25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ خدا جسنے اپنے بندے (حضرت محمد پر قرآن اتارا4 اس لئے کہ وہ سارے جہان کو ڈرانے والا ہو5

4 ۔ قرآن کو ” الفرقان “ فرمایا ہے یعنی اپنے احکام کے ذریعہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا، اور اسی کلمہ کی بنا پر اس سورة کا نام سورة الفرقان رکھا گیا ہے۔ 5 ۔ سارے جہان سے مراد قیامت تک کے تمام جن و انس ہیں اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت ان سب کے لئے تھی۔ کوئی دوسرا رسول ﷺ دنیا میں ایسا نہیں آیا۔ حدیث میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مجھے پانچ چیزوں میں تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے جن میں سے ایک یہ بات ہے کہ پہلے نبی ( علیہ السلام) کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ خدا ایسا ہے جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور کوئی بیٹا نہیں رکھتا بلکہ سب اس کے بندے اور غلام ہیں اور نہ بادشاہت میں کوئی اس کا ساجھی ہے6 ہے اور اس نے ہر چیز کو بنایا۔ پھر ایک اندازے سے اس کو درست کیا

6 ۔ یعنی اسے ایک خاص اندازے میں رکھا جس کی بدولت اس سے وہی افعال و اثرات صادر ہوئے جن کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے اور اسے وہی صورت جسامت اور صلاحیتیں عطا کیں جو اس کی ضرورت کے مطابق ہیں۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور ان کافروں نے اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے خدا بنائے ہیں جو نہ کسی چیز کو پیدا کرتے ہیں وہ خود دوسرے کے) پیدا کئے ہوئے ہیں اور نہ اپنی ذات کے نفع اور نقصان کے مالک ہیں8 نہ کسی کا مرنا اور جینا اور مرے پیچھے جی اٹھنا انکے اختیار میں ہے

7 ۔ اگر وہ ستارے ہیں یا فرشتے، انبیا اور جن تو یہ سب اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اگر مٹی اور لکڑی کے بت ہیں تو خود ان مشرکوں نے اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں۔ 8 ۔ یعنی نہ اپنے تئیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ اپنے آپ کو نقصان سے بچا سکتے ہیں پھر دسروں کو کیا نفع پہنچائیں گے اور کیا انہیں نقصان سے بچائیں گے۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر (قرآن کی نسبت) کہتے ہیں یہ تو اور کچھ نہیں جھوٹ ہے جس کو اس شخص (یعنی پیغمبرض نے بٹ لیا ہے اور دوسرے لوگوں (یعنی یہود کے چند عالموں) نے بھی اس9 بننے میں اس کی مدد کی ہے (سخت افوسس ہے جب ان سے کچھ نہ10 بنا تو یہ ظلم اور فریب پر آگئے

9 ۔ دوسرے لوگوں سے بھی اس قرآن کے جمع کرنے میں آنحضرت ﷺ نے مدد لی ہے۔ (دیکھئے سورة نحل :103) 10 ۔ یعنی انہوں نے یہ جو بات کہی ہے وہ بڑا ظلم (بےانصافی) اور فریب ہے اس لئے کہ یہ جانتے ہیں کہ قرآن جیسی، کیا باعتبار فصاحت اور کیا باعتبار مضامین معجز کتاب تصنیف کر کے پیش کردینا کسی انسان کے بس میں نہیں چاہے اس کی پشت پر چند نہیں ہزاروں بلکہ دنیا بھر کے ادیب، شاعر، فلسفی اور عالم جمع ہوجائیں اور افسوس بلکہ تعجب تو اس پر ہے کہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جن کی پوری زندگی ان کے سامنے گزری اور جن کے بارے میں انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ ﷺ نے نہ کبھی پڑھنا لکھنا سیکھا اور نہ کسی عالم کی شاگردی کی۔ پھر آپ ﷺ اس قسم کی تصنیف کیونکر پیش کرسکتے ہیں۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں (قرآن ہے کیا) اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے کھوارکھی ہیں وہ صبح اور شام اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے1

