23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 23:41–43

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

ضرور ضرور آخر ایسا ہی ہوا، انصاف کے ساتھ ایک چھنگاڑنے ان کو آپکڑا پھر ہم نے ان کو کوڑا کچرا کردیا (کوڑے کی طرح پامال ہوگئے) اور ظالم لوگ (خدا کی رحمت سے دور پڑگئے

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں (جیسے ابراہیم اور لوط کی قومیں

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی قوم اپنی7 اپنی مدت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

7 ۔ یعنی اس کے لئے زندگی کی جو مدت اللہ نے مقرر کردی ہے وہ دنیا میں نہ اس سے زیادہ ٹھہرتی ہے اور نہ کم۔
Ayahs 23:44–45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم اپنے پیغمبر لگاتار بھیجتے رہے اور ایسا ہوا کہ جب کسی قوم کے پاس اس کا پیغمبر آیا وہ اس کو جھٹلاتے رہے اور ہم بھی ایک قوم کو دوسری قوم کے بعد ہلاک کرتے گئے اور ان کو نیست و نابود کر کے کہانیاں بنادیا (ان کے قصے رہ گئے) اور بےایمان لوگ خدا کی رحمت سے) دور پڑگئے

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند (عصاء دے کر8

8 ۔ نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جن کا سورة اعراف اور بعض دوسرے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ عصا بھی اگرچہ ان ہی نشانیوں میں سے تھا لیکن اس کی حیثیت چونکہ ان سب میں ممتاز تھی اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر ” سلطان مبین “ (کھلی سند) کے لفظ سے کیا گیا جیسے کہا جائے ” ملائکۃ اللہ و جبرئیل “ (اللہ کے فرشتے اور جبریل) یعنی تخصیص بعد تعمیم کے قبیل سے ہے۔
Ayah 23:46

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعن اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا پردہ شیخی (گھمنڈ) میں آگئے اور تھے ہی گھمنڈی لوگ9

9 ۔ اس لئے انہوں نے حق کو پہچان لینے کے باوجود ماننے سے انکار کردیا۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں کو مان لیں (ان کے مطیع بن جائیں اور ان کی (ساری) قوم تو ہماری غلام ہے1

1 ۔ اصل میں لفظ ” عابدن “ کے معنی ہیں ” عبادت کرنے والے “ مگر یہ لفظ بندگی اور غلامی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 23:48

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

پھر ان دونوں کو موسیٰ اور ہارون کو ان لوگوں نے فرعون والوں نے جھٹلایا آخر تباہ ہوئے

2 ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة یونس رکوع 9 ۔
Ayah 23:49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

فرعون سمیت سمندر میں ڈوب مرے) اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (توریت شریف)3 اس لئے دی تھی کہ ان کو ہدایت ہو (یعنی موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل کو

3 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب تورات فرعونیوں کے غرق ہونے کے بعد ملی جیسے فرمایا : ولقد اتینا موسیٰ الکتاب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی۔ اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب (توراۃ) دی بعد اس کے کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کردیا۔ (قصص :43) کیونکہ توراۃ نازل ہونے کے بعد کوئی قوم عذاب عام کے ساتھ ہلاک نہیں ہوئی اس لئے یہاں ” لعلھم “ (تاکہ وہ) میں ہم (وہ) ضمیر بنی اسرائیل ہی کے لئے قرار دی جاسکتی ہے فرعونیوں کے لئے نہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسی) اور اس کی ماں4 (مریم) کو اپنی قدرت کی نشانی بنایا5 اور ان کو ایک ٹیلے پر جگہ دی جو ٹھہرنے کے لائق اور وہاں کا پانی صاف تھا

