20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

آخر انہوں نے اس درخت میں کچھ کھایا اسی وقت ان کی شرم کی چیزیں ان پر کھل گئیں بہشتی لباس اتر گیا اور دونوں بہشت (باغ) کے پتے (اپنا ستر چھپانے کی اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم نے اپنا سر چھپانے کو اپنے مالک کا فرمانا نہ3 سنا آخر بھٹک گیا

ف 3 یعنی اپنے رب کا حکم بجا لانے میں غفلت اور کوتاہی برتی اور اپنی شان کے مطابق عزت و استقامت کی راہ پر قائم نہ رہے۔ آدم سے یہ کوتاہی ان کے نبی بننے سے پہلے ہوئی ہے مگر آدم کو جو بلند مقام حاصل تھا اس کے لحاظ سے ان کی معمولی لغزش بھی بڑی اہمیت رکھتی تھی۔ اس لئے سرزنش کی گئی، ورنہ اگر معمولی درجے کا انسان یہ کوتاہی برتتا تو اس کے لئے یہ سخت لفظ استعمال نہ کیا جاتا مشہور ہے۔ حسنات الابرارسیتات المقربین کہ ابرار کی نیکیاں مقربین کے حق میں گناہ شمار ہوتی ہیں۔ (کبیر)
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر اس کے مالک نے اس کو سرفراز کیا اور اس کی توجہ قبول کی اور اس کو ہدایت4 کی

ف 4 ر معلوم ہوا کہ قضائے الٰہی کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اعتراض پر آدم نے جواب دیا تھا۔ اتلومنی علی امر کتبہ اللہ علی قبل ان اخلق (ابن کثیر)
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

(کہ اب تو یہ پر قائم رہنا گناہ کرنا) (جب آدم اور حوا نے اس درخت میں سے کھایا) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں بہشت میں سے (زمین پر) اترو تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن رہے گا5 پھر اگر میری طرف سے تم پر ہدایت آئے (میرا پیغمبر آئے یا میرا کلام تو جو کوئی میری ہدایت پر چلے نہ وہ (دنیا میں) بہکے گا اور (آخرت میں) بدنصیب6 ہوگا

ف 5 یعنی تمہاری اولاد میں باہم دشمنی رہے گی۔6 معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق زندگ گزارنا دنیا و آخرت دونوں کو بنا لینا ہے۔
Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جس نے میری کتاب (قرآن اسے منہ موڑ7 لیا (دنیا میں اس کی زندگیتنگ (گذرے گی) اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے۔

ف 7 یعنی اسے دنیا میں سکھ اور چین نصیب نہ ہوگا چاہے بظاہر کروڑ پتی بلکہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو۔
Ayahs 20:125–126

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا مالک تو نے مجھ کو اندھا کیوں اٹھایا اور میں تو (دنیا میں) دیکھتا بھالتا تھا۔

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے ایسے ہی کیا ہماری آیتیں8 پاس آئیں تو نے ان کا خیال نہ کیا اور اسی طرح آج کے ن تو بھی چھوڑ دیا جائے گا

ف 8 یعنی عمل نہ کیا اور یقین نہ کیا۔ آنحضرت نے فرمایا میری امت کے سارے گناہ مجھ کو دکھائے گئے ان میں سب سے بڑا گناہ یہ دیکھا کہ قرآن کی آیت کسی شخص کو یاد ہوئی پھر اس نے بھلا دی۔ ( موضح) اشارہ ہے قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کی طرف جن سے مکہ والے ملک شام کو آتے جاتے گزرا کرتے تھے۔
Ayahs 20:127–129

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو شخص حد سے گذر جائے اور اپنے مالک کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اس کو ہم ایسیہی سزا دیں گے اور بیشک آخرت کا عذاب (دنیا) تکلیف سے بہت سخت اور بہت دیرپا ہے (ہمیشہ رہنے والا ہے)

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا ان کو خبر نہیں ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں تباہ کردیں یہ تو ان کے گھروں میں بستیوں میں) آتے جاتے رہتے ہیں۔ بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اے پیغمبر) اگر تیرے مالک نے ایک بات نہ فرمائی ہوتی اور خدا کے لئے ایک میعاد نہ ٹھہرائی ہوتی تو ان پر ضرور (ابھی فوراً )1 عذاب اترتا

ف 1 میعاد معین سے مراد قیامت کا دن ہے یا دنیا ہی کی سزا کوئی دن جیسے بدر کا دن اور بات اسے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ہر قوم یا گروہ کو گرفت کرنے سے پہلے مہلت دی جائے گی تاکہ ایک طرف اس پر حجت تمام ہو اور دوسری طرف اگر وہ سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ان کافروں کی بات2 پر صبر کرے اور سورج نکلے سے پہلے اپنے مالک کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر (یعنی صبح کی نماز پڑھ) اور سورج ڈوبنے سے پہلے (یعنی عصر کی نماز) اور رات کے وقتوں میں بھی پاکی بیان کر (یعنی مغرب اور عشا کی نماز پڑھ یا تہجد کی اور دن کے کناروں3 میں بھی اس لئے کہ تو آخرت میں اس کا ثواب پا کر خوش ہو4

