21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر کچھ تجھی سے کافروں نے ٹھٹھا نہیں کیا) تجھ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ان کو (بھی) مسخرہ بنایا آخر جو لوگ ان میں سے ٹھٹھا کرتے تھے ان پر خود ہی الٹ پڑا جس کا ٹھٹھا کرتے تھے1

ف 1 ۔ مراد ہے خدا کا عذابط جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے کر دے) اللہ کے (کے عذاب) سے رات اور دن کون تمہاری نگہانی کرتا ہے2 بلکہ وہ اس کی یاد سے بھاگتے ہیں3

ف 2 ۔ اور تخویف عذاب اخروی سے تھی۔ اب یہاں تخویف عذاب دنیوی سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم برآن اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہو۔ (کبیر)3 ۔ یعنی رات اور دن کے اوقات میں خدا ہی ان کی حفاظت کرتا ہے مگر یہ ہیں کہ اس کی یاد یا اس کی نصیحت سے بھاگتے ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا بھی کوئی ان کے خدا میں جو ہم سے (ہمارے عذاب سے ان کو بچا سکتے ہیں وہ اپنی آپ مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہمارے مقابل ہمیں کوئی ان کا ساتھ دے گی4

ف 4 ۔ یعنی جن کو انہوں نے اپندا خدا بنا رکھا ہے اور جن سے وہ اپنی مرادیں مانگتے ہیں وہ تو خود اس قدر درماندہ اور عاجز ہیں کہ خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتے اور نہ ہماری جانب سے ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ تو بھلا وہ ان کی مدد کیا کرسکتے ہیں۔ (کذا فی الشوکانی)
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

ہوا یہ کہ ہم نے ان لوگوں اور ان کے باپ دادوں کو (دنیا میں) چین سے رکھا یہاں تک کہ ان کی عمر لمبی ہوئی5 کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم (کفر کی) زمین کناروں سے کم کرتے آرہے ہیں کیا یہ غالب ہیں (یا مسلمان ہرگز نہیں مسلمان غالب ہیں6

ف 5 ۔ یعنی ہم نے جو ان پر مہربانی کی اس پر احسان مند ہونے کی بجائے اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ یہ ان کے ذاتی کمالات کا کرشمہ ہے اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوشحالی میں اس قدر مست ہوگئے کہ سرے سے بھول ہی گئے کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے۔ وہ جب چاہے ان سے سب کچھ چھین سکتا ہے اور ان کو فاقہ کشی میں مبتلا کرسکتا ہے۔ (شوکانی، کبیر) 6 ۔ یعنی یہ جلدی عذاب مانگنے والے ہمارے قدرت کے آثار پر غور نہیں کرتے اور اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ہر طرف اسلام کو فتح نصیب ہورہی ہے اور کفر کا دائرہ اختیار سکڑتا جارہا ہے۔ مزید دیکھئے سورة رعد آیت :14 (کبیر)
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے میں تم کو جی سے (خدا کے حکم کے موافق ڈراتا ہوں اور جو بہرے ہیں وہ تو ڈراتے وقت پکار تک نہیں7 سنتے (وہ کیا خاک ڈریں گے) اور

ف 7 ۔ یعنی میرا کام تو خدا کے حکم کے مطابق نہیں ہیں کہ عذاب سے متنبہ کرنا ہے۔ اگر تم میری بات نہیں سنو گے تو اس کا وبال تم پر ہوگا۔
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر تیرے ملک کے عذاب کی ہوا بھی انکو لگ جائے تو وہ ضرور کہہ اٹھیں گے ہائے ہماری خرابی بیشک ہم گنہگار تھے8

ف 8 ۔ یعنی آج تو یہ بہرے ہورہے ہیں مگر عنقریب ان کی یہ حالت بدل جائے گی اور عذاب کا تو ذکر ہی کیا اگر اس کی ذرا سی ہوا بھی انہیں لگ جائے تو ساری شیخی رفو چکر ہوجائے اور واویلا کرنے لگیں مگر اس وقت چیخ پکار کچھ فائدہ نہ دے گی۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ہم ٹھیک ترازوئیں رکھیں گے9 پھر کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا10 اور جو رائی کے دانے برابر (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو بھی (تولنے کے لئے) حاضر کریں گے اور ہم حساب لینے کے لئے بس میں11

