24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

(اے سننے والے یا اپنے پیغمبر) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ آسمان اور زمین میں جتنے ہیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے بھی باز پھیلا4 ہوئے ہر ایک کو اپنی بندگی اور اللہ تعالیٰ کی یاد کا ڈھنگ معلوم ہے5 اور جو یہ کیا کرتے ہیں وہ اللہ کو معلوم ہے6 ہے

4 ۔ یعنی تمام انسان، جن، فرشتے، جانر، اڑتے ہوئے پرندے حتیٰ کہ جمادات اللہ تعالیٰ کے ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہونے کی شہادت دے رہے ہیں۔ 5 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی یہ تسبیح اتفاقی طور پر بےسوچے سمجھے نہیں ہے بلکہ سمجھ کر اور علم کی بنا پر ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا اور ان کی طرف الہام کیا ہے۔ 6 ۔ یعنی ان کی تسبیح اور اطاعت سے اللہ تعالیٰ بیخبر نہیں ہے۔
Ayahs 24:42–43

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین دونوں میں اللہ تعالیٰ ہی کی بادشاہت ہے اور نوجگہ کسی کا حکم چلتا ہے اللہ ہی کے پاس سب کو لوٹ جانا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادل کو ہانک لے جاتا ہے پھر اس کو جوڑتا ہے7 پھ راس کو تہ برستا جماتا ہے (تاکہ وہ غلیظ ہو) پھ راس کے سوراخوں میں سے تو دیکھتا ہے مینہ نکلتا ہے8 اور اولوں کے جو پہاڑ آسمان میں وہی ان میں سے اولے برساتا ہے پھر جس آدمی پر چاہتا ہے وہ اولے گراتا ہے اور جس پر سے چاہتا وہ اولے ہٹا دیتا ہے (اولے گرتے ہیں لیکن وہ بچ جاتا ہے) بادل کی بجلی کی چمک ایسا معلوم ہوتا ہے) گویا آنکھوں کی روشنی اب اچک لے جائے گی۔

7 ۔ یعنی ان کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک چیز بنا دیتا ہے۔ 8 ۔ جیسے چھلنی کے سوراخوں میں سے کوئی چیز ٹپکتی ہے۔ 9 ۔ یعنی اس کی تیز روشنی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

رات اور دن کو الٹ پلٹ کر10 لاتا ہے جو لوگ عقل رکھتے ہیں انکو ان باتوں میں فکر کرنا چاہیے (اگر خدا نہ ہوتا تو یہ سب انتظام کیونکر چلتے)

10 ۔ پہلے رات آتی ہے اور پھر دن اور پھر رات اور پھر دن۔ کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی دن۔ واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں۔ اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہوسکتی۔ یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے ہر جانکو پانی سے (نطفہ سے) پیدا کیا۔ بعضے جانورتو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور1 بعضے دو پائوں چلتے ہیں2 اور بعضے چار پائوں پر چلتے ہیں3 بعضے چار سے بھی زیاہ بہت سے پائوں پر) اللہ جو چاہتا ہے بناتا ہے بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔

1 ۔ جیسے سانپ، مچھلی اور بعض قسم کے کیڑے مکوڑے۔ 2 ۔ جیسے انسان اور پرند۔ 3 ۔ مراد ہیں باقی سب جانور۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم تو (اپنے پہچاننے کے لئے) کھلی کھلی نشانیاں اتار چکے ہیں (جس کو دیکھ کر خدا کی پہچان ہوتی ہے) اور اس پر بھی) اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے4 رستے پر لگاتا ہے

4 ۔ جس کی بدولت وہ اپنی اخروی زندگی میں جنت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے اور اس کی دنیوی زندگی سکون و اطمینان سے گزرتی ہے۔ الابذکر اللہ تطمئن القلوب۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور یہ (منافق) لوگ کہتے ہیں ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے (اللہ تعالیٰ اور رسول کا حکم) مان لیا پھر ایسا کہنے کے بعد ان میں کا ایک فرقہ واللہ اور رسول کے حکم سے) منہ پھیر لیتا ہے اور5 یہ لوگ درحقیقت ایمان نہیں رکھتے

