22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

رحم والا لوگو اپنے مالک کے عذاب سے ڈرو کیونکہ قیامت کا بھونچال ایک بڑی آفت ہے7

ف 7 ۔ جمہور مفسرین (رح) کے نزدیک یہ زلزلہ قیامت سے پہلے آئیگا اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگا اور قرب قیامت کی وجہ سے اسے الساعۃ کا زلزلہ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اشراط الساعۃ کہا جاتا ہے اور اگلی آیت کے الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ قیامت کے روز تو نہ کوئی عورت دودھ پلارہی ہوگی اور نہ کسی کو حمل ہوگا اور ” نفخ صور “ والی طویل حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ہے کہ صور میں نفخ تین ہوں گے۔ نفح الفزع (سراسیمگی) نفخ المحق (موت کی چیخ) اور نفخ القیام رب العالمین (قبروں سے اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی) پھر پہلے نفخ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے بتایا کہ اس وقت زمین اس کشتی کی طرح ہوگی جو موجوں کے تھپڑوں سے ڈگمگارہی ہو یا عرش سے لٹکتی ہوئی اس قندیل کی طرح جسے ہوا کہ جھونکے بری طرح جھنجھوڑ رہے ہوں۔ بعض نے کہا ہے کہ ریبھونچال قیامت کے دن ہوگا۔ ابن جریر ؓ نے اسی کو ترجیح دی ہو (شوکانی، ابن کثیر) مگر یہ کہنا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ بھونچال دو ہوں گے ایک قیامت سے پہلے اور دوسرا قیامت کے روز۔ (کبیر)
Ayahs 22:2–3

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن تم اس کو دیکھو گے ہر انار دودھ پلانے والی اپنے بچے کو جس کو وہ دودھ پلاتی ہے بھول جائے گی (یا دودھ پلانا بھول جائے گی اتنا ہول ہوگا) ہر پیٹ والی کا پیٹ گر جانے کا اور لوگ ایسے دکھائی دیں گے جیسے حشر میں (متوالے ہیں اور وہ (حقیقت میں) متوالے نہ ہونگے بلکہ خدا کا عذاب سخت ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعضا ایسا ہے جو بن جانے مجھے اللہ (کے باب) میں جھگڑتا ہے اور مگر ے (شریز مغرور) شیطان کی پیروی کرتا ہے9

ف 8 ۔ یعنی مردوں کو زندہ کرنے پر اس کی قدرت سے انکار کرتا ہے۔ روایات میں ان کافروں کے نام بھی مذکور ہیں جن کے باب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (وحیدی) 9 ۔ معلوم ہوا کہ آخرت کا انکار شیطان کی پیروی ہے۔ (وحیدی)
Ayahs 22:4–5

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

شیطان کے لئے تو یہ حکم ہوچکا ہے جو کوئی اس سے دوستی کرے (اس کے بہکانے پر چلے) تو وہ اس کو بھٹکا دیگا اور دوزخ کے عذاب تک پہنچا کر رہے گا

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

لوگو اگر تم کو (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہو تو (اس میں کیوں غور نہیں کرتے) کہ ہم نے تم کو مٹی سے بنایا (آدم کو مٹی سے پیدا کیا) ھر (اسکی نسل کو) نطفے سی پھر خون کی پھٹی سے پھر پورے یا ادھورے نیچے سے (گوشت کی بوٹی سے) تاکہ ہم تم کو (اپنی قدرت) دکھلائیں1 اور جس (گل) کو ہم چاہتے ہیں ایک مقرہر مدت تک پیٹ میں رکھتے ہیں نوم اہ یا اس سے بھی زیادہ پھرت م کو بچہ بنا کر (ماں کے پیٹ سے نکالتے ہیں پھر (تم کو پالتے ہیں) اس لئے کہ جوانی پہنچو اور تم میں سے کوئی (پوری عمر ہونے سے پہلے) مرجاتا ہے اور کوئی بڑی نکمی عمر تک پہنچ جاتا ہے کہ (سب کچھ جاننے ( اور سمجھنے) کے بعد پھر (بچہ بن جائے اور) کچھ نہ جانے2 اور دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے زمین سوکھی (اس پر سبزی کا نام نہیں، پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ (سبزے سے) لہلہانے اور اپھرنے لگتی ہے اور ہر قسم کی رونق دارچیزیں اگاتی ہے۔3

