20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 20:81–82

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

اور یہ کہہ دیا کہ) جو پاکیزہ روزی ہم نے تم کردی ہے۔ اس میں سے کھلائو یعنی حالل اور مزے دار کھانے) اور اس میں حد سے مت پڑھو۔ نہیں تو میرا غضب تم پر اترے گا اور جس پر میرا غضب اترے وہ (دوزخ میں) گر چکا

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور (یہ بھی میری صفت ہے) بیشک جو کوئی (گناہوں سے) توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے پھر راہ پر لگا رہے تو میں اس کو بہت بخشنے والا ہوں۔

ف 4 معلوم ہوا کہ بخشش کے لئے چار چیزیں شرط ہیں، ایک تو بہ یعنی شرک و کفر اور نافرمانی سے باز آجانا، دوسرے ایمان یعنی اللہ، رسول یوم آخرت اور دوسرے ایمانیات پر صدق دل سے اعتقاد رکھنا، تیسرے عمل صالح یعنی اللہ و رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا اور چوتھے راست روی یعنی مرتے دم تک ایمان اور نیک اعمال پر قائم رہنا اور یہی چیز سب سے زیادہ مشکل ہے۔ (کبیر)
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اے موسیٰ تو اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی کیوں آیا۔5

ف 5 یعنی جب حضرت موسیٰ قوم پر اپنے بھائی ہارون کو نگران مقرر کر کے توراۃ لینے طور پر آئے تو ہم نے کہا :” اے موسیٰ !……مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے جو ستر آدمی ساتھ لے کر جا رہے تھے ان کو پیچھے راستہ میں چھوڑ کر اپنے رب کی ملاقات کے شوق میں آگے بڑھ گئے اور ان سے پہلے طور پر پہنچ گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ سوال کیا۔ (فتح القدیر)
Ayahs 20:84–85

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا وہ میرے پچیھے آرہے ہیں اور ایک میں (ان سے پہلے) جلد تیرے پاس حاض رہو گیا اس لئے کہ تو خوش ہو۔

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا ہم نے تو تیرے آئے پیچھے تیری قوم کو آزما دیا بلا میں ڈال (دیا) اور سامری نے ان کو بہکا دیا۔6

ف 6 یعنی زبوروں سے بنے ہوئے ایک بچھڑے کی پوجا کرنے پر لگا دیا۔ (دیکھیے اعراف آیت 4) یہ سامری تبیلہ علج کا ایک شخص تھا جو اصل میں کرمانی تھا اور مصر پہنچ گیا تھا وہ دل میں گائے کا پجاری تھا لیکن بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان کا دم بھرتا تھا مگر صحیح یہ ہے کہ سامرہ قبیلہ سے تھا جو بنی اسرائیل کے اشراف تھے۔ (شوکانی کبیر)
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

(یہ سنتے ہی) موسیٰ (توریت لے کر غصہ سے بھرا ہوا افسوس کرتا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا کہنے لگا۔ بھائیو کیا تم سے تمہارے مالک نے توریت شریف دینے کا اچھا وعدہ نہیں کیا تھا کیا تم پر ایسی بڑی مدت گذر گئی (تم مجھ کو بھولئے اتنا زمانہ گذر گیا یا تم نے یہ چاہا کہ تمہارے مالک کا غضب پر اترے اور اس وجہ سے تم نے اپنے وعدے کا خلاف کیا جو مھ سے کیا تھا8

ف 7 اور میں اس لئے گیا تھا کہ جا کر توراۃ ل ائوں گو مجھے تیس کے بجائے چالیس دن لگ گئے۔ مگر …8 وعدہ سے مراد ان کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک آپس واپس نہ آئیں گے ہم اپنے طریقہ پر قائم رہیں گے اور ہارون کی اطاعت کرتے رہیں گے۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم نے اپنے اختیار سے تیرا وعدہ خلاف نہیں کیا بلکہ ہوا یہ کہ فرعن والوں کے زیور کے بوجھ (مصر سے بھاگتے وقت) ہم پر لاد دیئے گئے تھے (یا ہم نے اٹھا لیء تے، تو ہارون کی صلاح سے ہم نے ان کو (آگ میں) ڈال دیا اسی طرح1 سامری نے بھی ڈالا۔