5 ۔ یعنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر عمل سے خود ہی اس کی تردید کرتے ہیں۔ یہ ان کے جھوٹا اور بےایمان ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (از ابن کثیر)
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کیطرف بلایا جاتا ہے ان کا (جھگڑا) فیصل کرنے کے لئے تو ایک ہی ایکا ان کا ایک فرقہ گریز کرجاتا ہے6 ہے

6 ۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ صرف نبی ﷺ کی زندگی تک ہی نہ تھا بلکہ آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ دراصل آپ ﷺ کی طرف دعوت ہوتی ہے۔ اس سے گریز کرنے والے کا حکم وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر کہیں وہ حق پر ہوں (یا ان کے کسی سے کچھ لینا ہو) جب تو کان دبائے پیغمبر کے پاس چلے آتے ہیں۔

7 ۔ یعنی جب یہ دیکھتے ہیں کہ شریعت کے مطابق فیصلہ میں ان کا فائدہ ہے تب تو بڑے اطاعت کیش بن کر آتے ہیں اور ایمان کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ورنہ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور شریعت کے احکام میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی اس طرح کی پیروی اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہ شریعت کی پیروی نہیں بلکہ نفس پرستی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں (کفر و نفاق کی) بیماری ہے یا ان کو (تیری پیغمبر میں) شک ہے یا وہ (اس سے) ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا بلکہ (ہے یہ ہے کہ) وہ خود ظالم ہیں8

8 ۔ یعنی آخر یہ اللہ و رسول ﷺ کی عدالت میں فیصلہ لے جانے سے کیوں کتراتے ہیں ؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق کی بیماری ہے یا انہیں اندیشہ ہے کہ ان کے پاس مقدمہ لے جائینگے تو ہم پر ظلم کا احتمال ہی نہیں ہے) مگر نہ تو ان کو آپ ﷺ کی نبوت میں شک ہے اور نہ ظلم ہی کا خوف ہے جس کی بدولت ان کے پاس مقدمہ لانے سے کترا رہے ہیں بلکہ ظالم (قصور وار) یہ خود ہیں یعنی جس شخص کا ان کے ذمہ حق ہے اس کو دبانا چاہتے ہیں۔ (جامع البیان و فتح) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دل میں روگ یہ کہ اللہ و رسول ﷺ کو سچ جانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں جیسے بیمارچاہتا ہے کہ چلے اور پائوں نہیں اٹھتے (موضح) اس سے معلوم ہوا کہ جو قاضی کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اس کے سمن کو قبول کرنا واجب ہے اور اس سے کترانا اللہ و رسول ﷺ کے فیصلہ سے منہ موڑنا ہے مگر جو قاضی کتاب و سنت سے بیخبر ہو اور اس نے کسی عالم مجتہد کے آرا و اجتہادات کو جمع کرلیا ہو اور اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو تو اس کے پاس مقدمہ لے جانا اور اس کے سمن کو قبول کرنا ضروری نہیں ہے اس لئے کہ اس رائے پر عمل کرنا اس مجتہد کے لئے جائز تھا جس کی طرف وہ رائے منسوب ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک اسے کتاب و سنت کا فیصلہ نہ پہنچا تھا مگر کسی دوسرے کے لئے اس پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنا اور اس کے مطابق لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ (شوکانی)
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایماندار لوگ جب (ان کا جھگڑا) فیصلہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو بس یہی کہتے ہیں ہم نے سنا اور مان لیا اور یہی لوگ بامراد ہوں گے9

9 ۔ اللہ و رسول ﷺ کے فیصلے کو نہ صرف قبول کرنا بلکہ فیصلہ کیلئے جب کوئی ان کی طرف بلائے تو اس کے بلاوے پر دل و جان سے لبیک کہنا مومن و بامراد ہونے کے لئے شرط ہے اس بارے میں جو کوتاہی پائی جائیگی وہ ایمان کے کم ہونے کی دلیل ہے۔ اوپر کی آیات میں منافقین کی حالت بیان فرمائی ہے اور اب اس آیت میں مومنین کی حالت کا بیان ہے۔ (شوکانی۔ قرطبی)
Ayahs 24:52–53

