26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 26:41–42

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب جادو گر آئے تو فرعون سے کہنے لگے بھلا اگر ہم در رہے تو ہم کو کچھ نیک بھی ملے گا کچھ سرکار سے انعام ملے گا یا نہیں

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں (ضرور) اور تم اور رہے تو (بادشاہ کے) مقرب بھی بن جائو گے10

10 ۔ یعنی انعام تو ملے گا ہی۔ اس سے بڑھ کر تمہاری قدردانی یہ کی جائے گی کہ تمہیں اپنے رب (خود فرعون) کے مقربین کا مرتبہ حاصل ہوگا۔
Ayah 26:43

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے جادوگراں سے کہا جو کچھ تم کو ڈالنا ہو وہ ڈال دو11

11 ۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ اچھا تم جادو کرو کیونکہ جادو کفر ہے اور ایک پیغمبر کفر کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ بلکہ پہلے جادوگروں نے کہا : ” اما ان تلقی واما ان تکون اول من القی “ یا تم پہلے ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں۔ (طٰہ :65) اس پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ” القوا “ فرمایا تاکہ دلیل سے مغلوب ہوجائیں اور لوگوں کو بھی پتہ چل جائے کہ ان کا معجزہ جادو کی کوئی قسم نہیں ہے (شوکانی)
Ayah 26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگیفرعون کی عزت کی قسم یا فرعون اقبال سے بیشک ضرور ہم میں ور رہیں گے12

12 ۔ فرعون کی تعظیم کے لئے اس کی عزت کی قسم کھائی کہ ہم ضرور ہی جیتیں گے۔ اس سے جادوگروں کا مقصد فرعون کو خوش اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مرعوب کرنا تھا…جاہلیت میں لوگ اس قسم کی قسمیں کھایا کرتے جیسا کہ آج کل بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات کی قسم کھانے پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اپنے پیرومرشد یا کسی بزرگ کے روضہ کی قسم کھاتے ہیں۔ یا عام رواج کے مطابق کہہ دیتے ہیں : مجھے تیری قسم یا تیرے سر کی قسم وغیرہ۔ “ اس طرح دوسروں کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم کھانے پر اتنا گناہ نہ ہوتا ہو جتنا کہ ان چیزوں کی سچی قسم کھانے پر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھے۔ (روح المعانی) مزید تفصیل کے لئے سورة طہ (آیت 66 ۔ 67) اور سورة اعراف (آیت 116) دیکھ لی جائے۔
Ayahs 26:45–46

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ایک آواز ایکا جادوگروں نے جو سوانگ بنایا تھا اس کو نگلنے لگی

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

جادوگر یہ دیکھ کر سجدے میں گرپڑے1

1 ۔ ” القی “ (گرا دیئے گئے) یعنی وہ جادوگر اس طرح بےاختیار ہو کر سجدہ میں گرپڑے گویا اندر سے کسی چیز سے انہیں گرا دیا ہے۔
Ayahs 26:47–48

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

کہنے لگے ہم تو سارے جہان کے مالک پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا خدا ہے2

2 ۔” سارے جہاں کے مالک ” کے ساتھ “ جو موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون کا رب ہے “ اس لئے کہا کہ کہیں فرعون کو شبہ نہ ہو کہ انہوں نے اس کو سارے جہان کا مالک قرار دیا ہے کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو رب کہتا تھا۔ (کبیر)
Ayah 26:49

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعن نے کہا یہ تم نے کیا کیا تم میرے اذن دینے سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو نہ ہو (بات یہ ہے) کہ موسیٰ تم سب سے بڑا ہے اسی نے تم کو جادو سکھایا3 ہے خیر تم کو اب آگے چل کر معلوم ہوگا تمہارا نتیجہ کیا ہوتا ہے میں تمہارے ہاتھ اور پائوں الٹے4 سیدھے کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا

3 ۔ اور تم سب استاد اور شاگردوں نے سازش کر کے یہ کھیل کھیلا۔ یا کہ لوگوں کو دکھلانے کے لئے استاد سے ہار گئے تاکہ سب لوگ استاد کے معتقد ہوجائیں اور پھر ہماری بادشاہی چھین لو۔ (کبیر) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : ” تمہارا بڑا “ کہنا رب کو۔ یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) اور تم ایک استاد کے شاگرد ہو۔ (موضح) واللہ اعلم۔ 4 ۔ یعنی دایاں ہاتھ تو بائیں ٹانگ اور بایاں ہاتھ تو دائیں ٹانگ۔
Ayah 26:50

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

وہ کہنے لگے پھر ہمارا کیا بگڑے گا آخر ہم کو ایک دن اپنے ملک کے پاس لوٹ جانا ہے5

5 ۔ یعنی بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف تو لوٹنا ہی ہے۔ اس طرح مریں گے تو شہادت کا درجہ پائیں گے اور صبر کا اجر ملے گا۔ (وحیدی)
Ayah 26:51

