18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 18:41–45

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی نیچے اتر جائے (زمین میں جذب ہوجائے) اور تو کس طرح اس کو نہ پا سکے (پھر پانی تیرے ہاتھ نہ آسکے)

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور (جیسا اس نے کہا ایسا ہی ہوا باغ پر آفت آئی اور) مال تباہ ہوگیا ( جو اس کے پاس جمع تھا) پھر اس نے جواب دیا باغ میں خرچ کیا تھا (افسوس کے مارے) اس پر دونوں ہاتھ ملتا رہ گیا اور باغ کا یہ حال تھا کہ وہ چھتریوں پر گرا پڑا تھا اور وہ باغ کا مالک کہتا جاتا تھا ہائے افسوس کاش میں نیچے مالک کیساتھ کسی کو شریک نہ کرتا

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور خدا کے سوا اس کو کوئی لوگ ایسے نہیں ملے جو اس کی (اس گاڑھے وقت میں) مدد کرتے اور نہ وہ آپ اپنے لئے) کچھ کرسکا (خدا کے عذاب کو روک سکا)

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ایسے وقت پر سچے خدا ہی کی حکومت چلتی ہے اور (کسی سے کچھ نہیں ہوسکتا) اس کا ثواب (جو وہ اپنے نیک بندوں کو دے گا) (وہ سروں کے تو اب سے اگر کوئی اور دے سکتا) ہیں بہتر ہے اور اس نے جو انجام (اپنی اطاعت کا) رکھا ہے وہ (بھی) بہتر ہے

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور (اے پیغمبران کافروں سے دنیا کی زندگی کی ایک مثال بیان کر (دنیا کی زندگی اس) پانی کی طرح ہے جس کو ہم نے آسمان سے برسایا پھر اس کی وجہ سے زمین کا سبزہ خوب گھن گیا (اچھی طرح زور سے بڑھا گنجان ہو کر) پھر (چند ہی روز میں) سوکھا چورا ہوگیا جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے1

ف 1 وہی ہے کہ جب چاہتا ہے کسی کو خوشحالی فارغ البالی اور مال و دولت عطا کرتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے تنگ حالی فقر و فاقہ اور بدحالی میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ مال و دولت پر غرور نہ کرے بلکہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طر سے نعمت سمجھ کر اس کی شکر گزاری ہے۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور مرد بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور رہنے والی نیکیاں2 ثواب اور امید کے لئے تیرے مالک کے نزدیک (دنیا کے مال اولاد سے کہیں) بہتر ہیں

ف 2 حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” رہنے والی نیکیاں بہت کیا کرو۔ ” صحابہ نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! وہ کیا ہیں فرمایا : ” اللہ اکبر کہنا لا الہ الا اللہ کہنا سبحان اللہ کہنا الحمد للہ کہنا اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنا۔ (مسند احمد) یوں باقی رہنے والی نیکی میں ہر وہ کام آسکتا ہے جس کا ثواب مرنے کے بعد قائم رہتا ہے۔ حدیث میں ہے : اذامات الانسان انقطع عنہ عملہ الامن ثلاث من صدقۃ جاویۃ او علم ینفع بہ او ولد صالح یدعولہ۔ یعنی جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل بند ہوجاتے ہیں صرف تین قسم کے اعمال کا فائدہ اس کو پہنچتا رہتا ہے۔ ہمیشہ جاری رہنے والا صدقہ ایسی علمی یادگار جس سے لوگ فیض حاصل کرتے رہیں۔ نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت میں صدقہ جاریہ کی وضاحت مسجد بنانے، مسافر خانہ تیار کرنے، عام استعمال کے لئے کسی صورت میں پانی کا استعمال کرنے سے فرمائی گئی ہے اور علم کا فیض بصورت تدریس و تالیف یا قرآن و سنت کی حفاظت اور ان کی نشرو اشاعت بھی اس میں داخل ہے۔ (کذافی الترغیب)
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) وہ دن یاد کر جس دن ہم پہاڑوں کو سرکار دیں گے3 اور زمین کو دیکھے گا کھلا میدان4 اور سب لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے تو ان میں سے ہم کسی کو چھوڑ نہ دیں گے5