4 ۔ یعنی دونوں کو ملا کر ایک نشانی بنایا جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے ورنہ دونوں مل کر ایک نشانی نہیں بن سکتے۔ (انبیاء :9) 5 ۔ اس ربود (ٹیلہ) سے مراد کونسا مقام ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ اکثر اس سے مراد۔ اسرائیلی رایات کے مطابق۔ مصر لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ملک شام کا حاکم ہیروڈوس تھا۔ وہ نجومیوں سے سن کر کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو سرداری ملے گی بچپن ہی سے ان کا دشمن ہوگیا تھا اور ان کے قتل کے درپے تھا۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) انہیں لے کر مصر چلی گئیں اور جب تک ہیروڈوس زندہ رہا ملک شام واپس نہ آئیں۔ انجیل کی کتاب متی میں یہ واقعہ اسی طرح مذکور ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں : اقرب قول یہ ہے کہ ” ربوہ “ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں حضرت مریم ( علیہ السلام) وضع حمل کے وقت تشریف رکھتی تھیں۔ سورة مریم میں ہے کہ ان کے نیچے چشمہ جاری کردیا۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اہل اسلام میں سے کسی نے ” ربوہ “ سے مراد کشمیر نہیں لیا اور نہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی قبر کشمیر میں بتائی ہے۔ یہ محض کذب بیانی اور دروغ بانی ہے۔ محلہ ” خان یار “ شہرسری نگر میں جو قبر ” یور آسف “ کے نام سے مشہور ہے اور جس کے متعلق ” تاریخ اعظمی “ کے مصنف نے محض عام افواہ نقل کی ہے کہ ” لوگ اسے کسی نبی کی قبر بتاتے ہیں وہ کوئی شہزادہ تھا اور دوسرے ملک سے یہاں آیا تھا “ اس کو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بر بتانا پرلے درجے کی بےحیائی اور سفاہت ہے۔ (کذافی بعض الحواشی)
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے ہر زمانہ میں پیغمبروں کو یہی حکم دیا ہے) پیغمبر و ستھری (پاکیزہ) چیزیں کھائو اور6 اچھے عمل کرتے رہو ( جو شرع کے موافق ہوں) جو تم کرتے ہو میں جانت اہوں

6 ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جو حکم رسولوں ﷺ کو دیا ہے وہی حکم اہل ایمان کو دیا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کر کے فرمایا : ایک شخص دور دراز کا سفر طے کر رہا ہے اور اس کے ہاں اور کپڑے گرد سے اٹے ہوئے ہیں مگر اس کا کھانا حرام کا ہے، پینا حرام کا ہے، لباس حرام کا ہے۔ وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرتا ہے : اے میرے رب ! اے میرے رب، مگر اس کی دعا قبول کیونکر ہو ؟ (شوکانی)
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہی تمہارا دین7 ہے ایک ہی دین اور میں تمہارا مالک ہوں تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو (میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو8

7 ۔ انبیاء کے درمیان زمان و مکان کا کتنا ہی اختلاف رہا ہو لیکن چونکہ وہ اصول (عقیدہ توحید) میں متفق تھے اور اسی کی طرف ان کو دعوت دی۔ اسی لئے ان سے خطاب کر کے فرمایا گیا کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ 8 ۔ ہر ایک نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لی ہے بعد میں ان کے ماننے والوں نے دین میں اختلاف کیوں اور کیسے کیا ؟
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر ان لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں پھوٹ کر کے ٹکڑے کر ڈالا۔ ہر فرد جو اس کے پاس ہے (یعنی جو دین اس کا ہے اس سے خوش ہے10

9 ۔ یعنی اپنے آپ کو برحق اور دوسرے کو باطل پرست سمجھتا ہے۔ 10 ۔ یعنی عذاب یا کفر پر موت کے وقت تک، یہ تہدید ہے تعیین نہیں ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 23:54–56

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) ایک وقت تک ان کی جہالت میں ان کو پڑا رہنے دے (یا ڈوبا رہنے دے)

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کی مال اور اولاد سے مدد کرتے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو ان کو بھلائی پہنچانے میں11 جلدی کرتے ہیں ہرگز نہیں ان لوگوں کو (ہمارا اصل مطلب) معلوم نہیں

11 ۔ ان کا خیال یہی تھا۔ چناچہ وہ کہا کرتے، ہم مال واسباب میں زیادہ ہیں اور ہم پر عذاب نہیں ہو ستا۔ (سبا :35) 12 ۔ اور وہ اصل میں استعمال و استدراج ہے تاکہ جس قدر انہیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور بھرپور طریقہ سے ان پر گرفت کی جائے۔ (نیز دیکھئے سورة اعراف :183)
Ayahs 23:57–60

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

جو لوگ اپنے ملک کے خوف سے لرزتے رہتے ہیں (یا اپنے ملک کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو مالک کی آیتوں پر یقین رکھتے ہیں (ان کے مطلب کو قح سمجھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو اپنے مالک کے ساتھ شرک نہیں کرتے (کسی کو اس کا شریک نہیں سمجھتے)

