21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کے حساب کا وقت نزدیک آن پہنچا (یعنی قیامت کا دن)2 اور وہ غفلت میں ٹال رہے ہیں3

ف 2 اس میں کفار کے لئے بہت بڑی تنبیہ ہے اس لئے کہ ہر وہ چیز جو یقینا آنیوالی ہو اسے قریب ہی سمجھنا چاہیے یا اس لئے کہ جو زمانہ گزر گیا ہے اس کے مقابل ہمیں جو باقی ہے نہایت ہی قلیل ہے اور پھر آنحضرت کی بعثت اور آپ پر ختم نبوت بھی قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ حدیث میں ہے آنحضرت نے فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھاتین یعنی ایک مرتبہ آپ نے اپنی دو انگلیاں (انگشت شہادت اور وسطیٰ ) اٹھا کر فرمایا۔” میں ایسے وقت میں مبعوث کیا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ (شوکانی)3 عظمت یہ کہ اس دن کی جواب دہی کے لے تیاری نہیں کرتے اور اعراض یہ کہ قرآن کی کسی نصیحت اور تنبیہ پر کان نہیں دھرتے یا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں مشغول ہو کر آخرت سے اعراض برت رہے ہیں۔ (کبیر)
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے مالک کے پاس سے ان پر جب کوئی نئی نصیحت آئی4 تو اس کو کھیل بنا کر سنتے ہیں5 ان کے6

ف 4 ” ذکر “ سے مراد قرآن ہو تو اس کا محدث (نیا) ہونا نزول کے اعتبار سے ہے کیونکہ قرآن حسب مواقع سورت سورت اور آیت آیت کی شکل میں نازل ہوا ہے۔ ورنہ قرآن اللہ کا کلام غیر مخلوق اور قدیم ہے اور بعض علما نے ” ذکر “ سے خود ” رسول “ مراد لیا ہے اور آنحضرت کو قرآن میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ دیکھیے سورة قلم آیت 52 اطلاق آیت 10 (قرطبی)5 یعنی توجہ اور دھیان سے سننے کی بجائے الٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔6 جیسا کہ ایک مادہ پرست دنیا کو کھیل تماشا سمجھتا ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو بلکہ یہ سب روشن خیالیاں روز بروز آخرت اور فکر آخرت سے دور لے جا رہی ہیں۔
Ayahs 21:3–4

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

دل کھیل میں لگے رہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے صلاح کرتے ہیں کہ یہ شخص (یعنی پیغمبر) ہے کیا ایک آدمی ہے تمہاری طرح اور پیغمبر تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے) کیا تم دیکھ بھال کر جادو (کے پھیر) میں پڑتے ہو

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

پیغمبر نے ان کی یہ کانا پھوسیاں سن کر کہا (یہ چپکے چپکے باتیں کرنے سے کیا فائدہ) میرے مالک کو تو آسمان اور زمین میں کوئی بات کہی جائے (چپکے سے یا پکار کر اس کو معلوم ہے اور وہ (سب) سنتا جانتا ہے

ف 7 یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے بلکہ تمہاری طرح کا ایک انسان ہے۔ اب جو یہ خارق عادت کارنامے دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آنحضرت کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا۔ ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور شر نبی نہیں ہوسکتا اور قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے پریشان خوابوں کا کچھ (یا پریشان خیالات کا مجموعہ ہے نہیں بلکہ اس نے اپنے دل سے (جھوٹ) بٹایا ہے نہیں بلکہ دشمن شاعر ہے8 (مضمون باندھتا ہے اگر واقعی پہنچا پیغمبر ہے) تو جس طرح اگلے پیغمبر (نشانیاں دیکر) بھیجے گئے تھے یہ بھی کوئی نشانی (جیسے ہم چاہتے ہیں) ہمارے پاس لیکر آئے

