23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

ایمان والے مراد کو پہنچ گئے1

1 ۔ یہ پوری کی پوری سورت بالاتفاق مکی ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ بن سائب سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مکہ میں فجر کی نماز میں یہ سورة شروع کی، جب موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون ( علیہ السلام) ، یا عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ذکر پر پہنچے تو آپ ﷺ کو کھانسی آئی اور آپ ﷺ نے رکوع فرمایا (نسائی مسلم) اس سورت کی پہلی دس آیتوں پر عمل کے بدلے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ (قرطبی)
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

وہ جو اپنی نماز میں دل لگاتے میں2

2 ۔ ” خشوع “ کے لفظی معنی ہیں کسی کے سامنے ڈر کر جھک جانے اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے کے اس کا تعلق دل سے بھی ہے اور ظاہری اعضائے بدن سے بھی۔ لہٰذا نماز میں خشوع اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دل پر خوف وہیبت طاری ہو اور اس کے اعضا میں سکون ہو۔ وہ نگاہ ادھر ادھر پھیرے نہ کپڑے یا داڑھی وغیرہ کھیلے اور نہ انگلیاں چٹخائے۔ کیونکہ ادھر ادھر دیکھنے کو شیطان کا حصہ قرار دیا ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز کی حالت میں اپنی داڑھی سے کھیل رہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضا پر بھی اثر ہوتا۔ یہ خشوع نماز کی اصل روح ہے اس لئے بہت سے علماً نے اسے فرض قرار دیا ہے یعنی اگر یہ نماز میں نہ ہوگا تو نماز نہ ہوگی۔ ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نماز میں اپنے سر اور نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا لیا کرتے تھے اور دائیں بائیں رخ کرلیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ چناچہ اس کے بعد وہ ایسا کرنے سے باز آگئے۔ (ابن جریر) عبد الواحد بن زید نے اس پر بھی علما کے اجماع کا دعویٰ کیا ہے کہ آدمی کی نماز وہی قبول ہوتی ہے جسے وہ سمجھ کر پڑھے نیز دیکھئے بقرہ :45، شوکانی)
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہ جو نکمی باتوں کی طرف دھیان نہیں کرتے3

3 ۔ ” لغو “ (نکمی بات) سے مراد باطل یعنی ہر فضول اور لایعنی قول یا فعل ہے۔ شرک اور گناہ کے تمام کام بھی اس کی تعریف میں آتے ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہ جو زکوۃ دیا کرتے ہیں4

4 ۔ یعنی زکوٰۃ ادا کرنا ان کی عادت ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ آیت مکی ہے حالانکہ زکوٰۃ کی فرضیت 3 ھ میں مدینہ میں ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل زکوٰۃ مکہ میں فرض تھی مدینہ میں اس کا نصاب اور شرح مقرر ہوئی۔ جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا گیا : واتوا حقہ یوم حصادہ “ اور کٹائی کے دن فصل کا حق ادا کرو حالانکہ سورة انعام بھی مکی ہے۔ بعض مفسرن نے یہاں ” زکوٰۃ “ کو طہارت (پاکیزگی) کے معنی میں لیا ہے۔ اگر یہ مراد ہو تو اس کے مفہوم کو عام رکھا جائے گا جس میں بدن، مال اور نفس ہر چیز کو پاک رکھنا شامل ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 23:5–6

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی خواہش کا مقام ] شرمگاہ) تھامے پہنچے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

(کسی سے اپنی خواہش پوری نہیں کرتے، مگر اپنی بی بیوں یا لونڈیوں سے ان پر کوئی الزم نہیں5

5 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں جس طرح بیوی سے تعلق رکھنا جائز ہے اسی طرح لونڈی سے تعلق رکھنا بھی جائز ہے۔ عاوہ ازیں شہوت رانی حرام ہے۔ لہٰذا نکاح متعہ بھی حرام ہے۔ گو بعض موقعوں پر اس کی اجازت دی گئی تاہم بعد میں ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیا گیا کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جائے اس پر زوجہ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ نیز دیکھئے سورة نساء آیت 24 ۔ امام شافعی (رح) اور دیگر علما نے اس آیت سے اسمنا کی حرمت پر بھی استدلال کیا ہے کیونکہ ان کو عادوں حد سے متجاوز کرنے والے قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Ayahs 23:7–8

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پھر جو کوئی ان (دو ) کے سوا اور طرح سے شہوت نکالنا چاہے تو ایسے ہی لوگ (حد سے) بڑھے ہوئے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھتے ہیں6

