21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

(یا نہیں) اور ہم نے زور کی ہوا سلیمان کے لئے (تابع کردی تھی) وہ اس کے حکم9 سے اس کے ملک کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت رکھی ہے (یعنی شام کے ملک کی طرف اور ہم کو سب چیزوں کی خبر ہے

ف 9 ۔ اس کی تفسیر میں حجرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ایک تخت تیار کرایا تھا جس میں مع اعیان سلطنت بیٹھ جاتے اور ضروری سامان بھی رکھ لیتے پھر ہوا آتی اور اسے اڑالے جاتی۔ جب وہ چاہتے ہوا تیز چلتی اور جب چاہتے دھیمی۔ صبح سے زوال تک وہ ایک ماہ کی مسافت اور زوال سے شام تک ایک ماہ کی مسافت طے کرتی۔ نیز دیکھئے سورة سبا آیت 211 اور سورة ص آیت 53 تا 63 (فتح القدیر)
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور بعضے شیطان جو اس کے واسطے (جواہرات نکالنے کو سمندروں میں) غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام10 بھی کرتے (جیسے عمارت بنانا برتن ڈھالنا اور ہم ہی (ان شیطانوں کے یا انکے کامونکے نگہبان تھے

ف 10 ۔ شیطانوں سے مراد سرکش جن ہیں۔ دیکھئے سورة سبا : 21
Ayahs 21:83–85

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ایوب پیغمبر کو یاد کر11 جب اس نے اپنے مالک کو پکارا (دعا کی، مجھے (سخت) تکلیف لگ گئی ہے اور تو ہمارے رحم کرنیوالوں سے زیادہ رحم کرینوالا ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

(دعا کرتے ہی دریائے رحم و کرم جوش میں آیا) تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور جو کچھ اس کو الگ گیا تھا وہ دور کردیا اور اس کے گھر والے (جو پہلے تھے وہ اس کو دیئے اور اتنے ہی اور یہ ہماری طرف سے اس پر مہربانی تھی اور عبادت کرنیوالوں کے لئے نصیحت تھی

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اسمعیل اور ادریس اور الاکفل پیغمبروں کو یاد کر، یہ سب صبر کرنیوالوں میں سے تھے

ف 11 ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں دے رکھی تھیں اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کی آزمائش کے لئے تدریحاً تمام نعمتیں چھین لیں اور ساتھ ہی جسمانی امراض میں بھی مبتلا کردیا گیا مگر بایں ہمہ وہ ناشکری کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائے۔ آخر کار جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تب دعا کی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعو کو شرف قبولیت بخشا اور اپنے فضل و کرم سے دوبارہ دولت وصحت سے نوازا۔
Ayahs 21:86–87

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا کیونکہ وہ نیک بختوں میں تھے

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے (یعنی یونس پیغمبر کو یاد کر) جب وہ خفا ہو کر (اپنی قوم کے پاس سے چل دیا سمجھا کہ ہم اس کو تنگ نہ کریں (یا اس کو عذاب نہ کریں گے) تب (وہ اپنے قصور کا قائل ہوا اور اندھیروں میں پکار اٹھا اے خدا تیرے سوا کوئی سچا خدا نہیں بیشک میں قصور وار تھا

ف 1 ۔ حضرت ابن عمر ؓ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک فرد تھے جو گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ اکثر مفسرین (رح) کے نزدیک وہ نبی نہ تھے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ الکفل اور ذوالکفل ایک شخص ہو ممکن ہے یہ دو شخص ہوں۔ (ابن کثیر شوکانی)
Ayahs 21:88–89

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

جس نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات دی اور ہم ایمان2 والوں کو اسی طرح بچا لیتے ہیں ان کا رنج اور غم دور کردیتے ہیں

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور اے پیغمبر زکریا (نبی کا قصہ یاد کر) جب اس نے اپنے مالک کو پکارا (دعا کی) مانگ میرے مجھ کو (دنیا میں) انگولا ناٹھا (یعنی اکیلا ہے اولاد مت چھوڑ اور (یوں تو) تو سب واثوں سے بہتر ہے

ف 2 ۔ یعنی یہ حجرت یونس ( علیہ السلام) کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہم ایمان والوں کو … ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس مسلمان نے بھی کسی مصیبت میں اس دعا سے پکارا اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ (شوکانی بحوالہ ترمذی، نسائی) 3 ۔ یعنی حقیقی وارث تو ہی ہے اگر تو مجھے اولاد نہ بھی دے گا تب بھی میرے بعد اپنے دن کا کوئی انتظام ضرور کرے گا۔ (عرصبی)
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس کو یحییٰ (فرزند) عنایت کیا اور4 اور اس کی بی بی کو بھلا کردیا (ان کا بانجھ پنا جاتا رہا یا ان کے اخلاق اچھے ہوگئے یہ سب پیغمبر جن کا ذکر ہوا ہے زکریا اور یحییٰ اور ان کے گھر والے) نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہم کو توقع اور ڈر دیکھ کر پکارتے تھے اور ہمارے سامنے گڑگڑاتے (عاجزی کرتے رہتے تھے

