25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 25:41–42

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب یہ لوگ تجھ کو دیکھتے ہیں تو تجھ سے ٹھٹھاہی کرتے ہیں (کہتے ہیں) یہی وہ حضرت ہیں جن کو اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اور (کہتے کیا ہیں یہ شخص تو قریب تھا کہ ہم دیوتائوں سے بہکاوے ایسی ایسی باتیں سمجھائیں12 اگر ہم اپنے دیوتائوں پر جمے رہتے دواہ رہے عقل اور آگے چل کر جب (قیامت کا) عذاب دیکھیں گے تو ان کو معلوم ہوجائیگا کون گمراہ تھا1

“ 12 ۔ یعنی ہمیں نے تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لیا ورنہ اس نے تو ہمیں اس طرح لاجواب کردیا تھا کہ بت پرستی سے ہمارے قدم ڈگمگا گئے تھے۔ 1 ۔ یہ یا وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر ﷺ کی پیروی اختیار کی ؟ اس میں ان کے قول کی تردید کی طرف اشارہ ہے۔ (شوکانی)
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

(اے پیغمبر) بتلا تو سہی جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا رکھا ہے2 کیا تو اس کا ذمہ دار ہوسکتا ہے3

2 ۔ اشارہ ہے کہ ان مشرکین کے پاس تقلید اور اتباع ہویٰ کے سوا دوسری کوئی دلیل نہیں ہے۔ (شوانی) اور ” ہویٰ “ ہی سب سے بڑی گمراہی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں اللہ کے سوا جتنے خدائوں کی بندگی کی جاتی ہے ان میں سے سب بڑا خدا خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جائے۔ (طبرانی) 3 ۔ یعنی جس کی قسمت میں ہی سعادت و ضلالت لکھی گئی ہو، اس کو اللہ کے سوا کوئی راہ پر نہیں لاسکتا۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ سنتے ہیں یا عقل رکھتے ہیں نہیں وہ تو چوپائے جانوروں کی طرف ہیں4 بلکہ ان سے بھی بڑھ کر بیوقوف5

4 ۔ یعنی ان کے لیڈر اور بڑے لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح انہیں ہانک کر جدھر لے جانا چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ 5 ۔ کیونکہ جانور تو اس لحاظ سے معذور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سوچنے سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھا مگر تف ہے ان بدبختوں پر کہ عقل و شعور رکھتے ہیں مگر اس سے کوئی کام نہیں لیتے یا لیتے ہیں تو الٹا لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بہائم (چوپائے جانور) تو پھر بھی اپنے مالک کے تابع رہتے ہیں۔ چراگاہ میں چلے جاتے ہیں۔ پھر واپس اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں مگر یہ نہ اپنے خالق و رازق کو پہچانتے ہیں اور نہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی ہی گزار رہے ہیں۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تو نے اپنے مالک کی قدرت نہیں دیکھی اس نے سایہ کیونکر پھیلایا اور اگر وہ چاہتا تو سایہ ٹھیرا رکھتا (کبھی دھوپ نہ نکلتی پھر ہم نے سورج کو (نکال کر) سائے کو پہچان کی7

6 ۔ یعنی طلوع فجر سے لے کر سورج نکلنے تک یا غروب سے طلوع تک صرف سایہ رہتا ہے اس کے ساتھ کوئی دھوپ نہیں ہوتی۔ (قرطبی) ان کی گمراہی بیان کرنے کے بعد اب دلائل توحید کا بیان ہے۔ (شوکانی) 7 ۔ یعنی اگر دھوپ نہ ہوتی تو کچھ پتا نہ چلتا کہ سایہ کیا ہوتا ہے کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ (قرطبی) یا مطلب یہ ہے کہ سایہ دھوپ کے تابع رہتا ہے۔ دھوپ کے اعتبار سے ہی اس میں نقص و زیادت اور امتداد و تقلص ہوتا ہے تو گویا دھوپ اس کے لئے بمزملہ دلیل اور راہنما کے ہے۔ (شوکانی)
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر سائے کو ہم نے دھیرے دھیرے اپنی طرف سمیٹ لیا8

