Ayahs 6:154–155(154 ۔ 155) ۔ اوپر کی آیتوں میں فرمایا تھا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ جن چیزوں کو تم لوگوں نے اپنی اٹکل سے حرام ٹھہرا رکھا ہے اصل میں وہ چیزیں حرام نہیں ہیں بلکہ پہلے صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لیکر اب تک حرام وہ چیزیں ہیں جو ان آیتوں میں تم لوگوں کو جتلائی گئی ہیں اب ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے پہلی آیتوں میں جو پیغام الٰہی ہے اس کے پہنچانے کے بعد پھر یہ پیغام بھی ان لوگوں کو پہنچا دیا جاوے کہ شریعت موسوی سے پہلے کہ شریعتوں کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی تو اس میں بھی علاوہ اور تفصیلی احکام کے ان چیزوں کے حرام ہونے کا حکم موجود ہے جن کا ذکر پچھلی سب شریعتوں میں تھا اور وہی حکم اوپر کی آیتوں میں ہے سورة قصص میں آوے گا وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا اَھْلَکْنَا الْقُُرَونَ الْاَ ْولٰی بَصَائِرَ لِلنَّاسِ (28: 43) جس کا مطلب یہ ہے کہ قوم نوح سے لے کر فرعون تک پچھلے لوگوں کے عام عذابوں سے ہلاک ہوجانے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی ہے جس کے سبب سے تورات میں تفصیلی احکام شرعی کے علاوہ پچھلے لوگوں کی ہلاکت کے قصے ایسے ہیں جن سے نبی اسرائیل کے دل میں ایک عبرت پیدا ہوسکتی ہے ان آیتوں میں تماما علی الذی احسن تفصیلا لکل شیء جو فرمایا سورة قصص کی آیت گویا اس کی پوری تفسیر ہے حاصل مطلب ہے یہ کہ تفصیلی احکام شرعی اور پورے پچھلے لوگوں کی ہلاکت کے قصے ملا کر تو بات کو ایسی حسن ترتیب سے نازل کیا گیا ہے جس کی ہدایت کا اثر بنی اسرائیل کے دلوں پر پورا پڑیگا اور تورات کو نازل ہونے کے بعد عام نافرمانی اور عام عذاب کی نوبت نہ آوے گی اسی واسطے فرمایا کہ تورات کا نازل ہونا بنی اسرائیل کے حق میں ایک رحمت الٰہی ہے آخر کو یہ جو فرمایا کہ شاید اس قدر رحمت کے بعد یہود کے دلوں میں ایک دن اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے وقت پوری سرخروئی حاصل کریں اس لفظ شاید کے فرمانے میں بڑی پیشین گوئی ہے جس کا ظہور مابعد میں یہ ہوا کہ عبداللہ بن شاید کے فرمانے میں بڑی پیشین گوئی ہے جس کا ظہور مابعد میں یہ ہوا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے دل میں تو یہ یقین پیدا ہوگیا لیکن باقی کے یہود نے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کے یقین کو اپنے دلوں سے بالکل نکال ڈالا جس سے اصلی تورات کے احکام کی پابندی ان میں سے اٹھ گئی پہلے تو انہوں نے اصلی تورات کی آیتوں میں تبدل تغیر کیا اور پھر ایک تورات کے یہ تین نسخے۔ عبرانی یونانی۔ سامری بن گئے۔ اب ان میں باہمی یہ اختلاف ہے کہ سامری فرقے کے لوگ اپنے نسخے کو صحیح بتلاتے ہیں اور ان کے مقابل کے لوگ اپنے نسخوں کو صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر وبن العاض ؓ کی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے مطلب پر دو صحابیوں کا جھگڑا ہوا اس جھگڑے میں غل شور تک کی نوبت آئی اس غل کی آواز سن کر آنحضرت ﷺ حجرے سے باہر آئے اور بڑے غصے سے آپ نے فرمایا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ تم سے پہلے لوگ کتاب آسمانی کے مطلب میں اسی طرح کا جھگڑا اور اختلاف ڈال کر خراب اور برباد ہوگئے اس مکی آیت میں یہود کی آیندہ کی حالت کی جو پشین گوئی ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا کہ اس قرآن یپیشین گوئی کے موافق یہود نے تورات کے معنے اور لفظوں میں تک اختلاف ڈالا کہ اس اختلاف نے ان کی عقبے کو برباد کردیا اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی اسی طرح نبی آخر الزمان محمد رسول ﷺ پر یہ بابرکت کتاب نازل فرمائی جس کا نام قرآن ہے اہل مکہ اگر اس قرآن کی مخالفت کو چھوڑ کر اس کے احکام کی پوری پابندی کریں گے تو شاید ان کو اللہ کے رحم کی امید کا موقعہ مل سکے گا۔ اس لفظ شاید کے فرمانے میں یہ پیشین گوئی ہے کہ اگرچہ ظاہر میں بعضے لوگوں کا شمار قرآن کی پیروی کرنے والوں میں ہوجاویگا لیکن قیامت کے دن ان کو اللہ کے رحم سے اس لئے محرومی ہوجاوے گی کہ ان کا خاتمہ یہ ہے کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر سے چند آدمیوں کو فرشتے کھینچ کر دوزخ کی طرف جب لیجانے لگیں گے تو آنحضرت ﷺ ان فرشتوں سے کہیں گے یہ تو میرے اصحاب میں سے ہیں وہ فرشتے آنحضرت ﷺ کو جواب دیں گے کہ آپ کی وفات کے بعد یہ لوگ مرتد ہوگئے تھے۔ آیت کی پیشین گوئی کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علاوہ اور معجزوں کے قرآن ہی مجھ کو ایک ایسا معجزہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے جس کے سبب سے بڑی امت کے نیک لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی آیت ہیں قرآن کو برکت کی کتاب جو فرمایا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
Ayahs 6:156–157(156 ۔ 157) ۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی اسی طرح اس نے نبی آخرالزمان ﷺ پر یہ قرآن نازل فرمایا ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن عربی زبان میں نازل فرمایا ہے تاکہ اہل عرب کو قیامت کے دن کسی عذاب کے پیش کرنے کا موقع باقی نہ رہے اور ان لوگوں کے دل میں یہ ہوس بھی نہ رہے کہ ان پر کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو یہ لوگ یہودو نصاریٰ سے زیادہ راہ راست پر آجاتے۔ قرآن شریف کے نازل ہونے سے پہلے قریش یہ ہوش کیا کرتے تھے جس کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے او یہ لوگ اور قوموں کی بہ نسبت اپنے آپ کو عقلمند زیادہ سمجھتے تھے اس واسطے آسمانی کتاب کی ہوس کے ساتھ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں پر آسمانی کتاب نازل ہوئی تو اور قوموں سے بڑھ کر ہم راہ راست پر آجاویں گے۔ آگے فرمایا اگر یہ لوگ اپنی اس تمنا اور ہوس میں سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تمنا اور ہوش کے موافق اپنی رحمت سے ان پر ان کی زبان میں یہ قرآن نازل فرمایا ہے جس میں حلال حرام جزا وسزا جنت و دوزخ نجات کے راستے کی ہدایت سب کچھ ہے پھر فرمایا جو کوئی اللہ کی اس رحمت کی قدر نہ کرے گا اور قرآن کی نصیحت پر عمل کرنے سے خود بھی کنی کی اور لوگوں کو بھی اس نیک راستہ سے روکے گا وہ کسی کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ ایسا شخص اپنے ہی نفس پر بڑا ظلم کرنے کی جرأت کر رہا ہے کیونکہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو سخت سزا بھگتنی پڑے گی صحیح بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا صاحب عذر کا عذر اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائی رسولوں کو بھیجا تاکہ کسی شخص کو نجات کے راستہ کی انجانی کا عذر باقی نہ رہے صحیح مسلم کے حوالہ سے جریر بن عبداللہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دین میں جو شخص ایسا راستہ نکالے گا جس سے لوگ بد راہ پر لگ جاویں تو ایسے شخص کو قیامت کے دن اس طرح دوسری سزا ملے گی کہ اس کی ذاتی بدعملی کی سزا جدا اور لوگوں کو بہکانے کی سزا جدا۔ یہ حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صاحب عذر کے عذر کا سننا بہت پسند رہے اس لئے اس نے عربی میں قرآن نازل فرما کر اہل عرب کی انجانی کا عذر رفع کردیا اب جو کوئی قرآن کو نصیحت خود بھی نہ مانے گا اور لوگوں کو بھی ایسے نیک راہ سے روکے گا تو اس پر قیامت کے دن دہرا عذاب ہوگا :۔
