20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 20:1–3

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے (اے پیغمبر) قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو تکلیف اٹھائے

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

مگر4 ہم نے تو قرآن اس لئے اتارا کہ وہ ڈرنے والے کے لئے نصیحت ہو (جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ قرآن سے نصیحت لے

ف 4 یعنی آپ پر یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ اس کی تلاوت کرنے کے لئے سار ساری رات عبادت میں کھڑے رہیں اور اپنے آپ کو تھکا ماریں۔ ہوا یہ … جیسا کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب شروع شروع قرآن اترنے لگا تو رسول اللہ (ﷺ) اور صحابہ کرام قرآن پڑھنے کے خیال سے ساری ساری رات عبادت میں کھڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ مشرکین کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) پر قرآن کیا اترا، بیچارہ سخت مشقت میں پڑگیا۔ اس پر آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نہیں اتارا کہ آپ پر کوئی ایسا بار ڈالا جائے جو آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو۔ (کبیر) 5 اور جسے خدا کا ڈر نہ ہو اسے صحیح راستہ پر ڈال دینا تمہارے ذمہ نہیں ہے۔
Ayahs 20:4–5

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

(یہ قرآن) اس کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین کو اور اونچے اونچے آسمانوں کو بنایا (آسمان اور زمین بتانے کے بعد)

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ بڑے رحم والا تخت پر چڑھا

ف 6 اس آیت کا صحیح ترجمہ ہے ” اللہ تعالیٰ فرش کے اوپر بلند ہوا۔ “ کیونکہ محاورہ میں استوی علی کذا کے یعنی معنی ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مضمون کی آیات اور احادیث صحیحہ کی رو سے اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق سے الگ اور عرش معلی کے اوپر ہونے کا عقیدہ ضروری ہے مگر اس کی کیفیت سے بحث بدعت اور گمراہی ہے۔ یہی ائمہ حدیث اور سلف کا مسلک ہے۔ دیکھیے سورة اعراف آی 54
Ayahs 20:6–7

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو دونوں کے بیچ میں ہے اور جو سیلی زمین کے تلے ہے

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تو پکار کر بات کرے (تو اس کو تیرے و پکارنے کی احتیاج نہیں اور تو بھید کو جانتا ہے اور اس سے زیادہ چھپے ہوئے کو

ف 7 بھید سے مراد وہ بات ہے جو تنہائی میں چپکے سے کہی جائے اور اس سے زیادہ چھپی بات وہ ہے جو ابھی دل میں ہو اور زبان تک نہ آئی ہو۔
Ayahs 20:8–9

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی بچا خدا نہیں اس کے پیارے نام ہیں۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کیا تجھ کو موسیٰ ا قصہ نہیں پہنچا (یا تجھ کو موسیٰ کا قصہ پہنچ چکا ہے ،

ف 8 قرآن کی عظمت کے ذکر اور تبلیغ کے سلسلے میں آنحضرت کی تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے حضرت موسیٰ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی ﷺ کو ایسے ہی حالات درپیش تھے جیسے حضرت موسیٰ کو پیش آچکے تھے۔
Ayah 20:10

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب اس نے (جنگل میں رات کو اندھیرے وقت، آگ دیکھی9 تو اپنی بی بی (صفورا یا صوریا) سے کہا تم (فدا) ٹھہر جائو مجھ کو آگ دکھائی دتی ہے۔ شاید (ہو سکا تو) میں تمہارے لئے ایک چنگاری لے کر آئوں یا اگر چنگاری نہ ملے تو) اس آگ پر کوئی رستہ بتانے والا پالوں10

ف 9 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مدین میں دس سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال سمت مصر واپس آرہے تھے۔ اس سے قبل کی سرگزشت کا ذکر سورة قصص میں ہے۔10 معلوم ہوتا ہے کہ جنگل میں سخت سردی تھی اور حضرت موسیٰ راستہ بھول گئے تھے۔ سورة قصص میں ہے ” لعلکم تصطلون “ تاکہ تم آگ تاپ سکو۔ (کذافی ابن کثیر)
Ayah 20:11

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ وہاں (اس آگ پاس) آیا اس کو آواز آئی موسیٰ11

ف 11 یہ آواز ایک درخت سے آرہی تھی۔ (دیکھیے قصص آیت 30)
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں تیرا ملک ہوں تو اپنی جوتیاں اتار ڈال کیونکہ12 اس وقت تو پاکیزہ میدان میں ہے ملویٰ میں13