6 ۔ یعنی امانت میں خیانت نہیں کرتے اور جب وہ کوئی عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ امانت میں خیانت اور عہد میں دغا بازی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ حدیث میں ہے : منافق کی تین علامتیں ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔ جب وعدہ کرتا ہے۔ تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں7

7 ۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ نماز پڑھتے ہیں بلکہ فرمایا کہ وہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں یعنی تمام نمازیں ان کے وقت پر باجماعت ادا کرتے ہیں کبھی ناغہ نہیں کرتے نیز دیکھئے سورة بقرہ :2 ۔ (ابن کثیر)
Ayahs 23:10–11

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ وہ میں جو میراث لیں گے

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

فردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے8

8 ۔ حدیث میں ہے، ” جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کی طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ اور بہترین طبقہ ہے اور اسی سے جنت کے دریا نکلتے ہیں اور اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ نے سورة مومنون کی یہ دس آیات تلاوت کر کے فرمایا : ” یہ تھا نبی ﷺ کا خلق۔ (شوکانی)
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے آدمی کو منی سے بنایا اور آدم کو مٹی سے9

9 ۔ یا ہم نے انسان کو (یعنی آدم علیہ السلام) کو منتخب مٹی سے پیدا کیا۔ “
Ayahs 23:13–14

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اس منی (یا مٹی) کو نطفہ کر کے ایک محفوظ جگہ (یعنی رحم) میں رکھا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم اسی نطفہ کو خون کی پھٹکی کردیتے ہیں (یعنی بستہ خون) پھر پھٹکی کو گوشت کا مچہ کردیتے پھر مچہ میں ہڈیاں پیدا کرتے ہیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھاتے ہیں پھر ایک دسرے صورت بنا کر اس کو نکالتے10 ہیں (کیا کہنا) بڑی برکت والا ہے اللہ جو سب سے عمدہ بنانے والا ہے

10 ۔ یعنی روح پھونکتے ہیں تو اس میں حرکت و اضطراب، سمع اور بصر (بینائی) پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گویا اس کی صرت ہی بدل جاتی ہے جس کو پہلی صورت سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی۔ اسی طرح موت تک جتنے اطوار و احوال انسان پر آتے ہیں سب کو ” خلقاً آخر “ کا مفہوم شامل ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 23:15–16

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس (سب) کے بعد تم کو مرنا ضرور ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن تم بیشک اٹھائے جائو گے1

1 ۔ یعنی تمہیں دوبارہ زندگی دی جائے گی اور تم اپنی اپنی قبروں سے اٹھائے جائو گے۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر سات رستے (یعنی سات آسمان بنائے2 اور ہم نے جو چیزیں بنائیں ان سے بیخبر نہیں میں3

2 ۔ آسمانوں کو راستے اس لئے کہا گیا کہ وہ فرشتوں یا سیاروں کی گزرگاہیں ہیں۔ بعض مفسرین (رح) نے طرائق کے معنی طبقات بھی کئے ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ” سبع سمت طباقا “ فرمایا ہے۔ (ملک :3) 3 ۔ یعنی اپنی کسی جاندار یا بےجان مخلوق کی حفاظت اور اس کی ضرورتوں سے بیخبر نہیں ہیں۔ یہی معنی ” الحی القیوم “ کے ہیں (قرطبی) ان سات آسمانوں کو زمین پر گرنے سے سنبھالے ہوئے ہیں ورنہ اگر یہ گرجائیں تو زمین پر بسنے والے سب ہلاک ہوجائیں۔ (کبیر)
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے ایک انداز کے ساتھ آسمان سے پانی برسایا4 پھر زمین میں اس کو ٹھہرا رکھا5 اور ہم اس پانی کو اڑا لے جائیں تو بھی ہوسکتا ہے6