ف 10 ۔ یہ ان مراحل کا مجمل اور عام فہم ذکر ہے جن سے ایک بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں گزرتا ہے اور پھر جوان ہو کر آخری عمر کو پہنچتا ہے اور یہ کل سات مراحل بیان کئے ہیں۔ پیٹ میں حمل کے مراحل کا ذکر صحیحین کی ایک حدیث میں بھی آیا ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں میں وہ خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں میں گوشت کی بوٹی۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے۔ (کبیر، ابن کثیر) 1 ۔ اور تم سمجھو کہ جو خدا اس طرح انسان کو عدم سے وجود میں لاسکتا ہے اس کے لئے اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی بخشنا کیا مشکل ہے۔ 2 ۔ یہ بڑھاپے کی اس حالت کا ذکر ہے جس میں انسان کے ہوش و حواس برقرار نہیں رہتے اور وہ بچوں کی سی باتیں کرنے لگتا ہے اور یہاں مذکورہ مراحل میں یہ ساتواں اور آکری مرحلہ ہے۔ (کبیر) 3 ۔ یہ انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر دوسری دلیل ہے۔ (کبیر)
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب اس وجہ سے کہ اللہ وہی حق ہے اور وہی مردوں کو (قیامت کے دن) جلائے گا ا اور وہی سب کچھ کرسکتا ہے4

ف 4 ۔ یعنی یہ مذکورہ وجوہ اس بات پر دلیل ہیں کہ وہی قائم و دائم ہے اور اسی کی قدرت سے یہ سب تعینات ہوتے ہیں۔ لہٰذا تمہارا یہ سمجھنا قطعی باطل ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی امکان نہیں بلکہ جسے جمیع ممکنات پر قدرت حاصل ہے۔ (شوکانی، کبیر)
Ayahs 22:7–8

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور جو لوگ قبروں میں ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ضرور جلا اٹھائے گا ف

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

5 اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقدمے میں جھگڑتا ہے نہ اس کو علم ہے اور نہ عقل ہے اور نہ کوئی روشن کتاب6 رکھتا ہے

ف 5 ۔ تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے اور جیسا کسی کا عمل ہو ویسا ہی اسے بدلہ دیا جائے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں۔ اوپر دوبارہ زندہ کئے جانے کے امکان پر دلائل قائم کئے۔ اب دوبارہ زندگی کے وقوع کی خبر دی اور یہ ظاہر ہے کہ کسی ممکن چیز کے وقوع کی ایک صادق مصدوق خبر دے تو اس کے وقوع میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔ (کبیر) 6 ۔ یعنی اس کے پاس ضروری (بدیہی) علم سے کوئی دلیل ہے نہ نظر و استدلال سے اور نہ کوئی وحی ہی ہے جو خدا کی طرف سے کتاب کی شکل میں نازل کی گئی ہو بلکہ وہ محض اٹکل پچو اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ پہلی آیت میں شیاطین کے مقدارین کا حال بیان فرمایا اور اس آیت میں ان کے پیشوائوں کا۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 22:9

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

اپنی گردن پھیرے ہوئے (اینٹھا ہوا) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ7 سے بہکا دے اس کے لئے (سزا) دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلن کا عذاب بچھائیں گے

ف 7 ۔ یعنی خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے درپے رہتا ہے۔
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(اور اس سے کہیں گے) یہ عذاب تیرے ان کاموں کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے (یعنی دنیا میں کئے تھے) اور اللہ تعالیٰ اپنے بندں پر ظلم نہیں کرتا

ف 8 ۔ کہ وہ کسی کو بےقصور سزا دے یا قصور وار کو چھوڑ دے۔
Ayah 22:11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ9 تعالیٰ کو ایک کنارے رہ کر پوجتا ہے پھر جو اس کا بھلا ہوا کچھ فائدہ ملا مال متاع ہاتھ آیا) تو اپنے دین پر جما رہا اور جو کوئی مصیبت اس پر آن پڑی تو جدھر10 سے آیا تھا ادھر ہی لوٹ گیا اس (کمبخت) نے اپنی دنیا اور آخرت (دونو) کھوئے یہی کھلا گھاٹا ہے1

ف 9 ۔ یعنی دین کے اندر نہیں آتا بلکہ کنارے یا بالفاظ دیگر کفر و اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتا ہے۔ جیسے کوئی لشکر کے کنارے پر رہے۔ اگر فتح ہو تو ساتھ آملے اور شکست ہو تو بھاگ جائے۔ یہ اس کیفیت کا ذکر ہے جو تذبذب اور دلی بےاطمینانی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ آیت ان اعزاب (بادیہ نشین) کے بارے میں نازل ہوئی جو صحرا سے ہجرت کرکے آتے پھر اگر جان و مال میں برکت ہوتی تو اسلام پر بڑے اطمینان کا اظہار کرتے اور اگر تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہوجاتے تو مرتد ہو کر واپس بھاگ جاتے۔ بعض ” مئولفۃ القلوب “ کی بھی یہی کیفیت تھی۔ (کبیر) 10 ۔ یعنی مرتد ہوگیا اور پھر کفرو شرک کی طرف پلٹ گیا۔ 1 ۔ آخرت کا گھاٹا تو ظاہر ہے، رہا دنیا کا خسارہ تو یہ اس لئے کہ ایسے لوگ معاشرے میں بدنام ہوجاتے ہیں اور پھر نفاق اور بزدلی کی وجہ سے اپنے مقاصد میں بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتے۔ شاہ صاحب (رح) کہتے ہیں، دنیا کی نیکی پاوے تو بندگی اور تکلیف پائے چھوڑدے، ادھر دنیا گئی ادھر دین گیا۔ (موضح)
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کے سوا ان چیزوں کو پکارتا ہے جو ان کا نہ برا کرسکتی ہیں اور نہ بھلا کرسکتی ہیں یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے

ف 2 ۔ مطلب واضح ہے لیکن ہمارے زمانے کے بعض بدعت پرست علماء جو لوگوں کو قبر پرستی کی تعلیم دیتے ہیں پہلے تو کسی نبی یا ولی کے متعلق لوگوں میں یہ ذہن پیدا کرتے ہیں کہ یہ نفع بھی دیتے ہیں اور نقصان بھی پہنچاسکتے ہیں اور پھر ان سے کہتے ہیں کہ قرآن نے صرف ان چیزوں کو پکارنے سے منع کیا ہے جو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچاتیں اور یہ قبر یا قبر والے چونکہ نفع بھی پہنچاتے ہیں اور نفقصان بھی اس لئے اسے سجدہ کرنا اور اس پر چڑھاوے چڑھانا قرآن کے منافی نہیں۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

یہ تو ان چیزوں کو پکارتا ہے جن کا نقصان نفع سے کہیں نزدیک3 ہے بیشک (یہ بت) بڑا دوست ہے دیا برا الگ برا کار ساز اور خرار رفیق

ف 3 ۔ یعنی نفع تو درکنار ان کے پکارنے میں الٹا نقصان ہے کیونکہ جو شخص انہیں پکارتا ہے وہ ایمان سے تو یقیناً اور فوراً ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اب رہا ظاہری فائدہ جس کے لئے پکارتا ہے۔ سو وہ ایک موسوم امر ہے۔ حاصل ہو تو ہو، نہ ہو تو نہ ہو اس پکارنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کو (آخر میں اللہ تعالیٰ باغوں میں لے جائیگاجن کے تلے نہری پڑی بہہ رہی ہیں بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے4

ف 4 ۔ یعنی وہ غیر محدود اختیارات کا مالک ہے کسی کو مجال نہیں کہ اس کے حکم میں چون و چرا کرسکے۔ (وحیدی)
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو (کافر) یہ سمجھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (حضرت محمد ﷺ کی انبیاء اور آخرت میں مدد نہ کرے گا اس کو چاہیے کہ ایک رسی چھت پر لٹکائے پھر پھانسی ڈال لے اور دیکھے اس تدبیر سے اس کا غصہ اور حسدا دور ہوتا ہے (یا نہیں)5

ف 5 ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد کرتا رہے گا۔ اگر کافروں کو اس پر غصہ اور جلن ہے تو اس غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی بس ایک ہی صورت ہے کہ چھت سے رسی باندھ کر پھانسی میں لٹک کر مرجائیں یا مطلب یہ ہے کہ کافروں کو چاہیے کہ کسی ذریعے سے آسمان پر چلے جائیں اور وہاں سے آنحضرت ﷺ کو جو مدد یا وحی آرہی ہے اسے منقطع کرنے کی کوشش کریں۔ آیت کے یہ دونوں مطلب اسی صورت میں کہ ولن ینصرہ میں ” ہ “ کی ضمیر محمد ﷺ کے لئے قرار دی جائے لیکن اگر یہ ضمیر خود اس شخص کے لئے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ … مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی تدبیر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی اور اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں ان مردہ یا زندہ شخصیتوں کو جنہیں تم پکارتے ہو کوئی دخل نہیں۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو اسی طرح اتارا کھل کھل آیتیں (جن کا مطلب صاف یہ) اور (ہدایت تو) جس کو اللہ چاہتا ہے6 ہدایت کرتا ہے

ف 6 ۔ یعنی گو قرآن میں ایمان و توحید کی کھلی کھل دلیلیں موجود ہیں مگر اس سے ہدایت وہی پاتا ہے جسے اللہ ہدایت دینا چاہے اس لئے کہ یہ علم و عقل اور تجربہ تو حقیقت تک پہنچنے کا ایک امکانی ذریعہ ہے لیکن اس تک رسائی صرف اللہ کی توفیق پر موقوف ہے۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے (اسلام قبول کیا اور جو یہودی ہیں اور صابی (ستارہ پرست ان کا بیان سورة بقرۃ میں گذر چکا ہے اور تعالیٰ اور مجوسی (پارسی آتش پرست اور مشرک ہندو بدھو وغیرہ قیامت کے دن اللہ ان سب کا فیصلہ کریگا7 ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا) ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے (سب کو دیکھ رہا ہے ہر ایک کے اعمال سے واقف ہے (دیکھنے والے)

