24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے اتارا اور اس پر8 چلنا ہم نے لازم کیا اور اس میں کھلی کھلی باتیں اتاریں اس لئے کہ تم (ان کو) یاد رکھو (یا ان سے نصیحت لو

8 ۔ یعنی اس میں حلال و حرام اور حدود سے متعلق جو احکام دیئے گئے ہیں ان کی حیثیت ہمارے عائد کردہ فرض کی ہے۔ لہٰذا ان کا بجا لانا ناگزیر ہے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

جو عورت زنا کرے اور جو مرد زنا کرے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو9 اور اگر تم کو اللہ تعالیٰ اور پچھلے دن پر یقین ہے تو اللہ تعالیٰ کا حکم چلانے میں اس کے دین کی بات میں) ان دونوں پر رحم10 نہ کرنا اور جس وقت ان کو (یعنی زنا کرنے والے مرد اور عورت کی سزا دی جائے تو مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے11

9 ۔ شروع اسلام میں زنا کی کوئی باقاعدہ حد مقرر نہ تھی۔ بلکہ زانی اور زانیہ کو قید رکھنے یا ان کی پٹائی کرنے کا حکم تھا۔ یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے بارے میں کوئی دوسرا راستہ نکال دے یعنی شرعی حد مقرر کر دے۔ (دیکھئے نساء :16 ۔ 17) اس آیت میں اسی شرعی حد کا اعلان کیا گیا ہے۔ احادیث میں کوڑوں کی سزا کے علاوہ زانی کو ایک سال کے لئے شہر بدر کرنا بھی ثابت ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے اور اکثر علما اس کے قائل ہیں۔ اگر زانی مرد یا عورت شادی شدہ ہوں تو ان کی سزا رجم یعنی سنگساری سے مار دینا ہے یہ حکم صحیح اور متواتر حدیث سے ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ اور پھر خلفا کے دور میں سنگساری ہوتی رہی اور حضرت عمر ؓ نے ایک مجمع میں خطبہ دیتے ہوئے بڑے شدومد کے ساتھ اس کا اعلان کیا اور یہ بھی ثابت ہے کہ رجم کی آیت قرآن میں تھی مگر بعد میں اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی اور حم برابر باقی رہا۔ پھر صحابہ ؓ اور تابعین ؓ کے درمیان بھی یہ مسئلہ متفق علیہ رہا اور کسی نے انکار نہیں کیا ایک زمانہ میں صرف خوارج نے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ رجم قرآن میں نہیں ہے لیکن جب ” رجم “ کی سزا سنت سے ثابت ہے جو اسلامی قانون کا مستقل ماخذ ہے تو اس سے انکار محض ضلالت ہے۔ بعض ائمہ نے شادی شدہ زانی کو ایک ساتھ دو سزائوں۔ کوڑوں اور رجم۔ کا بھی فتویٰ دیا ہے اور رجم کے بارے میں ائمہ (رح) کے درمیان اختلاف نہیں ہے۔ (ابن کثیر) 10 ۔ کیونکہ بدکاروں پر رحم کرنا سارے اسلامی معاشرہ کے ساتھ بےرحمی ہے اور حدود الٰہی میں نرمی ہی سے پہلی امتوں پر تباہی آئی ہے۔ قانون کا احترام اور نفاذ باقی نہ رہے تو قوم اندرونی خلفشار اور جرائم میں مبتلا ہوجاتی ہے اور اقامت حدود سے برکت نازل ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ایک حد کا قائم کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ (ابن کثیر) 11 ۔ تاکہ عام مسلمانوں کو عبرت حاصل ہو۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد بدکار یا مشرکہ عورت سے ہی نکاح کرے گا اور بدکار عورت سے وہی مرد نکاح کرے گا جو بدکار یا مشرک ہو اور ایمانداروں کو یہ کام (یعنی زنا کاروں سے نکاح کرنا، حرام ہے12

12 ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہاں نکاح بمعنی جماع لیا ہے یعنی زانی مرد یا عورت کی ہوس کو ان کے مثل کوئی مرد یا عورت ہی پورا کریگی یا کوئی مشرک مرد یا عورت جو زنا کو حرام نہیں سمجھتے۔ بعض نے یہاں نکاح کے معنی عقد یعنی معروف نکاح لئے ہیں۔ چناچہ امام احمد (رح) نے توبہ کے بغیر زانی مرد کا پاکدامن عورت سے اور پاکدامن مرد کا زانیہ عورت سے نکاح حرام قرار دیا ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) نے اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے ان لوگوں کی پرزور تردید کی ہے جو اس نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (تفسیر سورة نور)
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ مسلمان زاہد پاکدامن عورتوں کو زنا کی تہمت لگائیں پھر چارہ گواہ (ایسے جنہوں نے اپنی آنکھ سے زنا کرتے دیکھا ہو) نہ لاسکیں تو ان کی (تہمت کی سزا، میں اسی کوڑے لگائو اور پھر ساری عمر ان کی گواہی (کسی مقدمہ میں) مت مانو اور وہ خود بدکار ہیں1

1 ۔ اللہ کے ہاں بھی اور قانون کی نظر میں بھی۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:5

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر جنہوں نے ایسا کئے پیچھے تو یہ کی اور اچھی چال چلے تو اللہ بخشے والا مہربان ہے2

2 ۔ یعنی اب ان سے فسق کا حکم بھی اٹھ جائے گا اور ان کی گواہی بھی قبول ہوگی۔ (شوکانی) ائمہ ثاثہ (رح) اور سلف (رح) کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس سے فسق کا حکم تو رفع ہوجائے گا مگر گواہی قبول نہ ہوگی۔ اس اختلاف کی بنا اس چیز پر ہے کہ آیا اس استثناء کا تعلق ولا تقبلوا لھم شھادۃ اور اولئک ھم الفسقون “ دونوں سے ہے یا صرف آخری حصہ سے (ابن کثیر)
Ayahs 24:6–9

