Ayahs 15:73–8573۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ کی حدیث ترمذی نے نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے اگرچہ ترمذی نے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث کو غریب کہا ہے 1 ؎۔ لیکن مسند بزار میں یہ حدیث انس بن مالک ؓ کی روایت 2 ؎ سے جو ہے اس کی سند معتبر ہے اور اسی مضمون کی حدیث ابن جریر نے بھی ابو سعید سے اور ثوبان ؓ سے روایت کی ہے اور حضرت انس ؓ سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے 3 ؎۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ بستی سدوم ملک شام کی طرف بو دار پانی کے چشمہ کی صورت میں آج تک باقی ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ ایماندار ہیں اس قصے سے خدا کی نشانی پہچانتے ہیں پھر بن کے رہنے والی قوم شعیب کے لوگوں کا اور جحیر کے رہنے والی قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کا قصہ مختصر طور پر ذکر فرما کر قریش کو یہ تنبیہ فرمائی کہ ایک دن قیامت ضرور آنے والی ہے تاکہ نیک و بد کی جزا و سزا ہو کر دنیا کا پیدا کیا جانا ٹھکانے سے لگے کیونکہ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے اگر ان کے پیدا کرنے میں جزا و سزا کی حکمت کا انکار کیا جاوے تو ان کا پیدا کیا جانا کھیل تماشے کے طور پر ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے سورت اعراف میں ترتیت وار پہلے ثمود کا اور پھر قوم لوط اور قوم شعیب کا قصہ تفصیل سے گزر چکا ہے یہاں یہ قصے قریش کی تنبیہ کے بلا ترتیب مختصر طور پر ذکر فرمائے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورت اعراف کے مفصل قصے ان مختصر قصوں کی گویا تفسیر میں { فمآ اغنی عنہم ما کانوا یکسبون } اس کا مطلب یہ ہے کہ کھیتی اور دودھ کے جن جانوروں کو یہ لوگ اپنی بڑی کمائی جانتے تھے اور اس کمائی کی حمایت میں انہوں نے معجزہ کی اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا آخر کو وہ کمائی ان لوگوں کے کچھ کام نہ آئی۔
بعضے مفسروں نے حکم جہاد اس آیت کو منسوخ کہا ہے لیکن یہ اوپر ہوچکا ہے کہ حسن خلق اور درگزر کی کوئی آیت حکم جہاد سے منسوخ نہیں ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی امر خلاف شریعت کو ہاتھ سے مٹانے کی طاقت جب اہل اسلام میں نہ ہو تو ایسے وقت پر زبانی وعظ و نصیحت کافی ہے 4 ؎۔ اس حدیث سے ان علماء کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ضعف اسلام کے وقت درگزر کا حکم قیامت تک باقی ہے اسی واسطے اللہ کے رسول نے ضعف اسلام کے وقت کسی امر خلاف شریعت کے ہاتھ مٹانے سے کی جگہ زبانی وعظ و نصیحت کو جائز رکھا ہے ورنہ منسوخ حکم کے موافق عمل کرنے کا آپ ہرگز حکم نہ دیتے۔ آیت کے اس ٹکڑے کا حاصل مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں کی تباہی کے قصے سنا کر ان مشرکین مکہ کی تنبیہ کردی گئی ہے اس پر بھی یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آویں تو ضعفی اسلام کے زمانے تک درگز کو کام میں لایا جاوے۔
1 ؎ جامع ترمذی ص 140 ج 2 تفسیر سورت الحجر و تفسیر ابن کثیر 555 ج 2۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 555 ج 12 والدار المنثور ص 103 ج 4۔
3 ؎ تفسیر ابن جریر ص 46۔ 47 ج 14۔
4 ؎ صحیح مسلم ص 52 ج 1 باب بیان کون النہی عن المنکر الایمان الخ۔
