20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 20:41–43

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

موسیٰ عمر کی حد کو ہپنچ کردی جائے پاس آیا اور میں نے تجھ کو (خاص) اپنے (کام کے) لئے تیار کیا (یعنی پیغمبری کے لئے)

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو اور تیرا بھائی ہارون دونوں مل کر میری نشانیاں (عصا اور ید بیضا) لے کر فرعون کے پا جائو اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون پاس جائو کیونکہ اس نے سر اٹھا رکھا ہے9

ف 9 یعنی بڑی شرارت اور سرکشی پر کمر باندھ لی ہے حتی کہ خدائی تک کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پھر اس سیکرو شاید وہ (حق) مان لے یا تعمیر نہ مانے تو اس کو (خدا کا) ڈر ہی پیدا ہو10

ف 10 کیونکہ ایک سرکش آدمی کے راہ راست پر آنے کی یہی دو صورتیں ہیں۔
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

وہ دونوں (یعنی موسیٰ اور ہارون) عرض کرنے لگے مالک ہمارے ہم کو ڈر ہے فرعون ظالم بادشاہ ہے11 ہے ہمیں ہم کو جلدی سے سزا دے بیٹھے حصہ میں مروا ڈالے یا جوش میں آجائے اور زیادہ شرارت اور سرکشی پر کمر باندھے

ف 11 یعنی انہیں آزاد کر دے تاکہ وہ تیرے ملک کو چھوڑ کر جہاں ا ہیں چلے جائیں۔
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا مت ڈرو کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔12(یعنی سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں

ف 12 لہٰذا تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ سرکشی چھوڑ کر سیدھی راہ اختیار کرے۔
Ayahs 20:47–49

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

تو تم دونوں (مل کر) اس کے پاس جائو اس سے کہو ہم تیرے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دے اور ان کو مت سستا ہم ایک نشانی تیرے مالک کی لیکر تیرے پاس آئے ہیں اور خدا کے عذاب سے) وہی بچے گا جو سدیھے رستے پر چلے گا۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہم کو (خدا کی طرف سے یہ) وحی آئی ہے (حکم ہوا ہے) کہ جو شخص (ہم کو) جھٹلائے اور ہمارا کہنا) نہم انے اس کو عذاب ہوگا (دنیا میں تباہ اور آخرت میں ہلاک )

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا موسیٰ تمہارا مالک کون ہے

ف 1 یعنی وہ کون ہے جسے تم نے مجھے چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا ہے ؟ واضح رہے کہ فرعون اپنے آپ کو مصر کا رب اعلیٰ بھی سمجھتا تھا۔ (نازعات :24) اور اللہ یعنی معبود بھی چناچہ قصص میں ہے۔ یایھا الملاء ما علمت لکم من الہ غیری کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور اللہ بھی ہو۔ (آیت 38)
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ہمارا مالک وہ ہے جس نے ہر چیز کو ایک (خاص) صورت دی (ج و اس کے مناسب ہے پھر اس کو (زندگی بسر کرنیکا) رستہ بتلایا۔

ف 2 یعنی صرف یہی نہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے بلکہ اس نے ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد ایک صورت بھی دی ہے جو اس کے مناسب حال ہے اور اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے۔ چناچہ پرندے کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی چگنے لگتا ہے، جانور اور انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینے لگتا ہے۔ الغرض اس کائنات میں ہر چیز جو بھی کام کر رہی ہے اس کی دی ہوئی ہدایت اور تعلیم سے کر رہی ہے حضرت موسیٰ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رب تو نہیں ہے بلکہ وہ بزرگ و برتر اللہ ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ حضرت موسیٰ نے عموماً ہی دلائل پیش کئے جو حضرت ابراہیم نے پیش کئے تھے۔ (کبیر)
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون نے کہا (اچھا) اگلے لوگوں کا کیا حال ہونا ہے۔

