Explained with ayahs 92–94
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ۔
حضرت موسیٰ ؑ سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پر ماریں اور اپنے بھائی ہارون کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورة اعراف کی تفیسر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدیث بھی بیان ہوچکی ہے کہ سننا دیکھنے کے مطابق نہیں۔ آپ نے اپنے بھائی اور اپنے جانشین کو ملامت کرنی شروع کی کہ اس بت پرستی کے شروع ہوتے ہی تو نے مجھے خبر کیوں نہ کی ؟ کیا جو کچھ میں تجھے کہہ گیا تھا تو بھی اس کا مخالف بن بیٹھا ؟ میں تو صاف کہہ گیا تھا کہ میری قوم میں میری جانشینی کر اصلاح کے درپے رہ اور مفسدوں کی نہ مان۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
سورة طٰهٰ 70
حکم سے مراد وہ حکم ہے جو پہاڑ پر جاتے وقت، اور اپنی جگہ حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کی سرداری سونپتے وقت حضرت موسیٰ نے دیا تھا۔ سورة اعراف میں اسے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَقَالَ مُوْسیٰ لِاَخِیْہِ ھٰرْوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُقْسِدِیْنَ ، " اور موسیٰ نے (جاتے ہوئے) اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم میری قوم میں میری جانشینی کرو اور دیکھو، اصلاح کرنا، مفسدوں کے طریقے کی پیروی نہ کرنا " (آیت 142)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
خلاصہ تفسیر
اور ان لوگوں سے ہارون ؑ نے (حضرت موسیٰ ؑ کے لوٹنے سے) پہلے بھی کہا تھا کہ اے میری قوم تم اس (گو سالہ) کے سبب گمراہی میں پھنس گئے ہو (یعنی اس کی پرستش کسی طرح درست نہیں ہو سکتی یہ کھلی گمراہی ہے) اور تمہارا رب (حقیقی) رحمان ہے (نہ کہ یہ گو سالہ) سو تم (دین کے بارے میں) میری راہ پر چلو اور (اس بات میں) میرا کہنا مانو (یعنی میرے قول و فعل کی اقتدا کرو) انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو جب تک موسیٰ ؑ واپس (ہوکر) آئیں اسی (کی عبادت) پر برابر جمے بیٹھے رہیں گے (غرض ہارون ؑ کا کہنا نہیں مانا تھا یہاں تک کہ موسیٰ ؑ بھی آگئے اور قوم سے اول خطاب کیا جو اوپر آ چکا بعد اس کے ہارون ؑ کی طرف متوجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
آیت 93-92
حضرت ہارون سے پرستش
قوم کے سرداروں سے پوچھ گچھ کے بعد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون کی طرف متوجہ ہوئے جن پر قوم کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ داری تھی۔ ان سے پوچھا کہ جب تم نے لوگوں کو گمراہی کی راہ پر جاتے دیکھا تو میری ہدایت کی پیروی کیوں نہ کی، کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کی ؟ اس حکم سے مراد جو طور پر جاتے وقت وہ حضرت ہارون اور اپنے مقرر کردہ مانیٹروں کو دے گئے تھے۔ سورة اعراف کی آیت 123 کے تحت بھی اس کا ذکر ہم کرچکے ہیں کہ انہوں نے حضرت ہارون کو ہدایت فرمای تھی کہ میرے بعد جملہ معاملات میں میری جانشینی کرنا اور قوم کے اندر جو مفسد عناصر ہیں ان سے چونے رہنا، ان کو سر اٹھانے کا موقع نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
93۔ 1 یعنی اگر انہوں نے تیری بات ماننے سے انکار کردیا تھا، تو تجھ کو فوراً میرے پیچھے کوہ طور پر آ کر مجھے بتلانا چاہیے تھا تو نے بھی میرے حکم کی پروا نہ کی۔ یعنی جانشینی کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔
Read the full tafseer →38: جب حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور پر جارہے تھے تو حضرت ہارون ؑ کو اپنا نائب بناتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا کہ : اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کے پیچھے نہ چلنا۔ یہاں اپنی اسی ہدایت کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ گمراہی میں پڑگئے تھے تو آپ کو چاہیے تھا کہ ان سے الگ ہو کر میرے پاس چلے آتے۔ اس طرح آپ مفسدوں کے ساتھی بھی نہ بنتے۔ اور میرے ذریعے ان کی اصلاح بھی کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