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی جوروں کو زنا عیب لگائیں اور ان کے پاس سو ان کے خود کے اور گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک ایک کی گواہی یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر چار بار گواہی دے وہ (اپنے بیان میں) سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یوں کہے اللہ تعالیٰ کی پٹکار اس پر ہو اگر وہ جھوٹا ہو

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت پر سے سزا (یعنی زنا کی حد) ایسے عملے گی کہ وہ چار بار اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (یعنی اس کا خاوندجھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں بار یوں کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب اترے اگر وہ (یعنی اس کا خاوند) سچا ہو (اور میں نیواقعی زنا3 کی ہوا

3 ۔ جب اوپر کی آیت میں حد قذف نازل ہوئی تو اس کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو اس کا کیا حکم ہوگا۔ چناچہ یہ سوال سعد بن عبادہ نے ایک فرضی سوال کی حیثیت سے آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ (بخاری، مسلم) مگر جلدی ہی ہلال ؓ بن امیہ کا واقعہ پیش آگیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بیوی کے متعلق بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس کو زنا کرتے دیکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” چار گواہ لائو ورنہ حد قذف تم پر جاری کی جائے گی۔ “ اس پر یہ چار آیتیں نازل ہوئیں اور آنحضرت ﷺ نے ان آیات کے مطابق تصفیہ…لعان… کے لئے ہلال ؓ اور ان کی بیوی کو بلایا۔ چناچہ پہلے ہلال نے قسمیں کھا کر گواہی پیش کی اور پھر اس کی بیوی نے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کرا دی اور فرمایا کہ حمل جو عورت کے پیٹ میں ہے اس کی ماں کی طرف منسوب ہوگا اور عورت کا زمانہ عدت کے نفقے اور سکونت کا کوئی حق ہلال ؓ پر نہ ہوگا کیونکہ یہ طلاق یا وفات کے بغیر جدا کی جا رہی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:10

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر اللہ کا فضل اور اس کا کرم تم پر نہ ہوتا اور اللہ بہت معاف کرنے والا حکمت والا نہ ہوتا4

4 ۔ تو تم تباہ ہوجاتے کیونکہ بیویوں پر تہمت کا حل تمہاری سمجھ میں نہ آتا۔ (شوکانی)
Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے (حضرت عائشہ پر) تہمت5 اٹھائیتو ہی میں سے ایک گروہ6 ہے اس طوفان کو اپنے حق میں برا مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہو7 اس گروہ میں سے ہر شخص نے جتنا گناہ سمیٹا اتنی سزا پائے گا اور جس نے ان میں سے اس طوفان کا بیڑا اٹھایا (بڑا حصہ لیا) اس کو سخت سزا ہوگی۔

5 ۔ یہاں سے تیسرے رکوع کے آخر تک سولہ آیتیں اس تہمت سے حضرل عائشہ ؓ کی عفت و پاکدامنی ظاہر کرنے کے سلسلہ میں اتاری گئیں جو غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر بعض منافقین نے ان پر لگائی تھی۔ یہ واقعہ حدیث کی مشہور کتابوں میں خود حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بتفصیل درج ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ غزوہ بنی المصطلق سے واپس ہوتے ہوئے نبی ﷺ نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ ابھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاری ہونے لگی۔ حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لئے چلی گئیں۔ وہاں ان کے گلے کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرپڑا۔ اور وہ اسے تلاش کرنے لگیں۔ اتنے میں قافلہ روانہ ہوگیا اور لوگ بیخبر ی میں ان کا خالی ہودہ اونٹ پر رکھ کر روانہ ہوگئے۔ جب وہ ہار لے کر پلٹیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ چادر اوڑھ کر ایک جگہ لیٹ گئیں صبح کے وقت ایک صحابی صفوان ؓ بن معطل سلمی (جو بدری تھے اور اس لئے پیچھے رہ گئے تھے کہ صبح کے بعد قافلہ کے پڑائو کی جگہ دیکھ بھال کر آئیں) وہاں سے گزرے۔ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو پہچان لیا کیونکہ نزول حجاب سے پہلے انہوں نے ان کو دیکھا تھا۔ ان کی زبان سے بےساختہ یہ الفاظ نکلے : ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ رسول ﷺ خدا کی بیوی یہاں رہ گئیں، پھر انہیں اونٹ پر سوار کیا اور خود نکیل پکڑ کر آگے آگے چلنے لگے یہاں تک کہ دوپہر تک قافلہ کو جا لیا۔ منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی کو معلوم ہوا تو اس نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی اور اس کا چرچا کرنے لگا۔ ہوتے ہوتے بعض سادہ لوح مسلمان بھی اس افواہ کے پھیلانے والوں میں شریک ہوگئے۔ نبی ﷺ خاصے دنوں تک پریشان و متفکر رہے اور خود حضرت عائشہ ؓ کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت و پاکیزگی ظاہر کرنے کیلئے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (ابن کثیر) 6 ۔ روایات میں جن لوگوں کے نام ملتے ہیں وہ یہ ہیں :” عبد اللہ بن ابی، زید بن رفاعہ، سطح ؓ بن اثاثہ، حسان (رح) بن ثابت (مشہور شاعر) حمنہ ؓ بنت حجش (ام المومنین حضرت زینب ؓ کی بہن) اور بعض دوسرے ان میں سے پہلے دو منافق تھے اور باقی مسلمان (ابن کثیر ) 7 ۔ یعنی گھبرائو نہیں اس میں تمہارے لئے خیر کے بہت سے پہلو ہیں۔ 8 ۔ مراد ہے عبد اللہ بن ابی قبحہ اللہ و لعنہٗ ۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