ف 4 ۔ یعنی ہمیں اس طرح پکارتے تھے کہ ایک طرف انہیں ہمارے اجر کی توقع رہتی تھی اور دوسری طرف ہمارے عذاب کا ڈر اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) وہ عورت (یعنی بی بی مریم کو یاد کر) جس نے اپنے عصمت قائم رکھی (اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اپنی روح اس میں پھونک دی اور ہم نے اس کو اور اس کے فرزند (حضرت عیسیٰ ) کو سارے جہان کے لئے (اپنی قدرت کو) نشانی بنایا

ف 5 ۔ یعنی نکاح سے بھی اور ناجائز صورتوں سے بھی۔ یہاں احصان (عصمت قائم رکھنے) کا لفظ عام معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ قرآن نے متعدد مقامات پر تصریح کی ہے کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) نے نہ نکاح کیا اور نہ وہ حرام کاری کی مرتکب ہوئیں۔ (مریم : 02) 6 ۔ مراد ہے حضرت عسیٰ ( علیہ السلام) کی۔ وہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل ( علیہ السلام) نے پھونکی تھی لیکن تعظیم و تشریف کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے پھونکنے کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ مزید دیکھئے (نساء : 171) 7 ۔ قدرت الہٰی کی پیدائش بن باپ کے ہوئی تھی۔ اگر حضرت مریم شادی شدہ ہوتیں اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش باپ ہوئی ہوتی تو ان کی کیا خصوصیت ہوتی جس کا ذکر سار جہان کیلئے بطور نشانی کیا جاتا۔ پھر دونوں کو ” ایۃ “ (ایک نشانی) کہنا باعتبار قصہ کے ہے یعنی ہم نے ان دونون کے قصے کو ایۃ بنادیا۔ (قرطبی)
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

(مسلمانو) تمہارا یہ مذہب ہے وہی ایک مذہب اور میں تمہارا مالک ہوں مجھ ہی کو پوجو (اور کسی کی پرستش نہ کرو

ف 8 ۔ جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کا اختلاف نہیں ہے سو اسی کو اختیار کرنا اور اسی پر قائم رہنا تمہیں واجب ہے۔ مراد ہے مذہب توحید یعنی اسلام… یہاں ” امۃ “ کے معنی دین یا مذہب کے ہیں جیسا کہ سورة زخف (آیت 22) میں ہے۔ ” انا وجدنا اباونا علیٰ امۃ “ کہ ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ایک امت (یعنی دین) پر چلتے پایا۔ (قرطبی، شوکانی)
Ayahs 21:93–95

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور لوگوں نے اپنے مذہب میں آپس میں پھوٹ ڈال لی سب کو ہمارے پاس لوٹ کر آتا ہے

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

پھر جو کوئی نیک اموں میں سے کچھ کام کرے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو تو اس کی محنت اکارت نہ ہوگی اور ہم اس کا موں کو لکھنے والے ہیں

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جن بستی اوالوں کو ہم نے کھپا دیا بلکہ وہ ان کا پھر (دنیا میں آنا حرم (ناممکن ہے

ف 9 ۔ یعنی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ کر مکتلف گروہوں میں بٹ گئے، کوئی یہودی ہوگیا، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی اور کوئی بت پرست وغیرہ۔ 10 ۔ اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ توحید کی اصل راہ چھوڑنے کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا رہا ؟
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

جب تک (یا جوج، ماجوج ذوالقرنین کی روک سے) کھول دیئے جائیں یعنی قیامت قائم ہوا اور وہ ہر چڑھائو سے دوڑ پڑیں گے

ف 1 ۔ تاکہ انہیں توبہ یا امتحان کا ایک اور موقع دیا جائے۔ ذوالفقرنین کی روک اور یا جوج ماجوج کے قصے کے لئے دیکھئے (کہف رکوع 11) 2 ۔ یعنی ہر بلند مقام سے دندناتے ہوئے نکلیں گے۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور سچا وعدہ نزدیک آ لگے گا4 یعنی قیامت اس وقت ایک ہی ایکا کافرون کی آنکھیں دوڑ سے دوسرا صور پھونکنے کے بعد کھل کی کھل رہ جائیں گی اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی گمبختی) ہم تو (دنیا میں) اس دن) سے غافل ہی رہے بلکہ غافل نہیں سراسر) قصور وار تھے

