18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 18:1–4

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جس نے اپنے بندے (محمد) پر قرآن اتارا اور اس میں کسی طرح کی کسر نہیں رکھی

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

سیدھا صاف اس نے کہ کافروں کو) اس سخت عذاب سے ڈرائے ج و اس کی طرف سے آنیوالا ہے اور مسلمانوں کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دے کہ ان کو اچھی مزدوری بہشت ملے گی

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں و ہمیشہ رہیں گے

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو (بھی) ڈرائے جو کہتے ہیں اللہ اولاد رکھتا ہے1

ف 1 مراد ہیں نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا مشرکین عرب بھی جو فرشتوں کو خدا کی بٹیاں قرار دیتے ہیں اور یہود جو حضرت عزیز کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

نہ ان کے پاس اس بات کی کوئی سند ہے نہ ان کے باپ دادا پاس تھی2 بڑی (سخت) بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (معاذ اللہ کہ اللہ اولاد رکھتا ہے) بالکل جھوٹ کہتے ہیں (سفید جھوٹ جس میں سچائی کا نام نہیں)

ف 2 محض جہالت کی بنا پر ان کے باپ دادا نے یہ بات نکالی اور محض جہالت کی بنا پر انہوں نے ان کی تقلید کی
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) اگر یہ کافر اس قرآن پر یقین نہ لائیں تو ان کے پیچھے رنج کے مارے شاید اپنی جان گنوائے گا۔ اپنے تئیں بلاک کریگا )

ف 3 اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی رہتا ہے کہ ان لوگوں کے ایمان نہ الیء پر آپ اپنے آپ کو رنج و غم سے کیوں گھلا رہے ہیں سا آیت سے انداز ہوسکتا ہے کہ ا آنحضرت کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے کا کس قدر صدمہ تھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے باخ نفسک (اپنے تئیں ہلاک کرلینے والے) کا لفظ استعمال کیا۔ اسی کیفیت کو آنحضرت نے خود ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ میری اور تم لوگوں کی مثال ایسی ہے کہ تم پروانوں کی طرح آگ سے گر رہے ہو اور میں تمہاری بچانے کی کوشش کرنا ہوا (بخاری مسلم)
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

ہم نے جو کچھ زمین پر بنایا اس کی رونق کے لئے بنایا (مثلاً باغ مکانات کھیتی بڑی وغیرہ) اس لئے کہم لوگوں کو جانچیں انہیں کون اچھے کام کرتا ہے۔4

ف 4 یعنی کون دنیا کی سج دھج کی طرف دوڑتا ہے اور کون اس کو چھوڑ کر آخرت کو پکڑتا ہے۔ (موضح)
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور (ایک دن) ہم جو کچھ اس پر ہے (صاف کر کے) چٹیل میدان بنا دینگے5

ف 5 نہ کوئی مکان رہے گا نہ باغ نہ سبزہ نہ جانور نہ آدمی یعنی یہ ساری چہل پہل ختم ہوجائے گی۔ (وحیدی)
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تو یہ سجھا ہے کہ غار اور تختے والے حجاری (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھی6

ف 6 یعنی ہماری قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کے سامنے ان لوگوں کا قصہ جو آگے آرہا ہے کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر حد سے زیادہ حیرت کا اظہار کیا جائے بلکہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ قریش نے یہود کے مشورے سے آنحضرت سے بطور آزمئاش جن اموال کہے۔ روح کیا ہے ؟ اصحاب کہف کا قصہ کیا ہے ؟ اور ذوالقرنین کی سرگزشت کیا ہے ؟ اور انہوں نے اصحاب کہف کے قصے کو خاص اہمیت دی۔ ان کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ کہف عربی زبان میں وسیع غار کو کہتے ہیں اور رقم (تختی) سے مراد پتھر یا شیشے کا وہ کتبہ جس پر انہی اصحاب کہف کے نام لکھے تھے بعض قدیم مفسرین نے اس سے مراد وہ بستی لی ہے جہاں یہ قصہ پیش آیا تھا اور جو ایلہ (عقبہ) کے قریب یا نینوی (موصل) کے قریب یا رومیوں کی سر زمین میں واقع تھی اور اس کا نام اقس یا افسوس تھا۔ ان دنوں اردن کے دارالسلطنت عمان سے دس بارہ میل کے فاصلے پر ایک بستی ہے جس کا نام ” الرقیب “ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک غار پایا جاتا ہے اس بستی کے رہنے والوں کا خیال ہے کہ اصحاب کہف کا قصد یہیں پیش آیا تھا اور اس بستی کا اصل نام الرقیم تھا جو بعد میں بگڑ کر الرقیب ہوگیا مگر یہ کوئی محقق بات نہیں ہے۔ اس زمانہ کے بعض مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ غار ترکی کے شہر از میر (سمرنا) کے قریب واقع تھا۔ واللہ اعلم
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب ان جوانوں نے (ایک پہاڑ کی) غار (کھوہ) میں پناہ7 بھی پھر دعا کرنے لگے ایک ہمارے ہم کو اپنی خاص رحمت عنایت فرما اور ہمارا کام اچھی طرح سے بنا دے8 (ہم کو اپنے مقصد میں آسانی کے ساتھ کامیاب کر دے )