موسیٰ نے ہارون سے کہا ، اے ہارون ، جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ، کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ سرزنش اس بات پر ہو رہی ہے کہ کیوں آپ نے ان کو اس پرستش پر رہنے دیا کیوں نہ تم نے اس کی ممانعت کی۔ میرے صریح احکام کے مطابق کہ میرے بعد کوئی نئی بات پیدا نہ کرنا۔ نہ کسی کو کوئی نئی رسم ایجاد کرنے کی جا ازت دینا۔ اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ کرتے ہیں کہ تم نے میرے احکام نافذ کیوں نہ کئے ؟ کیا تم نے بھی میری نافرمان کی ؟
اس سے قبل قرآن نے فیصلہ دے دیا ہے کہ حضرت ہارون کا موقف کیا تھا۔ وہ بھائی کو حقیقی صورت حالات بتاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
4 یعنی تم کو اپنا خلیفہ بنا کر اور حکم کر کے گیا تھا کہ میری غیبت میں ان کی اصلاح کرنا اور مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔ پھر تم نے کیا اصلاح کی ؟ کیوں اپنے موافقین کو ساتھ لے کر ان گوسالہ پرستوں کا سختی سے مقابلہ نہ کیا ؟ اگر یہ نہ ہوسکتا تھا تو ان سے منقطع ہو کر میرے پاس کیوں نہیں چلے آئے ؟ غرض تم نے ایسی صریح گمراہی کو دیکھ کر میرے طریق کار کی پیروی کیوں نہیں کی ؟
Read the full tafseer →آیت 93 اَلَّا تَتَّبِعَنِ ط ”
اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ”جو آپ میرے پیچھے نہ آگئے“۔ یعنی آپ علیہ السلام میرے پیچھے کوہ طور پر کیوں نہ آگئے اور آکر کیوں نہ مجھے بتایا کہ وہ لوگ یوں گمراہ ہوگئے ہیں۔
اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ ”
اگرچہ عمر میں حضرت ہارون علیہ السلام بڑے تھے مگر منصب نبوت کے اعتبار سے چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رتبہ ان سے بڑا تھا اس لیے آپ علیہ السلام نے اس انداز میں حضرت ہارون علیہ السلام سے جواب طلبی کی۔
Read the full tafseer →64 موسیٰ (علیہ السلام) قوم کی طرف سے یہ عذر لنگ سن کر اسی غصہ کی حالت میں اپنے بھائی ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور جوش غضب میں ان کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے اور کہنے لگے۔ میں تمہیں اپنا نائب بنا کر گیا تھا اور یہ تاکید کی تھی کہ ان لوگوں کے حالات پر کڑی نظر رکھنا تو پھر جب تم نے انھیں شرک میں مبتلا ہوتے دیکھا تو تم نے انھیں کیوں منع نہ کیا ؟ آخر وہ کون سی بات تھی جو تمہارے آڑے آگئی تھی کہ تم نے انھیں منع بھی کیا ؟ کیا تم میری اس تاکید کو یکسر بھول گئے تھے کہ اس بگڑی ہوئیقوم پر کڑی نظر رکھنا اور ان کی اصلاح کی پوری کوشش کرتے رہنا۔
Read the full tafseer →108۔ (کہ ایسے سخت مجرموں سے پورا قطع نہ کرلیا) (آیت) ” الاتتبعن “۔ میں لا زائد ہے۔ ولا مزیدۃ (بیضاوی) (آیت) ” تتبعن “۔ کے لفظی معنی ہیں کہ ” میری پیروی کرتے “۔ مطلب یہ کہ میری راہ اختیار کرتے۔ جو میں کرتا وہی تم کرتے، بعض نے مراد مقاتلہ لیا ہے۔ ان تتبعنی فی الغضب للہ والمقاتلۃ مع من کفربہ (بیضاوی) (آیت) ” الا تتبعن “۔ یعنی رجوع کرتے اور میرے پاس طور پر چلے آتے۔ مامنعک من ان تلحقنی الی جبل الطور (بحر) ان تاتی عقبی وتلحقنی (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →الا تتبعن (اس وقت) تم کو میرے پاس چلے آنے سے کون امر مانع ہوا۔ چونکہ مانع اور داعی میں گہرا تعلق ہے جو کسی چیز سے مانع ہوتا ہے وہ اس چیز کو ترک کرنے کا داعی ہوتا ہے اس لئے بعض لوگوں کے نزدیک مَنَعَ کا (مجازاً ) معنی ہے دعیٰ یعنی کس چیز نے تم کو میرا اتباع نہ کرنے پر آمادہ کیا۔
