معلوم ہیں کہ میں سب معاملات دنیا کے نفع نقصان کی آئندہ کی باتیں تم کو سمجھا دو نہ میں نے تم لوگوں سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں انسان نہیں فرشہ ہوں تاکہ میرے اس کھانا کھانے اور عورتوں سے واسطہ رکھنے کا تمہارا اعتراض مجھ پر قائم ہو سکے بات فقط اتنی ہے کہ تم لوگ دین کی باتوں سے ناواقف اور ان میں بالکل اندھے ہو کیونکہ اللہ کی مرضی کے کاموں کو کرنے اور اس کی مرضی کے مخالف کاموں سے بچنے کو دین کہتے ہیں۔ اور یہ باتیں محض عقل سے انسان نہیں جان سکتا کہ مثلاً حرام والے شخص کو جنگل کے جانوروں کا شکار حرام ہے اور دریائی جانوروں کا شکار حلال ہے اس لئے تمہارا یہ اندھا پن دفع کرنے کے لئے جو دین کے احکام آسمانی وحی کے ذریعہ سے میرے اوپر نازل ہوتے ہیں میں خود بھی ان کی پیروی کرتا ہوں اور تم لوگوں کو بھی ان ہی کی پیروی کی ہر وقت نصیحت کرتا ہوں جو کوئی اس نصیحت پر عمل کرے گا اس کو دین کی باتوں کی دیکھ بھال کی آنکھیں ہوجاویں گی جس سے ان کی عقبیٰ درست ہوجاوے گی اور جو کوئی اس نصیحت کو نہ مانے گا وہ ویسا ہی اندھے کا اندھا رہ کر اپنے اندھے پن کے سبب سے ضرور دوزخ کے گڑھے میں کرے گا کس لئے کہ یہ سب کو سوچ فکر کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اندھے کو آنکھوں والے جیسے سوجھ نہیں ہوتی فقط اٹکل پر اندھوں کا کام چلتا ہے اور اٹکل دین کے احکام میں کار آمد نہیں۔ اب آگے فرمایا کہ جن لوگوں کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے روبر کھڑے ہونے کا خوف ہے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کو قرآن کی آیتوں کے موافق نصیحت کرتے رہو تاکہ کہ وہ لوگ اس دن کے عذاب الٰہی سے ڈر کر نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں جس سے اللہ ان سے رضا مند ہوجاوے کیونکہ وہ دن ایسا ہے کہ بدوں رضا مندی الہی کے اس دن خلاف مرضی الٰہی نہ کوئی کسی کا حمایتی بن سکتا ہے نہ سفارشی۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے ایک جگہ ابو سعید خدری ؓ کی حدیث گذرچ کی ہے جس میں یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرا برار بھی ایمان ہوگا وہ بھی شفاعت کے سبب سے آخر کو جنت میں جاوے گا 1 ؎۔ اس حدیث کا مضمون اس آیت کے مضمون کے کچھ مخالف نہیں ہے اس لئے کہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ ذرا برابر توحید سے بھی اللہ تعالیٰ کی آخری رضا مندی آدمی کو حاصل ہوجاتی ہے اس واسطے ایسے شخص کو حق میں جو شفاعت کی جاوے گی وہ مرضی الٰہی کے برخلاف نہ ہوگی بر خلاف مشرک شخص کے کہ اس کے دل میں ذرہ برابر بھی خالص توحید نہیں ہے جس کے سبب سے ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی آخری رضا مندی بھی حاصل نہیں ہوئی اور جب یہ حالت ہے تو بغیر مرضی الٰہی کے قیامت کے دن ایسے شخص کا نہ کوئی حمایتی بن سکتا ہے نہ سفارشی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کی اور امت کے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے 2 ؎۔ یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے کیونکہ قرآن کی نصیحت تو سب کو یکساں کی جاتی ہے لیکن اس کا اثر لوگوں کے اچھے برے پنے کے سبب سے یکساں نہیں ہے۔
Ayahs 6:52–54(52 ۔ 54) ۔ صحیح مسلم صحیح ابن حبان مسند امام احمد بن حنبل مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور مطعم بن عدی اور حارث بن نوفل ان قریش کے شریف لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ بلال ؓ عمار بن یاسر ؓ سالم ابی حذیفہ ؓ کا پروردہ یہ چھوٹے لوگ آپ کے پاس ہمارے آنے کے وقت آپ کی مجلس میں نہ ہوا کریں تو مناسب ہے کیونکہ ہم ایسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ شریک مجلس ہونے کو اپنی کسر شان جانتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرافت امارت سے زیادہ خلوص نیت مقبول ہے اور یہ غریب لوگ خلوص نیت سے آنحضرت کے پاس ہر وقت حاضر رہتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان اشراف قریش کا کہنا ماننے سے اپنے رسول کو منع فرمایا اور یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ بعض روایتوں میں بجائے عتبہ وغیرہ کے اقرع وعینیہ کا نام جو ہے وہ شاید راوی کا سہو ہے کیونکہ یہ آیت ابتدائے اسلام کے زمانہ کی مکی ہے اوراقرع و عینیہ کا اسلام ہجرت کے بہت بعد ہے اس لئے کسی صحیح روایت میں ان کا نام نہیں ہے 2 ؎۔ یدعون ربھم بالغداۃ والعشی کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے پنجگانہ فرض نماز کی فرمائی ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب اوپر یہ حکم ہوچکا کہ جو لوگ ایک دن اللہ کے روبر کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں ان کو قرآن کے موافق نصیحت کرنی چاہیے اور اس یحکم کی تعمیل میں پنجگانہ نماز اور قرآن کی نصیحت سننے کے لئے اے رسول اللہ کے یہ تنگ دست مسلمان تمہاری مجلس میں آتے ہیں تو مالدار مشرکوں کے کہنے سے ان تنگ دست مسلمانوں کو وعظ کی مجلس سے روکنا بڑی ناانصافی ہے۔ مشرک لوگ یہ جو کہتے ہیں کہ یہ غریب مسلمان اپنی عزت بڑھانے کے لئے وعظ کی مجلس میں آتے ہیں عقبیٰ کے ثواب کی غرض سے نہیں آتے تو اس کا محاسبہ اللہ کے ہاتھ ہے کہ وہ سب کی نیت کا حال اور دل کا بھید جانتا ہے ایسی غیب کی بات میں کسی کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ رہی خوشحالی اور تنگدستی یہ تو اللہ کی ایک پیمائش ہے کہ تنگ دست لوگوں کو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ اس پر قناعت کر کے کہاں تک اللہ کا شکر کرتے ہیں اور مالدار لوگ کہاں تک اتراتے اور ریبوں کے ساتھ حقارت سے پیش آتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو شکر گذاروں کا دلی حال خوب معلوم ہے۔ مالدار مشرکوں نے غریب مسلمانوں کے حق کے طور پر { ھٰؤُلَا ئِ مِنَ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ مِنْ بَیْنَنَا } جو کہا تھا اللہ تعالیٰ نے یہ اس کا جواب دیا ہے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان تنگ دست ایمانداروں کے دل بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کیونکہ ان کی تنگ دستی کے سب سے لوگ ان کی قدر منزلت بہت کم کرتے ہیں تم ان کا دل بڑھانے کے ان سے سلام علیک کی ابتداء کیا کرو اور ان سے کہہ دو کہ دنیا میں ہر طرح کی تکلیف ہے اس لئے عقبیٰ میں ایسے لوگوں پر اللہ کی رحمت اور مہربانی ضرور ہوگی اور دنیا میں ایسے لوگوں سے باقتضائے بشریت کوئی گناہ ہوجاوے گا تو آئندہ توبہ کرنے اور نیک کاموں میں مصروف ہوجانے سے واللہ غفور الرحیم ان کا وہ گناہ معاف فرما دے گا۔ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تنگ دست مسلمان کے دنیا میں طرح طرح کی تکلفیں اٹھانے کے سب سے قیامت کے دن اللہ کا حکم ہوگا کہ ایسے لوگ کھاتے پیتے مسلمانوں سے چالیس برس پہلے جنت میں داخل کئے جاویں گے 1 ؎۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بہت سے تنگ دست مسلمان دنیا میں ایسے ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کردیتا ہے 2 ؎۔ اس باب میں فرما دے گا۔ صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تنگ دست مسلمان کے دنیا میں طرح طرح کی تکلفیں اٹھانے کے سبب سے قیامت کے دن الہ کا حکم ہوگا کہ ایسے لوگ کھاتے پیتے مسلمانوں سے چالیس برس پہلے جنت میں داخل کئے جاویں گے 1 ؎۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بہت سے تنگ دست مسلمان دنیا میں ایسے ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کردیتا ہے 2 ؎۔ اس باب میں اور بھی صحیح حدیثیں ہیں ان آیتوں میں دین و دنیا میں اللہ تعالیٰ نے تنگ دست مسلمان پر نظر رحمت رکھنے کا جو وعدہ فرمایا ہے۔ یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔ مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے 3 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جب شیطان مردود ٹھہرایا جا کر آسمان پر اسے اتارا جانے لگا تو اس نے انسان کے ہر طرح سے بہکانے کی اللہ تعالیٰ کے رو برو قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس کو جواب دیا کہ گناہ کر کے جو شخص توبہ استغفار کرے گا میں بھی اس کے گناہ ضرور بخش دوں گا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 4 ؎۔ گنگاروں کے گناہ بخشنے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کیا ہے یہ حدیث اس کی گویا تفسیر ہیں۔
