22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ (مسلمان) ایسے ہیں کہ ہم ان کو ملک میں جما دیں (ان کی حکومت قائم کردیں) تو نماز کو درستی سے پڑھیں گے اور زکواۃ دیں گے اور اچھی بات کا حکم کریں گے اور بری بات سے منع کریں گے5 گے اور سب کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے

5 ۔ یعنی ان کے کرنے کے کام یہ ہیں کہ اپنے ہاں نماز، زکوٰۃ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کریں تاکہ لوگوں میں دینداری عام ہو اور استباری حق گئی، عدل و انصاف اور دوسری تمام نیکیاں پروان چڑھیں۔ اس آیت میں خلفاء اربعہ ؓ کی امامت کے برحق ہونے کی بھی دلیل پائی جاتی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے حکومت و خودمختاری بخشی تو انہوں نے اپنی ساری توجہ انہی کاموں پر مرکوز کردی اس لئے پوری امت انہیں خلفاء راشدین ؓ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ (کبیر)
Ayah 22:42

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور6 اور (اے پیغمبر) اگر یہ کافر تجھ کو جھٹلائیں (تو کجھ رنج کی بات نہیں) ان سے پہلے نوح اور عاد اور ثمو دی کقو میں (بھی اپنے اپنے پیغمبروں کا جھٹلا چکے ہیں

6 ۔ ” یعنی گو آج مسلمان مغلوب ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ آخر کار انہیں منصور و غالب کر دے۔ سو موجودہ حالات سے ہر اساں اور دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے۔
Ayahs 22:43–44

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور ابراہیم اور لوط کی قومیں

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین والے (یعنی شعیب کی قوم اور موسیٰ بھی جھٹلا دیا گیا7 تو میں نے (چند روز تک) کافروں کو مہلت دی پھر ان کو دھر پکڑا (اپنے عذاب میں گرفتار کیا) تو (تو نے دیکھا)8 میرا پلٹنا کیسا ہوا (کس بلا کا پلٹنا تھا )

7 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ 8 ۔ یا تو آرام و عزت کی زندگی گزار رہے تھے یا پھر ایسے تباہ ہوئے کہ نام و نشان تک مٹ گیا۔ ’ نکیر ‘(جس کا ترجمہ پلٹنے سے کیا گیا ہے) کا پورا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کی بری روش کو ناپسند کرتے ہوئے اس کی خوشالی کو بدحالی سے بدل ڈالا جائے۔ (کبیر)
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں جو نافرمان تھیں (یعنی وہاں کے رہنے والے نافرمان تھے) ہم نے ان کو تباہ کردیا اب وہ اپنی چھتوں پر گری9 پڑی ہیں اور (بہت سے) کنوئیں جو بیکار پڑے10

9 ۔ یعنی ڈھے چکی ہیں اور اجاڑ پڑی ہیں۔ 10 ۔ کوئی ان سے پانی نکالنے والا اور پینے والا نہیں رہا۔ 11 ۔ کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں رہا۔ آیت میں ان کی کامل تباہی کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

ہیں اور بہت سے عالیشان (یا پکے محل (خالی پڑے ہیں کیا یہ لوگ زمین میں نہیں پھرے (ملکوں کی سیر نہیں کی اگر سیر کرتے) تو ان کے دل ایسے ہوجاتے جن سے (حق بات) سمجھ لیتے یا کان ایسے ہوجاتے جن سے (نصیحت) سن لیتے بات یہ ہے کہ آنکھیں تو (ان کی اندھی نہیں ہیں لیکن دل جو سینوں میں1 ہیں وہ اندھے ہیں

1 ۔ یعنی ان کے ظاہری حواس (کان، آنکھ) تو صحیح سلامت ہیں مگر دل اندھے ہوگئے ہیں ان میں فکر و تدبر کی صلاحیت نہیں رہی۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ لوگ تجھ سے عذاب2 کی جلدی مچا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ کبھی خلاف نہیں کرنے کا اور (اصل بات یہ ہے) کہ تیرے مالک کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار سے ہزار برس کے برابر ہے3