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں (اپنا مال دیتے ہیں اور دینے پر ان کے دل میں ڈر رہتا ہے کہ ان کو اپنے مالک کے پاس لوٹا کر جانا ہے13

13 ۔ وہاں معلوم نہیں ان کا دیا ہوا صدقہ قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں ؟۔ ڈرنے کا تعلق اس چیز سے ہے نہ کہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ صدقہ اور اسی طرح دوسری تمام عبادات بجا لاتے ہیں لیکن اس پر ناز نہیں کرتے۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شراب پی لے، چوری کرلے، زنا کرلے مگر اللہ سے ڈرتا رہے ؟ فرمایا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھے، صدقہ کرے نماز پڑھے پھر بھی ڈرتا رہے کہ شاید بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہو اور سلف گناہوں پر جتنا ڈرتے تھے، اس سے زیادہ نیکی کی عدم قبولیت کا اندیشہ ان کو دامن گیر رہتا تھا۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں14 اور ان میں دوسروں سے آگے بڑھ جاتے ہیں15

14 ۔ یعنی جن میں یہ بیان کردہ چار صفات پائی جاتی ہیں۔ 15 ۔ معلوم ہوا کہ مسابقت کی چیزیں نیک اعمال اور نیک اخلاق ہیں نہ کہ مال واولاد۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے اور ہمارے1 پاس ایک کاتب ہے (لوح محفوظ یا ان کا نامہ اعمال) جو سچ سچ (ان کے کاموں کو جتنا انہوں نے کیا ہے ابتلاتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

1 ۔ اور شریعت کے تمام احکام میں یہی اصول کار فرما ہے۔ (بقرہ :286) ۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر ان کے دل اس بات سے غافل ہیں2 اور اس غفلت کے سوا ان کے (دوسرے اور بڑے) کام جو وہ کیا کرتے ہیں (شرک اور کفر اور طرح طرح کے گناہ)3

2 ۔ کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، یا بول رہے ہیں، سب ان کے نامہ اعمال میں درج ہو رہا ہے اور ایک دن انہیں ان کا حساب دینا پڑے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ھذا “ سے اشارہ قرآن کی طرف ہو اور یہ کفار اور مشرکین قریش کو تنبیہ ہو۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) 3 ۔ یا وہ ” انہیں آئندہ کرنے والے ہیں “۔ واحدی کہتے ہیں کہ اس آیت میں ان کے آئندہ اعمال کی خبر دی گئی ہے۔ یہی اکثر علمائے تفسیر نے بیان کی ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 23:64–65

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے آسودہ لوگوں کو عذاب میں گانٹھ لیں گے تو اس وقت بلبلا اٹھیں گے۔

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

اس وقت ہم ان سے کہیں گے اب کیوں بلبلاتے ہو امت بلبلائو آج تم کو ہماری طرف سے کوئی4 مدد نہیں ملے گی۔

4 ۔ کیونکہ یہ جزا و سزا کا وقت ہے، عمل و توبہ کا وقت ختم ہوگیا۔ اب تمہاری چیخ پکار بےکار ہے۔
Ayah 23:66

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

(ایک روز وہ تھا یاد کرو جب) ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم اس (یعنی فرشتوں یا پیغمبر) سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے5

5 ۔ اب یہاں پر ان کا سب سے بڑا گناہ بیان کیا ہے (ابن کثیر) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے کہ ” بہ “ کی ضمیر قرآن یا آنحضرت ﷺ کے لئے قرار دی جائے اور ” ھجر “ کے معنی بکواس کرنا اور ” سامرا “ کے معنی گپ شپ کرنے والے لوگ (جمع) لئے جائیں اور اگر ” سامرا “ کے معنی افسانہ گو (واحد) اور ” ھجر “ کے معنی چھوڑنا کئے جائیں (جیسا کہ شاہ عبد القادر (رح) نے لئے ہیں) تو ترجمہ یوں ہوگا۔ ” تو تم اس (پیغمبر) سے (یا حرم کی مج اوری پر) اکڑ کر ایک افسانہ گو کو چھوڑتے ہوئے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے “۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ” قریش کی عادت تھی کہ رات کے وقت خانہ کعبہ کے پاس حلقے بنا کر بیٹھتے اور قرآن اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں بیہودہ بکواس کرتے اور آپ ﷺ کو شاعر، کاہن وغیرہ کہتے۔ اس لئے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو رات کے وقت ہر قسم کی گپ بازی سے منع فرما دیا۔ (مختصر از شوکانی و قرطبی)
Ayahs 23:67–68