1 ۔ یعنی خود تو ان پڑھ ہے اس لئے دوسرے لوگوں کے ذمہ اس نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ صبح و شام یہ لکھوائی ہوئی کہانیاں اسے پڑھ پڑھ کر سنائیں تاکہ اسے زبانی یاد ہوجائیں اور یہ بات ایسی تھی جس کے کذب و بہتان ہونے سے کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کافروں سے) کہہ دے قرآن تو اس (خدا) نے اتارا ہے جو آسمان اور زمین کی چھٹی بات (غیب کی بات) جانتا ہے بیشک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے2

2 ۔ یعنی یہ ہے قرآن کی حقیقت جس کا اعتراف تمہارے دل بھی کرتے ہیں مگر ظلم و فریب کی راہ سے قرآن کو محمد ﷺ کا تصنیف کیا ہوا ہتے رہتے ہو۔ اگر اللہ چاہتا تو اس گستاخی پر تمہیں سخت سزا دیتا مگر وہ غفورو رحیم ہے اس لئے تم سے درگزر کر رہا ہے۔ اس میں ان کو توبہ وانابت اور اسلام و ہدایت کی طرف پلٹ آنے کی ترغیب ہے۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ یعنی اپنی بخشش اور مہر ہی سے یہ اتارا ہے۔ (موضح) ۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کھانا وہ کھاتا ہے اور بازاروں میں وہ (بڑا) پھرتا ہے (خیہ بھی سہی3 ہم نے مان لیا بھلا اس پر ایک فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ4 لوگوں کو) ڈراتا رہتا۔

3 ۔ یعنی اللہ کا بھیجا ہوا رسول اتنی معمولی شخصیت کا مالک نہیں ہوتا کہ عام لوگوں کی طرح کھانا کھائے اور بازاروں میں چلے پھرے۔ اسے اول تو فرشتہ ہونا چاہیے تھا جو ان لوازم بشریت سے پاک ہوتا۔ اور اگر انسان ہوتے ہوئے اسے یہ مقام مل گیا تھا تو اس کی شان کم از کم اتنی تو ہوتی جتنی دنیا کے دوسرے بادشاہوں کی ہوتی ہے۔ 4 ۔ یعنی جو لوگ اس کا کہنا نہ مانتے انہیں خدا کے عذاب کی دھمکی دیتا رہتا۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا آسمان سے) ایک5 خزانہ کیوں نہیں اس پر ڈالا گیا یا (خیر یہ بھی نہیں تو) ایک باغ تو اس کا ہوتا جس میں6 سے وہ کھاتا رہتا اور یہ ظالم7 کہتے ہیں تم تو آپ شخص کے تابعدار بن گئے ہو جس پر کسی نے جادو کردیا ہے

5 ۔ جس سے اس کی شان کم از کم قیصر و کسریٰ کی سی تو ہوتی۔ 6 ۔ یعنی اطمینان کی روزی حاصل کرتا اور معاش کیلئے بازاروں کے چکر لگانے سے بچ جاتا۔ 7 ۔ یعنی مسلمانوں سے کہتے ہیں۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر) دیکھ تو وہ تیرے حق میں کیا کیا باتیں بناتے ہیں8 تو وہ گمراہ ہوگئے اب راہ پر نہیں آسکتے9

8 ۔ صرف اس لئے کہ کسی طرح آپ ﷺ کو جھوٹا ثابت کرسکیں۔ 9 ۔ کیونکہ راہ پر وہ آتا ہے جس کے دل میں اخلاص ہو اور وہ محض غلط فہمی کا شکار ہوگیا ہو۔ ان کے دلوں میں تو اخلاص کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔
Ayahs 25:10–11