ف 8 اگر یہ سچا ہے تو جیسے حضرت صالح موسیٰ اور عیسیٰ معجزے لے کر آئے تھے اس قسم کے معجزے یہ بھی ملا کر دکھائے۔ ان کے یہ الزامات اور فرمائشیں ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھیں ورنہ قرآن کی صداقت کے مقابلے میں یہ معجزے کچھ حیثیت نہیں رکھتے، اور یہی کیفیت ہر اس شخص کی ہوتی ہے جو حق سے مغلوب ہوجاتا ہے مگر اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ (قرطبی ۔ شوکانی)
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

(فرمائشی نشانی دیکھنے پر بھی) ان سے پہلے کوئی بستی والے ایمان9 نہیں لایء جن کو ہم نے تباہ کردیا یہ (بھلا) کیا ایمان لائیں گے10

ف 9 یعنی جن قوموں کی ہلاکت اللہ کے علم میں مقدر ہوچکی تھی وہ معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں۔ یہی حال ان کا ہے مگر اللہ کے علم میں ان کی ہلاکت مقدر نہیں ہے کیونکہ ان کی نسل سے بہت سے مسلمان پیدا ہونے والے ہیں۔ اس لئے ان کی فرمائش کے مطابق نشانی ظاہر نہیں ہوتی ورنہ کسی بڑ ی سے بڑی نشانی کا اظہار ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (قرطبی)10 کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ جتنے پیغمبر ہو گزرے ہیں سب شر ہی تھے اور یہ بات تو اثر سے ثابت ہے۔ اکثر مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے کہ یہاں ” اہل ذکر “ سے مراد اہل کتاب ہیں اور یہ ان کے اعتراض ” ھل ھذا الابشر مثلکم “ کا جواب ہے (قرطبی) اس آیت سے بعض نے جواز تقلید پر استدلال کیا ہے جو غلط ہونے کے علاوہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ نیز دیکھیے سورة نحل :43 (شوکانی)
Ayahs 21:7–8

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر جو بکتے ہیں کہ پیغمبر آدمی کیونکر ہوسکتا ہے) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ عمرو (آدمی) ہی تھے ہم ان پر وحی اتارا کرتے تھے (اے کافرو) اگر تم اس بات کا کم نہیں تو علم والوں (یہود اور نصاریٰ کے عالموں سے پوچھ لو

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان پیغمبروں ن کے بدن ایسے نہیں بنائی تھے جو کھانا نہ کھائیں اور وہ (دنیا) میں سدا رہنے والے تھے۔

ف 11 یعنی تمام پیغمبر طبعی تقاضوں میں دوسرے انسانوں ک طرح ہی تھے ان کے جسم ایسے نہیں تھے کہ ان کو کھانے پینے کی ضرورت نہ ہو اور پھر وہ عام آدمیوں کی طرح ایک عمر پا کر گزر گئے۔ اس میں ان لوگوں کی صاف تردید ہے جو انبیا کی موت کی نفی کرتے ہیں۔ (شوکانی)12 یعنی تائید و نصرت کا وعدہ
Ayahs 21:9–11

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر جو وعدہ ہم نے چاہا (یعنی مئومنوں1 کو) بچا دیا اور حد بڑھ جانیوالوں کو (کافروں) کو تباہ کردیا

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

(اے قریش کے لوگو) بیشک ہم نے تم پر ایسی کتاب اتاری ہے جس سے تمہاری عزت یہ کیا تم کو عقل نہیں

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں جہاں کے لوگ شریر تھے ہم نے توڑ پھوڑ ڈالیں (تباہ کردیں) اور ان کے بعد دوسرے لوگ پیدا کئے

ف 1 یعنی یہ قرآن جادو یا شعر نہیں ہے بلکہ یہ وہ کتاب ہے جس سے تمہاری ناموری ساری دنیا میں ہوگی یا جس تمہارے لئے نصیحت ہے اور مکارم اخلاق اور دینی احکام کا بیان ہے۔ مفسرین نے لفظ ” ذکر “ کے یہ سبھی معنی بیان کئے (شوکانی)
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو لگے وہاں سے جلدی بھاگنے

