26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 26:198–199

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو (جو عربی زبان میں ہے) کسی دوسرے ملک والے پر اتارتے جس کی زبان اور ہوتی

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ پیغمبر ان کو پڑھ کر اس زبان کا قرآن سناتا تو بھییہ اس پر ایمان نہ لاتے7

7 ۔ کیونکہ اس وقت وہ یہ کہتے کہ یہ قرآن ہماری سمجھ میں نہیں آتا اس لئے کہ یہ غیر زبان میں ہے اگر یہ عربی میں ہوتا تو ہم اسے سمجھتے اور اس پر ایمان لے آتے۔ (دیکھئے سورة نصلت :44) یا مطلب یہ ہے کہ اب تو قرآن ایک ایسا شخص سنا رہا ہے جس کی زبان عربی ہے۔ اس لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے اپنے آپ تصنیف کرلیا ہے لیکن اگر ہم یہی فصیح عربی کلام کسی غیر عرب شخص پر بطور معجزہ اتارتے اور وہ انہیں خالص عربی زبان میں اس کی تلاوت کر کے سناتا تو بھی یہ اس پر ایمان نہ لاتے بلکہ اسے رد کرنے کے لئے اور قسم کے بہانے تراش لیتے۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : ” دھوکے والے کا جی کبھی نہیں ٹھہرتا تب اور شبہ نکالتے کہ کوئی سکھا جاتا ہے۔ (موضح)
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

ہم نے کافروں کے دلوں میں ایسا ہی شبہ اور ان کار ڈال دیا ہے8

8 ۔ ” جو ان کی ہٹ دھرمی اور پے درپے گناہوں کی سزا ہے۔ “ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” سلکناہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر انکار و تکذیب کے لئے قرار دی جائے مگر بہت سے مفسرین (رح) نے یہ ضمیر قرآن کے لئے قرار دی ہے۔ یعنی ” قرآن کی صداقت تو ان کے دلوں میں اتار دی گئی ہے مگر ان کی ہٹ دھرمی کا حا یہ ہے کہ …“ اور سیاق کے اعتبار سے بھی یہی معنی بہتر ہیں۔ (شوکانی)
Ayahs 26:201–204

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ اس پر ایمان لانے والے نہیں جب تک تکلیف کا عذاب نہ دیکھیں یعنی موت یا قیامت کا

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

وہ تو ایک ہی ایک ان پر آجائے گا اور ان کو خبر نہ ہوگی

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت کہیں گے کہ ہم کو کچھ مہلت مل سکتی ہے تھوڑی دیر عذاب میں تامل ہو )

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

کیا یہ لوگ (دنیا میں ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں

9 ۔ حالانکہ جب وہ آئے گا تو مہلت کے طلب گارہوں گے اور اپنی کوتاہیوں کا تدارک کرنے کے لئے دنیا کی طرف مراجعت کی تمنا کریں گے۔ (شوکانی) حاشیہ صفحہ ہذا۔
Ayahs 26:205–207

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

اے پیغمبر بھلا بًتلا اگر چند برس ہم ان کو دنیا کا مزہ بھی اٹھانے دیں

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر جس عذاب کا ان سے وعدہ ہے وہ (سر پر آن کھڑا ہو

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو یہ مزہ جو انہوں نے اٹھائے ہیں کس کام آئیں گے1

1 ۔ یعنی کسی کام نہ آئیں گے بلکہ یوں معلوم ہوگا جیسے کبھی لطف اٹھایا ہی نہ تھا۔
Ayahs 26:208–209

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی اس وقت تک تباہ نہیں کی جب تک اس کے یاد دلانے کو ڈرانیوالے پیغمبر نہیں بھیجے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

اور ہم ظالم نہیں ہیں2

2 ۔ کہ بستی کو اس پر حجت تمام کئے بغیر تباہ کر ڈالیں بلکہ ہم اسے تباہ اس وقت کرتے ہیں جب اس پر حجت تمام ہوچکی ہے۔
Ayah 26:210

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور شیطان یہ قرآن لے کر نہیں اترے جیسے کافر مردود خیال کرتے3 تھے )

3 ۔ کہ جس طرح کاہنوں پر شیاطین اپنا کلام لے کر نازل ہوتے ہیں، اس طرح محمد (ﷺ) پر بھی یہ کلام شیطانوں ہی کا نازل کردہ ہے۔
Ayah 26:211

