26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 26:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ (سورت) کھول کر سنانے والی کتاب کی آیتیں ہیں6

6 ۔ یعنی جو اپنے مطالب کو بالکل واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر تو تو ایسا رنجیدہ معلوم ہوتا ہے) شاید تو اس بات پر کہ وہ (یعنی کے کافر) مسلمانوں کیوں نہ ہوئے7 اپنے نئیں گھونٹ کر مار ڈالے گا

7 ۔ اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ ﷺ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر ایک بڑی اور ہولناک نشانی اتاریں پھر اس کو دیکھ کر ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں8

8 ۔ یعنی اس پر ایمان لانے کے سوا ان کے لئے کوئی چارہ کار نہ رہے۔ لین ہم ایسا نہیں کرتے کیونکہ دنیا دار ابتلا ہے اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر اختیاری طور پر لائے نہ کہ کسی دبائو یا مجبوری کے تحت۔ (ابن کثیر)
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کا تو باقاعدہ ہے جب خدا کی طرف سے ان کے پاس نئی نصیحت کی بات آتی ہے9 تو وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

9 ۔ یعنی قرآن کی کوئی نئی آیت یا حکم جس میں انہیں نصیحت کی گئی ہو۔ (دیکھئے انبیا آیت :2)
Ayahs 26:6–7

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

خیر انہوں نے تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اس نے ٹھٹھا مذاق کیا اب جس کا وہ ٹھٹھا اڑاتے تھے،

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

اس کی حقیقت ان کو معلوم ہوجائیگی10 کیا ان لوگوں نے زمین کو نہیں دیکھا اس میں ہم نے کیسے عمدہ عمدہ قسم کی چیزیں اگائی ہیں

10 ۔ یہاں ” انبار “ سے مراد وہ دنیوی یا اخروی عذاب ہیں جن کے وہ مستحق تھے اور قرآن نے چونکہ اس عذاب کی خبر دی ہے اس لئے اسے ” انبا “ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی یہ لوگ چونکہ اعراض و تکذیب سے تجاوز کر کے استہزا پر اتر آئے ہیں سو عنقریب دنیا یا آخرت میں ہمارے عذاب دیکھیں گے اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبر جو دعوت پیش کرتے ہیں اور جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے، واقعی حق تھی۔ اس میں سخت وعید ہے۔ راجع، الانعام آیت 5 و ایضا، ص :88 ۔ کذافی الشوکانی)
Ayahs 26:8–9

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بیشک اس میں (خدا کی قدرت کی) نشانی ہے اور (تو بھی) ان میں کے بہت لوگ نہیں مانتے) اکثر کافر ہیں یا مشرک

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بیشک تیرا مالک زبردست ہے رحم والاف 11

11 ۔ یعنی وہ زبردست قوت والا ہے۔ وہ انہیں جو چاہے اور جب چاہے سزا دے سکتا ہے۔ مگر وہ رحم والا بھی ہے۔ لہٰذا انہیں سنبھلنے کے لئے موقع پر موقع دیئے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔ اس کے بعد عبرت کے لئے چند واقعات بیان فرمائے جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کی تکذیب و استہزا کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے آیت سابقہ ” فسوف یاتیھم انبا ما کانو بہ یستھزٔون “ کی تقریر و تائید مقصود ہے۔ (شوکانی)
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب تیرے مالک نے موسیٰ کو پکارا گنہگار لوگوں کے پاس جا12

12 ۔ یہ اس واقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنے بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر واپس آرہے تھے۔ (دیکھئے سورة طہ : رکوع 1)
Ayahs 26:11–13

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

یعنی فرعن اور اس کی قوم کے پاس کیا وہ ہمارے عذاب اور غصب سے نہیں ڈرتے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا مالک میرے مجھ کو ڈر ہے کہیں وہ مجھ کو جھٹلائیں

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا جی رک جائے13 اور میری زبان بند ہوجائے تو ہارون کو (بھی میرے ساتھ) پیغمبر بنا دے2

13 ۔ یعنی اتنے بڑے مشن پر تنہا جاتے ہوئے مجھے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔۔ 1 ۔ یعنی میں پوری روانی سے تقریر نہیں کرسکتا۔ 2 ۔ تاکہ ان سے مجھے تقویت اور پشت پناہی حاصل ہو اور یوں بھی وہ میری نسبت زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ (دیکھئے طٰہٰ ۔ 31، قصص :34) موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں نہ کہ رسالت سے سبکدوش کردینے کی۔ (شوکانی)
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور میں نے ایک قصور بھی کیا3 ہے تو میں ڈرتا ہوں کہیں وہ مجھ کو اس خون کے بدل مار ڈالے

3 ۔ یعنی مجھ سے ان کا آدمی قتل ہوگیا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل سرہ قصص رکوع 2 میں بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ایک قبطی کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی۔ پھر جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع فرعون اور اس کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلہ لینے کے لئے مشورے کر رہے ہیں تو وہ مصر سے مدین بھاگ گئے۔ معلوم ہوا کہ خوف طبعی طور پر کبھی انبیا کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا ہرگز نہیں4 وہ تجھ کو مار دے سکیں گے تو تم دونوں میری (قدرت کی نشانیاں) لیکر5 جائو ہم خود تمہارے ساتھ جو گفتگو میں ہوگی اس کو طن رہے6 ہیں