ف 7 تاکہ اپنی قوم کے فتنے سے اپنے دین کو محفوظ رکھ سکیں اور ان کی قوم کو پتا نہ چل سکے کہ وہ کہاں گئے ؟8 یا ” ہماری عاقبت بخیر کر۔ “ (ابن کثیر)
Ayahs 18:11–13

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے ان کے کان تھپک دے۔ (انکو سلا دیا کئی برس تک (سو کے رہے)

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو (جگا) اٹھایا اس لئے کہ دیکھیں ان کے دو فرقوں میں سے کس فرقے کو ان کے (غار میں) رہے کہ مدت خوب یاد ہے

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم تجھ سے ان کاٹھیک قصہ بیان رتے ہیں یہ لوگ (اصحاب کہف) چند جوان شخص تھے جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے1 اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدات دی

ف 1 سلف و خلف رحم اللہ میں سے بہت سے مفسرین کا بیان ہے کہ یہ چند آدمی شہزادے تھے۔ ان کی قوم بتوں کی پوجا کرتی اور ان کے نام پر چڑھاوے چڑھاتی تھی لیکن اللہ نے انہیں توفیق دی اور انہوں نے توحید کی راہ اختیار کی۔ اس پر ان کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس بتایا جاتا ہے۔ ان کے درپے آزاد ہوگیا اور پوری قوم کو ان کے خلاف بھانے لگا اسی کشمکش میں انہوں نے فتنہ سے بچنے کے لئے غار میں پناہ لی۔ عموماً قدیم وجیہہ محققین کا خیال یہ ہے کہ ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ کے بعد کا ہے اور یہ کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ہی کا دین قبول کیا تھا مگر ابن کثیر نے حضرت عیسیٰ سے پہلے کا زمانہ بتایا ہے کیونکہ اگر وہ عیسیٰ کے دین پر ہوتے تو یہود اس قصہ کو اتنی اہمیت نہ دیتے۔ واللہ علم شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ بادشاہ کے خدام اور نوکر تھے جو بت پرست بادشاہ سے چھپ کر شہر سے نکل گئے۔ (موضح)
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا2 تو وہ اٹھ کھیڑ ہوئے اور کہنے لگے ہمارا مالک تو وہی ہے جو آسمان اور زمین کا مالک ہے ہم تو ہرگز اس کے سوا دوسرے کسی خدا کو پکارنے والے نہیں اگر ہم ایسا کریں تو ہم نے بڑی کفر کے بات کہی

ف 2 یعنی انہیں حق و صداقت پر قائم رہنے کی توفیق بخشی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال لینا گوارا کرلیا مگر باطل کے آگے سر جھکانے کو تیار نہ ہوئے۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

اور آپس میں صلاح کرنے لگے) یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اور معبود (بھی بنا رکھے ہیں (اگر یہ سچے ہیں) تو ان کے معبود ہونے پر کوئی کھل سند کیوں نہیں لاتے3 پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ جھوٹ باندھے4

ف 3 اور جب سند نہیں ملاتے تو معلوم ہوا کہ اپنے دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں۔4 یعنی کسی دوسرے کو اس کا شریک قرار دے حالانکہ اس نے کسی کو اپنا شریک نہیں بنایا۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم ان سے (اپنی قوم کے لوگوں سے) اور جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں۔ ان سے الگ ہوگئے تو غار میں پناہ لو تمہارا مالک اپنی رحمت تم پر پھیلا دیگا اور تمہارا کام آرام سے بنا دیگاف 5 صالح کر کے وہ غار میں جا چھپے)