ف 3 یعنی وہ اپنی جگہ سے ہل کر بادلوں کی طرح چلنے لگیں گے۔ (دیکھیے سورة النحمل :88)4 نہ اس میں کوئی اونچ نیچ ہوگی نہ کوئی پہاڑ نہ کوئی عمارت اور نہ کسی قسم کی روئیدگی۔ جیسے فرمایا : وانا لجا علون ما علیھا صعیداً جرزا (آیت 8)5 جیسے دسوری آیت میں فرمایا : قل ان الاولین والاخرین لجمعون الی میقات یوم معلوم کہہ دیجیے کہ تمام اگلوں اور پچھلوں کو ایک مقررہ دن میں اکٹھا کیا جائے گا۔ (واقعہ 5-1)
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب لوگ صفیں باندھ کردیا سب لوگوں کی ایک صف ہوگی تیرے مالک کے سامنے لائے جائیں گے (جہاں سے کہیں گے) تم تو ہمارے پاس اسی طرح (ننگے کھلے) آئے جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار (دنیا میں) پیدا کیا تھا بلکہ تم تو یہ سمجھتے تھے کہ ہم تمہارے لئے (یعنی تمہاری جزا و سزا کے لئے) کوئی وقت ہی نہیں ٹھہرائیں گے6

ف 6 یہ خطاب ان لوگوں سے ہوگا جو دنیا میں آخرت سے انکار کرتے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ننگے بدن ننگے پائوں بےختنہ اور طرح سے بےبسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائو گے۔ (رازی)
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اعمالنامے ان کے ہاتھوں میں رکھ دیئے جائیں گے تو دیکھے گا گنہگار لوگ ان کو دیکھ کر (کیسا ڈریں گے اور کہیں گے ہائے ہماری بسنتی یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ کوئی عمل چھوٹا یا بڑا ایسا نہیں جو اس میں نہ لکھا ہو اور جو جو کام انہوں نے (دنیا میں) کئے تھے وہ سامنے آجائیں گے اور7 اور تیرا مالک کسی پر ظلم نہیں کرنے کا8

ف 7 حضرت سعد بن جنادہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین سے پلٹے تو ہم نے ایک کھلے چٹیل میدان میں پڑائو ڈالا۔ آنحضرت نے لوگوں سے فرمایا : لکڑاں ی جمع کرو جسے کوئی ٹہنی ملے ٹہنی لے آئے اور جسے جلانے کے لئے کوئی دوسری چیز ملے، وہ چیز لے آئے تھوڑی دیر گزرنے نہ پائی تھی کہ ایندھن کا ایک ڈھیر لگ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ اس ڈھیر کو دیکھ رہے ہو۔ (یاد رکھو) اسی طرح تم میں سے ہر شخص کے گناہ جمع کئے جاتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اس سے ڈرتے رہنا چاہیے اور کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہ کرنا چاہیے اس لئے کہ (ایک روز) اس کے تمام گناہ اکٹھے کر کے اس کے سامنے لائے جائیں گے۔ (طبرانی)8 یعنی کسی کو بےقصور سزا نہیں دے گا اور نہ ایسا ہوگا اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو اور اس کے نامہ اعمال میں درج کردیا جائے۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو پھر انہوں نے سب نے) سجدہ کیا پرا بلیس نے (سجدہ نہیں کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے مالک کے حکم سے باہر ہوا۔ اس کی کیا تم1 اس کو اور اس کی اولاد کو (یا اس کے تابعداروں کو) مجھ کو چھوڑ کر اپنا رفیق بناتے ہو (میری نافرمانی کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو) حالانکہ وہ ابلیس اور اس کی اولاد تمہارے دشمن ہیں ظالموں نے (خدا کو چھوڑ کر) کیا برا بدلا لیا (شیطان کی اطاعت اختیار کی)