8 ۔ یعنی اسے محو کردیا۔ جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے سایہ بھی بتدریج کم ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ نصف النہار کے وقت بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ اور ” الینا “ سے مراد یہ ہے کہ اس کا مرجع و مآل ہماری طرف ہے جیسے اس کا پیدا کرنا ہماری طرف سے ہے۔ (فتح) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اپنی طرف کھینچ لیا۔ “ یہ کہ اپنی اصل کو جا لگتا ہے سب کی اصل اللہ ہے۔ (موضح)
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے رات کو تمہارا اوڑھنا (پردہ) اور نیند کو آرام بنادیا9 اور دن کو جی اٹھنا بنایا10

9 ۔ کیونکہ اس میں تم اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر آرام کرتے ہو۔ ” سبات “ کے اصل معنی تمدد یعنی پھیلنے کے ہیں اور نیند یا راحت کے وقت بھی آدمی دراز ہوجاتا ہے اس لئے نیند یا راحت کو ” سبات “ کہا جاتا ہے۔ (شوکانی) 10 ۔ نیند ایک طرح کی موت ہے اس لئے صبح کے وقت بیداری کو ” نشور “ (جی اٹھنے) کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ علامہ زمحشری لکھتے ہیں کہ ” یہاں ” سبات “ کا لفظ چونکہ ” نشور “ کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے اس کے معنی موت کے ہیں۔ (شوکانی)
Ayahs 25:48–49

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے اپنی رحمت (اترنے) سے یعنی پانی برسنے سے) پہلے اس کی خوشخبری دینے کے لئے ہوائوں کو بھیجا اور ہم نے آسمان سے پاک کرنیوالا پاکیزہ پانی بھیجا

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

اس لئے کہ ہم11 اس کی وجہ سے مری ہوئی بستی کو زندہ کریں (وہاں کی زمین ترو تازہ ہوجاویض اور اپنی خلقت میں سے بہت سے جانوروں اور آدمیوں کو پلائیں سیراب12 کریں

11 ۔ یعنی یہ خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے اس بنا پر جمہور علما نے اس کے مفہوم کو ” طاہر مطہر “ سے ادا کیا ہے بعض نے ” ظہور “ بمعنی طاہر کیا ہے یعنی جو خود پاک ہو۔ اور ” طہور “ صیغہ آلہ ہے یعنی ما یتطھر بہ کے معنی میں ہے یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ پاکیزگی حاصل کی جائے اور یہ صیغہ صفت برائے مبالغہ نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا ماننے سے متعدد اشکال (لفظی و معنوی) لازم آتے ہیں۔ (ابن کثیر) 12 ۔ یعنی اکثر جاندار چیزیں اور انسان بارش کا پانی پی کر ہی سیرابی حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے بارش کو ان لوگوں میں پھرایا13 اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو) سمجھیں (اور اس کی نعمت کا شکر کریں، تو بھی اکثر لوگوں نے14 نے ناشکری کے سوا کچھ (احسان) نہ مانا

13 ۔ یعنی بارش کہیں زیادہ ہوتی ہے اور کہیں کم۔ سب جگہ یکساں ہو۔ بیک وقت نہیں ہوتی۔ کسی جگہ بارش سے سیلاب آجاتا ہے اور کہیں بارش نہ ہونے سے خشک سالی ہوجاتی ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔ (ابن کثیر) آیت کا یہ ترجمہ اور مفہوم اس صورت میں ہوگا جب ” صرفناہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر بارش کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ ضمیر اوپر بیان شدہ دلائل کے لئے قرار دی جائے۔ کما ھو عند جھور المفسرین تو مطلب یہ ہوگا کہ ” ہم نے توحید کے دلائل کو مختلف طریقوں سے پھیر پھیر کر قرآن اور دیگر کتب سماویہ میں بیان کیا ہے۔ (شوکانی) 14 ۔ ناشکری یہ کہ اس بارش کو ستاروں کا کرشمہ قرار دیا جائے۔ صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث کے دوران میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جو لوگ کہتے ہیں کہ ” مطرنا بنووکذا “ کہ فلاں ستارے کی تاثیر سے بارش ہوئی وہ لوگ مجھ سے کفر کرتے ہیں اور ستارو پر ایمان رکھتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم تیرے زمانے میں) چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانیوالا15 (پغیمبر بھیجتے