ف 9 عموماً مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ زبور بنی اسرائیل کی عورتوں نے کسی تقریب کے موقع پر قطیبیوں کی عورتوں سے مستعار لئے تھے اور بعد میں واپس نہ کئے تھے بعض کہتے ہیں کہ جب فرعون اور اس کے لشکر والے سمندر میں غرق ہوگئے اور ان کی لاشیں کناروں پر تیرتی ہوئی ائٓیں تو بنی اسرائیل نے ان کے زیور اتار لئے۔ (فتح القدیر)10 تاکہ ان کے گناہ سے نجات پائیں یا سامری کے سپرد کردیئے تاکہ حضرت موسیٰ کے واپس آنے تک اس کے پاس محفوظ رہیں۔ (شوکانی) 1 یعنی اس نے بھی جو زیور اس کے پاس تھے ڈال دیئے۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر سامری نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا بنا کر ان کا2 ایک دھڑ جو (بچھڑے کی طرح) آواز کرتا تھا۔ تو (سامری اور اس کے ساتھی جو گمراہ تھے) کہے3 لگے یہی تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا خدا لیکن موسیٰ بھول گیا۔

ف 2 وہ درحقیقت زندہ نہیں تھا بلکہ اس میں کچھ سوراخ رکھے گئے تھے۔ جب ان سوراخوں میں ہوا داخل ہو تو آواز آتی۔ (دیکھیے اعراف آیت 48)3 اور وہ اسے ڈھونڈنے کے لئے طور پر چلا گیا ہے یا موسیٰ یہ بتانا بھول گیا کہ یہی تمہارا خدا ہے یا سامری اپنا دین و ایمان بھول گیا اور اس نے بچھڑے کو اپنا خدا بنا لیا۔ (شوکانی) موقع و محل کے اعتبار سے یہ تیسرے معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ والعلم عنداللہ (شوکانی)
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا ان کو یہ بھی نہیں سوجھا تھا کہ بچھڑا ان کی بات کا جواب تک نہیں دیتا اور نہ ان کے برے بھلے4 کا اختیار رکھتا ہے

ف 4 پھر یہ خدا کیونکر ہوسکتا تھا ؟
Ayahs 20:90–91

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے موسیٰ کے لوٹنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ دیا (دیکھو) بھائیو تم اس بچھڑے کی وجہ سے بلا میں پڑگئی اور تمہارا مالک تو رحمٰن ہے (پاک پروردگار) تو میری راہ پر چلو اور میرا کہا مانو۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ہم تو برابر بچھڑے (کی پوجا پر جمے رہیں گے جب تک موسلی ہمارے پاس لوٹ کر آئے5

ف 5 یعنی آ کر اس امر کا تصفیہ کرے کہ آیا ہمارا بچھڑے کی پوجا کرنا درست ہے یا غلط ؟
Ayahs 20:92–93

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ کہنے لگا ہارون کیا سبب جب تو نے دیکھا تھا وہ بہک گئے

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

تو اسی وقت میرے پاس کیوں نہ چلا آیا6 کیا تو میرے حکم کے خلاف چلا7

ف 6 یا ” تو نے میرے طریقہ پر عمل کیوں نہ کیا “ اور وہ یہ کہ انہیں مارپیٹ کر درست کرتا اور شرک سے باز رکھتا۔7 حکم سے مراد وہ حکم ہے جو حضرت موسیٰ کوہ طور پر جاتے وقت حضرت ہارون کو دے گئے تھے جس کا بیان سورة اعراف میں ہے کہ اخلقنی فی قومی واضلح ولاتتبع سبیل المفسدین یعنی میری قوم میں میرا جانشین رہنا ان کی اصلاح کرتے رہنا اور فسادیوں کے راستہ کی پیروی نہ کرنا۔ (آیت 142)
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون نے کہا میری ماں کے8 جنے میری ڈاڑھی اور سر (کے بال) نہ پکڑ میں ڈرا کہیں تو کہہ بیٹھے تو نے بنی اسرئایل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا لحاظ نے رکھا9