2 ۔ یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب نہیں آسکتا۔ اس لئے اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور بار بار اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 3 ۔ اس لحاظ سے قیامت جس میں تمہیں عذاب ملنے والا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قریب ہے اگرچہ وہ تمہیں دور معلوم ہوتی ہے۔ (وحیدی) یا مطلب یہ ہے کہ ہزار برس کا کام ایک دن میں کرسکتا ہے۔ (موضح) ہوسکتا ہے کہ شدت ہول کے اعتبار سے قیامت کے دن کو ہزار برس کے برابر قرار دیا ہو۔ (کبیر)
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیوں کو میں نے (چند روز کی) مہلت دی (ان کو دنیا میں چین اڑانے دیا) پھر جب خوب غافل ہوگئے تو میں نے ان کو (ایک ہی ایکا) دھر پکڑا اور میرے ہی پاس سب کو4 لوٹ کر آنا ہے

4 ۔ یعنی کیا ڈھیل دینے سے وہ کہیں بھاگے ؟ کسی کو جلدی پکڑا جائے یا دیر سے۔ آخر پلٹ کر تو سب کو ہماری طرف ہی آنا ہے۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

ائے پیغمبر کہہ دے لوگو میں تو تم کو خدا کے عذاب5 سے کھلم کھلا ڈرانیوالا ہوں

5 ۔ یعنی خواہ وہ مذاق اڑائیں مگر پیغمبر کا فرض ہے کہ وہ ” انذار “ کو ترک نہ کرے۔ (کبیر)
Ayahs 22:50–51

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

اور کوئی بات نہیں پھر جو لو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام (بھی) کئے ان کے لئے (آخرت میں گناہوں کی بخشش ہے اور عزت کی روزی (یعنی بہشت)

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں (کے رد کرنے) میں کوشش کی (اپنے خیال میں) ہم کو عاجز کرنے کے لئے6 یہی لوگ دوزخی ہیں۔

6 ۔ یعنی ہمیں ہرانے یا ہمارے قابو سے باہر ہوجانے کے لئے۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول یا نبی ایسا نہیں بھیجا مگر اس کو یہی بات پیش آئی جب اس نے کوئی خیال باندھا (یا کچھ پڑھنا شروع کیا) تو شیطان7 نے اپنی طرف سے اس کے خیال (یا تلاوت) میں کچھ ملا دیا پھر جو شیطان ملا دیتا ہے اس کو اللہ منسوخ کردیتا ہے ( میٹ دیتا ہے) اور اپنی (سچی) باتوں کو زور دیتا ہے (قائم رکھتا ہے) اور اللہ سب کو جاننے والا حکمت والا ہے