15 ۔ یعنی جب ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور ملکوں میں بانٹ دیا ہے تو ایک ایک بستی میں ایک ڈرانے والا بھی بھیج سکتے تھے۔ مگر ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اس وقت ہماری حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ سارے جہاں کے لئے صرف آپ ﷺ ہی کو ” منذر “ (خوف کی خبر سنانے والا) بنا کر بھیجا جائے۔ (دیکھئے سورة اعراف آیت :158) حدیث میں ہے : و بعثت الی الناس عامہ کہ میری بعثت سب لوگوں کے لئے ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

تو کافروں کا کہنا منت مان اور قرآن کے زور16 سے ان سے خوب جہاد کر17

16 ۔ یعنی توحید کے اثبات اور کفر و شرک کے ابطال کے دلائل سنا سنا کر۔ 17 ۔ یعنی آپ ﷺ کا کام چونکہ بڑا ہے اس لئے آپ ﷺ کو اس سلسلہ میں پوری ہمت صرف کر دینی چاہیے۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے دو دریائوں کو ملا کر بہایا ایک تو میٹھا ہے خوب میٹھا (یا پیاس بجھانے والا) اور دوسرا کھاری بہت کھاری (یا کڑوا) اور دونوں کے بیچ میں (ظاہری یا اپنی قدرت کی) ایک آرزومضبوط روک1 بتائی

1 ۔ جس کی وجہ سے دونوں پانی آپس میں ملنے نہیں پاتے۔ میٹھا میٹھا رہتا ہے اور کھاری کھاری۔ یہ کیفیت ان جگہوں میں اکثر پیش آتی ہے جہاں وہ دریا یا نالوں کا ایک دوسرے سے ملاپ ہوتا ہے یا جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں گرتا ہے۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے پانی (نطفے) ہے آدمی کو بنایا پھر خون اور دامادی کا رشتہ اس کیلئے قائم کیا2 اور اے پیغمبر تیرا مالک قدرت والا ہے (جو چاہے وہ کرسکتا ہے)

2 ۔ جس سے اس کی معاشرتی زندگی بنتی ہے اور اس کی نسل بڑھتی اور برقرار رہتی ہے۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کو پوجتے ہیں جو ان کا بھلا کرسکتے ہیں نہ برا اور کافر تو اپنے مالک کا دشمن بن بیٹھا ہے۔3

3 ۔ یعنی کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اپنے رب کے خلاف اس کے دشمن شیطان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 25:56–58

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے تجھ کو پس اس نے بھیجا ہے کہ (نیکوں کو بہشت کی خوشخبری دے اور کافروں کو خدا کے عذاب سے) ڈرائے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

اے پیغمبر کہ دے میں تم سے اس خوشخبری سنانے اور ڈرانے پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے مالک تک پہنچنے کا رستہ کرے

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اے پیغمبر کافروں سے مت ڈر) اس خدا پر بھروسہ کر جن کو موت نہیں (ہمیشہ زندہ ہے) اور تعریف کیساتھ اس کی پانی بیان4 کے گناہوں سے اس کا خبر دار ہونا بس کرتا ہے (وہ سب بندوبست کرے گا)

4 ۔ چناچہ آنحضرت ﷺ یہ ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے : سبحانک اللھم ربنا وبحمدک۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمان اور زمین اور جو ان کے بیج میں چھ دن میں بنائے پھر تخت پر جا بیٹھا (ان کا انتظام کرنے کو) وہ بہت رحم والا ہے تو جو کوئی ان باتوں کو جانتا ہو اس سے پوچھ5