ف 12 غالباً اسی سے یہودیوں نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جوتی پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے فرمایا :” یہودیوں کے خلاف کرو اس لئے کہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔ (ابودائود) 13 ” طوی “ اس وادی کا نام تھا۔ (نیز دیکھیے سورة قصص :4)
Ayahs 20:13–14

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے (پیغمبری کے لئے) تجھ کو (لوگوں میں سے) چن لیا ہے تو جو حکم ہو اس کو (دل لگا کر) محنتارہ

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی سچا خدا نہیں تو میرا ہی پوجا کر اور میری ہی1 یاد کے لیء نماز درستی سے پڑھا کر

ف 1 شاہ صاحب لکھتے ہیں : حضرت موسیٰ کو بھی پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر کو بھی ” ربک فکبر “ فرمایا گیا۔ (موضح) ” فاعبدنی “ میں اگرچہ ہر قسم کی بدنی و مالی عبادت کرنے کا حکم آگیا تھا لیکن چن کہ نماز تمام عبادتوں سے زیادہ اہم ہے اس لئے اس کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا۔ (شوکانی) اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ نماز کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہ۔ نیز اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کرنے سے پہلے سو جائے یا اسے غافل ہوجائے تو جونہی یاد آئے اسے چاہیے کہ نماز پڑھ لے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” اقم الصلوۃ لذکری “ (بخاری مسلم)
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بیشک قیامت (ایک دن ضرور) آنے والی ہے میں اس کو چھپا بندہ ہوں (یعنی اس کے وقت کو اس لئے کہ ہر شخص کو اس کے کام کا بدلہ ملے2

ف 2 یعنی قیامت کے آنے کا وقت اس لئے پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ جس آزمائش کے لئے انسان کو دنیا میں بھیجا گیا ہے اس کا مدعا پورا ہو اور ہر شخص کو اپنے کئے کا ٹھیک ٹھیک بدلہ ملے گویا اس کے مخفی رکھنے کی حکمت ” مسعی کی جزا “ ہے۔ اس صورت میں ” لتجزی “ جار مجرور ” اخفیھا “ کے متعلق ہوگا نہ کہ ” اتیۃ “ کے (شوکانی)
Ayahs 20:16–17

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو اس (پر ایمان لانے) تجھ کو وہ شخص (کہیں) روک نہ دے تو (خود) اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش پر چلتا ہے پھتر تو تباہ ہوجائے

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تیرے3 داہنے ہاتھ میں یہ کیا چیز ہے۔

اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے مگر ان سے یہ سوال اس لئے کہا کہ حضرت موسیٰ لاٹھی کے لاٹھی ہونے کا اقرار کریں اور پھر اپنے رب کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں (شوکانی)
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر (چلتے وقت یا تھک جاتے وقت) ٹیکا دیتا ہوں اور اسی سے اپنی بکریوں پر (ان کے چارے کے لئے)4 پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے میں اور بھی کام لیتا ہوں۔

ف 4 جواب میں اگرچہ اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ یہ لاٹھی ہے مگر حضرت موسیٰ نے یہ لمبا جواب اس لئے دیا کہ انہیں اپنے رب سے ہم کلامی کا جو شرف حال ہوا تھا وہ اس سے زیادہ لطف لینا چاہتے تھے۔ (کذا ذکر اصحاب المعانی)
Ayahs 20:19–22

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ اس لاٹھیک و (زمین پر) ڈال دے

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

موسیٰ نے اسے ڈال دیا وہ فوراً سانپ بن کر دوڑنے لگی۔

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اے موسیٰ ) اسے پکڑ لے اور ڈر نہیں ہم ابھی اس کو اگلی صورت پر پھرگئے دیتے ہیں (تیرے ہاتھ لگاتے ہی پھر لاٹھی کی لاٹھی ہوجائے گی

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ بغل کے نیچے لیجا پھر نکال وہ سٹید5 (نورانی، بےعیب ہو کر نکلے گا یہ ایک نشانی ہے

ف 5 ایک نشانی عصا اور دوسری ” ید بیضا “ ہاتھ کے بےعیب ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اگرچہ سفید ہو کر چمکے گا مگر اس میں کوئی روگ نہ ہوگا جیسے کوڑھ کی بیماری سے ہاتھ سفید ہوجاتا ہے۔
Ayahs 20:23–24

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

(ہم نے یہ نشانیاں تجھے دیں) اس لئے کہ ہم تجھ کو اپنی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں دکھلائیں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

(اے موسیٰ اب تو) فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا ہے6

ف 6 یعنی بڑی شرارت اور سرکشی پر کمر باندھ لی ہے حتی کہ خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔
Ayah 20:25