ف 3 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ” یاجوج ماجوج “ کا خروج قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگا۔ اسی کو آنحضرت ﷺ نے اپنی متعدد احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیات نہ دیکھ لو۔ پھر آپ ﷺ نے دس نشانیاں بیان فرمائیں۔ جن میں ایک یاجوج ماجوج کا ظاہر ہونا تھی۔ (مسلم) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت عسیٰ کا نزول اور خانہ کعبہ کا حج وعمرہ کرنا یاجوج ماجوج کے ظاہر ہونے کے بعد ہوگا۔ (بخاری) 4 ۔ کافر پہلے تو اپنے غافل ہونے کا ذکر کریں گے پھر خود ہی اعتراف کرلیں گے کہ ہم قصور وار نہ تھے اور یہ مختلف مواطن میں ہوگا۔
Ayahs 21:98–99

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(اے مگر کے کافرو) تم اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو اور آج کے ایندھن ہو گے تم (سب) کو (قیام کے دن) دوزخ میں جانا پڑیگا

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ خدا ہوتے (جیسے مشرک سمجھتے ہیں) تو دوزخ میں نہ جاتے اور سب کے سب (پوجنے والے اور جن کو پوجتے ہیں) ہمیشہ اس میں رہیں گے

ف 5 ۔ مراد میں بت، شیاطین اور وہ تمام چیزیں جن کی مشرکین پوجا کرتے تھے۔ 6 ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ پوجاتو فرشتوں کی بھی ہوتی ہے اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور عزیر ( علیہ السلام) کی بھی تو کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت ” ان الذین سبقت الخ “ نازل فرمائی۔ ابن اسحٰق کی روایت میں ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن زبغریٰ نے آنحضرت ﷺ پر یہی اعتراض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص یہ چاہے کہ اللہ کی بجائے اس کی عبادت کی جائے وہ ان عبادت کرنے والوں کے ساتھ (جہنم میں) ہوگا۔ (ابن کثیر) معلوم ہوا کہ دوزخ میں وہی معبود (لوگ) جائیں گے جنہوں نے لوگوں کو شرک کی تعلیم دی ہوگی۔
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں وہ چیخ پکار مچائیں اور وہاں ایک کی ایک بات تک وہ نہ سنیں گے

ف 7 ۔ یعنی ان کی چیخ پکار اتنی زیادہ ہوگی کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے ہی بھلائی ہوچکی ہے (لکھی جا چکی ہے) وہ دوزخ سے دور رہیں گے

ف 8 ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ یہ آیت مشرکین کا اعتراض سفع کرنے کے لئے نازل ہوئی۔
Ayahs 21:102–103

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

اور دونوں کی بھنک بھی سنیں گے ہمیشہ جو جی چاہے اس میں بسر کریں (ہر ایک خواہش پوری ہوگی،

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو بڑی گھبراہٹ (قیامت) کا کچھ رنج نہ ہوگا اور فرشتے (جنت کے دروازوں پر) ان کا استبال کریں گے (کہیں گے یہی تو وہ دن ہے جس کا تم سے دنیا میں اوجڈ کیا جاتا تھا

ف 9 ۔ ” اس میں جانا تو کجا “ یعنی جنت میں داخل ہونے کے بعد۔ کذاقال ابن عباس ؓ ۔ (قرطبی)
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن تم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا مٹھا (تو مار) لپیٹا جاتا ہے جس طرح ہم نے شروع سے (پہلی بار تمام مخلوقات کو پیدا کیا اسی طرح (غیبت کر کے) نجارہ پیدا کریں گے یہ ہم نے کردیا ہے ضرور ایسا کرینگے

ف 10 ۔ جیسے دوسری آیت (زکر :76) میں فرمایا : والسموات مطویات بمینہ : کہ آسمان اس کی دائیں مٹھی میں لپٹے ہوں گے۔ ایک حدیث میں بھی یہ صریحاً ثابت ہے بعض کا قول ہے کہ یہاں ” سجل “ آنحضرت ﷺ کے ایک کاتب کا نام ہے مگر یہ روایت ناقابل اعتبار ہے۔ (ابن کثیر) 11 ۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ” تم لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور ﷺ ننگے پائوں، ننگے بدن اور غیر محتون جمع کئے جائو گے “ (قرطبی بحوالہ مسلم)
Ayahs 21:105–106