5 ۔ یہاں ” جاننے والے “ سے مراد خود اللہ تعالیٰ ہے اور ” بہ “ بمعنی ” عنہ “ ہے اور مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش اور استواء علی العرش وغیرہ کے بارے میں اہل کتاب یا مشرکین کیا جانیں۔ ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے لہٰذا اسی سے دریافت کیجئے۔ آیت کی جو توجیہات یہاں بیان کی گئی ہیں ان سب سے یہ توجیہہ بہتر ہے۔ (شوکانی)
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان کافروں سے کہا جاتا ہے رحمٰن (یعنی خدا کو) سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کون ہے کیا تو جس کو کہے اس کو ہم سجدہ کریں ورنہ جان نہ پچان اور رحمٰن کا نام لینے سے ان کی نفرت اور بڑھ جاتی ہے6

6 ۔ یا ” رحمن کو سجدہ کرنے کے حکم سے “ ان کی نفرت اور بڑھ جاتی ہے۔ یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ مشرکین مکہ زمین و آسمان کے خالق کے لئے ” اللہ “ کا لفظ تو مانتے تھے لیکن وہ اس کے نام ” رحمن “ سے مانوس نہ تھے اس لئے اسے سنتے ہی چڑ جاتے تھے۔ دیکھئے سورة رعد آیت 30، سورة اسرا : آیت 110 ۔ (قرطبی) تنبیہ اس آیت پر سجدہ کرنا ہر پڑھنے اور سننے والے کے لئے مسنون ہے اور اس پر تمام علما کا اتفاق ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ خداوند جس نے آسمان میں برج بنائے7 اور ان میں ایک چراغ یعنی سورج رکھا8 اور چاند روشنی دینے والا

7 ۔ برجوں سے مراد بڑے ستارے ہیں یا وہ بارہ منزلیں جن سے سورج، چاند اور ستارے اپنی اپنی گردش کے دوران میں گزرتے ہیں۔ (دیکھئے سورة الحجر آیت 16) 8 ۔ جیسا کہ سورة نوح ( علیہ السلام) میں بصراحت فرمایا : وجعل الشمس سراجا اور اس نے سورج کو چراغ بنایا۔ (آیت 71)
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے اس شخ، ص کے لئے جو (خدا کیقدرتوں میں غور کرنا چاہتا ہے (یا اس کی نعتموں کا) شکر کرنا چاہتا ہے رات اور دن کو ایک کے پیچھے ایک آتے جاتے) بتایا

9 ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ” دائبین “ ( سورة ابراہیم :33) فرمایا ہے۔ یعنی اپنے دستور پر چل رہے ہیں۔ چناچہ جب رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور جب دن جاتا ہے تو رات آجاتی ہے۔ یا ” ایک کو ایک کا جانشین بنایا “ یا ” ایک کو ایک کا مخالف بنایا۔ “ یعنی مگر رات تاریک ہے تو دن روشن۔ لفظ ” خلفا “ کے یہ تینوں معنی ہوسکتے ہیں۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور خدا کے (نیک) بندے سے وہ ہیں جو عاجزی کے ساتھ یا آہنسگی اور وقار کیساتھ زمین پر چلتے ہیں10 اور (جب جاہل لوگ ان سے بھڑ جاتے ہیں کہتے ہیں (اچھا صاحب) سلام1

10 ۔ یعنی اگرچہ پیدائشی طور پر سبھی خدائے رحمن کے بندے ہیں۔ لیکن اس کے نیک اور پسندیدہ بندے وہ ہیں جو شعوری طور پر اس کے سامنے عاجزی اختیار کرتے ہیں چناچہ وہ جب زمین پر چلتے ہیں تو عاجزی سے چلتے ہیں نہ کہ مفسدوں اور جباروں کی طرح اینٹھتے اور اکڑتے ہوئے۔ عاجزی کی چال سے مراد سکون اور وقار کی چال ہے نہ کہ تصنع اور ریا سے مریضوں کی طرح سے چلنا۔ آنحضرت ﷺ صحابہ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کرتے : وعلیکم السکینۃ۔ یعنی تم اس طرح آئو کہ تم پر سکون و وقار کی حالت طاری ہو۔ (قرطبی، ابن کثیر) 1 ۔ یہ سلام وہ نہیں جو مسلمان بطور دعا اور اظہار محبت کے ایک دوسرے کو کرتے ہیں بلکہ یہ بیزاری اور ترک ملاقات کا سلام ہے جیسے اگر کسی سے پیچھا چھڑانا مقصود ہو تو کہا جاتا ہے ” اچھا بھئی، سلام “۔ مجاہد وغیرہ نے ” قالوا سلاما “ کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہ جاہلوں کی جہالت کے مقابلے میں اچھی اور سلامتی کی بات کہتے ہیں۔ ( اور درگزر کرتے ہیں) تاکہ فساد نہ بڑھے۔ (شوکانی)
Ayahs 25:64–65