4 ۔ اندازہ سے مراد وہ اندازہ ہے جو جانداروں، کھیتوں اور پھلوں وغیرہ کے لئے سازگار ہے نہ ان کی ضرورت سے زیادہ اور نہ کم اور پھر برساتی نالوں اور دریائوں کے اندر زرخیز مٹی بہ کر آجاتی ہے جو زراعت کے لئے مفید ہوتی ہے۔ (ابن کثیر) 5 ۔ مراد وہ پانی ہے جو تالابوں اور جوہڑوں کی شکل میں زمین کی سطح پر ٹھہر جاتا ہے اور اسے لوگ آبپاشی، اپنے پینے، جانوروں کو پلانے اور دیگر ضرورتوں کے لئے استعمال میں لاتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ (ابن کثیر) 6 ۔ بخارات بن کر اڑ جائے یا زمین میں جذب ہوجائے۔ جیسے دوسری آیت میں فرمایا : قل ارأیتم ان اصبح ماء کم غورا فمن یاتیکم بماء معین۔ کہہ دیجئے ! کیا تم نے غور کیا کہ اگر تمہارا پانی زمین میں اتر جائے تو کون تمہیں عمدہ صاف شفاف پانی لا کر دے گا۔ (ملک :3)
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر اس پانی سے ہم نے تمہارے لئے کھجور اور انگور کے باغ بٹھانے تم کو ان باغوں میں بہت بہت سے میوے ملتے ہیں7 اور انہی پر تمہار گذر ہے8 انہی کی پیداوار میں سے کھا کر بسر کرتے ہو)

7 ۔ یعنی کھجور اور انگور بھی اور بہت سے دوسرے میوے بھی جو غذا اصلی کے علاوہ ہیں۔ 8 ۔ یعنی ان باغوں میں سے جو پھل اور غلے تمہیں حاصل ہوتے ہیں تم انہی کو کھاکر زندگی بسر کرتے ہو۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت جو طور سینا9 (پہاڑ) میں (بہت) نکلتا ہیت یل لے کر اگتا ہے اور سالن کھانے والوں کے لئے (اس کے تیل میں روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں )

9 ۔ مراد ہے زیتون کا درخت جو کوہ طور اور اس کے قریب بحیرہ روم کے اردگرد کے علاقہ میں بکثرت پیدا ہوتا ہے اور نہایت عمدہ ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور (لوگو) تم کو چوپائے جانوروں میں غور کرنا چاہیء ان کے پیٹوں میں سے ہم تم کو پلاتے ہیں10 اور ان سے تم کو (اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان فائدوں میں11 ایک یہ ہے) ان میں سے کھات ہو

10 ۔ پانی اور نباتات کے ذریعہ جو نعمتیں انسان تک پہنچ رہی ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد اب ان نعمتوں کا بیان ہو رہا ہے جو حیوانات کے واسطہ سے انسان تک پہنچتی ہیں۔ گویا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی دلیل ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اس میں سے ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں۔ مراد ہے دودھ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : لبنا خالصا سائغا للشاربین۔ یعنی ان جانوروں کے پیٹوں میں گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ جو پینے والوں کے لئے مزیدار ہے، پلاتے ہیں۔ (نحل :66) 11 ۔ یعنی ان کا گوشت کھاتے ہو۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان پر تمہاری معیشت کا نظام قائم ہے۔ (روح)
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور دوسرا فائدہ یہ ہے ان پر اور12 کشتیوں پر لدے پھرتے ہو۔

12 ۔ یعنی خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر اور تری میں جہازوں اور کشتیوں پر سوار ہو کر، جہاں کا چاہتے ہو سفر کرتے ہو۔ انعامات اور دلائل توحید بیان کرنے کے بعد آگے انبیا اور ان قوموں کے حالات بیان فرمائے کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں غور و فکر کی بجائے اعراض سے کام لیا تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ اس میں دوسرے لوگوں خصوصاً قریش کیلئے تخویف ہے۔ قرآن میں عموماً الاء اللہ کے بعد ایام اللہ کا بیان ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (کبیر۔ روح)
Ayahs 23:23–24

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نوح کو اس کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیج چکے ہیں اس نے (اپنی قوم سے کہا لوگو اللہ ت عالیٰ کو بوجو اس کے سوا کوئی تمہارا سچا معبود نہیں کیا تم (اس کے عذاب سے) نہیں ڈرتے۔

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

اس کی قوم کے سردار جو کافر تھے (دوسروں سے) کہنے لگے یہ ہے کہ تم جیسا ایک آدمی ہے بس اس کا مطلب یہ ہے (کسی طرح) تمہار ابڑا بن جائے ( تم سب اس کی اطاعت کرو) اور اگر (واقعی اللہ (کسی کو پیغمبر بناکر بھیجنا) چاہتا تو فرشتے اتار تاہم ہم نے تو ایسی بات اپنے اگلے باپ دادوں میں بھی (کبھی ہوتی ہوئی14 انہیں سنی

13 ۔ گویا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے (اعبدواللہ) پر طعن ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ اسی ایک کی عبادت کی جائے تو کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتا۔ یہاں ” شاء “ فعل کا مفعول محذف ہے اور ” لانزل “ جواب ” لو “ ہے یعنی لو شاء اللہ عبادتہ وحدہٗ لا نزل ملائکۃ۔ 14 ۔ کہ کسی بشر نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا توحید کی طرف دعوت دی ہو۔ یہ دوسرا اعتراض ہے۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس مرد کو (یعنی نوح کو) اور کچھ نہیں جنون ہوگیا ہے (پاگل پن گیا ہے) تو ایک وقت تک اس کی1

1 ۔ یعنی کچھ مدت تک اسے کچھ نہ کہو شاید خو دم بکتے بکتے چپ ہوجائے، یا شاید اس کا دماغ درست ہوجائے اور سمجھ کی باتیں کرے۔
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

راہ دیکھو نوح نے (سینکڑوں برس سمجھانے کے بعد جب مایوس ہوگئے تو دعا کی پروردگار میرے مدد کر کیونکہ انہوں نے مجھ کو جھوٹا بنایا اب وہ راہ پر آنے والے نہیں

2 ۔ جمہور مفسرین (رح) کے نزدیک یہی آگ کا تنور مراد ہے اور بعض نے مطلق وجہ ارض مراد لیا ہے۔ (ہود :40) 3 ۔ یعنی اپنے گھروالوں کو بھی۔
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

آخر ہم نے اس کو حکم بھیجا ہماری آنکھوں کے سامنے اور جیسے ہم بتائیں ایک کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم عذاب کا یا کشتی پر سوار ہوجانے کا آن پہنچے اور تندور ابلنے لگے اس میں پانی بھر آئے اور جوش مارنے لگے تو اس پر ہر جانور کے جوڑ عینی دو دو راس4 اور نر ایک مادہ بٹھا لے اور اپنے لوگوں کو بھی مگر ان میں سے جس کے5 لئے آگے ہی سے حکم ہوچکا ہے اور ان ظالموں کے مقدمے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا وہ تو ضرور ڈوبیں گے (بچ نہیں سکتے قطعی حکم ہو چاک ہے)

4 ۔ کہ وہ ایمان نہ لائیں گے اور ہلاک ہوں گے۔ مراد ہیں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی بیوی اور ان کا بیٹا۔ واللہ اعلم۔ (ابن کثیر) 5 ۔ یعنی مجھ سے ان کے بچانے کے لئے سفارش نہ کرنا۔
Ayahs 23:28–29

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تو اور تیرے ساتھ والے کشتی پر سوار ہوجائیں تو یوں کہہ اللہ ت عالیٰ کا شکر جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے چھڑایا یا ان کی صحبت سے نجات دی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور (یوں) دعا کر مالک میرے مجھ کو اس کشتی میں یا اس کشتی سے زمین پر برکت کا6 اتار نا اتاریو اور تو بہتر اتارنیوالا ہے۔

6 ۔ برکت کے اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے۔ ہر حل میں اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔ اس آیت میں بندوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ کسی سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس سے اترتے وقت یہ دعا کیا کریں۔ بلکہ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت بھی سلام کے بعد یہ دعا پڑھا کریں۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس میں نوح کے حالات میں ہماری قدرت کی نشانیاں تھیں اور ہم تو جانچنے والے ہیں پھر

7 ۔ یعنی جس طرح قوم نوح کو جانچا۔ اسی طرح ہر قوم کی طرف رسول بھیج کر اس کا ضرور امتحان لیں گے۔ (ابن کثیر) اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ہمیں تو (قوم نوح ( علیہ السلام) کی) آزمائش کرنا ہی تھی “۔
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

نوح کی قوم کے بعد8 ہم نے ایک اور قوم پیدا کی

8 ۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد قوم عادلی ہے جیسا کہ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت ہود ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا : واذکروا اذجعلکم خلفاء من بعد قوم نوح۔ یاد کرو، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے بنایا۔ (آیت :69) اور علما نے لکھا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس قوم پر ریح اور صبیحۃ دونوں قسم کے عذاب آئے۔ (ابن کثیر) بعض نے اس سے مراد قوم ثمود، اور بعض نے قوم شعیب لی ہے۔ کیونکہ آگے ذکر آرہا ہے کہ یہ قوم ” صیحۃ “ (چنگھاڑ) سے تباہ ہوئی اور ثمود اور قوم شعیب ( علیہ السلام) وہ قومیں ہیں جن کے متعلق دوسرے مقامات پر بتایا گیا کہ ان کی ہلاکت چنگھاڑ سے ہوئی۔ دیکھئے ہود آیت :67، 94 ۔ (قرطبی)
Ayahs 23:32–34