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور نہ ان کے لائق یہ کام ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں4

4 ۔ یعنی ایک طرف قرآن کو دیکھو جو سراسر رشد و ہدایت سے لبریز ہے اور دوسری طرف شیطانوں کو جن کی فطرت ہی لوگوں کو گمراہی اور فساد پر ابھارنا ہے۔ بایں بعد و تفاوت کیا کوئی عقلمند یہ باور کرسکتا ہے کہ اس قسم کا پاکیزہ کلام شیاطین لے کر نازل ہوتے ہیں ؟ مولانا لکھتے ہیں :” شیطان تو قرآن کے نام سے بھاگتا ہے بھلا وہ قرآن کیونکر لائے گا۔ “ (وحیدی)
Ayah 26:212

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ تو بیشک قرآن کے سننے سے ہٹا دیئے گئے ہیں5

5 ۔ اب کسی طرح ممکن نہیں کہ آسمان پر چڑھ کر اللہ کی وحی سن سکیں اور قرآن کریم کا ایک حرف بھی اچک لائیں۔ (دیکھئے حجر :…، سورة الجن، 8 ۔ 9)
Ayah 26:213

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

تو اے پیغمبر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسری خدا کو (مشرکوں کی طرح مت پکار پھر عذاب میں پڑجائے6

6 ۔ بظاہر مخاطب تو آنحضرت ﷺ ہیں مگر دراصل امت کو ڈرانا مقصود ہے جیسا کہ بعد کی آیت ” وانذر “ الخ سے معلوم ہوتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 26:214

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور اپنے نزدیک کے رشتہ داروں کو ڈرا7

7 ۔ تاکہ یہ لوگ اپنے نسب و قرابت کی وجہ سے کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں۔ چناچہ جب یہ آیت اتری تو آپ ﷺ نے قریش کو بلایا اور ان کے ایک ایک قبیلہ کا نام لے کر ڈرایا۔ (بخاری، روایت ابوہریرہ ؓ ، ابن عباس ؓ اور آخر میں فرمایا : الا ان لکم رحما و سابلحا سلالھا ہاں تمہارا مجھ سے قریبی رشتہ ہے جس کا میں دنیا میں خیال رکھوں گا مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ تم دنیا میں شرک کرتے رہو اور میں آخرت کی آگ سے بچا لوں۔ (ابن کثیر)
Ayahs 26:215–216

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مسلمان تریے تابعدار بن گئے ہیں انکے سامنے بازو جھکائے وہ (ان سیخلط اور محبت سے پیش آتو واضح کے ساتھ

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر وہ (یعنی مشرک) تیرا کہنا نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دے میں تمہارے کاموں سے الگ ہو8

8 ۔ یعنی تمہارے برے کاموں کا مواخذہ تمہی سے ہوگا۔ میں اس سے بری الذمہ ہوں۔
Ayahs 26:217–218

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور زبردست مہربان خدا پر بھروسہ رکھ

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تجھ کو نماز میں اکیلے کھڑے ہوتے وقت9 دیکھ رہا ہے

9 ۔ اکثر مفسرین (رح) نے یہی معنی کئے ہیں۔ (شوکانی) اس کے دوسرے معنی ساتھیوں کی دیکھ بھال بھی ہوسکتے ہیں۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور یاروں کی خبر لیتا ہے کہ یاد میں ہیں یا غافل۔ (موضح)
Ayahs 26:219–222

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں کے ساتھ جماعت میں تیرے اٹھنے بیٹھنے ہر ایک حرکت کو

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بیشک وہی سنتا اور جانتا ہے

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دے) کیا میں تم کو بتلائو شیطان کس پر اترتے ہیں

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

ہر جھوٹے [ فوان جوڑنے والے) بدکار پر اترتے ہیں10

10 ۔ جیسے کاہن، جوتشی، نجومی، فال گیر اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنیوالا وغیرہ۔
Ayah 26:223

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی سنائی بات (جھوٹے بدکاروں کے کان میں ڈال دیتے ہیں اور ان میں11 اکثر جھوٹے ہوتے ہیں12