مسلمانو تم کو کیا ہوگیا) جب تم نے یہ (نالائق) بات سنی تھی تو ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو پانی ذات1 والوں پر نیک گمان کرنا تھا اور یوں کہنا تھا یہ کھلا طوفان ہے2

1 ۔ یعنی اپنے مسلمان بھائیوں اور اسلامی معاشرہ پر۔ 2 ۔ جسے ایک لمحہ کے لئے بھی قابل غور نہیں سمجھا جاسکتا۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

اگر یہ طوفان اٹھانے والے سچے تھے) کیوں اس پر چار گواہ نہ لائے ( جیسے شرع کا حکم ہے) پھر جب گواہ نہ لاسکے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک خود ہی جھوٹے ٹھہرے3

3 ۔ ” اللہ کے نزدیک “ یعنی اللہ کے قانون کے مطابق جسے اسلامی عدالت نافذ کرتی ہے ورنہ اللہ کے علم میں تو وہ جھوٹے ہی تھے اس لئے جھوٹا جاننے کے لئے چار گواہوں کی ضرورت نہ تھی۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا کرم نہ ہوتا تو اس بات کا کھوج کرنے میں دیا اس کا چرچا کرنے میں) کوئی بڑا عذاب تم سے چمٹ جاتا۔

4 ۔ اگر مسئلہ عام مسلمان خاتون کا ہوتا تب بھی یہ بڑی بات تھی اور اب تو معاملہ اس خاتون کا تھا جو اللہ کے آخری رسول ﷺ کی بیوی اور امت کی ماں تھیں۔ (ابن کثیر)
Ayahs 24:15–16

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اس کو زبان اور زبان لانے لگے ایک نے سنا دوسرے سے کہہ دیا اس نے سنا تیسرے سے کہہ دیا اور بےسمجھے بوکھے (تحقیق کئے) منہ سے بکنے لگے اور تم سمجھے یہ کوئی بڑی بات نہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو وہ بڑی تھی

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور تم نے ایسا کیوں نہیں کیا جب یہ (جھوٹی) خبر سنی تھی تو کہہ دینا تھ اہم ایسی (برت بات) منہ سے نہیں نکال سکتے سبحان اللہ یہ بڑا بھاری طوفان ہے5

5 ۔ اس میں ان لوگوں کو تو بیخ کی ہے جو اس واقعہ کو سن کر اس میں دلچسپی لے رہے تھے۔ مروی ہے کہ حضرت سعد ؓ بن معاذ نے جب حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں قیل و قال کو سنا تو انہوں نے برملا اس کو جھٹلایا اور کہا : ” سبحانک ھذا بھتان عظیم “۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے حرم اس قسم کے ملوثات سے بالا ہوتے ہیں۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت، خیانت کفر تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے باہم دگر معاملات کی بنیاد نیک گمان پر ہونی چاہیے۔ اور کسی سے بدگمانی اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کے لئے کوئی واقعی ٹھوس بنیاد نہ ہو۔
Ayahs 24:17–18

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

(دیکھو) اگر تم میں ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ تم کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا (پھر ایسا کرنا تم پر حرام کرتا ہے

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تہ کھول کھول کر (اپنے) حکمتم سے بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ (سب کچھ) جانتا ہے حکمت والاف 6

6 ۔ چناچہ یہ اس کی حکمت ہی تھی کہ تہمت کھڑی کردی گئی جس سے سچے اور جھوٹے مسلمانوں کا فرق بھی واضح ہوگیا اور حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی کا ایسا ثبوت بہم پہنچا جس میں ایک مسلمان، مسلمان رہتے ہوئے شک نہیں کرسکتا۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بیشک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان میں فحش باتیں (لچھ پنے اور بدکاری کی) پھیلیں ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں تکلیف کا عذاب ہوگا اور (چھپی غیب کی باتیں) اللہ تعالیٰ7 جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

7 ۔ یعنی دنیا میں حد جاری ہوگی اور آخرت میں دوزخ کا عذاب ملے گا۔ حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” آپس میں ایک دوسرے کے عیوب تلا ش نہ کرو۔ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کیا کہ اسے بدنام کرے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب تلاش کرے گا اور اسے اس کے گھر میں ذلیل و رسوا کرے گا۔ (ابن کثیر)
Ayahs 24:20–21

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا کرم تم پر نہ ہوتا اور اللہ تعالیٰ بہت مہربان رحم والا نہ ہوتا (تو تم تباہ ہوجاتے)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مسلمانو شیطان کے قدم بقدم مت چلو (اس کی جو کوئی پر یوی کرے گا قدموں شیطان کی پیروی کرے (وہ گمراہ ہوگا) اس لئے کہ شیطان تو بےحیائی اور برے ہی کام کرنے کو صا سے) کہے گا اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم تر پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی (گناہ سے) پاک نہ رہسکتا لیکن اللہ (اپنے بندوں میں سے) جس کو چاہتا ہے1 پاک کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ (سب) سنتا جانتا ہے ہے۔2

1 ۔ یعنی اسے گناہ میں پڑنے نہیں دیتا یا گناہ کے بعد اسے توبہ کی توفیق دیتا ہے۔ 2 ۔ اسے معلوم ہے کہ کون دل میں اخلاص رکھتا ہے کہ اسے پاک کیا جائے اور کون نہیں رکھتا۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں بزرگی والے اور مالدار میں وہ (اپنے) ناطے والوں اور محتاجو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنیوالوں کو (خیرات) نہ دینے کے لئے قسم نہ کھا بیٹھیں (یا ان کو خیرات دینے میں قصور نہ کریں، بلکہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو (تمہاری خطائوں کو بخشے) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے3