ف 3 یعنی اگر رب وہی ہے جسے تم بیان کر رہے ہو تو تم بتائو کہ جو لوگ سینکڑوں برس سے نسلاً بعد نسل دوسروں کو اپنا رب سمجھتے اور ان کی بندگی کرتے رہے آیا وہ سب گمراہ مستحق عذاب تھے ؟ ممکن ہے فرعون نے یہ سوال از راہ جہالت کیا ہو یا اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ حضرت موسیٰ جب ان کو گمراہ اور مستحق عذاب قرار دیں گے تو ان کے خلاف تمام لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور وہ ان کی دعوت سے متنفر ہوجائیں گے اہل حق کے خلاف اہل باطل جاہلوں کو مشتعل کرنے کا یہ ہتھکنڈا ہمیشہ سے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی اسے اپنا کارگر حربہ سمجھتے ہیں۔ (وحیدی مع اضافہ)
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ ان کا حال میرے مالک کے پاس ایک کتاب (لوح محفوظ) میں (لکھا ہا) ہے میرا مالک نہ ہو بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے۔

ف 4 یعنی مجھے ان کے حال سے کوئی بحث نہیں ہے وہ اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ اس کے پاس ان کے تمام اعمال اور نیتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ جیسے ان کے اعمال ہوں گے ویسا ہی بدلہ ان کو مل جائے گا۔ ہمیں فکر اپنے حال کی ہونی چاہیے کہ ہم کیونکر اپنے آپ کو مستحق عذاب ہونے سے بچا سکتے ہیں ؟ یہ نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے جو صحیح بھی ہے اور اس سے فرعون اپنے مقصد میں بھی کامیاب نہ ہوسکا۔
Ayahs 20:53–54

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

اسی نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے (چلنے کے) لئے اس میں رہیں نہ نکالیں اور آسمان سے پانی برسایا پھر اللہ تعالٰ نے فرماتا ہے ہم ہی نے اس میں سے طرح بطرح کئی قسم کے سبزے نکالے

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

(اس لئے) کہ تم بھی اس میں سے کھائو اور اپنے جانوروں کو ابھی ان میں سے چرائو بیشک عقلمندوں کے لئے اس میں بخاری قدرت کی) نشانیاں ہیں۔

ف 5 ان نشانیوں پر غور کر کے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کائنات میں جو انتظامات پائے جاتے ہیں وہ کسی ایسی ہی ذات کی تخلیق کا نتیجہ ہوسکتے ہیں جو اپنی ذات اور صفات و اختیارات میں تنہا ہے نہ کہ کسی ات فاقی حادثہ کا بےہنگم نتیجہ۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

ہم نے تم کو اسی (زمین سے) پیدا کیا۔ اور اسی میں (مرنے کے بعد) پھر لیجائیں گے اور اسی سے تم کو دوسری بار قیامت کے دن نکالیں گے

ف 6 یعنی تم سب کے باپ حضرت آدم کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمام غذائیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں مرنے کے بعد خواہ کوئی انسان قبر میں دنف ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کے اجزا بھی مٹی ہی میں مل جائیں گے۔ قیامت کے روز انہی اجزا کو دوبارہ جمع کر کے اور ان میں روح پھونک کر زندہ کردیا جائے گا۔ بعض روایات سے جن کی سند گو ضعیف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میت کو قبر میں اتارنے کے بعد مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھ لی جائے اس طرح کہ پہلی مٹھی کے وقت ” منھا خلقنا کم “ دوسری کے وقت وفیھا نعیدکم “ اور تیسری کے وقت ” ومنھا نخرجکم تازہ اخری “ ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت نے اپنے لخت جگر حضرت ام کلثوم کو دفن کرتے وقت یہ آیت پڑھی اور نیز فرمایا : بسم اللہ علی ملۃ رسول اللہ، (ابن کثیر ۔ فتح البیان)
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے تو فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھلائیں لیکن اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ف 7 سب نشانیوں سے مراد نونشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ کو دی گئیں جن کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