ف 7 ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں سے ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ ان گروہوں میں سے کونسا گروہ حق پر ہے اور کونسا باطل پر اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمان حق پر ہیں لیکن یہ جو فرمایا کہ ” اللہ فیصلہ کریگا “ تو اس سے صرف باطل پرست فرقوں کی تہدید مقصود ہے یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کو مقام و جزا کے اعتبار سے الگ الگ کردیا جائے گا۔ (کبیر، شوکانی)
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرتے ہیں جو زمین میں ہیں (فرشتوں اور مخلوق میں سے) اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ درخت اور جانور بہ ت سے آدمی (بھی جو موجود ہیں ؎) اور بہت سے آدمی ایسے ہیں جن پر (نافرمانی کی وجہ سے) عذاب1 آنا لازم ہو یا ہے (مراد کافر اور مشرک ہیں اور) اور جس کو اللہ ذلیل کر دے2 اسے کوئی (اور دوسرا) عزت نہیں دے سکتا اللہ جو چاہے وہ کرتا ہے3

ف 1 ۔ یہاں سجدہ کا لفظ بیک وقت دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک ” انقیاد “ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے عاجزی و بےبسی جس میں سب مخلوق شامل ہے۔ عام اس سے کہ وہ عق و شعور رکھتی ہے یا نہیں کیونکہ ہر چیز اس کے تکوینی قانون کے مطابق کام کررہی ہے اور دوسرے سجدہ کے معنی ہیں اطاعت فرمانبرداری یعنی تکلیفی اور شرعی احکام کو اپنے اختیار و ارادہ سے بجالانا اس معنی میں سجدہ صرف ذوی العقول کے ساتھ مخصوص ہے اور ” کثیر من الناس “ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سجدہ سے منکر ہیں دوسری تمام مخلوق یہ سجدہ بجالارہی ہے۔ (فتح القدیر) 2 ۔ یعنی اسے کافر و مشرک بنا کر ذلیل کرے۔ 3 ۔ اس مقام پر سجدہ ہے اور سورة حج کے اس سجدہ پر سب دائمہ کا اتفاق ہے۔
Ayah 22:19

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو (فرقے مومن اور کافر ایک دوسرے کے) مخالف (مدعی) ہیں جو4 اپنے خدا کے باب میں جھگڑ رہے ہیں پھر جو وگ کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (ٹھیک ان کے بدن کے موافق ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی اونڈ یلا جائے گا

ف 4 ۔ یہاں کافروں سے مراد مسلموں کے علاوہ مذکورہ پانچ فرقے ہیں یہ سب ایک گروہ ہیں اور ان کے مقابلے میں مسلمان دوسرا گروہ، خدا کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان خدا کی توحید کے قائل ہیں اور یہ تمام لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کے خیالات رکھتے ہیں جو کفر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ (کبیر) تفاسیر میں لکھا ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں کی طر سے حضرت حمزہ ؓ ، علی ؓ اور عبید ؓ بن حارث اور کفار مکہ کی طرف سے عقبہ، شیبہ اور ولید بن ربیعہ مبارزت کے لئے نکلے۔ انہی دو جماعتوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ چناچہ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : انا اول من یحبثو بین یدی الرحمن المخومہ، یوم القامۃ، کہ قیامت کے دن خصومت کے لئے سب سے پہلے خدائے رحمن کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھوں گا۔ (ابن کثیر بحوالہ بخاری)
Ayahs 22:20–23

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

جس (کی گرمی) سے جو ان کے پیٹ میں ہے آنتیں اور کھالیں گل جائیں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے (مارنے کے لئے) لوہے کے گرز ہوں گے

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

ہر بار جب وہ گھٹ کر اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا جلن کا عذاب چکھتے رہو

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے باغوں میں لے جائے گا جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنئاے جائیں گے۔5 اور ان کا لباس ریشمی ہوگا6

ف 5 ۔ گزشتہ زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس زینت اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لئے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں شاہانہ لباس پہنچایا جائے گا۔ 6 ۔ حریر سے مراد خالص ریشم ہے جس کا استعمال مردوں کے لئے دنیا میں حرام ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا اسے وہ آخرت میں نہ پہنایا جائے گا “ اس بارے میں اور بھی کئی احادیث ثابت ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 22:24

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور ان کو پاکیزہ بات کی طرف لے جائیں گے اور خوبیوں7 والے (خدا) کی راہ پر لگائیں گے (یا اچھی راہ پر لگائیں گے)

ف 7 ۔ یعنی اس مقام کی طرف جہاں وہ پاکیزہ اور بہتر کلام سنیں گے۔ مراد ہے جنت کہ وہاں ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آوازآئے گی۔ لغو اور بیہودہ باتوں سے اہل جنت کے کان کبھی آشنا نہ ہوں گے۔ (واقعہ : 62) یا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں (دنیا میں) نیک بات (یعنی کلمہ توحید) کی ہدایت دی گئی۔ (شوکانی، ابن کثیر)
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