ف 8 جمہور مفسرین کے قول کے مطاب قحضرت موسیٰ حضرت ہارون کے سگے بھائی تھے لیکن ہارون نے شفقت کے طور پر انہیں ” اے میری ماں کے بیٹے “ کہہ کر پکارا تاکہ انہیں رحم آئے اور ان کے دل میں نرمی پیدا ہو۔ خصوصاً جبکہ ان کی والدہ جیسا کہ کہا جاتا ہے ایک باایمان خاتون تھیں۔ (شوکانی)9 بات سے مراد حضرت موسیٰ کی یہی وصیت ہے جس کا اوپر ” امری “ کے تحت ذکر ہوا، اس کا (یعنی واحد ترقب قولی) کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تو نے میری ہدایت اور واپسی کا انتظار نہ کیا۔ یہاں حضرت ہارون کا صرف اتنا جواب بیان کیا گیا ہے۔ سورة اعراف میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا ان القوم استصعفونی وکادوا یقنلوننی “ یعنی قوم نے مجھے کمزور پا کر بےبس کردیا تھا اور قریب تھا کہ مجھجے جان سے مار ڈالتے۔ (آیت :15)
Ayahs 20:95–96

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا سامری تو نے یہ کیا کیا

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

کہنے لگا میں نے وہ دیکھا جو اوروں نے نہیں دیکھا10 میں اللہ تعالیٰ کے) بھجیے ہوئے (فرشتے) کے پائوں تلے11) سے ایک (خاک کی) مٹھی اٹھا لی۔ اس کو میں نے (ڈھلے) ہوئے بچھڑے میں) ڈال دیا اور میرے جی نے جھ کو یہی صالح دی

ف 10 یعنی جبرئیل گھوڑے پر جاتے نظر آئے اور ان میں سے کسی کو دکھائی نہ دیئے۔11 یعنی ان کے گھوڑے کے پائوں تلے سے آیت کے الفاظ میں اگرچہ اس چیز کی تصریح نہیں ہے کہ ” الرسول “ سے سامری کی مراد کون تھے لیکن مفسرین سلف فرماتے ہیں کہ ان کی مراد حضرت جبرئیل سے تھی (کذا فی اروح) بعض (معتزلہ) نے اس سے مراد حضرت موسیٰ لئے ہیں یعنی سامری نے کہا ” میں نے پیغمبر کی پکھ اطاعت اختیار کی تھی مگر اب اس کو چھوڑ دیا ہے۔ “ یہ معنی تفسیر بالرای کے مترادف ہے اور سلف کے خلاف ہے۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا چل دور ہو (تیری سزا یہ ہے جب تک تو دنیا میں زندہ ہے یوں کہتا رہے گا (دیکھو مجھ کو کہیں12) چھونا نہیں اور اس کے سوا تیرے لئے (آخرت میں) ایک (عذاب کا وعدہ ہے جو تجھ پر سے ٹلنے والا نہیں اور اب اپنے خدا (بچھڑے) کو دیکھ جس کو تو براب رپوجتا رہا ہم اس کو جلا (کر خاک کردیں گے پھر اس (خاک) کو دریا میں اڑا کر بکھیر دینگے (تاکہ اس کا پتہ اور نشان بھی نہ رہے)

ف 12 یعنی یہی نہیں کہ زندگی بھر کے لئے تجھے اپنے معاشرے سے اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا بلکہ تیری سزا یہ بھی ہے کہ تو خود لوگوں کو اپنے اچھوت ہونے سے آگاہ کرے اور جہاں سے گزرے یہ کہتا ہوا گزرے دیکھو میں اچھوت ہوں مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ “ (از شوکانی)
Ayahs 20:98–101

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا سچا خدا اللہ ہے جس کے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں اس کے علم میں ہر چیز سما گئی ہے

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یوں ہم تجھ و اگلے گذرے ہوئے حال سناتے ہیں اور ہم نے تجھ کو اپنے پاس سے قرآن دیا جس میں دین کی ہر ضروری بات کا ذکر ہے )

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو لوگ اس سے یعنی قران سے منہ پھیر لیں وہ قیامت یک دن گناہوں کا بوجھا لادے ہوں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

ہمیشہ اس میں (دبے) رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بوجھا ان کو برا لگے گا

ف 1 اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ ان پر لدار رہے گا۔ یہ وعید ہے۔2 یہ اس دہشت اور سراسیمگی کی کیفیت کا ذکر ہے جس میں یہ مشرک اور کافر قیاتم کے روز مبتلا ہوں گے۔ قیامت کے دن مختلف احوال اور مقامات ہوں گے جن کا متعدد آیات میں ذکر پایا جاتا ہے اور ان ماقمات میں کفار کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ لہٰذا ان آیات میں تعارض نہیں ہے۔ (کذا فی الشور کافی)
Ayahs 20:102–103

