27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 27:1

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

یہ سورت قرآن اور کھل کتاب کی آیتیں ہیں4

4 ۔ ” کھلی کتاب “ یعنی جو مضمون اور مدعا بیان کرنے میں بالکل صاف اور واضح ہے۔ اس سے مراد خود قرآن ہے یا یہ سورة یا لوح محفوظ۔ (شوکانی)
Ayahs 27:2–4

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو نماز کو درستی سے ادا کرتے ہیں اور زوکواۃ دیتے ہیں اور آں خرت کا وہ یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے ہم نے ان کے برے کام ان کی نظر میں اچھے کر دکھائے ہیں پھ رو بہکے بہکے پھر رہے ہیں5

5 ۔ یعنی ہم نے ان کے کفر کی یہ سزا دی یا ان کے کفر کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا ہی میں مگن ہوگئے اور اسی کو اپنی تمام کوششوں کا مرکز سمجھنے لگے۔ گویا آخرت پر عدم ایمان کی یہ سزا ملتی ہے کہ انسان اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کو آخرت میں برا عذاب ہونے والا ہے6 ہے اور آخرت میں سب سے زیادہ وہی خراب ہونے والے ہیں

6 ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ بعض مفسرین (رح) نے اگلے جملہ میں آخرت کا ذکر آنے کی وجہ سے اس عذاب سے مراد صرف دنیا کا عذاب لیا ہے جیسے قتل و قید وغیرہ۔
Ayahs 27:6–7

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور (اے یغمبر) تجھے تو قرآن اس کے پاس سے ملتا ہے جو حکمت والا خبردار ہے (یعنی پروردگار کی طرف اترتا ہے

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

وہ وقت یاد کر جب موسیٰ نے اپنی بی بی سے کہا7 (سفر میں ٹھنڈی رات میں مجھ کو دور سے کچھ آگ سی معلوم ہوتی ہے میں جاتا ہوں وہاں سے اب رستے کی کچھ خبر لاتا ہوں رستہ بھول گئے تھے اس پر اندھیری رات یا اگر رستے کا پتہ نہ لگے تو خیر میں ایک انگارا سلگا کر تمہارے پاس تمہارے ناپنے کے لئے لاتا ہوں

7 ۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مدین میں آٹھ یا دس سال گزارنے کے بعد اپنے بیوی بچوں سمیت مصر جانے کے لئے کوہ طور کے پاس سے گزر رہے تھے۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب اس آگ کے پاس پہنچا تو اس کو آواز مبارک ہے8 وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے گرد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو مالک ہے سارے جہان کا

8 ۔ جو آگ میں ہے یا اس کے قریب ہے یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور جو اس کے گرد ہیں یعنی فرشتے۔ (قرطبی بحوالہ ابن جریر) کیونکہ وہ دنیا کی آگ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا نور تھی جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے : ” حجابہ النور “ اور ” حجابہ النار “ کہ اس کا پردہ ” نور “ یا ” آگ “ ہے۔ مزید دیکھئے سورة طہ آیت 12 ۔ (ابن کثیر)
Ayahs 27:9–10

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ یہ آگ نہیں ہے میں اللہ ہوں زبردست حکمت والا

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی نیچے ڈال دے موسیٰ نے لاٹھی ڈال دی جب دیکھا کہ وہ سانپ کی طرف پھنپھنا رہی ہے ہل رہی ہے1 تو پیٹھ موڑ کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ڈر نہیں میرے پاس رہ کر پیغمبر نہیں ڈرا کرتے3

1 ۔ ” جان “ اصل میں چھوٹے سفید سانپ کو کہتے ہیں۔ سورة اعراف (آیت :107) اور سورة شعرا۔ (آیت :32) میں اس کے لئے ” ثعبان “ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی بڑے سانپ (اژدہا) کے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ سانپ اصل میں بڑا اژدہا رہا تھا لیکن اپنی حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔ بعض نے لکھا ہے کہ کبھی ” جان “ بن جاتا اور کبھی ” ثعبان “۔ اس لئے ان دو لفظوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، ” اول شک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔ (موضح) 2 ۔ یہ خوف طبعی بتضائے بشریت تھا۔ (قرطبی) 3 ۔ یعنی میرے حضور پہنچ کر انبیا ﷺ ، سانپ وغیرہ کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے کیونکہ یہاں تو وہ اخذ وحی میں بالکل مستغرق ہوتے ہیں اور کسی طرف التفات نہیں رہتا۔ (شوکانی)
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر جس پیغمبر نے کوئی قصور کیا (یعنی صغیرہ گناہ) پھر برائی کے بعد بدل کر بھلائی کی تو میں بخشنے والا مہربان ہوں4