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

کڑے ہوئے رات کو گپ شپ لگانے کے لئے بیہودہ بکواس رتے ہوئے

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا ان کافروں نے قرآن میں غور نہیں کیا یا6 (اس وجہ سے بھڑک گئے کہ ان کے پاس وہو آیا جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آیا تھا7

6 ۔ پس یہاں ” القول “ سے مراد قرآن ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : افلا یتدبرون القران۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ (نساء :82) یعنی اگر غور کرتے تو صاف معلوم ہوجاتا کہ قرآن سچی کتاب۔ 7 ۔ یعنی قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ہے بلکہ اس میں وہی باتیں ہیں جو اللہ کے پیغمبر ﷺ ہر زمانہ میں لاتے رہے ہیں۔ یہاں ” اباء ھم الاولین “ سے مراد پہلی امتیں ہیں۔ کیونکہ عربوں کے آباء کے متعلق تو تصریح موجود ہے کہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ (یٰٓس :6)
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا وہ اپنے پیغمبر (حضرت محمد) کو نہیں پہچانتے۔ اس وجہ سے اس کو نہیں مانتے8

8 ۔ یعنی یہ بات بھی نہیں کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی دیانت و امانت کو خوب پہچانتے تھے بلکہ خود انہیں ” امین “ کہہ کر پکارتے تھے۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں اس کو (یعنی پیغمبر کو) جنون ہوگیا9 ہے (ہرگز نہیں) بلکہ (ہے یہ کہ) وہ سچی بات (قرآن یا دین اسلام لے کر آیا ہے اور ان کافروں میں اکثر لوگ حق بات کو10 ناپسند کرتے ہیں۔

9 ۔ یعنی کیا وہ واقعی آنحضرت ﷺ کو مجنون (پاگل) سمجھتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ چاہے وہ زبان سے انہیں مجنون کہتے ہوں لیکن دل سے ان کی عقلمندی کے کے قائل ہیں۔ 10 ۔ یعنی اگر یہ لوگ مخلص اور حق پسند ہوتے تو ان کے پاس آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے ان اسباب میں سے کوئی ایک سبب ہوسکتا تھا مگر جب ان اسباب میں سے کوئی سبب بھی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ مخلص اور حق پسند نہیں ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ سے دور بھاگ رہے ہیں۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (کہیں) حق ان کی خوشی پر چلتا تو آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں میں (سب) خراب ہوجاتے بلکہ ہم ان کے پاس وہ کتاب لے کر آئے ہیں جس سے ان کو فخر ہونا چاہیے تو وہ اپنے فخر (اور عزت اور شرف) سے منہ پھیرتے ہیں۔

11 ۔ یعنی ویسا ہوتا یا ہوجایا کرتا جیسا یہ چاہتے ہیں۔ 12 ۔ کیونکہ ان کی خواہش اختلاف و تضاد کا مجموعہ ہیں یا مطلب یہ ہے کہ ان کی خاہش کے مطابق اگر اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو کائنات کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ اکثر مفسرین (رح) نے اس آیت کا یہی دوسرا مطلب لیا ہے۔ (شوکانی) 13 ۔ یا جس میں ان کیلئے نصیحت ہے اور وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں لفظ ” ذکر “ کے مفسرین (رح) نے متعدد معنی بیان کئے ہیں۔ (انبیاء :10)
Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تو (اے پیغمبر) ان کے کچھ فیس (مزدوری حق المحنت) مانگتا ہے (ہرگز نہیں، تیرے مالک کی فیس بہتر14 ہے اور وہ سب سے اچھا روزی دینے والا ہے

14 ۔ یعنی وہ ثواب اور درجہ جو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ آخرت میں دیگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ دعوت حق کا یہ کام بالکل بےلوث ہو کر کر رہے ہیں اور ان سے کوئی حق خدمت طلب نہیں کرتے تو ان کا آپ ﷺ کی دعوت کو ٹھکرانا سراسر حماقت اور عاقبت نااندیش ہے۔
Ayah 23:73