7 ۔ لفظ ” امنیۃ “ اور ” تمنی “ کے یہ دونوں معنی آتے ہیں۔ اس لئے مفسرین (رح) نے دونوں معنی ہی بیان کئے ہیں۔ پہلے معنی ” خیال باندھا “ پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : نبی ﷺ کو ایک حکم اللہ سے آتا ہے اس میں ہرگز تفاوت نہیں اور ایک اپنے دل کا خیال اس میں جیسے اور آدمی، بھی خیال ٹھیک پڑا کبھی نہ پڑا۔ جیسے حضرت ﷺ نے خواب دیکھا کہ مدینے سے مکہ گئے، عمرہ کیا، خیال میں آیا کہ شاید اب کے برس ( ہوگا مگر) وہ ٹھیک پڑا اگلے برس… پھر اللہ جتا دیتا ہے کہ جتنا حکم تھا اس میں تفاوت نہیں۔ (موضح) اس صورت میں اس خیال کے غلط ہونے کی بنا پر اسے شیطان کی طرف منسوب کردیا ہے۔ دوسرے معنی یعنی ” کچھ پڑھنا شروع کیا “ کے تحت بعض علمائے تفسیر نے اس کی شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سورة ” النجم “ تلاوت فرما رہے تھے جب آیت ” و مناۃ الثالثۃ الاخریٰ “ پر پہنچے تو بےشعوری کے عالم میں شیطان نے آپ ﷺ کی زبان پر یہ کلمات جاری کردیئے : ” تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجیٰ “ کہ یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت متوقع ہے) اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ کو بہت غم لاحق ہوا۔ چناچہ سورة حج کی یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیا ( علیہ السلام) کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوئے وغیرہ۔ مگر محققین علما (رح) نے اس قصہ کی پرزور تردید کی ہے اور اسے بےاصل قرار یا ہے۔ ابن خزیمہ (رح) نے تو اس قصہ کو زنادقہ (ملحدین) کی سازش قرار دیا ہے تاکہ دین میں شک و شبہات پیدا کرسکیں۔ یہی بات محمد بن اسحاق صاحب سیرۃ اور ابو منور ماتریدی (رح) نے لکھی ہے گو حافظ ابن حجر اور ان کے بعد ابراہیم کو رانی نے اسنادی حیثیت سے اسے قابل اعتبار قرار دیا ہے اور پھر معنوی حیثیت سے جو اعتراضات اس پر وارد ہوتے ہیں ان کے جوابات میں بہت طویل بحث کی ہے مگر بہتر رائے ابن خزیمہ وغیرہ کی ہے کیونکہ اگر اسے تسلیم کرلیا جائے تو وحی سے اعتبار اٹھ جاتا ہے حالانکہ وحی کی تبلیغ میں انبیا ( علیہ السلام) کا معصوم اور محفوظ ہونا متفق علیہ امر ہے اور جیسا کہ قاضی عیاض نے ” الشفا “ میں تصریح کی ہے اور امت کا اتفاق ہے کہ وہ قصداً یا سہواً اس میں غلطی نہیں کرسکتے۔ (مزید دیکھئے سورة النجم :20 مختصر از کبیر و روح) لہٰذا ان دوسرے معنی کی رو سے آیت کا صحیح مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اس وحی کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شب ہے ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ ” متشابہات “ میں اہل زیغ (کج ذہن) فتنہ پردازی اور ملمع سازی کی کوشش کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ دوسری محکم آیات نازل فرما کر ان کی ” تاویلات فائدہ “ کا سدباب کردیتا ہے واللہ اعلم۔
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

اس سے یہ غرض ہے کہ شیطان جو (اپنی طرف سے) ملا دیتا ہے اس کی وجہ سے ان لوگوں کو آزمائے جن کے دل میں (شک اور نفاق کی بیماری ہے اور ان کے دل سخت ہیں8 اور بیشک یہ ظالم کافر پرلے سرے کی ضد (ہٹ دھرمی) میں پڑے ہوئے ہیں9

8 ۔ ان سے مراد وہ کافر ہیں جن کو اپنے کفر پر اصرار ہے اور ” فی قلوبھم مرض “ سے مراد اہل نفاق اور آزمائش اسی معنی میں ہے کہ آیا وہ شک و نفاق سے باز آتے ہیں یا اس میں مزید ترقی کرتے ہیں۔ 9 ۔ کہ شیطانی وساوس اور شبہات کو اللہ تعالیٰ کا فرمودہ خیال کرتے ہیں۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور یہ غرض ہے کہ جو لوگ علم والے ہیں وہ جان لیں کہ وحی (یعنی قرآن شریف) برحق ہے تیرے مالک کی طرف سے پھر اس پر ایمانل ائیں اور ان کے دلوں کو اس بر اطمینان ہو1 اور بیشک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ضرور سیدھا راستہ2 دکھلائے گا

1 ۔ ” تخبت “ میں مطمئن ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے اور جھکنے اور نرم ہونے کا بھی (شوکانی) 2 ۔ یعنی انہیں شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں وہ تو ہمیشہ قرآن میں شک ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ایک ہی ایکا قیامت ان پر آئجا یا ایک منحوس دن کا عذاب ان پر آئے3

3 ۔ مراد ہے قیامت ہی کے دن کا عذاب۔
Ayahs 22:56–58

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس دن اللہ ہی کی بادشاہت ہوگی وہ ان کے آپس (کے جھگڑوں میں فیصلہ کریگا تو جو لوگ ایما نلائے اور انہوں نے اچھے کام کئے وہ آرام کے باغوں میں ہوں گے (چین اڑائیں گے)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے تو یہی وہ لوگ ہیں جن کو ذلت کا عذاب ہوگا