4 ۔ یہ استثنا منقطع ہے اور لفظ ” الا “ بمعنی لئکن یعنی برائے استدراک ہے اور اگر مستثنیٰ متصل مذکور سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ” ہاں ! اس پیغمبر کو ڈر ہوسکتا ہے جس سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہو۔ مگر ہمارا قاعدہ ہے کہ جب کوئی توبہ کر کے اپنے رویہ کی اصلاح کرلیتا ہے تو ہم اسے معاف کردیتے ہیں اس کے بعد ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” مسیٰ (علیہ السلام) سے چوک کر ایک کافر کا خون ہوگیا تھا اس کا ڈر تھا ان کے دل میں، ان کو وہ معاف کردیا۔ (موضح) انبیا اپنے علو مرتبت کے پیش نظر معمولی سی لغزش یا خطا کو بھی ظلم خیال کرتے تھے۔ ان کو ایسی غلطی معاف کردی جاتی ہے مگر پھر بھی وہ ڈرتے رہتے ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر لے جا پھر نکال وہ سفید نورانی ہو کر بےروگ نکلے گا (یعنی کوئی عیب تیرے ہاتھ میں نہ ہوگا جیسے برص میں ہوجاتا ہے یہ دو نشانیاں ان نو نشانیوں میں سے میں جو تجھ کو دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف5 بھیجا جاتا ہے کیونکہ وہ نافرمان لوگ میرے حکم سے منحرف ہوگئے ہیں

5 ۔ ان نو نشانیوں کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ (دیکھئے سورة اسرا : 101) بعض نے کہا ہے کہ یہ دو نشانیاں (عصا اور یدبیضا) ان نو نشانیوں کے علاوہ تھیں اس صورت میں حرف ” فی “ بمعنی ” مع “ ہوگا۔ (کذا فی فی القرطبی)
Ayahs 27:13–14

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے یعنی فرعون اور اس کی قوم کے پاس ہماری صاف صاف نشانیاں آئیں تو کہنے لگے تو کھلا جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں تو ان نشانیوں کا یقین آگیا کہ وہ حق میں خدا کی طرف سے میں پر (زبان سے) ہیکٹری اور شیخی کے مارے انکار کرتے رہے پھر (اے پیغمبر) دیکھ لے ان فسادیوں کا انجام کیسا خراب ہوا6

6 ۔ سب کے سب بحر قلزم میں غرق کردیئے گئے ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا گیا۔ (وحیدی)
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم دائود اور سلیمان پیغمبروں کو علم دے چکے ہیں7 اور ان دونوں نے خوش ہو کر یوں کہا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان دار بندوں پر بڑھ چڑھ کے رکھا8

7 ۔ یعنی دین و شریعت کا علم۔ (قرطبی) 8 ۔ یعنی ہمیں علم و نبوت عطا فرما کر اور پرندوں، جنوں اور انسانوں کو ہمارے تابع فرمان بنا کر اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔ ” بہت سے “ کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا کہ نہیں بہت سوں پر ہی فضیلت دی گئی تھی ” سب پر “ نہیں کیوں کہ سب پر فضیلت تو صرف آنحضرت خاتم الانبیاء کو ہی حاصل ہوئی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلمیان دائود کا وارث ہوا9 اور کہنے لگا لوگو ہم کو خدا کی طرف سے) پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے10 اور ہم کو ہر طرح کا سامان دیا گیا ہے۔11 بیشک یہ خدا کا ہم پر کھلا ہوا فضل ہے