Ayahs 6:55–58(55 ۔ 58) ۔ شروع سورة سے یہاں تک توحید کی خوبی اور شرک کی خرابی کا ذکر جو تفصیل سے گذرا اسی کو فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھا دیا جاتا ہے تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔{ قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ } کی شان نزول میں آوے گا کہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں ان مشرکوں کے بتوں کی پوجا کرلیا کریں اور ایک سال یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرلیا کریں اسی پر گویا آپس کی صلح ٹھہر جاوے۔ اسی کو فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگوں نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو رواج دے دیا ہے میں اصل طت ابراہیمی پر ہوں اس لئے مجھ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بت پرستی کی مناہی ہے کیونکہ اگر میں ایسا کروں گا تو طت ابراہیمی سے تمہاری طرف بہک جاؤں گا۔ اور میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں میرے پاس تو قرآن میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ ملت ابراہیمی میں بت پرستی کا کہیں پتہ نہیں تم لوگ بےسند ملت ابراہیمی کو بگاڑ چکے اب قرآن کی آیتوں کو بھی جھٹلاتے ہو اور پھر تم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈیٹھ بن کر اس عذاب کی جلدی کرتے ہو۔ وہ عذاب کچھ میرے اختیار میں نہیں ہے جو تم مجھ سے اس کی جلدی کرتے ہو وہ عذاب تو اللہ ہی کے حکم اور اختیار میں ہے اس نے منکر شریعت لوگوں کے حق میں عذاب کا وعدہ جو فرمایا ہے وہ برحق ہے وقت مقررہ آنے پر اس عذاب کا وہ خود فیصلہ فرماد یوی گا کیونکہ اس کو اس طرح کے ناانصاف لوگوں کا حال خوب معلوم ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے دنیا میں تو اس عذاب کا ظہور بدر کی لڑاتی کے وقت ہوچکا کہ ان مشرکوں میں کے بڑے بڑے سرکش عذاب الٰہی کی جلدی کرنے والے ستر آدمی بڑی ذلت سے مارے گئے اور ستر قید ہوئے رہا عقبے کا عذاب وہ بھی وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق سب کی آنکھوں کے سامنے آجاویگا۔ اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی تفصیل آیت اِنَ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ (4 48۔ 116) کی تفسیر میں گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں اس باب میں بہت سی صحیح حدیثیں ہیں جو مشرک لوگوں کے عذاب آخرت کی گویا تفسیر ہیں .
Ayah 6:59بخاری کی روایت میں خود آنحضرت نے ان غیب کی کنجیوں کی تفسیر ان پانچ چیزوں سے فرمائی ہے جن کا ذکر صراحت سے سورة لقمان میں آوے گا وہ پانچ چیزیں ایک قیامت کا وقت ہے کہ کب آوے گی دوسرے مینہ کا حال کہ کب برسے گا تیسرے یہ کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے لڑکا ہے یالڑ کی چوتھے یہ کہ کل کیا ہوگا پانچویں یہ کہ کون شخص کس سرزمین میں مریگا 1 ؎
1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 12 کتاب الدیان و ج 2 ص 666 کتاب التفسیر۔
شارحین کتب حدیث نے اور مفسرین نے لکھا ہے کہ اور علم غیب کی باتیں اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذر یعہ وحی کے اور اولیا۔ کو بذریعہ الہام یا خواب کے ظاہر فرما دیتا ہے چناچہ انبیاء نے عذاب قبر عذاب حشر کا احوال دوزخ و جنت کا حال جو علم غیب میں سے ہے صراحب سے بیان کیا ہے حضرت عیسیٰ لوگوں کی گھر کی رکھی ہوئی چیزیں بغیر دیکھے اور لوگوں کا کھایا پیا بتلا دیا کرتے تھے اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے ایک قیدی کا رہا جا ہونا اور دوسرے کا سولی پر چڑھایا جانا بتلا دیا تھا اور بعض اولیاء بھی بعضی آئندہ کی باتوں کو کرامت کے طور پر بیان کردیتے ہیں فرق اسی قدر ہے کہ نبی کو جو غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ وحی سے معلوم ہوتا ہے جو یقینی علم ہے اور اولیاء کو جو کچھ غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ الہام یا خواب کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے جس میں مجتہد کے اجتہاد کی طرح غلطی کا احتمال ہے کس لیے کہ نبی کی وحی میں اس بات کی حفاظت کے لیے کہ اس میں شیطان کا کچھ تصرف نہ ہونے پاوے خدا کی طرف سے فرشتے ہمیشہ خبرداری کیا کرتے ہیں جس کا ذکر سورة جن میں آوے گا اور کبھی موقعہ پاکر نبی کی وحی میں اگر شیطان کچھ تصرف کرتا ہے تو خدا کی طرف سے فورا اس کی اصلاح ہوجاتی ہے چناچہ اس کا ذکر سورة حج اور سورة نجم میں آویگا ولی کے الہام اور خواب میں یہ حفاظت اور اصلاح نہیں ہے۔ غرض یہ پانچ باتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم خاص میں رکھی ہیں اسی واسطے یہ پانچ باتیں غیب کی کنجیاں کہلاتی ہیں چناچہ اسی بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل نے اجنبی شخص کی صورت میں آنحضرت کے پاس آن کر ایمان واسلام کی چند باتیں پوچھیں آپ نے سب کے جواب دیے جب حضرت جبرئیل قیامت کا حال پوچھا تو آپ نے فرمایا کر پوجنے والا اور بتلانے والا دونوں اس سے بیخبر ہیں 1 ؎
1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 12 کتاب الایمان
حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کا ذکر اور دنیا کے ذرہ ذرہ کا حال لوح محفوظ میں لکھے ہونے کا ذکر فرما کر یہ آیت اس تنبیہ کے لیے نازل فرمائی ہے کہ وہ غیب دان بھی ہے اور اس کے دفتر میں ذرہ ذرہ کا حساب بھی ہے ایک دن اس حساب کی جانچ ہونے والی ہے ہر شخص کو چاہئے جو کچھ دنیا میں کرے ذرا حساب کا انجام یادرکھ کر کرلے حاصل مطلب یہ ہے کہ جنگل اور دریا میں جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ کے موافق ہے اور بیتی یا جنگل میں چھوٹے بڑے جو پیڑ میں ان کے ایک ایک پتے اور گٹھلی یا دانہ کا حال اور دنیا کی ہر ایک خشک وترسب چیزوں کا حال یہ سب کچھ اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے علم کے موافق لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس آیت سے ارسطو وغیرہ کا یہ قول غلط قرارپاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سوا اپنی ذات کے اور دوسری چیزوں کا علم نہیں ہے اسی طرح وہ قول بھی غلط قرار پاتا ہے جو ارسطو کے بعد شیخ ابوعلی بن سینا نے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات اور کلیات کا علم ہے جزئیات کا علم نہیں ہے۔ یہ دونوں قول اس لیے غلط قرار پاتے ہیں کہ اس آیت کے موافق ایک ذرہ بھی اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ بعضے علماء کو یہ شبہ جو پیدا ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو ذرہ ذرہ معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھول چوک بھی ممکن نہیں ہے تو پھر معلوم نہیں لوح محفوظ میں سب چیزوں کا حال لکھنے میں کیا حکمت ہے اس کا جواب اور علماء نے یہ دیا ہے کہ لوح محفوظ میں سب چیزوں کا حال لکھنے میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں مثلا یہ ایک کتنی بڑی حکمت ہے کہ جو فرشتے لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے پر تعینات ہیں جب یہ فرشتے اس نامہ اعمال کو آسمان پر لیجاتے ہیں اور اس کا مقابلہ لوح محفوظ کے نوشتہ سے کرتے ہیں اور دونوں تحریروں میں مطابقت پاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے علم غیب کی تصدیق انہیں زیادہ ہوجاتی علاوہ اس کے اس میں اور بھی حکمتیں ہیں جو بڑی کتابوں میں ہیں۔ کھلی کتاب جو لوح محفوظ کو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق اس میں ہر چیز کی کھلی کھلی تفصیل لکھی ہوئی ہے۔ عبداللہ بن عمر وبن العاض ؓ کی حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے ایک جگہ گذر چکی ہے 1 ؎
1 ؎ ص 123
جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم ازلی کے موافق دنیا کا تمام حال اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم ازلی سے باہر نہیں ہے کیونکہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اللہ کے علم کا نتیجہ ہے :۔