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مان لے اور اللہ سے (اگلے گناہوں پر) ڈرتا ہے اور (آئندہ) اس (کی نافرمانی) سے بچتا رہے تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچیں گے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان منافقوں نے اللہ کی پکی قسمیں کھائیں کہ مگر تو ان کو حکم کیر تو وہ جہاد کے لئے) ضرور نکلیں گے کہ دے قسم نہ کھائو ( جھوٹی قسم کھانے سے کیا ائدہ تمہاری اطاعت معلوم ہے بیشک جو تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے

1 ۔ یعنی بس خاموش رہو۔ معلوم ہے کہ تم کتنے اطاعت گزار ہو۔ ” طاعۃ معروفہ “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دستور کے مطابق (یعنی جیسے سب لوگ کرتے ہیں) اطاعت کرنا تمہارے لئے زیادہ سزاوار ہے قسمیں کھانے اور خوشامد کی باتیں کرنے سے کیا فائدہ ؟ (شوکانی)
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

(اے پیغمبران لوگوں سے) کہہ دے اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور2 اور رسول کا حکم مانو پھر اگر تم نہ مانو گے تو رسول کا بوجھ اس پر اور تمہارا بوجھ تم پر ہے3 اور اگر تم رسول کے کہے پر چلو گے تو سیدھی راہ پر لگ جائو4 (ہدایت پائو گے) اور رسول پر اور کچھ نہیں (ہمارا حکم پہنچا دینا وہ ہے

2 ۔ صرف اللہ کا نہیں بلکہ اللہ کا بھی اور اس کے ساتھ رسول ﷺ کا بھی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کا کہنا ماننا یہی ہے کہ ان کی سنت کی پیروی کی جائے۔ 3 ۔ یعنی رسول ﷺ کی ذمہ داری تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دینا تھی۔ سوا اس نے یہ پیغام پہنچا دیا۔ اب اس پر عمل کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اگر تم اس سے پیٹھ پھیرتے ہو تو اپنا انجام خود سوچ لو۔ 4 ۔ اس کے بغیر تمہیں ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ (ایک نہ ایک دن) ان کو ضرور ملک میں حکومت دے گا جیسے اس نے اگلے لوگوں کو ان سے پہلے حکومت دی تھی (دائود اور سلیمان اور بنی اسرائیل وغیرہ کو) اور جس دین کو ان کے لئے پسند کیا ہے (یعنی اسلام کو) وہ ان کے6 سے جما دے گا اور ان کو جو (دشمنوں سے) اس وقتڈر سے اس کے بعد ڈر کے بدل ان کو امن دے گا وہ مجھ کو پوجتے رہیں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنے کے جو شخص اس کے بعد کفر کرے7 اور وہ ہوجائے یا کفر ہی پر جما رہے8 تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں

5 ۔ یعنی اگر تمہیں ہدایت نہ ہو تو گرفت اس کی نہیں بلکہ تمہاری ہوگی۔ 6 ۔ یعنی اسے مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیگا۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ خلفائے ثلاثہ کی خلافت برحق تھی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق۔ گو یہ وعدہ تمام امت کو شامل ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت سے لیکر حضرت عثمان کے دور خلافت تک جو فتوحات حاصل ہوئیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی) 7 ۔ یعنی اللہ کی طرف سے اس سچے وعدے کے آجانے کے بعد۔ 8 ۔ یا خدا کی ناشکری کرے۔ کفر کے معنی انکار حق اور ناشکری دونوں ہوسکتے ہیں۔
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز کو درستی سے ادا کرو9 اور زکوۃ دو اور رسول کا کہنا مانو اس لئے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا رجم ہو10

9 ۔ نماز درستی سے ادا کرو۔ (تشریح کیلئے دیکھئے بقرہ :2) 10 ۔ اس آیت میں صرف رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور رحم کئے جانے کو اس پر معلق رکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ رسول ﷺ کی اطاعت کو ضروری نہیں سمجھتے وہ امت مرحومہ سے خارج ہیں۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ دیکھئے آل عمران :…نساء :159، مائدہ :92، انفال :1، 2 ۔ 46 ۔ محمد ﷺ :33، تغابن :12، مجادلہ :13 بلکہ قرآن میں جتنے لولوالعزم پیغمبروں ﷺ کی دعوت کا قرآن نے ذکر کیا ہے سب نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینے کے ساتھ ساتھ خود اپنی طاعت کا بھی حکم دیا ہے۔ سنت کی حیثیت ک سمجھنے کیلئے قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ کیا ہم سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن سے اسلامی نظام حیات کی کوئی مکمل تشکیل پیش کرسکتے ہیں۔
Ayahs 24:57–58

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ مت سمجھ کر کافر لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر) ہم کو تھکا دیں گے (کہ ہم ان کو نہ پکڑ سکیں ان کا تو (مقرری) ٹھکانہ جہنم ہے (وہ) اس میں ضرور جائیں گے) اور بیشک وہ برا ٹھکانہ ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مسلمانو تمہارے غلام لونڈی اور جو (لڑکے لڑکیاں) تم میں سے ابھی جوان نہیں ہوئے1 میں تین وقتوں میں تمہارے پاس آنے کی اجازت لیا کریں (ایک تو)جر کی نماز کے پہلے (کیونکہ رات کو آدمی کھلا رہتا ہے) اور دوسرے دوپہر دن کو جب تم سونے کے لئے اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور تیسرے عشا کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہاری2 بےپردگی کے وقت ہیں ان وقتوں کے سوا (بےاجازت آنے میں) نہ تم پر گناہ ہے نہ ان پر تم ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے3 ہو یونہی اللہ تعالیٰ اپنے حکمتم سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے (تاکہ تم اچھی طرح سمجھ جائو اور ان پر عمل کرو اور اللہ سب جانچ ہے حکمت والا

1 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ احتلام کی عمر کو نہیں پہنچتے مراد ہے کہ ابھی بچے ہیں۔ 2 ۔ یعنی جن میں تم تنہایا اپنی بیویوں کے ساتھ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ غلاموں اور بچوں کا تمہارے پاس اچانک آپہنچا مناسب نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ” اکثر لوگ اس آیت پر ایمان نہیں لائے (یعنی اس پر عمل کرنے سے بےپروا ہیں) میں تو اپنی چھوٹی سی بچی کو بھی جو سامنے کھڑی ہے حکم دیتا ہوں کہ ان اوقات میں اذن لے کر آیا کرے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) 3 ۔ اگر ان کے لئے بھی ضروری کردیا جاتا کہ جب آئیں اجازت لے کر آئیں تو گھرکے کام کاج میں سخت دقت پیش آتی۔ گویا خدمت گزاری کی ضرورت کے پیش نظر اجازت دی گئی ہے۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے جوان ہوجائیں تو جس طرح وہ لوگ (ہر وقت) اجازت لیتے ہیں جو ان سے4 پہلے جوان ہوچکے ہیں یہ بھی اجازت لیا کریں یونہی اللہ تعالیٰ اپنے حکم تم سے کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ (سب) جانتا ہے حکمت والا

4 ۔ یا جس طرح وہ لوگ اجازت لیتے ہیں جن کا ذکر پہلے (آیت 27 میں) ہوچکا ہے۔ الغرض بلوغت کے بعد ہرحال میں اجازت لیکر آنا ضروری ہے۔ پھر ان تین اوقات کی تخصیص نہیں ہے۔ (ابن کثیر) عطا بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے دریافت کیا۔ ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا میں اپنی ماں کے پاس بھی اجازت لے کر جایا کروں ؟ فرمایا : ” ہاں “ اس نے کہا۔ ” میں تو اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہوں۔ “ فرمایا :” تب بھی اجازت لیکر جایا کرو۔ ماں کو برہنگی کی حالت میں دیکھنا چاہتے ہو ؟ “ اس نے جواب دیا۔ ” نہیں “۔ فرمایا تو اجازت لے کر جایا کرو۔ (شوکانی)
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو بڑی بوڑھی عورتیں میں جن کا حیض بند ہوگیا ہے ان کو نکاح (یا اولاد) کی امید نہیں رہی وہ اگر اگھروں میں) اپنے کپڑے (مثلا دو پتہ وغیرہ) اتار کر رہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنا بنائو دکھائی پھریں اور جو (اس سے بھی) بچی وہیں (یعنی پورا استر رکھیں جو ان عورتوں کی طرح تو انکے لئے بہتر ہے اور اللہ (سب سنتا جانتا ہے

5 ۔ یعنی انہیں دوپٹہ کے اوپر کی چادر اتارنے کی اجازت ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ اپنی زینت کی نمائش کریں بلکہ محض آرام لینے کے لئے۔ (ابن کثیر)
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

اندھے پر کوئی حرج نہیں نہ لگڑے پر کوئی حرج ہے نہ بیمار پر کوئی حرج ہے نہ خود تم پر اپنے گھروں میں سے (جن میں تم خود رہتے ہو یا تمہاری اولاد رہتی ہے) کھائو یا اپنے باپ دادا کے گھروں میں اپنی مائوں کے گھروں میں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں میں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں میں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں میں سے اپنی پھوپھیوں میں سے یا اپنے ماموں کے گھروں میں سے اپنی خالائوں کے گھروں میں سے یا ان گھروں میں سے (یا چیزوں میں سے) جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں1 ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں میں2 سے تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم سب (ملکر ایک دستر خوان پر) کھائو یا الگ الگ کھائو۔ پھر جب تم گھروں میں (کھانے کے لئے) گھسنے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو4 یہ ایک اچھی دعا ہے خدا کی رف سے (یعنی خدا نے اس کا حکم دیا ہے) برکت والی پاکیزہ اللہ یونہی (اپنے حکم) تم سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے اس لئے کہ تم کو عقل آئے

1 ۔ یعنی جن کے مالکوں نے تمہیں اس میں تصرف کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں :” جب سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی : یایھا الذین امنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ! اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقے سے نہ کھایا کرو) تو مسلمان ایک دوسرے کے ہاں سے کھانا کھانے میں بھی سخت احتیاط برتنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں رخصت دی گئی۔ بعض دوسری روایات میں ہے کہ جب مسلمان کسی جنگ کے لئے روانہ ہوتے تو اپنے گھروں کی کنجیاں پیچھے رہنے والے معذوروں کے حوالے کردیتے اور ان سے کہتے کہ تمہیں گھروں سے کھانے کی اجازت ہے لیکن وہ اس میں تنگی محسوس کرتے اور کہتے کہ ہم لوگوں کی عدم موجودگی میں ان کے گھروں سے کوئی چیز لے کر نہیں کھائیں گے۔ اس پر انہیں رخصت دینے کے لئے یہ آیت نازل کی گئی۔ ( اور اس سلسلہ میں دوسرے لوگوں کو بھی بتایا گیا کہ آپس میں ایک دوسرے کے گھر سے کھانا کوئی ناجائز کام نہیں ہے۔ (فتح القدیر) 2 ۔ مراد ہیں وہ بےتکلف قسم کے دوست جن کی عدم موجودگی میں اگر ان کے گھر سے کوئی چیز کھائی جائے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے خوش ہوتے ہیں۔ 3 ۔ یعنی آدمی اکیلا کھانا چاہے تب بھی جائز ہے اور جماعت کے ساتھ مل کر کھائے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔ دونوں باتیں جائز ہیں، مگر اکٹھے بیٹھ کر کھانے میں برکت ہے۔ حدیث میں ہے : کلوا حمیعا ولاتفرقوا فان لا …مع الجماعۃ : کہ الگ الگ بیٹھ کر کھانے کی بجائے اکٹھے بیٹھ کر کھایا کرو۔ بیشک اجتماعی صورت میں کھانا کھایا جائے تو موجب برکت ہے۔ (ابن کثیر) 4 ۔ یعنی ان کے رہنے والوں کو جو تمہارے اپنے ہی لوگ ہیں سلام کرو۔ حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب تم مسجد یا کسی ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ رہتا ہو تو بھی یہ کہہ کر سلام کرو۔ “ السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین۔ (شوکانی)
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

