15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 15:41–44

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا راستہ ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے۔

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے۔

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کیلئے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں۔

41۔ 44۔ جب شیطان نے قیامت تک مہلت چاہی اور اس کو مہلت مل گئی اور اس نے بنی آدم کے بہکانے کا اور راہ حق سے پھیرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور یہ کہا کہ تیرے خالص بندوں کو نہیں بہکا سکتا ہوں تو اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ یہی نیت کا خالص ہونا ہی تو سیدھا رستہ ہے جو مجھ تک ان لوگوں کو پہنچائے گا اور جو میرے چنے ہوئے بندے ہیں ان پر تیرا ایسا زور نہیں چلتا جو وہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے ہاں جو لوگ ازلی گمراہ ہیں وہ البتہ تیرے بہکانے میں آجائیں گے تو ان کے واسطے میں نے جہنم کو بھی تیار کر رکھا ہے اور جہنم بھی وہ جس کے سات دروازے اور سات طبقے ہیں ہر ایک کے واسطے ان کے عمل کے مطابق یہ ساتوں طبقے جہنم کے ہیں جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے اور اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ بعض مفسروں نے ان ساتوں طبقوں کے یہ نام بتلائے ہیں اول کا نام جہنم دوسرے کا نام لظی۔ تیسرے کا نام حطمہ چوتھے کا نام سعید پانچویں کا نام سقر چھٹے کا نام جحیم ساتویں کا نام ہاویہ ہے ہر طبقہ میں ایک سے بڑھ کر ایک میں سخت عذاب کا ٹھکانا ہے۔ صحیح مسلم میں سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ کسی کے ٹخنوں تک ہوگی اور کسی کی کمر تک اور کسی کے گلے تک 1 ؎۔ آخری آیت اور اس حدیث کے ملا نے سے ہر ایک فرقے کے عمل کے موافق دوزخ کے عذاب کی تقسیم اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے معتبر سند سے ترمذی نسائی مستدرک حاکم میں حارث بن اشعری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص یاد الٰہی میں لگا رہتا ہے شیطان کا کچھ قابو اس پر نہیں چل سکتا۔ 2 ؎۔ مسند امام احمد صحیح بخاری مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص میری یاد کرتا رہے میں بھی اس کو اپنی رحمت کی یاد رکھتا ہوں 3 ؎۔ ان حدیثوں کو اور صحیح حدیثوں کو { ان عبادی لیس لک علیھم سلطان } کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تلاوت قرآن نفل نماز یا اور کلمہ کلام شرعی سے جو شخص اکثر خدا کی یاد میں لگا رہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی یاد میں رہتا ہے اس لئے شیطان کو ایسے شخص پر قابو پانے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفۃ النرد اھلہا۔ 2 ؎ الترغیب ص 271 ج 1 الترغیب فی الاکثار من ذکر اللہ الخ۔ 3 ؎ الترغیب ص 270 ج 11 الترغیب فی الاکثار من ذکر اللہ الخ۔
Ayahs 15:45–50

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع) سے داخل ہوجاؤ۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی اس کو ہم نکال (کر صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں۔