ف 5 اس شہر سے نکل کر پاس ایک پہاڑی میں کھوہ تھی۔ آپس میں مشورہ کر کے وہاں جا بیٹھے نیند غالب ہوئی سو گئے کسی کو معلوم نہ ہوا تب سے اب تک سوتے ہیں۔ بیچ میں ایک بار اللہ نے جگا دیا جس سے لوگوں پر خبر کھلی، پھر سو رہے۔ (موضح)
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور ایسی جگہ جا کر لیٹے اگر تو ان کو دیکھے تو) دیکھے گا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کی غا رسے داہنی طرف کرتا جاتا ہے (ان پر دھوپ نہیں آتی) اور جب ڈوبنے لگتا ہے (یعنی سہ پہر) تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے6 اور وہ غار میں (تنگ جگہ پر نہیں ہیں بلکہ) کشادہ ہوجانے میں ہیں یہ بھی خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی)7 ہے جس کو اللہ راہ پر لگائے وہی راہ پاتا ہے اور جس کو وہ بھٹکا دے اس کا کوئی کام بنانیوالا تو پائیگا

ف 6 یعنی ان کے غار کا منہ شمال کے رخ تھا۔7 کہ انہیں غار کی راہ دکھائی جہاں زندہ رہنے یک لئے دھوپ اور ہوا کی جس مقدار کی ضرورت تھی وہ انہیں ملتی رہی اور وہ لوگوں کی نگاہ سے محفوظ بھی رہے۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تو ان کو (دیکھیے تو) سمجھے گا وہ جاگ رہے ہیں ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں) حالانکہ وہ ہو رہے ہیں اور ہم داہنے اور بائیں (سال میں ایکبار یا دو بار یا ہر نو برس میں ایک بار) ان کے کروٹ بدلتے ہیں8 اور ان کا کتا چوکھٹ پر اپنی باری میں پسایر پڑا ہے اگر تو ان کو جھانک کر دیکھے تو الٹے پائوں بھاگ کھڑا ہو اور تجھ میں ان کی دہشت بھر جائے

ف 8 تاکہ ایک ہی کروٹ لیٹے لیٹے ان کے بدنوں کو مٹی نہ کھاجائے۔
Ayah 18:19

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور ایسے ہی ہم نے ان کو ایک باغیچہ اس1 لئے کہ آپس میں پوچھ گچھ2 ان میں سے ایک کہنے والا کہنے لگا ( بھائیو) تم (یہاں) کتنی دیر رہے ہو گے3 انہوں نے کہا دن بھر رہے ہوں گے یا دن سے کچھ کم کہنے لگے تمہارا مالک خود جانتا ہے جتنی دیر تم (یہاں) رہے خیر (اب یہ قصہ جانے دو ) تمہارے پاس جو یہ روپیہ ہے وہ تم میں سے کسی کو دیکرشہر کو بھیر (افسوس کو جس کو اب طرطوس کہتے ہیں) وہ (وہاں) جا کرد یکھے کس کے پاس اچھا کھانا ملتا ہے4 تو اس میں سے کچھ کھانا تمہایر پاس لے کر آئے اور چپ چاپ رہے5 اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے

ف 1 یعنی ایک الگ تھلگ غار میں ان کا اس طرح لیٹا ہونا اور چوکھٹ پر کتے کا بیٹھا ہونا ایک ایسا دہشت ناک منظر پیش کرتا تھا اگر کوئی شخص اندر جھانکنے کی کوشش بھی کرنا تو خوف کے مارے بھاگ کھڑا ہوتا۔ یہ سب ان کی ایک لمبی مدت تک آرام و سکون سے سلائے رکھنے کے لئے خدائی انتظامات تھے۔2 یعنی جیسے ہم نے ایک حیرت انگیز طریقہ سے انہیں غار کے اندر سلایا اسی طرح …3 اور جب اس پوچھ گچھ کے نتیجہ میں آخر کار انہیں پتہ چلے کہ وہ کتنی مدت سوتے رہے تو انہیں ہماری قدرت کا عملی طور پر ہلکا سا اندازہ ہوجائے۔ (کبیر)4 یعنی حلال اور پاکیزہ کھاتا۔ (شوکانی)5 یعنی شہر میں داخل ہونے اور کھانا خریدنے میں ہوشیاری اور نرمی سے کام لے۔ (کبیر)
Ayahs 18:20–21