Ayah 6:158بعضے مفسروں نے اس انتظار کے وعدہ کی حدیث آیت جہاد کو ٹھہرایا ہے اور آیت جہاد سے اس آیت کو منسوخ کہا ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے اس واسطے کہ آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں جن نشانیوں کا مجمل طور پر ذکر ہے اس کی صراحت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحاح ستہ میں آچکی ہے کہ ان نشانیوں سے مراد علامت قیامت میں سے آفتاب کو مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے اور خود قرآن شریف میں فَہْلْ یَنُظْرُوُنَ اِلَّاالسَّاعَۃَ اَنْ تَاْیِتَہُمْ بَغْتَہً سے اس انتظار کی تفسیر ہوچکی ہے اس وجہ سے صحیح تفسیر یہی ہے کہ اس انتظار سے مراد آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ہے اور معنے آیت میں گویا آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین فرمائی گئی ہے کہ روزمرہ کی قرآن کی آیتوں کی نصیحت پر بھی جو یہ لوگ اپنے شریک اور قرآن کے انکار سے باز نہیں آتے تو اس سے کچھ گھبرانا اور تنگ دل نہ ہونا چاہئے یہ شرک اور قرآن کے انکار کا سلسلہ تو ان مشرکوں کی موت تک یا پشت بہ پشت قیامت تک چلنے والا ہے معتبر سند سے عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تک آدمی کا دم کھینچ کر سینہ میں نہیں آتا اور موت کے وقت خوفناک شکل کے فرشتے ان نافرمان آدمیوں کے پاس آتے ہیں اور ان کو عذاب آخرت اور اللہ تعالیٰ کی خفگی سے ڈراتے ہیں جس سے ان کی روح جس میں جگہ جگہ چھپتی پھرتی ہے آخر بڑی سختی سے ان کی روح قبض کی جاتی ہے یہ حدیثیں آیت کے ٹکڑے ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملائکۃ کی گویا تفسیر ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ یہ نافرمان لوگ موت سے پہلے تو اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے ہاں جب ان کا دم اکھڑ کر سینے میں آجاتا ہے اور موت کے فرشتے ان کو نظر آنے لگتے ہیں تو ان کو اپنی حالت پر پچھتاوا آتا ہے لیکن اس وقت کا پچھتاوا کچھ مفید نہیں کیونکہ پہلی حالت پر پچھتانا اور راہ راست پر آنے کا ارادہ کرنا تو اس وقت تک کا انسان کو مفید ہے جب تک عذاب الٰہی اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں آیا جب موت کے وقت عذاب کے فرشتے اس کو نظر آنے لگے اور روح کو سختی سے نکالنے کے لئے ان فرشتوں نے طرح طرح کا عذاب شروع کردیا تو اس وقت کا پچھتانا ایسا ہے جس طرح دنیا میں سزا کے وقت کوئی مجرم جرم کر کے پچھتاتا ہے جس بےوقت کے پچھتاوے سے اس کی سزا ٹل نہیں سکتی۔ سورة بقرہ اور سورة آل عمرن میں یہ بیان گذر چکا ہے کہ فصاحت الٰہی کی آیات متشابہات کہلاتی ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق یہ بھی گذرا ہے کہ جو آیتیں نماز روزہ وغیرہ کے کسی عمل سے متعلق ہیں وہ محکم کہلاتی ہیں اور جن آیتوں سے کوئی عمل متعلق نہیں ہے بلکہ ان آیتوں پر بندوں کا فقط ایمان لانا مقصود الٰہی ہے یہ سب آیتیں متشابہات ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ متشابہ آیتوں کی تاویل کے درپے ہوں ان کو اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرنا چاہئے اس صحیح حدیث سے اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو متشابہ آیتوں کی تاویل سے ڈرایا ہے اس لئے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اس طریق پر گذرا ہے کہ وہ لوگ متشابہ آیتوں کی تاویل کے درپے نہ تھے بلکہ اس کو برا جانتے تھے بعد اس زمانہ کے جن علمائے مفسرین نے اپنی تفسیروں کا مدار صحابہ ؓ اور تابعین (رح) کے طریقہ پر رکھا ہے وہ بھی اس قسم کی آیتوں میں تاویل کو جائز نہیں رکھتے بلکہ ان کو ظاہر معنے پر قائم رکھ کر ان کی تلاوت کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ ان آیتوں سے کوئی عمل شرعی متعلق نہیں ہے اس واسطے ان آیتوں کی تفصیلی تفسیر بھی ضروری نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان علمائے مفسرین نے جن کی تفسیروں کی مدار صحابہ اور تابعین کے طریقہ پر ہے سورة بقرہ کی آیت کے ٹکڑے ھَلْ یَنْظْرُوْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتَیِہُمُ اللّٰہُ فیْ ظُلَل مِّنْ الْغَمَامِ (2: 210) اور اس آیت کے ٹکڑے اویاتی ربک کو ان کے اس معنی ظاہری پر قائم رکھا ہے کہ حشر کے دن اللہ تعالیٰ نیک وبد کے فیصلے کے لئے میدان محشر میں نزول فرماویگا اور اس معنے کی تائید میں بعضے صحابہ ؓ کے آثار بھی اپنی تفسیروں میں نقل کئے ہیں 3 ؎۔ اسحاق ابن راہویہ (رح) سے کسی شخص نے پوچھا کہ جب اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے تو بلند جگہ سے نیچی جگہ کے نزول کو اللہ تعالیٰ کی شان میں تسلم کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی مشابہت جسمی چیزوں کے ساتھ لازم آتی ہے۔ اسحاق بن راہو (رح) یہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ نزول ذات الٰہی کی کچھ کیفیت جب ہم بیان نہیں کرتے اور لیس کمثلہ شیء ہمارا عقیدہ ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات کی مشابہت جسمی چیزوں سے کیونکر لازم آسکتی ہے۔ یہ اسحاق بن راہو (رح) یہ امام احمد کے طبقہ کے مفسر اور بڑے عالم ہیں۔ حاصل مطلب آیت کے ٹکڑے ھل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ اور اویاتی ربک کا ہی ایک ہی ہے کہ یہ نافرمان لوگ اب تو اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے لیکن جس طرح دنیا میں موت کے فرشتوں کے نظر آجانے کے بعد ان لوگوں کو اپنی حالت پر پچھتاو آوے گا اور اس وقت کا پچھتاوا ان کے کچھ کام نہ آویگا یہی حال ان لوگوں کا اس وقت ہوگا جبکہ یہ لوگ میدان محشر میں اپنی نافرمائی کی جواب دی کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عدی بن حاتم کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میدان محشر میں نیکی بدی کے دریافت کے وقت اللہ تعالیٰ بغیر واسطے کسی فرشتے یا رسول کے ہر شخص سے اس شخص کے اعمال کی حالت خود دریافت فرماویگا 1 ؎ معتبر سند سے معاذبن جبل ؓ کی حدیث مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں ہر شخص کو چار باتوں کی جواب وہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔ ایک تو یہ کہ تمام عمر کس کام میں صرف کی دوسرے یہ کہ جوانی میں کیا کیا۔ تیسرے یہ کہ دنیا میں روپیہ پیسہ کیونکر کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ چوتھے یہ کہ دین کہ کچھ علم سیکھا تو اس کے موافق کیا عمل کیا 2 ؎ اللہ تعالیٰ کے میدان محشر میں نزول فرمانے کی اور ہر شخص سے بلا واسطہ نیکی بدی کا حال دریافت کرنے کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب آفتاب مغرب سے نکلے گا تو اس وقت کے سب نافرمان لوگ گھبرا کر راہ راست پر آجاویں گے لیکن ایسی مجبوری کہ وقت کا انکا راہ راست پر نا ان کو کچھ نفع نہ دے گا۔ 3 ؎ معتبر سند سے ترمذی میں صفوان بن عسال کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مغرب کی طرف لوگوں کی توبہ کی کے آسمان پر جانیکا آسمان میں ایک دردو ازہ ہے جب آفتاب مغرب کی طرف سے نکل آویگا تو وہ روازہ بند ہوجاویگا تو وہ دروازہ بند ہوجاویگا اور پھر کسی کی توبہ قبول نہ ہوگی 4 ؎ ایمان اور نیک عمل کے فائدے کے اٹھ جانے کی جس نشانی کا ذکر اس آیت میں ہے یہ حدیثیں گویا اس کو تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نشانی مغرب سے آفتاب کے نکلنے کی ہے اس کے بعد نامہ اعمال کے کاغذ پیٹ کر فرشتے مسلمان پر پڑھ جاویں گے اور اعمال کا لکھنا بند ہوجاویگا آخر کو فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان نافرمان لوگوں سے کہہ دو کہ اب تو تم لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے لیکن موت کے فرشتوں کے نظر آنے اور میدان محشر میں اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے اور آفتاب کے مغرب سے نکلنے کے وقتوں کا ہم بھی انتظار کرتے ہیں اور تم بھی انتظام کرو یہ وقت ایسے ہیں کہ ان میں نیک وبد کا سب حال کھل جاوے گا۔ معتبر سند سے شدادبن اوس ؓ کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقل مندوہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے مابعد کا کچھ سامان کر لیوے اور نادان وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے مابعد کے سامان سے غافل رہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے عقبی میں بہبودی کی توقع رکھے 5 ؎۔ یہ حدیث آیت کی آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مایوسی کے جن وقتونکا ذکر کر آیت میں ہے ان وقتوں میں عقبیٰ سے فافل لوگون کو اللہ تعالیٰ سے بہودی کی توقع کا رکھنا بڑی نادانی ہے :۔