جمہور کے نزدیک لا زائد ہے مطلب یہ ہے کہ میں نے تم کو وصیت کی تھی کہ ان لوگوں کو برابر توحید پر قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہنا اور شرک سے روکنا خواہ زبان سے ہو یا (آخر میں) اسلحہ کی قوت سے تم نے میرے حکم کی پابندی کیوں نہیں کی ‘ میرے حکم کی تعمیل کرنے سے تم کو کس چیز نے روکا۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ میرے پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(92۔ 93) غرض کہ جب حضرت موسیٰ ؑ بھی واپس آگئے تو حضرت ہارون ؑ سے فرمایا کہ جب تم ان کو گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا تو تم میرے پاس چلے آتے اور میرے حکم کی اتباع کرنے سے کون سی چیز مانع تھی، اور تم نے ان مفسدین کو قتل کیوں نہ کردیا کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی (اور حضرت موسیٰ ؑ نے غصہ میں حضرت ہارون ؑ کی داڑھی پکڑ لی)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
قَالَ يٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ۔۔ : آیت (86) سے (89) تک موسیٰ ؑ کی شدید غصے اور افسوس کے ساتھ واپسی اور قوم کو ڈانٹنے اور ان سے سوال جواب کا ذکر ہے۔ اس کے بعد دو آیات میں اس عرصے میں ہارون ؑ کی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی اور قوم کے ان کی کوئی بھی بات نہ ماننے کا ذکر ہے، جس سے مقصود ہارون ؑ کا دامن ہر کوتاہی سے پاک قرار دینا ہے۔ موسیٰ ؑ نے قوم کو بچھڑے کی عبادت کرتے دیکھا تھا، انھیں ہارون ؑ کی اصلاح کی کوشش اور نصیحت کا علم نہ تھا، اس لیے قوم کو ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ہی انھوں نے شدید غصے کی حالت میں تورات کی تختیوں کو پھینک دیا اور ہارون ؑ کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
(تفسیر 90-92) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد قال لھم ھرون من قبل یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی سے پہلے حضرت ہارون نے انہیں کہا : یقوم انما فتنتم بہ اس کے ذریعے تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اور تم اسی وجہ سے گمراہ ہوگئے ہو۔ بہٖ کی ضمیر کا مرجع بچڑھا ہے۔ وان ربکم الرحمن بیشک تمہارا ربب رحمن ہے، بچھڑا نہیں۔ فاتبعونی اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو۔ واطیعوا امری۔ اور میرے حکم کی اطاعت کرو نہ کہ سامری کے حکم کی۔ کیا یہ مطلب ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف چلنے میں میری اتباع کرو اور بچھڑے کو چھوڑو، لیکن انہوں نے نافرمانی کی۔ قالوا لن تبرح علیہ عکفین یعنی ہم بچھڑے کی عبادت پر جمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[اَلَّا تَتَّبِعَنِ : کہ تم میرے پیچھے نہ آئے ] [اَفَعَصَيْتَ : تو کیا تم نے نافرمانی کی ] [اَمْرِيْ : میرے حکم کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا
جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
66:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کا جواب اور اعتذار سنا تو اس سے مطمئن نہ ہوئے اور غصہ کی حالت میں آگے بڑھ کر حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ لیے اور فرمایا۔ اے ہارون ! جب تو نے دیکھ لیا تھا کہ وہ شرک میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوچکے ہیں۔ تو تو نے میرے احکام کی تعمیل کیوں نہ کی۔ احکام سے وہی ہدایات مراد ہیں جو وہ کوہ طور پر جانے سے پہلے ان کو دے گئے تھے۔ ان کا خیال تھا۔ شاید ہارون (علیہ السلام) نے حق تبلیغ ادا نہیں کیا اس لیے قوم گمراہ ہوگئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ جلالی طبیعت کے مالک تھے اس لیے قوم کی گمراہی دیکھ کر غضب میں آگئے۔ کان موسیٰ (علیہ السلام) حدیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
ربط آیات :
اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے اور تورات لانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کی غیرحاضری میں سامری نے سونے کا بچھڑا بناڈالا اور قوم کو شرک میں مبتلا کردیا۔ اللہ نے ان کی بےعقلی کا ذکر کیا کہ بچھڑے کے مجسمے سے کر شماتی آواز سن کر اسی پر لٹو ہوگئے اور اسے معبود تسلیم کرلیا حالانکہ وہ نہ تو کسی بات کا جواب دے سکتا تھا اور نہ کسی نفع ونقصان کا مالک تھا۔ آب آج کی آیات میں ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے قوم کو تبلیغ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر ہارون (علیہ السلام) کی سرزنش کا بیان ہے اس کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کے عذر کا ذکر بھی ہے جو انہوں نے اپنی براء ۃ میں موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →اَلَّا تَتَّبِعَنِ 0ۭ اَفَعَصَيْتَ اَمْرِيْ 93
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك
قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ،
( ت ب ع) تبعہ واتبعہ
کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے
عصا
العَصَا أصله من الواو، وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
تفسیر : اور موسیٰ سب سے آگے تنہا خدا کے پاس آئے جس پر خدا نے پوچھا وما اعجلک عن قومک یا موسیٰ اور خدا تعالیٰ کے پاس کوہ طور پر موسیٰ چالیس دن رات رہے ( سفر خروج 24۔ باب) اتنی دیر لگنے سے بنی اسرائیل نے غل مچا دیا کہ موسیٰ کہاں گئے۔ کسی نے کہا مرگئے۔ کسی نے کچھ کہا، اس میں ایک شخص نے کہ جس کا نام سامری تھا لوگوں سے کہا کہ آؤ میں تمہارا معبود دکھائوں کہ جو تمہیں مصر سے نکال لایا ہے۔ تم میرے پاس سونے کا زیور لاؤ چناچہ وہ اس کے پاس لائے اس نے اس کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنا دیا اور اس میں ایک ایسا رستہ ہوا کے آنے جانے کا رکھا کہ جس سے گائے بیل کی آواز جیسی آواز پیدا ہوتی تھی۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
قَالَ یٰـھٰرُوْنُ مَامَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا۔ اَلاَّ تَتَّبِعَنِ ط اَفَـعَصَیْتَ اَمْرِیْ ۔ قَالَ یَبْنَـؤُمَّ لاَ تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلاَ بِرَاْسِیْ ج اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَاَئِ یْلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ۔ (طٰـہٰ : 92، 93، 94)
(حضرت موسیٰ نے کہا : اے ہارون ! تمہیں کس چیز نے روکا تھا جب تم نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہورہے ہیں۔ کہ تم میری پیروی نہ کرو، کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ حضرت ہارون نے جواب دیا، اے میرے ماں جائے ! میری ڈاڑھی نہ پکڑ نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا آپ ( علیہ السلام) یہ کہیں کہ تم نے بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے جھوٹے معبود کی حقیقت بتلانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ تلخی۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم اور ان کے نمائندوں کو انتباہ کرنے کے بعد فارغ ہوئے تو انھوں نے توحید کی غیرت میں آکر اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بالوں کو کھینچتے ہوئے کہا اے ہارون ! جب یہ لوگ آپ کے سامنے شرک کر رہے تھے تو آپ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ ان کو شرک کرنے سے نہ روکے اور تجھے کون سی رکاوٹ پیش آئی کہ نیابت کرنے کی بجائے میری نافرمانی کرے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے مادر زاد بھائی ! میری داڑھی اور سر کے بال…
Read the full tafseer →93: اَلَّا تَتَّبِعَنِ (میرے پیچھے چلے آنے سے )
قراءت : مکی نے وقف وصل میں یاءؔ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الاتتبعنی اور وقف و وصل میں ابو عمرو اور نافع نے ان کی موافقت کی اور دیگر قراء نے بغیر یاء کے پڑھا ہے۔
مطلب یہ ہے تمہیں کونسی بات مانع بنی میرے پیچھے آنے سے جبکہ مانع اور داعی میں گہرا تعلق ہے جو کسی چیز سے مانع ہوتا ہے۔ اور وہ اس چیز کو ترک کرنے کا داعی ہوتا ہے۔ اسی لئے بعض لوگوں نے منع کا مجازی معنی دعٰی کیا کہ کس چیز نے تم کو میری اتباع نہ کرنے پر آمادہ کیا۔
ایک قول یہ ہے کہ لا زائدہ ہے مطلب یہ ہے کہ کونسی چیز مانع بنی میری اتباع سے جبکہ انہوں نے تیری بات کو قبول نہ کیا۔ کہ تو مجھے آملتا اور…