9 ۔ اس سے مراد مال و جائیداد کی وراثت نہیں بلکہ علم و فضل اور نبوت کی وراثت ہے۔ اگر مال و جائیداد کی وراثت ہوتی تو وارث کے طور پر صرف حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا ذکر نہ ہوتا کیونکہ اس میں تو حضرت دائود ( علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے بھی شریک ہوتے۔ نیز اگر اسے تسلیم کرلیا جائے تو حضرت سلیمان کے قول :” یا ایھا الناس الخ “ کا ذکر بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ (کبیر) اور یوں بھی انبیا (علیہم السلام) کے بارے میں نبی ﷺ کا ارشاد واضح ہے کہ ان کے مال اور ان کی جائیداد بطور ورثہ تقسیم نہیں ہوتی : ” نحن معاشر الانبیا لا نورث ما ترکناہ صدقۃ “۔ پس آیت میں وراثت کا لفظ ایسا ہی ہے جیسا کہ فرمایا :” العلماء ورثۃ الانبیاء کہ علما انبیا کے وارث ہیں۔ جمہور مفسرین (رح) نے یہی تفسیر کی ہے۔ (قرطبی، شوکانی) 10 ۔ ” یعنی اس کا سمجھنا سکھایا گیا “ صرف پرندوں کی نہیں بلکہ تمام حیوانات کی۔ پرند کا ذکر محض اس لئے ہے کہ وہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے لشکر میں شریک تھے اور ان کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ (شوکانی) پرندوں کی بولی کی کیا حقیقت ہے اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اس کے متعلق کس قسم کا علم دیا گیا تھا ؟ گو اس کی تفصیل مذکور نہیں مگر اتنی بات یقینی ہے کہ ان کا یہ علم تخمینی طریقہ کا نہ تھا جو اس عصر کے ماہرین علم الحیوانات نے ایجاد کیا ہے بلکہ اس میں اعجازی شان نمایاں تھی اور خاص عطائے الٰہی تھی جس سے ان کو نوازا گیا تھا۔ 11 ۔ جس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اس میں علم و نبوت، حکمت اور مال حتیٰ کہ جنوں، انسانوں، پرندوں، حیوانات اور ہوا وغیرہ کی تسخیر سبھی چیزیں شامل ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان کا جتنا لشکر تھا جنوں اور آدمیوں اور پرندوں کا وہ سب اس کے دیکھنے اور داخلہ کے لئے اکٹھا کیا گیا اور ان کی مثلیں لگئی گئیں1 اس ترتیب اور انتظام سے لشکر چلا

1 ۔ یعنی ان کی جماعتیں بنائی گئیں اور ہر جماعت کو ایک خاص نظم اور ترتیب میں رکھا گیا تاکہ جس کی جو جگہ ہے وہیں رہے اور بلا اجازت اس سے آگے پیچھے نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) ۔
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

جب وادی نمل چیونٹیوں کے میدان میں ج وشام میں ہے یا طائف میں2 پہنچنے تو ایک لنگڑی چیونٹی نے کہا چیونٹیو اپنے بلوں میں گھس جائو کہیں تم کو سلیمان اور اس کے لشکر والے بیخبر میں کچل نہ ڈالیں3

2 ۔ جہاں چیونٹیوں کی بڑی کثرت تھی۔ اس وادی کی جگہ بعض نے طائف اور اکثرے شام بتائی ہے۔ (شوکانی) 3 ۔ اور چیونٹیوں کا گفتگو کرنا عقلاً مستبعد نہیں ہے۔ (کبیر) بلکہ قرآن نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ اگر ان کی یہ تسبیح زبان قال کی بجائے زبان حال پر محمول ہو تو اسے تو ہم سمجھتے ہیں لیکن حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا اس چیونٹی کی گفتگو کو سمجھ لینا اس خاص علم کی بنا پر تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اسے بطور نعمت الٰہی کے بیان کر رہے ہیں مگر ہمارے زمانہ کے بعض ” ماڈرن “ مفسرین جنہیں قرآن میں معجزات کے ذکر سے شرم آتی ہے اس آیت کے متعلق کہتے ہیں کہ یہاں ” نمل “ سے مراد چیونٹیاں نہیں بلکہ انسانوں کا ایک قبیلہ مراد ہے جس کا نام ” بنو نمل “ تھا اور جو چیونٹیوں کی طرح بکثرت اس وادی میں پھیلا ہوا تھا۔ جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا لشکر اس وادی میں پہنچا تو اس کے ایک فرد نے اپنے قبیلہ کے دوسرے لوگوں سے کہا : ” اے قبیلہ نمل کے لوگو۔ “ لیکن یہ تاوی دراصل قرآن کی تحریف ہے کیونکہ اس صورت میں آیت کا تعلق نہ اس ” علم “ سے رہتا ہے جس کا ذکر پچھلی آیت میں بڑی اہمیت سے کیا گیا ہے اور نہ تاریخی طور پر یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ شام یا طائف میں اس نام کا کوئی انسانی قبیلہ آباد تھا۔ محض من مانی تاویل کرنے کے لئے یہ بےبنیاد بات گھڑی گئی ہے۔
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