Ayah 6:159بعضے مفسروں نے گروہ درگروہ یہود نصارا اور مشرکین کو ٹھہرایا ہے اور آیت کو درگذر کی آیتوں میں شمار کر کے جہاد کی آیت سے منسوخ کہا ہے لیکن اوپر صحیح حدیث سے ثابت ہوچکا ہے کہ اس امت کے اہل قبلہ میں سے بھی تہتر 73 گروہ ہیں اس لئے صحیح مذہب یہی ہے کہ آیت عام ہے اور آیت جہاد سے منسوخ نہیں ہے کیونکہ اہل قبلہ سے جہاد نہیں ہے پھر انہیں آیت کے معنے میں جہاد کے حکم کا انتظار ہی نہیں تو وہ آیت آیات درگذر میں شمار ہو کر آیت جہاد سے منسوخ کیونکر ہوسکتی ہے علاوہ اس کے اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آیت جہاد سے کوئی درگذر کی آیت منسوخ نہیں ہے عبادت الٰہی کے طریقہ کو دین کہتے ہیں حرام حلال کے احکام ہر ایک نبی کے عہد میں جو نازل ہوئے ان احکام کے مجموعہ کو شریعت کہتے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مصلحت وقت کے لحاظ سے احکام شرعی ہر نبی کے زمانہ میں جدا جدا نازل ہوئے ہیں مگر عبادت الٰہی کا طریقہ جس کو دین کہتے ہیں سب انبیاء کا ایک ہے الٰہی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے جو احکام کی پوری پابندی کرے۔ کے معنے اللہ کو ایک جاننا۔ لیکن یہ اللہ کا ایک جاننا یا تو اللہ کے خالق نازل ہوئے ہیں ان اور رازق ہونے کے باب اور توحید ہیں ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین اور رزق کے سبب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہے ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس توحید کا مشرکین یہود نصارا کسی کو انکار نہیں ہے اس لئے قرآن شریف میں اس توحید کے ثبوت کی بحث نہیں ہے بلکہ قرآن شریف میں جگہ جگہ اس توحید کی بحث ہے جو توحید عبادت کہتے ہیں اس توحید عبادت کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا خالق و رازق اللہ تعالیٰ سے تو اسی کی خالص عبادت اور اسی کے احکام کی پابندی اور اسی کے رسولوں کی فرمانبرداری انسان پر لازم ہے۔ اس توحید عبادت میں لوگوں کے الگ الگ فرقے ہوگئے ہیں کوئی ستارہ پرست ہے کوئی آتش پر شت کوئی بتوں کو پوجتا ہے کوئی عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بتاتا ہے کسی نے احکام الٰہی کی پابندی چھوڑ کر ایسی ایجادی باتوں کو پکڑا ہے جس کو شرع میں بدعت کہتے ہیں ان مختلف فرقوں کو اس آیت میں فرمایا کہ شیطان کے بہکانے سے عبادت الٰہی کے طریقہ میں ان لوگوں نے اپنی طرف سے راہیں نکالی ہیں جو راہیں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے برخلاف ہیں اور ان راہوں پر چلنے والے یا وہ لوگ ہیں جو مشرک نجات کے راستہ سے بالکل دور ہیں یا وہ لوگ ہیں جو بدعتی قابل مواخذہ کے ہیں۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے جب تم نے ان لوگوں کو اللہ کا حکم پہنچا دیا تو تمہارا فرض ادا ہوگیا اب ان میں سے جو فرقہ اللہ کے حکم کو نہ مانے گا اس کا کچھ الزام تم پر نہیں کہ ایسے لوگوں کو تم اللہ کے حوالہ پر چھوڑ دو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی بداعمالی کے مواخذہ کے ہیں۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے جب تم نے ان لوگوں کو اللہ کا حکم پہنچا دیا تو تمہارا فرض ادا ہوگیا اب ان میں سے جو فرقہ اللہ کے حکم کو نہ مانے گا اس کا کچھ الزام تم پر نہیں ہے ایسے لوگوں کو تم اللہ کے حوالہ پر چھوڑ دو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی بداعمالی کے موافق ان کو سزادیوے گا۔ اس سزا کا مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور بدعتی فرقہ میں سے جن لوگوں کی بدعت حد شرک تک نہ پہنچے ہوگی وہ اللہ کے حکم کے موافق ایک وقت مقررہ تک دوزخ میں رہ کر پھر عذاب دوزخ سے نجات پائیں گے اور جنت میں داخل ہونے کا انہیں حکم مل جاوے گا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص شرک سے کم ورجہ کے گناہ کر کے بغیر توبہ کے مرجاویگا وہ آخر کو جنت میں داخل ہوگا اور جو شرک کی حالت میں بغیر توبہ کے مرجاویگا وہ آخر کہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شرک کی حالت میں بغیر توبہ کے مرجاوے گا وہ ہیمشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ حدیث آیت کو گویا تفسیر ہے آیت اور حدیث کو ملا کر حاصل مطلب یہ ہوا کہ ان مختلف فرقوں میں جن کا ذکر آیت میں ہے جو ایسے لوگ ہیں کہ عبادت الٰہی میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں بیرہ توبہ کے اور شرک سے باز آنے کے ان کی مغفرت کی کوئی صورت نہیں ہاں جو لوگ شرک سے کم درجہ کے گناہ کر کے غیر توبہ کے مرجاویں گے ان کی مغفرت کی امید ہے :۔
Ayah 6:160اس آیت کی تفسیر صحیح حدیثوں میں آئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں نیکی کے بدلے دس گنا ثواب کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ کم سے کم بھی ہر نیکی پر اجر اور ثواب دیا جاوے گا تو وہ دس گناہ کو ہوگا اور زیادہ سات سو تک بھی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے اور ہر بدی پر ایک گناہ کی سزا کا وعدہ ہے لیکن چاہے تو اللہ تعالیٰ بغیر سزا کے یوں ہی بخش دیوے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان نیک عمل کرتا ہے تو دس گنا سے سات سو تک اس کا اجر لکھا جاتا ہے اور بدی ایک کرے تو ایک ہی لکھی جاتی ہے اور کبھی بغیر لکھے معاف بھی ہوجاتی ہے اور صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نیکی کا کوئی شخص ارادہ کرے اور ارادہ کے موافق عمل نہ کرے تو بھی ایک نیکی محض ارادہ پر لکھ لی جاتی ہے اور بدی بدوں عمل کے نہیں لکھی جاتی ہے اور بدی کا کوئی شخص دل میں ارادہ کرے اور پھر اس بد ارادہ کو بدل ڈالے تو بھی ایک نیکی لکھی جاتی ہے سورة قصص میں آوے گا مَنْ جَائَ بِالُحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌمِّنْہَا (28: 84) یہ آیت سورة قصص کی اس آیت کی تفسیر ہے کیونکہ سورة قصص کی آیت میں مبہم طور پر یہ تھا کہ نیکی کرنے والے شخص کی نیکی سے بہتر بدلا ملے گا اس آیت میں اسی کی تفسیر یہ فرمائی کہ بہتر بدلے کا مقصد یہ ہے کہ نیکی کرنے والے شخص کی ایک نیکی کا ثواب کم سے کم دس گنا لکھا جاولگا۔ ہر ایک نیک کام کا ثواب دس سے لیکر سات سو تک جو ہے اس میں روزہ داخل نہیں کہ ہے کیونکہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کے ثواب کا اندازہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر رکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو آدمی کی نیت کا حال معلوم نہیں ہے اس لئے جس قدر نیک نیتی سے آدمی کوئی نیک عمل کرتا ہے دس سے سات سو تک ثواب کا درجہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے لکھ لیتے ہیں۔ روزے میں ریاکاری کا دخل بہت کم ہے اس واسطے روزے کا ثواب قیامت کے دن روزہ داروں کو خود اللہ تعالیٰ عنایت فرماوے گا فرشتوں کو روزے کے ثواب کا درجہ پوچھنے اور لکھنے کا حکم نہیں ہے وھم لایظلمون۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ کو انصاف بہت پسند ہے اس لئے نیک عمل کی جزا کے کم کرنے میں یا بد عمل کی سزا کے بڑھا دینے میں کسی ظلم و زیادتی کا دخل نہ ہوگا بلکہ پورے انصاف سے جیسا جس کا عمل ہوگا اسی کے موافق جزا اور سزا کا برتاؤ ہوگا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن بعضے گنہگار اللہ تعالیٰ کے روبرو اپنے گناہوں کا انکار کریں گے جس پر ان لوگوں کے ہاتھ اور پیروں سے گواہی دلوائی جاکر ان لوگوں کو قائل کیا جاوے گا حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن نہایت انصاف سے ہر ایک کو قائل معقول کیا جاوے گا اور قائلی معقولی کے بعد سزا کا حکم دیا جاوے گا اسی طرح جزا میں انصاف ہوگا کہ خالص دل ہے ایک کلمہ توحید جو پڑھا اس کا ثواب اس قدر دیا جاوے گا کہ گناہوں کا انبار اس کے مقابلہ میں ہلکا ہوجاویگا چناچہ اس باب میں ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ کی حدیث گذر چکی ہے۔ اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے لیکن حاکم نے اس کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