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

کیونکہ ہمارا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا اور ہم تو زبور میں لوح محفوظ (یا تورت شریف) کے بعد لکھ چکے ہیں کہ (بہشت یا بیت القمدس کی زمین کے مالک میرے نیک بندے ہونگے

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی بندگی کرنیوالے ہیں انکو یہ نصیحتیں (جو اس سورت میں بیان ہوئیں) کافی ہیں

ف 12 ۔ ” اذکر “ سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے ” توارۃ “ مراد لی ہے اور بعض نے اسے اس کی لفظی یعنی ” نصیحت “ میں لیا ہے۔ (شوکانی) 13 ۔ یہاں ” الارض “ سے کونسی زمین مراد ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض علما نے بہشت کی زمین مراد لی ہے کیونکہ دوسری آیت میں جنت کے متعلق و اور ثنا الرض فرمایا ہے۔ یعنی جس نے ہمیں زمین یعنی جنت کا وارث بنایا۔ (زمر : 47) گویا یہ اہل ایمان کے حق میں ایک بشارت اخروی ہے جیسے فرمایا ہو العاقبۃ للمتقین۔ (اعراف) مگر اکثر علما نے اسے بشارت دنیوی پر محمول کیا ہے۔ پھر بعض نے کافر قوموں کی سرزمین مراد لی ہے اور بعض نے ” بیت المقدس “ کی فتح۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے سورة نور آیت 55 ۔ (شوکانی و ابن کثیر)
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے تو تجھ کو سارے جہانکے لئے رحمت بنا کر بھیجا

ف 14 ۔ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ مسلمان کافر سب کیلئے اور دنیوی و اخروی ہر اعتبار سے آپ ﷺ رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اسلامی اصول و شریعت کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جو اخلاقی قدریں اور دائمی اصول آنحضرت ﷺ کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے متعین فرمائے ہیں وہ آج تک دنیا تلاش نہیں کرسکی۔ اس سے بڑی رحمت اور کیا ہوسکتی ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ ﷺ کی اتباع سے ہر قسم کی سعادت حاصل ہوئی۔ مگر کفار کے لئے آپ ﷺ کیسے رحمت ہیں ؟ اس کے جواب میں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے طفیل ہمیشہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں پر جو ہلاکت خیز عذاب آتے رہے، وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد روک دء یے اور ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ابوجہل کے الزامات کے جواب میں فرمایا، والاھدییھم وھمکارھون۔ کہ میں ان کی نرت کے باوجود ان کو ہدایت پر لانے کی کوششیں جاری رکھوں گا۔ اس سے آپ ﷺ کے رحمت ہونے کا مفہوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

(اے پیغمبرر ان لوگوں سے کہہ دے مجھے تو بس وہی آتی ہے اور کہ نہیں کہ تمہارا خدا ہی ایک خدا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے) تو تم اس کے1 تابعدار بنتے ہو یا نہیں

ف 1 ۔ یعنی تو حیدر ہی میری ساری وحی کا خلاصہ اور اصل الاصول ہے اور اس میں شرک کا شائبہ تک نہیں۔ (وحیدی)
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ نہ مانیں تو (اے پیغمبر ان سے) کہہ دے میں نے تو تم کو یکساں خبر کردی2 اور میں نہیں جانتا کہ جس عذاب یا قیامت کا تم وعدہ ہے3 قریب آ لگا ہے یا (ابھی دور ہے)

ف 2 ۔ کہ اب میرا اور تمہارا کوئی اشتراک نہیں یا تمہیں قبول وعدم قبول میں برابر کا اختیار ہے یا پورے طور پر آگاہ کردیا ہے اور کسی قسم کے کتمان سے کام نہیں لیا۔ (قرطبی) 3 ۔ کیونکہ اس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

بیشک وہ خدا اس بار بھی جانتا ہے جو پکار کر کہی جائے اور اس کو بھی4 جانتا نہیں کو تم چھپاتے ہو

ف 4 ۔ یعنی تمہاری سب سازشوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔ ان کی سزا وہ تمہیں ضرور دے گا۔
Ayahs 21:111–112

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید یہ مہلت تمہارے آزمانے کے لئے ہے5(منظور یہ ہے کہ ایک مدت تک (دنیا سے) فائدہ اٹھاتے ہو

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

ایک مدت تک پیغمبر نے کہا اے رب حکم کر میرے ساتھ حق کے اور پروردگار بڑا مہربان اور مدد مانگا گیا ہے اوپر اس چیز کے جو تم بیان کرتے ہو

ف 5 ۔ کہ آیا تم اس سے فائدہ اٹھا کر حق کی طرف پلٹتے ہو یا اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے ہو۔