سلیمان چیونٹی کے اس کہنے پر مسکرا کر ہنس دیا کہ اتنا چھوٹا جانور ایسی سمجھ کی بات اور کہنے لگا مالک میرے مجھ کو بھی اس کا پابند کر دے میں تیری ان نعمتوں کا شکر کروں جو تو نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عنایت4 فرمائیں اور میں ہمیشہ باقی عمر میں نیک کام کرتا رہوں جس سے تو خوش میں اپنی رحمت سے مجھے نیک بندوں میں شامل کرے5

4 ۔ اگر بالفرض ” نملۃ “ سے مراد کوئی انسان ہوتا تو اس میں متعجبانہ ہنسی کی کوئی بات نہ تھی اور نہ یہ کوئی ایسا واقعہ تھا جس کے متعلق حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے احساس شکر گزاری کی اہمیت واضح کی جاتی۔ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ اظہار تشکر اس بات پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک حقیر جانور کی بولی سمجھنے کا علم عطا فرمایا جو ان کے سوا اور کسی کو حاصل نہ تھا۔ 5 ۔ یہاں ” صالحین “ سے وہ کامل صالح لوگ مراد ہیں جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی معصیت کا خیال تک نہیں آ پاتا۔ (کبیر)
Ayah 27:20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور سلیمان نے ایسا ہوا ایک بار پرندوں کا جائزہ لیا ان کا داخلہ دیکھا تو کہین لگا کیا بات ہے ہد ہد نہیں دکھائی6 دیتا یا حقیقت میں غائب ہے

6 ۔ یعنی کیا دوسرے پرندوں میں چھپ گیا ہے جو نظر نہیں آرہا ؟
Ayahs 27:21–22

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

غیر حاضر میں اس کو ضرور سخت سزا دوں گا یا اسے کاٹ ہی ڈالوں گا نہیں تو کوئی معقول وجہ میرے سامنے پیش کرے ( کہ اس وجہ سے غیر حاضر رہا )

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

تو بہت دیر نہیں گزری کہ ہد ہد آگیا اور کہنے لگا کہ میں نے وہ بات معلوم کی ہے جو تجھ کو (بھیض معلوم نہیں اور میں شہر بسا سے ایک تحقیق یقینی خبر لے کر آیا ہوں7

7 ۔” سباء “ یمن میں ایک شہر کا نام تھا جو یمن کے موجودہ دارالسلطنت ” صنعا “ سے تین دن… تقریباً 55 میل… کی مسافت پر واقع تھا۔ اس شہر کے بنانے والے کا نام بھی سباء تھا اور اس شہر کے بنانے والے کا نام بھی سباء تھا اس لئے یہ شہر اسی نام سے مشہور ہوا۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :” حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا اب پہنچا۔ (موضح) گویا اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا کہ کسی بڑے سے بڑے انسان کا علم بھی ہر چیز کو محیط نہیں ہوسکتا۔ چناچہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) ، کہ جن کے متعلق فرمایا کہ ہم نے انہیں علم عطا فرمایا، انہیں ایک جزتی واقعہ کی خبر ہد ہد نے مہیا کی۔ اس سے ان لوگوں کی تردید کا پہلو نکلتا ہے جو انبیا کو غیب دال سمجھتے ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 27:23

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت کو دیکھا وہ ان کی یعنی سبا والوں کی ارانی ہے8 اور ہر طرح کا سامان (سلطنت کا) اس کے پاس موجود ہے اور اس کے پاس ایک بڑا شاہی تخت میں نے دیکھا

8 ۔ عموماً مفسرین نے اس کا نام بلقیس نقل کیا ہے جو شراحیل شاہ یمن کی بیٹی تھی اور تین سو بارہ سردار اس کی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے۔ ان میں سے ہر آدمی دس ہزار آدمیوں پر متعین تھا۔ بلقیس کے متعلق عجیب و غریب حکایات مشہور ہیں جن کا تعلق اسرائیلیات سے ہے۔ (قرطبی)
Ayah 27:24

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

وہ عورت جو ان کی رانی ہے اور اس کی قوم کے لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں (آفتاب پرست ہیں) اور شیطان نے ان کے کام ان کی نظر میں اچھے کر دکھائے میں اور سیدھی راہ یعنی توحید سے ان کو باز رکھا ہے ان کو کچھ سمجھ بھی نہیں ہے