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

کیونکہ اگر وہ یعنی تمہاری قوم کے لوگ) تمہاری خبر پالیں گے ( تم تک پہنچ جائیں گے) تو پتھروں سے خم کو مار ڈالیں گے، یا تم کو زبردستی اپنے دین میں دوبارہ شریک کرلیں گے (پھر مشرک بنالیں گے) اور (اگر ایسا ہوا یعنی پھر مشرک بن گئے تو) تم کو کبھی بھلائی نہ ہوگی

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور6(جیسے) ہم نے یہ سب کام کئے) اسی طرح ہم نے ان کی نمبر گھواری اس لئے کہ ان کو یقین آجائے کہ اللہ کا وہ مسیحا ہے امر کر بپھر گی اٹھنا اور قیامت کے آنے میں شک نہیں جب قصص (شہر والے) اپنے (دین کے) مقدے میں جھگڑے تھے تو انہوں نے کہا ان لوگوں پر (یعنی اصحاب کہف کے سونے کے مقام پر) ایک عمارت بنادو نوجوان کی یادگار ہے) ان کا مالک ان کا حال خواب جانتا ہے11 جو لوگ (اس وقت) ان کے مقدمے غالب رہے (یعنی مسلمان کا وہ لوگ انہوں نے کہا ہم تو ان پر ان کے کرنے کی جگہ پر) ایک مسجد بنائیں گے

ف 6 تمہاری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجائیں گی۔7 یعنی جس طرح ہم نے ان کو ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقہ سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہروالوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کردیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے کہ ہوا یہ کہ جب وہ شخص کھانا خرینے کے لئے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے لوگوں کی تہذیب اور رہن سہن زبان و لباس ہر چیز بدل چکی ہے۔ اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہوگیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ ایک شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھاتا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکادنار کو بلایا بالآخر کچھ لوگ جمع ہوگئے اور انہیں شک گزرا کہ شاید اس شخص کو کہیں سے پرانا ناخون ہاتھ لگا ہے۔ مگر جب اس نے بتایا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں اور کل ہی یہاں دقیانوس بادشاہ کو چھوڑ کر گیا ہوں تو لوگوں نے حیرت اور بڑھ گئی اور وہ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ وہاں جب پوچھ گچھ ہوئی تو سب معاملہ کھل گیا اور سارے شہر میں یہ خبر پھیل گئی۔ اس لئے اصحاب کہف کو دیکھنے اور انہیں سلام کرنے کے لئے بادشاہ اور اسکے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پر پہنچ گیا۔ بادشاہ نے غار میں داخل ہو کر ان لوگوں سے سلام و مغافقہ کیا جس سے وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر وہ دوبارہ اپنی جگہ لیٹ گئے اور اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)8 یعنی شہر والوں کو یقین آجائے۔9 کوئی کہتا تھا کہ مر کر پھری اٹھنا برحق ہے کوئی اس سے انکار کرتا اور کہتا کہ حشر صرف روح کا ہوگا بدن کا نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے انہیں صاحاب کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلای دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر روح اور بدن دونوں کا ہوگا۔ ” اذبننا زعون امرھم بننھم “ کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جب شہر والے اصحاب کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ کیا یہ وفات پاچکے ہیں اور ان کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ (کبیر)10 کہ یہ کون لوگ ہیں کب غار میں آئے اور اب مرجانے کے بعد کس جزا کے مستحق ہیں ؟11 اور اس طرح ان کی یادگار باقی رکھیں گے۔ یہ قبروں پر مسجدیں بنانے کی جہالت اور بعت ہر زمانہ میں جاری رہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ غالب آنے والوں سے مراد وقت کے رئوسا اور مشرک ہی ہوں ورنہ اسلام میں تو قبروں پر یا بطور تبرک قبر کے پاس مسجد بنانا ہی حرام ہے۔ حدیث میں ہے کہ یہودی و نصاریٰ پر اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ (بخاری و مسلم) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن بدترین مخلوق ہوں گے۔ (بخاری و مسلم) ایک حدیث میں آنحضرت فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور ان میں چراغ روشن کرنے والوں پر لعنت فرمائے۔ (ابو دائود و ترمذی وغیرہ)
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

اب یہ لوگ (جو ائے پیغمبر ہمارے زمانہ میں ہیں) کہیں کے (وفادار کے تین تھے چوتھا انکا کتا اور (بعضے) کہیں گے پانچ تھے چھٹا ان کا کتا بن دیکھے تکے چلاتے ہیں اور (بعضے) کہیں گے ساتھ تھے آٹھواں ان کا کتا12 (اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے میرا مالک ان کی گنتی خوب جانتا ہے اور ان (غار والوں) کو تھوڑے ہی لوگ جانتے ہیں اور ان کے مقدمے میں (لوگوں سے) جھگڑا نہ کر مگر اوپرے (سرسری) جھگڑا اور نہ ان کے مقدیم میں ان لوگوں میں سے (یعنی اہل کتاب میں سے) کسی سے کچھ پوچھ2

ف 12 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت اہل کتاب میں اور ان کے ذریعے مشرکین عرب میں اصحاب کہف کے متعلق طرح طرح افسانے موجود تھے مگر مستند معلومات کسی کے پاس نہ تھی۔ فائدہ اصحاب کہف کے اسما کے بارے میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔ ناموں کی صراحت غالباً اسرائیلی تاریخوں سے ماخوذ ہے اور ان اسماء کے تلفظ میں بھی بہت اختلاف ہے اور کسی قول پر بھی اعتماد نہیں ہوسکتا۔ (فتح الباری) پھر بعض لوگ ان ناموں کے خواص و منافع بیان کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے لئے ان کو لکھتے ہیں جو کسی صورت بھی صحیح نہیں بلکہ اگر یا حرف ندا کے ساتھ لکھے جائیں تو صاف شرک ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس بارے میں بعض روایات بھی گھڑ لی گئی ہیں جو ابن عباس اور بعض دیگر اصحاب کی طرف منسوب ہیں مگر ان میں سے کوئی روایت بھی حضرت ابن عباس اور سلف صالح سے ثابت نہیں ہے : (و لعلہ شیء اختر والمتزیون بندی المشائخ لاخذ البداھم من النساء و مخفہ (القول) (روح) نواب صدیق حسن خان نے اپنی تفسیر میں ان ناموں کے ذریعے علاج کی تردید کی ہے۔ (وحیدی)13 کہ وہ کسی قسم کے لوگ تھے ان کے نام کیا تھے یا ان کی تعداد کیا تھی ؟ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں ان قلیل لوگوں میں سے ہوں جو ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں وہ تعداد میں سات تھے۔ (ابن کثیر) 1 یعنی جتنا غصہ ہم آپ پر وحی کر رہے ہیں اتنا انہیں سنا دیں اس سے زیادہ کسی بحث و مناظرہ کی ضرورت نہیں ہے۔2 اس لئے کہ ان کے پاس کوئی صحیح اور مستند معلومات نہیں ہے۔ صرف سنے سنائے یا اٹکل پچو افسانے ہیں۔
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی بات کو مت کہہ میں کل اس کو کروں گا مگر یوں کہ چاہے اللہ

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

اور اگر تو (انشاء اللہ کہنا) بھول جائے تو (جب خیال آئے) اپنے مالک کی یاد کر (انشاء اللہ کہ دے3 اور کہہ دے مجھ کو امید ہے کہ میرا مالک اس سے بھی زیادہ ہدایت کی بات مجھ کو بتلائے4

ف 3 مفسرین لکھتے ہیں کہ جب یہودیوں نے نبی ﷺ کا امتحان لینے کے لئے آپ سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا میں اسے کل بتادوں گا اور آپ نے انشاء اللہ نہیں فرمیا ا لیکن کافی دنوں تک وحی نہ آئی اور آپ کا وعدہ خلاف ہوگیا۔ اس پر آیت نازل ہوئی اور آپ کو ہر آئندہ کام میں انشاء اللہ کہنے کا حکم دیا گیا۔ (شوکانی)4 جس سے میری رسالت کا ثبوت ہو چناچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو نہ صرف صحاب کہف کا قصہ بتایا بلکہ غیب کی بہت سی دوسری باتیں بھی بتائیں جن کے متعلق کسی کے پاس کوئی معلومات نہ تھی مقصد وہی ہے کہ اصحاب کہف کا قصہ کوئی اتنا زیادہ عجب نہیں ہے۔ (روح)
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور یہ غار والے اپنی غار میں تین سو برس (سوتے رہے اور نو برس اوپر5

ف 5 یعنی شمشی حساب سے تین سو سال تک اور قمری حساب سے تین سو نو سال تک سوتے رہے کیونکہ تین سو خمشی سالوں کا گر قمری سالوں سے حساب کیا جائے تو تین سو نو سال بنتے ہیں۔
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