ف 8 جو لوگ کفر کرتے ہیں اور خدا کے رستے اور ادب والے (کعبہ کی) مسجد سے (اس میں جانے سے لوگوں کو روکتے ہیں جسے ہم نے9 (عام سب) لوگوں کے لئے یکساں (عبادت کا مقام) ٹھہرایا ہے (کسی کی خصوصیت نہیں) وہاں کا رہنے والا اور باہر10 سے آنے والا دونوں برابر ہیں اور جو کوئی اس میں شرارت سے ٹیڑھی راہ11 چلتا چاہے (شرک بدعت کا ارادہ کرے) اس کو ہم تکلیف کا عذاب چکھائیں گے

ف 8 ۔ خدا کی راہ سے مراد اسلام اور چھی راہ سے مراد جنت ہے۔9 ۔ مراد ہیں کفار مکہ جنہوں نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو حج اور عمرہ سے روکا تھا۔10 ۔ یعنی دونوں وہاں بلامزاحمت عبادت کرسکتے ہیں اور کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے کو اس میں آکر عبادت کرنے سے منع کرے۔ ایک حدیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب بھی کوئی چاہے بیت اللہ میں نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کا طواف کرسکتا ہے۔ مسجد حرام کی اس حیثیت پر سب کا اتفاق ہے لیکن اختلاف اس بارے میں ہے کہ آیا یہی حکم کہ زمینوں اور مکانوں کے لئے بھی ہے ؟ اکثر صحابہ اور بعد کے اہل علم کے نزدیک ان کے لئے وہ حکم نہیں ہے جو مسجد حرام کے لئے ہے بلکہ دوسرے شہروں کی طرح مکہ میں بھی ہر شخص اپنے مکان اور زمین کا مالک ہے اور وہ دوسرے کو بلا کرایہ اترنے اور ٹھہرنے سے منع کرسکتا ہے۔ ائمہ اربعہ میں سے امام شافعی (رح) کی یہی رائے ہے اور امام مالک (رح) اور ابوحنیفہ (رح) اور بعض دوسرے اہل علم کے نزدیک مکہ کے مکانوں اور زمینوں کا بھی وہی حکم ہے جو مسجد حرام کا ہے یعنی کوئی شخص نہ تو اپنا مکان بیچ سکتا ہے اور نہ کرایہ وصول کرسکتا ہے اور انہوں نے بعض روایات کے علاوہ اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ خلفائے ثلاثہ کے زمانہ خلافت میں ہم سب کی زمینیں سوائب (شاملات) تصور کی جاتی تھیں۔ امام احمد ؓ نے ایک درمیانی راہ اختیار کی ہے کہ مکہ کے مکانوں کی ملکیت تو ہوگی مگر انہیں کرایہ پر نہ دیا جائے گا۔ (شوکانی، ابن کثیر) 11 ۔ ” ٹیڑھی راہ “ کا لفظ عام ہے اس سے مراد شرک و بدعت بھی ہے اور گناہ کا ہر مراسم بھی حتیٰ کہ حرم کے جانوروں کو متانا، اس کے درختوں کو کاٹنا اور جھوٹی قسم کھانا بھی اس میں شامل ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ حرم میں گناہ کا قصد کرنا بھی حرام اور موجب سزا ہے۔ (شوکانی بحوالہ بخاری)
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر وہ وقت یاد کیا جب ہم نے ابراہیم1 کے لئے خانہ کعبہ کی جائیمقرر کردی اور اس کو حکم بھیجا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا اور میرا (یہ گھر طواف کرنیوالوں اور (نماز میں) کھڑے ہونے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں2

ف 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کی اور وہ اس سے پہلے موجود نہ تھا جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ ابوذر ؓ نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول ﷺ ، سب سے پہلے کونسی مسجد تعمیر ہوئی فرمایا ” مسجد حرام “ انہوں نے پوچھا : پھر کونسی ؟ فرمایا : ” بیت المقدس “۔ پھر پوچھا دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ فرمایا : ” چالیس سال “ (ابن کثیر) 2 ۔ صاف ستھرے رکھنے سے مراد شرک و بت پرستی سے پاک و صاف رکھنا ہے۔ اس سے مشرکین کو عار دلانا مقصود ہے کہ یہ شرط تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے وقت سے چلی آتی ہے کہ اس میں بت پرستی حرام ہے۔
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

کے لئے صاف ستھرا رکھنا اور لوگوں کو حج کی منادی کر دے وہ تیرے پاس آئیں گے پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر3 دور کے راستے سے چلے آرہے ہوں گے4

3 وہ اونٹ جسے چارہ کی قلت اور سفر نے تھکا کر دبلا کردیا ہو۔ 4 ۔ چناچہ ابراہیم ( علیہ السلام) نے ایک پہاڑی پر چڑھ کر یہ اعلان کیا اور سب نے ان کی پکار کا جواب دیا لبیک اللھم لبیک۔ (شوکانی) 5
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

