27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا ایسا کرو، اس کے تخت کی صورت (ذرا) بدل دو دیکھیں وہ (اپناتخت) پہنچانتی ہے یا ان لوگوں میں شامل ہوتی ہے جو اپنی چیز تک نہیں پہچان سکتے

1 ۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” آیا وہ (ایمان باللہ کی) راہ پاتی ہے یا ان لوگوں میں شامل ہوتی ہے جو (یہ) راہ نہیں پاتے “ ؟
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب لقیس سلیمان کے پاس آن پہنچی تو اس سے پوچھا کیا تیرا تخت بھی ایسا ہے وہ بول یہ تو گویا وہی ہے2 اور ہم کو تو اس سے پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا اور3 اور ہم تو اسی وقت سے تابعدار بن گئے تھے

2 ۔ نہ صاف طور پر اثبات میں جواب دیا اور نہ نفی میں بلکہ توقف کیا جو اس کی کمال دانشمندی کی دلیل ہے۔ (کبیر) عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ وہ بڑی دانا تھی اس نے اپنا تخت پہچان لیا لیکن چونکہ اس سے یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے اس لئے اس نے جواب دیا کہ یہ تو گویا وہی ہے۔ اگر اس سے یہ پوچھا جاتا کہ کیا یہی تیرا تخت ہے تو وہ صاف طور ہاں میں جواب دیتی۔ (شوکانی) 3 ۔ کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں۔ اب یہ ایک اور نشانی دیکھنے میں آئی کہ اتنا بڑا تخت اتنے دور دراز ملک سے یوں منگوا لیا گیا۔ (کبیر) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور اس کے مصاحبین کا کلام ہو یعنی ہمیں پہلے ہی یہ معلوم ہوچکا تھا کہ تم بڑی عقلمند ہو اور یہی جواب دو گی۔ (کبیر)
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور چیزوں کو پوجتے تھے اس نے اس کو خدا کی عبادت سے یا سلیمان کے پاسآنے سے روک رکھا تھا کیونکہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی

4 ۔ یعنی اس کے اب تک کافر رہنے کی وجہ اس کی ضد اور ہٹ دھرمی نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ وہ ایک کافر قوم میں پیدا ہوئی تھی اس لئے اس کے طور طریقوں پر چلتی رہی۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

جب یہ سب گفتگو ہوچکی تو بلقیس سے کہا گیا چل محل کے اندر چل اس نے محل کو جو دیکھا تو سبھی گہرا پانی ہے (کپڑا اٹھایا اور اپنی پنڈلیاں کھول دیں5 سلیمان نے کہا یہ ایک محل ہے جو گھونٹ کر آئینوں سے بنایا گیا ہے۔6 بلقیس نے کہا اے میرے خدا میں نے اپنی جان پر بڑا ستم کیا کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ ہو کر اللہ رب العالمین کی تابعدار بنی

5 ۔ جیسے پانی کی گہرائی معلوم نہ ہو تو اس میں گھسنے والا اپنے پائینچے چڑھا لیتا ہے۔ 6 ۔ حضرت سلیمان نے اس سے یہ بات اس لئے فرمائی کہ اسے پتہ چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا یہاں اس سے بڑھ کر سامان موجود ہے۔ اور ساتھ ہی یہ معلوم ہوجائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انہیں خدا سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :” اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی (یعنی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی عقل کا کمال معلوم ہوا) سمجھی کہ ان میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں سو ہی صحیح ہے۔ “ (موضح) اسی چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو آگے آرہا ہے۔ 7 ۔ جو اب تک شرک میں مبتلا اور تجھے بھولی رہی۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم ثمود کی قوم کی طرف صالح کو بھیج چکے ہیں انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کو بوجھ پھر وہ یکایک صالح کے سمجھاتے ہی) دو گروہ ہو کر جھگڑنے لگے8

8 ۔ یعنی جونہی انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز کیا ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی اور ان دو گروہوں میں سخت تصادم شروع ہوگیا۔ ایک گروہ ایمان لانے والوں کا دوسرا انکار کرنے والوں کا۔ دیکھئے سورة اعراف رکوع 10)
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صائح نے جھٹلانے والے گروہ سے کہا بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کی کیوں جلدی مچاتے ہو9 تم اللہ تعالیٰ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے کہ تم پر رحم ہو (اور عذاب سے بچو)