کہہ دے اللہ تعالیٰ خب جانتا ہے کتنی مدت (سوتے)7 اس کو آسمان اور زمین کی سب چھپی باتیں معلوم ہیں (سبحان اللہ) کیسا دیکھنے والا اور سننے والا ہے اس کے سوا ان کا کوئی کام بنانیوالا نہیں اور وہ اپنے فرمان میں کسی کو شریک نہیں کرتا اور

ف 6 یعنی اگر اہل کتاب آپ سے اس مدت کے بارے میں اختلاف کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کا علم تم سے زیادہ ہے لہٰذا جو مدت اس نے بتائی ہے وہی صحیح ہے تمہاری کسی بات کا اعتبار نہیں۔ ان دو آیات کی یہ تفسیر جمہور مفسرین کے بیان کے مطابق ہے۔ قتادہ اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا قول نقل رفمایا ہے جو کہتے تھے کہ اصحاب کہف تین سو سال تک سوتے رہے اور بعض اس پر نو سال کا اضافہ کرتے تھے اور اس آیت میں یہ فرما کر کہ ’ د کہہ دیجیے کہ اللہ خوب جانتا ہے وہ کتنی مدت (سوتے) رہے عین کے اس قول کی تردید فرمائی ہے واللہ علم (ابن کثیر)7 یعنی اصحاب کہف کے بارے میں جو بات آپ کو اس کتاب میں بتائی جا رہی ہے وہ بالکل کافی اور جامع و مانع ہے۔ آپ اسی کو جوں تاتوں لوگوں کو پڑھ کر سناتے رہیے یا یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب ہے یہی ان کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی مخلافت کی پرواہ نہ کریں۔ (روح)
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیرے مالک کی کتاب جو تجھ کو بھیجی گئی ہے اس کو پڑھتا رہا اس کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور تجھ کو اس کے سوا کہیں پناہ نہ ملے گی8

ف 8 یعنی اگر آپ کسی کی خاطر داری سے اس کی کتاب میں کوئی رد و بدل کریں گے تو آپ کو اس کے سوا کہیں پناہ نہ ملے گی۔ یہ خطاب بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے مگر مقصود اہل کتاب اور کفار مکہ سب کو متنبہ کرنا ہے کہ تمہاری خاطر آنحضرت اپنے ملاک کی کتاب میں کئیو رد و بدل کرنے والے نہیں ہیں … اس آیت پر اور بعض علمائے تفسیر کے قول کے مطابق اوپر کی آیت پر اصحاب کہف کا قصہ ختم ہوگیا اس کے بعد دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جس میں ان حالات پر تبصرہ ہے جو نبی ﷺ اور مسلمانوں کو ان دنوں مکہ میں درپیش تھے۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح اور شام اپنے مالک کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں (یعنی طالب مولیٰ ہیں نہ طالب دنیا) ان کے ساتھ اپنے تئیں روک رکھ اور دنیا کا ساز و سامان چاہنے کے لئے اپنی آنکھیں ان کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف مت دوڑا اور ایسے شخص کا کہا مت مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے (ہمہ تن دنیا میں مغشول ہیے) اور اپنی خواہش پر چلات ہے اس کو خدا کا ڈر نہیں اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا10

ف 9 مراد ہیں حضرت سلمان، ابوذر، بلال، صہیب، خباب اور دوسرے غریب مسلمان جو آنحضرت کی صحبت میں بیٹھ کرتے تھے10 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ چند غریب صحابہ آنحضرت کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ مشریکن کے چند سردار آئے اور کہنے لگے آپ ان غریب مسلمانوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تب ہم آپ کے پاس آ کر بیٹھیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت سلمان کی روایت میں ہے کہ حینیہ بن بدر اور اقرع بن حابس وغیرہ آئے۔ (ابن کثیر)11 یعنی مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں مانو گے تو اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو گے تو اپنی شناخت بلائو گے میں ان مومنوں کو پانی مجلس سے نہیں اٹھا سکتا۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور (اے اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے یہ قرآن حق ہے تمہایر مالک کی طرف سے (اترا ہے) پھر جس کا جی چاہے مانے اور جس کا جی چاہے نہ مانے ہم نے کافروں کے لئے آگ تیار رکھی ہے اس کی قناتیں ان کو گھیر لیں گے1 اور (پیا کے مارے) فریاد کریں گے تو یہ فریاد رسی ہوگی کہ پگھلے ہوئے تانبے (یا تیل) کی تلپھٹ) کی طرح (گرم) پانی (پینے کو) ملیگا جس سے (سامنے آتے ہی) منہ بھ جائیں گے (اس قدر کرم ہوگا) کیا برا پانی ہوگا اور دوزخ بھی کیا بری جگہ ہے