ف 9 ۔ یعنی تمام انسانوں کے اعمال ٹھیک ٹھیک تول کر ان کا بدلہ دیں گے۔ قیامت کے دن اعمال تولنے کے لئے ترازو اگرچہ ایک ہی ہوگی مگر چونکہ اعمال بہت سے ہوں گے ان کی مناسبت سے ” موازین “ بہت سی ترازوئیں جمع کا لفظ استعمال کیا گیا۔ اکثر مفسرین کا یہی خیال ہے اور اعمال کے تولنے سے مراد صحائف اعمال کا تولنا ہی یا خود اعمال ہی تولے جائیں گے۔ وزن اعمال متعدد احادیث سے ثابت ہے لہٰذا اس سے انکار بےمعنی ہے (کبیر) 10 ۔ یعنی نیکیوں میں کچھ کمی آئے گی نہ برائیوں میں کوئی زیادتی ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو انسان گناہ کرکے اپنے آپ پر غلطم کرتا ہے مگر آخرت میں جزائے اعمال کے وقت اس پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ (کبیر) حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول ﷺ ! میرے پاس کچھ غلام ہیں جو خیانت کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں اور میں انہیں گالیاں دیتا اور مارتا پیٹتا ہوں میرا (قیامت کے روز) کیا حال ہوگا ؟ فرمایا : ” اگر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہے تو تمہیں اجر ملے گا اور اگر اس سے زیادہ ہے تو زیادتی کا بدلہ تم سے لیا جائے گا اور اگر برابر ہے تو نہ اجر ملے گا نہ عذاب “ یہ سن کر وہ شخص رونے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے قرآن کی آیت نہیں پڑھی : ” ونضع الموازین … شیئا “ وہ کہنے لگا “ اب میرے اور ان غلاموں کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ مجھ سے جدا ہوجائیں۔ سو میں انہیں آزاد کرتا ہوں۔ (قرطبی بحوالہ ترمذی) 11 ۔ یہ تحذیر ہے کہ ہمارا علم وقدرت ہر چیز پر محیط ہے اور ہم عاجز نہیں ہیں۔ (کبیر)
Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو وہ کتاب (توریت شریف)12 دی جو (حق اور باطل کو) جدا کرنے والی اور روشنی اور نصیحت ہے پرہیز گاروں نے لئے

ف 12 ۔ اوپر بیان ہوا ہے کہ پچھلے تمام انبیا بشر ہی تھے۔ (آیت 7) اور اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت کا جو وعدہ فرمایا اسے پورا کیا۔ (آیت 9) اور پچھلے انبیاء کا مشن بھی یہی توحید کی طرف دعوت تھا۔ (آیت 52) اب یہاں سے اسی احمال کی تفصیل کے پیش نظر بہت سے انبیاء کے واقعات بیان کئے جارہے ہیں۔ (کبیر، شوکانی) 13 ۔ جیسے دوسری آیت میں فرمایا : ” فیہ ھدی ونور “ (مائدہ : 64) جہالت اور گمراہی کی تاریکی کو دور کرنے کے اعتبار سے اسے ضیا (روشنی) فرمایا ہے اور ” الفرقان “ سے بعض نے معجزات اور بعض نے دشمنوں پر غلبہ بھی مراد لیا ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 21:49–50

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جوبن دیکھے اپنے مالک سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت کا خوف رکھتے ہیں14

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ قرآن (بھی) نصیحت ہے برکت والا اس کو ہم نے اتارا کیا تم اس کو نہیں مانتے (اور توریت کو مانتے ہو یہ تمہاری صریح ہٹ دھرمی ہے)

ف 14 ۔ اسی لئے وہ معصیت سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ اس روز تمام اعمال کا محاسبہ ہوگا اور ہر اچھے برے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اس سے پہلے1 اس کے (حصہ کی) دانائی عطا فرمائی اور ہم اس کا حال جانتے تھے (کہ وہ پیغمبر کے لائق ہے)

ف 1 ۔ یعنی حضرت موسیٰ اور ارون (علیہما السلام) کو کتاب دینے سے پہلے یا سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے (جامع البیان) یہاں ” رشد “ سے خاص قسم کا رشد مراد ہے جو حجرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے شایان شان تھا۔ اس سے بعض نے نبوت بھی مراد لی ہے مگر اپنے عموم کے اعتبار سے یہ لفظ ہر قسم کے رش و ہدایت کو شامل ہے۔ (کبیر)
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جس اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیں جن کے پوجے) پر تم جمے بیٹھے ہو کیا2 چیز میں