9 ۔ یعنی بجائے اس کے کہ تم اس سے خیر و رحمت کے طلب گار بنو اٹا اس سے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی مچاتے ہ ؟ (دیکھئے اعراف :77)
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

کہنے لگے ہم نے تو تجھ کو اور تیرے ساتھ والوں کو منحوس قدم پایا10 صالح نے کا نحوست و حوست واہبیات ہے تمہاری بری قسمت اللہ کے اختایر میں ہے بات یہ یہ کہ اللہ کی طرف سے تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے

10 ۔ یعنی ہم پر جو قحط آنے شروع ہوگئے ہیں تو یہ سب تمہاری نحوست ہے۔ (شوکانی) 11 ۔ یعنی تمہیں جو نحوست پہنچی وہ اللہ کی طرف سے تمہارے اپنے کفر کی بدولت پہنچی۔ وہ تم پر مصیبتیں بھیج کر تمہیں خواب غفلت سے جھنجھوڑتا ہے تاکہ کفر و شرک کی راہ چھوڑ کر اس کی سیدھی راہ اختیار کرو۔ (شوکانی)
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے جو ملک میں فساد مچاتے تھے اور سنوارنے کی نیت نہ رکھتے تھے12

12 ۔ اصل میں لفظ ” رھط “ کے معنی جتھہ کے ہیں۔ مراد ایسے نو سردار ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھ گویا ایک جتھا رکھتا ہے۔ یہ سب ” قدار “ ملعون (جس نے اونٹنی کو زخمی کیا تھا) کے ساھی تھے۔ (شوکانی)
Ayahs 27:49–50

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے کہا آئو جی سب مل کر اللہ کی قسم کھائو ہم رات کو صالح اور اس کے گھر والوں پر چھاپہ ماریں گے (شیخون کرینگے) پھر جب دریافت ہوگی تو اس کے وارث سے کردیں گے ہم تو صالح کے گھر والے جب مارے گئے اس وقت موجود ہی نہ تھے اور ہم سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے ایک دائو کیا اور ہم نے بھی ایک دائو کیا اور ان کو ہمارا دائو معلوم ہی نہ تھا1

1 ۔ یعنی ان کے دائو (خفیہ تدبیر) کا جواب دیا اور وہ اس طرح کہ عذاب بھیج کر انہیں اور ان کی قوم کو تباہ کر ڈالا، قبل اس کے کہ وہ اپنے دائوں (شبخون) کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی قدم اٹھاتے۔ عبد الرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ جب ان لوگوں نے اونٹنی کو زخمی کردیا تو حضرت صالح ( علیہ السلام) نے انہیں نوٹس دیتے ہوئے فرمایا :” تم تین دن تک اپنے گھروں میں مزے کرلو۔ یہ جھوٹا نہ ہونے والا وعدہ ہے۔ (ہود : 65) اس پر یہ لوگ کہنے لگے کہ صالح (علیہ السلام) سمجھتا ہے کہ وہ تین دن تک ہمارا صفایا کر دے گا لیکن ہم تین دن سے پہلے ہی اس کا اور اس کے گھر والوں کا صفایا کر ڈالیں گے۔ پہاڑ کی ایک گھاٹی کے پاس حضرت صالح ( علیہ السلام) کی ایک مسجد تھی۔ جس میں آپ نماز پڑھا کرتے تھے۔ وہ نو مردود شخص رات کے وقت ایک غار کی طرف چلے کہ اس میں چھپ کر بیٹھ رہیں اور جب حضرت صالح ( علیہ السلام) نماز پڑھنے آئیں تو انہیں قتل کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی چٹان کو حکم دیا جو اوپر سے لڑھکتی ہوئی آئی۔ وہ ڈر کر غار کے اندر گھس گئے۔ چٹان آ کر ایسے ٹکی کہ غار کا منہ بند ہوگیا۔ اب ایک طرف ان کی قوم کو ان کا پتہ نہ تھا اور دوسری طرف وہ اپنی قوم سے بیخبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ادھر انہیں عذاب دیا اور ادھر ان کی قوم کو۔ (ابن کثیر)
Ayahs 27:51–55

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

پھر اے پیغمبر دیکھ لے ان کے دائوں کا کیا انجام ہوا ہم نے انکو اور ان کی قوم کو سب کو تباہ کردیا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

تو یہ ان کے گھر میں جو ان کے گناہ کی وجہ سے خالی اور ایمان پڑے ہیں بیشک اس واقعہ میں جاننے والوں کے لئے خدا کی قدرت کی نشانی ہے