Ayah 15:8686۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ قیامت ضرور ہونے والی ہے خدا ہر شئے کا پیدا کرنے والا ہے اس کو قیامت کے قائم کرنے پر کامل قدرت ہے کیونکہ وہ کسی چیز کے پیدا کرنے سے نہ پہلی دفعہ عاجز تھا نہ دوسری دفعہ عاجز ہے اس کا علم بہت وسیع ہے دنیا میں کوئی چیز اس سے پنہاں نہیں ہے اپنے اس علم کے موافق وہ سب کچھ دوبارہ پیدا کرے گا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب سب کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے اس جہان کو پیدا کردیا تو جو لوگ دوبارہ پیدا کئے جانے کے منکر ہیں وہ بڑے نادان ہیں 1 ؎ اور اپنی نادانی کے سبب وہ اس باب میں خلاف عقل کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہیں کیونکہ معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جا چکا اس کا پھر دوبارہ کیا جانا کیا شکل ہے یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس سے منکرین حشر کے قائل کرنے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 13 کتاب الایمان۔
Ayahs 15:87–8887۔ 88۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے ان نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے خاص اپنے رسول برحق کو عطا کی ہیں اس لئے فرمایا کہ ” ہم نے دیں تم کو سات آیتیں وظیفہ کی اور قرآن بڑے درجہ کا عنایت کیا اکثر مفسرین نے { سبعا من المثانی } کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے سورت فاتحہ مراد ہے کیونکہ سورت فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور ہر نماز میں یہ دوہرائی جاتی ہے خواہ فرض ہو خواہ نفل اور ہر ختم قرآن میں یہ دو دفعہ پڑھی جاتی ہے ایک ابتداء میں اور پھر ختم کرنے کے بعد۔ اس کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں جن کو مفسروں نے بیان کیا ہے مثلاً اس کی آیتیں دو قسم کی ہیں خدا کی تعریف اور دعا اس لئے بندے اور اس کے رب کے درمیان میں یہ سورت ملی جلی ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں ابو سعید بن معلی ؓ کی ایک حدیث ہے جس میں ابو سعید بن معلی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک روز نماز پڑھ رہا تھا۔ آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور مجھ کو بلایا مگر میں نماز پڑھ رہا تھا اس لئے میں آپ کے پاس نہ جاسکا جب نماز سے فارغ ہو کر حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا تو میرے بلانے سے کیوں نہیں آیا کیوں رک گیا تھا ابو سعید بن معلی ؓ نے کہا کہ میں نماز پڑ رہا تھا اس لئے نہ آسکا آپ نے فرمایا کہ کیا خدا نے یہ نہیں کہا ہے کہ اے ایمان والو خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور کیا میں تجھ کو مسجد سے نکلنے کے پہلے ایک بڑے درجے کی سورت نہ بتلا دوں جب حضرت ﷺ مسجد سے باہر نکلنے لگے تو ابو سعید بن معلی نے یاد دلایا کہ آپ نے سورت بتلانے کو فرمایا تھا آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور فرمایا یہ بڑے درجے کا قرآن اور سبع مثانی ہے۔ دوسری حدیث ابوہریرہ ؓ سے بخاری میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سورت فاتحہ القرآن ہے اور سبع مثانی ہے اور بڑے درجے کا قرآن 2 ؎ ہے۔ یہ حدیثیں سورت فاتحہ کے سبع مثانی ہونے کی تفسیر ہیں مگر اور سورتوں کو بھی سبع مثانی کہا جائے یا پورے قرآن کو سبع مثانی کہا جائے تو بھی کوئی قباحت نہیں ہے چناچہ بعضے مفسروں نے سبع مثانی قرآن کی سات لمبی سورتوں کو بھی کہا ہے۔ یہ سورتیں سورت بقر سے سورت توبہ کے ختم تک ہیں کیوں کہ سورت توبہ میں بسم اللہ نہیں ہے اور ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ ہے اس لئے اکثر سلف انفال اور توبہ ان دونوں سورتوں کو علیحدہ علیحدہ سورت نہیں سمجھتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بھی اسی کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ان سات سورتوں میں سے دو سورتیں موسیٰ (علیہ السلام) کو ملی ہیں باقی اور کسی رسول کو سوائے آنحضرت ﷺ کے نہیں ملیں اور بعضے مفسر ساتوں منزلوں کو بھی سبع مثانی خیال کرتے ہیں جن لوگوں نے سات سورتوں کو سبع مثانی کہا ہے وہ مثانی ہونے کی یہ وجہ فرماتے ہیں کہ ان سورتوں میں پہلے ان سورتوں میں پہلے رسولوں کے قصے اور ان سے عبرت کا حاصل کرنا اور پچھلی قوموں پر عذاب کا بھیجنا مکرر بیان کیا ہے اور جو لوگ ساتوں منزلوں کو سبع مثانی کہتے ہیں وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ پورے قرآن میں قصے مقرر ذکر کئے گئے ہیں اور دین کے احکام امر و نہی چند مرتبہ مذکور ہوئے ہیں بہر حال اس نعمت کا بیان کر کے اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ دنیا میں جو اور لوگوں کو مال و دولت حاصل ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ شاید تمہیں اس کی رغبت ہوجائے تمہیں جو نعمت کے طور پر قرآن مجید عطا کیا گیا ہے اس کے سامنے دنیا کی دولت کیا حقیقت رکھتی ہے۔ یہ جلد فنا ہونے والی ہے اور یہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ہیں نہ لائیں تم اس کا کچھ غم نہ کرو اس لئے کہ جو لوگ علم الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ کسی طرح راہ راست پر نہ آویں گے صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دنیا کے مال و متاع میں جو شخص اپنے سے کم ہو اسے ایمان دار لوگوں تم اس کی طرف دیکھو اور جو تم سے بڑے درجے کا ہے اس کی طرف نہ دیکھو تاکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے تمہاری نظر میں وہ حقیر نہ ٹھہرے 3 ؎۔ حضرت عوف کہتے ہیں کہ میں مالدار لوگوں کے پاس بیٹھا کرتا تھا مجھے بڑا غم رہتا تھا کہ ان کے کپڑے اپنے کپڑے سے اچھا دیکھتا تھا۔ ان کے جانور میرے جانوروں سے موٹے تازے نظر آتے تھے جب میں نے یہ حدیث سنی تو غریبوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے لگا اس وقت سے میں نہایت آرام میں ہوں پھر اللہ پاک نے حضرت کو یہ حکم دیا کہ ایمان والوں سے تواضع کے ساتھ پیش آؤ اور ان کی دلجوئی کرتے رہو۔ آیتوں اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اہل اسلام کو دین کی نعمت کے طور پر قرآن جو عطا کیا گیا ہے اس کے سامنے تمام دنیا کی کچھ حقیقت نہیں کیونکہ قرآن کی نصیحت پر عمل کرنے والوں کو عقبیٰ میں جو جنت ملنے والی ہے اس کی تھوڑی سی جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے چناچہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جتنی جگہ میں سوار اپنا کوڑا رکھ دیتا ہے جنت کی اتنی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے 4 ؎۔ لیکن اہل ایمان و قرآن کو دنیا میں گزر کے قابل جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس کی ناشکری کی نوبت بھی اس طرح نہ آوے گی کہ ہر ایماندار شخص ہمیشہ ایسے آدمی پر نظر ڈالا کرے جو اس شخص سے زیادہ تنگدست ہے کیونکہ تنگدست آدمی پر نظر ڈالنے سے اس کو اپنی تھوڑی سی خوشحالی بھی بڑی نعمت نظر آوے گی نافرمان مالداروں سے بےپروائی کرنے کے حکم کے بعد آخر میں تنگ دست ایمان داروں کی دلجوئی کا حکم اس لئے فرمایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے کہ اللہ تعالیٰ کو ایمان دار پسند ہے مالداری پسند نہیں عربی کے محاورے میں بازو جھکانا دلجوئی کی جگہ بولا جاتا ہے۔