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے۔

45۔ 50۔ اللہ پاک نے دوزخ والوں کا حال بیان کر کے اہل جنت کا ذکر کیا کہ متقی لوگ جنت کے باغ اور نہروں میں ہوں گے اور صحیح وسالم وہاں رہیں گے کوئی رنج کوئی تکلیف کوئی بیماری وہاں نہیں ہوگی اور دنیا میں جنتی دو شخصوں کے درمیان شکر رنجی ہوگی وہ رنج و کدورت ان کے دلوں سے نکال دی جاوے گی اور جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوں گے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ دس صحابہ ہیں حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زید، عبد اللہ بن مسعود ؓ ان کے دلوں میں آپس میں جو کچھ دنیا میں ملال تھا وہ جنت میں بالکل نہیں رہے گا اور آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھے ہوں گے اور جنت میں کسی قسم کی مشقت وغیرہ نہ ہوگی اور نہ لوگ وہاں سے نکلیں گے بلکہ نہایت آرام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اس کے بعد حضرت صلعم کو اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بندوں کو یہ خبر دیدو کہ میں رحمت والا بھی ہوں اور میرا عذاب بھی سخت ہوا کرتا ہے تفسیر ابن ابی حاتم میں مصعب بن ثابت کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ( نبئی عبادی انی انا الغفور الرحیم۔ وان عذابی ھو العذاب الالیم) کی شان نزول یہ ہے کہ حضرت رسول خدا ﷺ اپنے چند صحابہ کی طرف ایک روز جا نکلے وہ لوگ ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا جنت اور دوزخ کو یاد کرو تو آیت اتری 2 ؎، اور قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں یوں کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر بندہ خدا کی رحمت کی قدر جانے تو کبھی گناہوں سے نہ بچے اور اگر اس کے عذاب کو جان لیوے تو اپنے کو ہلاک کر ڈالے 3 ؎، اس کے بعد کی آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے اگلے رسولوں کے قصہ کو بیان کیا تاکہ لوگ اس کی عبادت کی رغبت کریں اور گناہوں سے بچیں اور بد بختوں کا انجام سن کر اس سے عبرت پکڑیں۔ اس جگہ چار قصے بیان کئے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا لوط (علیہ السلام) کا شعیب (علیہ السلام) کا پھر صالح (علیہ السلام) کا اور پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ سے شروع کیا ہے۔ ان قصوں میں نیک فرمانبردار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے امن میں رکھا اور عذاب سے بچایا ہے۔ اور نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذاب سے ہلاک کیا ہے اس واسطے یہ قصے اللہ کی رحمت اور اس کے عذاب کی گویا تفسیر ہیں اوپر دس صحابہ کی آپس میں رنجش اور ملال ہونے کا جو ذکر گزرا یہ روایت تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے 4 ؎ ہے۔ بعضے سلف نے اس روایت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے قبائل جو آپس میں لڑتے رہتے تھے اس زمانہ کی حق العباد کے طور کی کچھ خفگی جو ان لوگوں کے دل میں ہوگی تو جنت میں جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کو آپس کی محبت سے بدل دیوے گا۔ اس قول کی تائید ابو سعید خدری ؓ کی صحیح بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا پل صراط سے اتر جانے کے بعد دوزخ اور جنت کے درمیان میں ایک پل ہے وہاں اہل جنت کو روکا جا کر ان کی آپ کی رنجش دور کردی جاوے گی 5 ؎۔ تذکرہ قرطبی میں حضرت علی ؓ کا ایک قول ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے قابل جنت لوگوں کو ایک چشمہ میں نہانے کا حکم ہوگا جس سے ان کی آپس کی رنجش دور ہوجاوے گی 6 ؎۔ یہ چشمہ اسی پل کے پاس ہے جس کا ذکر ابو سعید خدری ؓ کی اوپر کی حدیث میں ہے۔ 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جیسا کہ ابھی آتا ہے۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 552 ج 2۔ 3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 553 ج 2۔ 4 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص 1: 1 ج 4۔ 5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 552 ج 2۔ 6 ؎ مختصر تذکرۃ قرطبی ص 109۔
Ayahs 15:51–56

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنا دو ۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ ابر اہیم کے پاس آئے تو سلام کہا (انہوں نے) کہا ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

(مہمانوں نے کہا) کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

(وہ) بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کہے کی خوشخبری دیتے ہو ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہو جئے۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابر اہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے میں مایوس کیوں ہونے لگا ؟ اس سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔

51۔ 56۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول ان لوگوں کو خبر دے دو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی کہ ان مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے تم لوگوں سے ڈر لگتا ہے یہ قصہ سورت ہود میں مفصل گزر چکا ہے کہ جب خدا کے فرشتے وہاں آئے اور سلام کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور گھر سے ایک فربہ بچھڑا تل کر ان کی ضیافت کے واسطے لائے ان کے ہاتھ اس کھانے کی طرف جب نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے مہمانوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر چلے ہیں اور تمہیں اولاد کی خوشی سنانے آئے ہیں تمہارے گھر میں ایک ہوشیار لڑکا اسحاق پیدا ہوگا اور پھر تمہارا پوتا اسحاق کا بیٹا یعقوب۔ اس کے جواب میں ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ میں بوڑھا ہوں قریب قریب سو برس کی عمر آن پہنچی اور میری بیوی بھی نوے بانوے برس کی بوڑھی ہے اور بانجھ بھی ہے اس صورت میں اولاد کی کیا خوشی سناتے ہو یہ امر تو تعجبات سے ہے فرشتے بولے کہ یہ حق بات کی خوشی تم کو سنائی جارہی ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور یقینی اس کا ظہور ہوگا کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کبھی اس کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا اسے ہر طرح کی قدرت حاصل ہے اس کے نزدیک کیا دشوار ہے آپ اس خوشی سے ناامید نہ ہوں اللہ پاک نے تو اس بات پر بھی قادر ہے کہ بےماں باپ کے بھی لڑکا پیدا کر دے آپ کا عذر تو صرف بڑھاپا اور بانجھ ہوتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات سن کر جواب دیا کہ بیشک خدا کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اس کی رحمت سے تو گمراہ لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔ اس قصہ میں ایک قسم کا خوف اور اس کے ساتھ ہی خوشی بھی ہے اس لئے ذکر کیا کہ لوگ جان لیں کہ خدا کی عادت یوں ہی جاری ہے اور قصہ میں ایمان دار لوگوں کی نجات اور کفار کی ہلاکت کا ذکر ہے جس سے خداوند جل شانہ کا غفور رحیم اور اس کے عذاب کا سخت ہونا قریش کو سمجھایا گیا۔
Ayahs 15:57–62

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

پھر کہنے لگے کہ فرشتوں تمہیں (اور) کیا کام ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار (قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ اس کو عذاب کریں )

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچا لیں گے۔

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

البتہ ان کی عورت (کہ) اسکے لئے ہم نے ٹھیرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی۔

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو (لوط نے) کہا تم تو نا آشنا لوگ ہو۔

57۔ 60۔ جب فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد کی خوشی سنادی اور ان کے دل سے خوف جاتا رہا تو انہوں نے فرشتوں سے پوچھا کہ اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتوں تمہارا ارادہ کس کام کا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ فقط بشارت ہی دینے کو نہیں آئے ہیں ان کا آنا کسی اور کام کی غرض سے ہوا ہے اگر خوشی صرف سنانی تھی تو ایک آتا ابراہیم (علیہ السلام) کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے سب لوگ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوجائیں گے اسی میں لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ہلاک ہوں گی یہ دل میں منافق تھیں۔ مگر خداوند تعالیٰ جب تک ظاہر قصور نہیں دیکھتا ہے اس وقت تک کسی کو نہیں پکڑتا اس لئے فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ سب لوگ گھر میں سے باہر چلے جائیں اور پیچھے پھر کر نہ دیکھئے گا۔ لوط (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی بیوی بھی جارہی تھیں اور کسی نے تو مڑ کر نہیں دیکھا ان کی بیوی نے پیچھے پھر کر دیکھا خدا نے ان کو پکڑ لیا اور یہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہوئیں۔ سورت ہود میں گزر چکا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے دل سے خوف جاتا رہا اور انہوں نے فرشتوں سے قوم لوط کے عذاب کا حال سنا تو وہ اللہ کے فرشتوں سے جھگڑنے لگے کہ اس بستی میں لوط بھی ہیں ساری بستی پر عذاب کیوں کر آوے گا اس کا جواب اللہ کے فرشتوں نے یہ دیا ہے کہ سوائے لوط (علیہ السلام) کی بی بی کے اور سب ان کے گھر والے بچ جاویں گے۔ سورت ہود کا قصہ گویا یہاں کے قصے کی تفسیر ہے سورت توبہ کی آیت { ان ابراہیم لاواہ } (9: 114) کی تفسیر میں حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل بہت تھے صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کی نجات چاہیں گے لیکن وہ منظور 1 ؎ نہ ہوگی۔ اس حدیث سے حسن بصری اور قتادہ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے اور آخری آیت کی تفسیر کا حاصل یہ ٹھہرتا ہے کہ نرم دلی کے سبب سے ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے فرشتوں سے قوم لوط کے باب میں جھگڑا کیا اور اللہ کے فرشتوں نے یہ جواب دیا جس کا ذکر آیت میں ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 473 ج 1 باب قول اللہ عزوجل واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا الخ۔
Ayahs 15:63–64

