23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 23:81

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بلکہ جیسا اگلے لوگ بکتے رہے یہ بھی بکتے ہیں10

10 ۔ یعنی باپ دادا کی اندھی تقلید کے بغیر، ان کے پاس اپنے غلط عقائد و اعمال کے لئے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ہے۔
Ayahs 23:82–83

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کیا جب ہم مرگئے اور خاک ہوگئے اور ہڈیاں تو پھر اٹھائے جائیں گے (پھر زندہ ہوں گے)

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

بیشک ہم سے اور پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی ایسا وعدہ کیا گیا تھا11 مگر یہ کچھ نہیں اگلے لوگوں کے (بنائے ہوئے) ڈھکوسلے ہیں

11 ۔ یعنی پیغمبر ﷺ اور ان کے ماننے والے پہلے بھی اس کا دعویٰ کرتے چلے آئے ہیں۔
Ayahs 23:84–85

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے) پوچھ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کی ہے اگر تم جانتے ہو (تو بتائو)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

وہ ضرور ہی کہیں گے اللہ کی ہے کہہ دے پھر تم غور کیوں نہیں کرتے12

12 ۔ یعنی یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ پھر اس کے بغیر کوئی معبود بھی نہیں ہے اور انسانوں کے مرجانے کے بعد اس کے لئے انہیں دوبارہ زندہ کرنا بھی مشکل کام نہیں ہے۔
Ayahs 23:86–87

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے) پوچھ (بھلا یہ تو بتائو، ساتوں آسمانوں کا مالک کون ہے اور بڑے تخت عرش کا مالک کون ہے

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

وہ ضرور یہی کہیں گے اللہ تعالیٰ کہہ دے پھر تم اس کے عذاب اور قہر1 سے کیوں نہیں ڈرتے

1 ۔ اور اسے چھوڑ کر دوسروں کی بندگی کرتے ہو اور اس کے لئے ایسی چیزیں قرار دیتے ہو جنہیں اپنے لئے برا سمجھتے ہو۔ (قرطبی)
Ayah 23:88

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے پوچھو (بھلا یہ تو بتائو) اگر تم جانتے ہو کس کے ہاتھ میں2 ہر چیز کی حکومت ہے اور3 وہ بچا لیتا ہے اور اس (کی پکڑ اور عذاب) پر کوئی نہیں بچا سکتا

2 ۔ یعنی کون ہر چیز پر کامل اقتدار رکھتا ہے۔ ” ملکوت “ کے لفظی معنی ملک (بادشاہی) کے ہیں ” و ء ت “ کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی ہر ایک کو بچا سکتا اور پناہ دے سکتا ہے۔
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

وہ ضرور یہی کہیں گے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیا رہے تو کہہ پھر تم کہاں یہ کر رہے ہو۔4

4 ۔ یعنی تمہیں کہاں سے دھوکا لگتا ہے کہ ایسی قدرت اور ایسے اختیار والی ہستی ک چھوڑ کر بےحقیقت ہستیوں کو اپنا معبود بناتے پھرتے ہو ؟ یہ تمام تر خطاب ان لوگوں سے ہے جو صانع کے وجود کے قائل تھے جیسا کہ ان کے جواب ” سیقولون للہ “ سے معلوم ہوتا ہے۔ تسحرون “ کا لفظی ترجمۃ تم مسحور کئے جاتے ہو۔ “ (قرطبی)
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس سچی بات پہنچا دی اللہ کی توحید اور حشر نشر5 وغعیرہ اور بیشک چھوٹے ہیں۔

5 ۔ یعنی اپنی اس بات میں جھوٹے ہیں کہ اللہ کے سوا اور بھی بندگی کے لائق ہے۔
Ayah 23:91

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے (اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو لے کر چل دیتا اور6 (لڑ کر) ایک دوسرے پر غالب آتا جیسے بادشاہوں کی عادت ہے جو باتیں (خدا کی نسبت) یہ بنات یہیں وہ ان سے پاک7 ہے

6 ۔ اپنی خدائی الگ قائم کرلیتا۔ 7 ۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا۔ (قرطبی) وہ ہر نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔
Ayah 23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ چھپی اور کھلی یہ بات کو جانتا ہے8 ہے اور انکے شرک سے (کہیں) برتر ہے9