(کہنے لگا یہ جادو ہے) کہنے لگا موسیٰ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم کو اپنے جادو (کے زور) سے ہمارے ملک سے نکال باہر کرے اور خود وہاں کا حاکم بن بیٹھے

ف 8 ہر باطل پرست اور جابر و ظالم حکمران جب داعی حق کے سامنے لاجواب ہوجاتا ہے تو اس کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے یہی ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔ یعنی اسے اقتدار کا بھوکا ہونے کا طعنہ دیتا ہے۔ گویا اقتدار پر قابض رہنا اس کا تو پیدائشی حق ہے اور کسی دوسرے کے لئے اس کے قریب بھٹکنا بھی جائز نہیں۔
Ayahs 20:58–59

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم بھی ضرور ویسا ہی جادو (تیرے جادو کی طرح) تجھ کو بتلائیں تو تیرے سامنے لائیں گے لیکن ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ (وقت اور مقام) مقرر کر دے نہ ہم اس کے خلاف کریں نہ تو ایک صاف میدان ہو دیا ایک بیچا بیچ مقام ہو جو نہ ہم سے نکال ہو نہ تجھ سے )

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسلی نے کہا (اچھا) عید کا دن (ہمارا) تمہارا وعدہ ہے اور وہ چڑھا سب لوگ جمع ہوجائیں۔

ف 9 حضرت موسیٰ نے عید کا دن اس لئے تجویز فرمایا کہ اس روز ملک کے تمام عالقوں کے لوگ کھچ کر دارالسلطنت میں جمع ہوتے ہیں اور نیز تجویز کیا کہ ضحی کے وقت مقابلہ شروع ہوتا کہ اگر مقابلہ لمبا ہوجائے تو تمام دن قائم رہ سکے۔ (شوکانی)
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

یہ سن کر فرعون لوٹا اور اپنے پائوں اکٹھا کئے۔ پھر (وعدہ کے مقام پر) آن موجود ہوا (جادو گروں کو ساتھ لایا)

ف 1 یعنی ایک طرف تو سلطنت کے ہر علاقہ سے ماہر جادو گر جمع کر لئے اور انہیں انعام و اکرام کا وعدہ کر کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور دوسری طرف عام لوگوں کو ترغیب دی کہ مقابلہ دیکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں۔ (ابن کثیر)
Ayahs 20:61–63

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان جادوگروں کو ایک بار پھر اندھیروں میں سمجھا ہا کیوں تمہاری شناخت آئی ہے اللہ پر جھوٹ مت چوڑو (اس کے کاموں کو جادو نہ کرو وہ عذاب بھیج کر تم کو غارت کردیگا اور دیکھو جس نے خدا تم پر جھوٹ باندھا وہ تباہ ہوچکا۔

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر موسیٰ کی بات سن کر اور جادوگر آپس میں جھگڑنے اور چپکے چپے کا نا پھوسی کرنے لگے

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

(خیر انہوں نے مشورہ کر کے) کہا بیشک یہ دونوں موسیٰ اور ہارون جادوگر میں وہ چاہتے ہیں اپنے جادو کے دوں سے تم کو تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارا جو عمدہ طریق ہے2 ہے اس کو میٹ دیں رقم بھی سب مل کر دائوں کرو3

ف 2 کوئی کہنے لگا کہ موسیٰ جادوگر ہیں اور کوئی کہنے لگا کہ وہ جادو گر معلوم نہیں ہوتے۔ وغیر ذلک (ابن کثیر) 3 عمدہ طریق سے مراد ان کا دین ہے جسے وہ بہتر طریقہ خیال کرتے تھے یا مطلب یہ ہے کہ ملک کے عمائد و اشراف کو اپنے ساتھ ملا لے گا۔ (شوکانی)
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