ف 1 چاروں طرف آگ کی دیوار ہوگی کہیں بھاگنے کا راستہ نہ ملے۔ حضرت ابو سعید، دری سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : آگ کی قنات چار دیواری ہے جس کی ہر دیوار اتنی موٹی ہے کہ چالیس میں میں طے ہوتی ہے۔ (ابن جریر) حضرت یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’ دسمندر ابھی جہنم میں سے ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جزیہ بخاری) قتادہ کا خیال ہے کہ وہ سرادق دھوئیں اور آگ کی لپیٹ کے ہوں گے۔ (کبیر)
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو اچھے کام کرنے والے کا بدلہ ہم ضائع نہیں ہونے دیں گے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں انکو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز مہین ریشمی کپڑے اور موٹے ریشمی کپڑے پہنیں گے2 تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے (سبحان اللہ ان کے کاموں کا) کیا اچھا بدلہ ملے گا اور بہشت بھی کیا عمدہ جگہ ہے

ف 2 حدیث میں ہے کہ سونا اور ریشمی کپڑے مردوں کو بہشت میں ملیں گے جو شخص یہاں دنیا میں پہنے گا آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ (موضح) فو کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور ایک مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ فخر کے لائق نہیں ہیں کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہوسکتا ہے غنی فقیر دنیا میں اگر کوئی فخر کی چیز ہے تو وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان درویشوں کو حاصل ہے۔ (کبیر) کہتے ہیں کہ یہ دونوں بھائی بھائی یعنی ایک ہی باپ کے دو بیٹے تھے۔ ایک نے تو باپ کے ترکہ سے وہ جئیداد باغ وغیرہ خرید کئے جن کا قرآن نے ذکر کیا ہے اور دوسرے نے سب مال اللہ کی راہ میں صرف کردیا اور قناعت پر بیٹھ رہا۔ (کذافی العالم)
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر کا ان لوگوں سے ان دو آدمیوں کی نقل بیان کر3 ان میں سیایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیئے تھے اور دونوں کے گردا گرد کھجور کے درخت تھے اور بیچ میں کھیتی

ف 3 یا اسے خوب نفع اور آمدنی بھی حاصل تھی ثمر کے معنی پھل اور نفع دونوں ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 18:33–34

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغوں نے خوب اپنا میوہ دیا اور میوے میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور باغوں کے بیچ میں ہم نے ایک نہر بھی بہاد دی (ہر وقت پانی ہی پانی پھر باغ کا کیا کہنا )

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس کے پاس پھل بھی تھے4 اپنے ساتھی سے (دوسرے بھائی سے جو مومن تھا) بات کرتے کرتے بول اٹھا میں مال اور دولت اور عزت اور آبرو کے جتھے میں تجھ سے (کہیں)5 بڑھ کر ہوں

ف 4 یعنی میں تم سے زیادہ مالدار بھی ہوں اور میرے نوکر چاکر بھی تم سے بڑھ کر ہیں۔ القصہ اس کافر نے اپنے جاہ و مال کے بھروسہ پر مومن بھائی کے مقابلے میں فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لئے ساتھ لے چلا۔
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (بھائی کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر) اپنے ابغ میں گیا (وہاں پھرنے اور اترانے کیلئے) کہنے لگا میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی حیران ہو6

ف 6 افسوس کہ اکثر مسلمان مال دار بھی اسی غرور میں مبتلا ہیں، مساکین بلکہ علماء صلحا تک کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ (وحیدی)
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آئیگی اور (خیر الفرض) اگر (آئی) مجھ کو اپنے مالک کے پاس پھرجانا پڑا تو وہاں لوٹ کر اس سے بھی بہتر (جائیداد) پائوں گا اس1

ف 1 کیونکہ جب اس نے دنیا میں یہ مال اور نعمتیں دی ہیں تو آخرت میں اس سے بہتر ملیں گی۔
Ayah 18:37