1 ۔ ” چناچہ وہ آفتاب پرستی کو بڑے ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ “
Ayah 27:25

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

(کمبخت ان کو کیا ہوا ہے2 اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں سجدہ کرتے جو آسمان اور زمین میں چھپی چیزیں باہر نکال لاتا ہے۔3 اور تمہارا چھپا اور تمہارا کھلا سب جانتا ہے4

2 ۔ ” جو آفتاب پرستی کو چھوڑ کر توحید کی سیدھی راہ اختیار کرسکیں۔ “ 3 ۔ مثلاً آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین کے اندر سے بیشمار نباتات اور طرح طرح کی معدنیات نکالتا ہے اور یہ تمام اقسام کے ارزاق و اموال کو شامل ہے۔ (کبیر) 4 ۔ یعنی اسے تمہاری ہر چیز کا علم ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا بیان ہے اور اس سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جو سورج کی پرستش کرتے تھے۔ (کبیر)
Ayah 27:26

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہی سچا معبود ہے اس کے سوا کوئی سچا معبو نہیں وہ بڑے تخت (عرشض کا امالک ہے5

5 ۔ اس کے عرش کے سامنے کسی بڑی سے بڑی چیز کی کوئی حقیقت نہیں… اس آیت پر ہد ہد کی تقریر ختم ہوئی۔ اس نے چونکہ خالص توحید کی دعوت دی اس لئے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو اس کے مارنے سے منع فرمایا۔ ابو دائود کی ایک صحیح روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شہد کی مکھی، چیونٹی اور ہد ہد کے مارنے سے منع فرمایا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
Ayahs 27:27–28

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا اچھا ہم دیکھتے ہیں تو سچ کہتا ہے یا تو بھی جھوٹوں کا ایک جھوٹا ہے

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

میرا یہ خط لے جا اور ان لوگوں پر ڈال دے پھر وہاں سے ہٹ جا دیکھتا رہ وہ کیا جواب دیتے ہیں6

6 ۔ یعنی جو باتیں وہ آپس میں کریں انہیں سنتا اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ اور پھر مجھ سے آ کر بیان کر۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یعنی آپ کو معلوم نہ کروا لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ آ، ہد ہد (وہ خط) لے گیا۔ بلقیس جہاں اکیلی سوتی تھی روزن (روشندان) میں سے جا کر اس کی چھاتی پر رکھ دیا۔ (موضح)
Ayah 27:29

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

بلقیس نے اپنے دربار والوں سے) کہا سردار میرے پاس ایک خط ڈالا گیا ہے جو عزت والا ہے7

7 ۔ یعنی جو بلحاظ اپنے مضمون کے اور بلحاظ اپنے بھیجنے والے کے نہایت اہم اور عظیم الشان ہے اور کریم مختوم (مہر شدہ) کو بھی کہتے ہیں۔ (کبیر)
Ayah 27:30

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور عبارت اس کی یہ ہے شروع اللہ کے نام سے بہت رحم والا ہے مہربان8(

8 ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) سے پہلے کسی نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نہیں لکھی۔ نیز ایک روایت میں ہے کہ پہلے نبی ﷺ خط کے شروع میں ” باسماء اللھم “ لکھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے لگے۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Ayahs 27:31–34

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

بسم اللہ کے بعد مطلب یہ ہے) مجھ پر زور مت جتلائو اور تابعدار بن کر میرے پاس حاض رہو

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط کا مضمون سناکر) بلقیس کہنے لگی سردار و اب اس معاملہ میں اپنی رائے مجھ سے بیان کرو میں تو کسی معاملہ کا آخری فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم لوگوں حاض رنہ ہو

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

اور اپنی اپنی رائے نہ بیان کرو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ زور دار ہیں اور بڑے لڑنے والے ہیں پھر تیرا اختیار ہے جو چاہے سمجھ کر حکم دے ہم بہ سرور چشم تعمیل کرنے کو حاضر ہیں

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

بلقیس نے کہا میں یہ سوچتی ہوں بادشاہ جب کسی شہر میں لڑائی کر کے گھستے ہیں تو شہر کو خراب کردیتے ہیں لوٹ مار ہنگامہ مچاتے ہیں اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو بےعزت بنا دیتے ہیں اور بادشاہوں کا یہی قاعدہ ہے ایسا ہی کرتے ہیں