8 ۔ یعنی جو دوسروں کے لحاظ سے کھلی یا چھپی ہے ورنہ اس کے لئے تو ہر چیز کھلی ہے۔ 9 ۔ یعنی اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ جن کو یہ مشرک اس کا شریک سمجھتے ہیں وہ اس کے شریک ہوں۔ (وحیدی)
Ayahs 23:93–94

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

اے پیغمبر دعا کر مالک میرے اگر تو مجھ کو وہ عذاب دکھلائے جس کا کافروں سے وعدہ ہے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو مالک میرے مجھ کو ان گنہگار لوگوں میں شریک مت کر ایسا10 ہو کہ میں بھی ان کے ساتھ پس جائوں

10 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ نبی ﷺ کے بھی گناہگاروں کیساتھ پس جانے کا اندیشہ تھا اس لئے آپ ﷺ کو یہ دعا کرنے کا حکم دیا گیا بلکہ اس سے مقصود امت کے لوگوں کو تعلیم دینا ہے کہ خدا کے عذاب سے ہر شخص کو چاہے وہ کتنا ہی نیک ہو پناہ مانگتے رہنا چاہیے اور کبھی اپنی نیکی پر اترانا نہیں چاہیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بروں کے ساتھ نیک بھی پس جاتے ہیں۔ دیکھئے سورة انفال :25 ۔ (شوکانی)
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور ہم یہ کرسکتے ہیں کہ جس عذاب کافروں سے وعدہ کر رہے ہیں وہ تجھ کو دکھلا دیں

11 ۔ یعنی ہم یہ پوری قدرت رکھتے ہیں کہ اسے آپ ﷺ کی زندگی ہی میں ان پر نازل کردیں لیکن چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ آگے چل کر ایمان لانے والے ہیں اس لئے ہم اسے مؤخر کئے جا رہے ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اے پیغمبر اگر کوئی تیرے ساتھ برائی کرے تو برائی کا دفعیہ12 اس طرح سے کر جو بہت اچھا ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ کافر کہتے ہیں

12 ۔ یعنی بدی کا بدلہ نیکی، ظلم کا بدلہ انصاف، خیانت کا بدلہ دیانت داری، جھوٹ کا بدلہ، سچ، قطع رحمی کا بدلہ صلہ رحمی اور گالی گلوچ کا بدلہ دعا وسلام سے……دیجئے نتیجہ کیا ہوگا ؟ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔ یعنی اس طرح جو آپ ﷺ کا دشمن ہے وہ آپ ﷺ کا دلسوز دوست ہوجائے گا۔ (فصلت :34) اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی ہے اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لئے یہ تریاق نافع ہے۔ (ابن کثیر) چناچہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے کسی پر زیادتی کی ہو یا اس سے ذاتی انتقام لیا ہو۔ الا یہ کہ اس نے اللہ کی مقرر کردہ کسی حد کو پامال کیا جو آپ ﷺ نے اس سے اللہ کے لئے انتقام لیا۔ (مسلم)
Ayahs 23:97–98

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور یوں دعا کر مالک میرے میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور مالک میرے میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے وہ میرے پاس آئیں13

13 ۔ یعنی کسی حال میں میرے ساتھ ہوں کیونکہ جب وہ کسی انسان کے ساتھ ہوں گے تو وسوسہ اندازی اور برائی پر اکسانے اور نیکی سے پھیردینے کے سوا ان کا کوئی کام ہی نہ ہوگا۔ (شوکانی) اس آیت میں شیطان کے شر سے بچنے کے لئے دعا کی تعلیم دی ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ہمیں رات کو سوتے وقت پڑھنے کے لئے یہ دعا سکھایا کرتے تھے تاکہ گھبراہٹ سے محفوظ رہیں : بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ و شر عبادہ ومن ھمزت الشیطین وان یحضرون۔ (شوکانی)
Ayahs 23:99–100

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ کافر اسی طرح واہی باتیں بکتے رہیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کوئی مرنے لگے گا تو (اس وقت ڈر) کر دعا کریگا اے مالک مجھ کو پھر دنیا میں لوٹا دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

شاید میں جس دنیا کو چھوڑ کر ایٓا ہوں اب کے (پھر وہا جا کر) اس میں اچھے کام کروں ہرگز نہیں یہ کہاں1 ہوسکتا ہے (اس کا پھر دنیا میں جانا یہ ایک بات ہے جو وہ کہے گا ان کے2 مرے پیچھے ایک پردہ ہے جس دن تک دوبارہ زندہ ہونگے

1 ۔ ” جسے وہ کہے گا ہی “ مگر اس کی کوئی شنوائی نہ ہوگی کیونکہ اسے عمل کے لئے جو مہلت ملنی تھی ایک مرتبہ دنیا میں مل چکی۔ دوبارہ عمل کے لئے کوئی موقع اسے نہ دیا جائے۔ (شوکانی) 2 ۔ مراد ہے عالم برزخ جسے قبر کی زندگی بھی کہا جاتا ہے۔ برزخ کے لغوی معنی دو چیزوں کے درمیان پردہ یا آڑ کے ہیں۔ قبر کی زندگی کو برزخ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے درمیان پردہ یا آڑ ہے۔ احادیث سے بھی اس عالم (قبر) میں نیکوں کے لئے آرام اور بدوں کے لئے سزا اور تکلیف کا ثبوت ملتا ہے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

(وہیں رہیں گے پھر جب3(آخیر کا) صور پھونکا جائے گا تو نہ رشتہ ناطہ اس دن ان میں ہوگا اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں گے

3 ۔ یعنی وہ اپنے رشتے ناتوں پر فخر نہ کریں گے یا رشتے ناتے کچھ فائدہ نہ دے سکیں گے۔ حدیث میں ہے : کل نسب و سبب منقطع الائسبی و سببی۔ کہ میرے نسب اور تعلق کے بغیر سب تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔ اس حدیث کی بنا پر حضرت عمر ؓ نے ام کلثوم ؓ بنت علی ؓ بن ابی طالب سے چالیس ہزار مہر کے بدلے نکاح کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا نسب اس عموم سے مستثنیٰ ہے (ابن کثیر) 4 ۔ دوسری آیت میں ہے : وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ (صافات :27) مگر قیامت کے دن مختلف مواقف ہونگے اور ان میں مختلف حالتیں ہوں گی۔ کسی حالت میں ایک دوسرے سے سوال کرینگے اور کسی میں نہیں کرینگے۔ لہٰذا ان آیات میں تعارض نہیں ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 23:102–104

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پھر جن کے (نیکیوں) پلے بھاری ہوگئے تو وہی لوگ بامراد ہوں گے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے (نیکوں کے) پلے ہلکے ہوگئے اور برائیوں کے پلے بھاری ہوگئے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں آپ تباہ کیا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

ان کے منہ کو آگ جھلتی ہوگی اور وہ اس میں دوزخ میں بدشکل بنے ہوں گے۔5

5 ۔ دراصل ” کالح “ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی چمڑی ادھڑ گئی ہو اور دانت ظاہر ہوگئے ہوں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ” کالح “ کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے فرمایا : الم ترا الی الرأس المشیط۔ کہ تم نے جلائی ہوئی سری نہیں دیکھی۔ (ابن کثیر)
Ayahs 23:105–110

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں پھر تم ان کو جھٹلاتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے بلکہ ہمارے ہماری کمبختی ہم پر چڑھ بیٹھی (غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

مالک ہمارے ہم کو (اب کی بار) دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ایسا کریں تو بیشک ہم قصور وار ہیں۔

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا دور ہو اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

(دیکھو) ہمارے بندوں میں سے کچھلوگ دنیا میں یوں) دعا کرتے تھے ملک ہمارے ہم ایمان لائے ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب رحم کرنے والوں میں بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تم نے ان لوگوں کو مخسرہ بنایا تھا یہاں تک کہ اس ٹھٹھے میں میری یاد بھول گئے تھے6 اور تم ان سے ہنستے رہے

6 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” انہوں نے تم کو میری یاد بھلا دی “ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمہیں میری یاد بھلا دینے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی)
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

