Ayahs 6:112–113(112 ۔ 113) ۔ شروع سورة سے یہاں تک مشرکین مکہ کی ایسی چند باتوں کا ذکر گذرا جو باتیں یہ لوگ عداوت دینی کے سب سے کرتے تھے کبھی کہتے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نوشتہ خاص ہم لوگوں کے نام اسلام کی تصدیق کا آوے گا جب ہم دین اسلام کو سچا جانیں گے کبھی کہتے تھے آسمان پر سے ایک فرشتہ آن کر ہمارے روبرو اسلام کی تصدیق کیوں نہیں کرتا کبھی قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے تھے کبھی کہتے تھے آسمان پر سے ایک فرشتہ آن کر ہمارے روبرو اسلام کی تصدیق کیوں نہیں کرتا کبھی قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے تھے کبھی کہتے تھے اگر محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں تو اللہ سے دعا کر کے ہم کو اتنا خزانہ دلوا دیں کہ ہم مالا مال ہوجاویں کبھی کہتے تھے کہ محمد ﷺ کی مجلس میں ایسے غریب لوگ ہر وقت گھسے رہتے ہیں جن کے سبب سے ہم ان کی مجلس میں جانا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں کبھی قرآن کی شان نزول میں اور اللہ تعالیٰ کی شان میں بےادبی کے لفظ منہ سے نکالنے کو مستعد ہوجاتے تھے کبھی کہتے کہ محمد صلے اللہ ﷺ خود تو ان پڑھ ہیں اہل کتاب سے کچھ باتیں سیکھ آتے ہیں اور پھر انہیں کو کلام الٰہی مشہور کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں سے گھڑی گھڑی آنحضرت ﷺ کو بڑا رنج ہوا کرتا تھا اللہ تعالیٰ نے نے اپنے رسول کا رنج دفع کرنے کے لیے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ان دشمن دین لوگوں کی یہ دشمنی کی باتیں تمہارے ساتھ کچھ انوکھی نہیں ہیں بلکہ پچھلے انبیاء سے بھی اس وقت کے مخالف لوگ ایسی ہی باتیں کرتے رہے ہیں شیاطین الانس والجن کی تفسیر میں سلف کا اختلاف ہے لیکن صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شیطان خود تو اپنا تخت سمندر میں بچھا کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے شیاطینوں کو لوگوں کے بہکانے کے لیے بھی دیتا ہے یہ حدیث تو شیاطین الجن کی تفسیر ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جن تو خود شیطان ہے اور وہ شیاطین جن کو شیطان لوگوں کے بہکانے کے لیے بھیجتا ہے وہ شیاطین الجن ہیں اب ان شیاطین کے بہکاوے میں جو لوگ آتے ہیں وہ دو طرح کے ہیں ایک تو اس بہکاوے میں آن کر خود برے کام کرنے لگتے ہیں دوسرے وہ کہ خود بھی برے کام کرتے ہیں وہ شیاطینوں کے بہکانے سے خود بھی بت پرست ہوا اور جدے سے مکہ میں بت لاکر اہل مکہ کو بھی بت پرستی کی رغبت دلائی اور مکہ میں بت پرستی پھیلائی عمر وبن لحی کا یہ قصہ صحیح حوالہ سے اوپر گذر چکا ہے صحیح مسلم میں جریر بن عبداللہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کوئی ایسا برا طریقہ نکالے کہ جس سے لوگ برے کاموں میں لگ جاویں تو اس کو اس کے ذاتی بدعملوں کی سزا کے علاوہ لوگوں کے بہکانے کی سزا بھی ملے گی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو انسان لوگوں کے بہکانے میں شیاطینوں کا کام کرے وہی شیاطین الانس ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے شیاطین الانس کی تفسیر کاہن لوگوں کو قرار دیا ہے لیکن یہ تفسیر جریر بن عبداللہ کی حدیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ جریر بن عبداللہ ؓ کی حدیث کے حکم میں کاہن لوگ اور غیروں کے بہکانے والے سب لوگ داخل ہیں اور سب لوگوں کو شیاطین الجن کی سی سزادی جاوے گی مسند امام احمد وغیرہ میں ابوذر ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے شیاطین الجن سے اور شیاطین الانس سے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ارشاد فرمایا ہے۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین الجن کے علاوہ بنی آدم میں سے شیاطینوں کی طرح بہکانے والے آدمیوں کو آپ نے شیاطین الانس فرمایا ہے کیونکہ ابوذر ؓ کی اس حدیث کی بعضی روایتوں میں یہ لفظ بھی ہیں کہ شیاطین الانس اصلی شیاطینوں سے زیادہ بہکاتے ہیں مال بن دینار نے اپنا یہ ایک تجربہ بیان کیا ہے کہ اصل شیاطین ذکر الٰہی کے وقت بھاگ جاتے ہیں لیکن شیاطین الانس نہیں کیونکہ ابوذر ؓ کی اس حدیث کی بعضی روایتوں میں یہ لفظ بھی ہیں کہ شیاطین الانس اصل شیاطینوں سے زیادہ بہکاتے ہیں مالک بن دینار نے اپنا یہ ایک تجربہ بیان کیا ہے کہ اصل شیاطین ذکر الٰہی کے وقت بھاگ جاتے ہیں لیکن شیاطین الانس کسی وقت بہکانے سے باز نہیں آتے 4 ؎ یہ مالک بن دینار معتبر تابعی ہیں بخاری میں بغیر سند کے اور سوائے مسلم کے صحاح میں مع سند کے مالک بن دینار سے روایتیں ہیں ابوذر ؓ کی اس حدیث کی روایت کے چند طریق ہیں جن میں بعضے معتبر ہیں اس لیے یہ حدیث معتبر ہے۔ یہ عمر وبن لحی بھی کاہن تھا۔ کاہن وہ لوگ تھے جو شیاطین کی نیاز نذر کرتے رہتے تھے جس کے سبب سے شیاطین ایسے لوگوں کا پانا معتقد سمجھتے تھے اور چوری سے آسمان کی باتیں جب سن آیا کرتے تھے وہ ان لوگوں سے کہہ دیا کرتے تھے اور اپنی طرف سے ان میں اکثر چھوٹ بھی ملا دیا کرتے تھے اور یہ کاہن اپنے معتقدوں کو پیشین گوئی کے طور پر آگندہ کی کچھ جھوٹ سچ باتیں بتلا دیا کرتے تھے ان ہی باتوں کو آپس کی فریب اور ملمع کی باتیں فرمایا صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کا ہن کی ایک بات سچی ہوتی ہے تو سوجھوٹی ہونی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ سچی وہ بات ہوتی ہے جو شیاطین چوری ہے آسمان پر سے سن آتے ہیں یہ حدیث فریب اور ملمع کو باتوں کی تفسیر ہے آگے فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو ان بناوٹ کی باتوں سے لوگوں کا بہکانا بند ہوجاوے لیکن امتحان کے طور پر جس طرح شیطان کو دنیا میں چھوڑا گیا ہے اسی طرح یہ بھی ایک امتحان کا طریقہ ہے اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جاوے کیونکہ جو لوگ ایسی باتوں کے قائل ہیں وہی ایسی بناوٹ کی باتوں کی طرف اپنے دلوں کو مالک کرتے ہیں اور وہی ایسی باتوں کو پسند کرتے ہیں اور جو وحی کے احکام کے پابند ہیں وہ ایسی بناوٹ کی باتوں کی پروا نہیں کرتے۔ پھر فرمایا یہ حی کے منکر جو کچھ کر رہے ہیں ان کے ان کے حال پر چھوڑ دیا جاوے وقت مقررہ پر انکا کیا ان کے آگے آجاوے گا۔