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور خدا سے ڈرتے تھے ان کو ہم نے بچا دیا

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور اے پیغمبر لوط کو یاد کر اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تم جان بوجھ کردیا ایک دوسرے کے سامنے ہیجانی کا کام کرتے ہو

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

بھلا تو اپنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں (لڑکوں) پر للچا کر (شہوت بچھانے کو) گرتے ہو سچ یہ ہے کہ تم (بڑے) بیوقوف ہو2

2 ۔ جو اس قسم کی بےحیائی کا کام کرتے ہو جس سے گدھے اور کتے بھی شرماتے ہیں ” تجھلون “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم اس بات سے باخبر ہو کر اس بری روش کی تمہیں کیا سزا مل سکتی ہے ؟۔ (شوکانی)
Ayahs 27:56–57

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

پھ راس کی قوم نے کچھ جواب نہ دیا بس یہ کہنے لگے لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو کیونکہ وہ لوگ پاکیزہ اور مقدس بننا چاہتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

آخر ہم3 نے لوط اور اس کے گھر والوں کو عذاب سے بچا لیا مگر اس کی بی بی جس کے حصے تقدیر میں رہ جانا اور گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہونا لکھ دیا تھا

3 ۔ یعنی بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ اگر ایسے ہی پاک باز ہیں تو ہم گنہگاروں کی بستی میں کیوں رہیں نکالو انہیں باہر۔ یہ بات انہوں نے استہزا کے طور پر کہی۔ (شوکانی)
Ayahs 27:58–59

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور اس کی قوم پر ہم نے پتھروں گا برسائو کیا تو ان لوگوں کا برسائو جو خدا کے عذاب سے ڈرائے گئے تھے کیا برا برسائو تھا

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

اے پیغمبر کہ دے شکر خدا کا گناہ گار بتا ہوئے اور سلام ہے خدا کے ان بندوں پر جن کو اس نے اپنی خلقت میں سے چن لیا پسند اور بریزدہ کیا بھلا کیا اللہ4 اچھا ہے یا وہ بہت وغیرہ جھوٹے معبود جن کو وہ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں5

4 ۔ ان میں تمام انبیا اور ان پر ایمان لانے والے شامل ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی صحبت کے لئے چن لیا۔ (روح) یہاں انبیا کے واقعات ختم ہوئے اب اس کے بعد توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اس مناسبت پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اللہ کی تعریف اور پیغمبر ﷺ پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھا دی۔ (موضح) چناچہ یہی آداب کلام علماء خطاب اور واعظین میں تو ارث سے چلے آتے ہیں کہ خطبہ کو حمد و صلوٰۃ سے شروع کرتے ہیں۔ 5 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بت بھی بہت اچھے ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ سے کم۔ بتوں میں تو اچھائی کی پرچھائیں تک نہیں ہے اس لئے یہ بات دراصل بتوں سے تہکم (طنز) کے طور فرمائی گئی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا ہم ہی نے برسایا پھر ہم ہی نے اس سے رونق دار باغ اگائے تم سے تو اس کے درخت اگانا بھی نہ ہوسکتا کیا اب بھی یہ کہو گے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی کوئی خدا ہے1 نہیں ہرگز نہیں ہوا یہ ہے کہ یہ لوگ سیدھی راہ2 سے مڑ جاتے ہیں

1 ۔ اب یہاں سے اثبات توحید کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے بعض صفات وشوئوں کا بیان ہو رہا ہے جن کو مشرکین بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ مثلاً آسمان زمین اور اسباب رزق کا پیدا کرنا۔ (نیز دیکھئے : ذخرف 9، عنکبوت :63) 2 ۔ یعنی توحید کی راہ چھوڑ کر شرک کی ٹیڑھی راہ پر پڑجاتے ہیں۔ یا ترجمہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو آدمیوں اور جانوروں کے رہنے کے3 لائق بنایا اور اس کے بیچ میں ندی اور نالے بنائے اور اس کو دوران کرنے کے لئے اس میں4 پہاڑ پیدا کئے اور دو دریائوں میں آڑ رکھی ایک میٹھا ایک کھاری) کیا5 ایسی قدرتیں دیکھ کر اب بھی یہی کہو گے اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے انہیں ہرگز نہیں بات یہ ہے کہ ان میں اکثر لوگ نادان ہیں ایسی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے)