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو راتوں کو اپنے مالک کے آگے سجدے اور قیام میں رہتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

یعنی شب بیدار تہجد گزار اور جو یوں دعا مانگتے ہیں مالک ہمارے دوزخ کا عذاب ہم پر سے ٹال دے کیونکہ دوزخ کا عذاب (کافروں اور گنہگاروں کیلئے اٹل ہے2

2 ۔ یعنی ایسا چمٹ جانے والا جو کسی طرح الگ نہ ہو۔ اسی سے فریم ہے یعنی صاحب قرض جو پیچھا نہ چھوڑے۔ (قرطبی)
Ayahs 25:66–67

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

وہ (ہر طرح) بری ہے وہاں تھوڑی دیر رہنا ہو یا ہمیشہ رہنا ہو

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

در جو خرچ کرتے وقت بیکار اپنا پیسہ انہیں اڑاتے اور نہ تنگی کرتے ہیں ( کہ ضرورت میں بھی اٹھائیں3 اور بچ بچ میں ان کا خرچ رہتا ہے

3 ۔ یعنی نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ فضول خرچی یہ ہے کہ گناہ کے کاموں میں مال صرف کیا جائے اور بخل یہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ حقوق بھی ادا نہ کئے جائیں۔ (شوکانی) ۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو نہیں پکارتے (بس) کسی کو یاد کرتے ہیں اسی کی عبادت کرتے ہیں اور جان کا مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے4 اس کو نہیں مارتے مگر حق5 پر (جیسے خون کے بدلے خون) اور زنا نہیں کرتے اور6 اور جو کوئی یہ کام کرے گا وہ اپنے کئے کا بدلہ پائے گا7

4 مراد ہے ہر انسانی جان۔ کیونکہ ہر انسانی جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے۔ 5 ۔ یا جیسے شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا یا مرتد کو قتل کرنا اور جنگ میں کافر کو ماردینا، یہ سب صورتیں ” الابالحق “ کے تحت آجاتی ہیں۔ 6 ۔ یہ تینوں گناہ اسی ترتیب کے ساتھ ایک حدیث میں مذکور ہیں۔ عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے نبی ﷺ سے پوچھا گیا۔ ” سب سے بڑا گناہ کونسا ہے۔ “ فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کا ہمسر قرار دو حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا۔ “ سائل نے عرض کیا پھر کونسا ؟ فرمایا :” یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوگی “ سائل نے عرض کی پھر کونسا ؟ فرمایا کہ ” تم اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرو۔ “ (ابن کثیر) 7 ۔ یا ” اثام میں ڈالا جائے گا۔ “ جو جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 25:69–70

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

اس کو قیامت کے دن رونا عذاب ہوگا اور وہ اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہے گا

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جو شخص (دنیا ہی میں ان گناہوں سے) توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا8 اور اللہ بخشنے والا مہربان

8 ۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی حالت بدل دے گا یعنی کافر کی بجائے مومن اور عاصی کی بجائے فرمانبردار لکھ دیا جائے گا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے برائیوں کو مٹا کر ان کی جگہ نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔ یہ مطلب صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے اور بہت سے صحابہ کا قول بھی یہی ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو کوئی گناہ سے توبہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف پورا پھر آتا ہے9