1 ؎ ص 6883 ج 2 باب قولہ ولقد اتینک سیعا من المثانف والقرآن العظیم (طبع سابق میں سعید بن معلی مطبوع ہے) ۔ صحیح بخاری سے تصحیح کردی گئی۔
2 ؎ صحیح بخاری ایضاً ۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 447 باب فضل الفقراء الخ۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 495 باب صفۃ الجنتہ واھلہا۔
Ayahs 15:89–9389۔ 91۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول صلعم کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسول نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلاً جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورت النحل میں آوے گا۔{ کما انزلنا علی المقتسمین } کی تفسیر میں مفسروں کا بہت اختلاف ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول کہ یہ لوگ وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے قرآن کی طرح سے تقسیم کر ڈالی کہ بعض احکام پر اس کے ایمان لائے اور بعض سے بالکل انکار کرتے ہیں 1 ؎۔ دراصل جو باتیں قرآن مجید کی ان کی کتابوں سے ملتی جلتی ہیں ان کو مانتے ہیں اور جو باتیں ان سے مخالف ہیں ان کا انکار کرتے ہیں اور عکرمہ نے یہ بیان کیا ہے کہ یہود نے مسخرا پن سے یہ بات آپس میں مقرر کرلی تھی کہ یہ سورت قرآن کی میری ہے اور دوسرے نے یہ کہا کہ یہ سورت میری ہے غرض قرآن کی سورتوں کی تقسیم کر ڈالی تھی اور بعضوں نے یہ بیان کیا ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتابوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اس لئے ان کو مقتسمین کہا گیا بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ مقتسمین کفار قریش ہیں یہ چند آدمی تھے انہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم حج کے زمانے میں مکہ کے رستوں کو روکا کہ مسافر شخص ادھر سے گزرے اس کو محمد ﷺ کی طرف سے بہکایا جائے اور یہ کہا جائے (نعوذ باللہ من ذلک) ۔ یہ شخص مجنون ہیں ہمارے دین سے نکل گئے ہیں کوئی ان سے دھوکا نہ کھانا اور کبھی جادوگر کہتے تھے اور کبھی شاعر کہہ دیتے تھے اسی طرح کبھی قرآن کو جادو کہتے تھے کبھی پہلے لوگوں کی کہانیاں حاصل کلام یہ ہے کہ مقتسمین کے معنے بعض سلف نے تقسیم کرنے والوں کے لئے ہیں اور بعضوں نے قسم کھانے والوں کے، عربی زبان میں مقتسمین کا لفظ تقسیم کرنے والوں کے معنوں میں زیادہ مشہور ہے اور قرآن شریف میں عرب کے مشہور لفظوں میں نازل ہوا ہے اس لئے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ان ہی معنے کو پسند کیا ہے 2 ؎۔ آگے کی آیت میں آتا ہے کہ مسخرا پن کے طور پر قرآن کے ناموں کی تقسیم ٹھہرانے والے لوگ کہ ان میں سے کوئی قرآن کو جادو کہتا تھا کوئی شعر اور کوئی پہلی کہانیاں ان میں سے اکثر لوگ طرح طرح کے مرضوں سے فوراً ہلاک ہوگئے اسی واسطے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کہ تم ان باقی لوگوں کو ڈرا دو کہ اگر یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے موافق راہ راست پر نہ آویں گے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو مسخرا پن کے طور پر قرآن کے ناموں کی تقسیم ٹھہرانے والوں کا ہوا اور پھر ان سب کو اپنے عملوں کے موافق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ جن علمائے سلف نے مقتسمین کی تفسیر اہل کتاب کو قرار دیا ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کی حالت پر بھی آیت کا مضمون ہجرت کے بعد صادق آیا اور اس مکی سورت میں اہل کتاب کا ذکر شان نزول کے طور پر نہیں آسکتا کیونکہ قرآن شریف میں اہل کتاب کا ذکر مدینہ کی ہجرت کے بعد شروع ہوا ہے۔
تفسیر نیشا پوری میں شان نزول کے طور پر یہود کے ذکر کو پیشین گوئی قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان مکی آیتوں میں یہود پر جس عذاب کے آنے کا ذکر تھا اس کا ظہور ہجرت کے بعد اس طرح ہوا کہ یہود کے تین قبیلے بنی قینقاع بنی قریظہ جو مدینہ کے گردونوح میں رہتے تھے۔ ان میں سے بنی قینقاع اور بنی نضیر جلاوطن ہوئے اور بنی قریظہ کا قتل ہوا۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت جس میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اس طرح جوش میں آن کر لوگوں کو دوزخ سے ڈرایا کرتے تھے کہ آپ کی چادر کاندھے پر سے اتر کر پیروں میں آن پڑا کرتی تھی 3 ؎۔ ترمذی طبرانی اور مسند بزار کے حوالہ سے ابی برزہ ؓ اور معاذ بن جبل کی صحیح روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں 4 ؎ کہ قیامت کے دن ہر شخص سے چار باتوں کا سوال کیا جاوے گا۔ (1) تمام عمر کن کاموں میں گزاری۔ (2) جوانی میں کیا کیا (3) روپیہ پیسہ کیوں کر کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ (4) دین کی باتوں پر کیا عمل کیا ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کے ڈرانے کے حکم کی تعمیل آنحضرت ﷺ بڑی سرگرمی سے کیا کرتے تھے۔ تمام عمر کے کاموں کی جواب دہی کے وقت ان لوگوں کو بڑی دقت بھگتنی پڑے گی جن کی تمام عمر اللہ کے رسول کو جادو گر اور کلام الٰہی کو جادو گر کہنے میں گزری۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 683 ج 2 باب قولہ الذین جعلوا القرآن حضین۔
2 ؎ ابن جریر ص 63 ج 4۔
3 ؎ الترغیب ص 312 ج 2 الترغیب من العادالخ۔
4 ؎ تفسیر جلد ہذاص 289۔
Ayahs 15:94–9894۔ 98۔ اللہ پاک ان آیتوں میں حضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن پاک جو تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم لوگوں کو پہنچا اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور ان مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ مجاہد نے فاصدع بما تؤمر کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے قرآن مجید کا پکار کر پڑھنا مراد ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ پہلے چھپ کر نماز پڑھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ معہ اپنے اصحاب کے کھلم کھلا خدا کی عبادت کرنے لگے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ حضور سے مسخرا پن کرتے تھے وہ پانچ شخص تھے جو قبیلہ قریش میں رئیس شمار کئے جاتے تھے۔ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، عدسی بن قیس، اتروبن عبدالمطلب، اسود بن عبد نعوث، جب یہ لوگ شرارت اور ایذا رسانی میں حد سے گزرنے لگے تو یہ آیت اتری اور یہ لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں طرح طرح کے مرض میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئے۔ 2 ؎۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کفار خدا کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے ہیں خدا کے سوا بتوں کو پوجتے ہیں اس کا خمیازہ آخرت میں بھگتیں گے اور سارے شرک کا نتیجہ وہاں انہیں معلوم ہوجائے گا پھر اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو تسلی دی کہ ان کفار کی باتوں سے تمہیں رنج پہنچتا ہے تم ذرا بھی ان کی طرف التفات نہ کرو تم سبحان اللہ سبحان اللہ کہے جاؤ اور نماز پڑھتے رہو۔ چناچہ جب کبھی حضرت کو کوئی غم میں ڈالتی تو آپ نماز پڑھتے تھے۔ جس کا ذکر مسند امام احمد اور ابوداؤد کے حوالہ سے حذیفہ ؓ کی معتبر روایت میں ایک جگہ گزر چکا ہے 3 ؎۔ صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے اگرچہ مشرکوں کا مکہ میں بڑا زور تھا لیکن اللہ کے رسول ﷺ بلا خوف ایک ایک قبیلہ کا نام لے لے کر قرآن کے موافق لوگوں کو نصیحت کیا کرتے تھے۔ 4 ؎ اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ (فاصدع بما تومر) کی تعمیل اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کس طرح کی چستی اور بےخوفی سے فرمایا کرتے تھے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 559 ج 2۔
2 ؎ ایضاً ۔
3 ؎ تفسیر ہذا جلد اول ص 86۔
4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 350 ج 3 تفسیر سورت الشعرآء۔
Ayah 15:9999۔ آخرت کی بہت سی چیزیں مثلاً عذاب قبر حشر نامہ اعمال کا تولنا نیک عمل کا نیک آدمی کی صورت بن کر اور بد عملوں کا بد صورت بن کر قبر میں آنا پل صراط پر گزرنا جنت میں باوجود کھانے کی حاجت بشری اور نیند کا نہ ہونا ان سب چیزوں کو مرنے کے بعد ہر آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو پورا یقین ہوجاوے گا اس لئے اس آیت میں اور اس قسم کی اور آیتوں میں علما نے یقین کے معنے موت کے کئے ہیں کیونکہ بغیر موت کے آخرت کی چیزوں کو دیکھ کر یقین کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اس صورت میں شریعت کا حکم نبی ﷺ اور امت کے لئے یہ قرار پایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکیں تو بیٹھ کر اور بیٹھ کر بھی نہ ہوسکے تو لیٹ کر اشاروں سے بیماری یا سفر کے سبب سے رمضان میں روزے نہ رکھ سکیں تو جب ہو سکے قضا کے روزے رکھیں غرض جب تک جسم میں جان ہے عبادت الٰہی کا کرنا شریعت کا ایک لازمی حکم ٹھہرا ہے۔ بعضے صوفیوں نے اس حکم شریعت کی مخالف یہ جو لکھا ہے کہ یقین سے مراد معرف الٰہی ہے اور آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ جب آدمی نے خدا کو پورا پہچان لیا تو پھر اس کو عبادت کی ضرورت نہیں یہ بالکل ایک غلط معنی ہیں یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دم وفات تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تو پھر کیا ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خود نبی کو تو دم وفات تک وہ معرفت الٰہی حاصل نہیں ہوئی جس سے عبادت کی ضرورت باقی نہ رہی لیکن امت میں نبی سے بڑھ کر بعضے مشائخ ایسے ہیں جن کو دم وفات سے پہلے وہ معرفت الٰہی حاصل ہوسکتی ہے جو نبی کو حاصل نہیں ہوئی استغفر اللہ نہ کوئی ولی نبی سے بڑھ کر ہوسکتا ہے نہ کسی ولی سے عبادت شرعی اٹھ سکتی ہے رہے مجذوب بد حواس لوگ انکا شریعت اور علماء شریعت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حالت بدحواسی میں تو ایسے لوگوں سے عبادت شرعی جو ولایت کی بڑی پوری شرط ہے چھٹی ہوئی ہے اس لئے اس حالت پر تو ان کو ولی نہیں کہا جاسکتا ہاں حالت حواس میں اگر یہ لوگ شریعت کے پابند تھے یا اب جب حواس درست ہوتے ہیں تو شریعت کے پابند نظر آتے ہیں تو ایسے لوگوں کی حالت ہوش و حواس کی عبادت کو نہ شریعت معاف ٹھہراتی ہے نہ حالت افاقہ میں ان کو ولی کہنے کا شریعت کو انکار ہے لیکن جو بدحواس شخص اس حواس کے وقت بھی شریعت کا پابند نظر نہ آوے یا عمر بھر اس کے حواس ہی قائم نظر نہ آویں تو اس کا حکم شریعت میں ولی کا نہیں بلکہ دیوانہ کا ہے۔