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ خدا اگر چاہے تو ایک باغ یا محل کی کیا حقیقت یہ) تجھ کو اس سے بڑھ کر عنایت فرمائے ایسے ایسے باغ دے جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں اور کئی محل تیرے لئے بنا دے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ان کافروں نے قیامت کو جھوٹ سمجھا اور جو کوئی قیامت کو جھٹلائے اس کے لئے ہم10 نے دوزخ طیار کر رکھی ہے۔

10 ۔ اسی لئے بےخوفوں کی طرح جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر)
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب دوزخ ان کو ایک دور مقام سے دیکھے گی11 تو یہ اس کا جوش اور خروش سنیں گے12

11 ۔ ممکن ہے دوزخ کا یہ دیکھنا ” ظھرت لھم “ کے معنی میں ہو یعنی جب دوزخ ان کے سامنے ظاہر ہوگی اور انہیں نظر آئیگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں حقیقتاً دیکھنے کی قوت پیدا کر دے آخرت میں دوزخ کا کلام کرنا بھی تو ثابت ہی ہے۔ فتقول ھل من فرید۔ ( سورة ق :30) 12 ۔ حدیث میں ہے کہ جب کسی کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لایا جائیگا تو اسے دیکھ کر جہنم اس شوق ورغبت سے بلائے گی جیسے جو کو دیکھ کر خچر آواز نکالتا ہے۔ اعاذنا اللہ منھا۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب دوزخ میں مشکیں باندھ کر تنگ جگہ میں ڈال دیئے جائیں گے تو وہاں موت کو یاد کریں گیف 13

13 ۔ یعنی دہائی دینگے کہ کاش ہمیں موت آجائے اور ہم اس سے نجات پائیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا اللہ کی قسم، وہ آگ میں ایسے ٹھونسے جائیں گے جیسے لکڑی میں کیل ٹھونکی جاتی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(فرشتے ان سے کہیں گے) آج ایک موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو1

1 ۔ یعنی موت کو ایک بار کیا ہزاروں مرتبہ پکارو، مگر وہ آئے گی نہیں۔
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے کیا یہ (دوزخ جس میں ایسا سخت عذاب ہے) اچھی ہے یا ہمیشہ رہین کی بہشت جس کا وعدہ پرہیز گاروں کیلئے کیا گیا ہے وہی ان کا بدلہ اور آخری ٹھکانا ہے

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

جو وہ چاہئیں گے وہاں ان کو ملیگا ہمیشہ رہیں گے (کبھی فنا نہیں) یہ تیرے مالک پر مانگا ہوا وعدہ ہے2

2 ۔ یعنی یہ وعدہ اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے پورا کرنے کی دعا کی جائے گی یا یہ ایساوعدہ ہے جو مانگنے پر یقیناپورا کیا جائیگا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ کے نیک بندوں کی دعا نقل کی گئی ہے : ربنا اتنا ما وعدتنا علی رسلک : اے اللہ اس وعدے کو پورا فرما جو تو نے اپنے پیغمبروں ﷺ کی زبانی ہم سے کیا۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کے معبودوں کو جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے تھے (اپنے سامنے) اکٹھا کریگا پھر ان معبودوں سے) فرمائے گا تو تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا یا وہ (آپ سے آپ) رستہ بہک گئے3

3 ۔ یہاں معبودوں سے مراد وہ معبود ہیں جو عقل رکھتے ہیں جیسے انبیاء، اولیاء، فرشتے، جن وغیرہ اور ان کے متعلق ” ما “ کا لفظ جو عربی زبان میں غیر ذوی العقول کیلئے بولا جاتا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی حیثیت ظاہر کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ہو۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے سبحان اللہ بھلا ہم سے یہ ہوسکتا تھا کہ ہم سوا تیرے اور کسی کو (اپنا) مالک بناتے ہو یہ کہ تو نے ان لوگوں کو اور ان کے باب دادوں کو (دنیا میں) آسودہ رکھا (عیش میں پڑگئے) یہاں تک کہ تیرا فرمان5 (جو تو نے پیغمبروں پر اتارا تھا یا تیری یاد بھول گئے اور یہ تو (تیرے علم اور تقدیر میں) کھپنے والے6 لوگ تھے ہی