ف 2 ۔ یعنی جن کی پوجا پاٹ میں تم لگے رہتے ہو یہ کس کام کی ہیں اور کیا ہیں ؟
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم نے تو اپنے باپ دادوں کو انہی کا پوجا کرتے ہوئے3 پایا

ف 3 ۔ یعنی جب حضرت ابراہم ( علیہ السلام) کے سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے تو پچھلے بزرگوں کی تقلید کا سہارا لیا۔ یہی حال ” ملت اسلامیہ “ میں مقلد حضرات کا ہے۔ اگر کتاب و سنت کا کوئی عالم نہیں۔ انہیں قیاس اور رائے پر عمل کرنے سے روکتا ہے تو وہ یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے امام صاحب یہی فرماگئے ہیں اور انہی کی رائے پر چلتے ہوئے ہم نے اپنے بزرگوں کو پایا ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 21:54–56

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا تم اور تمہارے باپ دادا کھلے گمراہی میں تھے4

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تو سچ سچ (یہ بات) ہم سے کہتا ہے یاد دل لگی کرتا ہے

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بلکہ تمہارا خدا وہ ہے جو آسمان اور زمین کا مالک ہے جس نے ان کا پیدا کیا اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں (کہ وہی ایک خدا تمہارا خدا ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا)

ف 4 ۔ کیونکہ بت پرستی سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کتاب و سنت کو چھوڑ کر کوئی دوسری راہ اختیار کرنا بھی صریح صلالت ہے۔ (شوکانی)
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ موڑ کر چل دو گے تو میں تمہارے بتوں سے ضرور5 چال چلوں گا

ف 5 ۔ یعنی جب تم اپنے بتوں کی پوجا کرکے بتخانہ سے پہلے جائو گے تو میں تمہارے ان معبودوں کی خبر لوں گا۔ یعنی دلائل سے تو تم راہ راست پر نہیں آتے اب یہ عمل اقدام کروں گا۔ غالباً حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ کلمات زیر لب کے ہوں گے صرف آس پاس کے ایک دو آدمیوں نے سنا ہوگا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یہ علاج کرنا انہوں نے چپکے سے کہا۔ (موضح)
Ayahs 21:58–60

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر6 ابراہیم نے ان (سب) محبتوں (توڑ کر) ٹکڑے ٹکڑے کردیا مگر ان کے بڑے بت کو7 (چھوڑ دیا) اس لئے کہ وہ اس کی طرف رجوع ہوں

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے ہمارے دیوتائوں کے ساتھ کس نے یہ کیا (ان کو توڑ پھوڑ ڈالا) بیشک (جس نے یہ کام کیا) وہ بڑا ظالم ہے

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

(ان میں سے کسی نے) کہا ہم نے ایک نوجوان سے جس کو ابراہیم پکارتے ہیں سنا ان کا ذکر کر رہا تھا

ف 6 ۔ یعنی جب وہ بتوں کی پوجا پاٹ کرکے واپس ہوگئے۔ 7 ۔ یہ بات دریافت کرنے کے لئے کہ ان بتوں کو کس نے توڑا ؟ یہاں لوگوں پر طنز اور ستہزا ہے اور اگر ” الیہ “ کی ضمیر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے لئے قرار دی جائے تو مقصد یہ ہوگا کہ انہیں ان لوگوں سے صاف صاف بات کرنے کا موقع ملے یا یہ مطلب ہے کہ شاید وہ گمراہی کو چھوڑ کر میری راہ (یعنی توحید) اختیار کرلیں۔ (رازی)
Ayahs 21:61–63

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

کہنے لگے ایسا ہے تو اس نوجوان کو سب کے سامنے لائو تاکہ لوگ اس کا8 کا بیان سنیں اور گواہ ہوجائیں

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

انہوں نے پوچھا ابراہیم کیا تو نے ہمارے دیوتائوں کے ساتھ ایسا کیا ہے (ان کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا )

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا نہیں یہ کام ان میں کے بڑے (محبت) نے کیا ہے اگر وہ بولتے ہوں

ف 8 ۔ یا ان کو جو سزا دی جائے اسے آنکھوں سے دیکھ لیں۔ لفظ ” یشھدون “ کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (کبیرا)
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

تو ان سے9 پوچھ دیکھو آخر وہ لوگ اپنے دلوں میں (کچھ) سوچے اور آپس میں) کہنے لگے (جی سچ تو یہ ہے) تم خود ظالم ہو1