1 ۔ گویا اس نے یہ رائے ظاہر کی کہ لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ اس وقت کرلینا مناسب نہیں۔ لڑائی کا انجام بہرحال برا ہوتا ہے۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں ایسا کرتی ہوں کچھ تحفہ ان کو بھیجی ہوں2 پھر دیکھتی ہوں وہ جو تحفہ لے کر جاتے ہیں کیا جواب لاتے ہیں3

2 ۔ یعنی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور ان کے لشکر والوں کو 3 ۔ شاید وہ ہدیہ قبول کرلیں اور ہم سے لڑائی کا جو ارادہ رکھتے ہیں اس سے باز آجائیں یا ہم پر خراج عائد کردیں جسے ہم ہر سال ادا کرتے رہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے قوم کو مشورہ دیا کہ اگر سلیمان ( علیہ السلام) نے تحفہ قبول کرلیا تو وہ دنیا کے بادشاہوں کی طرح ایک بادشاہ ہیں اور اگر انہوں نے تحفہ قبول نہ کیا تو وہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں جن کی پیروی ضروری ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب بلقیس کا ایلچی (منذر بن عمرو) سلیمان پاس پہنچاتو سلیمان نے کہا کیا تم لوگ دنیا کی اہل4 دولت سے میری مدد کرنا چاہتے ہو میں دنیا کا مال نہیں چاہتا اللہ تعالیٰ جو مجھ کو دے رکھا ہے مال دو دولت پیغمبری بادشاہت، وہ اس سے کہیں بہتر ہے5 جو تم کو دیا ہے بلکہ تم ہی اپنے تحفے پر (جو میں واپس کرتا ہوں خوش رہو

4 ۔ یعنی کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تم سے مال و دولت لے کر خوش ہوجائوں اور تمہیں کفر و شرک پر قائم رہنے دوں ؟ 5 ۔ یعنی یہ تمہارا ہی کام ہے کہ اس قسم کے تحفوں سے خوش ہوجاتے ہو۔ مجھے تو اگر تحفہ چاہیے تو تمہارے ایمان کا تحفہ چاہیے۔ اگر تم یہ نہیں دے سکتے تو لڑنے کو تیار ہوجائو۔
Ayahs 27:37–38

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

تو اپنے لوگ پاس لوٹ جائو اگر وہ ہمارا کہا نہ مانیں گے تو ہم ضرور ایسا لشکر لیکر ان پر آئیں گے جس کا مقابلہ ان سے نہ ہو سکے گا اور ہم ذلت کے ساتھ ان کو رسوا کر کے ان کو وہاں سے نکال دینگے

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان نے اپنے درباریوں سے)6 کہا سردارو تم میں کوئی ایسا ہے یہ لوگ جو تابعدار بن کر آرہے ہیں ان کے مجھ تک پہنچنے سے پہلے بلقیس کا تخت (جس کو وہ اپنے ملک میں چھوڑ7 کر آرہی ہے میرے پاس اٹھا لائے

6 ۔ کہتے ہیں کہ جب ایلچی پیغام لے کر بلقیس کے پاس واپس پہنچا اور اس نے اس سے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا آنکھوں دیکھا سب حال بیان کیا تو وہ سمجھ گئی کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ چناچہ اس نے اطاعت قبول کی اور تابعداروں کی طرح اپنے لائو لشکر سمیت بیت المقدس کی طرف روانہ ہوگئی۔ ادھر جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اس کی روانگی کی خبر ملی تو وہ نہایت خوش ہوئے۔ (ابن کثیر) اس وقت انہوں نے اپنے درباریوں سے کہا…“ 7 ۔ تاکہ جب وہ یہاں پہنچ کر اپنے تخت کو موجود پائے تو اسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو کیسی غیر معمولی قوتیں عطا فرماتا ہے اور اسے یقین آجائے کہ میں واقعی اللہ کا نبی ہوں “…بعض مفسرین نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے ملکہ کا تخت منگوانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ اس کے پہنچنے سے پہلے پہلے اس کے تخت پر قبضہ کرلینا چاہتے تھے کیونکہ جب وہ پہنچ کر اسلام قبول کرلے گی تو اس کے مال پر قبضہ کرنا جائز نہ رہے گا۔ (شوکانی) لیکن ایک نبی کی شان کو دیکھتے ہوئے تخت منگوانے کی یہ وجہ قرار دینا مناسب نہیں۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