4 ۔ تاکہ ان کی عبادت کرتے اور اسی طرح جب ہم خود توحید پر قائم تھے تو تیرے بندوں سے اپنی عبادت کیسے کرا سکتے تھے ؟ (ابن کثیر) 5 ۔ یعنی یہ کمینے لوگ تھے بجائے اس کے کہ شکر گزار ہوتے، تیری نعمتیں پا کر عیش میں پڑگئے۔ (نیز دیکھئے انبیاء آیت :44) 6 ۔ ” سو یہ ٔ تو مرکھپ کر (تباہ ہو کر) رہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن انبیاء و اولیاء کی یہ پوجا کرتے رہے ہیں ان کی نذریں مانتے رہے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے ان کا نام لیتے ہیں۔ قیامت کے دن وہ یہ جواب دینگے یعنی سبحانک اللہ (فتح البیان)
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

یہ تو جو تم کہتے7 تھے اس کو جھٹلا چکے۔ اب8 نہ تم (عذاب کو اپنے اوپر سے) ٹال سکتے ہو اور نہ تم کو مدد مل سکتی ہے اور جو کوئی تم میں شرک کرے گا اس کو بم بڑا عذاب چکھائیں گے

7 ۔ یعنی پھر اللہ تعالیٰ کافروں سے کہے گا ” یہ تو……8 ۔ یعنی تمہاری اس بات کو جھٹلا چکے کہ یہ عبادت کئے جانے کے قابل ہستیاں ہیں۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ (سب) کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے9 اور ہم نے (سب) کو ایک دوسرے کی جانچ (اور پڑتال) کے لئے بنایا ہے (دیکھیں) تم صبر کرتے ہو10 یا نہیں اور اے پیغمبر) تیرا مالک (سب کا حال) دیکھ رہا ہے11

9 ۔ یہ کفار مکہ کی اس بات کا جواب ہے جو وہ کہتے تھے کہ کیسا رسول ﷺ ہے جو بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ 10 ۔ یعنی اگر اللہ چاہے تو ساری دنیا ہی پیغمبروں کا ساتھ دے اور کوئی مخالفت نہ کرے مگر ” پیغمبر ﷺ ہیں کافروں کا ایمان جانچنے کو اور کافر ہیں پیغمبروں کا صبر جانچنے کو۔ (موضح) اب دیکھنایہ ہے کہ تم اس امتحان میں پورے اترتے ہو یا نہیں ؟ صحیح مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : انی مبتلیک و مبتلی بک۔ کہ تیری بھی آزمائش ہوگی اور تیرے ذریعہ لوگوں کی بھی آزمائش کی جائے گی۔ (ابن کثیر) 11 ۔ اس سے کسی صبر کرنے یا نہ کرنے والے کا حال پوشیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا جیسا کسی کا عمل ہوگا ویسا ہی اجر اسے پورا پورا ملے گا۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ (آخرت میں ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں (اگر محمد سچے ہیں تو ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترتے ( جو ان کی پیغمبری کی گواہی1 دیں) یا ہم اپنے پروردگار کو دیکھ لیں تو ان کی بات مانیں ان لوگوں نے اپنے دلوں میں غرور پیدا کیا2 اور شرارت کر رہے ہیں کیسی بڑی شرارت3

1 ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے :… او تاتی باللہ والملائکۃ قبیلا… یا تم اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے نہ لے آئو۔ (اسرا :92) دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح پیغمبروں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : قالا لن نومن حتی …مثل ما اولی رسل اللہ۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسی ہی چیز (یعنی رسالت) نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔ دیکھئے سورة انعام آیت 124 ۔ (ابن کثیر) 2 ۔ یعنی یہ اپنی دانست میں اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے۔ اس لئے ان میں اتباع حق سے بےنیازی کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ یا یہ کہ ” استکبار “ یعنی کفر وعناد اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے۔ 3 ۔ ” سرکشی میں حد سے گزر گئے۔ “ یعنی پیغمبر کی تکذیب کی اور ایسی باتوں کا مطالبہ کیا جو اولوالعزم پیغمبروں میں کسی کو ہی حاصل ہوسکتی ہیں پھر اس سے بڑھ کر اور کیا سرکشی ہوگی۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے4 اس دن ان گنہگاروں کو کچھ خوشی نہ ہوگی اور فرشتے یہ کہیں گے (اب) تم پر بہشت یا خوشی یا راحت یا رحمت حرام ہے بالکل حرام5