Ayahs 6:114–115(114 ۔ 115) ۔ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کوئی شخص منصف قرار دیا جاوے کہ وہ قرآن کو کلام الٰہی کہہ دیوے تو پھر ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے قائل ہوجاویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دیا جاوے کہ میرے اور تمہارے مابین اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون اس بات کا منصف قرار پاسکتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن کلام الٰہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے منصف ہونے کی یہ نشانی ہے کہ قرآن میں جہاں اور باتوں کی تفصیل ہے وہاں یہ بات بھی میں تم کو سنا چکا ہوں کو جو شخص اللہ پر کوئی چھوٹ بناوے تو اللہ تعالیٰ فورا اس کو ہلاک کردیتا ہے اور یہ بھی تم کو سنا چکا ہوں کہ اگر تم قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں مانتے بلکہ یہ کہتے ہو کہ میں نے اپنی طرف سے یہ کلام بنالیا ہے تو تم بھی ایسا کچھ کلام بنا کر پیش کرو کیونکہ بشر ہونے میں تم اور میں دونوں برابر میں جب ان باتوں میں سے کسی بات کا ظہور نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود منصفی ہوگئی کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن کلام الٰہی ہے رہی یہ بات کہ اہل کتاب میں سے کسی کو اس باب میں منصف قرار دیا جاوے اس کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں کی نبوت کی تصدیق تورات اور انجیل دونوں کتابوں کی تصدیق سب کچھ اس قرآن میں موجود ہے اس واسطے مجھ کو تو اس باب میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ اہل کتاب کے دل اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اب زبانی اس کے برخلاف جو کچھ وہ کہتے ہیں تو گویا اپنی کتاب اور اپنے نبی کے وہ لوگ منکر ہیں۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کی یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اس میں پچھلی اور آیندہ کی جو خبریں ہیں وہ سب سچی ہیں اس میں جتنے حکم ہیں وہ سب منصفانہ ہیں تورات اور انجیل میں جس طرح ردو و بدل ہوگیا اس میں وہ ردو بدل ممکن نہیں پچھلی شریعتوں کے اکثر احکام اس سے منسوخ ہوگئے اس کے احکام قیامت تک باقی رہیں گے۔ آخر کو فرمایا اس کے برخلاف جو کوئی کچھ کہتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور جو کوئی اس کے برخلاف دل میں کچھ عقیدہ رکھتا ہے وہ بھی اس کو خوب معلوم ہے قیامت کے دن ایسی زبان باتوں اور دل کے بھیدوں کا پورا فیصلہ ہوجاویگا۔ سورة آل عمران میں اس معاہدہ کا ذکر گذر چکا ہے جس کے موافق اہل مکہ کو ملت ابراہیمی کے سلسلہ سے اور اہل کتاب کو تورات اور انجیل کے سلسلہ سے نبی آخر الزمان اور قرآن کی پیروی ضرور تھی ان لوگوں نے ولی عقیدہ اور زبانی اقرار میں اسی معاہدہ کی پابندی نہیں کی اسی واسطے فرمایا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دلی اور زبانی بدعہدی کو سنتا اور جانتا ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں اس معاہدہ کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے میری پیروی سے انکار کیا اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کیا معاہدہ کی آیت اور یہ حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہیں :۔
Ayahs 6:116–117(116 ۔ 117) ۔ سورة مائدہ میں گذر چکا ہے کہ قبیلہ خزاعہ کے ایک سروار عمر بن لحی بن قمعہ نے مکہ میں بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر ان کو حرام ٹھہرانے کی رسم پھیلائی اس رسم میں یہ بھی ایک بات تھی کہ مردار جانور کو اہل مکہ حلال جانتے تھے غرض ان حرام حلال ٹھہرائے ہوئے جانوروں کہ باب میں مشرکین مکہ اکثر آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کا جھگڑا کیا کرتے تھے۔ خاص طور پر مردار جانور کا جھگڑا تو آگے کی آیتوں میں آتا ہے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کے عام جھگڑوں کے متعلق یہ فرمایا ملت ابراہیمی شریعت موسوی شریعت عیسوی کی بگاڑ کر آج کل اس زمین پر یہی لوگ ہیں جن کی یہ اٹکل ان کا دین ایمان ہے کہ جو رسمیں ان کے لیے ان کے بڑے بوڑھے ٹھہرا گئے ہیں وہی ان کا اصل دین ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے جھگڑوں میں سے کوئی بات نہ سنی جاوے کیونکہ ان جھگڑوں سے اصل مقصد ان لوگوں کا یہ ہے کہ دین الٰہی کی باتوں کو یہ لوگ مٹا دیویں اور اپنی قدیمی رسموں کو قائم رکھیں لیکن یہ ہرگز نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا خود حامی اور مددگار ہے۔ ان لوگوں کے یہ خیال ہے کہ ان کے بڑے بوڑھے جو رسمیں ٹھہرا گئے ہیں وہی اصل دین ہے یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے
اصل دین سے برگشتہ لوگوں کا اور اصل دین کے پابند لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جس دن اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق نیک وبد کا فیصلہ ہوگا اس دن ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے گا کہ اصل دین کی باتیں وہی تھیں جس کے یہ لوگ منکر تھے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں لوگوں کو ہتھیلی بھر کر انہیں آگ میں گرنے سے روکتا ہوں لیکن لوگ آگ میں گرنے کی ایسی جرأت کر رہے ‘ ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرتے ہیں یہ حدیث ان آیتوں کو گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ دین الٰہی کی باتوں کا پابند کر کے اللہ کے رسول لوگوں کو دوزخ کی آگ سے بچانا چاہتے ہیں لیکن لوگ اپنی قدیمی رسموں کے پابند ہو کر خود بھی دوزخ کی آگ میں گرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی رسمیں سکھا کر دوزخ میں لے جانا چاہتے ہیں :۔
Ayahs 6:118–121(118 ۔ 121) ۔ یہاں سے آخر رکوع تک کی آیتوں کی جو کچھ شان نزول ترمذی اور داؤد مستدرک حاکم طبرانی ابن ماجہ مسند بزار تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عکرمہ کے قول کے موافق بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش اور فارس کے لوگوں میں دوستی تھی اس دوستی کے سبب سے فارس کے مجوس نے قریش سے یہ کہلا بھیجا کہ تم ان نبی پر یہ اعتراض کرو کہ اپنا ذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مارا ہوا جانور نہ کھانا یہ کونسا دین ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور حلال ہے بتوں کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاوے یا جو جانور اپنی موت سے مرجاوے بہ سبب اس کے کہہ اللہ کا نام اس پر نہیں لیا گیا وہ حرام اور نجس ہے ان آیتوں میں شیطان مجوس کو فرمایا اور شیطان کے دوست قریش کو فرمایا قریش کی جگہ بعض روایتوں میں یہود کا نام جو بعض مفسروں نے ذکر کیا ہے وہ شاید کسی راوی کے سہو سے ہے کیونکہ اول تو یہود مردار جانوں کے حلال ہونے کے قائل نہیں جو ان کو اس جھگڑے کی ضرورت ہو دوسرے یہ آیتیں مکی ہیں اور یہود سے اور آنحضرت سے جھگڑا آنحضرت کے مدینہ میں آنے کے بعد پیدا ہوا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی بعض روایتوں میں اصل شیاطین کا ذکر جو کیا گیا ہے 3 ؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل شیاطین نے مجوس کو بہکایا اور مجوس نے قریش کو بہکایا اس صورت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور ان کے شاگرد عکرمہ کے قول میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا بعضے مفسروں نے آیت ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ کو آیت وطعام الذین اوتوالکتاب حل لکم (5۔ 