پھر پرا باندھ کر (سامنے)5 آئو اور آج جو جیتا اس نے مراد پائی6

ف 4 یعنی آپس کی اس پھوٹ کو چھوڑو اور پوری طرح متحد ہو کر مقابلہ کرو۔ (شوکانی)5 تاکہ دیکھنے والوں پر رعب طاری ہوجائے۔ پر (صف) یعنی قطار جمہور مفسرین نے صفاً کے یہی معنی بیان کئے ہیں اور بعض نے اس کے معنی عید گاہ بھی کئے ہیں۔ (شوکانی)6 یعنی آج کے مقابلے کی اتنی اہمیت ہے کہ جو اس میں غالب رہا، اس کا سکہ ہمیشہ کے لئے بیٹھ گیا اور جو اس میں رہ گیا پھر کبیھ سر نہ اٹھا سکے گا۔
Ayahs 20:65–66

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

جادوگر کہنے لگا موسیٰ یا تو تم (اپنی لاٹھی پہلے) ڈالو یا ہم ڈالنے والے ہیں

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا نہیں بلکہ تم ڈالو اور ان کو ان کے جادو سے ایسا معلوم ہوا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (سانپ بن کر) دوڑ رہی ہیں۔

ف 7 یعنی ان کے جادو کا رعب عوام پر ہی نہیں ہوا تھا بلکہ حضرت موسیٰ بھی اگر حقیقت حال سے واقف نہ ہوتے تو ان کے جادو سے متاثر ہوجاتے یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ بھی متاثر ہوگئے تھے۔ یوں بعض دنیوی امور کے سرانجام دینے میں نبی پر بھی جادو کا اثر ہوسکتا ہیجیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت پر بھی مدینہ میں آ کر کچھ عرصہ کے لئے جادو کا اثر ہوگیا تھا مگر اس قسم کے حق و باطل کے معرکہ میں یہ ممکن نہیں کہ ایک نبی پر اس قسم کا اثر ظاہر ہوجائے۔ ” جادو سے معلوم ہوا “ کا مطلب یہ ہے کہ صرف بظاہر دکھائی دیا حقیقت میں شعبدہ سے زیادہ کچھ نہیں تھا اور یہی جادو اور معجزہ میں فرق ہے کہ جادو سے ایک چیز کی حقیقت نہیں بدلتی۔ بظاہر آنکھوں پر اثر ہوتا ہے اور معجزہ سے ایک چیز کی حقیقت تک بدل جاتی ہے۔ (کبیر )
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

موسیٰ اپنے دل ہی دل میں سہم گیا اور اس نے وحی کا انتظار کیا

ف 8 حضرت موسیٰ کا یہ سہمنا بتقاضائے بشریت تھا اور ممکن ہے کہ ان کا یہ سہمنا اس بنا پر ہو کہ کہیں لوگ التباس میں نہ پڑجائیں اور میرے عصہ ڈالنے سے پہلے کہیں ان جادوگروں کے معتقد نہ ہوجائیں (ابن کثیر)
Ayahs 20:68–69

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے روحی کے ذریعے سے فرمایا مت ڈر بیشک تو ہی ور رہے گا تو ان سب پر غالب آئیگا

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو (عصا) تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اس کو میدان میں ڈال دے خدا کی قدرت دیکھ لے انہوں نے جو ڈھنگ کیا ہے اس کو ایک دم میں ہڑپ کر جائے گا انہوں نے جو کچھ بنایا ہے اس کی حقیقت کچھ نہیں جادو کا تماشا ہے اور جادوگر جہاں سے آئے نص اور نہیں ہوتا۔

ف 9 یعنی چاہے وہ کیسی ہی آن بان اور شان و شوکت سے آئے اسے کبھی غلبہ نصیب نہیں ہوسکتا۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

پھر (یہ حال) دیکھتے ہی جادو کو سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے ہم تے ہارون اور موسیٰ کے مالک پر ایمان لائے۔