4 ۔ بعض نے اس سے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ جیسا کہ بعد کی آیت : وقدمنا الی ما عملوا سے معلوم ہوتا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے ان کی موت کا دن مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ نیز دیکھئے انفال 50 و انعام 93 (ابن کثیر) 5 ۔ یا یہ کلمہ مجرمین خود کہیں گے (یعنی خدا کی پناہ) یعنی فرشتوں سے ڈر کر پناہ مانگیں گے۔ یہ محاورہ (حجراً محجوراً ) عرب عموماً اس وقت استعمال کرتے جب کوئی سخت آفت ان پر آپڑتی۔ جیسے ہم ایسے موقع پر کہتے ہیں ” یا اللہ بچائیو “۔ قاضی شوکانی نے اسی مطلب کو ترجیح دی ہے مگر حافظ ابن کثیر (رح) نے پہلے مطلب کو اختیار کیا ہے (ابن کثیر۔ شوکانی)
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور انہوں نے دنیا میں جو نیک کام کئے تھے ان پر ہم متوجہوں گے اور ان کو اڑتی خاک کی طرح کردیں گے6

6 ۔ یعنی انہیں بالکل ضائع اور برباد کردیں گے جن سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے گا کیونکہ ایمان و اخلاص اور شریعت کی موافقت کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوسکتا۔ ” ھباء “ دراصل ان ذرات کو کہتے ہیں جو دھوپ کے ساتھ روشن دان کے راستے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ کفار کے اعمال کو ” سراب “ اور ” رماد “ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے۔ (دیکھئے ابراہیم : 18 و نور :39)
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

بہشت والے تو اس دن اچھے ٹھکانے اور اچھے آرام کی جگہ میں ہوں گے7

7 ۔ اصل میں ” مقیل “ کے لفظی معنی ہیں ” قیلولہ کرنے کی جگہ ” اور قیلولہ گرمی میں دوپہر کے آرام کو کہتے ہیں اس لئے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں ” قیامت کے روز ابھی دوپہر نہ ہوگی کہ جنتی لوگ حساب سے فارغ ہو کر جنت میں پہنچ جائیں گے اور وہاں قیلولہ کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ مومنوں کے لئے قیامت کا دن نہایت ہلکا ہوگا۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان پھٹ کر ایک ابر نمودار ہوگا اور فرشتے (اس ابر میں) جوق در جوق اتارے جائیں گے8

8 ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے اس لئے اتریں گے کہ حساب کتاب کے لئے تمام مخلوقات کا ایک میدان میں حلقہ کرلیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نزول فرمائے گا۔ اہل علم کا قول ہے کہ فرشتوں کا یہ نزول رضا و رحمت کا نزول ہوگا نہ کہ غصہ اور عذاب کا۔ (شوکانی) غمام سے مراد ” ظل نور “ ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن خدا ہی کا سچا راج ہوگا9 اور وہ دن کافروں پر سخت ہوگا10

9 ۔ دنیا کی وہ تمام عارضی اور مجازی حکومتیں ختم ہوجائینگی جن سے انسان دھوکے میں پڑا رہتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور زمین کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لپیٹ کر فرمائے گا۔ ” میں ہوں بادشاہ، میں ہوں بدلہ دینے والا، کہاں ہیں دنیا کے جبار و متکبر لوگ۔ (دیکھئے سورة فاطر آیت :16 ۔ (ابن کثیر) 10 ۔ رہے اہل ایمان تو وہ ان کے لئے نہایت ہلکا ہوگا۔
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن گنہگار (مارے افسوس کے) اپنے ہاتھ کاٹ کھائے گا کہے گا کاش میں بھی دنیا میں پیغمبر کے ساتھ اسلام کا رستہ لیتا یا کوئی راہ نجات کی حاصل کرلیتا11