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں (اس کی رضا مندی کے لئے) ہجرت کی وطن چھوڑا پھر وہ راسی ہجرت کے زمانے میں مارے گئے یا اپنی موت سے مرگئے (ہر حال میں) اللہ ان کو اچھی روزی دیگا بہشت کے میوے اور وہاں کا پانی اور پیشکش خدا ہی سب روزی دینے والوں میں بہتر روزی دینے والا ہے4

4 ۔ اس لئے کہ بےحساب روزی دیتا ہے بغیر اس کے کہ اسے ہماری کوئی حاجت ہو۔ بندے ایک دوسرے کو اگر کوئی چیز دیتے ہیں تو اپنے پاس سے نہیں دیتے بلکہ اللہ ہی کا دیا ہوا دیتے ہیں۔ پس اللہ کے سوا کوئی راز ق اور کوئی دینے والا نہیں ہے۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ ضرور ان کو ایسیجگہ لے جائے گا جس کو پسند کریں گے۔5 اور بیشک اللہ (سب) جانتا ہے6 کردیا7 (جلدی عذاب نہیں کرتا،

5 ۔ مراد ہے جنت جسے دیکھ کر وہ خوش ہونگے اور اس میں اپنی ہر خواہش کو موجود پائیں گے۔ (کذا فی الوحیدی) 6 ۔ یعنی اسے معلوم ہے کہ وہ کس چیز سے خوش ہونگے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ کس نے اخلاص کے ساتھ اس کیلئے اپنے گھر بار کو چھوڑا۔ 7 ۔ یعنی ان کو جلدی عذاب نہیں دیتا۔ جنہوں نے ایسے نیک بندوں کو اذیتیں پہنچائیں اور انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ تو سب ٹھیک ہے) اور جو کوئی اتنا ہی بدلہ لے جتنا وہ ستایا گیا تھا پھر (ظالم کی طرف سے) اس پر زیادتی ہو (دوبارہ اس کو ستائے تو بیشک اللہ اس کی مدد کریگا کیونکہ وہ مظلوم ہے8 بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے1

8 ۔ یعنی مظلوم کے ظالم سے اپنا بدلہ لینے کے بعد، پھر ازسرنو ظالم سے اس پر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس مظلوم کی ضرور مدد فرمائے گا کیونکہ مظلوم کی مدد کرنا اس کا قاعدہ ہے جیسا کہ حضرت انس ؓ سے صحیح روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اتقوا دعوۃ المظلوم وان کان کافرا فانھا لیس بینھما حجاب۔ کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرو چاہے وہ کافر ہو اس لئے کہ اس کے ( اور اللہ کے) درمیان پردہ نہیں ہے۔ (الجامع الصغیر) مقصد یہ ہے کہ مسلمان مظلوم ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کا وعدہ فرمایا ہے۔ (قرطبی) 1 ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنانے کی کوشش کریں اور اپنے ذاتی معاملات میں عفو و درگزر کی عادت ڈالیں۔ اور متعدد آیات میں عفو کی ترغیب دی ہے اور اسے ” ان ذلک لمن عزم الامور “ فرمایا ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : یعنی بدلہ واجبی لینے والے کو خدا عذاب نہیں کرتا اگرچہ بدلہ نہ لینا بہتر تھا۔ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے بدلہ لیا، کافروں کی ایذا کا پھر ” احد “ و ” احزاب “ میں کافر زیادتی کرنے کو آئے، پھر اللہ نے پوری مدد کی۔ “ (موضح)
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

کیونکہ2 اللہ تورات کو دن میں گھسیٹ دیتا ہے3 اور دن کو رات میں گھیسٹ دیتا ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ سب سننا دیکھتا ہے تو وہ ظالم کے ظلم سے غافل نہیں ہے

2 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو مظلوم کی مدد کرتا ہے وہ اس لئے ہے کہ…3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور یہ اسی کے کمال قدرت کا کرشمہ ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے چناچہ کبھی دن بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی رات بڑی ہوتی ہے اور دن چھوٹا ہوتا ہے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