ف 2 ” رکض “ کے لفظی معنی جانور کو ایڑلگا کر بھگانے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہمارا عذاب ان کے سروں پر پہنچ گیا تو انہوں نے عذاب سے بچنے کے لئے بھاگنے کی کوشش کی۔
Ayahs 21:13–14

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

(انکو فرشتوں نے آواز دی) بھاگو نہیں اور جہاں تم مزے کرتے تھے3 (چین اڑاتے تھے اور اپنے گھروں کو لوٹ جائو وہاں شاید کوئی تم کو پوچھے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے ہماری خرابی ہم (خود) قصور وار تھے

ف 3 یعنی شاید کوئی تم سے از راہ ہمدردی پوچھے کہ کیا گزری ؟ اور تم اپنے چشم دید حالت بتاسکو یا شاید تمہارے نوکر چاکر تمہارے سامنے ہاتھ باندھ کر دریا قنط کریں کہ حضور فرمایئے کیا حکم ہے ؟ اور تم پہلے کی طرح اپنے ڈیرے اور مجلسیں جمائو اور لوگ مہمات میں تمہارے مشوروں سے مستفید ہونے کے لئے حاضر ہوں۔ بہرحال یہ ان سے تہکم اور توبیخ کے طور پر کہا جا رہا ہے (کبیر)
Ayah 21:15

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

بیشک4 بھرو وہی کہتے رہے لوٹنے وائے اپنے قصور کا اقرار کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے شکر (کھیت کی طرح) کا طعو (آگ کی طرح) کا ط کر (آگ کی طرح) بجھا دیا (یعنی مار ڈالا5

ف 4 جب اللہ کا عذاب آ گھیرتا ہے تو بدکار سے بدکار قومیں بھی گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسی طرح واویلا مچاتی ہیں۔ مگر اس وقت اعتراف گناہ اور توبہ تلابے فائدہ ہے۔ ( سورة غافر :85)5 بعض نے ان بستیوں سے میں کے شہر مراد لئے ہیں۔ جن پر سخت نصر کو مسلط کیا گیا تھا اور اس نے ان کو تلوار کے گھاٹ اتار کر لاشوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ (کذافی القرطبی) شاہ صاحب نے بھی اپنی توضیح میں اسی کو اتخیار کیا ہے۔
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو ان کے بیچ میں ہے کھیل (بیکار) نہیں بنایا6

ف 6 کہ لوگ جیسے چاہیں ظلم و ستم کرتے پھریں اور ان سے باز پرس نہ ہو بلکہ ان کے پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی گونا گوں مصلحتیں اور حکمتیں وابستہ ہیں اور دنیا میں قانون مکافات جاری ہے۔ لہٰذا ان ظالموں کو اگر ہلاک کیا گیا تو عین عدل و مجازات کے مطابق تھا۔ تمہیں چاہیے کہ دوسری آنے والی زندگی میں جوابدہی کے لئے تیاری کرو۔
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم کو دل بہلا وا منظور ہوتا (جو رویا اولاد تو ہم اپنے پاس سے اس کو بنا سکتے تھے اگر ہم ایسا کرنے والے ہوتے7

ف 7 اور یہ جنت و دوزخ حساب و کتاب کا سلسلہ نہ بناتے۔ (جامع البیان) عام مفسرین نے یہاں لھو سے بیوی یا اولاد مراد لی ہے اور لکھا ہے کہ اس میں نصاریٰ کا رد ہے جو یہ غلط عقیدہ، رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کنواریوں میں حضرت مریم کو پسند کیا اور پھر ان کے بطن سے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت مسیح کو پیدا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو اولاد بنانا ہی منظور ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتے مثلاً فرشتے وغیرہ کو منتخب کرلیتے مگر اللہ کی شان ان چیزوں سے بلند اور پاک ہے۔ (نیز دیکھیے سورة زمر :4)
Ayah 21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم سچ کو (پتھر کی طرح) جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں وہ انس کو کچل ڈالات ہے پھر وہ (یعنی جھوٹ) اسی دم فنا ہوجاتا ہے8 اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے خراب ہو گے9