ف 9 ۔ ظاہر ہے کہ حجرت ابراہیم نے یہ بات تعریض اور کنایہ کے طور پر فرمائی اور تنز کیا کہ تم تو ان بتوں کو نفع و نقصان کے مالک سمجھتے ہو تو اگر یہ بولتے ہیں تو خود انہی سے دریافت کرلو کہ انہیں توڑنے کا کام کس نے کیا ہے ؟ مگر اس آیت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ ” یہ کام ان کے بڑے بت نے کیا ہے “ اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے چونکہ جھوٹ ہے اس بنا پر نبی ﷺ نے اسے جھوٹ ہی کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے : ” ان ابراھیم لم یکذب غیر ثلاث “ کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے صرف تین موقعوں پر جھوٹ بولا ہے ایک ان کا کہنا کہ ” میں بیمار ہوں “ دوسرے اپنی بیوی سارہ کو اپنی بہن بتلانا، تیسرے ان کا کہنا کہ ” فعلہ کبیر ھم ھذا “ مگر اس حدیث میں بھی تعریض و کنایہ کو کذب سے تعبیر کرلیا گیا ہے اور عربی زبان میں اس قسم کا اطلاق جائزہ ہے۔ لہٰذا اس صحیح حدیث سے انکار کی ضرورت نہیں ہے۔ امام رازی (رح) نے اس آیت کے اور بھی تفسیری محل بیان کئے ہیں۔ واللہ اعلم 1 ۔ یعنی سمجھے کہ پتھر پوجنا کیا حاصل۔ (موضح) یا یہ کہ اپنے بتوں کی حفاظت نہ کرکے تم نے ظلم کیا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 21:65–68

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر اپنے سروں پر اوندھے ہوگئے2 تو تو جانتا ہے یہ بت بات نہیں کرتے پھر ان سے کیا پوچھیں

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا تم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ کچھ تمہارا بھلا کرسکتے ہیں نہ برا کرسکتے ہیں

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے (ختو ہے) تم پر اور ان چیزوں پر جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو کیا تم کو عقل نہیں

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

کہنے لگے اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو تو ابراہیم کو آگ میں جلا ڈالو اور اپنے دیوتائوں کی پشتی کرو (ان کا بدلہ لو)

ف 2 ۔ یعنی پہلے تو صحیح بات کی مگر پھر ان کی عقل لوندھی ہوگئی اور مجادلہ اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی۔ (کبیر)
Ayahs 21:69–70

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے3 (آگ سے) کہا آگ ابراہیم ٹھنڈک اور آرام ہوجا4

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور انہوں نے ابراہیم کو ستانا چاہا ہم نے انہی کو تباہ کیا

ف 3 ۔ یعنی جب سب کی رائے یہی ٹھہری کہ آگ کا آلائو تیار کرکے ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس میں پھینک دیا جائے اور پھر واقعی انہوں نے اپنے اس ماراوہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ابراہیم کو آگ میں پھینک دیا تو ہم نے آگ کو حکم دیا… 4 ۔ آگ کو صرف ٹھنڈی ہوجانے ہی کا حکم نہیں دیا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو تکلیف نہ ہو بلکہ ٹھنڈی ہوجانے کے ساتھ راحت رساں ہوجانے کا بھی حکم دیا۔ کذا قابل ابن عباس ؓ وابوالعالیہ (ابن کثیر) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا گیا مگر اللہ تعالیٰ نے خرق عبادت کے طور پر ان کو بچالیا۔ اس مقام پر مفسرین نے بہت سی حکایات نقل کی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے آگ کا بہت بڑا الائو تیار کیا جس کا طول 08 ذراع اور عرض 04 ذراع تھا اور منجنیق کے ذریعے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنے لگے تو حضرت جبریل ( علیہ السلام) اور دوسرے فرشتوں نے اپنی خدمات پیش کیں مگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے سب کے جواب میں یہی کہا : ” حسبی اللہ ونعم الوکیل “ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی عمر اس وقت چالیس برس کے قریب تھی اور انہوں نے فرمایا کہ : ” جو نعمتیں مجھ کو آگ کے اندر حاصل تھیں۔ وہ بعد میں حاصل نہ ہوئیں۔ “ قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) آگ میں ڈالے گئے تو ہر جانور نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔ سوائے وزغہ کے کہ وہ آگ کو دھونک رہا تھا اس بنا پر آنحضرت ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے وغیرہ۔ مگر ان جزئیات کی صحت محل نظر ہے او۔ عموماً یہ روایات اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ واللہ اعلم (وزع گرگٹ) کے متعلق حضرت عائشہ ؓ سے بخاری میں جو حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ آنحضرت نے وزغ کو موذی جانور فرمایا مگر اس کے قتل کا حکم دیتے ہوئے آپ ﷺ کو نہیں سنا۔
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم اور ان کے بھتیجا لوط کو (عراق سے جہاں کا حکام نمرود تھا) نجات دے کر اس سر زمین میں پہنچا دیا جس میں5 ہم نے ہمارے جہان کے لئے برکت رکھی ہے