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے کہ (نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔

63۔ 64۔ اب یہاں سے لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا فرشتے خدا کے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر یک بیک لوط (علیہ السلام) کے یہاں پہنچے وہ ان کو خوبصورت نو عمر لڑکے دیکھ کر ڈرے کہ یہ لوگ کسی اور شہر کے رہنے والے ہیں یہاں جو اس طرح آگئے ہیں بڑی قباحت کی بات ہے میری قوم کو لڑکوں سے بد فعلی کرنے کی عادت ہے جس وقت ان لوگوں کو ان نو عمر لڑکوں کے آنے کی خبر معلوم ہوگی تو فوراً یہاں آجائیں گے اور مجھ سے سخت جھگڑا ہوگا دیکھئے کیوں کر ان سے پیچھا چھوٹتا ہے اسی خیال سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان آنے والوں سے کہا کہ تم کون لوگ ہو ہم تمہیں نہیں پہچانتے ان فرشتوں نے کہا کہ ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں آپ کچھ خوف نہ کریں ہم اس قوت کی سرکوبی کے لئے آئے ہیں اب ان لوگوں کو عذاب کے آنے کا پورا یقین ہوجائے گا اور ہم جو کچھ کہتے ہیں اس میں ذرا بھر فرق نہیں ہے۔ ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ ہلاک ہوں گے۔ سورت اعراف میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط کی قوم کے لوگ حضرت لوط کو بستی سے نکال دینے کی دھمکی دیا کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ دینے کا حکم دیا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کو جس بستی سے نکال دینے کی دھ کی دیتے تھے اس بستی کا نام بھی دنیا میں باقی نہ رہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث گزر چکی 1 ؎ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے اس طرح کے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو ان کو بالکل غارت کردیتا ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک مہلت کا زمانہ رہا قوم لوط (علیہ السلام) کے لوگ طرح طرح سے جھگڑتے اور اللہ کے رسول کو بستی سے نکال دینے کی دھمکی دیتے رہے جب عذاب کا وقت آگیا تو خود ہی بستی سے ایسے نکلے کہ سیدھے جہنم کو گئے اور بستی بھی اوندھی ہوگئی۔ 1 ؎ جلد ہذا ص 205، 215، 224، 235۔ 276۔ 282۔
Ayahs 15:65–66

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جائیے۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔

65۔ 66۔ اللہ پاک یہ کلام فرشتوں کی زبان سے فرماتا ہے کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے یہ بات کہی کہ تم اپنے بال بچوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جاؤ گھر والوں کو آگے رکھو اور آپ ان کے پیچھے ہو لو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ کوئی عزیز پیچھے تو نہیں رہ گیا اور فرشتوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ دیکھنا کبھی تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے کہ قوم پر کیا عذاب ہو رہا ہے نہیں تو رستہ طے کرنے میں دیر ہوجائے گی اور طبیعت قوم کے عذاب کی طرف مشغول رہے گی پھر فرمایا کہ جہاں تم کو حکم ہوا ہے وہاں چلے جاؤ دیر نہ کرو جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک شام کو چلے جاؤ پھر فرمایا کہ اللہ نے یہ بات ٹھہرا دی ہے کہ صبح ہوتے ہی اس قوم کی جڑ بنیاد بالکل نیست و نابود ہوجائے گی لوط (علیہ السلام) معہ اپنے دونوں بیٹوں کے گھر سے نکلے ان کی بیوی بھی چلی تھیں مگر رستے میں پیچھے پھر کر دیکھا وہ اپنی قوم کے حال میں شریک ہوئیں ان کو بھی عذاب نے پکڑ لیا اور لوط (علیہ السلام) ملک شام کی طرف چل نکلے خدا نے زمین کو لپیٹ دیا آپ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ کی جو حدیث اوپر گزر چکی ہے وہی حدیث ان آیتوں کی بھی تفسیر ہے مطلب اس تفسیر کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔
Ayahs 15:67–72

