27. Surah An-Naml
النملThe Ant · 93 ayahsاشرف الحواشی
طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader
یہ سورت قرآن اور کھل کتاب کی آیتیں ہیں4
هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader
ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader
جو نماز کو درستی سے ادا کرتے ہیں اور زوکواۃ دیتے ہیں اور آں خرت کا وہ یقین رکھتے ہیں
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader
جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے ہم نے ان کے برے کام ان کی نظر میں اچھے کر دکھائے ہیں پھ رو بہکے بہکے پھر رہے ہیں5
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader
یہی لوگ ہیں جن کو آخرت میں برا عذاب ہونے والا ہے6 ہے اور آخرت میں سب سے زیادہ وہی خراب ہونے والے ہیں
وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader
اور (اے یغمبر) تجھے تو قرآن اس کے پاس سے ملتا ہے جو حکمت والا خبردار ہے (یعنی پروردگار کی طرف اترتا ہے
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader
وہ وقت یاد کر جب موسیٰ نے اپنی بی بی سے کہا7 (سفر میں ٹھنڈی رات میں مجھ کو دور سے کچھ آگ سی معلوم ہوتی ہے میں جاتا ہوں وہاں سے اب رستے کی کچھ خبر لاتا ہوں رستہ بھول گئے تھے اس پر اندھیری رات یا اگر رستے کا پتہ نہ لگے تو خیر میں ایک انگارا سلگا کر تمہارے پاس تمہارے ناپنے کے لئے لاتا ہوں
فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader
جب اس آگ کے پاس پہنچا تو اس کو آواز مبارک ہے8 وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے گرد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو مالک ہے سارے جہان کا
یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader
اے موسیٰ یہ آگ نہیں ہے میں اللہ ہوں زبردست حکمت والا
وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader
اور اپنی لاٹھی نیچے ڈال دے موسیٰ نے لاٹھی ڈال دی جب دیکھا کہ وہ سانپ کی طرف پھنپھنا رہی ہے ہل رہی ہے1 تو پیٹھ موڑ کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ڈر نہیں میرے پاس رہ کر پیغمبر نہیں ڈرا کرتے3
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader
مگر جس پیغمبر نے کوئی قصور کیا (یعنی صغیرہ گناہ) پھر برائی کے بعد بدل کر بھلائی کی تو میں بخشنے والا مہربان ہوں4
وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر لے جا پھر نکال وہ سفید نورانی ہو کر بےروگ نکلے گا (یعنی کوئی عیب تیرے ہاتھ میں نہ ہوگا جیسے برص میں ہوجاتا ہے یہ دو نشانیاں ان نو نشانیوں میں سے میں جو تجھ کو دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف5 بھیجا جاتا ہے کیونکہ وہ نافرمان لوگ میرے حکم سے منحرف ہوگئے ہیں
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader
پھر جب ان کے یعنی فرعون اور اس کی قوم کے پاس ہماری صاف صاف نشانیاں آئیں تو کہنے لگے تو کھلا جادو ہے
وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader
اور ان کے دلوں میں تو ان نشانیوں کا یقین آگیا کہ وہ حق میں خدا کی طرف سے میں پر (زبان سے) ہیکٹری اور شیخی کے مارے انکار کرتے رہے پھر (اے پیغمبر) دیکھ لے ان فسادیوں کا انجام کیسا خراب ہوا6
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader
اور ہم دائود اور سلیمان پیغمبروں کو علم دے چکے ہیں7 اور ان دونوں نے خوش ہو کر یوں کہا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان دار بندوں پر بڑھ چڑھ کے رکھا8
وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader
اور سلمیان دائود کا وارث ہوا9 اور کہنے لگا لوگو ہم کو خدا کی طرف سے) پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے10 اور ہم کو ہر طرح کا سامان دیا گیا ہے۔11 بیشک یہ خدا کا ہم پر کھلا ہوا فضل ہے
وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader
اور سلیمان کا جتنا لشکر تھا جنوں اور آدمیوں اور پرندوں کا وہ سب اس کے دیکھنے اور داخلہ کے لئے اکٹھا کیا گیا اور ان کی مثلیں لگئی گئیں1 اس ترتیب اور انتظام سے لشکر چلا
حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader
جب وادی نمل چیونٹیوں کے میدان میں ج وشام میں ہے یا طائف میں2 پہنچنے تو ایک لنگڑی چیونٹی نے کہا چیونٹیو اپنے بلوں میں گھس جائو کہیں تم کو سلیمان اور اس کے لشکر والے بیخبر میں کچل نہ ڈالیں3
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader
سلیمان چیونٹی کے اس کہنے پر مسکرا کر ہنس دیا کہ اتنا چھوٹا جانور ایسی سمجھ کی بات اور کہنے لگا مالک میرے مجھ کو بھی اس کا پابند کر دے میں تیری ان نعمتوں کا شکر کروں جو تو نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عنایت4 فرمائیں اور میں ہمیشہ باقی عمر میں نیک کام کرتا رہوں جس سے تو خوش میں اپنی رحمت سے مجھے نیک بندوں میں شامل کرے5
وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader
اور سلیمان نے ایسا ہوا ایک بار پرندوں کا جائزہ لیا ان کا داخلہ دیکھا تو کہین لگا کیا بات ہے ہد ہد نہیں دکھائی6 دیتا یا حقیقت میں غائب ہے
لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader
غیر حاضر میں اس کو ضرور سخت سزا دوں گا یا اسے کاٹ ہی ڈالوں گا نہیں تو کوئی معقول وجہ میرے سامنے پیش کرے ( کہ اس وجہ سے غیر حاضر رہا )
فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader
تو بہت دیر نہیں گزری کہ ہد ہد آگیا اور کہنے لگا کہ میں نے وہ بات معلوم کی ہے جو تجھ کو (بھیض معلوم نہیں اور میں شہر بسا سے ایک تحقیق یقینی خبر لے کر آیا ہوں7
اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader
میں نے ایک عورت کو دیکھا وہ ان کی یعنی سبا والوں کی ارانی ہے8 اور ہر طرح کا سامان (سلطنت کا) اس کے پاس موجود ہے اور اس کے پاس ایک بڑا شاہی تخت میں نے دیکھا
وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader
وہ عورت جو ان کی رانی ہے اور اس کی قوم کے لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں (آفتاب پرست ہیں) اور شیطان نے ان کے کام ان کی نظر میں اچھے کر دکھائے میں اور سیدھی راہ یعنی توحید سے ان کو باز رکھا ہے ان کو کچھ سمجھ بھی نہیں ہے
اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader
(کمبخت ان کو کیا ہوا ہے2 اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں سجدہ کرتے جو آسمان اور زمین میں چھپی چیزیں باہر نکال لاتا ہے۔3 اور تمہارا چھپا اور تمہارا کھلا سب جانتا ہے4
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader
اللہ تعالیٰ ہی سچا معبود ہے اس کے سوا کوئی سچا معبو نہیں وہ بڑے تخت (عرشض کا امالک ہے5
قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader
سلیمان نے کہا اچھا ہم دیکھتے ہیں تو سچ کہتا ہے یا تو بھی جھوٹوں کا ایک جھوٹا ہے
اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader
میرا یہ خط لے جا اور ان لوگوں پر ڈال دے پھر وہاں سے ہٹ جا دیکھتا رہ وہ کیا جواب دیتے ہیں6
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader
بلقیس نے اپنے دربار والوں سے) کہا سردار میرے پاس ایک خط ڈالا گیا ہے جو عزت والا ہے7
اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader
وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور عبارت اس کی یہ ہے شروع اللہ کے نام سے بہت رحم والا ہے مہربان8(
اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader
بسم اللہ کے بعد مطلب یہ ہے) مجھ پر زور مت جتلائو اور تابعدار بن کر میرے پاس حاض رہو
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader
(خط کا مضمون سناکر) بلقیس کہنے لگی سردار و اب اس معاملہ میں اپنی رائے مجھ سے بیان کرو میں تو کسی معاملہ کا آخری فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم لوگوں حاض رنہ ہو
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader
اور اپنی اپنی رائے نہ بیان کرو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ زور دار ہیں اور بڑے لڑنے والے ہیں پھر تیرا اختیار ہے جو چاہے سمجھ کر حکم دے ہم بہ سرور چشم تعمیل کرنے کو حاضر ہیں
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader
بلقیس نے کہا میں یہ سوچتی ہوں بادشاہ جب کسی شہر میں لڑائی کر کے گھستے ہیں تو شہر کو خراب کردیتے ہیں لوٹ مار ہنگامہ مچاتے ہیں اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو بےعزت بنا دیتے ہیں اور بادشاہوں کا یہی قاعدہ ہے ایسا ہی کرتے ہیں
وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader
اور میں ایسا کرتی ہوں کچھ تحفہ ان کو بھیجی ہوں2 پھر دیکھتی ہوں وہ جو تحفہ لے کر جاتے ہیں کیا جواب لاتے ہیں3
فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader
جب بلقیس کا ایلچی (منذر بن عمرو) سلیمان پاس پہنچاتو سلیمان نے کہا کیا تم لوگ دنیا کی اہل4 دولت سے میری مدد کرنا چاہتے ہو میں دنیا کا مال نہیں چاہتا اللہ تعالیٰ جو مجھ کو دے رکھا ہے مال دو دولت پیغمبری بادشاہت، وہ اس سے کہیں بہتر ہے5 جو تم کو دیا ہے بلکہ تم ہی اپنے تحفے پر (جو میں واپس کرتا ہوں خوش رہو
اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader
تو اپنے لوگ پاس لوٹ جائو اگر وہ ہمارا کہا نہ مانیں گے تو ہم ضرور ایسا لشکر لیکر ان پر آئیں گے جس کا مقابلہ ان سے نہ ہو سکے گا اور ہم ذلت کے ساتھ ان کو رسوا کر کے ان کو وہاں سے نکال دینگے
قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader
سلیمان نے اپنے درباریوں سے)6 کہا سردارو تم میں کوئی ایسا ہے یہ لوگ جو تابعدار بن کر آرہے ہیں ان کے مجھ تک پہنچنے سے پہلے بلقیس کا تخت (جس کو وہ اپنے ملک میں چھوڑ7 کر آرہی ہے میرے پاس اٹھا لائے
قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader
(اس پر) جنوں میں سے ایک دیوار کھس) بولا میں اس کو تیرے پاس لاسکتا ہوں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھنے یعنی دربار برخاست کرے صبح8 سے دوپہر تک دربار ہوتا تھا اور میں اس کے اٹھا لانے کا زور رکھتا ہوں امانتدار ہوں
قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader
وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کتاب کا علم رکھتا تھا بول اٹھا میں اس تخت کو تیرے پلک جھپکنے سے پہلے یات یری نگاہ تجھ تک لوٹ آنے سے پہلے تیرے پاس منگوائے دیتا ہوں جب سلیمان نے دیکھا تخت اس کے سامنے دھرا ہوا ہے تو کہنے لگا یہ11 یہ تخت کا اتنی جلد اس طرح چلے آنا میرے مالک کا احسان ہے اس لئے کہ مجھ کو آزمائے میں اس کے احسان کا شکر کرتا ہوں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کریگا وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے شکر کریگا اور جو کوئی ناشکری کرے تو میرے مالک کا کچھ نقصان نہیں میرا مالک بےپروا کرم والاف 12 ہے