Ayahs 6:60–64(60 ۔ 64) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہر انسان کے سونے اور جاگنے کا ذکر فرمایا ہے اور پھر مرنے اور پھر مر کر جینے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ روز کے سونے اور جاگنے سے ہر عقلمند آدمی مرنے اور مر کر جینے کا قیاس کرلے کیونکہ غور کیا جاوے تو روز کا سونا چھوٹی موت سو کر پھر جاگنا روز کا ایک چھوٹا حشر ہے کس لیے کہ جس طرح موت کے بعد آدمی کے مثلا کان آنکھیں بیکار ہوجاتے ہیں وہی حال آدمی کا سونے میں ہوجاتا ہے ہے پھر جس طرح جاگنے کے بعد آدمی کے حواس قائم ہوجاتے ہیں وہی حالت اس کی حشر میں ہوگی تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہر سوتے آدمی پر اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جو سانس کی آمد ورفت کی خبر رکھتا ہے اور اگر اسی نیند کی حالت میں قبض روح کا حکم اللہ کا ہوجاتا ہے تو وہ فرشتہ باہر کا آیا ہوا سانس پھر اندر نہیں جانے دیتا جس سے روح قبض ہوجاتی ہے 2 ؎
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 138 و تفسیر ورنثورج 3 ص 15
مسلمان اور کافر کی روح قبض کی حالت کے بیان میں بہت سی حدیثیں 3 ؎ ہیں
3 ؎ تفسیر ابن کثرج 2 ص 138 و مشکوۃ شریف باب مایقال عند من حضر الموت۔ فصل تیسری۔
جن کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان کی قبض روح کے لیے رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور مرنے والے شخص کو یہیں دنیا میں سے آثار رحمت الٰہی معلوم ہونے لگتے ہیں اس لیے وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ جلدی سے اس کی جان نکل جاوے تاکہ اللہ تعالیٰ اور ارواح مؤمنین سے ملاقات نصیب ہو اور ملک الموت اور ان کے ساتھ کے فرشتے اس روح کو خوشخبری دیتے ہیں کہ اے پاکیزہ روح جلدی نکل اللہ تجھ سے راضی ہے اس حالت میں روح اس طرح جسم سے نکل جاتی ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے میں سے بال یابھری مشک میں سے پانی نکل جاتا ہے اور کافر اور منافق کی قبض روح کا معاملہ اس کے برعکس ہے اور دونوں طرح کی روحوں کی قبر وحشر کا حال ہر ایک کے نیچے آگے آویگا تفسیر ابن منذر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ آدمی کے جسم میں ایک نفس ہے اور ایک روح سونے کی حالت میں نفس آدمی کے جسم سے نکل جاتا ہے اور روح قائم رہتی ہے 1 ؎
1 ؎ فتح البیان ج 4 ص 70۔ 71
لیکن صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی سونے کے وقت دعا پڑھنے کی ایک بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ سونے کی حالت میں جان جو جسم سے الگ ہوئی ہے اگر اس کو تو روک رکھے تو اس پر تو رحم کر اور اگر وہ جان سونے کی حالت کے بعد پھر جسم میں آوے تو اس کو نیک کام کے ارادہ کی توفیق عنایت فرما 2 ؎ اسی طرح صحیح مسلم اور نسائی میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے
2 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 935 کتاب الدعوات و صحیح مسلم ج 2 ص 349 اس دعا کے الفاظ یہ ہیں ‘ بِاسْمِکَ رَبِیْ وَضَعْتُ جنَبْیِْ وَبِکَ اَرُفَعُہٗ اِنْ اَمْتَکْتَ نَضْیِْ فَاغْفِرْ لَھَا وَاِنْ اَرْسَلْتَہَا فَاحُفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہٖ عِبَادَکَ الصَّالحِیْنَ باب الدعاء عند النوم و تفسیر ابن کثیرج 4 ص 55
جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا سوتے وقت یوں کہنا چاہیے کہ یا اللہ تو نے ہی میری جان کو پیدا کیا ہے اور تو ہی اس کو کھینچتا ہے اور تیرے ہی حکم میں موت وحیات ہے سونے کے بعد اگر تو اس جان کو زندوں میں رکھتے تو اس کو اپنی حفاظت میں رکھ اور اگر تو اس کو مردوں میں رکھے تو اس پر اپنی رحمت کر 3 ؎ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
3 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 348 باب الدعاء عند النوم وتحفۃ الذاکرین ص 99۔ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں :۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ خَلَفْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَتَوَفَّا ھَا لَکَ مَمَا تُھَلوَ مَحْیَاھَا اِنَ احْیَیْتَھَا فَاْحْقِطْہٰاَ قَرانْ اَمَتَّھَا فَاغْفِرْ لَھَا اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَالُکَ الُفَافِیَۃَ ۔
ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ان حدیثوں کے موافق اکثر مفسرین نے اس قول کو قوی قرار دیا ہے کہ آدمی کے جسم میں فقط ایک روح ہے جو سونے کی حالت میں جسم سے الگ ہوجاتی ہے پھر اگر اس سونے کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اس روح کو روک رکھا تو آدمی سوتے میں امر جاتا ہے اور اگر سونے کی حالت کے بعد اللہ کے حکم سے وہ روح پھر انسان کے جسم میں آگئی تو وہ زندہ جاگ اٹھتا ہے رہی یہ بات کہ سوتے آدمی اور مردہ میں تو فرق ہے سوتے آدمی کی نبض چلتی رہتی ہے سانس چلتا رہتا ہے کھانا ہضم ہوتا ہے سوتے وقت جان کنی کی تکلیف آدمی کو نہیں ہوتی پھر موت اور نیند کی ایک سی حالت کیونکہ ہوسکتی ہے خازن وغیرہ میں حضرت علی ؓ کا قول ہے جس میں حضرت علی ؓ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ سونے کی حالت میں روح کا تعلق جسم سے اس طرح باقی رہتا ہے جس طرح آفتاب آسمان پر ہے اور اس شعاع زمین پر پڑتی ہے اور موت کے وقت یہ تعلق اس طرح باقی نہیں رہتا جس طرح قیامت کے دن آفتاب کا نور آفتاب سے بالکل الگ کردیا جاویگا 1 ؎
1 ؎ تفسیر خازن ج 4 ص 60 و معالم ج 7 ص 247
اس سے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی سورة زمر میں آوے گی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منکر حشر مشرک لوگوں کو ان آیتوں میں یوں قائل کیا ہے کہ جس صاحب قدرت نے سونے اور جاگنے کی حالت کو سب کی آنکھوں کے سامنے مرلے اور حشر کے نمونے کے طور پر پیدا کیا ہے وہی ان حشر کے منکروں کی وقت مقررہ پر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور فوری حساب کتاب کے بعد ان کے اعمال کی ان کو سزا دیویگا اس لیے اس نے دو روزنامچہ نویس اعمال کی حفاظت کے لیے اپنے زبردست حکم سے ہر شخص کے پیچھے لگا رکھے ہیں اور جس طرح اب ‘ ان کی خلاف مرضی اللہ کے فرشتے موت کے وقت ان کی جان نکال لیتے ہیں اسی طرح ان کی خلاف مرضی دوبارہ ان کے جسم تیار ہو کر ان میں جن پڑجاوے گی پھر فرمایا کہ جس طرح جنگل اور دریا کے سفر کی مصیبت کے وقت خالص اللہ سے مدد مانگنے اور راحت کے وقت ان بتوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا شیوہ جو ان لوگوں نے اختیار کیا ہے انکا یہ شیوہ عقبے کی مصیبتوں کے وقت کچھ کام نہ آویگا کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہاں مشرک کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہاں مشرک کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اللہ کے حکم سے آدمی کی روح قبض کیجاتی ہے۔ ملک الموت کو یہ کام اللہ تعالیٰ نے سونپا ہے ملک الموت کی مدد کے لیے اور فرشتے بھی مقرر ہیں ان ہی حالتوں کے سبب سے قرآن شریف کی آیتوں میں قبض روح کا ذکر کئی طرح سے آیا ہے لیکن درحقیقت ان آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ کسی آیت میں ایک حالت کا ذکر ہے اور کسی میں دوسری حالت کا :۔
Ayah 6:65معتبر سند سے مسند امام احمد نسائی تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں ابی بن عبد ؓ وغیرہ سے روایت ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے پتھر برسنا ہے جس طرح مثال اصحاب فیل پر برسے اور نیچے کے عذاب سے مراد و زمین کا دھنسنا 2 ؎ ہے
2 ؎ تفسیر الدر المنثورج 3 ص 17 روایت کے لفظ یہ ہیں الخف والہجم و تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 142 و تفسیر ابن جریرج 7 ص 135۔
جس طرح مثلا قارون دھنس گیا اور ابن مردویہ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ نے اللہ سے دعا کی کہ میری امت سے یہ تینوں قسم کے عذاب جن کا ذکر اس آیت میں ہے اٹھ جاویں تو اللہ تعالیٰ نے پتھروں کے برسنے کا عذاب اور زمین میں دھنسنے کا عذاب تو اٹھالیا مگر آپس کی پھوٹ اور آپس کی خانہ جنگی یہ عذاب باقی ہے 1 ؎ اس حدیث سے بعضے بعضے علماء نے یہ مطلب نکالا ہے
1 ؎ تفسیر الدر المنثور ج 3 ص 16 و تفسیر ابن کثیرج 2 ص 142