ٓ ج کے دن (دیکھو کیسا ہوا) ان کے صبر کا بدلہ میں نے ان کو یہ دیا کہ وہ اپنی مراد کو پہنچ گئے7

7 ۔ بلکہ لفظی ترجمہ یوں ہے کہ وہی بامراد ہیں “۔
Ayahs 23:112–113

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا (یا اے پیغمبر ان سے پوچھ) بھلا تم زمین میں کتنے برس رہے ہو گے

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے (خداوند) ہم شاید ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے8 حساب جاننے والوں فرشتوں سے پوچھ لے۔

8 ۔ یعنی وہ اس قدر سخت عذاب میں مبتلا ہونگے کہ انہیں اپنی دنیوی زندگی جو انہوں نے عیش و آرام سے گزاری، ایک خواب نظر آئے گی۔ اس لئے وہ کہیں گے کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہونگے “۔ (شوکانی)
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا (یا اے پیغمبرت و کہہ) تم بیشک تھوڑا ہی رہے مگر تم جانتے ہوتے لوگو1

1 ۔ یعنی واقعی تمہاری موجودہ زندگی کے مقابلے میں تمہاری دنیوی زندگی کی مقدار کچھ بھی نہ تھی۔ کاش تم نے یہ دنیا میں رہتے ہوئے جانا ہوتا۔ تمہیں یہی چیز ہمارے پیغمبر ﷺ سمجھاتے رہے مگر تم نے ان کی ایک نہ سنی اور الٹا ان کا مذاق اڑاتے رہے۔
Ayahs 23:115–116

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تم کو بیکار یا کھیل بنایا ہے مر کر خاک ہوجائو گے) ہمارے پاس لوٹ کر نہ آئو گے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

بلند ہے (یا بڑی شان والا ہے) اللہ جو سچا بادشاہ ہے اس کے2 سوا کوئی سچا خدا نہیں وہ عزت کے تخت کا صاحب ہے

2 ۔ یعنی اللہ جو سچا بادشاہ ہے اس کی شان اس سے بلند ہے کہ وہ تمہیں بیکار اور بےمقصد پیدا کرے۔ (شوکانی)
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے3 ساتھ (یعنی گو اللہ کو مان کر کسی دوسرے خدا کو پکارے جس کوئی دلیل4 اس کے پاس نہیں ہے۔ (شرک کمبخت کی دلیل کہاں سے آئی) تو اللہ ہی کے پاس آئے۔5 حساب ہونا ہے بیشک وہ کافر میں وہ پنپ نہیں سکیں گے (کبھی) ان کی مراد پوری ہوگی

3 ۔ تو وہ بقیہ تمام مخلوقات کا صاحب (مالک) کیوں نہ ہوگا جبکہ عرش ہر مخلوق سے بلند ہے عرش کو کریم (عزت والا) یا تو اس لئے کہا گیا ہے کہ اس سے خیر و رحمت کا نزول ہوتا ہے یا اس لئے کہ اس پر مستوی ہونے والی ذات مقدس کریم ہے۔ واللہ اعلم۔ (شوکانی) 4 ۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ پکارنے سے مراد حاجت روائی کے لئے پکارنا ہے یا عبادت کرنا۔ 5 ۔ اور شر ک کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ جس کا چاہے گا ہر گناہ معاف کر دیگا لیکن شرک کو بغیر توبہ کے معاف نہیں کریگا۔ (نساء :48، 116)
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) دعا کر مالک میرے مجھ کو بخشدے اور رحم فرما اور تو سب رحم کرنیوالوں سے بڑھ کر رحم کرنیوالا ہے۔

6 ۔ نبی ﷺ کو استغفار کا حکم دے کر دراصل امت کو تعلیم دی ہے کہ آپ ﷺ کی اقتدا میں وہ استغفار کیا کرے۔ اس آیت کا تعلق اوپر کے مضمون سے یہ ہے کہ پہلے کفار و مشرکین کا حال بیان کیا گیا ہے اور اب آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان سے کٹ کر صرف اللہ کے ہو رہیں اور اسی کی رحمت و مغفرت کے دامن میں پناہ لیں۔ (شوکانی)