ف 8 یعنی تکوین عالم بےمقصد نہیں ہے بلکہ اس میں حق باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طور پر بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیت و نابود کردیا۔ اسی طرح اب بالاخر باطل فنا ہوجائے گا اور حق کو دوام و ثبات نصیب ہوگا۔9 ینی اگر تم حق کو چھوڑ کر باطل کا ساتھ دو گے اور ہماری کسی مخلوق کو ہمارا شریک یا بیوی یا بیٹا قرار دو گے تو نتیجہ تمہاری تباہی کی صورت میں ظاہر ہوگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
Ayah 21:19

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اس کے ملک ہیں اور جو خود اس کے پاس ہیں (یعنی فرشتے) اس کے پوجنے میں شیخی نہیں کرتے10 اور نہ تھپکتے ہیں

ف 10 یعنی اس کی عبادت میں لگے رہنے کو اپنی شان سے فروتر نہیں سمجھتے۔ پھر بھلا انسان کی کیا بساط ہے کہ اپنے آپ کو اس کی عبادت سے بالاتر سمجھ سکے۔ (کبیر)
Ayah 21:20

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات اور دن تسبیح کرتے ہیں اور سست نہیں ہوتے11

ف 11 کعب احبار ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرشتوں کے لئے تسبیح ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس یعنی جس طرح ہرحال میں انسان سانس لیتا ہے اسی طرح فرشتے بھی ہرحال میں اللہ کی تسبیح و تہلیل کرتے ہی۔ یہی قول زجاج سے منقول ہے۔ (شوکانی، کبیر)
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین (میں) سے نکال نکال کر مثلاً پتھر سونا چاندی پیتل وغیرہ سے جو خدا بنائے ہیں (یعنی بت12 وہ کسی کو مرنیکے بعد) زندہ کرسکتے ہیں

ف 12 یا کسی بےجان چیز میں) زندگی کی روح پھونک سکتے ہیں اگر ایسا نہیں تو پھر تم ان بتوں کو خدا کیوں مان رہے ہو۔ واضح رہے کہ ابتدا سورة سے یہاں تک تو نبوت کا ثبوت اور اس سلسلہ میں مخالفین کے شبہات کا رد تھا۔ اب یہاں سے توحید کا بیان اور شرک کی تردید شروع ہو رہی ہے۔ (کبیر)
Ayahs 21:22–23

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین میں13 اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں (آسمان اور زمین) برباد ہوجاتے وہ تخت والا خداوند ان کی (بیہودہ) باتوں سے پاک ہے۔

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کرے اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا (کیا مجال) اور ان بندوں سے ان کے اعمال کی پوچھ ہوگی

ف 13 کیونکہ ہر خدا اپنی جگہ قادر خودم ختار ہوتا تو ان میں ہمیشہ کشمکش کا بازار گرم رہتا ہے جیسے فرمایا : ولعلابعضم علی بعض (مومنون :91) اور کوئی چیز اپنی مترب شکل میں بن سکتی نہ چل سکتی۔ توحید پر یہ دلیل سادہ بھی ہے اور ناقابل تردید بھی متکلمین نے اس کا نام برہان تمانع رکھا ہے مگر اس کی سادہ تشریح بھی ہوسکتی ہے۔ (کبیر)
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنائے ہیں (اے پیغمبر ان سے) کہہ اچھا اپنی دلیل لائو1 یہ (قرآن ان لوگوں کی کتاب ہے جو میرے ساتھ ہیں (مسلمانوں کی) اور ان لوگوں کی جو مجھ سے پہلے کر دے یہ کتابیں ہیں2 بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر کافر حق کی بات کو نہیں جانتے (جب حق بات بیان کی جاتی ہے) تو ٹال دیتے ہیں (منہ پھیر لیتے ہیں)