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

مسویٰ نے عرض کیا خداوند میں جانے کو تو حاضر ہوں پر) میرا سینہ کھول دے7

ف 7 یعنی اس منصب عظیم کے بار کو اٹھانے کے لئے جس ہمت، صبر، پامردی اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے وہ میرے دل میں پیدا کر دے۔
Ayahs 20:26–27

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام (پیغمبری کا حق ادا کرنا) مجھ پر آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان8 میں جو گرہ ہے وہ کھول دے

ف 8 ضروری نہیں کہ حضرت موسیٰ کی زبان میں لکنت ہو بلکہ گرہ کھلونے سے مراد قوت گویائی کے لئے دعا کرنا ہے کہ میں فصاحت و بلاغت سے اپنا مفہوم ادا کرسکوں۔ قرآن میں زیادہ سے زیادہ یہ چیز معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی نسبت حضرت ہارون کی زبان میں فصاحت و بلاغت زیادہ پائی جاتی تھی۔
Ayahs 20:28–29

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

وہ میری بات سمجھیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھر والوں9 والوں میں سے ایک کو میرا وزیر بنا دے۔

ف 9 یعنی مددگار جو اس بار عظیم کو اٹھانے میں میرا شریک ہو۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” ایسے بڑے پیغمبر کو سمجھانے کے لئے ایک پیش کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے پیغمبر کے پیش کار حضرت ابوبکر صدیق تھے۔ ابتدا میں حضرت ابوبکر کی تبلیغ ہی سے سب لوگ مسلمان ہوئے جن کا شمار کبار صحابہ میں ہے۔ (از موضح وغیرہ)
Ayah 20:30

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

ہارون کو جو میرا10 بھائی ہے

ف 10 مفسرین کی عام روایات کے مطابق حضرت ہارون عمر میں حضرت موسیٰ سے بڑے تھے
Ayahs 20:31–35

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری پیٹھ مضبوط کر دے

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس کو میرے کام (پیغمبر) میں شریک کر دے

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

اس لئے کہ ہم دونوں مل کر) خوب تیری تعریف کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور خوب تیری یاد کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو تو (پہلے بھی ہمارا11 حال خوب جانتا تھا۔

ف 11 یعنی جب ہم بچے تھے اس وقت بھی تو نے ہماری پرورش کی اور ہمیں دشمنوں سے محفوظ رکھا اب بھی ہم پر احسان فرما اور فرعون کے شر سے محفوظ رکھ۔
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ 12 جو تو نے مانگا وہ تجھ کو مل چکا۔

ف 12 یعنی تم نے منہ مانگی مراد پا لی اور ہم نے تمہاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔
Ayahs 20:37–38

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم تو (پہلے بھی) ایک بار اور تجھ پر احسان کرچکے ہیں۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تیری ماں کو وہ بات1 بتلائی جو (آگے) بیان ہوتی ہے

ف 1 یہاں بتانے اور بیان کرنے کے لئے ” اوھینا “ (ہم نے وحی بھیجی) اور ” یوحی “ (وحی کیا جاتا ہے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وحی کے لفظ معنی اشارہ سریعہ یا دل میں کوئی بات ڈال دینے کے ہیں۔ اصطلاح میں جب یہ لفظ کسی نبی کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی فرشتہ کے ذریعے پیغام بھیجنا ہوتے ہیں اور قرآن میں دونوں معنی کے اعتبار سے وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ کی والدہ کی طرف جو وحی بھیجی گئی وہ بھی لفظی معنی کے اعتبار سے تھی یعنی خواب ہیں یا کسی خفیہ طریقہ سے ان کے دل میں بات ڈال دی گی کیونکہ اس بات پر تقریباً علما کا اتفاق ہے کہ اللہ کے جتنے نبی ہوئے ہیں مردوں میں سے ہوئے ہیں عورتوں میں سے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا گیا۔ ( سورة یوسف :109) لہٰذا حضرت موسیٰ کی والدہ نبی نہیں تھیں کہ ان کے لئے وحی کے وہ معنی مراد لئے جائیں جو کسی نبی کے لئے ہوتے ہیں۔ (کبیر)
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

وہ یہ کہ موسیٰ کو ایک صندوق میں ڈال دے پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دے (اور اللہ تعالیٰ ) کی قدرت دیکھ اور اس صندوق کو بحکم الٰہی کنارے پر دھکیل دے (وہاں ایک شخص2 جو میرا دشمن ہے اور اس کا بھی (دشمن ہے یعنی فرعون اس کو لے لے گا اور میں2 نے اے موسیٰ بچپنے ہی میں تجھ پر (یعنی تیری صورت پر) اپنی طرف سے پیار ڈال دیا تھا اور مطلب یہ تھا کہ تو میری آنکھ کے سامنے پرورش پائے

ف 2 چناچہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے وہ صندوق دریا میں ڈال دیا اور فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا۔ (راجع قصص :8) کیسے اٹھایا اور فرعون کے گھر والوں میں سے کس نے اٹھایا ؟ اس کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں اور نہ اس کا جاننا ہی کوئی ضروری ہے۔3 یعنی تمہاری صورت ایسی بنادی کہ جو کوئی تمہیں دیکھنا اس کا دل نرم ہوجاتا اور وہ تم سے محبت کرنے لگتا۔
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تیری سگی بہن و مریم تیری خبر لانے کو اجا رہی تھی وہ (آسیہ اور فرعوکن سے4) کہنے لگی میں تم کو ایسی انا بتائوں جو اس (بچے) کو اچھی طرح پالے۔ تو ہم نے تجھ کو تیری ماں5 پاس پہنچا دیا اس لئے کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ تیری جدائی کا رنج نہ کرے اور (جب تو بڑا ہوا) تو نے ایک شخص کو (گھونسا) لگا کر مار ڈالا) تجھ کو اپنی جان کے لالے پڑگئے پھر ہم نے اس غم سے تجھ کو چھوڑ دیا مومن میں تجھ کو بھگا دیا اور ہم نے تجھ کو خوب آزمایا7 پھر تو کئی برت تک دس برس تک مدین والوں میں رہا حضرت شعیب کے مکان میں آپ تولے8

ف 4 ہوا یہ کہ فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ کو اٹھا لیا لیکن جب اسے دودھ پلانے کے لئے دایائوں کا انتظام کیا گیا تو وہ کسی بھی دایہ کا دودھ پلانے کے لئے دایائوں کا انتظام کیا گیا تو وہ کسی بھی دایہ کا دودھ پینے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ جیسے فرمایا :” وحرمنا علیہ المراضع من قبل اس سے پہلے ہم نے ان پر تمام دو جھ پلانے والیوں کو حرام کردیا تھا۔ (قصص :12) اس موقع پر ان کی بہن وہاں پہنچی اور یہ منظر دیکھ کر فرعون اور اس کی بیوی حضرت آسیہ سے کہنے لگی۔5 بیچ کی تفصیل چھوڑدی گی ہے کہ فرعون کے گھر والوں نے رضامندی ظاہر کردی اور حضرت موسیٰ کی بہن گھر آئی اور اپنی والدہ کو ساتھ لے کر فرعون کے ہاں پہنچ گئی انہوں نے جونہی حضرت موسیٰ کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی حضرت موسیٰ نے دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ اپنی والدہ کے پاس پہنچ گئے۔ نظم قرآن پر غور کرنے سے یہ تفصیل خودبخود ذہن میں آجاتی ہے۔ ممکن ہے اس کے بعد حضرت موسیٰ کو اپنے گھر لے آئی ہوں تاکہ فرعون کی طرف سے بطور دایہ مامور ہو کر شاہانہ اعتزاز و اکرام کے ساتھ بچہ کی تربیت کرتی رہیں۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)6 یہ پورا قصہ سورة قصص (رکوع 5، 6) میں بیان ہوا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جوان ہونے کے بعد ایک روز حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اللہ تعالیٰ نے معاف بھی فرما دیا۔ مگر ڈرتے رہے کہ فرعون کے سپاہیوں کے ہاتھوں پکڑے نہ جائیں اللہ تعالیٰ نے اس غم و فکر سے انہیں نجات دی اور مصر سے نکال کر بدین میں پہنچا دیا جہاں ایک بزرگ کی لڑکی سے ان کا نکاح ہوا۔ پھر وہاں وہ دس سال رہے پھر اپنے بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔7 یعنی خوب اچھی طرح سے پرکھا تاکہ تمہارا خلاص نکھر کر سامنے آجائے۔ حافظ ابن کثیر نے حدیث الفتون کو بطلولہ بتایا ہے جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے (ابن کثیر)8 یعنی اب اس عمر کو پہنچ کر تم اس وقت آئے ہو جس کے متعلق میرا فیصلہ تھا کہ اس میں تمہیں اپنی ہم کلامی اور نبوت سے سرفراز کروں گا۔ ہوسکتا ہے اس حد سے مراد چالیس سال عمر ہو۔ (شوکانی)