ف 10 القی (گرا دیئے گئے) یعنی بےساختہ اور اس سرعت سے سجدہ میں گرپڑے جیسے کسی چیز نے انہیں گرا دیا۔ (کبیر)
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون بولا (واہ اچھے رہے) تم اس پر ایمان لے آئے اور ابھی میں نے تم کو اس پر ایمان لانے کا اذن ہی نہیں دیا (میرے بغیر حکم اس کے معتقد بن گئے ہو نہ ہو یہی بات ہے، بیشک وہ (یعنی موسیٰ ) تمہارا گروہ ہے جس نے تم کو جادو سکھلایا1 لایا ہے تو میں (ایسا کرون گا) ضرور تمہارے ہاتھ یر الٹے2 سیدھے کا ڈالوں گا اور تم کو کھجور کے ٹہنوں پر (ڈالوں پر تنوں پر) سولی چڑھادونگا۔ اور تم اب ضرور (اچھی طرح) جان لو گے ہم (دونوں) میں سے (یعنی میں اور موسیٰ ان دونوں میں سے کس کی3 مار سخت ہے اور دیر تک رہتی ہے۔

ف 1 یعنی وہ تمہارا گورو ہے اور تم اس کے چیلے ہو جس سے … معلوم ہوتا ہے کہ تم آپس میں طے کر کے آئے ہو کہ پہلے چیلے ایک شعبدہ دکھائیں گے پھر وہ سب کے سامنے ” گورو “ سے شکستک ھا لیں گے، تاکہ دیکھنے والے ان کے ” گورو “ کا کہنا مان لیں اور اس کے معتقدبن جائیں۔ فرعون نے یہ شبہ اسی وقت پیدا کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام بھی ان کے متبع ہوجائیں۔ (کبیر)2 شبہ پیدا کرنے کے بعد اوپر سے دھمکی بھی دے دی تاکہ ان کو ایمان پر قائم رہنے سے پھیر دیا جائے اور دوسرے لوگ بھی مرعوب ہوجائیں۔ (کبیر)3 یعنی آیا آخرت کا عذاب جس سے موسیٰ ڈراتے ہیں۔ زیادہ سخت اور دیرپا ہے یا میرا عذاب ؟ فرعون حقیقت حال سے واقف تھا مگر اپنی شکست فاش پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ دھمکیاں دے رہا تھا اور بفوات بک رہا تھا۔ (کبیر)
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم تجھ کو ان دلیلوں سے جو ہمارے پاس آئیں اور اس خدا نے جس نے ہم کو پیدا کیا بڑھ کر سمجھنے والے نہیں جو تجھے کرنا ہے مگر گذر (سولی دے یا قتل کر) تیرا زور بس دنیا کی زندگی پر چل سکتا ہے4

ف 4 مگر جادو گروں کا ایمان تو ایک لمحہ میں اس قدر پختہ ہوگیا کہ اب فرعون کی دھمکیوں کا بھی ان پر کچھ اثر نہ تھا۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ تو اس سے زیادہ کیا کرسکتا ہے کہ ہماری چند روزہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ کر دے۔ سو ہمیں اس کی پرواہ نہیں مگر آج ایک شخص ساٹھ سال قرآن پڑھ کر بھی دنیائے دو دن کے بدلے اپنے ایمان کو فروخت کردیتا ہے۔ (کذافی الکبیر)
Ayahs 20:73–74

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے مالک پر یقین کرچکے اس لئے کہ وہ ہمارے قصور اور اس (گناہ) کو جو تو نے زبردستی بم سے جادو کرایا بخش دے اور اللہ (کا دین اس کا ثواب فیزے مال و دولت سے) بہتر ہے اور اس کا عذاب بھی تیرے عذاب سے زیادہ دیر پا ہے۔

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بیشک جو کوئی مرتے وقت کافر رہ کر اپنے مالک کے سامنے حاضر ہوگا اس کے5 لئے دوزخ ہے نہ وہاں مریگا کہ چلو چھٹی ہوئی، اور نہ جئے گا (جیسے جینا چاہیے یعنی آرام کے ساتھ