ف 1 یعنی اپنے اس دعویٰ کی دلیل پیش کرو کہ تمہارے یہ معبود خدا کے شریک ہیں۔2 مراد ہیں توراۃ و انجیل اور صحیفے جو پہلے انبیاء پر نازل کئے گئے۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس پر یہی وحی بھیجتے رہے دیکھو میرے سوا کوئی سچا خدا نہیں تو مجھ کو یاد جتنے رہنا3

ف 3 یعنی توحید ہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف گزشتہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں۔ پس توحید کا ثبوت اور شرک کا رد جس طرح عقلی دلائل سے ہوتا ہے اسی طرح نقلی طور پر بھی ہوتا ہے۔ تمام ادیان میں یہ حقیقت مسلمہ ہے اور تمام انبیاء کا یہ اجماعی عقیدہ ہے۔
Ayah 21:26

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور (کافر) کہتے ہیں (رحمٰن (خدا) اولاد رکھتا ہے وہ ایسی باتوں سے پاک ہے (فرشتے اس کی بیٹیاں نہیں ہیں ض بلکہ سرفراز بندے ہیں (جن کو اس نے عزت دی ہے )

ف 4 شرک کی تردید کے بعد اب ان لوگوں کے باطل عقیدہ کا رد کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے صاحب اولاد ہونے کے قائل تھے۔ اس خیال میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ بعض قبائل عرب بھی گرفتار تھے جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ (دیکھیے سورة صافات :58 از کبیر)
Ayah 21:27

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اور وہ اس کے سامنے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے اور وہ5 اس کے حکم پر چلتے ہیں

ف 5 یعنی ان کی اطاعت اور انقیاد کا حال یہ ہے کہ ہر قول و عمل میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ نہ اس کی اجازت کے بغیر لب کشائی کرت یہیں اور نہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی قدم ہی اٹھاتے ہیں۔
Ayah 21:28

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

اس کو معلوم ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے6 اور (فرشتے) کسی کی سفارش نہیں کرسکتے مگر جس کے لئے خدا کی مرضی ہو7 اور وہ اس کی میت سے کافر رہے ہیں (یا اس کے جلال سے ڈر رہے ہیں )

ف 6 یعنی جو کام وہ پہلے کرچکے ہیں، یا جو آئندہ کرینگے وہ ان سب کو جانتا ہے کہ کذا قال ابن عباس (قرطبی) اس میں ان کے مطیع و مقاد ہونے کی علت کی طرف اشارہ ہے یعنی چونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان کے ظاہر و باطن کو محیوط ہے اس لئے اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ (کبیر)7 یعنی جن کے لئے سفارش کرنے کی اللہ تعالیٰ اجازت دے، مردا اہل توحید ہیں۔ یہاں سفاشر کرنیوالوں سے فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ نظم قرآن کے سیاق و سبقا سے معلوم ہوتا ہے اور صحیح علم میں اس کی تائید میں ایک حدیث بھی ہے اور انبیاء بھی جیسا کہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا : ان شفاعتی لاصل الکبایرمن امتی کہ میں اپنی امت کے گہنگاروں کی سفاشر کروں گا۔ (شوکانی)
Ayah 21:29

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور ان میں سے جو کہے میں خدا کے سوا8 سوا بندگی کے لائق ہوں تو اس کو ہم جہنم کی سزا دیں گے اور شریروں کو ہم ایسی سزا دیتے ہیں

ف 8 یعنی بفرض محال اگر ان فرشتوں میں سے کوئی یہ کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میری بندگی کرو تو …
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ (پہلے) آسمان اور زمین دونوں ملے جلے (چسپاں)9 تھے پھر ہم نے ان کو الگ10 الگ کیا اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا11 کیا (اس پر بھی) وہ ایمان نہیں لاتے12