اور یہاسلئے کہ اللہ ہی سچا خدا ہے4 اور اس کے سوا (کافر) جس کو پکارتے ہیں وہ غلط ہے (جھوٹ لغو ہرگز خدا نہیں ہے)5 اور اس لئے کہ اللہ ہی سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے6

4 ۔ جب وہ سچا ہے تو اس کا دین بھی سچا ہے اور اس کا اہل ایمان سے وعدہ بھی سچا ہے۔ 5 ۔ جب وہ (یعن بت جسے کافر پکارتے ہیں) غلط، جھوٹ اور لغو ہے تو ان کی مدد کیسے کرسکتا ہے ؟ 6 ۔ اس کا کوئی شریک یا مدمقابل نہیں ہے۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

(اے دیکھنے والے) کیا تو نے نہیں دیکھا (زمین سوکھی مردہ پڑی ہے اللہ نے آسمان سے پانی برسایا تو پھر زمین (زندہ ہو کر) سرسبز ہوجاتی ہے7 بیشک اللہ مہربان (یا باریک بین ہے خبردار8

7 ۔ اسی طرح جو زمین آج کفر و شرکت کی بدولت ویران و بےرونق پڑی ہے اللہ تعالیٰ اسلام کی بارش برسا کر اسے سبزہ زار بنا دے گا۔ 8 ۔ اس سے اپنے بندوں کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا اخلاقی ضرورت پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ اپنے کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندہ کی ضرورت جو اس کے مناسب حال ہو، پوری ہو۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللہ ہی بےنیاز تعریف کے سزا وار ہے9

9 ۔ یعنی وہ بذات خود تعریف کا سزا وار ہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تو نے (اسے دیکھنے والے) نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین میں جتنی چیزیں ہیں تم لوگوں کے بس میں (اختیار میں) کردی ہیں (آدمی سب پر حکومت کرتا ہے اور کشتی کو بھی صتمہارے بس میں کردیا ہے) جو اللہ کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے بھی وہی روکتا ہے مگر جب حکم ہو تو وہ اور بات ہے) اس وقت گرپڑیگا یعنی قیامت کے قریب، بیشک اللہ لوگوں پر دیار شفقت والا رکھتا ہے مہربان ہے

10 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو یہ احسانات فرمائے اور تمہاری زندگی کے لئے جو یہ اسباب فراہم کئے وہ اس وجہ سے نہیں ہیں کہ وہ تمہارا حاجت مند ہے بلکہ یہ سراسر اس کی شفقت و مہربانی کا کرشمہ ہے تمہارا اس پر کوئی زور نہ تھا کہ وہ چاہتا یا نہ چاہتا تم اس سے یہ اسباب حاصل کرلیتے۔ 11 ۔ یعنی تمہیں زندگی بخشی۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور اسی نے (پہلی بار تم جب بےجان تھے) تم کو جلایا پھر (جب دنیا میں12 عر ختم ہوگی، تم کو مار ڈالے گا پھر (حشر کے دن) تم کو جلائے گا بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے

12 ۔ جو یہ سب کچھ دیکھتا ہے پھر بھی اس کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔ یعنی اس دعوت کو نہیں مانتا جو اس کی طرف سے اس کے رسول ﷺ پیش کرتے ہیں۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے ہر زمانے والوں کے لئے ایک شریعت ٹھہرائی جس پر وہ چلتے ہیں تو ان لوگوں کو (یعنی یہود اور نصار سے اور مشرکین کو) دین کے مقدمے میں تجھ سے جھگڑنا15 نہیں چاہیے اور تو اپنے مالک کے (دین کی) طرف لوگوں کو بلاتا رہ (دین کی دعوت برائر کئے جا بیشک تو سیدھے رستے پر ہے

