26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 26:159–161

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور بیشک تیرا مالک زبردست ہے رحم والا

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

لوط کی قوم نے یعنی ملک والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب ان کے بھائی یعنی ہم وطن ہم شہر لوط نے کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے10

10 ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) جس بستی میں جا کر رہے تھے اس کا نا م ” سدوم “ تھا۔ اس کے رہنے والوں کو حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اس کے ہم وطن یا ہم شہر تھے۔ اگرچہ وہ اصلاً بابل کے رہنے والے تھے اور اپنے چچا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھیجنے پر وہاں گئے تھے۔ قصہ کی تفصیل سورة اعراف اور ہود میں گزر چکی ہے۔ (دیکھئے اعراف آیت 80 تا 84 و ہود آیت 69 تا 83 ضمن قصہ ابراہیم) ۔
Ayahs 26:162–165

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تمہارا سچا امانت دار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں اس نصیحت کرنے پر تم سے کچھ نیگ نہیں مانگتا میرا نیگ تو بس اسی پر ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

تم کو شرم نہیں آتی تم جہاں کے لونڈوں پر چڑھتے ہو

11 ۔ یا سارے جہاں میں تم ہی ایسے لوگ ہو جو اس برے کام کا ارتکاب کرتے ہو۔
Ayah 26:166

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

مردوں سے برا کام کرتے ہو اور جو تمہارے مالک نے تمہایر لئے اچھی پاکیزہ بی بیاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ بیٹھے ہو بات یہ ہے کہ تم لوگ شرارت میں حد سے بڑھ گئے ہو12

12 ۔ یعنی یہ خلاف فطرت کام کر کے آدمیت کی حد سے بھی نکل چکے ہو۔
Ayahs 26:167–168

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ کہنے لگے لو ط (دیکھ سنبھل، اگر تو اس نصیحت سے باز نہ آئے گا پھر ہم کو لونڈے سے بازی سے منع کرے گا تو بیشک بستی سے نکال باہر کیا جائے گا

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا (خیر تمہارا اختیا رہے) میں تو تمہارے اس کام سے بیزار ہوں1 اس کام کا سخت مخالف ہوں اور دشمن ہوں

1 ۔ اس لئے تمہیں نصیحت کرتے رہنے سے باز نہیں آسکتا۔
Ayah 26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

(پاک) پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو تو ان کے ناپاک کاموں سے بچا دے

2 ۔ یعنی ان کی نحوست اور وبال سے محفوظ رکھے۔
Ayahs 26:170–171

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

آخر ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو سب کو عذاب سے بچا دیا

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا لوط کی بی بی رہنے والوں میں رہ گئی3

3 ۔ اور انہی کے ساتھ عذاب میں ہلاک ہوئی کیونکہ وہ ان سے خوش تھی۔
Ayahs 26:172–173

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے دوسرے سب لوگوں کو ہلاک کر مارا اور

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

ان پر پتھروں کا4 برسائو کیا تو برا برسائو تھا ان لوگوں کا جو ہمارے عذاب سے ڈرائے گئے تھے (پر کمبخت نہ ڈرے اور برا کام نہ چھوڑا

4 ۔ جیسا کہ سرہ ہود میں بصراحت فرمایا : وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل منفرد۔ اور ہم نے اس پر کھڑنجے کے پتھر تہ بہ تہ (یا پے در پے) برسائے۔ (آیت 82) اولاً ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور اوپر سے مینہ بسایا۔ (قرطبی)
Ayahs 26:174–176

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس واقعہ میں خدا کی قدرت کی نشانی ہے اور لوط کی قوم کے لوگ اکثر ایمان لانیوالے نے تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور بیشک تیرا مالک زبردست ہے رحم

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا5

5 ۔ یعنی مدین یا اس علاقہ کے رہنے والوں نے جہاں اب شہر تبوک آباد ہے۔ (دیکھئے سورة الحجر آیت 78)
Ayahs 26:177–185

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب شعیب نے ان سے کہا کیا تم (خدا سے) نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارا سچا امانت دار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں اس نصیحت کرنے پر تم سے کچھ نیگ نہیں مانگتا میرا نیگ تو اسی پر ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

ماپ پورا دیا کرو اور کم مت دو

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور سیدھی ڈنڈی رکھ کر تولو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی خریدی چیزیں کم نہ دو اور ملک میں دھند مچاتے مت پھرو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس خدا سے ڈرو جس نے تم کو اور اگلی خلقت کو پیدا کیا

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم پر تو کسی نے جادو کردیا ہے اور کچھ نہیں6

6 ۔ اس لئے تیری عقل ماری گئی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Ayahs 26:186–188

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو تو ہمارے جیسا ایک آدمی ہے اور ہم تو تجھ کو ضرور جھوٹا ہی سمجھتے ہیں

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اور اگر تو سچا ہے تو بھلا آسمان سے ایک ڈرہ (ٹکڑا) تو ہم پر گرا دے

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب نے کہا (گناہ کی باتیں) تم کر رہے ہو میرا مالک خوب جانتا ہے1

1 ۔ اس لئے وہی تم پر جب چاہے گا ان کی پاداش میں عذاب بھیجے گا۔ میرا کام تو صرف تمہیں متنبہ کردینا تھا سو میں نے کردیا۔ (قرطبی)
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

آخر انہوں نے شعیب کو جھٹلایا پھر سائبان کے دن کا عذاب ان پر آ لگا بیشک یہ ایک بڑے دن کا عذاب تھا2