4 ۔ یعنی یہ خیال کہ وہ آپ کو قتل کردیں گے اپنے دل سے نکال دیجئے۔ (دیکھئے قصص :35) 5 ۔ یعنی عصاویدبیضا کے معجزے جیسا کہ سورة طٰہٰ رکوع 4 اور قصص رکوع 4 میں بیان ہوا ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ہارون ( علیہ السلام) کو یہ دو معجزے دے کر فرعون کی طرف بھیجا۔ 6 ۔ لہٰذا تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم ہرحال میں تمہارے نگہبان و محافظ رہیں گے۔
Ayahs 26:16–17

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

اور دونوں فرعون کے پاس پہنچو اور کہو ہم اس کے بھیجے ہوئی ہیں جو سارے جہان کا مالک ہے

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

(ہم اس لئے آئے ہیں) کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ روانہ کر دے7 اور ان کو آئندہ مت ستا)

7 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف دو مشن دے کر بھیجا گیا تھا، ایک بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلانا اور دوسرا اس کے سامنے دعوت توحید رکھنا۔ (دیکھئے ……)
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا صموسیٰ تو تو وہی ہے نا جسک و ہم نے بچہ سا پالا پوسا اور تو اپنی عم رکے کئی برس ہم میں رہ چکا ہے8

8 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو فرعون نے پہچان لیا اور کہا کیا ہم تم سے واقف نہیں ہیں ؟ اس وقت تو تم نے کوئی پیغمبری کا دعویٰ نہیں کیا تھا کیا اب تمہارا دماغ چل گیا ہے جو پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگے ہو اور خود ہمیں اپنی پیروی کی دعوت دیتے ہو۔
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تو نے ایک حرکت بھی کی تھی جو کی اور تو ناشکروں میں سے9 ہے

9 ۔ یعنی ہمارے اتنے احسانات کے باوجود تم نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا جو یقینا تمہاری احسان فراموشی تھی۔
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا میں نے (بیشک) ان حرکت کیھی مگر جب میں نادان تھا10

10 ۔ یعنی قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رسالت و نبوت سے نوازتا یا مجھے کیا خبر تھی کہ ایک گھونسے میں اس کا دم نکل جائے گا لہٰذا تمہارا یہ طعن بےجا ہے۔ (کذا فی القرطبی)
Ayahs 26:21–22

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر جی میں تم سیڈراتو میں تمہارے پاس سے بھاگ نکلا دین کو چلا گیا وہاں سے ایک مدت کے بعد لوٹا تو پھر میرے مالک نے مجھ کو سمکھ عنایات فرمائی اور پیغمبروں میں مجھ کو شریک کیا

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا یہی احسان ہے جو تو مجھ پر جتاتا ہے کہ تو نے (سارے بنیاسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے11

11 ۔ یعنی آج تو مجھ پر یہ احسان کیسے جتلا سکتا ہے کہ تو نے اپنے گھر میں رکھ کر میری پرورش کی حالانکہ اس کا سبب خود تیرا ظلم و ستم تھا۔ اگر تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان کے بیٹوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع نہ کر رکھا ہوتا تو میں اپنے گھر میں پرورش پاتا۔ میری والدہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے دریا میں بہاتی اور اس طرح میں تیرے گھر پہنچ جاتا۔ علمائے تفسیر (رح) نے اس آیت کی اور بھی بہت سی تشریحات بیان کی ہیں۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا (یہ تو میرا اب یہ بتا) سارے جہان کا مالک کیا معنے12

12 ۔ یعنی اس کی حقیقت بتائو کہ وہ کیا چیز ہے ؟۔ فرعون نے یہ سوال اس بنا پر کیا کہ وہ خود خدا ہونے کا دعویدار تھا اور اس کی قومے بھی اس کا دعویٰ تسلیم کرلیا تھا اس لئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس دعویٰ پر کہ مجھے سارے جہان کے رب نے بھیجا ہے۔ “ اس نے ہٹ دھرمی سے یہ سوال کیا۔
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ نے کا وہی جو آسمان اور زمین اور جو ان دونوں کے بیچ میں ہی ان کا مالک اگر تم مانو13

13 ۔ یعنی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے مانے بغیر چارہ نہیں اگر تم میں ماننے کی ذرا بھی صلاحیت ہے۔
Ayahs 26:25–26

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون اپنے گرد و پیش والوں سے کہنے لگا سننے ہو

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے (پھریوں) کہا تمہارا ملک اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا مالک14

14 ۔ یعنی میں تمہیں اس رب العالمین کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو جس طرح آج تمہارا رب ہے کل تمہارے باپ دادا کا بھی رب تھا اور تمہاری آئندہ نسلوں کا بھی رب ہوگا۔ اس کی شان یہ نہیں کہ وہ کل تھا اور آج نہیں یا آج ہے اور کل نہیں ہوگا۔
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرون نے (غصے ہو کر) کہا (صاحبو) تمہارا پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے بالکل ہے15