3 ۔ یعنی اس میں گردش، پانی، ہوا، آگ، سردی، گرمی، غرض ہر چیز کا متوازن نظام قائم کر کے اسے اس قابل بنایا کہ اس پر آدمی اور جانور آرام سے زندہ رہتے اور اس کی پیداوار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی معنی زمین کے ” وحو “ اور ” تسویہ “ کے ہیں۔ (کبیر) 4 ۔ تاکہ ڈگمگائے نہیں اور سکون سے ایک مقرر راستہ پر حرکت کرتی رہے۔ (دیکھئے سورة نمل :5، الانبیا 8، لقمان :30) 5 ۔ کہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط نہیں ہوسکتے۔ (دیکھئے فرقان :53)
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا مصیبت کا مارا شخص بیقراری میں جب اس کو پکا6 تو کون اس کی دعا قبول کرتا ہے اور تکلیف دفع کرتا ہے7 کون تم کو زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے کیا اب بھی یہی کہو گے کہ اللہ کے ساتھ اور کوئی خدا ہے تم بہت کم سوچتے

6 ۔ مشرکین عرب خود اس چیز کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چناچہ دوسری آیات میں بھی ان سے اسی طرح کا خطاب فرمایا گیا ہے۔ (دیکھئے اسرا :63، فعل 53) مگر تعج ہے ہمارے زمانہ کے ان مسلمانوں پر جو توحید کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن مصیبت تک میں اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ ” یا رسول ﷺ اللہ “ ” یا غوث اعظم (رح) “ وغیرہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ 7 ۔ یا تم کو زمین کا خلیفہ ظالم و متصرف) بناتا ہے۔ ایک دوسرے کا جانشین بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو، اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو لے آتا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

ہو بھلا خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں کون تم کو رستہ دکھلاتا ہے8 ہے اور اپنی رحمت (مینہ) کے آگے (بارش کی) خشوخبری کے لئے ہوائیں کون چلاتا ہے کیا اب بھی یہ کہو گے اللہ کے ساتھ اور کوئی خدا بھی ہے نہیں ہرگز نہیں جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک بناتے ہیں اللہ تعالیٰ کی شان ان سے بہت بڑی ہے

8 ۔ یعنی کون ہے جس نے ستاروں اور دوسری ارضی و سماوی نشانیوں سے ایسے انتظامات کردیئے ہیں۔ کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ معلوم کرلیتے ہو۔ اسی کو سورة نحل میں یوں فرمایا : وعرضات و بالنجمھم بھتدون۔ اور نشان اور ستاروں کے ذریعہ وہ راستہ پاتے ہیں۔ (آیت :26)
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو تمام چیزوں کو سرے سے بناتا ہے پھر ان کو دہراتا ہے مار کر جلاتا ہے اور کون ہے جو آسمان اور زمین سے تم کو روزی9 دیتا ہے کیا اب بھی یوں کہو گے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی ہے (نہیں ہرگز نہیں اے پیغمبر کہہ دے اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لائو10

9 ۔ آسمان سے مینہ برساتا ہے اور زمین سے غلے اور پھل اگاتا ہے۔ 10 ۔ یعنی اس چیز کی دلیل لائو کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی معبود ہے اگر دلیل نہیں لاسکتے۔ اور ظاہر ہے کہ اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ تو یہ بات تمہاری سمجھ میں کیسے آتی ہے کہ پیدا کرنا، رزق دینا اور دوسرے یہ تمام کام تو اللہ کے ہوں مگر عبادت اور بندگی اس کے علاوہ کسی اور کی جائے۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے جتنے لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں آدمی ہوں یا فرشتے یا جن کسی کو غیب کا علم نہیں بجز خدا کے اور ان کو یہ بھی خبر نہیں وہ کب جی کر (قبروں سے) اٹھیں گے

11 ۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان تھا۔ اب یہاں اس کے علم محیط کا بیان ہے۔ یہ بات کہ کسی کو علم غیب نہیں بجز خدا کے۔ قرآن کی متعدد آیات میں بیان ہوتی ہے۔ سورة انعام :59 میں گزر چکا ہے کہ ” غیب کی کنجیاں “ اللہ ہی کے پاس ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس نے گمان کیا کہ وہ (یعنی نبی ﷺ) کل ہونیوالی بات کو جانتے ہیں اس نے اللہ تعالیٰ پر بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ فرماتا ہے۔ قل لا یعلم من… (ابن کثیر بحوالہ صحیحین)
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ آخرت میں ان کا علم پورا ہوگا جب سب آنکھ سے دیکھ لیں گے اور اس دنیا میں تو وہ آخرت میں شک ہی کرتے رہیں گے بلکہ شک کیا آخرت سے بالکل اندھے1 بنے رہیں گے