ف 5 یعنی زندگی اور موت کے درمیان لٹکتا رہے گا حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک مرتبی نبی ﷺ خطب دیتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ نے فرمایا :” جو لوگ دوزخ والے (کافر) ہیں وہ تو نہ اس میں جئیں گے اور نہ مریں گے اور جو دوزخ والے نہیں (یعنی گنہگار مسلمان) تو آگ انہیں یکبارگی مار دے گی، پھر شفاعت کرنے والے پیغمبر کھڑے ہو کر ان کی شفاعت کریں گے پھر انہیں گھٹھڑیوں کی صورت میں ایک دریا پر جس کا نام ” الحیاۃ “ یا ” الحیوان “ ہوگا لایا جائے گا پھر (اس میں نہا کر) وہ اس طرح بڑھیں گے جس طرح گھاس پھوس سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں بڑھتا ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ مسلم و ابن ابی حاتم)
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو کوئی ایمان رکھ کر اس کے سامنے حاضر ہوگا اور وہ (دنیا میں) نیک کام (بھی) آ کرچکا ہے تو ایسے لوگوں کو6 بلند درجے لیں گے۔

ف 6 حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جنت کے سو درجے ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان (مسند احمد) صحیحین میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” اعلی علیین والے اپنے سے اوپر والوں کو یوں دیکھیں گے جیسے تم افق میں غروب ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو۔ (ابن کثیر)
Ayahs 20:76–78

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ ان کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں سدا ان میں رہیں گے اور جو کوئی (کفر اور گناہوں کی نجاست سے پاک رہے اس کا یہی بدلہ ہے

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ میرے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو رات ہی رات (مصر سے نکال) لے جا پھر سمندر میں ان کے لئے (لاٹھی مار کر) سوکھا رستہ بنا نہ تجھے (فرعن کے) آ پکڑنے ڈر ہوگا۔ نہ (سمندر میں ڈوب جانے کا) خوف۔

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

(جب بنی اراسئیل رات کو مصر سے چل کھڑے ہوئے) تو فرعون (خبر پا کر) اپنے لشکر سمیت ان کے پیچھے لگا۔ پھر سمندر ق 7 نے ان کو جیسا گھیر لیا ویسا گھیرا

ف 7 یعنی جیسا کہ گھیرنے کا حق تھا، ویسا گھیر لیا۔ ان میں سے کوئی بھی نہ زندہ نہ بچا۔ (واقعہ کی تفصیل کیلئے سورة شعراء رکوع 4، یونس آی 93:9)
Ayahs 20:79–80

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور نہیں لگیا

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ہم نے تم کو تمہایر دشمن (فرعون) سے نجات دلائی اور (توریت شریف اپنے کے لئے تم سے طور (پہاڑ) کا داہنا جانب مقرر کیا اور ہم نے تم پر (جنگل میں جہاں سمجھ کھانے کو نہیں ملتا تھا من اور سلویٰ اتار3

ف 1 کیونکہ اس نے جب بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کیلئے اپنی قوم کو ساتھ لیا تھا یہ کہا تھا کہ موسیٰ اور ان کے ساتھی ہم سے بچ کر نہیں جاسکتے اس لئے کہ وہ خشک راستے پر جا رہے ہیں اور ان کے سامنے سمندر ہے۔ مگر ہوا یہ کہ بنی اسرائیل تو بچ کر نکل گئے، اور فرعون اپنی پوری قوم سمیت تباہ ہوگیا۔2 مراد پہاڑ کی وہی جانب ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے تھے۔ مصر سے شام جاتے ہوئے کوہ طور داہنی جانب پڑتا ہے۔ سورة بقرہ رکوع 6 اور سورة اعراف رکوع میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تورۃ دینے کے لئے چلایس دن کی معیاد مقرر کی تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ طور سے تختیوں پر لکھی ہوئی توراۃ لے کر واپس ہوئے پہلی نعمت دنیوی ہے اور یہ نعمت دینی ہے۔3 تیسری بار پھر نعمت دنیوی کا ذکر فرمایا۔ من وسلویٰ کی تفسیر کے لئے دیکھیے۔ ( سورة بقرہ :57)