13 ۔ چناچہ توراۃ کی شریعت اس زمانہ والوں کے لئے مقرر کی۔ پھر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بعثت آنحضرت ﷺ کی بعثت کے لوگوں کیلئے انجیل شریعت چلتی رہی اب آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لئے قرآن و سنت کی شریعت مقرر رہے گی۔ (شوکانی) 14 ۔ کیونکہ یہ آپ ﷺ کی شریعت کا زمانہ ہے انہیں آپ ﷺ سے جھگڑا کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتایا آپ ﷺ ان کے جھگڑنے کی پروا نہ کریں (شوکانی) 15 ۔ اب سیدھا راستہ صرف آپ ﷺ کا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : لو نزل موسیٰ فاتعتموہ و ترکتمو فیلضللتم۔ اگر موسیٰ ( علیہ السلام) بھی نازل ہوجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگو تو گمراہ ہوجائو۔ (الجامع الصغیر)
Ayahs 22:68–69

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر اس پر بھی یہ لوگ تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے اللہ خوب جانتا ہے جو تم کر رہے ہو

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

(یہ کہہ کر ساری بحث ختم کر دے جن باتوں میں تم اختلاف کر رہے ہو ان1 کا فیصلہ اللہ قیامت کے دن تم میں کر دے گا

1 ۔ وہاں عقل کے اندھوں کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ حق بات کیا تھی اور باطل کیا ؟ جو شخص باطل پر جھگڑا کرے، اس کو سنجیدگی سے یہی جواب دینا چاہیے۔ (شوکانی )
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں2 ہے اللہ جانتا ہے بیشک (سب ایک کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے

2 ۔ لہٰذا وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن میں تم لوگ اختلاف کر رہے ہو۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز کا علم رکھنا یا قیامت کے دن لوگوں کے اختلافات کا صہ چکا دینا۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور (یہ کافر) اللہ کے سوا ان چیزوں کو پوجتے ہیں جن کے (پوجنے کے) لئے کوئی سند اللہ تعالیٰ نے نہیں اتاری اور4 نہ ان کے پاس کوئی (عقل دلیل ہے اور قیامت کے دن5 ایسے) بےانصافوں کا (جو شرک کرتے ہیں) کوئی مددگار نہ ہوگا

4 ۔ یعنی اپنی کسی کتاب میں یہ نہیں فرمایا کہ یہ ہمارے شریک ہیں تم ان کی پوجا کرسکتے ہو۔ 5 ۔ سوائے ادہام پرستی اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے۔ اس کا رو قرآن میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ دیکھئے مائدہ :104)
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

ور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں (جن کا مطلب کھلا ہوا ہے) تو ان کافروں کے منہ بگڑے ہوئے دیکھتا ہے (ان کے چہروں پر ناخوشی معلوم ہوتی ہے) جیسے وہ ان لوگوں پر جو ہماری آیتیں ان کو پڑھ کر سناتے ہیں اب حملہ کر بیٹھیں گے6 (اے پیغمبر ان کافروں سے) کہہ دے میں تم کو اس سے بھی زیادہ ایک بری بات سنائوں7 (وہ کیا ہے دوزخ تمہارے لئے تیار اللہ نے کافروں کے لئے اس کا وعدہ کیا ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

6 ۔ یعنی غصہ سے ایسی شکل بناتے ہیں گویا ابھی کاٹ کھائیں گے۔ قاضی شوکانی (رح) لکھتے ہیں : ” یہی کیفیت اہل بدعت کی ہوتی ہے جب انہیں قرآن کی کوئی ایسی آیت یا نبی ﷺ کی کوئی ایسی صحیح حدیث سنائی جاتی ہے جو ان کے باطل عقائد کی تردید کرتی ہو۔ (فتح القدیر) 7 ۔ یعنی کلام الٰہی کی آیات سن کر تم میں غصہ کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے یا ان آیات کے سنانے والوں کے ساتھ جو برے سے برا سلوک تم کرسکتے ہو کیا میں تمہیں اس سے بھی بری چیز نہ بتائوں جس سے تمہیں سابقہ پڑنے والا ہے ؟ (شوکانی)
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو (تمہارے سمجھانے کے لئے ایک مثال بیان کی جاتی ہے دل لگا کر سنو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو (بت یا اوتار یا جن یا شیطان یا اولیا وغیرہ) وہ ہرگز ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے گو اس کے8 (بنانے کے) لئے (سب کے سب اکٹھا ہوجائیں (سب مل کر بھی نہیں بنا سکتے) اور خیر بنانا تو کجا) اگر مکھی ان سے کچھ اچک لے (چھین کر چل دے) تو (پھر) اس سے وہ چیز چھڑا نہیں سکتے (وہ ہاتھ کہاں آتی ہے) چاہنے والا اور جسے چاہتے ہیں دونوں بودے کمزور