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے۔

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا۔

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور خدا سے ڈرو اور میری بےآبروئی نہ کیئجو۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا ؟

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے۔

67۔ 72۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کو خوبصورت چودہ پندرہ برس کے کم سن دیکھ کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا برا خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے در پے ہورہے ہو۔ ان کی قوم نے جواب دیا کیا ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو ساری دنیا سے تمہیں کیا سرو کار سورت ہود میں ترتیب کے ساتھ یہ قصہ بیان ہوچکا ہے یہاں قصے میں ترتیب نہیں ہے سورت ہود میں لوط (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ یہ مہمان دراصل فرشتے ہیں جب قوم نے بےحد اصرار کیا اور کوئی بات نہ مانی تو فرشتوں نے کہا تھا کہ تم اپنے دل میں رنجیدہ نہ ہو یہ ہمارا کیا کرسکتے ہیں ہم آدمی نہیں ہیں خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اسی قوم کو اس کے بد افعال کی سزا دینے آئے ہیں غرض کہ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بہتیرا سمجھایا یہاں تک کہا کہ تمہیں لڑکوں کے ساتھ فعل بد کے مرتکب ہونے سے شرم نہیں آتی لو یہ میری لڑکیاں حاضر ہیں ان سے نکاح کرلو خدا نے عورتوں کو مردوں کے واسطے پیدا کیا ہے ان سے نفع اٹھاؤ۔ اور لڑکوں کی رغبت چھوڑ دو لڑکوں کے ساتھ بد فعلی کرنے کی عادت سے کیوں اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہو سورت قمر میں آوے گا کہ جب ان لوگوں نے حضرت لوط کی نصیحت نہ سنی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر کا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر گھس جانے اور مہمانوں کو چھین لینے کا ارادہ کیا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ایک پر مار کر ان سب کو اندھا کردیا یہ لوگ صبح کر پھر آنے کی دھمکی دے کر وہاں سے خبر دیتا ہے کہ اے ہمارے رسول ہم تیری حیات اور عمر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی بد مستی میں بیہوش ہو رہے تھے وہ کب کسی کی سنتے مفسروں نے یہاں یہ بات بیان کی ہے کہ حضرت کی عمر کی قسم جو اللہ پاک نے کھائی ہے اس سے آپ کا مرتبہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اور کسی رسول و نبی کی حیات کی قسم اللہ تعالیٰ نے نہیں کھائی ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ کی ایک حدیث نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی جان ایسی نہیں پیدا کی جو حضرت رسول مقبول ﷺ سے بڑھ کر ہو اور اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی جان کی قسم نہیں کھائی سوائے حضرت محمد ﷺ کی جان کے 1 ؎۔ جیسا اس آیت میں مذکور ہوا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث جو اوپر گزر چکی 2 ؎ ہے، اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ تک ان لوگوں کی سرکشی کا یہ حال تھا کہ اللہ کے رسول کے گھر کا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر گھس جاتے اور مہمانوں کے چھین لینے پر مستعد تھے مہلت کا وقت گزرتے ہی آنکھوں سے اپاہج اور اسی اپاہجی کی حالت میں تھوڑی دیر کے بعد ہلاک ہوگئے اور صبح کو پھر اللہ کے رسول کے گھر پر چڑھ کر آنے اور مہمانوں کو زبردستی چھین لینے کی دھمکی جو ان لوگوں نے دی اس دھمکی کے ظہور کی تمنا ان لوگوں کے دل میں ہی رہی۔ معتبر سند سے مسند ابو یعلی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے لعمرک کی تفسیر بحیاتک فرمائی ہے 3 ؎۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عین صبح کی اذان کے وقت قوم لوط پر عذاب آیا۔ 1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 44 ج 14۔ 2 ؎ یعنی صفحہ 299 پر۔ 3 ؎ مجمع الزوائد ص 46 ج 7 تفسیر سورت الحجر۔