ف 9 اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کے ذکر کرنے سے مقصود کفار مکہ کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ تم جس غرور تکبر کی راہ پر چل رہے ہو اور فقراء و مسلمین کو حقیر سمجھتے ہو۔ یہی وہی راہ ہے جس پر تم سے پہلے شیطا ننے قدم رکھا تھا پھر دیکھ لو کہ اس کا انجام کیا ہوا۔ (کبیر) 1 یعنی وہ فرشتوں میں سے نہیں تھا، جنوں میں تھا، اسی لئے اس نے اپنے مالک کی نافرمانی کی ففسق میں فاء تعلیلیہ ہے۔ (کبیر) اگر وہ فرشتوں میں سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتا۔ کیونکہ فرشتے تو اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ (تحریم :6)
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے شیطانوں کو آسمان اور زمین کا پیدا کرنا نہیں دکھلایا اور نہ خود ان کا پیدا2 ہونا اور ان میں شیطانوں کی مدد لنیے والا نہیں3

ف 2 یعنی جب میں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ان شیاطین کا کوئی وجود نہ تھا کہ وہ ان کے بنانے میں میرے شریک ہوتے اور نہ میں نے ان کی اپنی پیدائش میں انہیں شریک کیا۔ پھر یہ میرے شریک اور تمہاری بندگی و اطاعت کے مستحق کیسے سمجھے جاسکتے ہیں ؟3 یعنی میں اس سے پاک ہوں کہ اس طرح کے شریروں اور نافرمانوں کو جن کا کام دوسروں کو گمراہ کرنا اور شرارت پھیلانا ہے اپنا مددگار بنائوں گا۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور (وہ دن بھی یاد کر) جب اللہ تعالیٰ (کافروں سے) فرمائیگا تم جن کو میرا شریک سمجھا کرتے تھے اور ان کو پکارو نا وہ تمہاری کچھ مدد کریں) پھر وہ ان کو پکاریں گے (ان کے نام کی دہائی دینگے) وہ جواب ہی نہ دیں4 کے (مدد کرنا کجا) اور ہم ان کے بیج میں5 میں ایک ہلاکت کی آڑ بن کر دینگے6

ف 4 کجا کہ ان کی مدد کرسکیں اور ان کے کسی کام آسکیں5 یعنی ان کافروں اور ان لوگوں کے درمیان جنہیں وہ دنیا میں اپنا معبود سمجھتے تھے۔6 جس سے ان کا ایک دوسرے جس سے ان کا ایک دوسرے تک پہنچنا ممکن ہی نہ رہے گا حضرت انس فرماتے ہیں کہ وہ خون اور پیپ سے بھری ہوئی ایک گہری خندق ہوگی اور حسن فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سخت عداوت ہے۔ (کبیر)
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور گنہگار لوگ (چالیس برس کی راہ سے) دوزخ کو دیکھیں گے ان کو اس میں جانے کا یقین ہوجائے گا اور دوزخ سے بچائو کی کوئی راہ نہ پائیں گے

ف 7 کیونکہ اس کی آگ نے انہیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہوگا۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے (سمجھنے کے) لئے ہر طرح کی مثالیں بار بار بیا ن کی8 ہیں مگر (بات یہ ہے کہ) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے

ف 8 جیسا کہ اس سورة میں چند مثالوں کا تذکرہ گزر چکا ہے۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں پاس9 ہدایت آگئی (قرآن اور پیغمبر) تو اب ان کو ایمان لانے اور اپنے مالک کی بخشش چاہنے سے اور کسی بات نے نہیں روکا مگر (خدا کی تقدیر نے) یہ کہ اگلے لوگوں کا سا حال ان کا بھی ہو (کہ جب ایمان نہ لائے تو ہلاک کئے گئے) یا ان کے سامنے عذاب آن موجود ہو یا طرح طرح کے عذاب ان پر آجائیں10