8 ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی لاتعداد اور عظیم الشان مخلوقات کے مقابلہ میں مکھی کی کیا حیثیت ہے ؟ 9 ۔ یعنی چاہنے والا کافر اور جس بت کو وہ چاہتا ہے دونوں کمزور و بےبس ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : ” مکھی چاٹتی ہے بت کو، نہ وہ مورت اڑاتی ہے اور نہ اس کا شیطان۔ (موضح) اس سے زیادہ بےبسی اور کیا ہوسکتی ہے ؟
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کا مرتبہ جیسے کرنا چاہیے ویسا1 مرتبہ نہیں کیا بیشک اللہ تعالیٰ تو طاقت والا زبردست2 ہے

1 ۔ اس لئے انہوں نے بتوں کو اس کا شریک قرار دے لیا حالانکہ جانتے ہیں کہ بت قطعی لاچار اور بےبس ہیں۔ 2 ۔ اس کے باوجود بتوں کو یا کسی اور کو اس کا ہمسر سمجھنا نری بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ فرشتوں اور آدمیوں میں سے پیغام پہنچانے والے چھانٹ لیتا ہے3 کیونکہ اللہ تعالیٰ سنتا دیکھتا ہے

3 ۔ یعنی جس فرشتے اور جس آدمی کو چاہتا ہے اپنا پیغمبر بنا لیتا ہے۔ فرشتوں میں سے اس نے جبرئیل ( علیہ السلام) و میکائیل ( علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا، اور آدمیوں میں سے آدم ( علیہ السلام) ، نوح ( علیہ السلام) ، ابراہیم ( علیہ السلام) ، موسیٰ ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) وغیرہم کو اور اب اپنا آخری پیغمبر محمد ﷺ کو بنایا تمہیں اس پر کیوں اعتراض ہے کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا :” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “ کیا ہم میں سے خدا کا پیغام اس شخص (یعنی محمد ﷺ) پر نازل ہونا تھا۔ (معالم) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی ساری خلق میں بہتر وہ لوگ ہیں پیغام پہنچانے والے، فرشتوں میں سے بھی وہ فرشتے اعلیٰ ہیں ان کو (یعنی ان کی ہدایت کو) چھوڑ کر بتوں کو مانتے ہو ؟ (موضح)
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جو ان کے سامنے اور وہ جو ان کے پیچھے ہے (یعنی اگلے پچھلے گزشتہ4 اور آئندہ سب حالات) جانتا ہے اور سب کاموں کو اللہ تک پہنچنا ہے5

4 ۔ لہٰذا اس کے انتخاب میں کسی غلطی یا نقص کا امکان نہیں ہے اور نہ اس سے بہتر کسی کا انتخاب ہوسکتا ہے۔ 5 ۔ یعنی وہ پیغمبر خود کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اختیار ہر چیز میں اللہ کا ہے۔ (موضح)
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو (یعنی نماز پڑھو اور اپنے مالک کو پوجو (جتنی عبادتیں میں سب اسی کے لئے کرو اور نیکی کرتے رہو اس لئے کہ تم مراد کو پہنچو7