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

اور انہی میں سے ایک شخص کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا اور یہ کہلایا کہ اللہ تعالیٰ کو پوجو اس کے سوا کوئی متہارا سچا خدا نہیں کیا تم (خدا سے نہیں ڈرتے (اس کے ساتھ شرک کرتے ہو)

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے سردار جنہوں نے (پیغمبر کو) نہ مانا اور قیامت آنے کو جھٹلایا اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو مست کردیا تھا (خوب چین سے بسر کرتے تھے یوں کہنے لگے یہ ہے کیا ایک آدمی ہے تم جیسا جو تم کھاتے ہو وہ بھی کھا تا ہے اور جو تم پیتے ہو وہ بھی پیتا ہے۔ اس کا کھانا پانی کچھ غیب سے نہیں آتا

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم ایک آدمی کے کہے پر چلے جو تمہاری طرح ہے اور اپنے باپ دیوا کا طریق چھوڑ دیا،1 تو بیشک اس صورت میں تم خراب ہوئے۔

1 ۔ یعنی اس سے بڑھ کر تمہاری ذلت کیا ہوگی کہ باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرنے لگو۔
Ayahs 23:35–37

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا (یہ پیغمبر) تم کو یہ بہرا دیتا ہے (وعدہ دیتا ہے) جب تم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں رہ گئے (پھر دوبارہ) تم زمین سے) نکالے جائو گے یہ بہرا جو تم کو دیا جاتا ہے

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

کہیں ہوسکتا ہے بھلا کہیں ہوسکتا ہے

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

(کچھ عقل کی بات ہے بس یہی ہماری زندگی ہے دنیا کے مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو پھر سمجھی) جی اٹھنا نہیں2 ہے۔

2 ۔ یعنی کونسی آخرت اور کہاں کا حساب کتاب :۔ ایں خیال است و محال است و جنوں۔ جو کچھ مرنا جینا ہے بس اسی دنیا کا ہے اگلے مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کارخانہ عام اسی طرح جاری رہا ہے اور اسی طرح جاری رہے گا۔
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

اس مرد نے اور کچھ نہیں خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے3 اور ہم تو اس کا کہا ماننے والے نہیں4

3 ۔ جو کہتا ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا ہوں، یا مرنے کے بعد دوبارہ زندگی ہوگی۔ (ابن کثیر) 4 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں۔ “
Ayahs 23:39–40

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

(پیغمبر نے) کہا (رہو یا صالح یا شعیب نے) یا پروردگار انہوں نے مجھ کو جھٹلایا اس وجہ سے میری مدد کر (ان کو سزا دے )

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

خدا تعالیٰ نے فرمایا (ذرا صبر کر تھوڑی ہی مدت میں5 یہ اپنی کرتوت پر شرمندہ ہوں6 گے

5 ۔ اگر ” قرنا اخرین “ سے مراد قوم صالح ( علیہ السلام) (ثمود) ہو جیسا کہ علامہ طبری وغیرہ کا خیال ہے تو اس میں کچھ اشکال نہیں ہے۔ کیونکہ ” ثمود “ صیحہ سے ہلاک ہوئے ہیں لیکن اگر اس ” قرن “ سے مراد قوم عاد ہو جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے اور اوپر ذکر ہوا ہے تو یہ اشکال لازم آتا ہے کہ قوم ثمود تو باد صرصر سے ہلاک ہوئی ہے پھر یہاں اس ” صیحۃ “ سے کیا مراد ہے۔ اس کے جواب میں مفسرین (رح) نے لکھا ہے کہ باد صر صر کے عذاب کے ساتھ جبریل نے ایک چنگھاڑ ماری جس سے یکدم تمام کے تمام ختم ہوگئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نفس کے اس عذاب ہی کو ” صیحۃ “ سے تعبیر فرمایا ہو۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) 6 ۔ یعنی جو سزا انہیں دی گئی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے فاخذتھم الصیحۃ بالحق کا یہ ترجمہ کیا ہے : آخر ” سچے وعدے “ کے مطابق ایک چیخ نے انہیں آدبوچا۔ یعنی وہ وعدہ جو ” عما قلیل لیصبحن ناد مین “ کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ اور ” الحق “ سے مراد قطعی امر بھی ہوسکتا ہے جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)