(یہ سفر) اس لئے (کریں گے) کہ اپنے (دین اور دنیا کے)5 فائدوں میں حاضر رہیں اور چند معین دنوں میں دسویں ذی الحجہ سے لیکر بارہویں تک)6 جو جو پائے جانور اللہ نے ان کو دیئے ہیں ان پر (قربانی کے وقت اللہ کا نام لیں تو (لوگو)7 اس (قربانی) میں سے تم (خود بھی) کھائو اور مصیبت کے مارے فقیر کو بھی کھلائو8

اصل مقصد تو عبادت کے ذریعے دینی اور اخروی فوائد حاصل کرنا ہے لیکن ضمناً حج میں بہت سے دنیوی اور ملی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ 6 ۔ یعنی ایام تشریق جو قربانی کے دن ہیں۔ (دیکھئے سورة بقرہ :203) ان دنوں میں قربانی جائز ہے مگر اس کا مسنون وقت 10 ذی الحجہ رمی جمرہ عقبہ کے بعد ہے۔ (زادالمعاد) 7 ۔ یعنی اونٹ گائے اور بھیڑ بکری (دیکھئے سورة انعام 143 ۔ 144) 8 ۔ یہ حکم استحباب کے لئے ہے اور اس سے مقصود مشرکین کے طریقہ کی مخالفت ہے کیونکہ وہ اپنی قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ (ابن کثیر) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب اونٹ ذبح فرمائے تو حکم دیا کہ ہر اونٹ کی ایک ایک بوٹی لے کر پکائی جائے۔ پھر آپ نے وہ گوشت کھایا اور شوربا پیا۔ لہٰذا حاجی اپنی مسنون یا نفلی قربانی کا گوشت کھا سکتا ہے۔ اس پر تمام ائمہ (رح) کا اتفاق ہے اور امام شافعی (رح) کے علاوہ دوسرے ائمہ (رح) کے نزدیک دم تمتع اور قرآن کا گوشت بھی کھا سکتا ہے البتہ کسی اور واجب قربانی کا گوشت نہیں کھا سکتا۔ (نیل ج 5، ص 113)
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر (قربانی کرنے کے بعد) اپنا میل کچیل نکالیں9 اور اپنی منتیں (نذریں جو اللہ کے لئے پانی تھیں) پوری کریں اور پرانے گھر (کعبہ) کا طواف کریں10

9 ۔ یعنی حجامت بنوائیں اور نہائیں دھوئیں اور جمرہ عقبہ کی رمی کر کے احرام کھول دیں۔ 10 ۔ مراد ہے طواف افاضہ جسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں۔ اس پر تمام علما کا اجماع ہے کہ یہ طواف حج کا رکن ہے۔ اس سے مناسک حج کی تکمیل ہوتی ہے اور حاجی سے احرام کے سلسلے کی تمام پابندیاں اٹھ جاتی ہیں۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ تو ہوا اور جو کوئی ان چیزوں کا ادب کرے جن کو اللہ نے عزت دی11 ہے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہوگا اس کے ملک کے پاس یعنی آخرت میں اور مسلمانوں تمہارے لئے چوپائے جانور (جیسے اونٹ گائے بکری حلال ہیں مگر جو تم کو12 پڑھ کر سنائی جاتی ہیں (قرآن میں جیسے مرو اور سور وغیرہ تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو ان کی پرستش نہ کرو اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو13

11 ۔ جیسے خانہ کعب حرم اور مکہ معظمہ یا ترجمہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے انہیں برا سمجھے یعنی ان سے باز رہے جیسے احرام میں شکار یا لڑائی جھگڑا وغیرہ۔ 12 ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة مائدہ آیت 3 اور نحل :115 ۔ 13 ۔ جھوٹ بولنے میں ہر وہ چیز شامل ہے جو حق کے خلاف ہو جیسے شرک، بہتان، جھوٹی گواہی، جھوٹی قسم اور اپنی مرضی سے چیزوں یا جانوروں کی تحریم و تحلیل وغیرہ۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ” جھوٹی گواہی “ کو سب سے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

پس خالص خدا کے (تابعدار) ہو رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اس کی مثال ایسی ہے) جیسے وہ آسمان سے گرپڑا پھر دراہ میں) پرندے اس کو اچک لیں (نوچ کھائیں) یا آندھی اس کو (اڑا کر) کہیں دور14 پھینک دے

14 ۔ یعنی ایمان ایک اعلیٰ چیز ہے جس نے اسے چھوڑا اور شرک کیا وہ گویا رفعت ایمانی کے مرتبہ سے کفر کے گڑھے میں گرپڑا اور اس نے اپنے آپ کو نوچنے والے پرندوں کے حوالے کردیا، یا وہ ناشکری کی آندھی میں گھر کے انسانیت سے دور جا پڑا۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ تو ہوا اور جو اللہ کے نام کی چیزوں کی بڑائی کر دے15 دلوں کی پرہیز گاری سے ہے16