6 ۔ یعنی اپنے جملہ اطوار و اخلاق و معاملات کی بنیاد نیکی پر رکھو اس لئے حضرت ابن عباس ؓ نے اس جگہ ” خیر “ کی تفسیر صلۃ الرحم و مکارم اخلاق سے کی ہے۔ (معالم) 7 ۔ اس مقام پر سجدہ کا حکم دیا گیا ہے اس لئے یہاں سجدہ کرنا مستحب ہے۔ صحابہ ؓ میں حضرت عمر ؓ ، علی ؓ ، ابن مسعود ؓ اور ابن عباس ؓ کا، اور ائمہ (رح) میں سے عبد اللہ بن مبارک (رح) ، شافعی (رح) ، احمد (رح) ( اور دوسرے محدثین) کا یہی قول ہے (معالم) اس بارے میں بعض مرفوع احادیث بھی آئی ہیں۔ مثلاً عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے قرآن مجید میں پندرہ سجدے پڑھائے جن میں سے تین سورة مفصل ہیں اور دو سورة حج میں ہیں۔ (ابو دائود) احناف کے نزدیک سورة حج میں اس مقام پر سجدہ نہیں وہ کہتے ہیں یہاں خاص طور پر سجدہ کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ عام نیکیوں کا حکم دیا گیا ہے جن میں ایک سجدہ بھی ہے۔ (التعلیق الصبیح)
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کوشش کرنے کا حق ہے ویسی کوشش کرو8 اس نے تم کو (تمام دنیا کے لوگوں میں) اپنے دین اور پیغمبر کی مدد کے لئے) چن لیا اور تم پر دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی9 یہ دین تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے10 ہے اسی نے پہلے سے (قرآن اترنے سے پہلے تمہارا نام مسلمان رکھا11 اور اس (قرآن) میں بھی اس لئے کہ رسول (قیامت کے دن) تم پر گواہ ہو اور تم (دوسرے) لوگوں (امتوں) پر گواہ ہو (اس کا بیان سورة بقرہ میں گذر چکا)12 تو نماز کو درستی سے پڑھا کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھو13 وہی تمہارا مالک ہے تو کیا اچھا مالک ہے اور کیا اچھا مددگار ہے۔

8 ۔ لفظ جہاد کو عموماً اللہ کی راہ میں قتال (جنگ) پر بولا جاتا ہے بلکہ یہ جہاد اکبر ہے لیکن اس کے لفظی معی کوشش کرنے کے ہیں اس لئے یہ لفظ قتال سے وسیع تر معنی رکھتا ہے اور اس کے تحت وہ تمام کوششیں آجاتی ہیں جو جان و مال، زبان و قلم اور دوسرے ہر ممکن ذریعے سے اللہ کے دین کی اشاعت و ترقی کے لئے کی جائیں بلکہ نفسانی خواہش کا مقابلہ بھی جہاد میں داخل ہے۔ (ایک روایت میں ہے ” المجاہد من جاھد نفسہٗ فی طاعۃ اللہ۔ “ مجاہد وہ ہے جس نے اپنے نفس واللہ کی طاعت پر جھکانے کے لئے اس سے جہاد کیا۔ (فتح القدیر بحوالہ ترمذی) 9 ۔ دین میں کسی مشکل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو جی میں آئے کرتا پھرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے احکام ایسے رکھے ہیں جو انسانی طاقت کے اندر ہیں پھر کمزوری یا بڑھاپے یا کسی اور عذر کی بنا پر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں رخصت اور تخفیف کا قاعدہ مقرر کیا ہے (جیسے سفر میں قصر صلوٰۃ کا حکم وغیرہ) پھر گناہوں کے ارتکاب کی صورت میں تو بہکا دروازہ کھلا رکھا، مگر پچھلی امتوں کے فقیہوں نے اسے اپنی موشگافیوں سے ختم کر ڈالا تھا۔ (دیکھئے سورة اعراف :157) اسی کو مشہور حدیث میں نبی ﷺ نے یوں فرمایا ہے : بعثت بالحنیفیۃ السمو ” مجھے آسان حنیفیت (اللہ کی طرف یکسوئی) کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ “ (ابن کثیر) 10 ۔ یعنی یہ دین اسلام کوئی نیا دین نہیں ہے بلکہ یہ وہی دین ہے جو تمہارے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کا تھا۔ 11 ۔ یعنی اللہ نے پچھلی تمام کتابوں میں تمہارا نام ” مسلم “ رکھا جس کے معنی مطیع و فرمانبردار کے ہیں اور تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے دعا بھی یہی کی تھی : ربنا وجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۔ (بقرہ :128) 12 ۔ کہ پیغمبروں نے ان کو پیغام پہنچا دیا تھا۔ (دیکھئے بقرہ :143) 13 ۔ یعنی تمام امور میں اسی کی مدد پر بھروسا کردیا اس کے دین کو مضبوطی سے تھام لو۔ (شوکانی)