ف 9 اس لئے خواہ مخواہ کی حیل و حجت کئے جاتا ہے اور حق بات کی طرف نہیں آتا۔10 یعنی انہیں سمجھانے کے لئے جتنے طریقے ممکن تھے وہ سب قرآن اور محمد نے اختیار کئے۔ اب سوائے اس کے کہ انہیں پہلے لوگوں کے سے حشر کا انتظار ہے اور یہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونا چاہیے ہیں اور یک اچیز ہے جو انہیں حق کی طرف آنے سے مانع ہے ؟ ان بدبختوں کی قسمت میں یہی لکھا ہے۔ سچ ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم تو پیغمبروں کو صرف اس لئے بھجیتے ہیں کہ (مومنوں کو نجانت کی خوشخبری دیں اور کافروں کو عذاب سے ڈرائیں اور کافر لوگ جھوٹی باتیں بنا کر سچ کو میٹ دینے کے لئے (یا اپنی جگہ سے لڑکھڑایا ڈگمگا دینے کے لئے) جھگڑا کرتے ہیں11 اور ان لوگوں نے ہماری آیتوں اور ہمارے ڈرانے کو (یا ان چیزوں کو جن سے ڈراتے گئے) بنسی کھیل بنا لیا

ف 11 مثلاً یہ کہ رسولوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری طرح کے انسان ہو۔ بھلا انسان کو بھی اللہ اپنا رسول بنا کر بھیج سکتا ہے ؟
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم گنہگار ہوگا جس کو اس کے مالک کی آیتوں سے نصیحت کی جائے اور وہ انس سے منہ پھیر لے اور اپنے اگلے کاموں (گناہوں) کو بھول جائے (بات یہ ہے کہ) ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں ایسا نہ ہو وہ قرآن کو سمجھ جائیں اور ان کے کانوں کو بھاری کردیا ہے (تاکہ وہ حق بات برابر نہ سنیں اور اسی وجہ سے اے پیغمبر) اگر تو ان کو سیدھے رستے کی طرف بلائے تو وہ کبھی راہ پر آنیوالے نہیں ہرگز نہیں1

ف 1 یعنی جب کوئی شخص کسی کے سیدھی طرح سمجھانے سے کوئی اثر نہیں لیتا بلکہ جانتے بوجھتے ہٹ دھرمی اور جھگڑا لو پن پر اتر آتا ہے۔ اللہ کی واضح آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور اپنے کرتوتوں اور ان کے برے نتائج سے بھی کوئی سابق حاصل نہیں کرتا تو آخر کار اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل پر پردہ پڑجاتا ہے اور اس کے کان حق بات سننے سے بہرے ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص اس کو سیدھی راہ کی طرف بلائے بھی نوٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کی یہ کیفیت اس کے اپنے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر خلاق چونکہ ہر چیز کا اللہ ہے اس لئے اس کیفیت کو پیدا کرنے کے فعل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تیرا مالک بڑا بخشنے والا مہربان ہے اگر ان کے گناہوں پر ان کو پکڑنا چاہے تو جلدی (دنیا ہی میں) ان کو عذاب دے مگر (بات یہ ہے کہ اس نے) ان کے عذاب کے) لئے ایک وعدہ مقرر کر رکھنا ہے2 جس کو چھوڑ کر کوئی بچائو کو نہ ملے گا۔3

ف 2 چاہے قیامت کے دن اور چاہے اس دنیا میں3 یعنی آخر کار ذلیل و خوار رہوں گے جب ان کی گرفت ہوگی تو اس سے بچنے کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں بنائینگے۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور ان بستیوں کو ہم نے (دنیا میں) تابہ کردیا جب انہوں نے شرارت کی اور ان کی4 ہلاکت کا (آخرت میں بھی) ہم نے ایک وعدہ مقرر کیا5 ہے