1 ۔ اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ہار کر عاجز آگیا، چناچہ کبھی وہ اس میں شک کرتے ہیں اور کبھی اندھے یعنی قطعی منکر ہوتے ہیں۔ شاہ عبد القادر (رح) نے اپنے ترجمہ اور حاشیہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ (دیکھئے موضح) شاہ ولی اللہ نے یوں ترجمہ کیا ہے : بلکہ پے در پے متوجہ شد علم ایشاں درباب آخرت یعنی تاآنکہ منقطع گشت۔ (فتح الرحمن) امام رازی (رح) فرماتے ہیں : اس کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کا علم تو کمال اور انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ یعنی آخرت کے ثبوت پر ان کے سامنے اتنے دلائل موجود ہیں کہ ان سے کامل درجہ کا یقین حاصل کرسکتے ہیں مگر یہ لوگ پھر بھی شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو شخص اس قدر واضح حقیقت پر بھی یقین نہیں کرسکتا اور اس سے سراسر غافل ہے وہ غیب جیسی مخفی حقیقت کا ادراک کیسے کرسکتا ہے یا یہ بات ان کے متعلق بطور تہکم کہی گئی ہے جیسے کسی اجہل شخص سے کہا جائے کہ میاں تم بڑے عالم نظر آتے ہو۔ (کبیر)
Ayahs 27:67–68

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کافر جو قیامت کے منکر میں کہتے ہیں بھلا جب ہم اور ہمارے باپ دادا (گل سڑک کر) خاک ہوگئے تو کیا پھر دوبارہ زمین سے ہم نکالے جائیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس سے پہلے بھی ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے ایسے وعدے ہوچکے ہیں یہ کچھ نہیں صرف اگلے لوگوں کی (بٹی ہوئی) باتیں ہیں2

2 ۔ یعنی بےبنیاد اور بےحقیقت افسانے ہیں جو لوگوں نے دنیا کا نظام چلانے اور سرکشوں کو قابو میں رکھنے کے لئے گھڑ لئے تھے۔ اور پھر یہ پیغمبر ( علیہ السلام) ان ہی کی نقل کئے جا رہے ہیں۔ ہم نے آج تک کبھی دیکھا نہ سنا کہ کوئی شخص مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہو اور اس کو نیکی پر جزا یا بدی پر سزا ملی ہو۔ (وحیدی) ہمارے زمانہ میں بھی جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس بھی اس سے بڑی کوئی دلیل نہیں ہے حالانکہ اس کا تعلق دیکھنے یا سننے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تمام تر انحصار تو کسی ایسے سچے آدمی (پیغمبر ( علیہ السلام) کی خبر پر ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہو۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے ذرا ملک میں چلو پھرو تو دیکھو گنہگاروں کا انجام کیسا (خراب) ہوا3

3 ۔ یعنی یہ دیکھو کہ جس عذاب کا پیغمبروں ( علیہ السلام) نے ان نافرمانوں سے وعدہ کیا تھا وہ نازل ہو کر رہا اور پیغمبروں ( علیہ السلام) کی کوئی بات جھوٹی نہیں ہوئی۔ اب جو ان پیغمبروں ( علیہ السلام) نے کہا ہے کہ ایک دن قیامت ضرور آئے گی اور اس میں لوگوں کو اپنے نیک اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا ملے گی تو ان کی یہ بات بھی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ (وحیدی)
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور اے پغیمبر تو ان کافروں کے جھٹلانے اور ایمان نہ لانے کا رنج مت کرو اور ان کے دائوں سے جو وہ کرتے ہیں تنگ نہ ہو4

4 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ ( علیہ السلام) کا محافظ اور نگہبان ہے۔ یہ لوگ اپنے مکر و فریب میں خود گرفتار ہونگے اور آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے : چاہ کن را چاہ درپیش۔ (وحیدی) اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے۔ (کبیر) 5
Ayahs 27:71–72