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائے گا اور گناہگاروں (مشرکوں اور کافروں کو ہم اس دن اکٹھا کرینگے ان کی آنکھیں نیلی اور اندھ ہونگی اور منہ کالے

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں چپکے چپکے باتیں کریں گے تم (دنیا میں یا قبر میں) کچھ نہیں رہے گا مگر دس دن3 (رہے ہو مسیح کر کے تو رہے ہو)

ف 3 یعنی دہشت کے مارے وہ اپنی دنیا کی زندگی اور قبر (برزخ) کی زندگی دونوں کو بہت مختصر خیال کریں گے۔ دوسری آیت میں ہے : بشنا یوماً او بعض یوم کہ ہم ایک دن بلکہ دن کا بھی ایک حصہ رہے ہوں گے۔ ( مومنون 113) اور سورة روم میں ہے، یقیم المجرمون مالبثوا غیر ساعت مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم (موت کی حالت میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ (آیت :55) اسی مضمون کی توضیح اگلی آیت بھی کر رہی ہے بعض نے ” عسراً “ سے دس گھڑیاں بھی مراد لی ہیں۔ (شوکانی ۔ رازی) اور ان تمام اقوال سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ کسی طرح ہم عذاب سے بچ جائیں اور ہم پر گرفت نہ ہو۔ (ابن کثیر)
Ayahs 20:104–109

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم خود جانتے ہیں جو وہ اس ن باتیں کرینگے۔ جب ان میں ٹھیک جانچنے الا (یعنی عقلمند اور ہوشیار شخص کہے گا نہیں ص اس دن کہاں سے رہے بہت رہے ہو گے تو ایک دن رہے آگے بس

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور اے پیغمبر کا فرتجھ سے پوچھتے ہیں (قیامت کے دن پہاڑ کیا ہوں گے کہہ دے پہاڑوں کو میرا مالک (ریزہ ریزہ کر کے) بکھیر کر اڑا دیگا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر زمین کی پیٹر میدان کو چھوڑے گا (صاف ہموار)

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

نہ تو اس میں نیچا دیکھے گا نہ اونچا

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن وہ بلانے والے (جبرئیل یا اسرافیل آباد اور کوئی رشتے) کے پچیھے ہو لیں گے کوئی اور طرف نہیں مڑے گا۔ اور (ڈر کے مارے رحمٰن کے سامنے آوازیں بیٹھ جائیں ی گھسر مسر (یا گنگاہٹیا پائوں کی آہٹ کے سوار اور کچھ تو ٹخنے کا

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن کسی کی سفاعت کام نہ آئے گی مگر جس کو رحمٰن سفارش کرنے کی اجازت دے اور اس کی بات1 پسند کرے۔

ف 1 یا جس کے لئے (سفارش کرنے کی) رحمان اجازت دے اور اس کے لئے وہ بات سننا پسند کرے۔ نظم قرآن سے یہ دونوں معنی مفہوم ہوتے ہیں اور دونوں صحیح اور دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ( سورة مریم 87، سبا 23 زخرف 86 نجم 26)
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ (سب) جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور لوگوں کا علم2 اس کو گھیر نہیں سکتا ہے

ف 2 یعنی کسی کا علم اتنا نہیں ہے کہ اس کی ذات صفات اور معلومات کا احاطہ کرسکے۔ اس آیت کا یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب ” ب 5“ میں 22 ہ “ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے قرار دی جائے اور اگر وہ ” مابین ایدیھم وما خلفھم “ میں ” ما “ کے لئے قرار دی جائے تو مطل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو (چاہے وہ فرشتے ہوں یا خود انسان یا کوئی اور) لوگوں کے اگلے پچھلے حال کا پورا علم نہیں ہے کہ یہ جان سکیں کہ کس کے حق میں شفاعت کرنی چاہیے اور کس کے حق میں نہ کرنی چاہیے اس لئے شفاعت کو اللہ تعالیٰ کے اذن (اجازت) پر موقف رکھا گیا ہے اس میں ان لوگوں کے لئے سرزنش ہے جو فرشتوں یا انبیاء اولیا اور بزرگوں کی پرستش اس امید پر کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے۔ (شوکانی کبیر)
Ayahs 20:111–112