کہ اس امت میں پتھر برسنے کا عذاب اور زمین کے دھنسنے کا عذاب قیامت تک واقع نہ ہوگا۔ مگر علامہ حافط ابن حجر (رح) نے اس مطلب پر اعتراض کیا ہے اور اپنے اعتراض کی تائید میں مسند امام احمد کی وہ حدیثیں ذکر کی ہیں جن میں قیامت سے پہلے زمین کے دھسنے کا ذکر ہے اور رفع اس اختلاف کا وہی ہے جس کی صراحت طبرانی کی حسن بصری کی مرسل روایت میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حبیب میت اتری اور آنحضرت نے آیت میں تینوں عذابوں کے امت محمد یہ پر سے اٹھ جانے کی دعا کی تو حضرت جبرئیل آئے اور فرمایا کہ پہلی امتوں کی طرح عام طور سے اس امت کی ہلاکت پتھر برسنے اور زمین دھسنے سے نہ ہوگی ان دونوں باتوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اب حاصل کلام یہ ٹھہرا کہ پچھلی امتوں کی طوح ساری امت ان دونوں عذابوں سے ہلاک نہ ہوگا علامت قیامت کے طور پر بعضی بستیوں میں پتھر برسیں یا زمین دھنسے اور اس سے کچھ لوگ ہلاک ہوں تو وہ عام عذاب نہیں ہے اوپر کی آیتوں میں آخرت کے عذاب کا ذکر فرما کر اس آیت میں ارشاد ہے کہ آخرت کے عذاب کا موقع تو وقت مقررہ آوے گا لیکن اللہ کی قدرت سے کچھ یہ بھی بعید نہیں کہ ایسے سرکش لوگوں پر دنیا میں بھی کوئی عذاب آجاوے۔ ملک شام اور یمن کے سفر میں ان لوگوں کو ایسے سرکش لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر آئی ہوں گی جو عذاب دنیوی سے ہلاک ہوچکی ہیں اس سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئے ورنہ وہی انجام ان کا ہوگا جو ان لوگوں کا ہوا۔ اس نصیحت کے بعد فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں طرح طرح کی تنبیہ بار بار اس لیے ان لوگوں کو کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شرک سے بازآویں اور اپنے بھلے برے کو سمجھیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں کو لی بھر بھر کے لوگوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں مگر لوگ اس طرح دوزخ کی آگ میں گرنے کا کام کرتے ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرنے اور مرجانے کی جرأت کرتے ہیں 2 ؎۔
2 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 487 کتاب الانبیاء و صحیح مسلم ج 2 ص 248 باب شفقۃ صلے اللہ ﷺ علی امتہ الخ
یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کو ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیتوں میں ہیر پھیر کر طرح طرح سے ان لوگوں کو سمجھایا تاکہ یہ لوگ دوزخ کی آگ سے بچنے کا راستہ چلیں اور اللہ کے رسول بھی اسی کوشش میں لگے رہے لیکن جو لوگ ان میں سے اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق دوزخ کا ایندھن ٹھہر چکے تھے ان کو کسی نصیحت سے کچھ فائدہ نہ ہوا اور آخر اسی حالت کفرو شرک میں بدر کی لڑائی کے وقت وہ لوگ دنیا سے اٹھ کر سیدھے جہنم کو چلے گئے بغیر ذکر صحابہ کے کوئی تابعی آنحضرت ﷺ سے کسی حدیث کی روایت کرے تو اس حدیث کو مرسل کہتے ہیں۔ مرسل روایت کو کسی اور روایت سے تقویت ہوجاوے تو یہ مرسل روایت بالا تفاق قابل اعتبار ہوجاتی ہے۔ حسن بصری کی جس مرسل روایت کا ذکر اوپر گذرا اس کو اور روایتوں سے تقویت حاصل ہوگئی ہے اس لیے یہ مرسل روایت قابل اعتبار ہے :۔
Ayahs 6:66–67(66 ۔ 67) ۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآنی آیتوں میں طرح طرح کی تنبیہ اس لیے ان لوگوں کو کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شرک سے بازآویں اور اپنے بھلے برے کو سمجھیں اس آیت میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کے سر پر تو وہ ازلی کم بختی سوار ہے کہ جن آیتوں میں ان کے خلاف مرضی کوئی مضمون ہوتا ہے تو یہ لوگ پھر ان آیتوں کے جھٹلانے پر مستعد ہوجاتے ہیں حالانکہ قرآن کی آیتوں میں وہ سیدھے سچے مضمون ہیں کہ کوئی صاحب عقل ان کو جھٹلا نہیں سکتا۔ مثلا ان لوگوں کے شرک سے باز آنے کے لیے ان کو یوں سمجھایا گیا ہے کہ جب آسمان زمین انسان اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر کسی دوسرے کو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں شریک ٹھہرانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یا مثلا شرک کے وبال میں پچھلی قوموں پر جو عذاب آیا ہے شام اور یمن کے سفر میں ان لوگوں کو ان اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھ کر عبرت پکڑنے کی فہمائش کی گئی ہے یہ باتیں ہر صاحب عقل کے ماننے کے قابل ہیں اس پر ازلی کم بختی کے سبب سے جب یہ لوگ کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو اس کے کھٹلانے کی سزا میں ہم پر کوئی عذاب کیوں نہیں آتا تو ان