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ کافر مسلمان سے کہتے ہیں (بھلا بتلائو تو سہی) اگر تم سچے ہو یہ وعدہ ہم پر عذاب نے کا) کبا پورا ہوگا

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

(اے پیغمبر انکے جواب میں) کہہ دے عجب نہیں اس عذاب میں سے جس کی تم جلدی مچا رہے ہو کچھ تمہاری پیٹھ پر آ لگکا ہو5

۔ یعنی قریب ہی پہنچ گیا ہو۔ اس ” کچھ عذاب “ سے مراد قبر کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے مشرکین مکہ بدر کے دن دوچار ہوئے۔ (شوکانی)
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) بیشک تیرا مالک لوگوں پر فضل کرتا ہے (گناہ پر فوراً عذاب نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ اس فضل اور کرم کا شکر نہیں کرتے6

6 ۔ یعنی جو مہلت انہیں ملتی ہے اس میں اپنی اصلاح کی فکر نہیں کرتے بلکہ اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ کوئی گرفت ہونے والی نہیں ہے اس لئے جو جی میں آئے کرتے رہو اور کسی سمجھانے والے کی بات نہ مانو۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور تیرا مالک جانتا ہے جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے اور جو وہ علانیہ کھول کر کرتے ہیں7

7 ۔ اس لئے جب ان کی شامت آئے گی تو کوئی بات چھوڑی نہ جائے گی جس پر ان کا سخت محاسبہ نہ کیا جائے۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین بھر میں کوئی چھپی بات ایسی نہیں جو لوحظ محفوظ میں نہ لکھی ہو8

8 ۔ لہٰذا جس عذاب کی یہ جلدی مچا رہے ہیں اس کا وقت بھی اس میں لکھا ہے وہ اپنے وقت پر آ کر رہے گا اس کے دیر سے آنے کا یہ مطلب لینا کہ وہ نہیں آئے گا) سراسر حماقت ہے۔ (وحیدی)
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کو وہ بہت سی باتیں بتادیتا ہے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں9

9 ۔ یہود اور نصاریٰ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ اس بنا پر ان کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو یہودی جھوٹا اور ولدالزنا کہتے تھے اور نصاریٰ نے یہاں تک غلو کیا کہ وہ انہیں خدا کا بیٹا سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے امور تھے جن میں ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے ان میں حق اور اعتدال کی راہ قرآن نے واضح کی۔ جو قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے۔ اگر وہ اس راہ کو اختیار کرتے تو ان میں ہرگز کوئی اختلاف نہ رہتا اور ان کی سب فرقہ بندی ختم ہوجاتی۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں : مبداء و معاد کے اثبات پر گفتگو کرنے کے بعد اب نبوۃ کے متعلق بحث شروع کی اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کے اثبات میں چونکہ قرآن ہی سب سے بڑی دلیل ہے اس لئے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ (کبیر)
Ayahs 27:77–78

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیرا مالک (قیامت کے دن) اپنا حکم دے کر ان لوگوں کا فیصلہ کر دیگا1 اور وہ زبردست ہے سب جاننے والا

1 ۔ یا دنیا ہی میں ان کی تحریفات کا بھانڈا پھوڑ کر ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ کر دیگا۔ (شوکانی)
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

تو اے پیغمبر اللہ پر بھروسہ کر کیونکہ تو صریح حق پر ہے2

2 ۔ اور جو حق پر ہوتا ہے اسے کسی طرح کا کھٹکا نہیں ہوتا۔ آخر کار اس کا غالب آنا یقینی ہے۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

دوسرے یہ کہ تو مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتا نہ بہروں کو اپنی آونا سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ موڑ کر چل دیں3

3 ۔ یعنی یہ کافر مردوں اور بہروں کی طرح ہیں جنہیں دعوت دینا اور کوئی نصیحت کی بات سنانا قطعی سود مند ہیں ہوسکتا، خصوصاً جبکہ وہ پیٹھ دے کر بھاگ رہے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کو کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی۔ یہ نفی عام ہے اور اس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جو دلیل (کتاب و سنت) سے ثابت ہوں جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ بدر کے دن آپ ﷺ نے کفار کی لاشوں سے خطاب کیا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا :” اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ایسی لاشوں سے خطاب فرماتے ہیں جن میں روح نہیں ہے۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم ان سے بڑھ کر نہیں سن سکتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ “ اور جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ جب لوگ مردہ کو قبر میں دفنا کر پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی آواز سنتا ہے۔ (شوکانی)