2 ۔ قرآن کی کسی آیت یا حدیث سے اس عذاب کی تفصیل معلوم نہیں ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : سات دن تک سخت لو چلتی رہی جس سے ان کے بدن پک گئے اور کنوئوں اور چشموں کا پانی سوکھ گیا۔ وہ گھبرا کر جنگل کی طرف نکلے، وہاں دھوپ کی شدت اور نیچے سے گرم زمین نے ان کے پائوں کی کھال ادھیڑدی۔ پھر ایک سیاہ بادل سائبان کی شکل میں نمودار ہوا وہ سارے کے سارے خوشی کے مارے اس کے سائے میں جمع ہوگئے اس وقت ناگہاں بادل سے آگ برسنا شروع ہوئی جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ” یوم الظلہ “ کے عذاب کے بارے میں جو کوئی اور تفسیر بیان کرے اسے جھوٹا سمجھو۔ ممکن ہے حضرت ابن عباس ؓ نے یہ تفسیر آنحضرت ﷺ سے سنی ہ اور ان کے علاوہ اور کسی کو معلوم نہ ہو۔ واللہ اعلم۔ (شوکانی بتصرف) امام رازی اس تفصیل کو بصیغہ تمریض بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ” اور یہ بھی مروی ہے کہ ” اصحاب مدین “ اور ” اصحاب ایکہ “ دو قومیں تھیں اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) دونوں کی طرف مبعوث تھے، دونوں ایک ہی نوع کے جرائم میں مبتلا تھیں اس لئے دونوں کو تبلیغ بھی ایک ہی طرح کی ہے۔ ان میں سے پہلی قوم تو ” صیحۃ “ سے ہلاک ہوئی۔ (دیکھئے سورة ہود آیت 94) اور دوسری قوم پر ” یوم الظلہ “ کا عذاب آیا۔ واللہ اعلم۔ (کبیر)
Ayahs 26:190–192

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بیشک اس واقعہ میں (خدا کی قدرت کی ایک نشانی ہے اور شعیب کی قوم کے لوگ اکثر ایمان لانے والے نے تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک تیرا مالک زبردست ہے رحم والا

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن اسی کا اتارا ہوا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے3

3 ۔ شروع سورت میں تمہیداً قرآن کے ذکر سے مقصود آنحضرت ﷺ کی رسالت و نبوت کا اثبات تھا پھر مکذبین کو دھمکی دی اور اس سلسلہ میں انبیا ( علیہ السلام) کے سات قصے بیان فرمائے تاکہ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہو اور آپ ﷺ کی تکذیب کرنے والے عبرت حاصل کریں۔ اب یہاں سے پھر رسالت کا اثبات شروع کیا اور صحت نبوت کے دلائل اور کفار کے شبہات کے جواب آخر سورت تک چلے گئے۔ (کبیر۔ قرطبی)
Ayahs 26:193–194

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو سچی (امانتدار) روح (یعنی جبریل) لے کر اتری ہے

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تیرے دل پر4 اس لئے کہ تو لوگوں کو خدا کے عذاب سے) ڈرائے

4 ۔ متعلق بنزل لا بالامین۔ یعنی آپ ﷺ کے دل پر اس کی تلاوت کی کہ آپ ﷺ اس کے الفاظ و مضامین اچھی طرح یاد کرلیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ قرآن آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک میں بالکل محفوظ ہے اس میں تغیر ممکن نہیں۔ (شوکانی۔ کبیر) معلوم ہوا کہ جبریل امین قرآن لے کر آئے ہیں جو عربی زبان میں ہے اور قرآن کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کے کلام ہیں۔ متکلمین اور فلاسفہ نے نزول وحی کی کیفیت میں جو تفاصیل بیان کی ہیں وہ ان کے اپنے وحدانی کوائف ہیں یا قیاس آرائیاں ہیں۔ قرآن و حدیث کی نصوص سے ان کی تائید نہیں ملتی۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 26:195–196

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

صاف عربی زبان میں

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور یعنی قرآن اگلے یغمبروں کی کتابوں میں بھی موجود ہے5

5 ۔ یعنی اپنے ان احکام وتعلیمات کے اعتبار سے جن پر تمام شریعتوں کا اتفاق ہے یا ” اس قرآن کی خبر لکھی ہے اگلی کتابوں میں اور اس کا مدعا بھی یہی ہے اکثر۔ (موضح) یہ بھی ممکن ہے کہ ” انہ “ میں ” ہ “ ضمیر سے آنحضرت ﷺ مراد ہوں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی آمد کی بشارت اور آپ ﷺ کے اوصاف پہلی کتابوں میں موجود ہیں۔ جیسے فرمایا : ” یجدونہ مکتوبا عندھم فی النوراۃ والانجیل۔ “ کہ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ (اعراف :157) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہٗ احمد۔ اور اپنے بعد ایک رسول کے آنے کی بشارت دیتا ہوں جس کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ (دیکھئے سورة صف :6)
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کافروں کو یعنی مکہ کے مشرکوں کو یہ نشانی بس نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے عالم لوگ اس کو جانتے ہیں6

6 ۔ یعنی کیا مشرکین مکہ کے یہ جاننے کے لئے کہ قرآن واقعی برحق اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ اور پہلی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ کہ محمد (ﷺ) نبی آخر الزمان ہیں، یہ بات کافی نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے علما اس سے واقف ہیں۔ جیسا کہ ان حضرات کی شہادت سے معلوم ہوا جو ان میں سے ایمان لائے۔ مثلاً عبد اللہ بن سلام اور حضرت سلمان ؓ فارسی وغیرھما۔ اہل کتاب کی یہ شہادت مشرکین مکہ کے حق میں اس لئے حجت قرار پاتی ہے کہ وہ پچھلی کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے انہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور جو بات وہ کہتے تھے اسے صحیح تسلیم کرتے تھے۔ آیت میں آیۃ خبر مقدم ہے اور ” ان یعلمہ الخ “ بتاویل مصررلم یکن کا اسم ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی)