19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 19:1–2

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ بیان ہے اس مہربانی کا جو تیرے مالک نے اپنے بندے زکریا پر کی9

ف 8 اس ترجمہ کے مطابق ” زکریا “ کا لفظ ” عبدہ “ سے عطف بیان یا بدل ہے اور ” عبدہ “ رحمتہ کا مفعول ہے اور حضرت زکریا پر رحمت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت یحییٰ عنایت کئے۔ (شوکانی) حضرت یحییٰ بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زکریا بخار بڑھئی) تھے۔ نیز ان کے قصہ کے لئے دیکھئے سورة عمران
Ayah 19:3

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب اس نے اپنے مالک کو دبی آواز سے پکارا9

ف 9 یعنی رات کے وقت خلوت میں چپکے پکارا کیونکہ اخفاء میں اخلاص بھی زیادہ ہوتا ہے اور ریا کاری کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا۔ (کبیر)
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

کہنے لگا مالک میرے میری ہڈیاں بودی ہوگیں (کمزور جیسے بڑھاپے میں ہوجاتی ہیں اور (بڑھاپے کی) سفیدی سے سر چمکنے لگا (یعنی بال بالکل سفید ہوگئے اور میں تجھ کو پکار کر (کبھی) محروم نہیں

ف 1 یعنی تو نے ہمیشہ میری وہ قبول فرمائی تو اب آخری وقت اور بڑھاپے کے عالم میں طمع پیدا ہوئی کہ تجھ سے دعا کروں۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور مجھے اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے2 اور میری بی بی بانجھ ہے3 تو اپنے کرم سے مجھے ایک فرزند عطا فرما

ف 2 مطلب یہ ہے کہ ان میں مجھے کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اس لائق ہو کہ میرے بعد پیغمبری کے عظیم ال شان منصب پر فائز کیا جاسکے اور تیرے دین کی تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔3 ابن جریر لکھتے ہیں کہ ان کی بیوی کا نام اشاع بنت فاقوذ تھا اور وہ حرت مریم کی والدہ حفہ کی بہن تھیں۔ قتیبی نے ان کا نام شاع بنت عمران لکھا ہے اور وہ حضرت مریم کی بہن تھیں۔ پہلے قول کے مطابق حضرت یحییٰ حضرت مریم کے اور دوسرے قول کے مطاب حضرت عیسیٰ کے خالہ زاد بھائی تھے اور حدیث معراج میں بھی ان دونوں کو ” ابنی خالہ “ فرمایا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 19:6

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا وارث ہو اور یعقوب کی اولاد کا بھی وارث ہو4 اور اس کو اے مالک چہیتا بنا (اپنا مقبول یا سب خلائق کا مقبول

ف 4 یعنی پیغمبری کا وارث ہو جیسا کہ جمہور مفسرین نے بیان کیا ہے کہ کیونکہ پیغمبروں کے مال و دولت کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ آنحضرت نے فرمایا ہے : ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو مال چھو دیتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ابن کثیر
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

(اللہ نے اس کی دعا تریہ برس بعد قبول کی اور فرمایا اے زکریا ہم تجھ کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں اس کا نام یحییٰ ہوگا یہ نام ہم نے اس سے5 سے پہلے کسی کا نہیں رکھا۔

ف 5 اس میں حضرت یحییٰ کی فضیلت دو پہلوئوں سے بیان کی گی ہے۔ ایک یہ کہ ان کا نام اللہ تعالیٰ نے خود رکھا اور دوسرے یہ کہ ان کا نام ایسا رکھا جو ان سے پہلے کسی نبی کا نہیں تھا۔
Ayah 19:8

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا مالک میرے مجھ کو لڑکا کیوں کر ہوگا میری بی بی تو بانجھ ہے اور میں بوڑھا پھونس ہوگیا ہوں6

ف 6 حضرت زکریا نے یہ سوال بیٹے کی غیر معمولی خوشخبری سن کر مزید دلی اطمینان حاصل کرنے کے لئے غیر اختیاری طور پر کیا ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں انوکھی چیز مانگنے پر تعجب نہ آیا جب سنا کہ ملے گی تب تعجب کیا۔ یعلی تیرے بڑھاپے اور تیری بیوی کے بانجھ پن کے باوجود تیرے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔
Ayahs 19:9–10

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

اس فرشتے نے جو خوشخبری دینے آیا تھا، کہا (یا پروردگار نے فرمایا) یوں ہی ہوگا۔ تیرا مالک فرماتا ہے تم دونوں کو اولاد دینا تو مجھ کو آسان ہے اور اس سے پہلے میں نے تجھ کو پیدا کردیا جب تو کچھ نہ تھا (معدوم تھا)

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا مالک میرے ایک نشانی میرے لئے مقرر کر دے۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تو تین رات تک اچھا چنگا بھلا رہ کر لوگوں سے بات چیت نہ کرسکے گا۔

ف 8 یعنی کوئی ایسی نشانی بتاہ دے کہ ان حالات میں ہمارے ہاں لڑکے کی پیدائش ہونے والی ہو تو مجھ پہلے سے اس کا پتا چل جائے۔ 9 یعنی جب تین رات (دن) تک تم صحیح وسالم ہونے کے باوجود لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے تو سمجھ لینا کہ حمل قرار دیا گیا۔ سلف کی تفسیر کے مطابق کسی مرض کے بغیر ہی زبان بند ہوگئی تھی (ابن کثیر)
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر زکریا (عادت کے موافق) حجرے سے (جس میں عبادت کیا کرتے تھے) اپنے لوگوں پاس نکلا (بات نہ کرسکا) تو اشارے سے ان کو کہنے لگا صبح اور شام (خدا کی) عبادت کرو۔

ف 10 کیونکہ اس وقت وہ صرف اشاررے ہی سے گفتگو کرسکتے تھے جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت میں ہے ” الا رمزا “ مگر اشارے سے بات چیت کرسکو گے) اور لوگوں کو صبح و شام خدا کی تسبیح کا اس لئے حکم دیا گیا کہ خود انہیں علامت ظاہر ہوجانے پر یہی حکم دیا گیا تھا۔ واذ کر ربک کثیر وسیج بالغشی والابکار اور اپنے رب کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔
Ayah 19:12

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ تورات شریف کو مضبوطی سے تھا4 وہ (اس کے حکموں پر عمل کرتا رہ) اور ہم نے اس کو بچپنے ہی سے سمجھ دی تھی

ف 11 یعنی جب یحییٰ پیدا ہونے کے بعد سوچنے سمجھنے کی عمر کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکم دیا ” اے یحییٰ …(شوکانی) 12 سمجھ یعنی کتاب کو سمجھنے اور اس کے احکام کے مطابق تمام معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے ک صلاحیت بعض مفسرین نے حکم سے مراد نبوت بھی لی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے عام عادت کے خلاف حضرت یحییٰ کو بچپن ہی سے نبوت عطا فرمائی (ابن کثیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں : باپ ضعیف تھے اور یہ جوان پس یہ باپ کی جگہ لوگوں کو علم کتاب سکھانے لگے (موضح)13 یعنی اخلاق و کردار کی پاکیزگی جو گناہوں سے بچے رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔14 اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو ہر گناہ سے بچایا تھا۔ حدیث میں ہے کہ انہوں نے نہ کبھی گناہ کیا اور نہ گناہ کا ارادہ کیا۔ (فتح القدیر)15 یعنی خود سر اور مغرور حالانکہ بڑی امنگوں کے بعد پیدا ہونے والی اولاد عموماً ایسی ہوتی ہے لیکن یحییٰ ایسے نہ تھے۔ (موضح)
Ayahs 19:13–15

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس سے رحم دلی (لوگوں پر شفقت اور مہربانی اور ستھرائی اور وہ پرہیز گار تھا

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور اپنے ماں باپ کا تابعدار اور مگر ا (غاٹا) نافرمان نہ تھا (کہ ماں باپ کو کچھ نہ سمجھے اور خدا کی نافرمانی کیر )

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور اس پر خدا کی امان ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرنیوالا تھا اور جس پھر (دوبارہ) جی کر اٹھے

ف 1 یعنی پیدائش سے وافت تک اللہ تعالیٰ کی امان میں رہیں گے اور دوسرے بنی آدم کی طرح ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہو سکے گا اور آئندہ بھی قیامت تک اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ اس سے ان کی عزت افزائی کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ یوم یموت کے معنی یہ ہیں کہ عذاب قبر سے مامون رہیں گے۔ یہ تین اقوات انسان پر انتہائی وحشت کے ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان اقوات میں یحی (علیہ السلام) کے اکرام کو ظاہر کردیا۔ (کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں اللہ کے کسی بندے پر سلام کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔
Ayah 19:16

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) قرآن میں مریم کا (قصہ) بیان کر جب وہ (اپنے لوگوں سے) الگ ہو کر (مسجد سے) پورب کی طرف ایک جگہ جا بیٹھی

ف 2 حضرت زکریا کے قصہ کی مناسبت سے حضرت مریم کا قصہ ذکر فرما دیا دیکھیے سورة آل عمران رکوع 5) 3 عبادت کے لئے یا حیض سے مہارت حاصل کرنے کیلئے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ” مجھے خوب معلوم ہے کہ نصاریٰ نے مشرق کو اس آیت کی وجہ سے قبلہ بنایا ہے۔ ابن جریر جیسا کہ شاہ صاحب نے بھی کلھا ہے : وہ مکان مشرق میں تھا اب نصاریٰ مشرق کو قبلہ ٹھہرائے ہیں۔ (موضح)
Ayah 19:17

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو اس نے ان کی طرف سے اڑ کرلی (نہانے کے لئے یاسر میں سے جوئیں نکالنے کے لئے پھر ہم نے اپنی روح (حضرت جبرائیل یا خود حضرت عیسیٰ کی روح کو اس کے پاس بھیجا وہ اچھے خاصے پورے آدمی کی شکل بن کر اس کے سامنے آگیا۔

ف 4 بعض مفسرین نے اگرچہ روحنا ہماری (روح) سے مراد حضرت عیسیٰ کی روح مراد لی ہے مگر زیادہ تر قرین قیاس یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت جبرئیل ہی لئے جائیں جیسا کہ آگے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ایک اچھے خاصے پورے آدمی کی شکل میں ان کے سامنے آگیا۔ (فتح مقدر)
Ayah 19:18

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

کہنے لگی میں تجھ سے خدا کی پناہ چاہتی ہوں اگر تو (خدا سے) ڈرتا ہے

ف 5 یعنی دیکھنے میں تم نہایت پاکباز اور پرہیز گار نظر آرہے ہو اگر تم واقعی خدا سے ڈرنے والے ہو تو میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتی ہوں کہ میرے پاس سے چلے جائو اور مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔ (شوکانی)
Ayah 19:19

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

وہ کہنے لگا میں تو تیرے مالک کا بھیجا ہوا ہوں اس لئے آیا ہوں کہ تجھ کو ایک پاک لڑکا دوں۔

ف 6 یعنی میرے بارے میں کوئی برا خیال دل میں نہ لائو۔ میں تو اسی خدا کی طرف سے بھیجا ہوا فرشتہ ہوں جس کی تم پناہ مانگ رہی ہو۔ عطا کرنے والا اگرچہ خدا ہے مگر چونکہ حضرت جبرئیل خدا کے بھیجے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے عطا کروں کا لفظ استعمال فرمایا۔ (شوکانی)
Ayah 19:20

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم کہنے لگی مجھ کو لکڑا کیونکر ہوگا اور کسی مرد نے مجھ کو چھوا تک نہیں (مجھ سے نکاح نہیں کیا) اور میں بدکار بھی نہیں ہوں (کہ چھپا چراکر میں نے برا کام کیا ہو)

ف 7 یعنی تیرے ہاں بچہ کی پیدائش عام عادت کے مطابق نہیں بلکہ معجزہ کے طور پر ہوگی۔8 یعنی بن باپ کا لڑکا پیدا ہوگا۔ اللہ کی قدرت ہے۔ (موضح)
Ayah 19:21

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

وہ بولا یوں ہی ہوگا) صحبت کی ضرورت نہیں) تیرا مالک فرماتا ہے۔ بےباپ کے لڑکا پیدا کرنا مجھ پر آسان ہے (جب بن باپ اور بن ماں کے میں پیدا کرسکتا ہوں) اور اس سے مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کے لئے اس لڑکے کو اپنی قدرت کی نشانی بنئایں اور اپنی طرف سے (بندوں پر رحم کریں اور یہ بات تو روز ازل میں ٹھہر چکی ہے

ف 9 اس لئے اس کا ہونا ناگزیر ہے۔ لوح محفوظ میں اسی طرح لکھا ہے جہاں کا لکھا بدل نہیں سکتا۔ (زو عبدی)
Ayah 19:22

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو لڑکے کا حمل اس کو رہ گیا پھر وہ پیٹ لئے ہوئے ایک دور مکان میں چلی گی

ف 10 تاکہ حمل کے دن لوگوں کے طعن وتشنیع اور چہ میگوئیوں سے محفوظ رہ کر گزار سکیں۔ ” دور کان “ سے مراد بیت اللحم ہے جو بیت المقدس سے آٹھ میل دور واقع ہے اسی کا نسائی میں حضرت انس کی ایک روایت میں ذکر ہے اور یہی وہ مشہور بات ہے جسے مفسرین یکے بعد دیگرے نقل کرتے رہے ہیں اور اس باب میں نصاریٰ کو بھی کوئی شک نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 19:23–24

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر دور اس کو ایک کھجور کی جڑ میں اس پر ٹیکا دینے کو ایسے گیا وہ کہنے لگی کاش میں اس مصیبت سے پہلے ہی مرجاتی (ایک تو درد اور تکلف دوسرے لوگوں میں روسائی کا ڈر اور مر کر دنیا سے) بھولی بسری ہوجاتی (کوئی مریا ذکر تک نہ کرتا)

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پھر نیچے کی طرف سے اس کو فرشتے نے آواز دی (یا خود حضرت عیسیٰ نے تاریخ کیوں کرتی ہے (دیکھ تو) تیرے مالک نے تیرے تلے ایک سردار کو رکھا ہے (جو تمام بنی اسرائیل پر سرداری کو لگا)

ف 11 سریا کے معنی بعض مفسرین نے بیان کئے ہیں جمہور مفسرین نے اس کے معنی چھوٹی نہر “ یا ” چشمہ رواں “ کئے ہیں اور موقع و محل کی مناسبت سے یہی زیادہ موزوں ہیں۔ یوں لغت کے اعتبار سے دونوں کی گنجائش ہے۔ (ابن کثیر شوکانی)
Ayahs 19:25–26

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف جھکا (خدا کی قدرت سے) تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو سرے سے کھجوریں) کھا اور چشمے کا میٹھا پانی پی اور (بیٹے کو دیکھ کر) آنکھ ٹھنڈی کر (یا آرام سے سوجا) پھر اگر تو کوئی آدمی دیکھے تو اس سے کہہ دے میں نے اللہ کی منت کا روزہ رکھا ہے تو میں آج کسی آدمی سے باتن ہیں کرسکتی۔

ف 1 اور وہ تجھ سے پوچھے کہ یہ لڑکا کہاں سے آگیا اور یہ کیا مراج ہیڈ 2 یہاں قول بمعنی اشارہ ہے یعنی اسے اشارے سے مجھا دے۔ لہٰذا یہ مابعد کے جملہ فلن اکلم الیوم انسیا کے منافی نہیں ہے۔ (ابن کثیر) 3 بنی اسرائیل کے ہاں روزہ میں چپ رہنے کی نیت جائز تھی۔ ہماری شریعت میں یہ جائز نہیں ہے۔
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر میرم لڑکے کے گود میں لئے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس گئی وہ کہنے لگے مریم یہ تو نے کیا غضب کیا۔

(کذافی الموضح)4 یعنی گود میں بچہ لئے آرہی ہے حالانکہ یرا اب تک نکاح بھی نہیں ہوا اور تو کنواری ہے۔ (زوعبدی بہ تفسیر)
Ayah 19:28

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن تیرا باپ کچھ برا آدمی (بدکار نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی۔

ف 5 حضرت موسیٰ کے بھائی ہارون کی بہن تو ہو نہیں سکتی کیونکہ ان کا زمانہ حضرت مریم سے سینکڑوں برس پہلے کا ہے اس لئے مفسرین نے ان الفاظ کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت مریم کے کسی بھائی کا نام ہارون ہو جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ بنی اسرائیل اپنے نام اپنے انبیاء و صلحا کے نام پر رکھ لیتے تھے۔ مسلم ترمذی) یا ہوسکتا ہے کہ زہد و عبادت میں تشبیہ کے طور پر اسے اخت ہارون “ کہہ دیا ہو۔ یا ممکن ہے حضرت ہارون کے خاندان سے ہوں اس لئے انہیں عربی محاورہ کے مطابق اخت ہارون کہہ دیا۔ جیسا کہ جب کوئی آدمی مضر قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو تو اسے اخا مضر کہہ کر پکار لیتے ہیں۔ گویہ صحیح ہے کہ حضرت موسیٰ ٰو ہارون کی ایک بہن کا نام بھی مریم تھا مگر وہ قطعاً مراد نہیں ہوسکتی اور نہ وہ حضرت عیسیٰ کی والدہ ہی بن سکتی ہے۔ (ابن کثیر شوکانی) 6 یعنی تیرے خادنان میں کوئی بھی بیکار نہیں گزرا۔ تیرے ماں باپ دونوں نہایت نیک اور پرہیز گار تھے پھر تو نے یہ برے لچھن کہاں سے سیکھ لئے ؟ (وحیدی)
Ayah 19:29

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

مریم نے عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا (اس سے پوچھو جو کچھ پوچھتے ہو وہ کہعین لگے بھلا ہم بچے سے کیا بات کریں جو گود (میں ہے ہے (یا نہالچہ7 میں)

ف 7 ان الفاظ سے صاف پتا چلتا ہے کہ آگے حضرت عیسیٰ کی جو گفتگلو بیان کی جا رہی ہے وہ ان کے بچنے کی گفتگو ہے جو انہوں نے گود یا گہوارے میں کی۔ بف اس آل عمران 26) اور صحیح بخاری میں ہے کہ تین بچوں نے گہوارے میں گفتگو جوانی کے وقت کی ہے اور انہوں نے ’ فی المہر حبیباً کا ترجمہ کل کا بچہ کیا ہے مگر یتاویل محہمل سی ہے جو واقعات اور محاورہ کے خلاف ہے۔
Ayah 19:30

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

بچہ (یہ سنتے ہی) بول اٹھا میں اللہ کا بندہ ہو ہوں۔ اس نے مجھ کو کتاب دی (انجیل مقدس اور مجھ کو پیغمبر بنایا۔

ف 8 گویا سب سے پہلا کلمہ جو حضرت عیسیٰ نے اپنی زبان سے ادا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا اعتراف تھا اور یہ کہ آئندذہ مجھے کتاب مقدس انجیل ملے گی 9 یعنی تا زندگی جیسا کہ آنحضرت کو حکم دیا گیا ہے۔ ” واعبد ربک حئی یاتیک الیقین (حجر 99)
Ayahs 19:31–33

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں رہوں اس نے مجھے برکت والا بنایا (یعنی نیک باتیں سکھلانے والا) اور اس نے مجھ کو نماز پڑھنے اور زکواۃ دینے یا دل کو معاف کرنے) کا حکم دیا یہ جب تک میں (دنیا میں زندہ رہوں

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور اپنی ماں کا تابعدار بنایا اور اس نے مجھ کو مگر نالائق نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور مجھ پر خدا کی امان ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن پھر جلا کر اٹھایا جائوں گا10

ف 10 یعنی پیدائش سے موت تک اور موت سے قیامت تک میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہوں گا۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

عیسیٰ مریم کے بیٹے کی یہ حقیقت ہے سچی بات جس میں وہ جھگڑا کرتے ہیں1 1

ف 11 یعنی کسی نے انہیں خدا یا خدا کا بیٹا بنادیا اور کسی نے انہیں حرام زاندہ و مفتری کذاب قرار دیا۔ (العیاظ باللہ) سچی بات ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے کہ وہ خدا کے سچے پیغمبر ہیں اور ان کا حسب و نسب ہر عیب اور شک و شبہ سے بالا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ذات ہے (بیٹا بیٹی اس کے کہاں ہوسکتے ہیں) جب وہ کوئی کام ٹھہرا لیتا ہے تو فرماتا ہے ہو وہ ہوجاتا ہے12

ف 12 جسے یہ قدرت حال ہو کہ کلمہ کن سے ہر چیز وجود میں لاسکتا ہو اسے ییٹا بنانے کی کیا ضرورت اور پھر جب اللہ جلہ کی شان یہ ہے تو حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے جنم دے سکتا ہے۔ (کبیر)
Ayahs 19:36–37

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک اللہ میرا مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے اور اسی کو پوجو یہی سیدھا رستہ ہے (یحنی توحید کا باقی سب رستے ٹیڑھے اور کج ہیں)

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (حضرت عیسیٰ کے بعد نصاریٰ کے) فرقے آپس میں لگے اختلاف کرنے تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا (حضرت عیسیٰ کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھنے لگے) بڑے دن میں حاضر ہوتے وقت ان کی خرابی ہے۔

ف 13 یعنی قیامت کے دن نہایت ذلیل و خوار ہوں گے اور خدا کے عذاب میں گرفتار کئے جائیں گے۔
Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

جس دن ہمارے سامنے آئیں گے (یعنی قیامت کے دن) اس دن خوب سنتے اور دیکھتے ہونگے لیکن آج تو (دنیا میں) یہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں

ف 1 یعنی آج تو حق سے بہرے اور اندھے ہو رہے ہیں مگر آخرت میں ان کے کان اور آنکھیں خوب کھلی ہوں گی اور ربنا ابصرنا وسمعنا “ کہیں گے مگر اس وقت کا دیکھنا اور سننا کسی کام نہ آسکے گا۔ ) ابن کثیر)
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان (ظالموں) کو افسوس کے دن سے ڈرا جب کام3 تمام ہوجائیگا اور (اب تو) وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے (دنیا کے دھندوں نے ان کو اندھا کردیا ہے )

ف 2 یعنی قیامت کے دن سے جس میں سوائے پچھتاوے اور حسرت کے کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔ (ان یقول نفس یا حسرتا علی مافرطت فی جنب اللہ۔ 3 یعنی حساب و کتاب اور ثواب و عقاب کے متعلق فیصلہ کردیا جائے گا۔ مروی ہے کہ جب حشر کے روز دوزخ سے گنہگار مسلمانوں کو نکالا جائے گا تب کافر بھی اس توقع میں ہونگے لیکن جب موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر ذبح کردیا جائے گا تو اس وقت کافر تم واندوہ میں کھوکر رہ جائیں گے اور بالکل مایوس ہوجائیں گے۔ چناچہ آنحضرت نے یہ واقعہ ذکر فرماکر پھر یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی ’ دقضی الامر “ سے مراد یہی فیصلہ ہے۔ (کبیر ابن کثیر)
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

(کیا ان کو اتنی مسجھ نہیں ہے کہ) ہم ہی زمین کے4 وارث ہونگے اور ان لوگوں کے جو زمین پر (بستے) ہیں اور ہماری طرف ان کو لوٹ کر آنا ہے (اپنے اعمال کا محاسبہ دینا ہے

ف 4 یعنی سب مرجائیں گے اور ہمارے سو ان کا کوئی وارث پیچھے رہنے والا نہ ہوگا۔