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم کو تو امید ہے کہ ہمارا مالک ہمارے گناہ بخش دے گا کیونکہ (سب سے) پہلے ایمان لائے6

6 ۔ یعنی دلیل واضح ہوجانے کے بعد قوم فرعون میں سے سب سے پہلے ایمان لائے۔ زجاج کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ (اس روز) چھ لاکھ ستر ہزار آدمی ایمان لائے اور انہی کو فرعون نے۔ جیسا کہ آگے آیت 54 میں آرہا ہے۔ ” شوذتہ قلیلون “ (چھوٹی سی جماعت) کہا تھا۔ (قرطبی)
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے (ایک مدت کے بعد جب فرعون نے کسی طرح نہ مہانا موسیٰ کو حکم دیا میرے بندوں (بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جا کیونکہ دشمن تمہارا پیچھا کریں گے

7 ۔ تو تم آگے نکل جائو۔ دشمن تمہیں اس وقت پائیں جب تم سمندر پر پہنچ جائو۔
Ayah 26:53

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعون نے فوج جمع کرنے کے لئے شہروں میں نقیب بھیجے8

8 ۔ یعنی ہر کارے یا پولیس کے سپاہی۔
Ayahs 26:54–55

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

او کہا یہ بنی اسرائیل تھوڑی سی جماعت میں

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور انہوں نے ہم کو غصہ دلایا ہے9

9 ۔ جو ہماری اجازت کے بغیر نکل کھڑے ہوئے۔
Ayah 26:56

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب کیل کانٹے سے مستعد ہیں10

10 ۔ لہٰذا ہمارے لئے انہیں جا پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں یا ” ہم سب خطرہ میں ہیں “ یا ” ہم سب چوکنے اور محتاط لوگ ہیں “ اس لئے ان کا قلع قمع کرنا ضروری ہے لفظ ” حاذرون “ کے یہ سبھی معنی ہوسکتے ہیں۔ (…شوکانی)
Ayahs 26:57–59

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

آخر ہم نے ان کو مصر کے باغوں اور چشموں سے

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں سے عزت کے محلوں سے نکالا

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اس طرح ہم نے ان کو11 کو نکالا اور یہ چیزیں بنی اسرائیل کو دلائیں

11 ۔ یعنی اس طرح وہ لوگ اپنے گھر بار مال و دولت، باغ اور کھیتیاں چھوڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں یکایک نکل کھڑے ہوئے۔ 12 ۔ یا تو اسی زمانہ میں فرعون کے غرق۔ ہوجانے کے بعد یا ایک مدت کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 26:60–61

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو ہوا یہ کہ فرعون کے لوگوں نے سورج نکلتے بنی اسرائیل کو جا ملایا

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں جتھے اتنے نزدیک ہوئے کہ ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگے اس وقت موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے اب تو ہم13 پڑے گئے

13 ۔ یعنی دشمن سر پر پہنچ گیا ہے اب ہم بچ کر نہیں جاسکتے۔ (وحیدی)
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا واہ یہ نہیں ہوسکتا میرا مالک میرے ساتھ ہے وہ ضرور کوئی صورت مجھ کو بتلائے گا (جس سے ہم بچ جائیں گے)

14 ۔ یعنی میرے پروردگار کی نصرت و حمایت میرے شامل حال ہے ان سے نجات کی ضرور کوئی سبیل نکل آئے گی۔ چناچہ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پانی میں عصا مارنے کا حکم دیا۔ (شوکانی)
Ayahs 26:63–66

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

اسی وقت ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار موسیٰ نے ماری مارتے ہی) وہ پھٹ گیا اور پانی کا) ہر ٹکڑا ایک بڑے پہاڑ کی طرح بن گیا

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور وہاں ہم دوسروں کو بھی یعنی فرعون اور اس کی قوم والوں کو نزدیک لے آئے

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو تو بچا دیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسرے لوگوں یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو ڈبو دیا1

1 ۔ کیونکہ وہ بھی سمندر میں راستہ دیکھ کر اس میں گھس پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کے دونوں ٹکڑوں کو مل جانے کا حکم دیا جب وہ مل گئے تو یہ لوگ غرق ہوگئے۔ (ابن کثیر)
Ayah 26:67