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ تو ان کو بیشک سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے

1 ۔ جسے کوئی کج فہم آدمی ہی ٹھکرا سکتا ہے۔ مراد ہے اسلام کا سیدھا راستہ۔
Ayah 23:74

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور بیشک جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے وہ سیدھے رستے سے ہٹ گئے ہیں2

2 ۔ یعنی چونکہ انہیں اس چیز کی فکر ہی نہیں کہ کل ہمیں کس انجام اور کس حساب و کتاب سے سابقہ پیش آنے والا ہے اس لئے وہ تحیر اور ضلالت کا شکار ہو رہے ہیں۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اگر ہم ان پر رحم کریں اور ان کو جو تکلیف ہے وہ دور کردیں3 تو اور اپنی شرارت پر جم کر بھکٹتے پھریں4

3 ۔ اور قرآن بھی ان کے فہم میں اتار دیں۔ یہاں ” ضر “ سے مراد ہے اس قحط کی تکلیف جس میں قریش آنحضرت ﷺ کی بددعا سے مبتلا ہوئے تھے۔ اس قحط کا متعدد روایات میں ذکر آیا ہے صحیحین میں ہے کہ جب قریش کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں بددعا فرمائی : اللھم اعنی علیھم بسبع کسبع یوسف۔ اے اللہ ! میری ان کے مقابلہ میں ایسے ہفت سالہ قحط سے مدد فرما۔ جیسا قحط یوسف ( علیہ السلام) کے زمانہ میں پڑا تھا۔ (شوکانی) 4 ۔ کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے جو مصیبت ٹلتی ہے اپنے ہی حسن انتظام سے ٹلتی ہے۔ خدا کا اس کے ٹالنے میں کوئی احسان نہیں ہے۔ (وحیدی)
Ayahs 23:76–77

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم ان کافروں کو (یعنی ان کے باپ داد اگلے کافروں کو عذاب میں دبوچ چکے ہیں جب بھی وہ اپنے مالک کے سامنے نہ جھکے

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

اور5 نہ عاجزی کی یہاں تک کہ جب ہہم ان پر سخت عذاف کا دروازہ کھول دیں گے6 تو وہاں آس توڑکر بیٹھ رہیں گے

5 ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جس زمانہ میں قریش قحط میں مبتلا تھے ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ سے کہا : ” کیا آپ کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کو سارے جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں وہ بولے “ (مگر) آپ ﷺ نے تو آباء کو تلوار سے اور ابناء (بیٹوں) کو بھوک سے مار ڈالا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن جریر) 6 ۔ مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور بدر کے دن کا بھی جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ (قرطبی)
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تم (ان نعمتوں کا) بہت کم شکر کرتے ہو7

7 ۔ ان حواس کی شکر گزاری تو یہ ہے کہ ان کے ذریعہ صحیح راستہ کی طرف رہنمائی حاصل کرو، ورنہ ان کے ذریعے جسمانی اور مادی خواہش تو دوسرے حیوانات بھی پوری کر رہے ہیں۔ عالم کون میں جو دلائل توحید پائے جاتے ہیں ان کے ذریعہ ان دلائل کو دیکھا اور سمجھا جائے اور کانوں سے سبق آموز باتیں سنی جائیں۔
Ayahs 23:79–80

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے تم کو زمین پر بکھیرا چاروں طرف تمہاری نسل پھیلائی اور اسی کے پاس (قیامت کے دن) اکٹھا کئے جائو

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے اور وہی خدا ہے جو (ہرجاندار کو اجلاتا ہے اور مارتا ہے اور رات دن کا ایر پھیر8 بھی وہی کرتا ہے کیا تم کو عقل نہیں9

8 ۔ کبھی رات آتی ہے اور کبھی دن، اور پھر ان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور دنیا کی ساری رونق اس رات دن کے الٹ پھیر ہی سے قائم ہے۔ 9 ۔ کہ آخر زندگی کا یہ سارا نظام کسی خالق اور عزیزو علیم کے بغیر وجود میں آسکتا تھا اور کیا اس کائنات کے ایک سے زیادہ خالق و مدبر ہوسکتے تھے ؟