ف 5 ۔ یعنی شام و فلسطین کی سرزمین جو روحانی اور مادی دونوں قسم کی برکتون سے مالا مال ہے۔ ( سورة اسرار :1) معلوم ہوا کہ قوم سے مقابلہ اور پھر آگ میں ڈالے جانے کا واقع ارض بابل میں پیش آیا تھا۔ (کبیر)
Ayah 21:72

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے6 ابراہیم کو (ان کی دعا پر) اسحاق دیا (بیٹا) اور گھاتے میں یعقوب (پوتا) اور سب کو نیک بخت کیا7

ف 6 ۔ یعنی جو انہوں نے مانگا نہیں تھا لیکن ہم نے اپنی طرف سے مزید انعام کے طور پر دیا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دعا تھی بیٹے ہی کی انعام میں دیا پوتا۔ (موضح) مگر اقرب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ” نافلۃ “ کا تعلق دونوں سے ہو (کبیر) 7 ۔ یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ، لوط ( علیہ السلام) ، اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) سب کو اپنا مطیع فرمانبردار بنایا۔
Ayahs 21:73–75

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے (چاروں) کو پیشوا بنایا وہ ہمارے حکم8 سے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کو نیک کام کرنے اور نماز درستی سے ادا کرنے اور زکواۃ دینے کی وحی بھیجی اور وہ خاص ہمارے پوجنے والے تھے (یا خاص ہمارے تابعدار تھے)

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط کو ہم نے پیغمبر دے دیا سمجھ فیصلہ کرنے کی) اور علم دیا اور ہمنی اس کو اس بستی (سدوم) سے نجات دی جہاں کے لوگ ناپاک کام (لواطت) کیا کرتے تھے بیشک وہ بدکار لوگ تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور ہمنی اس کو اپنی رحمت میں (جنت میں) داخل کرلیا بیشک وہ نیک بندوں میں سے تھا

ف 8 ۔ یعنی صرف کود ہی فرمانبردار نہ تھے بلکہ ہمارے وحی کے مطابق دوسروں کو بھی حق کی طرف دعوت دیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ ہر قسم کی دعوت دارشاد کا کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (کبیر)
Ayah 21:76

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور اے پیغمبر) نوح (کا قصہ یاد کر جب اس نے اس فۃ سے پہلے خدا کو پکارا اور اپنی قوم پر بدو کی پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو اور اس کے ساتھ والوں2(ایمانداروں کو بڑی سختی سے (بڑی عصبیت سے) نجات دی

ف 1 ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ذکر سورة نوح رکوع 2 میں تفصیل سے مذکور ہے۔ سورة قمر میں ہے : ” انی مغلوب فالتصر “ کہ (اے میرے رب) میں مغلوب ہوں، تو ہی ان سے بدلہ لے۔ (آیت :1) 2 ۔ بڑی مصیبت سے مراد کا فردل کی ایذارسانی ہے یا طوفان کی تباہ کاری۔
Ayah 21:77

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے مقابل جنہوں نیہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا نوح کی مدد کی بیشک وہ بڑے لوگ تھے تو ہم نے ان3 سب کو ڈبو دیا

ف 3 ۔ یعنی ان میں سے کسی کو زندی نہ چھوڑا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ہو دار کو ع 304
Ayah 21:78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور اے پیغمبر دائود اور سلیمان (کو یاد کر) جب دونوں ایک کھیت4 یا باغ کا فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر بڑی تھیں اور ہم ان کے فیصلے کو دیکھ رہے تھے (یا فیصلے کے وقت ہم حاضر تھے)