11 ۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی اتباع اختیار کرلیتا ہے اور ایمان لے آتا۔
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری کم بختی کاش میں خلانے (یعنی ابی بن خلف) کو دوست نہ بناتا12

12 ۔ تو آج اس برے انجام سے دوچار نہ ہوتا۔ حدیث میں ہے۔ المرٔعلی حین خلیلہ فلینظر بعد کم من یخالل۔ کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تم میں سے ہر آدمی کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے۔ (خازن)
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھے نصیحت پہنچنے کے بعد بہکا دیا (یعنی قرآن سننے کے بعد) اور شیطان تو آدمی کو (وقت پر) دغا دیتا ہے13

13 ۔ یعنی پہلے برے کام کی ترغیب دیتا ہے لیکن جب آدمی وہ کام کرلیتا ہے اور مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے تو اسے چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر (اس وقت) یہ عرض کرے گا مالک میرے (میں کیا کروں) میری قوم اس قرآن کو چھوڑ بیٹھی14

14 ۔ یعنی اس پر ایمان نہیں لائی اور اس کی بجائے دوسری باتوں پر عمل کرتی رہی۔ یا مطلب یہ ہے کہ میری امت نے اس قرآن کو اپنی بکواس کا نشانہ بنا لیا۔ ” مھجورا “ کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں یعنی یہ یا تو ہجران (چھوڑنا) سے مشتق ہے اور یا ” ھحر “ سے جس کے معنی ” بکواس کرنا “ ہیں۔ (شوکانی)
Ayahs 25:31–32

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور جیسے یہ کافر اے پیغمبر تریے دشمن میں) ایسے ہی ہم نے گنہگاروں کو ایک پیغمبر کا دشمن بنایا اور لوگوں کو راہ بتلانے اور پیغمبروں کی مدد کرنیکو تیرا مالک بس کرتا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں اس پیغمبر یعنی حضرت محمد پر قرآن سب کا سب یک بارگی کیوں نہیں اترا (جیسے توریت شریف1 حضرت موسیٰ پر اتری تھی تھوڑا تھوڑا ہم نے اس لئے اتارا کرتے دل کو اس کی وجہ سے تسلی دیتے رہیں اور ہم نے اس کو ٹھہر2 ٹھہر کو پڑھ سنایا

1 ۔ یہ کفار کا اعتراض تھا کہ اگر یہ واقعی سچی کتاب ہے تو اسے یکبارگی کیوں نازل نہیں کردیا گیا یہ جو تھوڑا تھوڑا کر کے آرہا ہے اس کا تو مطلب یہ ہے کہ محمد (ﷺ) اسے سوچ سوچ کر خود تصنیف کرلیتے ہیں۔ (شوکانی) 2 ۔ یعنی آپ ﷺ کو اطمینان رہے اور حفظ میں آسانی ہو اور پھر جیسے جیسے واقعات پیش آئیں ان پر اس کے احکام کا انطباق بآسانی سمجھ میں آتا رہے۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور تھوڑا تھوڑا اتارنے میں ایک اور مصلحت ہے وہ یہ کہ کافر جب کوئی نیا اعتراض قرآن پر نیز سے پاس لاتے ہیں تو ہم اس کا سچا جواب دیتے ہیں اور اچھی طرح مطلب کھولتے ہیں3