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) اس زندہ ہمیشہ رہنے والے (خدا) کے سامنے (سب لوگوں کے) منہ عاجز کی سے) جھلک جائیں گے اور جس نے شرک کا بوجھ اٹھایا اوہ (اس دن) خراب ہوچکا (یعنی مشرک کی مغفرت نہ ہوگی

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو ایمان کے ساتھ اچھے کام کریگا اس کو نہ بےانصافی کا ڈر ہوگا نہ حق تلفی کا3

ف 3 بےانصافی یہ ہے کہ تاکہ وہ گناہوں پر سزا دی جائے اور حق تلفی یہ ہے کہ کی ہوئی نیکیوں پر پانی پھیر دیا جائے اسی کو دوسری آیت الجن 13 میں بخس اور رھق سے تعبیر فرمایا ہے اور قرآن نے متعدد آیات میں جزا و سزا میں عدل و انصاف کا اعلان کیا ہے مگر گنہگار مومنوں کو معاف کردینا اس عدل کے منافی نہیں ہے
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور جیسے ہم نے تجھ سے اگلی خبریں بیان کیں ایسے ہی ہم نے قرآن کو عربی زبان میں اتارا اور اس میں ڈر کر نہیں اور باربار سنائیں جگہ جگہ عذاب کا ذکر ہے اس لئے کہ لوگ ڈریں (گناہ سے بچے رہیں) یا یہ قرآن ان میں سوچ4 بچار پیدا کر دے

ف 4 یعنی انہیں عبرت و نصیحت ہو اور وہ سوچیں کہ پچھلی امتوں کا کیا انجام ہوا۔ اگر ہم بھی گناہ کرینگے تو انہی کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ (ابن کثیر)
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو اللہ کی شان بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے (وہی مالک حقیقی ہے) اور اے پیغمبر جب تک تجھ پر قرآن کا اترنا پورا نہ ہو (وہی ختم نہ ہو) اس آ کے پڑھنے) میں جلدی نہ کیا کہ5 اور دعا کر مالک میرے مجھ کو اور زیادہ علم دے6

ف 5 مفسرین کہتے ہیں کہ جب حضرت جبرئیل نبی ﷺ کو قرآن کی متعدد آیات لا کر سناتے تو آپ شدت شوق سے یا اس خیال سے کہ بھول نہ جائیں حضرت جبرئیل کی قرأت مکمل ہونے سے پہلے ہی انہیں بڑھنا شروع کردیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو متنبہ فرمایا کہ ایسا نہ کیجیے بلکہ وحی کو مکمل ہو لینے دیجیے جیسا کہ دوسری جگہ سورة القیامتہ 18-16) میں فرمایا : لاتحریک بہ انک التجعل بہ ان علینا جمعہ وقرانہ فاذا قراناہ فاتبع قرانہ ” قرآن اترتے وقت اپنی زبان نہ ہلایا کیجیے، اسے جلدی سے یاد کرنے کے لئے (آپ کے دل میں) اس کا جما دینا اور اس کا پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے پھر جب ہم (فرشتہ کے ذریعے) آپ کو پڑھا کر سنا چکیں تب آپ پڑھا کیجیے “ اس میں قرآن کی حفاظت اور سہود و نسیان سے اس کے مامون ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے : حضرت شاہ صاحبلکھتے ہیں : اس کو پہلے منع فرمایا تھا سورة قیامتہ میں اور تسلی کردی تھی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں کو پہنچوانا ذمہ ہمارا ہے لیکن بندہ بشر ہے شاید بھول گئے ہوں پھر تفسیر کیا اور بھولنے پر مثل فرمائی آدم کی۔ (موضح) 6 علم سے مراد قرآن کا یا دین کا علم ہے اور یہ علم ایسی چیز ہے، جس کے زیادہ سے زیادہ مانگنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کسی اور کی کیا مجال کہ اپنے آپ کو اس سے بےنیاز سمجھ سکے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اللھم انفغفی ماعلمتن وعلمنی ماینطی وزدنی علما والحمد اللہ علی کل حال اے اللہ ! جو علم تو نے مجھے دیا ہے اس سے مجھے فائدہ دے اور مجھے وہ علم دے جو میرے لئے فائدہ مند ہو اور میرے علم میں اضافہ کر، اور ہرحال میں اللہ کا شکر ہے۔ (ابن کثیر) حضرت ابن مسعود یہ آیت پڑھتے تو فرماتے : اللہ زدنی ایماناً و تصدیقاً (معالم)
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم اس سے پہلے آدم کو حکم دے چکے ہیں کہ گیہوں کے درخت کے قریب نہ جانا) پھر وہ ہمارے حکم کو بھول یا (اس کے خلاف کرلیا اور ہم نے اس میں مضبوط نہ پائی