ف 4 مراد ہیں سباء، محمود، مدین اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیاں جن کی سرگزشت سے عرب کے تمام لوگ واقف تھے اور جن پر اپنے سفروں میں آتے جاتے قریش کا ہمیشہ گزر ہوتا تھا۔5 تو اے کفار قریش تمہیں بھی ڈرتے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ آخر کار تمہارا بھی وہی حشر ہو جو ان بستیوں کا ہوا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : اوپر ذکر فرمایا کہ کافر اپنے مال و جاہ پر مغرور رہتے اور مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر آنحضرت سے کہتے کہ ان کو اپنے پاس نہ بٹھائو تو ہم بیٹھیں اس پر دو بھائیوں کا قصہ بیان فرمایا اور پھر دنیا کی مثال بیان کی اور بتایا کہ ابلیس اپنے غرور کے سبب ہی ہلاک ہوا۔ اب خضر اور موسیٰکا قصہ بیان فرما کر یہ سمجھایا کہ اللہ کے بندے اگر بہتر بھی ہوں تو بھی اپنے کو کسی سے بہتر نہیں سمجھتے۔ (کذا فی الموضح)
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب موسیٰ نے اپنے خادم (یو شع بن نون سے) کہا میں تو نہیں ٹھہروں گا (سفر کئے جائوں گا) جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر بھر فارس اور بحر روم) ملے ہیں یا برسوں چلتا ہی رہوں گا6

ف 6 یہاں موسیٰ سے مراد اللہ کے رسول حضرت موسیٰ بن عمران ہی ہیں۔ جیسا کہ صحیحین کی روایت میں حضرت ابی بن کعب نے اسے خود نبی ﷺ سے بیان کیا ہے۔ دو سمندروں سے مراد بعض مفسرین نے بحر فارس اور بحر روم ہی لئے ہیں لیکن دونوں ملتے نہیں ہیں۔ شاید ان کے ملنے کی جگہ سے وہ جگہ مراد ہو جہاں دونوں کا فاصلہ سے کم رہ جات ا ہے۔ بعض نے ان سے دجلہ و فرات اور بعض نے افریقا کے دو دریا مراد لئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کے سفر کا سبب بعض روایات میں مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ سے ایک خطبہ میں ایک سائل نے سوال کیا : کیا زمین پر تجھ سے زیادہ کوئی عالم بھی ہے تو اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے فرمایا :” نہیں “ اللہ تعالیٰ کو یہ چیز ناگوار گزری چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ جہاں دو سمندر یا دریا ملتے ہیں وہاں میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے عرض کی، اے میرے رب تیرے اس بندے سے میری کیونکہ ملاقات ہوسکتی ہے۔ حکم ہوا کہ سفر شروع کرو اور ایک مچھلی بھنی ہوئی اپنے ساتھ رکھ لو جہاں یہ مچھلی زندہ ہوجائے وہیں مت ہیں ہمارا بندہ مل جائے گا چناچہ حضرت موسیٰ نے مچھلی لے کر سفر شروع کیا اور اپنے ساتھ خادم یوشع بن نون کرلیا۔ (ابن کثیر) یوسع بن نون وہی ہیں جو حضرت موسیٰکے بعد ان کے خلیفہ بنے۔ (دیکھیے سورة مائدہ :23)
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

جب یہ دونوں سمندروں کے ملنے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی کو بھول7 گئے اس نے (ایک ہی ایکا) سمندر کی راہ لی اس کو سرنگ کی طرح بنا لیا8