(اس پر) جنوں میں سے ایک دیوار کھس) بولا میں اس کو تیرے پاس لاسکتا ہوں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھنے یعنی دربار برخاست کرے صبح8 سے دوپہر تک دربار ہوتا تھا اور میں اس کے اٹھا لانے کا زور رکھتا ہوں امانتدار ہوں

8 ۔ اس سے اور اگلی آیت سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس جو جن تھے وہ آیا بنی نوع انسان ہی میں سے تھے جیسا کہ ہمارے زمانہ کے بعض عقل پرست مفسرین کا دعویٰ ہے یا عرف عام کے مطابق اس پوشیدہ مخلوق میں سے جو انسانوں سے الگ ” جن “ کے نام سے معروف ہے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی انسان چاہے وہ کتنا ہی موٹا تازہ کیوں نہ ہو یہ طاقت نہیں رکھتا کہ دربار برخاست ہونے سے پہلے پہلے (یعنی صرف چند گھنٹوں کے اندر اندر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے بیت المقدس سے سبا جائے اور وہاں سے ملکہ کا تخت (جو ظاہر ہے سخت پہروں میں ہوگا) اٹھا کر واپس آجائے۔ یہ کام اگر کرسکتا ہے تو ایک حقیقی ” جن “ ہی کرسکتا ہے۔ 9 ۔ یعنی آپ مجھ پر بھروسا کریں میں اسے یا اس کی کوئی قیمتی سے قیمتی چیز نہ چرائوں گا۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کتاب کا علم رکھتا تھا بول اٹھا میں اس تخت کو تیرے پلک جھپکنے سے پہلے یات یری نگاہ تجھ تک لوٹ آنے سے پہلے تیرے پاس منگوائے دیتا ہوں جب سلیمان نے دیکھا تخت اس کے سامنے دھرا ہوا ہے تو کہنے لگا یہ11 یہ تخت کا اتنی جلد اس طرح چلے آنا میرے مالک کا احسان ہے اس لئے کہ مجھ کو آزمائے میں اس کے احسان کا شکر کرتا ہوں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کریگا وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے شکر کریگا اور جو کوئی ناشکری کرے تو میرے مالک کا کچھ نقصان نہیں میرا مالک بےپروا کرم والاف 12 ہے

10 ۔ یعنی اس سے پیشتر کہ آپ آسمان کی طرف نگاہ اٹھائیں اور پھر پلٹ کر نیچی کر لیں… یہ شخص کون تھا اور اس کے پاس اللہ کی، کس کتاب کا علم تھا ؟ اس کی تصریح قرآن یا کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے (لہٰذا ہم صرف اتنی بات ماننے کے مکلف ہیں جتنی قرآن میں بیان کی گئی ہے۔ یعنی وہ ایک شخص تھا جس کے پاس (اللہ کی) کتاب کا علم تھا۔ یوں اکثر مفسرین (رح) کا قول یہ ہے کہ وہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا ایک وزیر آصف بن برخیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظمکا علم تھا جس کے ذریعے اگر اس سے دعا کی جائے تو وہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔ اس صورت میں یہ آصف کی کرامت ہوگی اور حضرت سلیمان کا معجزہ تصور پائے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ حضرت خضر ( علیہ السلام) تھے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ خود حضرت سلیمان ( علیہ السلام) تھے۔ لیکن ان میں سے پہلا قول زیادہ معتبر معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔ (شوکانی) 11 ۔ یعنی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اس شخص کو حکم دیا۔ حکم ملتے ہی اس نے تخت ان کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ اس پر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ 12 ۔ یعنی اسے نہ کسی کے شکر کی پروا ہے نہ محتاجی اور کرم والا ایسا ہے کہ ناشکروں کو بھی ہزاروں قسم کی نعمتیں دیتا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فراتا ہے :” اے میرے بندو ! اگر اول سے آخر تک تم سب انسان اور جن اپنے میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کا سا دل بنا لو تو اسے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہوجائے گا اور اگر تم سب بدکار ترین شخص کے سے دل والے بن جائو تو اس سے میری بادشاہی میں کوئی کمی نہیں آجائے گی۔ سب انسانوں کو ان کے اعمال ہی کا بدلہ مل رہا ہے۔ پس جسے کوئی بھلائی نصیب ہو اسے چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جسے کچھ اور نصیب ہو۔ وہ بس اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔ (ابن کثیر)