Ayah 20:1(تفسیر 1-8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : طہٰ ۔ اس کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت سیدنا ابوبکر ؓ نے کہا : یہ اسرار میں سے ہے ؛ غزنوی نے یہ ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عبب اس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے یا رجل (اے شخص) یہ بیہقی نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : عکل قبیلہ کی معرفت لغت ہے۔ بعض نے فرمایا : عک قبیلہ کی لغت ہے۔ کلبی نے کہا : اگر عک قبیلہ کے کسی شخص کو یارجل کہے گا تو جواب نہیں دے گا حتیٰ کہ توطہ کہے۔ طبری نے اس کے متعلق ایک شعر لکھا ہے۔
دعوت بطہ فی القتال فلم یجب فخفت علیہ ان یکون موائلا (1)
اس شعر میں موئلا کی جگہ مزایلا بھی مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا : عک قبیلہ کی لغت میں اس کا معنی ہے یا حبیبی، اے میرے حبیب !۔ یہ قول غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ قطرب نے کہا : یہ طی قبیلہ کی لغت ہے۔ یزید بن مہلہل نے کہا :
ان السفاھۃ طہ من شمائلکم لا بارک اللہ فی القوم الملاعین
عکرمہ نے بھی یہ کہا ہے کہ حبشی زبان میں یا رجل کی طرح ہے ؛ یہ قول ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اگرچہ دوسری لغات میں بھی یہ لفظ ہے لیکن یہ عربی لغت سے بھی ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، یہ عک، طی اور عکل میں یمنی لغت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اور قسم ہے۔ اس کے ساتھ قسم اٹھائی گئی ہے ؛ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کا یہ نام رکھا ہے جس طرح کے محمد نام بھی اس نے رکھا۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” میرے رب کی بارگاہ میں دس اسماء ہیں “ ان میں طہ اور یٰسین کا ذکر کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ سورت کا نام ہے اور اس کے لیے چابی ہے۔ بعض نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کلام سے اختصار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم ﷺ کو اس کے علم کے ساتھ خاص فرمایا ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ حروف مقطعات ہیں ہر لفظ ایک خاص معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : طا سے مراد شجرہ طوبیٰ ہے اور ھا سے مراد النار الھاویۃ ہے۔ عرب کسی چیز کو اس کے جز سے تعبیر کردیتے ہیں گویا جنت اور دوزخ کی قسم اٹھائی۔ سعید بن جبیر نے کہا : طا اللہ تعالیٰ کے اسم طاہر اور طلب کا اعادہ ہے اور ھا اللہ تعالیٰ کے اسم ھادی کا آغاز ہے۔ بعض نے فرمایا : طا طہارت سے ہے اور ھا ہدایت سے ہے۔ گویا نبی کریم ﷺ کو فرمایا : یا طاھراً من الذنوب یا ھادی الخلق إلی علام الغیوب (اے گناہوں سے مبرا ! اے مخلوق کی علام الغیوب کی طرف راہنمائی کرنے والے) بعض نے فرمایا : طا سے مراد طبل جنگ ہے اور ھا سے مراد ان کی ہیبت ہے جو کافروں کے دلوں میں ڈالی جاتی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے : سنلقی فی قلوب الذین کفروا الرعب (آل عمران :181) اور فرمایا : وقذف فی قلوبھم الرعب (الاحزاب 26:) بعض نے فرمایا : طا سے مراد اہل جنت کا جنت میں خوش ہونا ہے اور ھا سے مراد یہ ہے کہ دوزخی دوزخ میں ذلیل ہوں گے۔ چھٹا قول یہ ہے کہ طہ کا معنی ہے مبارک ہے اس کو جس نے ہدایت پائی یہ مجاہد اور محمد بن حنفیہ کا قول ہے۔ ساتواں قول یہ ہے کہ طہ سے مراد طاء الارض نبی کریم ﷺ نماز میں مشقت برداشت کرتے تھے حتیٰ کہ پائوں مبارک سوج جاتے تھے اور پائوں متورم ہوجاتے تھے اور اپنے قدموں کے درمیان آرام کرنے کی احتیاج محسوس ہوتی تو آپ کو کہا گیا : طاء الارض یعنی آپ تھکیں نہیں کہ آپ کو آرام کی حاجت ہو، یہ انباری نے حکایت کیا ہے۔ قاضی عیاض نے ” الشفائ “ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ربیع بن انس نے کہا : نبی کریم ﷺ جب نماز پڑھتے تو ایک پائوں پر کھڑے ہوتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے طہ نازل فرمایا۔ یعنی اے محمد ﷺ زمین پر دوسروں پائوں بھی رکھو۔ ما انزلنا علیک القران لتشقی، زمخشری نے کہا : حسن سے مروی ہے طہ اور اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ الوطاء سے امر کا صیغہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نماز تہجد میں ایک پائوں پر کھڑے ہوتے تھے تو آپ کو حکم دیا گیا کہ دونوں پائوں اکٹھے زمین پر رکھو یہ اصل میں طا تھا ہمزہ کوہ سے بدل دیا گیا جیسا کہ یطا میں الف سے بدل دیا گیا۔ یہ اس کے بارے میں ہے جس نے کہا : لاھناک المرتع پھر اسپر یہ امر بنایا گیا اور ھاء سکت کے لیے ہے۔ مجاہد نے کہا : نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رات کے وقت قیام کے لمبا ہونے کی وجہ سے نماز میں اپنے سینوں میں رسیاں باندھتے تھے پھر فرضی نماز کے ساتھ اس کو منسوخ کردیا گیا، پس یہ آیت نازل ہوئی۔ کلبی نے کہا : جب نبی کریم ﷺ پر مکہ میں وحی نازل ہوئی تو آپ نے عبادت میں بہت زیادہ کوشش کی اور عبادت میں شدت کی اور ساری رات قیام فرماتے تھے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے نفس پر تخفیف کرنے کا حکم دیا پھر آپ نماز بھی پڑھتے تھے اور آرام بھی کرتے تھے۔ پھر اس آیت نے رات کے قیام کو منسوخ کردیا اس آیت کے بعد آپ نوافل بھی پڑھتے تھے اور سوتے بھی تھے۔ مقاتل اور ضحاک نے کہا : جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کفار قریش کہتے : یہ محمد ﷺ پر قرآن اس لیے نازل ہوا ہے تاکہ آپ کو مشقت میں ڈالے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ فرمایا : طہٰ ۔ ما انزلنا علیک القران لتشقی۔ یعنی ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ تھکیں، جیسا کہ آئے گا۔ اس بناء پر طہ اصل میں طاھا ہوگا یعنی طا الارض ضمیر کا مرجع الارض ہوگا یعنی اپنی نمازوں میں اپنے دونوں پائوں زمین پر رکھو۔ ہمزہ میں تخفیف کی گئی اور وہ الف ساکن ہوگا۔ ایک جماعت نے طہ پڑھا ہے۔ اس کی اصل طا ہے اس کا معنی طا الارض ہے۔ ہمزہ کو حذف کیا گیا اور ھاء السکت داخل کی گئی۔ زربن جیش نے کہا : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود پر طہ پڑھا تو حضرت عبداللہ نے اسے فرمایا : طہ ہے۔ فرمایا : اے ابو عبدالرحمن ! کیا یہ حکم نہیں دیا گیا کہ زمین کو اپنے دونوں پائوں کے ساتھ روندو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : طہ، مجھے نبی پاک ﷺ نے اسی طرح پڑھایا تھا۔ ابو عمر، ابو اسحاق نے ھا کے امالہ کے ساتھ پڑھا ہے اور طا کو فتحہ دیا ہے۔ ابوبکر، حمزہ، کسائی اور اعمش نے دونوں میں امالہ کیا ہے۔ ابو جعفر، شیبہ اور نافع نے دونوں کو دونوں لفظوں کے بین بین پڑھا ہے۔ ابو عبیدہ نے اس کو اختیار کیا ہے اور باقی قراء نے تضخیم کے ساتھ پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام لغات صحیح اور فصیح ہیں۔ نحاس نے کہا : اکثر اہل عرب کے نزدیک دو وجوہ کی بنا پر امالہ کی کوئی وجہ نہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یہاں نہ یا ہے اور نہ کسرہ تاکہ امالہ ہوتا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ طا ان حروف میں سے ہے جو امالہ کے مانع ہیں۔ یہ دونوں علتیں واضح ہیں۔
Ayah 20:2اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما انزلنا علیک القران لتشقی۔ یہ مانزل علیک القرآن لتشقی بھی پڑھا گیا ہے۔ نحاس نے کہا : بعض نحویوں نے کہا یہ لام نفی ہے۔ بعض نے کہا : لام جمہود ہے۔ ابو جعفر نے کہا : میں نے ابوالحسن بن کیسان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لام جارہ ہے اس کا معنی ہے۔ ما انزلنا علیک القرآن للشقائ، الشقاء مد اور قصر کے ساتھ ہے یہ وادی ہے، الشقاء کا لغوی معنی تھکن اور مشقت ہے یعنی آپ کی مشقت کے لیے تو ہم نے آپ پر قرآن نازل نہیں کیا۔ شاعر نے کہا :
ذوالعقل یشقی فی النعیم بعقلہ واخو الجھالۃ فی الشقاوۃ ینعم
پس لتشقی کا معنی ہے تاکہ آپ تھکیں ان پر فرط تاسف کی بنا پر کہ وہ ایمان لے آئیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلعلک باخع نفسک علی اثارھم (الکہف :6)