15 ۔ یعنی ان چیزوں کی تعظیم کرے جو خدا پرستی کی علامت ہیں خواہ وہ اعمال ہوں جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ یا چیزیں ہوں جیسے قربانی کے جانور ان کے گلوں میں پڑے ہوئے پٹے، صفا ومروہ، خانہ کعبہ بلکہ کوئی مسجد لفظ شعائر اللہ ان سب کو شامل ہے۔ (دیکھئے بقرہ :158، مائدہ :2) 16 ۔ یعنی اس کے دل میں خوف خدا ہے تبھی تو وہ ان شعائر یک تعظیم کرتا ہے۔
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

ان جانوروں سے تم کو ایک معین میعاد تک فائدے1 ہیں پھر ان کا ٹھکانا یعنی قربانی کا مقام) پرانے گھر (کعبہ) کیطرف ہے2

1 ۔ فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا اور ان کی نسل اور اون وغیرہ کو استعمال میں لانا ہے۔ معین میعاد سے مراد ان کی قربانی کا وقت ہے۔ (فتح القدیر) 2 ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ھدیا بالغ الکعبۃ۔ یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ (مائدہ : ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حدود حرم ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ” محلھا “ میں ” ھا “ ضمیر سے مرادسارے شعائر ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ یعنی زیادہ انسب ہیں ورنہ خصوصیت کے ساتھ ” بیت عتیق “ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہر قوم کے لئے ہمنی ایک قربانی کا طریقہ ٹھہرا دیا ہے (یا عید کا دن یا عبادت کا دن) اس لئے کہ چوپائے جانوروں پر جو اللہ تعالیٰ ان کو دیئے ہیں3 (قربانی کے وقت) اللہ کا نام لیں (اسی کے نام پر کاٹیں تو (اے لوگو تمہارا خدا ہی ایک خدا ہے اسی کے تابعدار رہو اور صاے پیغمبر) گڑگڑانے (عاجزی کرنے) والوں کو (بہشت کی اور بحاری رضا مندی کی) خوشخبری دے

3 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جزو رہا ہے اور اسلام میں بھی یہ بطورعبادت مقرر کی گئی ہے اور اس میں حاجی غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے چناچہ آپ ﷺ مدینہ میں دس سال رہے اور ہر سال قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی بروایت حضرت ابن عمر ؓ
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کے دل اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہی ڈر جاتے ہیں اور جو مصیبت ان پر پڑے اس پر صبر کرتے ہیں اور نماز کو درستی سے ادا کرتے ہیں اور جو ہم نے ان کو (اپنے فضل سے دیا ہے4 اس میں سے ہمارے راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی زکواۃ اور صدقہ دیتے ہیں اور

4 ۔ گو لفظ ” بدن “ عموماً قربانی کے اونٹ پر بولا جاتا ہے مگر اس میں قربانی کی گایوں کو شامل قرار دیا جاسکتا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر) ایک اونٹ کی قربانی میں دس اور ایک گائے کی قربانی میں سات شریک ہو ستے ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے اور صحیح مسلم میں جو حضرت جابر ؓ والی روایت میں ” الجزو رعن سبعۃ “ آیا ہے وہ اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ عشرۃ والی روایت جواز پر محمول ہے۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

قربانیکے اونٹوں کو بھشی ہم نے اللہ کے نام کی ادب والی چیزوں میں سے بنایا ہے ان میں ت مہارا فائدہ ہے (دین اور دنیا کا) ان پر5 پر جب وہ پائوں بندھے کھڑے ہوں اور (سحر کے وقت)6 اللہ کا نام لو پھر جب وہ کروٹوں پر گرجائیں (ٹھنڈے) ہوجائیں تو خود بھی ان میں سے7 سے کھائو اور صبر سے بیٹھنے والے فقیر اور مانگنے والے فقیر دونوں کو) کھلائو (ہر طرح کے محتاجوں کو8 دو ) ہم نے اس طرح ان جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا ہے اس لئے کہ تم شکر کرو۔