ف 4 ۔ حضرت دائود اور سلیمان پیغمبر ہونے کے ساتھ فرمانروا بھی تھے۔ اس لئے رعایا کے مقدمات کا فیصلہ کرنا ان کے فرائض میں داخل تھا۔
Ayah 21:79

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پھر ہم نے اس (مقدمے کا (ٹھیک) فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا5 اور ہم سے ہر ایک کو دائود اور سلمیان دونوں میں سیفیصلہ کرنے کی سمجھ دی تھی اور علم دیا تھا ہم5 نے پہاڑوں اور پرندوں کو دائود کے حکم میں کردیا تھا وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے6 تھے اور ہم ہی7 سے خوب کیا تھا

ف 5 ۔ اس واقعہ کی تفصیل مفسرین نے عموماً یہ بیان کی ہے کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس دو آدمی مقدمہ لے کر آئے۔ ایک کہنے لگا کہ اس شخص کی بکریاں رات کے وقت میرے کھیت میں گھس کر ساری کھیتی چرگئی ہیں۔ حضرت دائود نے نقصان اور بکریوں کی قیمت کا اندازہ لگا کر فیصلہ دیا کہ تم اس کی بکریاں لے لو۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اس فیصلہ سے اختلاف کیا اور کہا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزارہ کرے اور بکریوں والے کو کھیت سپرد کردیا جائے کہ آبپاشی وغیرہ سے اس کی اصلاح کرے۔ یہاں تک کہ جب کھیت اپنی پہلی حالت پر آجائے تو کھیت اور بکریاں اپنے اپنے مالکوں کو واپس کردئیے جائیں۔ اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے کہ ہم نے اس مقدمہ اک ٹھیک فیصلہ سلمان ( علیہ السلام) کو سمجھ دیا۔ (ابن کثیر، کبیر) مسئلہ : اگر کسی کے جانور دن کے وقت کسی دوسرے کے کھیت یا باغ کو چر جائیں تو جانور والے پر کوئی تاوان نہیں ہے اور اگر رات کے وقت چرجائیں تو جس قدر نقصان ہوا اس قدر تاوان جانور والے کے ذمہ ہوگا۔ یہی فیصلہ حضرت براء ؓ بن عازب نے ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے اور جمہور علما کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور دیگ فقہائے کوفہ جانور والے پر کسی صورت تاوان کے قائل نہیں اور دلیل میں ” العجماء جرحھا جبار “ جانور کا کسی کو زخمی کردینا معاف ہے۔ پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس حدیث میں صرف زخم کے معاف ہونے کا ذکر ہے کھیت کے نقصان کے معاف ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا حضرت براء ؓ کی حدیث کو منسوخ کہا جائے۔ (قرطبی) اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ اگر کوئی ھاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور اس کا فیصلہ غلط ہو تو اسے اکہرا اجر ملے گا اور اگر فیصلہ صحیح ہو تو دوہرا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں عمرو بن عاص کی روایت میں ہے۔ (فتح قدیر) 6 ۔ یعنی جب وہ تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی تسبیح کرتے۔ یہ چیز حضرت دائود پر خصوصی نعمت کے سلسلے میں ذکر کی ہے لہٰذا تسبیح کو اس کے حقیقی معنی پر محول کرنا ضروری ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت دائود کے ساتھ، زبور پڑھنے کے وقت پہاڑ اور جانور بھی انہی کی سی آواز سے پڑھتے۔ (موضح) 7 ۔ یعنی تعجب نہ کرو کہ یہ پہاڑ اور پرندے کیسے بولتے اور تسبیح کرتے تھے۔ یہ سب کچھ ہمارا کیا ہوا تھا۔ (کبیر)
Ayah 21:80

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم ہی نے دائود کو تمہارے لئے ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ (جنگ میں8) ایک دوسرے کے مارے تم کو بچائے (یعنی زرہ بنانا) تو کیا تم اس نعمت کا) شکر کرو گے

ف 8 ۔ سورة سبا میں ہے والنا لہ الحدید۔ اور ہم نے اس کے لئے (یعنی حضرت دائود کے لئے) لوہا نرم کردیا۔ (آیت 11) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت دائود کو لوہے کے استعمال پر خاص قدرت عنایت فرمائی تھی اور وہ جنگی اغراض کے لئے ہلکی مضبوط اور عمدہ زرہیں بنایا کرتے تھے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” اور لوہے کی زرہ بناتے فقط ہاتھ سے موڑ کر اور بناتے ہیں آگ سے۔ (موضح)