11 ۔ یعنی ان بدکاروں میں یا شیطانوں میں۔ 12 ۔ یعنی امور غیبیہ سے متعلق جو ایک آدھ ناتمام بات سن پاتے ہیں اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ (شیطان ان بدکاروں سے اور یہ بدکار لوگوں سے) ۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” وہ کچھ نہیں ہیں “۔ انہوں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! بعض اوقات تو ٹھیک بات بتا دیتے ہیں۔ فرمایا :” اس ٹھیک بات کو کبھی کوئی جن لے اڑتا ہے اور جا کر اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتا ہے پھر وہ اس میں سو جھوٹ کی آمیزش کردیتے ہیں۔ (شوکانی بحوالہ بخاری و مسلم)
Ayah 26:224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعر خود گمراہ ہوتے ہیں اور ان کی پیروی وہی کرتے13 ہیں۔

13 ۔ گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی طرف کہانت کی نسبت کی تردید کی۔ اب فرمایا کہ آنحضرت ﷺ ﷺ کو شاعر کہنا بھی بےبنیاد ہے کیونکہ وہ حق کی دعوت دیتے ہیں اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہو کر ہزاروں لوگ نیکی اور پرہیزگاری کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں شاعر نری خیالی باتیں کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے چلنے والے بھی اپنے اعمال و اخلاق کے اعتبار سے انتہائی پست درجہ کے لوگ ہوتے ہیں۔
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

جو گمراہ میں کیا تو نے نہیں دیکھا وہ (مضمون کے) ہر میدان میں سرمارتے پھرتے ہیں

14 ۔ یعنی کوئی نیک متعین راہ نہیں جس پر وہ سوچتے اور اپنا کلام کہتے ہوں بلکہ ایک بےلگام گھوڑے کی طرح مضمون کی جس وادی کی طرف ان کا منہ اٹھ جاتا ہے اس میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کی تعریف و مذمت کے قصیدے گاتے رہتے ہیں۔ نرے سر پھرے اور بندہ شکم ہوتے ہیں نہ ان کے کسی قول کا اعتبار ہوتا ہے اور نہ فعل کا۔
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور زبان سے کہتے ہیں جو کرتے نہیں15

15 ۔ کیونکہ انہیں اپنے کسی قول کا پاس نہیں ہوتا۔ ان کے کسی شعر کو پڑھو تو معلوم ہوگا کہ ان سے بڑھ کر کوئی بہادر اور دریا دل نہیں لیکن ان کی عملی زندگی دیکھو تو پرلے درجے کے ڈرپوک اور مکھی چوس۔ بھلا ایک پیغمبر۔ اور وہ بھی خاتم الانبیا ﷺ ۔ کو ان سے کیا لگائو ؟۔
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر جو شاعر، ایمان لانے اور اچھے کام کئے اور اللہ تعالیٰ کی یاد بہت کی اور ان پر ظلم ہونے کے بعد انہوں نے ظلم کئے گئے تھے اور شتاب جانیں گے وہ لوگ کہ ظلم کرتے ہیں کونسی پھرنے کی جگہ پھر جاویں گے بدلہ لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا1 شاعر ہوں یا اور کوئی ان کو اب عنقریب معلوم ہوجائیگا وہ کہاں لوٹ کر جا رہے ہیں رہا کونسی روٹ بدلے ہیں

1 ۔ یعنی جن شعراء کی مذمت کی گئی ہے ان سے ایسے شعرا مستثنیٰ ہیں جو مومن ہوں، نیک کام کرنے والے ہوں اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے ہوں اور اپنے کلام سے ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کا کام لیتے ہوں جیسے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں حضرت حسان ؓ ثابت عبد اللہ ؓ بن رواحہ اور کعب ؓ بن مالک اور دیگر صحابہ ؓ کہ آنحضرت ﷺ خود ان کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے، چناچہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے حضرت حسان ؓ کے متعلق فرمایا : اللھم ایدہ بروح القدس۔ اے اللہ ! جبریل ( علیہ السلام) کے ذریعہ اس کی تائید فرما۔ بعض احادیث میں جو شعر کی مذمت کی گئی ہے اس سے مراد وہ شعر ہے جو لغویت، بےحیائی اور فحش کلامی پر مبنی ہو۔ ایک حدیث ہے :” شعر کی حیثیت کلام کی ہے اس کی اچھائی کلام کی اچھائی کی طرح ہے اور اس کی برائی کلام کی برائی کی طرح۔ (شوکانی۔ قرطبی) 2 ۔ یعنی ان کا انجام کیا ہونے والا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