5) سے منسوخ جو قرار دیا ہے اس کا فیصلہ حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں کردیا ہے کہ کوئی آیت ان میں منسوخ نہیں ہے بلکہ پہلی آیت کے عام حکم میں سے مستثنے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کو مسلمانوں کے لیے حلال فرما دیا ہے اہل کتاب کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا ذکر مفصل سورة بقرہ اور سورة مائدہ میں گذر چکا ہے۔ ان آیتوں میں یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں کو تفصیل وار پہلے بیان کردیا ہے جمہور مفسرین کا یہ قول ہے کہ اس تفصیل سے وہ تفصیل مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ کی آیت حرمت علیکم المیتتہ (5۔ 3) میں فرمائی ہے مگر امام فخر الدین رازی نے اس قول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ سورة مائدہ سورتوں سے آخر میں اتری ہے یہ تفصیل تو ایسی کسی آیت میں چاہے جو سورة انعام سے پہلے اتری ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ تفصیل پہلے گذر چکی جو اب اس اعتراض کا علمائے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ جب ترتیب قرآن میں سورة مائدہ سورة انعام سے پہلے ہے تو سورة انعام میں خدا تعالیٰ کا یہ حوالہ دینا کہ حرام چیزوں کی تفصیل سورة مائدہ میں گذر چکی ہے وہ حوالہ ترتیب کے موافق ہے کیونکہ صحیح روایتوں سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ترتیب وہی ترتیب ہے جو ترتیب صحابہ نے آنحضرت سے سنی ہے اور اسی ترتیب کے موافق آنحضرت ہر سال حضرت جبرئیل کو قرآن سنایا کرتے تھے اور حضرت جبرئیل لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق آنحضرت سے قرآن سنا کرتے تھے غرض جب لوح محفوظ کی ترتیب میں سورة مائدہ سورة انعام سے مقدم ہے تو فقط نزول کے خیال سے کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے ہاں ناسخ منسوخ میں نزول کا مقدم موخر ہونا معتبر ہے ناسخ منسوخ کی یہاں بحث نہیں ہے اگرچہ ترمذی نے اس شان نزول کی روایت کو حسن غریب کہا ہے لیکن اس روایت کی گئی سندیں ہیں جس کے سبب سے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حرام حلال کی تفصیل جب سورة مائدہ میں معلوم ہوچکی ہے تو پھر ہر ایمان دار آدمی کا چاہئے کہ اس کی پابندی کرے اور مردار کھانے والے لوگ جو حد شرع کے خود بھی پابند نہیں ہیں اور دوسروں کو بھی بہکانا چاہتے ہیں ان کی پیروی سے بچے کیونکہ ایسے لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے وقت مقررہ پر علم الٰہی کے موافق وہ لوگ اپنی اعمال کی سزا بھگتیں گے پھر فرمایا کچھ حرام حلال جانوروں پر ان لوگوں کا حد سے بڑھ جانا منحصر نہیں ہے بلکہ سوا شرک کے ان لوگوں میں کھلی اور چھپی اور باتیں بھی حد سے بڑھ جانے کی ہیں مثلا کھلم کھلا طواف کے وقت ننگے ہوجانے کو اور چھپ کر بدکاری کرنے کو یہ لوگ کچھ گناہ نہیں سمجھتے اس لئے ہر ایمان دار کو چاہئے کہ ان مشرکوں کے کھلے اور چھپے اور گناہوں سے بھی پرہیز کرے تاکہ قیامت کے دن ان کی طرح ان گناہوں کی سزا مسلمان شخص کو نہ بھگتنی پڑے۔ پھر فرمایا جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا جاوے ہر ایمان دار کو چاہئے کہ ایسے جانور کا گوشت نہ کھاوے کیونکہ ایسے جانور کا گوشت کھانا گناہ ہے۔ پھر فرمایا جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ مانے گا اور بہکانے والوں کے بہکاوے میں آن کر مردار جانور کا گوشت حلال کے طور پر کھانے میں ان مشرکوں کا شریک حال بن کہنا مانا۔ یہ ذکر مردار جانور کے حلال کے طور پر بغیر لاچاری کی حالت کے کھانے کا ہے لاچاری کی حالت میں حکم سورة بقر اور سورة مائدہ میں گذر چکا ہے اس لیے ان آیتوں میں لاچاری کی حالت کو الا ما اضطررتم الیہ فرما کر مسثنیٰ کردیا امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے عالم یذکر اسم اللہ علیہ کی تفسیر مردار جانور کی فرمائی ہے آیت کی شان نزول کی روایت جو اوپر گذری اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مردار جانور کے جھگڑے پر یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس واسطے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ تفسیر شان نزول کے موافق اور نہایت صحیح ہے۔ بعضے مفسروں نے مسلمانوں کے ذبح کئے ہوئے ان جانوروں کو بھی آیت کی تفسیر ٹھہرایا ہے جن جانوروں کے ذبح کے وقت عمدا یا سہوا بسم اللہ اللہ اکبر نہ کہا ہو مگر حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اس تفسیر کی صحیح نہیں قراردیا۔ مسلمان شخص کا ذبح کے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کا کہنا فرض ہے یا سنت اس میں سلف کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔ صحیح بخاری نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے نو مسلم لوگوں نے کچھ گوشت تحفہ کے طور کا صحابہ کے پاس بھیجا ان صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے یہ ذکر کیا کہ ان نو مسلم لوگوں کی حالت سے ہم کو شبہ پڑتا ہے کہ انہوں نے ذبح کیوقت اللہ کا نام لیا یا نہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس گوشت کے کھاتے وقت تم بسم اللہ کہہ کر اس کو کھاؤ۔ اب اس میں تو سب علماء متفق ہیں کہ کھانے کے وقت بسم اللہ کا کہنا اس کے متعلق اس تقریر کو پیش کر کے بعضے علماء نے ذبح کے وقت بسم اللہ کے سنت ہونے کے مذہب کو ترجیح دی ہے
Ayah 6:122اگرچہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت حضرت عمر ﷺ اور ابوجہل کی شان میں اور بعضوں نے کہا ہے کہ حضرت امیر حمزہ اور ابوجہل کی شان میں اتری ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ زمانہ شروع اسلام سے قیامت تک ہر مسلمان اور کافر کی مثال میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 5 ؎ جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی مثال ایک ایسے شخص زندہ کی دی ہے کہ زندہ ہونے کے سبب سے جس کے حواس قائم ہیں اور انہی سے بچنے کے لیے اس کے پاس روشنی ایمان کی ہے ضرر کی چیز کو اجالے کے وقت آنکھوں سے اور اندہیرے کے وقت روشنی سے دیکھتا اور ضرور سے بچتا ہے اور کافر کی مثال ایسے شخص کی دی ہے کہ مردہ ہونے کے سبب سے نہ اس کی آنکھیں ہیں اور نہ اس کے پاس کسی طرح کی روشنی ہے اس لیے دنیا میں تو وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے کہ وہ اچھے کام کر رہا ہے لیکن آخرت کے ضرر سے بچاؤ کا اس کے پاس ذریعہ نہیں ہے حاصل یہ ہے کہ اس حالت میں تو مومن کافر سب یکساں ہیں کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے نیست سے ہست کیا اب ان سب کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق اگرچہ جان لیا تھا کہ دنیا میں پیدا ہونے اور نیک و بد کا اختیار دیے جانے کے بعد کس قدر لوگوں کا انجام نیک ہوگا اور کس قدر کا بد چناچہ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک وبد کے لحاظ سے ہر ایک شخص کا ٹھکانہ بھی جنت یا دوزخ میں لکھا جا چکا ہے 1 ؎ اس کے بعد یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انصاف کی راہ سے جزا وسزا کا مدار اپنے اس علم ازلی پر نہیں رکھا بلکہ سب کو ایک حالت پر پیدا کیا چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ہر بچہ کی فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے اس فطرت اسلام پر پیدا کرنے سے پہلے عالم ارواح میں سب کی روحوں پر ہدایت کا نور چھڑکا لیکن جو لوگ پیدا ہونے کے بعد بد انجام رہنے والے تھے ان کو روحوں پر اس نور کا اثر عالم ارواح میں کچھ نہ ہوا چناچہ مسندامام احمد ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس وقت اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو عالم ارواح میں پیدا کیا تو سب مخلوقات جہالت اور خواہشات نفسانی کے اندہیرے میں تھی اللہ تعالیٰ نے ان سب پر ہدایت کا نور چھڑ کا جن روحوں پر اس نور کا اثر ہوا وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد نیک راستہ سے لگ گئے اور جن روحوں پر اس نور کا کچھ اثرنہ ہوا وہ دنیا میں پیدا ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے 3 ؎ مسند امام احمد کی سند بھی معتبر ہے۔ صحیح بخاری مسلم ترمذی ابوداؤد نسائی صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوداؤد نسائی صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ طرح طرح کی خواہش نفسانی سے گھرا ہوا ہے اور جنت طرح طرح کی تکلیفات شرعیہ سے گھری ہوئی ہے خواہشات نفسانی سے مقصود دنیا کی وہ راحت اور آرام کی چیزیں ہیں جن کی شریعت میں مناہی ہے اور تکلیفات شرعیہ سے مقصود ان خواہشات سے بچ کر ان باتوں کو بجالانا ہے جن کے بجا لانے کا شریعت میں حکم ہے۔ مطلب یہ ہے
کہ خواہش نفسانی کی پابندی گویا دوزخ میں جانے کا راستہ ہے اور تکلیفات شرعیہ کی پابندی جنت کا راستہ ہے۔ یہ سب حدیثیں آپ کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک وبد دو طرح کے لوگ دنیوی حالت کے موافق جو آیت میں ذکر کئے گئے ہیں اگرچہ یہ سب فطرت اسلام پر پھریں ہوئے لیکن عالم ارواح میں جن روحوں پر خواہش نفسانی کا اندہیرا چھایا رہا وہ روحیں جسموں میں آنے کے بعد بھی عمر بھر اس اندہیرے میں پھنسی رہیں اور دوزخ کا راستہ ان کے گلے کا ہار رہا اور اس عالم ارواح کے اندہیرے کے سبب سے ان کو اس راستہ کی برائی کچھ نظر نہ آئی اور جن روحوں کو علم ازلی کے موافق عالم میں نور ہدایت کا حصہ مل گیا تھا انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصہ تک اس نور کے طفیل سے کبھی نہ کبھی جنت کا راستہ ڈھونڈ کر نکال لیا۔ صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ ابوداؤد ‘ نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کے حاصل یہ ہے کہ سوتے ہوئے آدمی کو صبح کی نماز کے اول وقت شیطان یوں بہکاتا ہے کہ ابھی رات بہت باقی ہے ذرا اور سو جا اس پر اگر آدمی نے شیطان کا کہا مان لیا تو اول وقت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہی اور اگر اول وقت کی فضیلت کا شرعی حکم اس نے مان لیا تو اس فضیلت کا اجر ہاتھ آگیا 1 ؎ اس مثال میں رات آخری وقت کی برائی کو رات کے باقی ہونے کی زیب وزینت کا برقعہ اوڑھ کر سونے والے شخص کو یوں بہکا دیا کہ ابھی نماز کا آخری وقت دور ہے غرض ہر ایک چیز کی پیدائش کے لحاظ سے بعض آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے برے کاموں کی زیب وزنیت کی نسبت اپنی ذات پاک کی طرف فرمائی ہے جیسے اس سورة میں ہے کذلک زینا کل امۃ عملھم (6۔ 108) اور بعضی آیتوں میں اس زیب و زنیت کے ظہور کا سبب شیطان کو ٹھہر کر یہ نسبت شیطان کی طرف فرمائی ہے جیسے سورة النمل میں ہے وزین لھم الشیطان اعمالھم (29۔ 38) لیکن جو تفصیل اوپر بیان کی گئی اس کے موافق ان آیتوں میں کچھ مخالفت نہیں ہے کذلک زین للکافرین ماکانوا یعملون۔ اس آیت میں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ ان کافروں کے برے کاموں پر ملمع کر کے ان کو اچھا دکھانے والا کون ہے لیکن اوپر کی تفصیل کے موافق حاصل مطلب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے طور پر جس طرح نیک لوگوں کو نیک کام اچھے معلوم ہوتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو کام میں لے کر شیطان نے ان کے برے کاموں پر اس طرح کا ملمع کردیا ہے کہ جال میں پھنسنے والے جانوروں کی طرح ان کو جال میں کا دانہ تو نظر آتا ہے مگر جال نہیں نظر آتا :۔
Ayahs 6:123–124(123 ۔ 124) ۔ معتبر مفسرین سلف مثل مجاہد اور مقاتل نے ان آیتوں کی تفسیر میں لکھا ہے کہ وعید بن مغیرہ اور ابوجہل نے مکہ کے ناکوں اور راستوں پر کئی آدمی اس غرض سے بٹھا رکھے تھے کہ وہ مکہ کے لوگوں سے اور موسم حج میں جو باہر کے لوگ مکہ کو آتے تھے ان سے آنحضرت کی مذمت کریں اور کہیں کہ یہ شخص جادوگر ہے جھوٹا ہے نبی نہیں ہے اور اسی قدر شرارت پر ولید بن مغیرہ نے کفایت نہیں کی بلکہ ایک روز آنحضرت سے آن کر بڑی بحث کی اور کہا کہ اگر نبوت سچی چیز ہوتی تو مجھ کو ہونی چاہئے تھی کہ محمد ﷺ سے عمر میں بڑا ہوں اور مالدار بھی ہوں اور عرب میں میرا کہنا سننا بھی زیادہ ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر دو مطلب بیان فرمائے ایک تو آنحضرت کی یہ تسلی اور تسکین فرمائی کہ ہر نبی کے ساتھ ہر بستی میں پہلے بھی اسی طرح شریر لوگ ہم نے پیدا کئے ہیں تاکہ ان کی شرارت پر کمزوری کے زمانہ تلک نبی وقت کو صبر کرنے سے اجر ملے اور آخر کو وہ شریر سرکش غارت ہوجاویں اور انکا غارت ہوجانا اور لوگوں کو عبرت کا سبب ہو اور لوگ دین الٰہی کی طرف رجوع ہوں دوسرے ولیدبن مغیرہ نے جو آنحضرت سے بحث کی تھی کہ بجائے محمد ﷺ کے نبوت اس کو ہونی چاہیے تھی اس کا جواب یہ دیا کہ جو شخص اللہ کی پیغمبری ادا کرنے کے لائق ہے وہ اللہ کو ہی خوب معلوم ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبداللہ بن معسود ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم مثال میں سب خلقت کے دلوں پر نظر فرمائی آنحضرت کے دل کو سزاوار اس خدمت کا پاکر اس خدمت سے سرفراز فرمایا اور جن دلوں کو صحابہ ہونے کا سزاوار پایا ان کو صحابہ بنایا عبداللہ بن مسعود ؓ کی اس روایت کی سند کے ابوبکر بن عیاش اور عاصم بن بہدلہ دو راویوں میں اگرچہ بعضے علماء نے کلام کیا ہے لیکن امام احمد نے ان دونوں کو ثقہ کہا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے نبوت اور صحابیت کی قرار داد اللہ کے نزدیک ٹھہر چکی ہے اب ولید بن مغیرہ یا ابوجہل حسد کے طور پر کچھ جدید تمنا کریں تو کیا ہوسکتا ہے اور ان آیات مکیہ میں اخبار غیب کے طور پر جو کچھ فرمایا تھا تھوڑے عرصہ میں وہی ہوا کہ بدر کی لڑائی میں اکثر مکہ کے سرکش غارت ہوگئے اور انکے غارت ہونے سے بڑی عبرت مکہ میں پھیلی اور فتح مکہ کے بعد کوئی مخالف دین الٰہی مکہ میں باقی نہ رہا علمائے مفسرین نے یہ بھی ان آیتوں کی تفسیر میں لکھا ہے کہ پہلے نبی صاحب شریعت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت تک انبیاء کے حال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت سے پہلے قوم میں جو شخص سر برآوردہ تھا اس کو نبوت اللہ تعالیٰ نے نہیں دی اور ہر نبی کی امت کے لوگ ابتدا میں بلا ثروت لوگ قرار پائے تاکہ یہ دھوکہ لوگوں کو نہ رہے کہ یہ دین الٰہی نہیں ہے بلکہ ثروت دنیاوی کے سبب سے یہ دین پھیل گیا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بڑے بڑے مالدار اور صاحب ثروت دوزخیوں کو جب دوزخ میں ڈالا جاوے گا تو دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد اللہ کے حکم سے اللہ کے فرشتے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ جس مالداری اور ثروت کے سبب سے تم لوگ دنیا میں عقبے سے غافل رہے اور انبیاء کی نصیحت کو تم نے نہ مانا آج اس عذاب کے آگے تمہیں دنیا کی وہ مالداری اور ثروت کچھ یاد ہے تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولید بن مغیرہ ابوجہل وغیرہ اپنی دنیا کی جس مالداری اور ثروت کی وجہ سے اللہ کے رسول سے طرح طرح کی مخالفت دنیا میں کرتے رہے اس مخالفت کی سزا میں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر جو عذاب ہوگا اس عذاب کے آگے اپنی وہ مالداری اور ثروت ان لوگوں کو بالکل یاد بھی نہ رہے گی اور ان لوگوں کو بڑا پچھتاوا ہوگا کہ ایسی بھولی ہوئی چیز کے غرور میں اس طرح کا سخت عذاب ہم نے اپنے سر کیوں لیا اس لیے فرمایا وما یمکرون الا بانفسھم کرتے ہیں اس کا وبال ایک دن ان ہی کی جان پر پڑنے والا ہے غرض صغار عند اللہ کی بدر کی ان لوگوں کی حالت اور عذاب شدید دیا بما کانوا یمکرون کی یہ حدیث ان لوگوں کی دنیوی اور آخری حال کی پوری تفسیر ہے :۔
Ayahs 6:125–127حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ مکہ کے سرکش لوگوں نے اسلام سے روکنے کی تدبیریں جو نکالیں ہیں وہ تقدیر اور ارادہ تمنا پیدا ہوتی ہے کہ کاش خدا تعالیٰ کی طرف سے جلدی ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تاکہ یہ سرکش لوگ ایمان لے آویں ان کی یہ تمنا بھی کار آمد نہیں کس واسطے کہ یہ دونوں باتیں تدبیرات میں سے ہیں اور کوئی تدبیر تقدیر اور ارادہ ازلی کے مخالف گا رگر نہیں ہوسکتی علم ازلی میں جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مشرف باسلام ہونے کے لائق جان کر اس کی تقدیر میں مسلمان ہونا لکھ دیا ہے اس دنیا عالم اسباب میں خود اس کے سبب یوں پیدا ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا ارادہ ازلی اس کے اسلام لانے پر قائم ہوجاتا ہے جس کے سبب سے اس شخص کے دل میں ایک نور پیدا ہوجاتا ہے اور نیک باتوں کو اختیار کرنے پر اس کا دل کھول دیا جاتا ہے اسی طرح علم ازلی میں جو شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک نافرمان ٹھہر چکا ہے اس کے راہ راست پر لانے کے لیے ارادہ ازلی قائم نہیں ہوتا اس واسطے اس کے حق میں اس عالم اسباب میں ویسے ہی اسباب پیش آتے ہیں کہ نیک باتوں سے اس کا دل نفرت کرتا ہے اور نیک باتوں کا ماننا اس کو ایسا دشوار ہوجاتا ہے جس طرح ہر انسان کو آسمان پر چڑھنا مشکل ہے اس قسم کی آیتوں سے فرقہ جبریہ نے آدمی کو قضا و قدر کے موافق عمل کرنے پر مجبور خیال کرلیا ہے اور اصل میں انسان قضاو قدر کے سبب سے مجبور نہیں ہے بلکہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جو کچھ قیامت تک ہوگا دنیا کے پیدا ہونے سے ہزارہا برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے اس سب کو معلوم کر کے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے اسی کا نام قضاء قدر ہے ایک واقعہ کے ظاہر ہونے سے ہپلے علم اور تجربہ سے اس واقعہ کا نتیجہ لکھ لینا اور بات ہے اور ایک واقعہ کے ظاہر ہونے سے پہلے کسی کو اس واقع کے کرنے پر مجبور کرنا اور باب ہے اگر یہ شبہ پڑے کہ جب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں دنیا کے پیدا ہونے کی حالت میں بعضے لوگ گمراہ معلوم ہوئے تھے تو یہ امر کیا اللہ کے اختیار میں نہ تھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نیک خصلت کر کے پیدا کرتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صورت مجبوری کے ایمان لانے کی ہے جس طرح مغرب کی طرف سے سورج نکلنے کے بعد کوئی ایمان لادے اسی سورت میں آگے آتا ہے کہ اس طرح کا ایمان اللہ کی درگاہ میں مقبول نہیں ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں جس کی جیسی صلاحیت دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے معلوم کی ویسا ہی اس کو پیدا کیا جن آیتوں میں آگے قضاو قدر اور لوح محفوظ کا ذکر آوے گا وہاں اس بات کی زیادہ صراحت آوے گی چند طریق سے تفسیر عبدالرزاق تفسیر ابن جریر وغیرہ میں روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کے سینہ کے کھول دیے جانے کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک روشنی آدمی کے دل میں پیدا ہوتی ہے جس سے آدمی دنیا سے متنفر اور عقبیٰ کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور عقبیٰ کی طرف مائل ہوجانے سے شرع کی تکلیفات کی برداشت اس پر آسان ہوجاتی ہے عالم ارواح کی نور کی حدیث جو اوپر گذر چکی ہے اس سے بھی تفسیر عبدالرزاق وغیرہ کی روایتوں کی پوری تائید ہوتی ہے اور حاصل معنے آیت کے یہ قرار پاتے ہیں کہ اس عالم ارواح کے نور کا ظہور آدمی کے دل میں ہوجاتا ہے جس سے عقبے کے کاموں کی گنجائش ایسے شخص کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے یہی مطلب سینہ کے کھولے جانے کا ہے اسی حدیث کے موافق جو روحیں جہالت اور خواہشات نفسانی کے اندھیرے میں رہیں ان کے دل میں عقبے کا یقین نہیں اس لیے ان کے دل میں عقبیٰ کے کاموں کی گنجایش بھی نہیں۔ یہی مطلب سینہ کی تنگی کا ہے جن لوگوں کے دل میں عقبے کا یقین نہیں وہ ذکر الٰہی سے غافل اور دنیا کے کاموں میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں اس واسطے ان پر شیطان کا تسلط بھی زیادہ رہتا ہے کیونکہ شیطان تو ذکر الٰہی سے بھاگتا ہے۔ امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہاں رِجْسَ کے معنے شیطان کے کئے ہیں صحیح بخاری ومسلم کہ حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گذر چکی ہے میں آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس شخص کے راہ راست پر لانے کے لئے ارادہ ازلی قائم ہوچکا ہے اس کے دل پر قرآن کی نصیحت کی ویسا ہی اثر ہوتا ہے جس طرح اچھی زمین میں مینہ کے پانی کا اثر ہوتا ہے اور جس شخص کے راہ راست پر لانے کے لیے ارادہ ازلی قائم نہیں ہوا اس کے دل پر قرآن کی نصیحت کا اسی طرح کچھ اثر پیدا نہیں ہوتا جس طرح ناکارہ زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ بعضے مفسرین سلف نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ دو قسم کا ہے ایک ارادہ تقدیری ہے جس کے موافق نیکی بدی نیک وبدسب کچھ دنیا میں پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ مطلب اس ارادہ کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کی رو سے ہر شخص کے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اس کو نیک وبد جیسا جان لیا تھا ویسا ہی پیدا کیا۔ دوسرا ارادہ شرعی ہے جس کے موافق ہر ایک شریعت میں ہر شخص کو نیکی کرنے کا اور بدی سے بچنے کا حکم ہے اب کے موافق وہ جیسے بد پیدا ہوئے ہیں عمر بھر ویسے رہیں گے اور اس حالت پر مرجاویں گے ایسے ہی لوگوں کی گمراہی کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کی اکثر آیتوں میں اپنے ارادہ تقدیری کے نتیجہ کے طور پر ذکر فرمایا ہے لیکن اس میں کچھ کسی کو مجبور نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ تقدیری ان لوگوں کے ہے جن ارادوں پر یہ لوگ اپنے اختیار سے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد قائم رہنے والے تھے اس لیے یہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ کسی واقعہ کے ظاہر ہونے کے پہلے تجربہ کی رو سے اس واقعہ کے انجام اور نتیجہ کو لکھ لینا اور بات ہے :۔ 126۔ 127۔ حضرت عبداللہ عباس ؓ نے صراط مستقیم کی تفسیر اسلام کی فرمائی ہے اور عبداللہ بن مسعود ؓ نے قرآن کی حاصل مطلب دونوں تفسیروں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ قرآن کی پچھلے لوگوں کی کہانیاں جو کہتے تھے اور بت پرستی کو اسلام سے بہتر جو بتلاتے تھے ان کہ جھٹلانے کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے قرآن کی اس سورة اور اور سورتوں کے ذریعہ سے جا احکام دین اسلام کے تم پر نازل کئے گئے یہ وہ دین ہے جس کو آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کا سیدھا راستہ ٹھہرایا ہے اور جن لوگوں کے دل پر اس قرآن کی نصیحت کا اثر پڑتا ہے ان کے لیے اس قرآن کی آیتوں میں حرام حلال عذاب ثواب ‘ سب باتوں کی تفصیل موجود ہے پھر فرمایا جو لوگ ان احکام قرآنی کے موافق عمل کریں گے اس عمل کے اجر میں انہیں جنت کے عطا کرنے کا اللہ کفیل اور ضامن ہے۔ قد فصلنا الایات لقوم یذکرون۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی احکام کی اکثر تفصیل تو خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیتوں میں فرما دی ہے اور کچھ تفصیل اپنے رسول ﷺ کے ذمہ کردی ہے مثلا احکام نکاح میں اتنی تفصیل تو قرآن میں ہے کہ ساتھ کے ساتھ دو بہنوں سے نکاح حرام ہے باقی کی یہ تفصیل اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم سے فرمادی ہے کہ جس طرح ساتھ کے ساتھ دو بہنوں سے نکاح حرام ہے اسی طرح ایک عورت اور اس کی پھوپی سے یا عورت اور اس کی خالہ سے ساتھ کے ساتھ نکاح حرام ہے صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں اس طرح کے نکاح کے حرام ہونیکا ذکر ہے سورة نحل میں آویگا وَاّنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکرَلِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّل اِّلیْھِمْ (12۔ 44) جس کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اکثر تفصیل احکام اسلام کی تو قرآن میں موجود ہے رہی باقی کی کچھ تفصیل اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تم کو یہ اجازت دی ہے کہ تم بقدر ضرورت اور تفصیل کر کے ان لوگوں کو قرآن کی مطلب سمجھا دو جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پورے طور پر احکام اسلامی سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے بغیر مدد حدیث نبوی کے ان کو فقط قرآن کافی ہے وہ لوگ گویا نصف وحی کے منکر ہیں کیونکہ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں مقدام بن معد یکرب ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قرآن دیا اور اس کے ساتھ اسی کی مثل حدیث دی ہے مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو طرح کی وحی آئی ہے ایک قرآن کی وحی جس میں احکام اسلام بھی ہیں اور اس کی تلاوت اور نماز میں اس کی قرأت کا بھی حکم ہے اسی قدر دوسری وحی حدیث کی ہے جس میں فقط احکام اسلامی قرآن کی تفصیل اور تفسیر کے طور پر ہیں اب حدیث سے بےپروائی جتلانے والے لوگ اس دونوں قسم کی وحی کے گویا منکر ہیں کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قرآن کی تفصیل اور تفسیر کی اجازت سورة النحل کی آیت میں عطا فرما کر سورة حشر میں یہ بھی فرمادیا وَماَ اٰتاَکمُ ُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَاکُمُ عَنْہُ فَاْنْتَھُوْا (59۔ 7) تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث نبوی سے بےپروائی کرنے والے لوگ پورے قرآن کے بھی قائل نہیں ہیں اسی واسطے مقدام بن معدی کرب ؓ کی حدیث میں پیشین گوئی کے طور پر آنحضرت ﷺ نے ایسے لوگوں کی بڑی مذمت فرمائی ہے کہ یہ لوگ اپنے گھروں میں تکیہ لگا کر بیٹھنے والے لوگ ہیں کہیں پھر چل کر انہوں نے پورا علم دین حاصل نہیں کیا اس لئے یہ ایسے نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔
Ayah 6:128جن شیاطینوں کے بہکانے سے بت پرست لوگ دنیا میں بت پرستی کرتے تھے اور جو شیطان الجن شیاطین الانس کے دل میں ملمع کی باتیں لوگوں کے بہکانے کے لیے ڈالتے تھے قیامت کے دن ان سب کو ساتھ کھڑا کیا جاکر جس طرح ذلیل کیا جاویگا مکہ کے بت پرستوں کی تنبیہ کے لیے اس آیت میں اس کا ذکر فرمایا ہے قَدِ اسْتَکْثَرْ نُمِْ مِنَ الِاْنِسْ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی آدم کے بہکانے والے شیاطینوں سے قائل کرنے کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ پوچھے گا کہ تم نے بہت سے بنی آدم کہ بہکانے کا وبال اپنے سرلیا یا نہیں۔ شیاطین تو اس کا کچھ جواب نہ دے سکیں گے بہکنے والے بنی آدم فقط یہ کہویں گے کہ ہم اور شیاطین مل جل کر ایک دوسرے سے جیتے جی فائدہ اٹھاتے رہے۔ ہم شیاطین کو مانتے اور ان کی نذر ونیاذ کرتے رہے اور یہ ہم کو ملمع اور بناوٹ کی باتوں سے بہکاتے اور عقبے سے غافل بناتے رہے جس سے ہم ہمیشہ ٹھکانا ہمیشہ کے لئے جہنم ہے تفسیر سدی وغیرہ میں اجل کے معنے یہاں موت کے لیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جیتے جی ہمارا اور شیاطنیوں کا وہ معاملہ رہا جو ہم نے بیان کیا۔ مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شیطان نے اللہ تعالیٰ کے روبرو یہ قسم کھائی ہے کہ بنی آدم کے جیتے جی میں ان کو ہر طرح بہکاؤں گا اس سے معلوم ہوا کہ جن مفسروں نے اجل کے معنے یہاں موت کے کئے ہیں وہ اس صحیح حدیث کے موافق ہیں۔ اِلَّامَاشَائَ اللّٰہ۔ اس کا مطلب حضرت ابی بن کعب اور فتادہ کے قول کے موافق یہ ہے کہ مرنے کی تاریخ سے عذاب قبر ہے اور پھر دوزخ ہے غرض نافرمان لوگوں کے لیے یہ ہمیشہ کا عذاب ہے لیکن دونوں صور کے مابین ان کا عذاب قبر موقوف فرما دیا ہے۔ اس کی زیادہ تفصیل سورة یسین میں مَنْ بَعَثَنَا مِنُ مَّرُقَدِنَا کی تفسیر میں آوے گی حکیم علم (اسکا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک کی نیت کا ہر ایک کے عمل کا خوب حال معلوم ہے اس واسطے اس نے اپنے علم کے موافق اپنی حکمت اور تدبیر سے ہر ایک کی سزا و جزا مقرر کی ہے جس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
Ayah 6:129قتادہ کے قول کے موافق آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ بہکانے والے شیاطین اور بہکنے والے بنی آدم کا جس طرح عام گروہ اور آیت کے موافق جہنمی قرار پاوے گا اسی طرح پر اس عام گروہ میں سے خاص خاص ٹکڑیاں اس آیت کے موافق چھانٹی جاکر جہنم میں ڈالی جاوے گی مثلا بت پرستوں کی ایک ٹکڑی ہوگی تو سورج پرستوں کی دوسری ٹکڑی۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ابو سعیدخدری ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے حکم سے فرشتے یہ پکار کر کہہ دیویں گے کہ ہر طرح کے مشرکوں کی ایک ایک ٹکڑی الگ الگ ہوجاوے
Ayah 6:130علمائے مفسرین نے اس بات میں بڑا اختلاف کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر مضمون آیت کے موافق جن اور انسان دونوں قسم کے رسول آئے ہیں یا رسول فقط انسان ہی آئے ہیں اور ہدایت جن اور انسان دونوں فرقوں کی ان رسولوں کے ذمہ پر رہی ہے رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ پہلے قول کی روایت ضحاک بن مزاجم پر ختم ہوتی ہے اور ضحاک بن مزاحم اگرچہ متقدمین مفسرین میں سے ہیں اور اکثر متاخرین کی تفسیروں میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بواسطہ ضحاک کی روایت کی جاتی ہے لیکن دراصل یہ سلسلہ روایت کا منقطع ہے کس لیے کہ ضحاک بن مزاحم کی ملاقات امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نہیں ہوئی اور دوسرے قول کی روایت مجاہدبن جبر بن المقری پر ختم ہوتی ہے مجاہد کی ملاقات حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے پڑھا اسی واسطے امام شافعی (رح) اور امام بخاری (رح) اور ائمہ تفسیر کو مجاہد کی تفسیر پر زیادہ اعتماد ہے اور مجاہد کا ہی قول اس باب میں صحیح ہے ابن حبان نے مجاہد کو ضعفاء میں لکھ دیا ہے لیکن علماء نے کہا ہے کہ ابن حبان کے سوا اور کسی کی کتاب میں مجاہد کا نام شریک نہیں ہے اور یحییٰ القطان نے کہا ہے اجمعت الامۃ علی امامۃ مجاھد والاحتیاج بہ جس کا مطلب یہ ہے کہ علماء کے مجمع عام نے مجاہد کو امام اور لائق حجت پکڑنے کے قرار دیا ہے حافظ عمادالدین ابن کثیر نے چند قرآن کی آیتیں اس بات کے ثبوت میں پیش کی کہ رسول سب انسان ہی ہوئے اور جنات کے ہدایت بھی الٰہی کے ذمہ پر رہی ہے آخر فیصلہ اس میت پر کیا ہے کہ وجعلنافی ذریتھا النبوۃ والکتاب کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے کیا ہے اس سے یہ امر تو یقینی ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت تک انسان ہی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد میں سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق نبی ہوئے اور حضرت ابراہیم سے پہلے کسی مفسر نے کسی جن کا نبی ہونا نقل نہیں کیا ایک ڈھنگ کی جماعت کو عربی میں مشعر کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت کے موافق بت پرست سورج پرست جن وانس کی جب ٹکڑیاں بن جاویں گی تو انہیں قائل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسول کی معرفت تمہیں اللہ کا وہ کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت کا اور اس دن نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانے کا ذکر تھا۔ یہ ہر ایک ٹکڑی کے جنات اور انسان اس بات کا اقرار کریں گے کہ اللہ کے رسولوں کی معرفت یا اللہ تیرا ایسا کلام ہم کو بلاشک پہنچا لیکن دنیا کے مال ومتاع نے ہم کو ایسا مغرور کردیا کہ ہم نے رسولوں کی نصیحت کو نہیں مانا بلکہ ہم ان کی نصیحت کو جھٹلاتے رہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو نافرمان لوگ قیامت کے دن اپنی بداعمالی کا انکار کریں گے ان کے منہ پر مہر لگائی جا کر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی بداعمالی کی گواہی ادا کرائی جاوے گی حاصل یہ ہے کہ جن آیتوں میں بدعمل لوگوں کے بدعملی سے انکار کرنے کا ذکر ہے وہ اس گواہی سے پہلے کا ہے اور یہ اقرار کا ذکر گواہی کے بعد کا ہے دونوں طرح کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے :
Ayahs 6:131–134(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن اللہ نافرمان جن و انس سے پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت کے آنے کا اور اس دن نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانیکا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصانی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غفلت کرنا منظور نہیں اسی واسطے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کہ فرعون اور اس کی قوم تک کے لوگوں کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا جس میں ہر طرح کی نصیحتوں کے سمجھنے کے لئے پوری مہلت دی گئی باوجود اس کے وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے اور عقبے میں اپنے عملوں کے موافق جلد سزا پاویں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا سزا کے درجے ٹھہرا رکھے ہیں اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل اس کے علم سے باہر نہیں ہے پھر فرمایا نیک عملوں کی ہر شریعت میں تاکید جو کی گئی ہے تو کچھ اس واسطے نہیں کی گئی کہ اللہ کو کسی کے نیک عملوں کی کچھ پرواہ ہے اس کی ذات تو سب ضرورتوں سے بےپروا ہے لیکن ساتھ ہی اس کے یہ بھی ہے کہ جس طرح اس کی صفتوں میں بےپروائی کی صفت ہے اسی طرح رحم کی صفت بھی ہے اسی رحم کی صفت کے موافق اس نے ایک نیکی کا اجر دس سے لے کر سات سو تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ ٹھہرایا ہے اس صفت کے موافق اس نے جس طرح پچھلی قوموں کو نصیحت کے سمجھنے کی مہلت دی تھی اس طرح اس نے قریش کو مہلت دے رکھی ہے ورنہ ان کی سرکشی کے لحاظ سے اگر اللہ چاہتا تو اب تک پچھلی قوموں کی طرح ان کو ہلاک کر کے دوسری کسی فرمانبردار قوم کو ان کی جگہ اسی طرح پیدا کردیتا جس طرح پچھلی قوموں کی ہلاکت کے بعد ان کو پیدا کردیا مگر ان کو یہ خوب سمجھ لیتا چاہئے کہ مہلت قیامت کے وعدہ کو نہیں ٹال سکتی اس مہلت میں اگر یہ لوگ کچھ سامان اس دن کے عذاب سے بچنے کا نہ کریں گے تو وہ عذاب دنیا کی آفتوں کی طرح نہیں ہے جس سے آدمی کہیں بھاگ کر بچ جاتا ہے اس عذاب سے بھاگنے کی جگہ بھی ان کو کہیں نہ ملے گی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی اوپر گذر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جنات اور انسان نیک ہوجاویں تو ان کی نیکی سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہیں سکتا اور یہ سب بد ہوجاویں تو کچھ گھٹ نہیں سکتا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی رحمت کی صفت ایسی پیاری ہے کہ دنیا بھر کے لوگ اگر گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھا کر ان کی جگہ اور گناہ کرنے والی مخلوقات پیدا کرتا اور جب یہ لوگ گناہ کر کے توبہ استغفار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھا کر ان کی جگہ اور گناہ کرنے والی مخلوقات پیدا کرتا اور جب یہ لوگ گناہ کر کے توبہ استغفار کرتے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی صفت کو کام میں لاکر ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پہلی حدیث اللہ تعالیٰ کی بےپروائی کی گویا تفسیر ہے اور دوسری اس کی رحمت کی :۔
Ayah 6:135بعض مفسروں نے اس میت کو درگذر کی آیتوں میں شمار کیا ہے اور جہاد کی آیت سے اس آیت کو منسوخ کہا ہے لیکن درگذر کی آیتوں کی یہ شان نہیں ہے جس طرح اس میت کی شان ہے کیونکہ درگذر کی آیتوں میں اس طرح کی تنبیہ کہا ہے جیسے اس آیت میں کافروں کو خطاب کر کے آخر کو فرمایا ہے فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ آیت تنبیہ عذاب کی ہے جس کا دنیوی ظہور بدر کی لڑائی میں ہوا اور عقبے کے عذاب کا ظہور وقت مقررہ پر ہوگا غرض جہاد کی آیت سے یہ آیت منسوخ نہیں ہے اس کے اوپر گذر چکا ہے کہ جہاد کی آیت سے کوئی درگذر کی آیت منسوخ نہیں ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں پچھلی قوموں کی بربادی کا حال قریش کی مہلت کا حال ان سب باتوں کا حال ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان سب باتوں کا حال سننے کے بعد بھی تم لوگوں اگر اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے تو اچھا تم اپنی حالت پر رہو میں اپنی حالت پر رہتا ہوں تھوڑے دنوں میں انجام ہر ایک کا تم کو معلوم ہوجاوے گا مگر اتنی بات یاد رہے کہ جس اللہ نے تم کو تمہاری سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس کی تعظیم میں تم دوسروں کو جو شریک کرتے ہو یہ بڑے ظلم اور بڑی ناانصانی کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے جب تک اپنی بردباری سے تم کو چھوڑ رکھا ہے اس مہلت کو غنیمت جانو آخر کار ایسے ناانصافوں کا کبھی کچھ بھلا نہ ہوگا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے آیت کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی کا موقعہ پیش آیا۔ بد کی لڑائی سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلا دیا تھا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے سرکش قریش میں کے مارے جاویں گے چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے شروع ہونے سے ایک رات پہلے آنحضرت ﷺ نے قریش میں کے ان سرکشوں کے نام بتلائے تھے جو اس لڑائی میں مارے جانے والے تھے بلکہ مارے جانے کے بعد جہاں جہاں ان کی لاشیں پڑی تھیں وہ مقامات بھی بتلائے تھے۔ انس بن مالک ؓ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے مارے جانے کے بعد ان کی لاشوں کو انہیں مقامات پر ہم لوگوں نے پایا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ایک بڑے وبال کے ٹل جانے کی طرح یہ تو ان لوگوں کی دنیا کی موت کا حال ہے جس کی خوشخبری اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اپنے رسول کو سنادی تھی عقبے کا حال ان لوگوں کا یہ ہوا کہ ان کے مرتے ہی سخت عذاب نے ان کو آن گھیرا اور وہ عذاب اللہ کے رسول کو نظر آگیا اسی واسطے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کو لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے عذاب کا وعدہ سچا پایا چناچہ مسند امام احمد ‘ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم میں انس بن مالک ؓ وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان میں اس قصہ کا ذکر ہے یہ حدیث آیت کے ٹکڑے انہ لا یفلح الظلمون کی گویا تفسیر ہیں جن سے مکہ کے ناانصاف مشرکوں کا دین ودنیا کا انجام معلوم ہوتا ہے جو اور مشرکوں کے لیے عبرت کا مقام ہے :۔