یا تم سمجھو اب مدد دہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کسی جمع ہونے کے کام میں (جیسے جمعہ یا جماعت یا علاج یا مشورہ یا جہاد وغیرہ پیغمبر کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک اس سے اجازت نہ لیں5 وہاں سے (اٹھ کر) نہیں جاتے بیشک جو لوگ تجھ سے (جاتے وقت) اجازت لیتے ہیں دی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں پھر جب یہ لوگ اپنے کسیک ام کے لیء تجھ سے (جانے کی) اجازت مانگیں تو جس کو تو چاہے ان میں سے اجازت دے اور اللہ اس کی بخشش کی دعا کر6 بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

5 ۔ جماعتی نظم میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اب بھی مسلمانوں کو اس کا التزام کرنا چاہیے۔ (شوکانی) 6 ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عذر کی بنا پر اگرچہ اجازت لے کر جانا جائز ہے مگر پھر بھی اچھا نہیں ہے کیونکہ یہ دنیا کی ضرورت کو دین پر مقدم رکھنا ہے۔ اس لئے آنحضرت کو ایسے لوگوں کے لئے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ کذا فی الوحیدی (شوکانی)
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

(مسلمانو) رسول کے مجلانے کو اپنے میں ایسا مت سمجھو جیسا آپس میں ایک دوسرے کو بلان اسمجھتے ہو7 الہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں آنکھ بچا کر (یا دوسروں کی آڑ میں ہو کر بےاجازت) سٹک جاتے ہیں۔ پھر جو لوگ پیغمبر کا حکم نہیں مانتے ان کو ڈرنا چاہیے (دنیا میں) کوئی مصیبت ان پر نہ آئے پڑے یا (آخرت میں) کوئی تکلیف کا عذاب ان کو نہ پہنچے

7 ۔ یعنی معمولی نہ سمجھو کہ جی چاہا آگئے اور جی میں آیا تو نہ آئے بلکہ ان کی دعوت پر لبیک کہو۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت ﷺ کے بلانے سے فرض ہوتا تھا حاضر ہونا جس کام کو بلاویں۔ پھر یہ بھی تھا کہ بےحکم چلے نہ جاویں۔ یا آیت کے معنی یہ ہیں کہ : ” رسول ﷺ کی دعا کو عام لوگوں کی سی دعا نہ سمجھو “۔ یا ” رسول ﷺ کو ایسے نہ پکارو جیسے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں “ یعنی آواز دھیمی رکھ کر نہایت ادب و احترام سے پکارو۔ “ ” دعاء لرسول “ کے یہ تینوں معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں اور تینوں موقع و محل کے لحاظ سے صحیح ہے۔ (شکانی) 8 ۔ یہ منافقین کا شیوہ تھا جیسا کہ متعدد روایات میں اس کا ذکر ہے۔ 9 ۔ آیت میں لفظ ” فتنہ “ کو غیر مقید رکھا گیا ہے۔ مفسرین میں سے بعض نے اس سے مراد قتل۔ بعض نے نازلہ اور بعض نے ظالم حکمرانوں کا تسلط لیا ہے اور ” یخالفون “ چونکہ معنی اعراض کو متضمن ہے اس لئے اس کا صلہ عن لایا گیا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

ف 1 سن لو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تم جس حال میں ہو وہ (خوب) جانتا ہے اور جس دن (قیامت میں) اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ ان کو بتلا دے گا جو وہ (دنیا میں) کرتے تھے (ان کے اعمال کی سزا دیگا) اور اللہ تو سب کچھ جانتا ہے2

1 ۔ یہاں لفظ ’ او ‘ منح الخلو کے لئے ہے پھر جب صرف ایک معاملہ میں رسول ﷺ کی عدم اطاعت پر یہ وعید سنائی گئی ہے تو ان لوگوں کو اپنے معاملہ پر ضرور غور کرنا چاہیے جنہوں نے رسول کو سرے سے اطاعت کا مستحق ہی نہیں سمجھا بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بےنیاز ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ 2 ۔ حضرت عقبہ ؓ بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی آنکھوں پر انگلیاں رکھے ہوئے سورة نور کی یہ آخری آیت پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے بکل شیء بصیر : واقعی تو ہر چیز کو دیکھتا اور جانتا ہے۔ (شوکانی)