Ayahs 6:161–163(161 ۔ 163) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان کے بہکانے سے عبادت الٰہی کے صحیح طریقہ میں لوگوں نے اپنی طرف سے غلط راہیں نکال لی ہیں اب ان غلط راہوں میں مکہ کے مشرک لوگوں کی یہ غلط راہ تھی کہ ان لوگوں نے ملت ابراہمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو اپنا دین ٹھہرا لیا تھا بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے اور اسی کو ملت ابراہیمی جانتے تھے اس لئے اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ تم لوگ تو بت پرست ہو اور ابراہیم خلیل اللہ نے اسی بت پرستی کی نفرت کے سبب سے اپنے وطن اپنے باپ اپنی قوم سب کو چھوڑا اور اس ہجرت کے بعد جب ابراہیم خلیل اللہ نے کعبہ بنایا اور اس کے سبب سے مکہ کی آبادی کی بنا پڑی تو انہوں نے مکہ اور اس میں آباد لوگوں کو بت پرستی سے بچایا۔ تمہارے بڑوں میں سے عمر وبن لحی نے دعائے ابراہمی کے برخلاف اولاد ابراہیمی اور مکہ میں بت پرستی پھیلائی اب تم لوگ بھی اس لکیر کے فقیر ہو اور پھر اپنے آپ کو اولاد ابراہیمی اور ملت ابراہیمی کا پابند گنتے ہو یہ اتنی بڑی غلطی ہے اور ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ جو سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بتایا ہے حقیقت میں ملت ابراہیمی وہ ہے کہ میری عبادت میری قربانی میری زندگی موت سب اللہ کے حکم کے موافق ہے تم لوگوں کی طرح میں کسی دوسرے کو ان باتوں میں اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا امت کے سب لوگوں سے پہلے اللہ کے رسول احکام الٰہی کے پورے پابند اور حکم بردار ہوتے ہیں اور پھر ان کی حکم برداری کا اثر امت کے لوگوں پر پڑتا ہے اس لئے فرمایا کہ میں تم سب سے پہلے حکم بردار ہوں عمر وبن لحی کا قصہ اوپر گذر چکا ہے کہ پہلے پہل اسی شخص نے ملت ابراہیمی کا بگاڑ کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی۔ یہ عمر وبن لحی وہی شخص ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے دوزخ کی آگ میں جلتے ہوئے دیکھا یہ دیکھنا آپ کا اس وقت کا ہے جب سورج گرہن کی نماز میں دوزخ اور جنت کو آپ نے دیکھا تھا جس کا ذکر صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے آیا صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاض ؓ کی حدیث گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں اول سے آخر تک ہونے والا تھا اپنے علام ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی وہ حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے۔ یہ حدیثیں آیت کی گویا تفسیر ہیں آیت اور حدیثوں کو ملا کر حاصل مطلب یہ ہوا کہ مشرکین مکہ میں سے لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق جو لوگ عمر وبن لحی کے ساتھی ٹھہر چکے تھے ان کے حق میں قرآن شریف کی نصیحت کا اثر اسی طرح رائیگاں گیا جس طرح بری زمین میں مینہ کے پانی کا اثر رائیگاں جاتا ہے پھر فتح مکہ ہوگیا جب ایسے سب لوگ شرک کی حالت میں مر مٹ کر عمر وبن لحی سے جاملے اور وہ لوگ باقی رہ گئے جو لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق راہ راست پر آنے والے تھے تو ان کے حق میں قرآن شریف کی نصیحت اسی طرح مفید ہوئی جس طرح اچھی زمین میں مینہ کا پانی مفید ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام مکہ میں اسلام پھیل گیا صراط مستقیم اوردین صحیح دونوں ایک ہیں۔ تفسیر صراط مستقیم کی آیت وان ھذاصراطی مستقیما کی تفسیر میں گذر چکی ہے :۔
Ayah 6:164سورة عنکبوت سورة اقرأ اور قل یا ایھا الکافرون کی تفسیر میں آویگا کہ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے مسلمان ایک سال ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کریں پھر ایک سال ہم لوگ اللہ کی عبادت کرلیا کریں گے اور یہ بھی کہتے تھے کہ اگر قیامت قائم ہوئی اور اسی سال بھر کر بت پرستی کے جرم میں مسلمان کسی عذاب میں پکڑے گئے تو وہ عذاب ہم اپنے ذمہ لے لیویں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ جب سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں اور وہی ہر چیز کا رب ہے تو مخلوق الٰہی ہونے میں سب برابر ہیں پھر معبود قرار پانے کا کب مخلوق کو کیا حق ہے اور سوا اللہ کے میں کوئی دوسرا معبود کیونکر ڈھونڈ سکتا ہوں اور تم لوگوں نے دوسروں کا عذاب اپنے ذمہ لینے کا جو ذکر کیا تو ایک مجرم کی سزا دوسرے شخص کو کیونکر ہوسکتی ہے پھر فرمایا اس فہمائش پر بھی یہ لوگ اپنی نادانی کی باتوں سے باز نہ آویں تو مرنے کے بعد ایک دن سب کو اللہ کے روبرو حاضر ہونا بڑے گا اس وقت ان سب جھگڑے کی باتوں کی سزا ان لوگوں کے سامنے آجاوے گی۔ عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ اور ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیثیں اس آیت کی بھی گویا تفسیر ہیں۔
Ayah 6:165جس طرح ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش کی توقع رکھنی چاہئے اسی طرح اس کے عذاب اور غصہ سے بھی ہر وقت ڈرنا چاہئے اس واسطے ایمان امید اور زندگی کے بیچ میں قرار پایا ہے صحیح مسلم ترمذی مسند امام احمد بن حنبل میں ابوہریرہ ؓ اور صحابہ ؓ کی مرفوع اور موقوف حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غصہ کا حال اگر لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو جنت میں داخل ہونے سے ہر ایک کا دل چھوٹ جاوے اسی طرح اس کی رحمت کا حال معلوم ہوجاوے تو کوئی اپنے آپ کو دوزخی نہ خیال کرے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رحمت کے سو درجہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ایک درجہ دنیا بھر میں ساری خلقت کو بٹا ہے اور ننانوے درجے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک نوشتہ عرش پر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا ہے کہ اللہ کی رحمت اللہ کے غضب اور غصہ پر غالب ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے بعد اے امت محمدیہ اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کے نائب اور قائم مقام کے طور پر تم کو پیدا کیا ہے اور انتظام دنیا چلنے کے لئے بعضوں کو تم میں مال دار کیا ہے اور بعضوں کو تنگ دست تاکہ تنگ دست لوگوں کے کام کاج سے اپنی ہر طرح کو ضرورتوں کو رفع کر کے اپنی گذران کریں اور امیر غریب کے پیدا کرنے میں آزمائش بھی ہے کہ مال دار لوگ کہاں تک اس مال ومتاع کے دینے والے کا شکر کرتے ہیں اور غریب لوگ اپنی غریبی پر کہاں تک صبر و قناعت سے کام لیتے ہیں پھر فرمایا کہ یہ دنیا اور دنیا کا انتظام سب چند روزہ ہے اس چند روزہ انتظام میں خواہ امیر خواہ غریب جو کوئی اتنی عقل مندی کرے گا کہ پچھلی امتوں کے عذاب الٰہی سے ہلاک ہوجانے کا حال پیش نظر رکھ کر جہاں تک ہو سکے کچھ عقبے کا سامان کر لیوے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی وافر ہے کہ وہ تھوڑے عمل کا بہت سا ثواب عنایت فرماویگا چناچہ فقط ایک کلمہ توحید کا ثواب کا حال اوپر گذر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہاں تک اس کو بڑھا دیا اور جو کوئی نادانی سے عمر بھر نافرمانی میں گرفتار رہے گا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی ایسا سخت ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ معتبر سند سے شدادبن اوس ؓ کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے مابعد کا کچھ سامان کر لیوے اور نادان وہ شخص ہے جو عمر بھر نافرمانی میں لگار ہے اور پھر عقبے میں اللہ تعالیٰ سے بہبودی کی توقع رکھے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