9 ۔ پہلا ذکر تھا کفر (کی حالت) کے گناہوں کا جو پیچھے ایمان لایا۔ یہ ذکر ہے اسلام میں گناہ کرنے کا، وہ بھی جب توبہ کرے یعنی پھرے اپنے کام سے تو اللہ کے یہاں جگہ پاوے۔ (موضح)
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے (یا جھوٹ فریب نہیں کرتے) اور جب بیہودہ کام پر آنکھیں (اتفاق سے اس پر گند ہو) تو عزت بچا کر چل دیتے ہیں

10 ۔ ” لا یشھدون الزور “ کے یہ دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں۔ یعنی جھوٹی شہادت (گواہی) دینا اور جھوٹ کا مشاہدہ کرنا۔ ای حدیث میں جھوٹی گواہی کو آنحضرت ﷺ نے سب سے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ (ابن کثیر) 11 ۔ یا ” شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں بغیر اس کے کہ اس بیہودہ کام میں شریک ہوں۔ لفظ ” لغو “ کے مفہوم میں گناہ کے تمام کام بھی آجاتے ہیں اور رقص و سرور اور تمام فضول کام اور باتیں بھی۔
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور جن کو انکے مال ک کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے12

12 ۔ بلکہ وہ انہیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان سے متاثر ہوتے ہیں بخلاف کافروں کے جو انہیں سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ علامہ ابن جریر (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیت میں ” گرنے “ کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے جیسے کہا جاتا ہے ” قعدیب کی “ اس کے لفظی معنی تو یہ ہیں ” وہ روتے ہوئے بیٹھ گیا۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ ” وہ روتا رہ گیا۔ “ اسی طرح اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” وہ اللہ کی آیتوں کو سن کر گونگے بہرے بنے نہیں بیٹھ رہتے بلکہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں اور جس چیز کا ان میں حکم دیا جاتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور جو یہ دعا کرتے ہیں مالک ہمارے ہم کو ایسی بی بیان اور اولا عطا فرما جن کی طرف سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں13 اور ہم کو پرہیز گاروں کا سردار بنا14

13 ۔ یعنی انہیں نیک اور خدا ترس بنا۔ کیونکہ ایک مومن کی آنکھ محض بیوی بچوں کے ظاہری حسن و جمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ دراصل ان کی نیکی اور پاکیزہ اخلاق اور اطاعت کیشی سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ 14 ۔ کہ دوسرے لوگ بھی ہماری اتباع کریں اور وہ بھی نیک اور پرہیزگار بن جائیں تاکہ ان کی نیکی کا ثواب، ان کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ملتا رہے۔
Ayah 25:75

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان لوگوں کو بہشت کے بالا خانے ان کے صبر کے بدلے میں ملیں گے1

1 ۔ یعنی ہرحال میں راہ حق پر ثابت قدم رہنے کے بدلے میں۔
Ayah 25:76

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

اور ان کا دعا اور اسلام سے استقبال کیا جائے گا2 ہمیشہ اس میں رہیں گے وہ اچھا ٹھکانا اور اچھا مقام ہے

2 ۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے دعا وسلام کہتے ہوئے ان کا استقبال کریں گے۔
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

(اے پیغمبران لوگوں سے) کہہ دے مگر تم خدا کو نہ پکارتے رہتے تو میرے مالک کچھ تمہاری پروا نہ ہوتی اب تو تم نے اس کو پیغمبر اور اس کی کیونکہ جھٹلایا تو اس کا وہاں ضرور پڑیگا4

3 ۔ یعنی اگر تم ایمان لا کر اس کی عبادت نہ کرو اور اس کے حضور دعائیں نہ کرو تو اسے ایک پرکاہ کے برابر بھی تمہاری پروا نہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی بندہ مغرور نہ ہو خاوند (خداوند) کو اس کی کیا پروا۔ مگر اس کی التجا پر رحم کرتا ہے۔ (موضح) 4 ۔ چاہے دنیا میں چاہے آخرت میں اور چاہے دونوں جگہ، چانچہ قریش نے… جن سے آیت کا خطاب ہے… آخرت کے علاوہ ” بدر “ کے روز یہ وبال دیکھ لیا۔ اس لئے جمہور مفسرین نے یہاں ” لزام “ سے ” بدر “ کے دن کا عذاب مراد لیا ہے۔ (شوکانی)