5 ۔ اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کرنا سنت ہے۔ صحیحین میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا ہے تو فرمایا : ابعثھا قیاما مقیدۃ سنۃ ابی القاسم ﷺ کہ اسے پائوں باندھ کر کھڑا کر کے نحر کرو۔ ابو القاسم کی سنت یہی ہے۔ (ابن کثیر) 6 ۔ ٹھنڈا ہونے سے پہلے کسی قربانی کے جانور کا کاٹنا شروع کردینا صحیح نہیں۔ حدیث میں ہے جب تم ذبح کرو بہتر طریقہ سے ذبح کرو۔ اپنی چھری خوب تیز کرلو اور جانور کو آرام دو (یعنی اسے ٹھنڈا ہونے دو )…ابن کثیر) 7 ۔ یہ حکم بھی پہلے حکم کی طرح استحباب کیلئے ہے۔ امام شافعی (رح) خود کھانے کو تو مستحب ہی قرار دیتے ہیں مگر کھلانے کو واجب کہتے ہیں۔ (قرطبی) 8 ۔ یعنی اس نعمت کا شکر کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عنایت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا حکم اسی لئے دیا گیا ہے کہ اپنے مالک حقیقی کا شکریہ ادا کیا جائے۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ خون لیکن اللہ کو تمہاری پرہیز گاری پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ نے اسی طرح ان جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم کو راہ10 پر لگایا تم بھی (اس کے لئے) اللہ کی بڑائی کرو اور (اے پیغمبر) نیکوں کو (بہشت کی) خوشخبری دے

9 ۔ یعنی قربانی میں اصل چیز جانور کا گوشت اور خون نہیں بلکہ تمہارے دلوں کا خلوص اور تقویٰ ہے۔ اگر خلوص نیت سے قربانی کرو گے تو تمہارا نذرانہ خدا کے حضور قبولیت حاصل کرلے گا ورنہ خون اور گوشت کی خدا کو کچھ ضرورت نہیں ہے۔ اسی بات کو آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے (ان اللہ لا ینظر الی اجسامکم ولا الی صورکم و لکن ینظر الی قلوبکم۔ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے بلکہ وہ تو تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم عن ابی ہریرۃ) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکین قربانی کر کے اس کا خون کعبہ پر چھڑکتے تھے۔ مسلمانوں نے بھی ایسا کرنا چاہا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (شوکانی) 10 ۔ یہا تکبر یعنی ” اللہ اکبر “ کہہ کر اللہ کی بزرگی بیان کرنے کا ذکر فرمایا، اور اس سے پہلے قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت ” بسم اللہ واللہ اکبر “ کہنامطلوب الٰہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ دونوں کو جمع کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قربانی کے دو جانور (دنبے) اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے وقت پہلے دعا پڑھی اور پھر بسم اللہ واللہ اکبر “ پڑھ کر ان کو ذبح کیا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ بیشک ایمان والوں سے (ان کے دشمنوں کو) ہٹا دیگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی دغا باز ناشکرے کو پسند نہیں کرتا

11 ۔ یعنی حق و باطل کی کشمکش میں اہل ایمان کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں حمایت فرمائے گا۔ چناچہ اس وعدہ کے مطابق مسلمان اپنے دشمنوں کی شرارتوں سے محفوظ رہے اور آخر کار اسلام کو غلبہ نصیب ہوا۔ 12 ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین کے بقول یہ پہلی آیت ہے جس میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں لڑنے کی اجازت دی گئی اور یہ بھی فی مجملہ مدافعت کی ایک صورت ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) اس آیت میں قتال یعنی لڑنے کی صرف اجازت دی گئی ہے بعد میں سورة بقرہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں لڑنے کا حکم دیا گیا ہے دیکھئے آیت۔ 19، 191، 391 ۔ 241 اور 223 (ابن کثیر)
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

اب جن (مسلمانوں سے کافر) لڑتے ہیں ان کو بھی (لڑنے کی) اجازت ہے کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ انکی مدد کرنے پر قادر ہے1

1 ۔ یعنی گو ان کی تعداد کم ہے اور بےسروسامان ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کو تمام دشمنوں پر غالب کرسکتا ہے۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

جو اپنے ملک سے (مکہ سے) یہ کہنے پر کہ ہمارا مالک اللہ ہے اور کوئی بات نہیں (نہ کسی کا خون کیا نہ ڈاکہ مارا ناحق نکالے گئے اور اگر اللہ ت عالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے پر سے نہ ہٹاتا رہتا (مشرکوں کا غلبہ نہ روکتا) تو خانقا ہیں اور گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ ت عالیٰ کا نام بہت لیا جاتا ہے (سب کے سب3) گرا دی جائیں اور جو کوئی اللہ کی مدد کرے اس کے دشمنوں سے لڑے4) اللہ تعالیٰ بھی بیشک اس کی مدد کریگا کیونکہ اللہ زبردست ہے عزت والا (یا غالب)

2 ۔ یعنی تارک الدنیا عیسائی راہبوں کی خانقاہیں۔ 3 ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے ہر زمانے میں مشرکوں کے غلبہ کو روکا اور انبیا ( علیہ السلام) اور مومنوں کو قتال کی اجازت اور حکم دے کر ان کی مدافعت کی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو یہ مشرک حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں یہودیوں کے عبادت خانوں کو، حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں گرجوں اور خانقاہوں کو اور اب محمد ﷺ کے زمانہ میں مسجدوں کو مسمار کر ڈالتے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے اور ان کو مسمار نہ کیا جائے۔ (قرطبی۔ شوکانی) 4 ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کے دین کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