ف 9 یعنی دونوں ایک چیز اور ایک ہی طبقہ تھے یا دونوں کے منہ بند تھے۔ چناچہ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین میں سے کوئی چیز اگتی تھی (کبیر)10 یعنی زمین کو اپنی جگہ رہنے دیا اور آسمان کو اوپر اٹھا دیا اور درمیان میں ہوا کا نظام قائم کردیا یا دونوں کے منہ کھول دیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمان سے بارش ہونے لگی اور زمین میں پیداوار (کبیر)11 یعنی جن چیزوں میں جان سے جیسے حیوانات اور نباتات ان سب کی نشات پانی سے ہے لیکن فرشتے اور جن یا دوسری کوئی چیز جس کے متعلق ثابت ہوجائے کہ اس کے مادہ میں پانی کو دخل نہیں ہے وہ اس سے مستثنیٰ قرار پائیں گی۔ (کبیر) یا سب جاندار چیزوں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے اور پانی وہ چیز ہے جس کے آسمان سے اترنے اور زمین میں موجود رہنے کے اسباب ہم نے پیدا کئے بعض مفسرین نے پانی سے مراد نطفہ لیا ہے یعنی ہر جاندار (حیوان) کو ہم نے نطفہ سے پیدا کیا جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : واللہ خلق کل دآبۃ من مآء اور اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ (نور 45)12 یعنی زمین آسمان میں یہ حیرت انگیز نظام قائم کرنے والے ہم ہیں کوئی اور نہیں کیا اس پر بھی یہ لوگ توحید کا راستہ اختایر نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو ہمارا شریک سمجھ رہے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یستبحون تک صانع کے وجود اور اس کی وحدانیت پر چھ قسم کے دلائل مذکور ہیں۔ (کبیر)
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں گڑے ہوئے (یا بھاری) پہاڑ رکھے (ایسا نہ ہو) وہ ان کو لے کر جھک پڑے13 اور ہم نے ان پہاڑوں میں کھلے راستے رکھے14 اس لئے کہ ان کو راہ ملے1

ف 13 یہ تیسری دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے اور زمین ہلکی ہوتی تو زمین میں وہ انضباط نہ پایا جاتا جواب موجود ہے اور جو سطح زمین پر زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔ (نیز دیکھیے سورة نحل :15)14 یا ہم نے زمین میں چوڑے چوڑے راستے رکھے۔ واختارہ الطبری (قرطبی) 1 یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک والوں سے مل سکیں۔ اگر پہاڑ اس طرح واقع ہوتے کہ راہیں بند ہوجاتیں تو یہ بات کہاں سے پیدا ہوتی 1 (موضح)
Ayahs 21:32–33

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو مضبوط چھت بنایا اور وہ زمین پر نہیں کرتا یا محفوظ2 چھت کہ شیطان وہاں جانے نہیں پاتے اور یہ لوگ آسمان کی نشانیوں3 پر دھیان نہیں کرتے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند (اور تارے) ہر ایک اپنے اپنے چرخ دواڑے) میں تیر رہے ہیں

ف 2 امام رازی لکھتے ہیں کہ پہلی تشریح زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے گو دوسری تشریح بھی غلط نہیں ہے۔ دیکھیے (سورج حج 65، فاطر 41، حجرات :17) 3 جیسے چاند سورج اور تارے وغیرہ
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کے لئے (دنیا میں) ہمیشہ4 جینا نہیں رکھا بھلا ان سے پوچھنا چاہیے) اگر تو مرجائے تو کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے

ف 4 اوپر کی آیات میں توحید اور صانع کیو جود پر ” دلائل ستہ “ بیان فرمائے جو تمام دنیوی نعمتوں کی اصل ہیں۔ اب یہاں سے بیان فرمایا کہ یہ نظام ہمیشہ قائم رہنے کے لئے نہیں، بلکہ ابتلاء و امتحان کے لئے بنایا گیا ہے۔ (کبیر)
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر ایک (مخلوق) جاندار موت5 (کامزہ) چکھے گا اور ہم تم کو برائی اور بھلائی پہنچا اگر آزماتے ہیں اور تم (سب) کو ہمارے ہی پاس لوٹ آنا ہے

ف 5 ضمناً ان لوگوں کی تردید بھی ہے جو یہ کہہ کر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ محمد (ﷺ) عنقریب مرجائیں گے تو ہمیں چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ (طور 20) یا بعض اس خیال میں تھے کہ یہ پیغمبر ہمیشہ زندہ رہے گا تو اس پر متنبہ فرمایا کہ موت سے کوئی بشر محفوظ نہیں رہ رہ سکتا۔ (کبیر)
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

(مرنے کے بعد اسی پاس جانا ہے) اور (اے پیغمبر) یہ کافر جب تجھ کو دیکھتے ہیں تو اور کچھ نہیں تجھ کو مسخرہ بناتے ہیں (کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو (برائی سے) یاد کرتا ہے اور وہ خود اللہ تعالیٰ کی یاد سے پھرے ہوئے ہیں

ف 6 یعنی خود ان کی حالت قابل استہزا ہے۔ یہاں ” ذکر الرحمٰن “ سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 21:37–39

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

آدمی کی پیدائش میں جلد بازی7 ہے اب میں تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھلاتا ہوں تو مجھ سے جلدی نہ کرو8

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور (کافر) کہتے ہیں (اچھا) اگر تم سچے ہو (بتلائو) یہ وعدہ (دنیا کا عذاب یا قیامت کا آنا) کب پورا ہوگا

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ان کو معلوم ہوتا (ایک وقت ایسا آنے والا ہے) جب (چار طرف سے ان کو دوزخ کی آگ گھیر لے گی اور یہ لوگ) نہ اپنے منہ پر سے آگ کو ہٹا سکیں گے نہ پیٹھ پر سے اور نہ (کہیں سے) ان کو مدد ملے گی

ف 7 یعنی جلد بازی اس کی سرشت بن چکی ہے۔ (اسراء 11)8 قدرت کی نشانیوں سے مراد جیسا کہ آئندہ مضمون سے معلوم ہوتا ہے۔ انتقامی کارروئیاں میں یعنی تم عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اب تک جو ہم نے تمہیں ڈھیل دی ہے اس سے تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمیں تمہاری کارستانیاں اور شرارتیں گوارا ہیں۔ ذرا ٹھہرو ! ابھی تمہیں معلوم ہو ائے گا کہ ہم تم سے کیسے انتقام لیتے ہیں۔ دنیا میں بھی قتل ہو گے اور ذلت و رسوائی برداشت کرنی پڑے گی اور آخرت میں بھی تمہیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنایا جائے۔ (کبیر)
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

وہ آگ (یا قیامت) ان پر ایک دم سے آموجود ہوگی (کہہ کر تھوڑے آئے گی) پھر ان کو ہکا بکا کر دے گی نہ اس کو مٹا سکیں گے نہ مہلت ملے گی9

ف 9 آیت میں ” تاتیھم وہ آئیگی) کی ضمیر “ ھی “ (وہ) ” النار “ یعنی آگ کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔ اور ” الساعۃ “ (قیامت) کے لئے بھی اور ” الوعد “ (دنیا میں عذاب کے وعدہ) کے لئے بھی یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی آئے گی وہ بتا کر نہیں آئے گی، بلکہ یکایک آئے گی۔ پھر نہ اس سے بچ نکلنے کی راہ پائو گے اور نہ تمہیں کوئی مہلت دی جائے گی کہ توبہ کرسکو۔ (شوکانی)