15 ۔ یعنی اس کا دماغ چل گیا ہے اس لئے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یا جو میں سوال کرتا ہوں اس کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا پورب اور پھر اور جو لائن دونوں کے بیچ میں ہے ان کا مالک اگر تم کو عقل ہے16

16 ۔ یعنی اگر تم میں سوچنے سمجھنے کی ذرا بھی صلاحیت ہے تو یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ حقیقت میں تو رب وہ ہے جو مشرق و مغرب کا اور ہر اس چیز کا مالک ہے جو مشرق و مغرب کے درمیان ہے نہ کہ تمہارا یہ فرعون جو مصر جیسی زمین کے ایک چھوٹے سے رقبے کا مالک بنا بیٹھا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا دیکھ موسیٰ اگر تو میرے سوا اور کسی کو خدا مانا تو ضرور میں تجھے قید کر دوں گا1

1 ۔ ہر ظالم و جابر حکمران اور مدعی باطل کا قاعدہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا جاتا ہے تو آخری پناہ گاہ کے طور پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے لگتا ہے۔ چناچہ یہی دھمکی فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دی۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اور جو میں تجھ کو ایک مکھل دلیل بتلائوں2

2 ۔ تو کیا پھر بھی تو میری بات نہ مانے گا اور مجھے قید کرے گا۔ (شوکانی)
Ayahs 26:31–32

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعن نے کہا اچھا بتلا اور دلیل کیا ہے اگر تو سچا ہے

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

اسی وقت موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈال دی ایک ہی ایکا وہ کھلا اثر وہاں ب گئی3

3 ۔ یعنی ایسا اژدھا جس کا اژدھا ہونا بالکل واضح اور عیاں تھا نہ کہ کسی شعبدہ بازی کا دھوکا۔
Ayah 26:33

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور ہاتھ جو اگر بیان یا بغل میں ڈال کر) باہر نکالا تو ایک ہی ایکا دیکھنے والوں کو سفید (چمکتا) معلوم ہوا

4 ۔ یعنی سورج کی طرح جگمگا رہا تھا جس پر آنکھ نہ ٹھہرتی تھی۔ (ابن کثیر) دوسرے مقام پر بیضا من غیر سوء فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید نہ تھا بلکہ کسی بیماری کے بغیر اس طرح چمک رہا تھا جیسے سورج۔
Ayah 26:34

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

اب فرعون ناپنے سرداروں سے جو اس کے گرد و یش تھے (کیا) کہنے لگا یہ ایک کامل جادو گر ہے۔5

5 ۔ اور خود یہاں کا حکمران بن بیٹھے۔
Ayah 26:35

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

اپنے فن کا استاد اس کا مطلب یہ یہ کہ تم کو اپنے جادو ج کے بعد زور سے تمہارے ملک سے6 نکالباہر کر دے تو اب کیا صلاح دیتے

6 ۔ ابھی خدائی کے دعوے تھے اور ابھی اپنے وزیروں اور درباریوں سے پوچھنے پر اتر آیا کہ بتائو کیا کیا جائے ؟ اس آئی بلا کو کیونکر ٹالا جائے ؟ اس نے اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتے دیکھ کر یہ رویہ اختیار کیا۔ (شوکانی)
Ayah 26:36

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

جو انہوں نے اصلاح یہ ہے) اس کو اور اس کے بھائی کو ذرا ڈھیل دے چند روز تک ٹالم ٹولا میں رکھا اور شہروں میں نقیب بیج دے

7 ۔ یعنی ہر کارے یا پولیس کے سپاہی جو جادوگروں کو اکٹھا کر لائیں۔
Ayah 26:37

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

وہ ہر ایک استاد جادوگر تیرے پاس لے آئیں جو ان جو وقت ٹھہرا تھا۔8

8 ۔ سورة طہ میں گزر چکا ہے کہ وہ قبطیوں کی عید (یوم الزینۃ) کا دن تھا اور اس دن کا انتخاب اس لئے کیا گیا تھا کہ لوگ ملک کے گوشے گوشے سے آ کر دارالسلطنت میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور جادوگروں کا مقابلہ دیکھیں گے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا بھی یہی مقصد تھا کہ عام مجمع میں حق و باطل کا مقابلہ ہوتا کہ سب لوگوں پر حق کی صداقت عیاں ہوجائے۔ (شوکانی)
Ayahs 26:38–40

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

اس پر جادو گر اکٹھا کئے گئے اور لوگوں سے کہا دیا گیا (عام منا دی ہوگئی)

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

کیا تم اتنا بڑا تماشہ دیکھنے کو) جمع ہوتے ہو

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید یہ جادوگر غالب ہوں تو ہم ان کے کہے پر چلیں گے9

9 ۔ یعنی ان کے دین پر برقرار رہیں گے۔ (شوکانی)