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

کا ساتھی (جو مومن تھا) باتیں کرتے کرتے اس سے کہنے لگا (یہ کیا بکتا ہے) کیا تو اس خدا (کی قدرت) سے منکر ہو یا ہے جس نے تجھ کو (پہلے شروع میں یعنی آدم کو) مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے (منی کی ایک بوند سے) پھر پورا مرد و تجھ کو کردیا2

ف 2 وہ شخص اگرچہ خدا کے وجود کا منکر نہ تھا بلکہ ولئن رددت الی ربی “ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس کی ہستی کا قائل تھا، مگر اس کے باوجود اس کے بھائی نے اسے الفرت “ کہہ کر کافر قرار دیا ہے کیونکہ اسے ” بعث “ دوبارہ زندگی پر یقین نہیں تھا اور قیامت کے متعلق شک کرنے والا کافر ہے۔ پھر تکبر و غرور سے بڑا بول اور خدا کی قدرت سے انکار بھی کفر ہے۔ اس نے جاہ و مال کو اپنی عزت کا سبب قرار دیا اور یہ نہ سمجھا کہ عزت و ذلت کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے اور پھر مال کو اللہ تعالیٰ کی نعمت خیال نہ کیا بلکہ خود اپنی محنت ذہانت اور قابلیت کا نتیجہ قرار دیا۔ جیسے قارون نے کہا تھا : لقد اوتینہ علی علم “ اور یہ سب باتیں کفر کی ہیں۔ (از تفاسیر)
Ayah 18:38

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میں تو یہی کہتا ہوں (یہی اعتقاد رکھتا ہوں) وہی (ایک) اللہ میرا مالک ہے3 وہ جو چاہے کرسکتا ہے) اور میں اپنے مال ک کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا

ف 3 اس سے معلوم ہوا کہ وہ صاحب باغ مشرک تھا۔ بہت سے مشرک ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو تو مانتے ہیں مگر اس کے ساتھ شرک بھی کرت یہیں وما یومن اکثر ھم باللہ الا وھم مشرکون “ تنبیہ آنحضرت نخے پریشانی کا علاج اس کلمہ کا پڑھنا تجویز فرمایا : اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیاً (ت ۔ ن)
Ayah 18:39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو اپنے باغ میں آیا تو نے یوں کیوں نہ کہا جو اللہ چ ہے وہ ہوتا ہے جو کچھ اختیار ہے وہ اسی کا ہے4 اور کسی میں کوئی طاقت نہیں)

ف 4 کسی نعمت کے حاصل ہونے یا کسی چیز کے بھلا لگنے پر ماشاء اللہ لاح ول لاقوۃ الا باللہ کہنے کی فضیلت میں متعدد احادیث اور سلف کے متعدد آثار ثابت ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ گھر مال یا اولاد کسی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو دیکھ کر یہ کلمہ پڑھ لیا جائے تو اللہ تعالیٰ ہر آفت سے اس کی حفاظت فرماتا ہے گو موت سے بچائو نہیں ہوسکتا۔ نیز احادیث میں لا حول ولا قوت الا باللہ کی بہت فضیلت آئی ہے اور اسے خزانہ الٰہی کی ایک چیز قرار دیا ہے اور ہموم و افکار کا علاج بھی بتایا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 18:40

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

اگر تو اس وجہ سے غرور کرتا ہے کہ) مجھ کو مال اور اولاد میں اپنے سے کم سمجھتا ہے تو عجیب نہیں میرا مالک تیرے باغ سے بہتر باغ مجھ کو دے4 اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی بلا (یا انگار) بھیجے پھر وہ چٹیل میدان بن جائے

ف 5 دنیا میں آخرت میں یاد دونوں میں 6 یعنی غرور تکبر کی راہ سے اپنے نفس کی پیروی نہ کرتا بلکہ بھائی کی بات مان لیتا اپنی ساری دولت اور شان و شوکت اللہ ہی کا عطیہ سمجھتا اور مال میں جو دوسروں کے حقوق رکھے گئے ہیں انہیں ادا کرتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : آخر اس کے باغ کا وہی حال ہوا جو اس کے نیک بھائی کی زبان سے نکلا تھا کہ ات کو آگ لگ گئی آسمان سے سب جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگیا۔ مال خرچ کیا تھا دولت بڑھانے کو وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ (موضح)7 یہاں یہ مثال ختم ہوئی۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو سمجھانا ہے کہ غریبوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصلی چیز اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں اخلاص ہے۔