18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 18:81–82

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے یہ چاہا کہ ان کا مالک اس لڑکے کے بدل صایسا لڑکا) ان کو دے جو پاکیزگی (تقویٰ اور طہارت) میں اس سے بہتر ہو اور اپنے ماں باپ پر) اس سے زیاہ مہربان ہو۔

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اب دیوار کا قصہ سنو) وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی (ان کا باپ مرگیا تھا) اور اس کے تلے ان کا خزانہ (گڑا ہوا) تھا اور ان کا باپ (یا دادا) نیک بخت شخص تھا۔ تو تیرے مالک نے یہ چاہا کہ وہ دونوں (یتیم) جوان ہوجائیں اور6 اپنا خزانہ جو ان ہو کر نکال لیں۔ یہ تیرے مالک کی مہربانی تھی ان پر اور میں نے اپنے اختیار سے یہ نہیں کیا (بلکہ اس مالک حقیقی کے حکم سے کیا) یہ اصل حقیقت1 ہے ان باتوں کی جن پر تو صبر نہ کرسکا

ف 6 اگر بھی دیوار گر پڑتی تو دوسرے لوگ ان کا خزانہ لے اڑتے۔ 1 نبی ﷺ کا ارشاد ہے ” اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے اگر صبر کرتے تو عجیب عجیب باتیں دیکھتے۔ (بخاری مسلم) بعض آثار و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری مرتبہ حضرت موسیٰنے عمداً اعتراض کیا تاکہ ان سے جدا ہوجائیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ لوگ تجھ سے ذوالقرنین2 کا حال پوچھتے ہیں۔ کہہ دے میں اب تم کو اس کا کچھ ذکر سناتا ہوں۔

ف 2 ان پوچھنے والوں سے مراد کفار مکہ میں جنہوں نے یہود کے مشورہ سے تین سوالات بطور امتحان پیش کئے تھے۔ ایک روح کے بارے میں دوسرا اصحاب کہف کے بارے میں اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں …قرآن میں ذوالقرنین سے مراد کون ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں عض کہتے ہیں کہ یہ یونان کے سکندر اعظم کا لقب تھا جس نے اسکندریہ کی بنیاد رکھی تھی۔ امام رازی نے تاریخی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے اسی کو ترجیح دی ہے۔ اس کا زمانہ حضرت مسیح سے تقریباً تین سو سال قبل کا ہے۔ مگر یہ بات اس لئے صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ قرآن کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ایک خدا پرست اور انصاف پسند فرمانروا تھا حالانکہ سکندر اعظم کافر اور بت پرست بادشاہ تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد ایک اور بادشاہ ہے جو حضرت ابراہیم کا ہم عصر تھا اور حضرت ابراہیم کی دعا سے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے خارق عادت اسباب و وسائل عطا فرمائے اور اس کا وزیر خضر تھا اس لئے خضر کے قصہ کے ساتھ اس کا قصہ بیان فرمایا۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اور ابن کثیر نے اس کا نام بھی اسکندر بیان کیا ہے اسکندر یونانی اور اس کے درمیان تقریباً دو ہزار سال کا زمانہ ہے۔ مولانا ابوالکام آزاد نے ترجمان میں اس کے متعلق قرآن کی بیان کردہ صفات و خصوصیات کو ایران کے بادشاہ خورس پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے اور صاحب قصص القرآن ج و 229-117) نے مولانا آزاد کی تصویب کی ہے۔ بہرحال ذوالقرنین سے کوئی بھی مراد ہو قرآن نے جس انداز سے اس کا ذکر کیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اپنی عظیم الشان فتوحات اور عدل و انصاف کی وجہ سے نہ صرف عہد رسالت کے یہود کے درمیان ایک معروف شخصیت تھی بلکہ مشرکین عرب بھی اس کے حال سے واقف تھے کیونکہ قدیم شعرائے عرب نے اپنے اشعار میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ شاید اسے ذوالقرنین اس لئے کہتے ہوں کہ اس نے دنیا کے دونوں کناروں (مشرق و مغرب) کی مسافت طے کی تھی۔ اس کی وجہ سمیہ میں دیگر اقوال بھی منقول ہیں۔ البدایہ و منتہایۃ میں حافظ ابن کثیر نے بہت مفصل بحث کی ہے۔ (ابن کثیر شکافی)
Ayahs 18:84–85