3 ۔ اور ظاہر ہے کہ اگر ہر اعتراض کا جواب بروقت دیا جاتا رہے تو اس کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ تمام اعتراضات کا جواب کسی مقع پر یکبارگی دیا جائے۔ یہاں ” مثل “ سے مراد طلب وسوال ہے اور ” الحق “ سے مراد شبہ کا ازالہ اور جواب۔ (شوکانی)
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ کافر وہ لوگ ہیں جو اپنے منہ کے بل دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے ان کا ٹھکانا برا اور سب سے بڑھ کر4 میں لوگ ہیں

4 ۔ صحیح یعنی بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : ” لوگ اپنے منہ کے بل کیوں کرہانکے جائیں گے ؟ فرمایا : جس خدا نے انہیں پائوں کے بل چلایا وہ انہیں منہ کے بل بھی چلا سکتا ہے۔ “ اکثر مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم5 اس سے پہلے موسیٰ کو کاتب توریت شریف دے چکے ہیں اور اس کے بھائی ہارون کو ہم نے اس کا وزیر بنا6 کر اس کے ساتھ کردیا تھا

5 ۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کی غرض سے ان واقعات میں اشارہ فرمایا ہے کہ انبیا کی تکذیب تو مشرکین کی پرانی عادت ہے۔ (شوکانی) 6 ۔ جس کی انہوں نے دعا کی تھی۔ (دیکھئے سورة طہٰ :29)
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

۔ پھر ہم نے ان سے کہا تھا دونوں مل کر ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلا رکھا ہے تب ہم نے7 ان کو (جڑ س) اکھاڑ پھینکدیا

7 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں کے پاس۔ یہاں آیات سے وہ نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں جو حضرت موسیٰ کو بطور معجزہ دی گئیں اور ارسال کے وقت ان کو مکذب کہنا اس کے اعتبار سے ہے اور اگر ان سے مراد ” آیات الٰہیہ “ یعنی دلائل توحید ہوں جو کائنات میں پائے جاتے ہیں تو کوئی اشکال لازم نہیں آتا۔ (شوکانی)
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا ہم نے ان کو ڈبو دیا اور ان لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی (اور عبرت) بنادیا اور ہم نے گنہگاروں (مشرکوں) کے لئے تکلیف کا عذاب طیار کر رکھا ہے

8 ۔ چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا تمام پیغمبروں کو جھٹلاتا ہے۔ اس لئے ” کذبوا الرسل “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ (شوکانی)
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کو اور ان کے بیچ میں اور بہت قوموں کو (تباہ کردیا)9

9 ۔ ” اصحاب الرش “ (کنویں والوں) سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ انطاکیہ کے لوگ مراد ہیں وہاں ایک کنواں تھا اس پر ان کے پیغمبر ” حبیب نجار “ انہیں وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ ان لوگوں نے انہیں قتل کر کے اس کنویں میں ڈال دیا۔ بعض نے آٰذربائیجان کے لوگ مراد لئے ہیں جنہوں نے اپنے پیغمبروں کو مار ڈالا۔ علامہ طبری نے لکھا ہے کہ ” اصحاب الرس “ ” اصحاب اخدود “ ہی ہیں۔ جن کا ذکر سورة بروج میں ہوا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayahs 25:39–40

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک قوم کو مثالیں بیان کر کے سمجھایا (لیکن یہ وہ نہ سمجھے) اور ہم نے سب کو کھپا کر ستیاناس کردیا

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کافر اس بستی پر ہو آئے ہیں جس پر برا پتھرائو کیا گیا تھا (یعنی سدوم پر جو لوط والوں کا شہر تھا) کیا انہوں نے ان کو نہ دیکھا10 ہوگا بات یہ ہے کہ ان کو مر کر پھر جی اٹھنے کی امید نہیں ہے11

10 ۔ استفہام توبیخے لئے ہے مطلب یہ ہے کہ ضرور یکھا ہوگا کیونکہ وہ شام کے راستہ پر واقع تھیں اور قریش اپنے سفروں میں آتے جاتے وہاں سے گزرتے تھے۔ 11 ۔ ” اس لئے سب کچھ دیکھتے ہیں مگر کسی چیز سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