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

اس واقعہ میں (خدا کی قدرت کی نشانی ہے اور فرعون والے اکثر ایمان وار نہ تھے2

2 ۔ بلکہ بےایمان تھے ان میں سے صرف چند آدمی ایمان لائے تھے جیسے حزقیل اور اس کی بیٹی، فرعون کی بیوی حضرت آسیہ اور ایک بڑھیا جس نے حضرت یوسف کی قبر بتائی تھی۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تو راستہ بھول گئے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ” یہ کیا “ ؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا ” حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے وفات کے وقت ہمارے بزرگوں سے عہد لیا تھا کہ جب تم مصر سے نکلو تو میرا تابوت ساتھ لے کر جانا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے پوچھا تم میں سے کسی شخص کو ان کی قبر کا علم ہے۔ وہ کہنے لگے صرف ایک بڑھیا کو اس کا علم ہے بڑھیا سے دریافت کرنے پر اس نے جواب دیا کہ ” میں اس شرط پر بتائوں گی کہ آپ میرا یہ مطالبہ تسلیم کرلیں ہ میں جنت میں آپ ﷺ کے ساتھ رہوں گی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ مطالبہ تسلیم کرلیا۔ چناچہ اس کی نشان دہی پر وہ تابوت نکالا گیا اور اسے لے کر چلے تو راستہ روز روشن کی طرح صاف تھا۔ (شوکانی) فقلتہ تبعا للمفسرین و فیہ نکارۃ واللہ اعلم (ابن کثیر) اس جگہ ” اکثرھم “ سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو فرعون سے نسبت رکھتے تھے نہ کہ صرف وہ لوگ جو لشکر میں اس کے ساتھ سمندر پر پہنچے تھے کیونکہ وہ تو سب کے سب غرق ہوگئے تھے اور ان میں سے کوئی شخص بھی ایمان نہیں لایا تھا (شوکانی)
Ayah 26:68

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور اے پیغمبر تیرا مالک بیشک زبردست ہے رحم والاف 3

3 ۔ یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا اور اپنے ماننے والوں پر رحم کرنے والا۔ چناچہ دیکھو دم بھر میں فرعون کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل کو نجات دلا کر بادشاہ بنادیا۔ شاہ صاحب (رح) کہتے ہیں : یہ سنا دیا ہمارے حضرت ﷺ کو کہ مکہ کے فرعون بھی مسلمانوں کے پیچھے نکلیں گے لڑائی کو، پھر وطن سے باہر تباہ ہوں گے ” بدر “ کے دن جیسے فرعون تباہ ہوا۔ (موضح)
Ayahs 26:69–70

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ان لوگوں کو ابراہیم کا قصہ سنا

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کو کس کو پوجتے ہو4

4 ۔ یعنی دیکھو تو سہی کہ تمہارے ان معبودوں کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ پوچھنا اتمام حجت کی غرض سے تھا۔ (دیکھئے انبیاء آیت 52)
Ayahs 26:71–73

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم بت پوجتے ہیں انہی کے سامنے پڑے رہتے ہیں یا انہی کی سویا کرتے رہتے ہیں

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

ابراہیم نیپوچھا جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری سنتے ہیں

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا اگر تم ان کو پوجا کرو تو تم کو کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں یا اگر نہ کرو تو5 نقصان پہنچا سکتے ہیں

5 ۔ اگر نہیں، اور ظاہر ہے کہ نہیں تو ان کی پوجا کرنے سے کیا فائدہ اور نہ کرنے سے کیا نقصان ؟
Ayah 26:74

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

کہنے لگے6 بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھی کرتے ہوئے پایا7

6 ۔ یعنی یہ تو صحیح ہے کہ لکڑی اور مٹی کے یہ بت نہ سنتے ہیں نہ بولتے ہیں اور نہ کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں مگر… الخ 7 ۔ اس لئے ہم انہیں بےسوچے سمجھے پوجے جا رہے ہیں۔ گویا جب کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو باپ دادا کی تقلید کا سہارا لیا جو ہر لنگڑے کی لاٹھی اور ڈوبنے والے کا آخری تنکا ہے۔ یہی حال ان مقلد حضرات کا ہے جو اس لئے اپنے امام کی تقلید کر رہے ہیں کہ فلاں فلاں بزرگ بھی تو امام صاحب کی تقلید کرتے رہے ہیں۔ (شوکانی)
Ayahs 26:75–77

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کچھ سمجھے جن کو تم پوجتے آئے

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

اور تمہارے اگلے باپ دادا

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

وہ سب میرے مخلاف دشمن میں (یعنی میں ان کا دشمن ہوں) مگر وہ جو سارے جہان کا مالک ہے8

8 ۔ وہ ایسا نہیں ہے۔ اس لئے وہی دنیا و آخرت میں میرا دوست، مربی اور مالک ہے اور وہی اس چیز کا مستحق ہے کہ میں اس کی عبادت کروں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ” رب العالمین “ کے کسی شریک بغیر لائق عبادت ہونے پر دلائل دینا شروع کئے جن کا ذکر اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔
Ayahs 26:78–80

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر وہی مجھ کو دین اور دنیا کی سمجھ دیتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو کھلاتا اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھ کو چنگا تندرست کرتا ہے9

9 ۔ بیماری ہو یا کوئی اور چیز سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے مگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ازراہ ادب بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دی۔ (شوکانی)