3 ۔ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی یا اسے ہوا دی، ان میں ایک شخص مسطح بن اثاثہ تھا جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خالہ زاد بہن کا بیٹا تھا اور چونکہ غریب اور اللہ کی راہ میں مہاجر تھا اس لئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس کی کفالت اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ جب اوپر کی آیات میں عائشہ ؓ کی برأت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ سے اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لی گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا۔ ” واللہ ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے رب ہمارے تو ہماری خطائوں کو معاف فرما دے “۔ چناچہ آپ (رح) نے مسطح کی پھر سے مدد کرنا شروع کردی اور فرمایا۔ اللہ کی قسم ! اب میں کبھی اس کی مدد سے ہاتھ نہیں کھینچونگا “۔ فلھذا کان الصدیق ھو الصدیق ؓ و عن بنتہ (ابن کثیر)
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

اور جو لوگ پاکدامن بھولی مسلمان عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں اور ان کو (قیامت کیدن) بڑا عذاب ہوگا4

4 ۔” بھولی “ سے مراد وہ سیدھی سادی شریف عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں اور ان کے دل میں بدچلنی کا بھولے سے خیال نہیں آتا۔ امہات المومنین خصوصاً حضرت عائشہ ؓ ان بھولی عورتوں میں بالاولی شامل ہیں جن کے حق میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اس کے بعد بھی جو حضرت عائشہ ؓ سے بدگمانی رکھے گا وہ کافر اور قرآن کا مخالف ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” سات تباہ کردینے والی چیزوں سے بچو۔ “ صحابہ ؓ نے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ان سات چیزوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ایک بھولی مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا تھی۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن ان کی زبانیں اور ان کی ہاتھ اور ان کے پائوں (خود) ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے5

5 ۔ یعنی اس بات کی گواہی دینگے کہ وہ دنیا میں یہ برے کام کرتے رہے ہیں۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ت عالیٰ ان کو پورا واجبی بدلہ (ان کے اعمال کا) دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی سچا کھولنے والا ہے6

6 ۔ یعنی سچ کو سچ کر دکھانے والا ہے۔ واضح رہے کہ قرآن میں ہر مقام پر ” دینھم “ کے معنی حسابہم کے ہیں۔ (ابن کثیر، عبن ابن عباس)
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

گندی عورتیں گندے مردوں کے لئے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لئے اور پاک عوتریں پاک مردوں کے لئے اور پاک مرد پاک عورتوں کے7 لئے یہ لوگ (یعنی پاک مرد اور پاک عوتریں) ان باتوں سے پاک ہیں جو وہ (یعنی گندے اور پاجی لوگ سمجھتے (پھرتے) میں ان کے1 کے لئے (آخرت میں خدا کی طرف سے) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

7 ۔ اس آیت میں یہ نفسیاتی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ خبیثوں (گندوں) کا نبھائو گندی عورتوں سے اور پاکیزہ لوگوں کا نبھائو پاکیزہ حاصل عورتوں سے ہی ہوسکتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک مردخود تو بڑا پاکیزہ ہے مگر وہ ایک خبیث عورت سے برسوں نبھائو کرتا چلا جائے۔ مقصود حضرت عائشہ ؓ کی نزاہت ہے کہ اگر ان میں خباثت کا ادنیٰ سا شائبہ بھی ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ نبی ﷺ جو ازل سے ابد تک پاکوں کے سردار تھے ان سے نہایت محبت و اطمیان سے برسوں نبھائو کرتے چلے جاتے ؟ حضرت ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین (رح) نے خبیثات سے گندے اقوال و افعال اور طیبات سے پاکیزہ اقوال و افعال بھی مراد لئے ہیں یعنی جیسا کوئی آدمی خود ہوتا ہے ویسے ہی وہ اعمال کرتا ہے اور ویسے ہی اقوال زبان پر لاتا ہے۔ اب چونکہ حضرت عائشہ ؓ پاک تھیں ان کی سیرت بھی پاک تھی اور یہ منافق خود بھی گندے تھے اس لئے ان سے ایسے ہی گندے اقوال و افعال کی توقع تھی۔ (ابن کثیر) 1 ۔ یہاں تک وہ آیات مکمل ہوگئیں جو حضرت عائشہ ؓ کی تہمت زنا سے برأت کے سلسلہ میں نازل کی گئی تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں اور آنحضرت ﷺ نے مجھے خوشخبری دی تو میری والدہ نے مجھ سے کہا : اٹھو، اور آنحضرت ﷺ کا شکریہ ادا کرو “ میں نے کہا :“ میں نہ ان کا شکریہ ادا کرونگی اور نہ اپنے ماں باپ کا، بلکہ میں تو اللہ ہی کا شکر ادا کرونگی جس نے میری برأت نازل فرمائی۔ حضرت عائشہ ؓ مزید فرماتی ہیں :” یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میرے حق میں وحی نازل ہوگی جو قیامت تک پڑھی جائیگی میں اپنی ہستی کو اس سے کمتر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ خود میری برأت میں کلام کرے۔ (بخاری، مسلم)
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مسلمانو تم اپنے گھروں کے سوا پرائے گھروں میں مت گھسو جب تک ان گھر والوں2 سے اذن نہ لو اور (باہر رہ کر) سلام علیک نہ کرلو۔ یہ (اذنل ینا اور سلام کر کے اندر جانا3 تمہارے حق میں بہت رہے تاکہ تم یاد رکھو (یا نصیحت لو)

2 ۔ ” حتی تستانسوا “ کا لفظی ترجمہ ہے :” یہاں تک کہ تم انس حاصل کرلو۔ “ اس لئے اس میں نہ صرف اجازت حاصل کرنے کا مفہوم بھی شامل ہے بلکہ یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ تم معلوم کرلو کہ گھر میں کوئی ہے بھی یا نہیں اور ہے تو اسے تمہارا آنا ناگوار تو نہیں ہے ؟ اور یہ اجازت تین مرتبہ لینی چاہیے اور پھر بھی اجازت نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہیے اور اجازت مانگنے کے آداب میں یہ بھی ہے کہ دروازے کے سامنے کھڑا نہ ہو بلکہ دائیں یا بائیں کھڑے ہو کر اور السلام علیکم کہہ کر اجازت طلب کرنی چاہیے۔ ابو دائود میں ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے ہاں حاضر ہوا اور عین دروازے پر کھڑا ہو کر اجازت مانگنے لگا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا : ” پرے ہٹ کر کھڑے ہو، اجازت مانگنے کا حکم تو اسی لئے ہے کہ نگاہ نہ پڑے۔ صحیحین میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” اگر کوئی شخص تمہارے گھر میں بغیر اجازت کے جھانے اور تم ایک کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (ابن کثیر) 3 ۔ یعنی ان آداب میں دونوں طرف کا فائدہ ہے اجازت مانگنے والے کا بھی اور گھر والوں کا بھی۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر ان گھروں میں کسی کو نہ پائو (اندر سے کچھ جواب نہ آئے) تو جب تک تم کو اذن نہ ہو اندر مت گھسو اور اگر (اندر سے) تم کو یہ جواب ملے کہ لوٹ جائو تو لوٹ جائو یہ بہت عمدہ (تہذیب) ہے تمہارے لئے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو

4 ۔ ایک صحابی کہا کرتے کہ مجھے ساری عمر یہی آرزو رہی ہے کہ میں کسی کے گھر جائوں اور اندر سے مجھے یہ جواب ملے کہ واپس چلے جائو اور میں واپس چلا آئوں تاکہ مجھے اس آیت پر کم از کم ایک مرتبہ تو عمل کرنے کی سعادت نصیب ہوجائے۔ (ابن کثیر، ابن جریر)
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

جس مکان میں تمہارا اسباب دھرا ہو وہاں کوئی رہتا نہ ہو اس میں (بےاذن لئے) جانا تم پر کوئی گناہ نہیں5 اور جو تم کھل کر کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو اللہ (سب) جانتا ہے

5 ۔ یعنی جس سے تمہاری کوئی ضرورت یا فائدہ وابستہ نہ ہو اور وہ کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہو اور اس کے اندر جانے کی عام اجازت ہو، جیسے ہوٹل، سرائے، دکان، کارخانہ اور مہمان خانہ جس میں ایک مرتبہ داخل ہونے کی اجازت مل چکی ہو۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر) مسلمانوں سے کہہ دے اپنی نگاہ نیچی6 رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو تھامے رہیں (یا ڈھانپے7 رہیں) یہ ان کے لئے بہتر ہے (عمدہ بات ہے) وہ جو کرتے ہیں اللہ کو اس کی خبر ہے

6 ۔ یعنی کسی ایسی چیز کی طرف نہ دیکھیں جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں کیونکہ اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ سلف (رح) کا قول ہے کہ نظر ایک زہریلا تیر ہے جس کا نشانہ انسان ہی بنتا ہے اور اگر بلا ارادہ کسی پر نگاہ پڑجائے تو نگاہ پھیر لیں۔ صحیحین میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :”……دیکھنا (یعنی کسی اجنبی عورت کی طرف دیکھنا) آنکھ کا زنا ہے۔ نفس تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی (عملاً ) تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “ نیز سنن میں حضرت بریدہ ؓ سے سروایت ہے کہ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈال۔ پہلی نظر تو معاف ہے اور دوسری معاف نہیں۔ (شوکانی) 7 ۔ یعنی زنا سے حفاظت کریں اور نہ اپنا ستر ہی اس شخص پر کھولیں جس کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے اس لئے ستر کی حفاظت کے ساتھ نظر کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ حدیث میں ہے احفظ عورتک الا من زوجتاء اوما ملکیت یمینک بیوی اور لونڈی کے سوا سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔ آدمی کے لئے ناف اور گھٹنوں تک کا حصہ شرمگاہ میں شامل ہے جس کا ڈھانپنا فرض ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت بریدہ ؓ کی رانیں کھلی دیکھیں تو فرمایا : اپنی رانیں ڈھانپ لو، اس لئے کہ رانیں شرمگاہ کا حصہ ہیں۔ البتہ کسی عذر سے ران کا کھولنا جائز ہے۔ چناچہ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن آنحضرت ﷺ نے اپنی ران کھولی۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) مسلمان عورتوں سے کہہ دے اپنی نگاہ نیچی رکھیں8 اور اپنی شرمگاہ تھامے رہیں (یا ڈھانپے رہیں9 اور اپنا سنگار نہ دکھائیں (جیسے پازیب بالی لچھ وغیرہ) مگر جو سنگار کھلا10 رہتا ہے (جیسے انگشتری سرمہ وغیرہ) اور اپنے کرتے کے گریبانوں پر11 اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنا (پوشیدہ)12 سنگار (کسی کو) نہ دکھائیں مگر اپنے خاوندوں کو یا اپنے باپوں کو یا اپنے سسروں کو13 یا اپنے بیٹوں کو یا اپنے خاوند کے بیٹوں کو یا اپنے بھائیوں کو یا اپنے بھتیجوں کو یا اپنے بھانجوں کو یا اپنے (دین والی) عورتوں کو یا اپنے غلاموں کو یا گھر کے کام کاج کرنے والے مردوں کو جن کو (عورت کی) خواہش نہیں2 یا ان لڑکوں کو جو عورتوں کے بھید سے آگاہ نہیں ہیں3 اور اپنے پائوں (چلتے چلتے) زمین پر نہ دھمکیں کہ لوگوں کو ان کے سنگار کی خبر ہو جس کو وہ چھپاتی ہیں اور مسلمانو تم سب مل کر اللہ کی درسگاہ میں (بڑی باتوں سے جو جاہلیت کے زمانہ میں ہوا کرتی تھیں تو بہ کرو اس لئے تم کو پہنچو

8 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے بھی نگاہیں نیچی رھنے کا ویسا ہی حکم ہے جیسا مردوں کیلئے۔ انہیں بھی کسی ایسی چیز کی طرف دیکھنا نہیں چاہیے جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جس طرح مردوں کو ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے منع فرمایا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے منع فرمایا ہے : لاینظر الرجل الی عورۃ الرجل …ولا تنظر المرء ۃ الی عورۃ المرۃ (مسلم، ابو دائود) 9 ۔ ہاتھوں اور چہرہ کے سوا عورت کا ساراجسم شرمگاہ ہے جسے شوہر کے سوا کسی مرد حتیٰ کہ باپ اور بھائی کے سامنے کھولنا بھی جائز نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت اسما ؓ سے فرمایا : اسماء جب عورت بالغ ہوجائے تو یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے منہ اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ نظر آئے۔ (ابو دائود) مگر ہاتھ اور چہرے کے استثنا کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اجانب سے بھی ہاتھ اور چہرے کا پردہ نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ 10 ۔ ” جو کھل جائے “ جیسے چادر کے اٹھ جانے سے نیچے کی کوئی زینت کھل جائے لفظ ” ظہر “ کے یہ دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں۔ اسے ” عادۃ کھولنا “ کے معنی میں لینا صحیح نہیں ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور ان کے بالتبع بعض دوسرے علما نے لیا ہے کیونکہ اس سے تو حکم کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے اور اگر اس سے کپڑوں کے اوپر کا حصہ مراد لے لیا جائے تو بہتر ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ (قرطبی) 11 ۔ یعنی سر، سینہ اور گردن چھپائے رہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں اپنی اوڑھنیاں پیچھے کی طرف ڈال لیتی تھیں اور ان کے اگلے گریبان کا ایک حصہ کھلا رہتا تھا جس سے گلا اور سینے کا بالائی حصہ نمایاں ہوتا تھا اس لئے عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنے کرتے کے گریبانوں (یعنی سینہ اور گردن) پر اوڑھنیاں ڈالے ہیں۔ (ابن کثیر) 12 ۔ مراد ہے چادر یا برقع کے نیچے کا سنگھار جس میں ہاتھ اور چہرہ کا سنگھار بھی شامل ہے۔ 13 ۔ باپوں کے مفہوم میں دادا، پردادا، نانا اور پرنانا بھی شامل ہیں اور بیٹوں میں پوتے، پر پوتے، نواسے اور پرنواسے بھی آجاتے ہیں اور خواہ وہ سگے ہوں یا سوتیلے۔ (ابن کثیر) فوائد صحفہ ہذا۔ 1 ۔ قدیم مفسرین (رح) میں سے اکثر نے اپنے دین کی یعنی مسلمان عورتیں مراد لی ہیں اور بعض نے ملنے جلنے والی شریف عورتیں۔ لیکن یہاں جنہوں نے مسلمان عورتیں مراد لی ہیں۔ انہوں نے بھی ضرورت کے وقت غیر مسلم عورتوں سے پردہ نہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ (ابن کثیر) 2 ۔ بڑھاپے کی وجہ سے یا عقلی کمزوری کی وجہ سے، واضح رہے کہ مخنث ان میں نہیں آتا۔ کیونکہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کو گھروں میں آنے جانے سے منع فرما دیا تھا۔ (شوکانی) 3 جنہیں زن وشو کے تعلقات کا پتا ہی نہ ہو ظاہر ہے اس سے نابالغ بچے ہی مراد ہوسکتے ہیں (شوکانی)
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور جو تم میں بےخاوند والی عورتیں میں ان کا نکاح4 پڑھا دو اور تمہاری لونڈی اور غلاموں میں سے جو نکاح کے لائق ہوں ان کا (بھی نکاح پڑھا دو ) اگر یہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو مال دار کر دے5 گا اور اللہ گنجائش والا (سب) جانتا ہے

4 ۔ اسی طرح جو مرد بےبیوی کے ہوں ان کا بھی نکاح پڑھا دو “ ایامی “ جمع ہے ایم کی اور ایم کا لفظ اس مرد پر بولا جاتا ہے جس کی کوئی بیوی نہ ہو اور عورت پر بھی جس کا کوئی شوہر نہ ہو۔ (شوکانی) 5 ۔ ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : نوجوانو ! تم میں سے جو شخص شادی کرسکتا ہے اسے کر لینی چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو نیچا رھنے والی اور شرمگاہ کو بدی سے بچانے والی چیز ہے اور جسے اس کی استطاعت نہ ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ شہوت کے جوش کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ (بخاری، مسلم)
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جو لوگ نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے وہ حرام کاری سے بچے رہیں (اپنے آپ کو روکے رہیں) یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے انکو مال دار کر دے اور تمہارے غلاموں لونڈیوں میں سے جو مکاتب ہونا چاہیں ان کو اگر اس لائق سمجھ تو مکاتب کردو6 اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنا مال تم کو دیا ہے اس میں سے ان کو بھی7 دو اور تمہاری لونڈیاں اگر پاک دامن رہنا چاہیں تو ان سے دنیا کی زندگی کا سامان کمانے کے لئے (روپیہ پیدا کرنے کے لئے) زبردستی حرام کاری نہ کرائو اور جو کوئی ان پر زبردستی کرے گا تو زبردستی کے بعد (ان پر گناہ نہ ہوگا) اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے8

6 ۔ مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے کہتا ہے، اگر تم اتنا مال اتنی قسطوں میں ادا کردو گے تو میں تمہیں آزاد کر دونگا۔ 7 ۔ یعنی اپنی زکوٰۃ و صدقات سے ان کی مدد کرو تاکہ وہ آزادی حاصل کرسکیں۔ 8 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر لونڈیاں خود پاکدامن نہ رہنا چاہیں تو ان سے حرام کاری کرائی جاسکتی ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنی مرضی سے حرامکاری کریں گی تو اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی اور وہ خود مجرم ہوں گی، لیکن اگر مالک ان سے زبردستی حرامکاری کرائے گا تو اللہ کے ہاں بھی اور قانون کی نظر میں بھی مجرم ان کا مالک ہوگا۔ خود ان پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ راس المنافقین عبد اللہ بن ابی کی سی کہ اور امیہ نامی دو لونڈیاں تھیں جن سے وہ زبردستی حرامکاری کراتا تھا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں شکایت کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر)
Ayahs 24:34–35

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

(مسلمانو ہم تو تم کو کھل کھل آیتیں بھیج چکے اور جو لوگ تم سے پہلے گذر گئے ان کے حال اور پرہیز گاروں کیلئے نصیحت کی باتیں)

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے1 اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو طاق میں چراغ روشن ہو راغ ایک شیشے میں2 ہو شیشہ ایسا صاف ہے گویا چمکتا ہوا (موتی کیطرح اتارا ہے وہ چراغ ایک مبارک درخت زیتون (کے تیل) سے لیا جاتا ہے جس کا رخ نہ پورب3 کی طرف ہے (کہ شام کو اس پر دھوپ نہ آئے) نہ پچھ کی طرف ہے (کہ صبح کو اس4 پر دھوپ نہ آئے اس کا تیل چونکہ بہت صاف ہے تو قریب ہے کہ آگ چھوئے5 بغیر) ہی آپ) سلگ پڑے (غرض ایک نور نہیں بلکہ) نور علی نور6 ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے7 ہے اپنا نور بتلاتا ہے اور اللہ لوگوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ تو سب کچھ جانتا ہے8

1 ۔” نور “ کے لفظی معنی روشنی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر لفظ معنی روشنی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر لفظ ” نور “ کا اطلاق بطور مدح و ستائش کیا گیا ہے کیونکہ وہی ایک ذات ہے جس نے روشنی دینے والی تمام چیزوں کو اور ان کی روشنی کو پیدا کیا اور انہیں روشن بنایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے نور ہونے کے اس معنی کی تائید زید بن علی اور عبد العزیز المکی کی قرأت سے بھی ہوتی ہے یعنی ” اللہ نور السموت والارض “ (اللہ نے زمین اور آسمان کو روشن بنایا) مطلب یہ ہے کہ اس ساری کائنات کی رونق اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر و انتظام سے ہے۔ (شوکانی) 2 ۔ سب جانتے ہیں کہ شیشے میں رکھنے سے آگ کی روشنی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ 3 ۔ مبارک یعنی کثیر المنافع، بہت فائدوں والا۔ 4 ۔ یعنی ایسے کھلے میدان میں ہے صبح سے شام تک اس پر دھوپ رہتی ہے کہتے ہیں کہ زیتون کے درخت پر جتنی زیادہ دھوپ پڑے اتنا ہی اس کا تیل عمدہ ہوتا ہے۔ (فتح القدیر) 5 ۔ یعنی اتنا روشن ہے کہ وہ روشنی دینے کے لئے آگ کا بھی محتاج نہیں ہے اور پھر آگ سے مل کر تو اس کی روشنی کا کیا ہی کہنا۔ 6 ۔ یعنی ایک نور پر دوسرا نور۔ آگ کا نور، اس پر تیل کا نور، اس پر شیشے کا نور، پھر اوپر سے طاق جو نور کو یکجا رکھتا ہے۔ 7 ۔ یعنی مطلوب و مقصود تک پہنچاتا ہے۔ 8 ۔ اسے معلوم ہے کہ لوگوں کو کونسی چیز کس مثال سے سمجھائی جائے۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(یہ طاق) ان گھروں میں (ہے) جن کی تعظیم کرنے کا (یا بلند کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ان میں اللہ تعالیٰ کا نام جپا جاتا ہے9 وہاں صبح اور شام

9 ۔ اوپر کی آیت میں مومن کے قلب اور اس میں جو علم و ہدایت کی روشنی ہے اسے مصباح سے تشبیہ دے کر سمجھایا کہ اس کی مثال قندیل کی ہے اب اس قندیل کا محل ذکر کیا۔ یعنی مساجد جو اللہ تعالیٰ کو تمام زمین سے زیادہ محبوب ہیں۔ پس ان مساجد کے آداب یہ ہیں کہ ان کو پاک صاف رکھا جائے اور ان میں بیہودہ باتیں نہ کی جائیں اور نہ نازیبا حرکت ہی کی جائے۔ عموماً مفسرین (رح) نے ” ان ترفع “ کے یہی معنی کئے ہیں۔ مسجدوں کو پاک و صاف رکھنے اور ان کے احترام کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں۔ یعنی یہ کہ مسجدوں میں اللہ کا نام لیا جائے۔ ان میں اشعار نہ پڑھے جائیں اور نہ ان میں خریدو فروخت کی جائے۔ گمشدہ چیزوں کے اعلانات کے لئے ان کو اڈا نہ بنایا جائے۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے : اللھم انی اسئلک من فضلک العظیم “۔ بعض روایات میں آنحضرت پر درود وسلام اور شیطان سے تعوذ کا ذکر بھی آیا ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی تسبیح وہ لوگ کرتے ہیں جن کو کوئی سوداگری اور مول تول اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز دوستی کے ساتھ ادا کرنے سے اور زکواۃ دینے سے10 سے غافل نہیں کرتی وہ اس دن ڈرتے ہیں جس دن (مارے ڈر کے) دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی

10 ۔ یعنی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی طاعت و محبت کو اپنے مقاصد اور مراد پر ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بازار میں تھے کہ اذان کی آواز آگئی۔ لوگوں نے اپنا سامان دکانوں میں چھوڑ کر مسجد کا رخ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انہیں سوداگری اور مول تول، اللہ کی یاد اور نماز درستی کے ساتھ ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتے۔ (ابن کثیر۔ فتح البیان)
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

(یہ لوگ اللہ کی تسبیح صبح اور شام اس لئے کرتے ہیں) تاکہ اللہ ان کو ان کے عملوں کا اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے ان کو زیادہ عطا فرمائے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے11

11 ۔ جیسا کہ اس کا وعدہ ہے کہ وہ نیکی کا بدلہ دس گناہ۔ بلکہ سات سو گناہ، بلکہ بےحدو حساب دے گا۔ یا یہ کہ ایسے لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں مذکور ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور کافروں کے (نیک) اعمال جیسے خیرات (وغیرہ) اس چمکتی ریتی کی طرح ہیں جو چٹیل میدان گمان کرتا ہے اس کو پیاسا پانی یہاں تک کہ جب آیا اس کے پاس نہ پایا اس کو کچھ اور پاتا اور (دیکھتا ہے تو کیا) خدا کو اپنے پاس پاسا ہے وہ اس کا حساب پورا چکا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے1

1 ۔ کفروا اوپر مومنوں کے اعمال کی حالت بیان کی ہے اور اب یہاں کفار کے اعمال کی حالت بیان کی جا رہی ہے لہٰذا یہ ایک قصے کا عطف دوسرے قصہ پر ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں منافقین کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ایک پانی کی اور دوسری آگ کی، اور پھر سورة رعد میں اس علم و ہدایت کی آگ اور پانی سے دو مثالیں بیان فرمائیں جو لوگوں کے دلوں میں قرار یاب ہوتا ہے۔ اب یہاں دو قسم کے کفار (ایک لیڈر اور دوسرے ان کے مقلدین) کی دو مثالیں بیان کی جا رہی ہیں ایک سراب اور دوسری ظلمات کی۔ پہلی مثال ان کفار کی ہے جو کفر کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنے اعمال و اعتقادات کو قابل اعتماد سمجھتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ آخرت میں ان کی بہتر جزا ملے گی مگر دراصل ان کے اعمال سراب کی طرح بےحقیقت ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جہل مرکب میں مبتلا ہیں اور آگے ان لوگوں کی مثال ظلمات سے بیان کی ہے جو جہل بسیط میں مبتلا ہیں اور ائمہ ٔ کفر کی تقلید کر رہے ہیں۔ (ابن کثیر) یہاں کفار کے اعمال ہی کی دو مثالیں بیان کی ہیں۔ پہلی مثال کا تعلق وجدان سے ہے اور دوسری کا رؤیت سے۔ امام جرجانی (رح) فرماتے ہیں۔ پہلی مثال کفار کے اعمال کی ہے جو اپنے گمان کے مطابق کچھ نیک اعمال، صدقہ و خیرات، خدمت بیت اللہ وغیرہ) کرتے ہیں۔ اس امید پر کہ آگے چل کر یہ ہمارے کام آئیں گے۔ مگر جب آخرت میں پہنچیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان نیکیوں کی کچھ حقیقت نہیں۔ اور دوسری مثال نفس کفر کی ہے۔ پھر ان کفار کے حکم میں وہ فلاسفہ بھی داخل نہیں ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں مگر ان کے عقائد و اعمال شریعت کے منافی ہیں۔ (شوکانی، شرح) واضح رہے کہ کفار کے اعمال کی تمثیل ” لم یجدہ شیئا “ پر تمام ہوجاتی ہے اس کے بعد ووجد انہوں نے بطور تکملہ ان کے بقیہ احوال کا بیان ہے۔ یعنی صرف اسی پر بس نہیں ہے کہ صرف یاس و قسوط اور ناکامی کا سامنا ہوگا بلکہ وہاں محاسبہ الٰہی سے انہیں ایسی بدحالی سے دوچار ہونا پڑے گا کہ اس کے مقابلے میں یاس و ناکامی کی کچھ حیثیت نہیں رہے گی۔ (روح)
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال) گہرے سمندر کے اندھیروں کی طرح ہیں جس کو ایک موج نے ڈھاک رکھا ہے اس کے اوپر ایک موج ہے اس کے اوپر بال ہے (ایر غرض) کئی اندھیرے میں ایک کے اوپر ایک2 اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے (تو اس قدر اندھیرا ہے کہ) اس کو دیکھ نہ سکے اور جس کو اللہ (اپنی ہدایت کی) روشنی نہ دے اس کو روشنی کہاں ملے گی3

2 ۔ ابرکا اندھیرا، موج کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا۔ 3 ۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو جہل بسیط کا شکار ہوتے ہیں۔ نہ تو ان کو یہ معلوم ہے کہ ان کی قیادت کرنے والے کیسے ہیں اور نہ یہی جانتے ہیں کہ ان کو کس طرف لے جا رہے ہیں مگر اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتے ہیں حالانکہ باپ دادا کی اندھی تقلید، جہالت، ادہام پرستی وغیرہ۔ نہ معلوم کتنی گمراہیاں ہیں جن میں یہ لوگ گرفتار ہیں۔ اسی کو مثال میں ظلمات بضھا فوق بعض۔ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (شوکانی)