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں جمایا تھا (حکومت دی تھی اور ہر طرح کا سامان اس کو دیا تھا

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

آخر اس نے ایک سامان کیا3

ف 3 یعنی ایک راستے پر سفر شروع کیا۔ پہلے اس نے مغرب کی جانب مہم کا آغاز کیا
Ayah 18:86

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

جب (چلتے چلتے) سورج ڈوبنے کے مقام پر (یعنی مغرب کی) خیر کی آبادی تک) پہنچا دیکھا تو سورج کالے کیچڑ کی کنڈ میں ڈوبتا ہے5(یا گرم چشمے میں ڈوبات ہے) اور وہاں اس نے کچھ لوگ پائے (جو بالکل وحشی اور برہنہ رہتے تھے) ہم نے کہا اے ذوالقرنین (تجھے ہم نے اختیار دیا ہے) یا تو ان کو عذاب دے یا ان سے اچھا سلوک کر۔

ف 4 یعنی وہ مغرب کی جانب پیہم فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ خشکی کے اس آخری سرے پر پہنچ گیا جہاں آبادی ختم ہو کر سمندر (بحر محیط) شروع ہوتا ہے5 یعنی وہاں غروب آفتاب کے وقت انہوں نے دیکھا کہ سورج سمندر میں یوں ڈوبتا ہے جیسے وہ کسی کالے پانی کے کنڈ یا گرم چشمے میں ڈوب رہا ہو۔
Ayahs 18:87–89

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

اس نے عرض کیا جو کوئی (ان میں سے) شرارت کریگا ایمان کی بات نہ مانے گا) اس کو ہم ابھی سزا دیں گے (دنیا ہی میں وہ قتل کیا جائیگا، پھر (آخرت میں اپنے مالک کے پاس لوٹایا جائیگا تو وہ اس کو بری طرح عذاب دیگا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو کوئی ایمان لائیگا اور اچھے کام کریگا اس کو (خدا کے پاس) اچھا بدلہ ملے گا (بہشت ہاتھ آئیگی اور ہم دنیا میں بھی اس کو اپنے حکموں میں سے آسان حم دینگے (سخت کموں کا بار اس پر نہ ڈالیں گے

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک سامان کیا (پورب کے سفر کی تیاری کی)

ف 6 یعنی ان دونوں کی قدرت دی اور یہ قدرت ہر بادشاہ اور حاکم کو ملتی ہے کہ وہ خلق اللہ کو ستاوے یا اپنی خوبی کا ذکر جاری رکھے۔ کذا فی الموضح) لفظ ذلنا (ہم نے کہا) کی بنا پر بعض مفسرین نے ذوالقرننی کو نبی قرار دیا ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ بات براہ راست بذریعہ وحی خطاب کر کے فرمائی ہو۔ بلکہ یہ ارشاد زبان حال یا اس وقت کے نبی واسطہ سے بھی ہوسکتا ہے جیسے فرمایا : قیل یا ارض ابلعی مآءک (ہود) یا جیسے فرمایا فقلنا اضربوہ بیعضھا (بقرہ) اس لئے اکثر علمائے سلف ذوالقرنین کو نبی نہیں بلکہ خدا پرست اور عادل فرمانروا مانتے ہیں۔ معالم التنزیل)
Ayah 18:90

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ (چلتے چلتے) اس مقام پر پہنچا جہاں سے سورج نکلتا ہے۔ دیکھا تو سورج ایسے لوگوں پر نکلتا ہے جن کے لئے ہم نے سورج سے کوئی آڑ ہی نہیں رکھی۔ ایسا ہی اس نے1

ف 7 پورب یعنی مشرق
Ayahs 18:91–93

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

وہاں بھی کیا (یا ایسا ہی وہاں بھی ہوا۔ اور ہم کو خوب معلوم ہے جو سامان اس کے پاس تھا

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک سامان کیا12

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

پھر جب (چلتے چلتے) دونوں پہاڑوں13 کے بیچ میں پہنچا۔ وہاں اس طرح (پہاڑوں کے ادھر) ایسے لوگوں کو دیکھا جو (دوسرے ملک والوں کی) بات ہی نہیں سمجھتے

ف 8 یعنی اس مقام پر جہاں مشرق میں اس زمانہ کی مہذب آبادی کی انتہا تھی۔9 یعنی وہاں ایسے لوگ بستے تھے جو رہنے کے لئے گھر یا خیمے تک بنانا نہیں جانتے تھے اور نہ لباس اسعتمال کرتے تھے بلکہ کھلے میدان میں ننگے رہتے تھے۔ (شوکانی) 10 یعنی ذولاقرنین کا قصہ ایسا ہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل و اسباب سے کام لیکر مغرب اور پھر مشرق تک پہنچا۔ یا جو معاملہ اس نے مغرب دلوں سے کیا وہی معاملہ اس نے مشرق والوں سے کیا اور وہ یہ کہ ایمانداروں کے لئے آسانی کی اور شریروں کافروں کو سزا دی۔ (کذا فی شوکانی)11 یعنی ہمیں اس کی صلاحیتوں اسباب و وسائل اور حالات سے بخوبی آگاہی ہے جو کچھ ہم بیان کرتے ہیں وہی صحیح ہے۔21 یعنی ایک اور سمت سفر شروع کیا۔ یہ تیسرا سفر مشرق و مغرب کے علاوہ کسی سمت تھا ؟ مفسرین عموماً اسے شمال کی سمت قرار دیتے ہیں کیونکہ یاجوج ماجوج جو ترک سے ایک قوم ہے اس کا مکسن قصص شمال ہے مگر قرآن و حدیث میں اس کی تصریح نہیں۔ شوکانی کبیر)13 یعنی ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں دائیں بائیں دو پہاڑ تھے جن پر پڑھنا ممکن نہ تھا البتہ دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک گھاٹی اور تھی جس کے ذریعے ادھر سے ادھر سے ادھر نقل و حرکت ممکن تھی۔ اس جگہ سے مراد بعض مفسرین وہ علاقہ لیتے ہیں جہاں ترکوں کا ملک ختم ہوتا اور بعض آرمینیہ اور آذربائیجان کے درمیان کا علاقہ مگر ان بیانات رولی اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ واللہ علم۔
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

وہ کہنے لگے1 اے ذوالقرنین (اس گھاٹی کے پر سے) یا جوج ماجوج (دو قوم کے لوگ2 ملک میں فساد مچاتے ہیں (ہم کو آن کر لوٹتے اور ستاتے ہیں تو کیا ہم تیرے لئے کچھ چندہ جمع کریں اس طرح پر کہ ہمارے اور ان کے بیچ میں تو ایک روک دے3

ف 1 یہاں سے ذوالقرنین اور ان لوگوں کی جو گفتگو نقل کی جا رہی ہے وہ غالباً کسی ترجمان کے ذریعے ہوئی ہوگی اور ترجمان کسی درمیانی قوم کا ہوگا جو دونوں کی زبان سمجھتا ہوگا اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ ذوالقرنین کو دوسرے اسباب کی طرح یہ توفیق بھی حاصل ہو کہ وہ ان کی زبن سمجھتا ہو۔2 یاجوج و ماجوج انسانی نسل ہی کی دو قومیں ہیں جیسا کہ ایک حدیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا، اے آدم اپنی اولاد میں سے جہنم میں جانے والی فوج تیار کرو۔ آدم پوچھیں گے وہ فوج کتین ہے ؟ اللہ فرمائے گا۔ ہر ہزار میں سے ایک جنت میں جائے گا … یہ سن کر مسلمان پریشان ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا گھبرائو نہیں ان فیکم امتین ما کا ننا فی شء الاکثرتا، یاجوج وماجوج کہ تمہارے اندر دو ایسی قومیں ہیں جو اپنے مقالہ میں آنے والی ہر قوم سے زیادہ ہیں یعنی یاجوج اور ماجوج (ابن کثیر) زیادہ تر مفسرین نے انہیں حضرت نوح کے بیٹے یافث کی نسل سے قرار دیا ہے اور یہی چیز بائیبل کی کتاب پیدائش (باب 10) میں مذکور ہے اور بعض ان کا سلسلہ نسب حضرت آدم سے تو مانتے ہیں مگر ماں کی طرف سے حضرت حوا تک نہیں مانتے۔ مگر یہ کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی نقلی دلیل موجود ہے۔ اس کی ساری بنیاد اہل کتاب کے من گھڑت قصوں پر ہے۔ ان کے احوال و افعال میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ (ابن کثیر شوکانی)3 یعنی اس گھاٹی کو بند کر دے جس سے گزر کر وہ آئے دن ہمارے ملک پر حملہ کرتے رہتے ہیں اور ہمارے ہاں قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔
Ayahs 18:95–96

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا مجھ کو جو میرے مالک نے مقدور دیا ہے وہ (تمہارے چندے سے) بڑھ کر ہے (بہتر ہے البتہ اگر تم میری مدد کرنا چاہتے ہو) تو محنت مزدوری سے میری مدد کرو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط آڑ کردوں گا۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

لوہے کے تختے مجھ کو لا دو جب دونوں کناروں تک دیوار کو برابر کردیا تو (مزدوروں کو) حکم دیا اب دھونکر (آگ پھونکو) جب وہ (دھونکتے دھونکتے لال) انگار ہوگئی تو یہ حکم دیا اب تانبا لائو پگھلا کر اس پر انڈیل5 دو گا ں

ف 4 یعنی پتھر اور اینٹ کی بجائے میں تمہیں لوہے کی دیوار بنا کر دوں گا میرے لئے لوہے کے تختے مہیا کردو۔5 تانبا اس لئے پگھلا کر ڈالا کہ درزوں میں بیٹھ جائے اور ساری دیوار جم کر ایک پہاڑ کی مانند ہوجائے۔ صاز موضح)
Ayahs 18:97–98

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر (وہ دیوار ایسی بلند اور مضبوط بنی کہ انہیں اس پر (یا جوج ماجوج چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے۔

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا یہ میرے مالک (خدا وند کریم) کی مہربانی ہے (جو ایسی مضبوط دیوار بنانے کی مجھ کو توفیق دی) ھ پر جب میرے مالک کا وعدہ آئے گا تو اس کو گرا کر صاف زمین کے برابر کر دیگا اور میرے مالک کا وعدہ سچا ہے

ف 6 یعنی یہ دیوار گو انتہائی مضبوط ہے مگر یہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک میرے مالک کی مرضی ہے اور جب وہ وقت آئے گا جو میرے مالک نے اس کی تباہی کے لئے مقدر فرمایا ہے تو کوئی چیز اسے پیوند خاک ہونے سے نہیں بچا سکے گی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ذوالقرنین ایسی محکم دیوار پر بھی منتظر تھا کہ آخر یہ بھی فنا ہوگی نہ جیسے وہ باغ والا اپنے باغ پر مغرور (موضح) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیوار آنحضرت کے زمانہ تک قائم تھی۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے ایک دائرہ بنا کر بتایا کہ آج یاجوج ماجوج کے بند میں سے اتنا کھل گیا ہے۔ بخاری مسلم یہاں ولہ سے مراد دیوار کے ختامہ اور تباہی کا وقت ہے اور وہ قیامت یا اس سے پہلے کا کوئی زمانہ ہوسکتا ہے۔ احادیث صحیحیہ اور آثار مرویہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے نزول اور قتل دخال کے بعد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وعدہ ہے تمام دنیا والے ان کی لڑائی سے عاجز ہوں گے آخر کار آسمان پر تیر چلا ویں گے وہ تیر خون آلودہ واپس آئیں گے۔ آخر حضرت عیسیٰ کی بد دعا سے ان پر کوئی وبا آئے گی اور وہ سب ایک دم مرجائیں گے۔ (کذا فی ابن کثیر) اب یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ دیوار کہاں وقع ہے یا وہ کون سی جگہ ہے جہاں یاجوج ماجوج قید ہیں ؟ اگر اب تک لوگوں کو اس دیوار کا پتا نہیں چل سکا تو اس سے لازم نہیں آتا کہ اس کا وجود ہی نہ ہو آخر دنیا کی کتنی چیزیں ہیں جن کا انسان کو اب تک علم نہیں ہوسکا
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور اس دن ہم یاجوج اور ماجوج کو ایک دوسرے7 میں لہریں مارتے ہوئے چھوڑ دینگے اور صور پھونکا جایگا پھر ہم ان کو حشر کے میدان میں اجوڑ کر اکھٹا کر دینگے

ف 7 یعنی وہ دیوار توڑ کر بیشمار تعداد میں سمندر کی موجوں کی طرح یلغار کرتے نکلیں گے یہ آخری زمانہ میں ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی قیامت آجائے گی۔ دیکھیے انبیاء آیت 97-96) حضرت خدیجہ سے روایت ہے کہ قیامت نہ آئے گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپ نے یہ نشانیاں شمار فرمائیں جن میں سے ایک یاجوج ماجوج کی یورش تھی۔ (مسلم) آیت کا یہ مفہوم کے لئے قرار دی جائے۔ اور ونفخ فی الصور کے یہ معنی کئے جائیں کہ اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور گار یہ لوگوں کے لئے قرار دی جائے تو آیت کا ترجمہ یوں ہوگا ” اس دن قیامت کے دن ہم لوگوں کو شدت خوف و ہراس سے ایک دوسرے میں موجود کی طرح باہم در آتے چھوڑ دیں گے بعض مفسرین نے آیت کا یہ مفہوم بھی بیان کیا ہے۔ اس صورت میں ذوالقرنین کا قصہ حقا پر ختم ہوجاتا ہے۔ (کبیر) 8 یہ قیامت کے دن ہوگا جو رب کا وعدہ ہے۔ (موضح)
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور دوزخ کو اس دن کافروں کے سامنے لائیں گے9

ف 9 تاکہ وہ اپنا ٹھکانہ دیکھ لیں۔
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا اور (ان کے کانوں میں بھی گرانی ہوگی تھی، وہ (ہمارا کلام) سن بھی نہیں سکتے تھے11

ف 10 یعنی وہ میری نشانیاں دیکھ کر بھی ان سے کوئی نصیحت حاصل نہ کرتے تھے۔11 (شدت نفرت کی وجہ سے) یعنی وہ اس قدر ضد اور ہٹ دھرمی میں پڑے ہوئے تھے کہ ہمارا کلام سننے کو تیار نہ تھے۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا یہ کافر یہ سمجھے ہیں کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنائیں12 ہم نے تو ان کے لئے دوزخ کی مہمانی طیار کر رکھی ہے

ف 12 یعنی میرے خاص بندوں جیسے مسیح عزیز روح قدس اور فرشتوں کو اپنا معبود بنا کر یہ چاہیں گے کہ انہیں میرے مقابلہ لا کھڑا کریں مگر وہ خود ان کی عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہونگے۔ (مریم :82)یعنی کوئی حمایت نہ ملے گا البتہ دوزخ کی آگ سے ان کی مہماندازی ضرور کی جائیگی۔
Ayahs 18:103–104

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میں تم کو وہ لوگ بتلائوں جو عمل کی راہ سے بہت گھاٹے میں پڑگئے۔

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کی (ساری) کوشش دنیا کی زندگانی میں اکارت ہوئی1 اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں (آخرت میں ہم ہی کو بہشت ملے گی ہم حق پر ہیں،

ف 1 یعنی جتنے نیک اعمال انہوں نے کئے، سب کفر کی بدولت رائیگاں گئے یا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی۔ “ یعنی خدا اور آخرت کی پروا نہ کی اور دنیا کی خوش حالیوں اور کامیابیوں کو اپنا مطع نظر بنائے رکھا۔
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

انہی ولگوں نے اپنے مالک کی آیتوں کو اللہ کی کلام کو یا اس کی قدرت کی نشانیوں کو نہ مانا تو ان کے نیک کام (کفر کی وجہ سے) اکارت ہوگئے قیامت کے دن ہم ان کے (نیک کاموں) کے تول نہیں چڑھائیں گے2

ف 2 یعنی ان کے اعمال تو لے ہی نہ جائیں گے کیونکہ لوتنے کی ضرورت تو اس وقت ہوگی جب دوسری طرف کچھ نیک اعمال بھی ہوں تاکہ موازنہ ہو سکے کہ ان کی نیکیاں زیادہ ہیں یا برائیاں۔ فو عمل صالح وہ ہے جو خلاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اور سنت مطہرہ کے موافق ہو اور اس میں ریا کاری یا کسی قسم کی ذاتی یا قومی مصلحت کو دخل نہ ہورنہ وہ عمل مردود ٹھہرے گا بعض علما نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ تصور شیخ شرک ہے اور یہ استدلال قومی اور واضح ہے۔
Ayahs 18:106–107

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ دوزخ کی سزا ان کو اس لئے ملے گی کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام3 کئے ان کی مہمانی فردوس کے باغ ہیں

(ت ن)3 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو اس لئے کہ وہ جنت کے درمیان اور اس کا بلند ترین حصہ ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اس سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ (بخاری مسلم)
Ayah 18:108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے کبھی ان کو چھوڑنا نہ چاہیں گے4

ف 5 کیونکہ اس سے بہتر یش کا مقام کوئی نہیں ہے۔
Ayahs 18:109–110

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے اگر میرے مالک کی باتیں (علم و حکمت کی اور اس کی قوت کے عجائبات) لکھنے کے لئے سمندر کی سیاہی ہو تو میرے مالک کی باتیں تمام ہونے سے پہلے سمندر تمام ہوجائے گو اتنا ہی ایک اور سمندر ہم اس کی مدد کو لائیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں سے) کہہ دے یہ مت سمجھنا کہ میں خدا کی سب باتیں جانتا ہوں میں بھی تمہاری طرح ایک آدمی ہوں (فرق یہ ہے) کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا وہی ایک سچا خدا ہے اور تم پر وحی نہیں اب جس کو اپنے مالک سے ملنے کی امید ہو اس کو چاہیے اچھا کام کرے شرع کے موافق خلوص کے ساتھ

ف 6 نہ کسی دوسرے کی عبادت کر کے اور نہ ریاکاری کر کے کیونکہ غیر اللہ کی عبادت اگر شرک اکبر ہے تو ریا کاری شرک صغر ہے حضرت شدہ اوبن اوس سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت سے یہ سنا ہے کہ نماز، روزہ اور صدقہ میں ریا کاری بھی شرک ہے۔ (بیہقی حاکم) چناچہ حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں ” ہم آنحضرت کے زمانے میں ریا کاری کو شرک اصغر شمار کیا کرتے تھے اور حضرت ابوہریرہ سے ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے کوئی ایسا کام کیا جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا گیا ہو تو میں اس سے اور اس کے کام سے بےتعلق ہوں مسلم احمد اس طرح ریاکاری کی مذمت اور اس کا شرک اصغر ہونا متعدد احادیث میں مروی ہ۔ والحمد اللہ رب العالمین (شوکانی) لم تفسیر ھذا السوۃ یوم الجمۃ الثالث حشرمن شہر شعبان 513-89 ابو ال قاسم کو دیا۔