Read the full tafseer →93۔ الاتتبعن، ، کہ تم میری پیروی کرتے ، ، لاصلہ ہے کہ میرے حکم کی پیروی کرتے اور میرا کہنا مانتے اور آپ ان کے ساتھ قتال کرتے اور تم جانتے ہو کہ اگر میں ان کے درمیان میں ہوتا تو ان کے ساتھ قتال کرتا ان کے کفر کی وجہ سے ۔ بعض علماء نے اس کا معنی یہ بیا کیا ہے کہ تمہیں میرے پیچھے آنے اور مجھے اس واقعہ کی اطلاع دینے سے کیا مانع ہواتم نے ایسا کیوں نہیں کیا ، افعصیت امری ، کہ تم نے میرے کام کی مخالفت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
92۔ 94:۔ سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے خفگی کی باتیں کرچکے تو اسی غصہ کی حالت میں انہوں نے وہ تختیاں اپنے ہاتھ میں سے زمین پر پٹخ دیں جن تختیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کو تورات لکھ کردی تھی اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے اسی واسطے مختصر طور پر یہاں ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے چھوڑ دینے کی التجا کا ذکر فرمایا ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے چھوڑ دینے کی التجا کا ذکر فرمایا ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے پکڑنے کا ذکر نہیں فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط اس خیال سے ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →93 حضرت موسیٰ کا غصہ اور عتاب حضرت ہارون پر : سو اپنی قوم کے سرداروں سے پوچھ گچھ کے بعد حضرت موسیٰ حضرت ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا کہ " تم کو کس چیز نے روکا تھا کہ تم میری پیروی کرتے " کہ ان سے جہاد و قتال کرتے یا پھر میرے پاس کوہ طور پر چلے آتے مجھے اس کی خبر کرتے اور ان بدبختوں سے دور ہوجاتے۔ (بحر، بیضاوی، قرطبی، خازن وغیرہ) ۔ یعنی حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون سے کہا کہ آپ نے جب ان لوگوں کو دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں تو آپ ان سے جہاد و قتال کرتے۔ یا میرے پاس کوہ طور پر چلے آتے اور مجھے خبر کرتے۔ (المعارف وغیرہ) ۔ سو قوم کی گمراہی پر حضرت موسیٰ کا اس قدر غیظ و غضب اور اپنے بھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
ف 6 یا ” تو نے میرے طریقہ پر عمل کیوں نہ کیا “ اور وہ یہ کہ انہیں مارپیٹ کر درست کرتا اور شرک سے باز رکھتا۔7 حکم سے مراد وہ حکم ہے جو حضرت موسیٰ کوہ طور پر جاتے وقت حضرت ہارون کو دے گئے تھے جس کا بیان سورة اعراف میں ہے کہ اخلقنی فی قومی واضلح ولاتتبع سبیل المفسدین یعنی میری قوم میں میرا جانشین رہنا ان کی اصلاح کرتے رہنا اور فسادیوں کے راستہ کی پیروی نہ کرنا۔ (آیت 142)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(20:92:93) ما منعک الا تتبعن۔ کس بات نے تجھے منع کئے رکھا کہ تو میری پیروی نہ کرے۔ یعنی میری پیروی کرنے سے تجھے کس امر نے روکے رکھا۔ اس اسلوب بیان کی قرآن مجید میں اور بھی مثالیں ہیں۔ مثلاً ما منعک الا تسجد (7:12) تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکے رکھا۔ بعض کے نزدیک لا زائدہ ہے۔
اذ رایتہم ضلوا۔ بموضع ظرف زمان۔ جب تم نے انہیں دیکھ لیا تھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ افعصیت امری۔ کیا تو نے بھی میری نافرمانی کی۔ میرے حکم کو نہ مانا۔ معصیۃ وعصیان سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاض رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98
فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔
تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ان آیات میں سامری پر غصہ ہونے کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا :” مجھ کو وہ بات نظر آئی جو ان کو نہ آئی۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کی میں نے خاصییت دیکھی کہ جہاں وہ قدم رکھتا تھا، زمین سرسبز ہوجاتی تھی۔ پس میں نے اس مٹی کو متبرک پا کر ایک مٹھی بھر لی تھی۔ پھر میں نے اس کو ڈھلے ہوئے بچھڑے میں ڈال دیا، جس کو میں نے اپنی ہی ہوائے نفسانی سے کیا، کوئی دوسرا اس کا محرک نہ تھا “۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے کہا کہ تیرے اس جرم کی سزا یہ ہے کہ جب تک تو زندہ رہے گا جنگل میں مارا مارا پھرے گا، اور سب سے علیحدہ رہے گا۔…
Read the full tafseer →[39] سورة اعراف کی آیت 142 صفحہ 362 میں گزر چکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ پر جاتے ہوئے ہارون (علیہ السلام) سے کہہ گئے تھے کہ میرے پیچھے میری جانشینی کرنا اور لوگوں میں اصلاح کرتے رہنا اور مفسد لوگوں کے طریقے کی پیروی نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
سامری کا بچھڑا :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ…
Read the full tafseer →-93 تو تجھ کو میرے حکم کی پیروی کرنے سے کیا چیز مانع ہوئی کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ یعنی جب تو نے ان کی یہ حالت دیکھی تھی کہ یہ شرک پر مائل ہوگئے ہیں اور کفر و شرک کے شوق میں بےقابو ہوچکے ہیں تو تو نے میرے حکم کی پیروی کیوں نہ کی یعنی ان کا مقابلہ کیوں نہیں کیا۔ بعض علماء نے الایتبعن کی تفسریوں کی ہے کہ میرے پاس کیوں نہ چلا آیا۔ بہرحال ! قوم کی اس ناشائستہ حرکت پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت غضب ناک اور برہم ہوئے اور ہارون پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں چلتے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نصیحت کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
ف 2۔ یعنی اس طریق میں صواب کا احتمال نہیں، یقینا ضلالت ہے۔
3۔ نہ کہ یہ گو سالہ۔
4۔ یعنی میرے قول و فعل کی اقتداء کرو۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مزید ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ کیا آپ نے بھی حکم عدولی کی ؟ :
93۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی باتیں اور بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں ملتی ہیں جس کے باعث یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی طبیعت جلالی تھی اور غصہ زیادہ آتا تھا اور یہ فطری چیز ہے کہ جب کسی کو غصہ آئے تو کم از کم غصہ کی حالت میں بات پر پورا کنٹرول نہیں رہتا یہی بات یہاں ہوئی کہ ہارون (علیہ السلام) کو اسی غصہ کی حالت میں یہ بھی فرما دیا کہ ” کیا آپ نے بھی پسند کیا کہ میرے حکم سے باہر ہوجائیں ؟ “ حالانکہ ہارون (علیہ السلام) سے ان تیز اور تندالفاظ کے بغیر بھی بات پوچھی جاسکتی تھی لیکن ایسی باتین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
Commentary
When the Bani Isra'il were smitten with the mischief of calf-worship Sayyidna Harun (علیہ السلام) as the deputy of Sayyidna Musa (علیہ السلام) remonstrated with them but to no avail. They split into three factions. Those who remained loyal to Sayyidna Harun (علیہ السلام) and refused to be misled by Samiri and who numbered, according to Qurtubi, twelve thousand. The second faction adopted calf-worship with the reservation that if Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، on his return, forbade them they would give it up. The third faction consisted of zealots who believed that Sayyidna Musa…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
70. The“command”refers to the instructions which Prophet Moses (peace be upon him) gave to his brother Prophet Aaron (peace be upon him) when he made him his deputy in his absence when he went up to Mount Toor: After me take my place and do the right and follow not the way of the mischief-makers. (Surah Al-Aaraf, Ayat 142).
Read the full tafseer →