ف 2 یعنی آپ کے بارے میں آئے دن اول فول بکتے رہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں اور کبھی آپ کو جھوٹا کاہن جادوگر وغیرہ کلمات سے یاد کرتے ہیں۔ آپ اس کی کوئی پروا نہ کیجیے بلکہ صبر یعنی تحمل و برداشت سے کام لیجیے۔3 یعنی ظہر کی نماز کیونکہ وہ آدھا دن گزر جانے کے بعد بقیہ آدھے دن کے کنارے پر ہوتی ہے اس طرح اس آیت میں تمام نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ آگیا جن کی وضاحت اور تعیین حدیث و سنت سے ہی ہوسکتی ہے۔ یہ آیت قرآن کی ان متعدد آیات میں سے ہے جن میں صبر کے پہلو بہ پہلو نماز کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونہ نماز ہی وہ چیز ہے جس سے انسان میں صبر کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ (شوکانی، ابن کثیر)4 اشارہ ہے اس طرف کہ آپ کو مقام محمود حاصل ہو جیسے کہ سورة بنی اسرائیل میں نماز کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا، عسی ان یبعنک ربک مقاماً محموداً شاید (یعنی یقیناً ) آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر پہنچا دے گا (آیت 79) شاہ صاحب لکھتے ہیں : یعنی امت کو مدد ہوگی۔ دنیا میں اور بخشش گناہوں کی آخرت میں تیری سفارش سے حدیث میں ہے کہ اہل جنت کو بھی راضی کیا جائے گا اور ان کو خوشخبری دی جائے گی احل علیکم رضوانی فلا استخط علیکم بغلہ ابداً (ابن کثیر ۔ کبیر)
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور ہم نے جو کئی قسم کے کافروں کو ان کو آزمانے یا بلا میں ڈالنے کے لئے دنیاوی زندگی کی رونق کا سامان دے رکھا یہ تو اس کی طرف اپنی آنکھیں مت بڑھا (اس کی خواہش مت کر اور تیرے مالک کی دین5 اس سے (کہیں) بہتر اور دیرپا ہے

ف 5 یعنی دنیا میں حلال روزی اور آخرت میں اجر وثواب
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کا حکم دے اور تو بھی نماز کا6 کا پابند رہ۔ ہم کچھ تجھ سے روزی نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تجھ کو روزی دیتے ہیں اور پرہیز گاروں ہی کا انجام اچھا ہوگا7

ف 6 یعنی بجائے اس کے کہ آپ کے گھر والے دنیا داروں کے عیش و آرام کی طرف دیکھیں آپ انہیں نماز پڑھنے کی تلقین کریں کیونکہ یہ چیز ان کی لو اپنے رب سے لگا دیگی اور ان میں حرام روزی کے مقابلے میں حلال روزی پر چاہے وہ مقدار میں کتنی ہی قلیل ہو صبر و قناعت کا جذبہ پیدا کریگی اور اصل تو نگری صبر و قناعت سے ہے نہ کہ مال و دولت سے حضرت ثابت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے گھر والوں کو اگر کبھی واقعہ کی نوبت پہنچتی تو آپ میں نماز کی تلقین فرماتے اور یہی تمام پیغمبروں کا دستور تھا۔ (بیہقی سند احمد)7 یعنی چاہے دنیا میں ان کے دن تکلف ہے گزریں مگر آخرت میں ہمیشہ رہنے والا عیش و آرام ان ہی کا حصہ ہے متعدد احادیث میں مذکور ہے کہ اگر انسان اللہ کی عبادت اور آخرت کی فکر میں لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام فکر اور محتاجی دور کردیتا ہے اور اگر دنیا کی فکروں میں الجھ جائے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ کس وادی میں مرتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ہر قسم کی خیر کا حصول تقویٰ پر ہی موقوف ہے۔ (ابن کثیر شوکانی)
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور (کافر) کہتے ہیں (اگر یہ بچا یہ پیغمبر تھا) تو اپنے مالک کے پاس8 سے ہم پر کوئی نشانی کیوں نہیں لایا کیا اگلی کتابوں میں جو گواہی ہے (آنحضرت کی نسبت پیشین گوئی وہ ان کو نہیں پہنچا9

ف 8 جس سے اس کا سچا ہونا ہمیں واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے۔9 یعنی اس سے زیادہ آپ کی سچائی پر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ پہلی تمام آسمانی کتابیں آپ کی آمد کی خبر دے رہی ہے یقینا یہ خبر اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے واسطہ کفار مکہ تک پہنچ چکی ہے۔
Ayahs 20:134–135

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم ان (کافروں کو) اس کے (یعنی پیغمبر یا قرآن آنے کے) پہلے ہی ہلاک کردیتے تو پھر ضرور یوں کہتے مالک ہمارے تو نے ہم پر ایک پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم اس (دنیا کی) ذلت اور (قیامت کی) رسوائی سے پیش از پیش تیرے حکموں پر چلنے لگتے اور اس آفت میں مبتلا نہ ہوتے)

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے) کہہ دے سب10 (اپنی اپنی جگہ) منتظر ہیں۔ تم بھی انتظار کرتے رہو۔ آگے چل کر (یا عنقریب) تم جان لو گے کہ سیدھے رستے والے کون لوگ ہیں اور راہ پانے والے کون لوگ ہیں (ہم کہ تم مرتے ہی سب کھل جائیگا)

ف 10 کہ کس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