ف 7 یعنی ارادہ کی پتخگی اور درخت کے قریب نہ جانے کا جو عہد کیا تھا اس پر جمے رہتے بلکہ شیطان کے بہکانے میں آگئے۔ (شوکانی) اس واقعہ کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ (قرآن میں یہ چھٹی با رآدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ اول سورة قرہ، دوم اعراف، سوم حجر، چہار اسرا، پنجم کہف اور ششم یہاں اور ہر جگہ ای ک خاص مقصد کے تحت مختلف انداز سے اس قصہ کو دہرایا گیا ہے۔ یہاں جمل سے اس کی مناسبت کے سلسلہ میں چند وجوہ بیان کی گی ہیں۔ اوپر آیت ” نذالک نقص علیک من انبا وما قدسبق “ سے اس کا تعلق ہے یعنی اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے کہ ہم قصے بیان فرمائیں گے۔ چناچہ اس کے تحت آدم کا قصہ بیان فرما دیا اور ایک مناسبت وہ ہے جو اوپر شاہ صاحب کی توضیح میں گزر چکی ہے۔ امام رازی نے فی الجملہ پانچ وجوہ ذکر کی ہیں۔ (کبیر)
Ayahs 20:116–117

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وقت یاد کر) جب ہم نیفرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو پھر انہوں نے (سب نے) سجدہ کیا مگر ابلیس (شیطن) نے زمانا (اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا)

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

پھر ہم نے کہہ دیا آدم یا ابلیس) تیرا اور تیری8 بی بی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو وہ تم کو جنت سے نکال باہر کرائے اور تو آفت میں9 میں پھنس جائے

ف 8 دشمنی کا مظاہرہ تو وہ اسی وقت کرچکا تھا جب اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (الاعراف 12)9 یعنی روزی کے لئے محنت مشقت کرنی پڑے اور جنت کی تمام نعمتیں اور آسائشیں چھین لی جائیں۔ آدم کی کی طرف خاص کر شقاوت کی نسبت اسی لئے ہے مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لئے اصل آدمی ہی ہیں اور حوا ان کے تابع
Ayahs 20:118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں بہشت میں تو تیرے لئے (فائدہ) ہے نہ تو بھوکا رہتا ہے نہ ننگا

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور اس میں نہ تو پیاسا ہوتا ہے اور نہ دھوپ میں جلتا ہے۔10

ف 10 گویا حضرت آدم اور حوا کو بتادیا گیا کہ تمہاری تمام بنیادی ضرورتوں کا یہاں کسی محنت و مشقت کے بغیر انتظام کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتیں یہی چارچیزیں ہیں۔ بھوک پوری کرنے کیلئے کھانا، پیاس بجھانے کے لئے پانی، ستر ڈھانپننے کے لے لباس اور سردی گرمی سے بچنے کے لئے مکان یہ آیت دراصل شقاوت کی تفسیر ہے اور اس شقاوت سے دنیوی شقاوت مراد ہے نہ کہ اخروی، (کبیر شوکانی) نوائد صفحہ ہذا
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر شیطان نے اس کو پھسلا (آدم کا دوست فۃ بنا اور قسم کھا کر کہنے لگا آدم کیا میں تجھ کو وہ درخت بتادوں جس (کے کھانے) سے ہمیشہ زندہ رہے اور وہ بادشاہت جو کبھی مٹے نہیں2

ف 1 قرآن میں شیطان کے وسوسہ انداز ہونے اور پھیلانے کی نسبت بعض آیات میں صرف آدم کی طرف کی گئی ہی اور بعض میں دونوں کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں تو شیطان آدم ہی کے دل میں وسوسہ انداز ہوا ہے حوا کا ذکر بالتبیع ہے۔ لہٰذا عوام میں جو یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا کو پھسلایا اور پھر ان کے ذریعے آدم کو قابو میں کیا وہ قطعی غلط اور لغو ہے اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔2 اور سرہ اعراف میں ہے : مانھا کما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکوما ملکین اوتکونا من الخالدین کہ تمہارے رب نے تمہیں اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے یا ہمیشہ رہنے والے نہ بن جائو۔ (آیت :20)