کی اس بات کے جواب میں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اللہ کی طرف سے تمہاری سزا کے لیے داروغہ مقرر ہو کر نہیں آیا بلکہ میں وقت مقررہ کی سزا سے تمہیں ڈرانے آیا ہوں اگر اس ڈر کو تم لوگ نہ مانو گے تو بہت جلد وقت مقررہ آنے پر خود تمہیں اس سزا کا حال معلوم ہوجاوے گا اور یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقررہ ہے وقت مقررہ کے آنے پر پھر اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے وقت مقررہ آتے ہی بدر کی لڑائی کے زمانہ میں یہ بڑے بڑے آیات قرآنی کے جھٹلانے والے بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب میں گرفتار ہوگئے اس لیے اس عذاب کے جھٹلانے کی غرض سے آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں یہ بدر کا قصہ ہے۔ مشرکوں کی سزا کا وعدہ جو اس آیت میں ہے یہ حدیث اس وعدہ کے ظہور کی گویا تفسیر ہے :۔
1 ؎ صحیح بخاری ج 2 ص 566 باب قتل بی جہل و صحیح مسلم ح 2 ص 387 باب عرض مقعدالمیت من الجنۃ والسنار الخ
Ayahs 6:68–69(68 ۔ 69) ۔ بعضے مفسروں نے اس آیت کو سورة نساء سے منسوخ کہا ہے کیونکہ سورة نساء کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا حوالہ دیا ہے اور فرمایا ہے وَقَدُ نَزَّلَ عکیْکمْ فِی الکِتَابِ (4۔ 14) اس سے معلوم ہوا کہ سورة نساء کی آیت پیچھے نازل ہوئی ہے اور جب آخر کی آیت میں یہ حکم ہے کہ قرآن سے ٹھٹھا کرنے والوں میں جو شخص بیٹھے گا وہ بھی ان میں سے ہوگا تو پھر یہ حکم کہ جو شخص نصیحت کی راہ سے ایسے لوگوں میں بیٹھے گا اس پر کچھ گناہ نہیں ہے منسوخ ٹھہرا لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں ہے نصیحت کی راہ سے ایسے لوگوں کا بیٹھنا دونوں آیتوں سے جائز ہے ورنہ دین کا بڑا جز جو نصیحت ہے جس پر صحیح حدیثوں میں آنحضرت نے بیعت لی ہے متروک ہوجاویگا ہاں خالی میل جول کے طور پر بیٹھنا حرام ہے غرض علم مفسرین کے قول پر دونوں آیتوں سے یہ مطلب نکلا کہ آجکل بعضے لوگ جو آیت قرآن اور احادیث نبوی کو پر واہ کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں ایسے لوگوں میں یا تو متقی شخص نہ بیٹھے یا بیٹھے تو ان لوگوں کو نصیحت کرتا رہے اگر بیٹھے گا اور نصیحت نہ کریگا تو ایسا شخص سخت گنہگار ہوگا۔ بعضے مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی تھی کہ یہ مشرک لوگ تو ہر وقت قرآن کی مذمت میں لگے رہتے ہیں اس صورت میں اگر ہم حرم میں مثلا طواف کو جاویں اور وہاں مشرک لوگ بھی موجود ہوں اور ہم ان کے منہ سے قرآن کی مذمت کی کوئی بات سن لیویں تو اس گناہ سے ہم کیونکر بچ سکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وَمَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ سے آخر آیت کا ٹکڑا نازل فرما کر ان مسلمانوں کو جتلا دیا کہ جب میل جول کے طور پر تم ان لوگوں میں نہیں بیٹھتے تو اس طرح کی اتفاقی ملاقات میں ان کی بداعمالی کا محاسبہ تم لوگوں سے نہ ہوگا۔ لیکن ایسی ملاقات کے وقت ان لوگوں کو کچھ مناسب نصیحت کردی جاوے تاکہ ہر وقت کی نصیحت سے شاید وہ لوگ بھی راہ راست پر آجاویں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خلاف شریعت کوئی بات دیکھ کر ہاتھ سے زبان سے جس طرح ممکن ہو اس کی اصلاح ایماندار آدمی کے ایمان کی علامت ہے پھر اگر یہ ظاقت کسی ایماندار شخص میں نہ ہو تو اس خلاف شریعت باب کو دل سے برا جاننا یہ ایمان کا ضعیف درجہ 1 ؎ ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ج 1 ص 52 باب بیان کون النبی عن المنکرمن الایمان الخ بروایت ابی سعید الخدری ؓ
مسند امام احمد ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے حذیفہ بن الیمان ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ آپس کی نصیحت کا طریقہ جب لوگوں سے اٹھ جائے گا تو ایسی بستی کے سب لوگوں پر کوئی عذاب آجاویگا اور پھر کسی نیک آدمی کی دعا عذاب کے ٹلنے کے باب میں قبول نہ ہوگی ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2 ؎ ان آیتوں میں آپس کی نصیحت کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں :۔
2 ؎ جامع ترمذی ج 2 ص 39 باب ماجاء فی الامر بالمعروفو النہی عن المنکر