یعنی آپ کے ذمہ صرف تبلیغ کرنا اور نصیحت کرنا ہے اور ان کا ایمان لانا آپ پر فرض نہیں کیا گیا اس کے بعد کہ آپ نے رسالت اور موعظ حسنہ کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ کی۔ روایت ہے کہ ابوجہل (لعنۃ اللہ علیہ) اور نضر بن حارث نبی کریم ﷺ کو کہا کہ آپ شقی ہیں کیونکہ آپ نے اپنے آباء کا دین ترک کردیا ہے پس اس کا رد کیا گیا ہے کہ دین اسلام اور یہ قرآن تو ہر کامیابی کا زینہ ہے اور ہر سعادت کے حصول کا سبب ہے اور جس نظریہ پر کفار ہیں وہ نری شقاوت ہے۔ مذکورہ اقوال کی بنا پر کہ آپ ﷺ رات کو نوافل پڑھتے تھے حتیٰ کہ آپ کے پائوں مبارک سوج جاتے تھے۔ جبریل نے کہا : حضور ! اپنے نفس پر شفقت کریں بیشک اس کا بھی آپ پر حق ہے یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل نہیں کیا تاکہ آپ کا نفس عبادت میں تھک جائے اور تکلیف و مشقت میں آپ اسے مبتلا کریں آپ کو تو آسان شریعت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔
Ayah 20:3اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا تذکرۃ لمن یخشی۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : یہ تشقی سے بدل ہے یعنی ما انزلناہ الا تذکرۃ اور نحاس نے کہا : یہ وجہ بہت بعید ہے۔ ابو علی نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ تذکرۃ، شقاء نہیں ہے۔ یہ مصدر کی بناء پر منصوب ہے یعنی انزلنا لتذکربہ تذکرۃ یا مفعولہ لا جلہ کی بنا پر منصوب ہے یعنی ما انزلنا علیک القران لتشقی۔ ما انزلناہ الا للتذکرۃ۔ حسین بن فضل نے کہا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے، یعنی ما انزلنا علیک القرآن الا تذکرۃ لمن یخشی ولئلا تشقی اور تنزیلا مصدر ہے یعنی نزلناہ تنزیلا، بعض نے فرمایا : یہ تذکرۃ کے قول سے ببدلل ہے۔ ابو حیوہ شامی نے تنزیل مرفوع پڑھا ہے۔ اس معنی کی بناء پر ھذا تنزیل۔
Ayahs 20:4–5اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ممن خلق الارض والسموت العلی۔ ، العلاء سے مراد بلند وبالا ہے۔ یہ العلیا کی جمع ہے جیسے کبریٰ و صغریٰ ، کبر، صغر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں اپنی عظمت و جبروت اور جلال کی خبر دی ہے۔ پھر فرمایا : الرحمن علی العرش استوی اس پر مدح کی بنا پر نصب جائز ہے۔ ابو اسحاق نے کہا : بدل کی بنا پر جر ہے۔ سعید بن مسعدہ نے کہا : رفع ھوالرحمن کے معنی کی بنا پر ہے۔ نحاس نے کہا : رفع مبتداء کی حیثیت سے ہے اور اس کی خبر لہ مافی السموت وما فی الارض ہے۔ پس استویٰ پر وقف نہ ہوگا تور خلق میں جو ضمیر مضمر ہے اس سے بدل کی بنا پر مرفوع ہو تو اس صورت میں استویٰ پر وقف جائز ہوگا اسی طرح جب مبتدا مخذوف کی خبر کی بنا پر مرفوع ہوگا تو العلاء پر وقف نہ ہوگا۔ الاستوی کے معنی پر گفتگو سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ شیخ ابوالحسن وغیرہ کا نظریہ یہ ہے کہ وہ بغیر حد وکیف کے اپنے عرش پر مستوی ہے جیسا کہ مخلوق کا استوا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عبب اس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پیدا کیا جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اور جو کچھ قیامت کے بعد ہونا ہے۔
Ayah 20:6اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لہ ما فی السموت وما فی الارض وما بینھما وما تحت الثری۔ تحت الثری سے مراد یہ ہے کہ اس چٹان کے نیچے جو کچھ ہے جس کے نیچے والی چیزوں کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ محمد بن کعب نے کہا : اس سے مراد ساتویں زمین ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زمین مچھلی پر ہے اور مچھلی پانی پر ہے اور اس مچھلی کی دونوں طرفیں سر اور دم عرش کے نیچے ملتی ہیں اور سمندر سبز چٹان پر ہے اور آسمان کا سبزہ اس وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس کے متعلق ارشاد ہے : فتکن فی صخرۃ او فی السموت او فی الارض (لقمان :16) اور وہ چٹان بیل کے سینگ پر ہے اور وہ بیل الثریٰ پر ہے۔ اور ثریٰ کے نیچے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہب بن منبہ نے کہا : سطح زمین پر سات سمندر ہیں اور زمینیں سات ہیں اور ہر دو زمینوں کے درمیان ایک سمندر ہے اور نیچے والا سمندر جہنم کے کنارے سے ملا ہوا ہے۔ اگر سمندر کی بڑائی، پانی کی کثرت اور اس کی ٹھنڈک نہ ہوتی تو جہنم ہر اس چیز کو جلا دیتی جو کچھ اس کے اوپر ہے۔ فرمایا : جہنم ہوا کے متن پر ہے اور ہوا کا متن تاریکی کے پردے پر ہے اس کی موٹائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ حجاب الثریٰ پر ہے اور الثریٰ تک خلائق کے علم کی انتہا ہوتی ہے۔
Ayah 20:7اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان تجھر بالقول فانہ یعلم السر واخفی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : السرا سے کہتے ہیں جو انسان آہستہ طور پر بیان کرتا ہے اور اخفی سے مراد وہ ہے جو انسان دل میں چھپائے ہوئے ہوتا ہے اور اسے دوسرے کے سامنے بیان نہیں کرتا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ السر سے مراد دل کی بات ہے اور اخفی سے مراد وہ ہے جسے تیرا نفس بیان کرتا ہے جو ابھی موجود نہیں ہے جبکہ وہ بعد میں ہوگا اور تو اسے جانتا ہے تو اپنے نفس سے آج بیان کرتا ہے اور کل کے متعلق جو بیان کرتا ہے اسے تو نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے جو تو آج آہستہ سے سوچتا ہے اور جو توکل سوچے گا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رازوں اور بھیدوں کو جانتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : السر سے مراد وہ ہے جو ابن آدم اپنے دل میں آہستہ سے کہتا ہے اور اخفیٰ سے مرادوہ ہے جو ابن آدم پر مخفی ہوتا ہے جو ہونے والا ہوتا ہے لیکن انسان اسے نہیں جانتا۔ اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ماضی اور مستقبل کے بارے میں برابر ہے اس کے علم میں تمام مخلوق ایک نفس کی طرح ہے۔ قتادہ وغیرہ نے کہا : السر سے مراد وہ ہے جو انسان اپنے نفس میں چھپائے ہوئئے ہوتا ہے اور اخفی وہ ہوتا ہے جو نہ ہوتا ہے اور نہ اسے کوئی چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔ ابن زید نے کہا : السر سے مراد خلائق کے راز ہیں اور اخفی سے مراد اللہ تعالیٰ کا راز ہے۔ طبری نے اس کا انکار کیا ہے (1) فرمایا : اخفی وہ ہے جو انسان کے راز میں نہیں ہیں وہ آئندہ اس کے نفس میں آئے گا جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔
Ayah 20:8اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ لا الہ الا ھوط لہ الاسمآء الحسنیٰ ۔ اللہ اسم جلالت پر رفع مبتداء کی حیثیت سے ہے یا مبتداء کے اضمار کی وجہ سے ہے یا یعلم میں جو ضمیر ہے اس سے بدل کی بنا پر ہے۔ اس نے اپنی توحید خود بیان فرمائی ہے یہ اس طرح ہے کہ نبی پاک ﷺ نے مشرکین کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف دعوت دی تو انہیں یہ گراں گزری۔ ابوجہل نے آپ ﷺ کو الرحمن کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو اس نے ولید بن مغیرہ کو کہا : محمد ﷺ ہمیں تو اللہ کے ساتھ دوسرے خدا کو پکارنے سے منع کرتا ہے اور خود وہ اللہ تعالیٰ اور الرحمن کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا : الرحمن علی العرش استوی اور یہ نازل فرمایا : قل ادعو اللہ اوادعوا الرحمن ایاماً تدعوا فلہ الاسمآء الحسنیٰ (بنی اسرائیل :110) اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کے اسماء کثیر ہیں۔ پھر فرمایا : اللہ الا الہ الا ھو لہ الاسمآء الحسنیٰ ۔ (سورۃ الاعراف میں اسماء حسیي پر تنبیہ گزر چکی ہے)
Ayahs 20:9–10(تفسیر 9 ۔ 16) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھل اتک حدیث موسیٰ ۔ اہل معانی نے کہا : یہ استفہام اثبات و ایجاد ہے اس کا معنی ہے الیس قدأتاک ؟ کیا تیرے پاس نہیں آئی موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع ؟ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے قدأتاک (آچکی ہے تیرے پاس) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کلی نے کہا : اس کا معنی ابھی تک موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع نہیں آئی۔ پھر اس کے متعلق خود خبر دی۔ اذ راناراً فقال لا ھلہ امکثوا انی انست ناراً لعلی اتیکم منھا بقیس او اجد علی النار ھدی۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا : یہ اس وقت ہوا جب آپ کی خدمت کرنے کی مدت پوری ہوئی اور آپ اپنی اہلیہ کو لے کر چلے۔ آپ مدین سے مصر کی طرف آرہے تھے اور آپ راستہ بھول گئے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک غیور شخص تھے رات کے وقت لوگوں کے ساتھ چلے تھے اور دن کے وقت غیرت کی وجہ سے جدا ہوجاتے تھے تاکہ لوگ آپ کی زوجہ کو نہ دیکھیں پس آپ ساتھیوں سے جدا ہو کر راستہ بھول گئے ؛ کیونکہ علم الٰہی میں ایسا فیصلہ ہوچکا تھا رات تاریک تھی۔ مقاتل نے کہا : جمعہ کی رات تھی سردیوں کا موسم تھا۔ وہب بن منبہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اپنی والدہ کی طرف واپس جانے کی اجازت طلب کی تو انہیں اجازت دی گئی۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے گھر والوں اور اپنی بکریوں کے ساتھ چل پڑے۔ ٹھنڈی رات میں راستہ میں آپ کا بچہ پیدا ہوا جبکہ آپ راستہ سے ہٹ چکے تھے اور ان کی بکریاں بھی بکھر چکی تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ جلائی لیکن آگ نہ جلی پس آپ نے راستہ کی بائیں جانب دور سے آگ دیکھی تو آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب آپ آگ کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے عناب کے درخت میں آگ دیکھی اس روشنی کی خوبصورتی سے تعجب کرتے ہوئے آپ ٹھہر گئے اس درخت کے سبزہ کی شدت اتنی تھی کہ آگ کی گرمی کی شدت اس درخت کی سبزی کے حسن کو تبدیل نہ کرسکے اور درخت کے پانی کی کثرت اور سبزہ کی شادابی نے آگ کی روشنی کے حسن کو تبدیل نہیں کیا تھا ؛ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کو دیکھا، جیسا کہ روایت میں ہے : ” یہ علیق (وہ گھاس جو درخت پر لپٹتی ہے اور اس کا پھل شہتوت کی طرح ہوتا ہے) ( کا درخت تھا آپ نے اس کا قصد کیا تو وہ آپ سے پیچھے ہوگیا پس آپ لوٹ آئے اور اپنے اندر خوف محسوس کیا پھر وہ درخت قریب ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس درخت سے کلام فرمائی “ ماوردی نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک آگ تھی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک نور تھا (1) حمزہ نے لاھلہ امکثوا، ھاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، اسی طرح سورة القصص میں پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ اس کی لغت پر ہے جس نے کہا : موررت بھویا رجل، وہ اصل پر لایا یہ جائز ہے مگر حمزہ نے دونوں جگہ اس اصل کی مخالفت کی۔ امکثوا فرمایا اقیموا، نہیں فرمایا کیونکہ اقامۃ دوام کا تقاضا کرتا ہے۔ المکث ایسا نہیں ہے۔ آنست کا معنی ہے ابصرت ؛ یہ ابن اعرابی کا قول ہے ؛ اسی سے یہ ارشاد ہے : فان انستم منھم رشدا (النسائ :6)
آنست الصوت میں نے آواز کو سنا۔ القبس آگ کا شعلہ، اسی طرح المقب اس ہے۔ کہا جاتا ہے : قبست منہ ناراا، واقتبست منہ علماا، یعنی میں نے اس سے استفادہ کیا۔ یزیدی نے کہا : اقبست الرجل علما وقبستہ ناراً میں نے اس سے علم حاصل کیا اور میں نے اس سے آگ حاصل کی۔ اگر تو اس کے لیے آگ طلب کرے تو تو کہے گا : اقبستہ کسائی نے کہا : اقبستہ ناراً وعلماا برابر ہے۔ قبستہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ھدی سے مراد ھادیا (راہنما) ہے۔
Ayah 20:11اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما اتھا جب آپ اس آگ کے پاس آئے نودی تو درخت سے آواز دی گئی جیسا کہ سورة القصص میں ہے یعنی اس کی جہت سے آواز آئی جیسا کہ آگے آئے گا۔ یموسیٰ ۔ انی انا ربک بلاشبہ میں تیرا پروردگار ہوں۔
Ayah 20:12اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاخلع نعلیک ج انک بالواد المقدس طوی۔ اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاخلع نعلیک ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے انہوں نے نبی پاک ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” جس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السللام سے کلام فرمائی اس دن موسیٰ (علیہ السلام) پر صوف کا کمبل تھا صوف (اون) کا جبہ تھا اور صوف کی ٹوپی تھی اور صوف کی شلوار تھی اور آپ کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے کے تھے “ (2) ۔ ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید الاعرج کے طریق سے جانتے ہیں۔ حمید یہ علی کو فی کا بیٹا ہے۔ اور یہ منکر الحدیث ہے اور حمید بن قیس الاعرج المکی جو مجاہد کا ساتھی ہے وہ ثقہ ہے۔ المکۃ، چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔ عام قراء نے إنی کو ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ أی نودی فقیل لہ یا موسیٰ إنی، ابو عبیدہ نے اس کو اختیار کیا ہے۔ ابو عمرو، ابن کثیر، ابن محیصن اور حمید نے انی نداء کے اعمال کی وجہ سے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ علماء کا اختلاف ہے کہ جوتے اتارنے کے حکم کا سبب کیا تھا۔ الخلع کا معنی ہے اتارنا۔ النعل اس چیز کو کہتے ہیں جو زمین سے پائوں کو بچانے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جوتے اتارنے کا حکم اس لیے دیا کیونکہ وہ ناپاک تھے، غیر مذبوح جلد سے بنے ہوئے تھے ؛ یہ کعب، عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اللہ کی بارگاہ میں تواضع اور خشوع کا اظہار کرنے کے لیے جوتے اتارنے کا حکم دیا اسی طرح سلف صالحین کرتے ہیں جب وہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس جگہ کی تعظیم کرنے کے لیے یہ حکم دیا جیسا کہ حرم کی تعظیم کے لیے جوتوں کے ساتھ داخل نہیں ہوا جاتا عرف یہ ہے کہ بادشاہوں کی بارگاہ میں حاضری کے وقت جوتے اتارے جاتے ہیں اور انسان حد درجہ درجہ تواضع کا اظہار کرتا ہے۔ گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اسی وجہ سے یہ حکم دیا گیا اس کا کوئی اعتبار نہیں کہ وہ مردار کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے یا کسی اور چیز سے بنے ہوئے تھے۔ امام مالک (رح) مدینہ طیبہ میں سوار نہیں ہوتے تھے وہ اس مٹی کا احترام کرتے تھے جس میں نبی کریم ﷺ کا جسم اقدس موجود تھا اس معنی (تعظیم) کی بنا پر نبی کریم ﷺ نے حضرت بشیر بن خصاصیۃ کو فرمایا تھا جبکہ وہ جوتوں کے ساتھ قبور کے درمیان چل رہے تھے : ” جب تو ایسی جگہ پر ہو تو اپنے جوتے اتار دے “ (1) حضرت بشیر فرماتے ہیں : میں نے جوتے اتار دیے۔ پانچواں قول یہ ہے : یہ اہل، اولاد سے دل کو فارغ کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ کبھی اہل کو نعل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خواب کی تعبیر میں یہ اس طرح ہے جو خواب دیکھے کہ وہ جوتے پہننے والا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کی شادی ہونے والی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے نور اور ہدایت کی بساط بچھائی تھی تو رب العالمین کی بساط کو جوتوں کے ساتھ روندنا مناسب نہیں تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جوتے اتارنے کا حکم دیا گیا ہو۔ یہ ان پر پہلا فرض تھا جیسا کہ سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ کو کہا گیا : قم فانذر۔ وربک فکبر۔ وثیابک فطھر۔ والرجز فاھرجر۔ (المدثر) حقیقی مراد اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ خبر میں ہے : ” حضرت موسیٰ علیہ السللام نے جوتے اتارے اور انہیں وادی کے پیچھے پھینک دیا۔ “ ابو الاحوص نے کہا : حضرت عبداللہ، حضرت اببو موسیٰ سے ان کے گھر میں ملے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے تکبیر کہی اور حضرت ابو موسیٰ سے ان کے گھر میں ملے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے تکیر کہی اور حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبداللہ سے کہا : آگے بڑھو (اور امامت کرائو) حضرت عبداللہ نے کہا : تم آگے بڑھو تم اپنے گھر میں ہو۔ تو حضرت ابو موسیٰ آگے بڑھے اور اپنے جوڑے اتار دیے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : کیا تم وادی مقدس میں ہو (کہ تم نے جوتے اتار دیے ہیں) صحیح مسلم میں سعید بن یزید سے مروی ہے فرمایا : میں نے حضرت انس سے کہا : کیا نبی پاک ﷺ نعلین میں نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا : ہاں (2) ۔ اس حدیث کو امام نسائی نے حضرت عبداللہ بن سائب سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن اپنے جوڑے اپنی بائیں طرف رکھ دیے۔ ابو دائود نے حضرت ابو سعید کی حدیث سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی جب کہ آپ نے اپنے جوڑے اتار دیے تھے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھا تھا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو اپنے جوتے اتار دیے، جب نبی پاک ﷺ نے نماز مکمل فرمائی تو فرمایا : ” تمہیں کس چیز نے جوتے پھینکنے پر ابھارا ہے ؟ “ صحابہ نے عرض کی : ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتار دیے ہیں تو ہم نے اپنے جوتے اتار دیے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” جبریل میرے پاس آئے اور مجھے بتایا کہ ان میں غلاظت لگی ہوئی ہے “ فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے دیکھنا چاہیے جب اپنے جوتے میں کوئی غلاظت وغیرہ دیکھے تو اسے صاف کردینا چاہیے اور پھر ان میں نماز پڑھنی چاہیے “ (1) ابو محمد عبدالحق نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے کہ یہ حدیث دونوں قسم کی احادیث کو جمع کرتی ہے اور ان کے درمیان تعارض کو اٹھا دیتی ہے۔ علماء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نماز نعلین میں جائز ہے جب وہ ہر قسم کی غلاظت سے پاک ہو حتیٰ رہ بعض علماء نے فرمایا : جو توں میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : خذوازینتکم عند کل مسجد (الاعراف :31) کا یہی مفہوم ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ابراہیم نخعی نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو جوتے اتارتے ہیں : میں خواہش کرتا ہوں کہ کوئی محتاج آے اور ان کو اٹھا کرلے جائیں۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اگر تو جوتوں کو اتارے تو اپنے قدموں کے درمیان اتار کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنے قدموں کے درمیان جوتے اتارے “ (2) حضرت ابوہریرہ ؓ نے مقبری سے کہا : اپنے جوتے اپنے قدموں کے درمیان اتار دے اور ان کے ساتھ کسی مسلمان کو اذیت نہ دے۔ حضرت عبداللہ بن سائب ؓ نے روایم کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے جوتے بائیں جانھب اتارے کیونکہ آپ امام تھے۔ جب تو امام ہو یا اکیلا ہو تو ایسا کرلے اگر تو چاہے اور اگر تو صف میں مقتدی ہو تو اپنے جوتوں کے ساتھ اپنی بائئیں طرف والوں کو اذیت نہ دے اور نہ انہیں اپنے سامنے رکھ تاکہ وہ تجھے اپنی طرف مشغول رکھیں گے لیکن اپنے قدموں کے آگے رکھ۔ جبیر بن مطعم سے مروی ہے فرمایا : انسان کا اپنے قدموں کے درمیان جوتے رکھنا بدعت ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اگر جوتوں میں ایسی نجاست لگی ہوئی ہو جس کی ناپاکی پر علمائء کا اجماع ہے جیسے خون اور غلاظت مثلاً بنی آدم کا پیشاب وغیرہ تو انہیں پانی کے ساتھ دھونا ہی پاک کرے گا ؛ یہ امام شافعی اور اکثر علماء کی رائے ہے۔ اگر نجاست ایسی ہو جس میں اختلاف ہے جیسے جانوروں کا پیشاب اور ترگو بر تو اس میں اختلاف ہے کہ جوتے اور موزے کو مٹی پر رگڑنا اسے پاک کر دے گا یا نہیں۔ ہمارے نزدیک دو قول ہیں : امام اوزاعی اور ابو ثور نے بخیر کسی تفصیل کے اسی مٹی پر رگڑنے کو جائز قرار دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : جب وہ خشک ہو تو اسے کھرچ دینا اور رگڑ دینا بھی زائل کر دے گا اور جب وہ تر ہوگی تو اسے دھونا ہی زائل کرے گا سوائے پیشاب کے۔ ان کے نزدیک اس میں دھونا ہی ضروری ہوگا۔ امام شافعی نے فرمایا : ان میں سے کسی چیز کو پاک نہیں کرے گا مگر پانی۔ صحیح قول اس کا ہے جس نے کہا ہے : رگڑنا جوتے اور موزے کو پاک کر دے گا کیونکہ حضرت ابو سعید کی حدیث ہے کہ اگر نعل اور خف مردار کی جلد سے بنے ہوئے ہوں اگر وہ غیر مدببوغ ہوگی تو وہ بالا تفاق نجس (ناپاک) ہے سوائے اس قول کے جس کی طرف زہری کا رجحان ہے اور لیث کا خیال ہے جیسا کہ سورة النحل میں گزر چکا ہے اور نجاست کے زائل کرنے کا قول سورة برأت میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انک بالواد المقدس طوی۔ ، المقدس سے مراد مطہر ہے، القدس کا معنی طہارت ہے۔ الارض المقدسہ سے مراد پاک زمین ہے۔ اس کو مقدس اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں سے کافروں کو نکال دیا تھا اور مومنین کو آباد کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے بعض مقامات کو بعض پر فضیلت دی ہے جس طرح کہ بعض اوقات پر فضیلت دی ہے اسی طرح بعض حیوانوں کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے کہ جسے چاہے فضیلت دے دے۔ اس بنا پر کافروں کے نکالنے اور مومنین کے ٹھہرانے کی وجہ سے مقدس ہونے کا اعتبار نہ ہوگا دوسری وجہ بھی اس میں شریک ہے۔ طویً حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ وادی کا نام ہے (1) ۔ ضحاک نے کہا : یہ عمیق گہری، گول وادی ہے جیسے کوئی لپٹی ہوئی چیز ہوتی ہے۔ عکرمہ نے اسے طوی پڑھا ہے باقی قراء نے طوی پڑھا ہے۔ جوہری نے کہا : طوی شام میں ایک جگہ کا نام ہے۔ طا کو کسرہ اور ضمہ دیا جاتا ہے۔ منصرف اور غیر منصرف دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ جنہوں نے اسے منصرف بنایا ہے انہوں نے اسے وادی کا اسم اور اسے نکرہ بنایا ہے اور جنہوں نے اسے غیر منصرف بنایا ہے انہوں نے اسے بلدہ اور بقعہ بنایا ہے اور اسے معرفہ بنایا ہے۔ بعض نے فرمایا : طوی، طوی کی مثل ہے۔ لپٹی ہوئی چیز، انہوں نے المقدس طوی۔ کے بارے میں کہا : وہ دو مرتبہ پاک کی گئی۔ حسن نے کہا : اس میں دو مرتبہ برکت اور تقدیس رکھی گئی۔ مہدوی نے حضرت اببن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کو طوی اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وادی کو رات کے وقت طے کیا تھا۔ یہ مصدر ہے اس میں وہ عامل ہے جو اس کے لفظ سے نہیں گویا یوں کہا : انک بالوادی المقدس الذی طویتہ طوی، یعنی آپ نے اپنے چلنے کے ساتھ اس کو طے کیا۔ حسن نے کہا اس کو دو مرتبہ پاک کیا گیا۔ یہ طویتہ طوی سے مصدر بھی ہے۔
Ayah 20:13اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانا اخترتک یعنی میں نے تجھے رسالت کے لیے چن لیا۔ اہل مدینہ ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے وأنا اخترتک پڑھا ہے اور حمزہ نے انا اخترناک پڑھا ہے، دونوں کا معنی ایک ہے لیکن یہاں أنا اخترتک دو اعتبار سے اولیٰ ہے کہ ایک یہ کہ خط کے اعتبار سے یہ مناسب ہے، دوسرا یہ کہ نسق کلام کے اعتبار سے یہ اولیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یموسیٰ ۔ انی انا ربک فاخلع نعلیک، اس نسق کے اعتبار سے متکلم کا صیغہ آئے گا ؛ یہ نحاس کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاستع لما یوحیٰ ۔ اس میں ایک مسئلہ ہے۔ ابن عطیہ نے کہا (2) ۔ مجھے میرے والد صاحب نے بتایا فرمایا میں نے ابوالفضل جوہری (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا گیا : فاستمع لما یوحی تو آپ پتھر پر ٹھہر گئے اور ایک پتھر کے ساتھ ٹیک لگائی اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا اور اپنی تھوڑی اپنے سینے پر رکھی اور ٹھہر کر سننے لگے اور آپ کا لباس اون کا تھا۔
میں کہتا ہوں : حسن استماع واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مدح فرمائی فرمایا : الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہط اولئک الذین ھدھم اللہ (الزمر :18)
اور اس وصف کے خلاف کی مذمت کی ہے فرمایا : نحن اعلم بما یستمعون بہ (بنی اسرائیل :47)
حضور عقل کے ساتھ کلام کو سننے کے لیے خاموش رہنے والے کی مدد فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ادب سکھانے کے لیے اس کا حکم دیا ہے۔ فرمایا : واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون۔ (الاعراف) اور یہاں فرمایا : فاستمع لما یوحیٰ ۔ کیونکہ اس طرح اللہ کی طرف سے سمجھ ملتی ہے۔ وہب بن منبہ سے مروی ہے فرمایا : سننے کے آداب میں سے یہ ہے کہ اعضاء میں سکون ہو آنکھیں جھکی ہوئی ہوں اور توجہ سے سننا اور عقل کا حاضر ہونا اور عمل کرنے کا عزم کرنا۔ وہ استماع جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے وہ یہ ہے کہ بندہ اپنے جوارح کو روکے کسی دوسری چیز میں مشغول نہ ہو کہ اس کا دل اس سے غافل ہوجائے جسے وہ سن رہا ہے اور اپنی نگاہ کو جھکا کر رکھے اور دل کو کسی نظر آنے والی چیز سے غافل نہ کرے اور اپنے عمل کو حاضر ررکھے اور جو سن رہا ہے اس کے سوا کسی چیز کو دل میں نہ لائے۔ سمجھنے کا عزم کرے اور جو سمجھے اس پر عمل کرنے کا ارادہ کرے۔ سفیان بن عینیہ نے کہا : علم کا آغاز غور سے سننا ہے، پھر سمجھنا پھر یاد کرنا ہے، پھر عمل کرنا اور پھر آگے پھیلانا ہے جب انسان کتاب اللہ اور نبی کریم ﷺ کی سنت کو سچی نیت سے اس طرح سنتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور اس کے لیے اس کے دل میں نور پیدا کردیتا ہے۔