ف 7 یعنی اس سے غافل ہوگئے8 حضرت ابی بن کعب کے مذکورہ بالا روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ اور یوشع چلتے چلیت ایک چٹان پر پہنچے، وہاں انہیں نیند آنے لگی اور وہ سو گئے اسی اثناء میں وہ مچھلی یکایک تڑپی اور ٹوکری سے نکل کر اس طرح سمندر میں چلی گی جیسے کوئی سرنگ لگی ہو جہاں مچھلی گری وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی کو چلنے سے روک دیا اور وہ ایک طشت کی طرح بن گیا حضرت یوشع نے یہ منظر دیکھا مگر جب حضرت موسیٰ بیدار ہوئے تو وہ انہیں بتانا بھول گئے چناچہ انہوں نے آگے سفر شروع کیا اور ایک رات دن چلتے رہے۔ (ابن کثیر) بعض آثار میں ہے کہ یہ واقعہ توراۃ ملنے کے بعد پیش آیا۔
Ayahs 18:62–64

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب اس مقام سے جہاں دو سمندر ملے ہیں آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم (یوشع) سے کہا ہمارا ناشتہ لائو ہم نے تو اپنے اس سفر سے بڑی تھکان اٹھائی ہے

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے کہا تو نے دیکھا (عجیب بات ہوئی) جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تو میں مچھلی (کا قصہ کہنا) بھول گیا اور شیطان نے مجھے بھلا دیا کہ تجھ سے اس کا ذکر کرتا اور مچھلی نے عجیب طرح سے اپنے لئے دریا میں جاین کا رستہ کرلیا

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا یہی تو ہمارا مطلب1 تھا آخر اپنے قدموں کے نشان پر الٹے پھر2 سے

ف 1 یعنی جہاں یہ مچھلی گم ہوئی وہی تو ہماری منزل مقصود تھی۔2 یعنی جس راستے سے گئے تھے اسی راستے سے واپس ہوگئے۔
Ayah 18:65

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

پھر ان دونوں نے (وہاں پہنچ کر) ہمارے بندوں میں سے ایک بندے (خضر) کو پایا3 ہم نے اس کو اپنی خاص مہربانی دی تھی اور فل 4 ہم نے اس کو اپنے پاس سے علم سکھایا تھا5

ف 3 عبداً من عبادناً کے نام میں اختلاف ہے بعض نے ان کا نام ” الیسع “ اور بعض نے ” الیاس نقل کیا ہے مگر جمہور مفسرین نے ان کا نام خضر ہی بتایا ہے جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان کو خضر کیوں کہا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ سفید زمین پر بیٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی اس سے ان کا لقب خضر مشہور ہوگیا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ایک حدیث سے بھی ثابت ہے۔ امام نووی لکھتے ہیں والصواب الاول یعنی یہی وجلقب درست ہے۔ (روح شوکانی)4 جمہور علما کے نزدیک یہاں رحمت سے مراد وحی اور نبوت ہے اور قرآن میں متعدد مواضع پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جمہور مفسرین کے نزدیک حضرت خضر نبی تھے جس کی شہادت متعدد روایات سے بھی ملتی ہے۔ جمہور بہ مشائخ اور صوفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ اب بھی زندہ ہیں اور اس سلسلہ میں زیادہ تر کہا وات اور بعض واقعات سے تائید حاصل کی گی ورنہ ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔ دوسری طرف محققین علما … جن میں امام بخاری ابن تیمیمہ اور حافظ ابن حجر جیسے اکبار بھی شامل ہیں … کی رائے یہ ہے کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں۔ حافظ ابن القیم فرماتے ہیں کہ ان کے اب تک زندہ رہنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے بلکہ جن احادیث میں ان کی زندگی کا ذکر ہے وہ سب کی سب جھوٹی ہیں۔ امام بخاری سے حضرت الیاس اور خضر کے بارے میں سوال کیا گیا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں ؟ امام بخاری نے فرمایا یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ آنحضرت نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے فرما دیا، لایبقی علی راس المائۃ ممن کو الیوم علی ظھر الارض احد کہ آج روئے زمین پر جتنے بھی رہنے والے ہیں ایک سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ اور صحیح مسلم میں امن نفس منفویۃ الا ہے اور علی ظھر الارض کے الفاظ نہیں ہیں جن میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں۔ حافظ ابن الصلاح نے لکھا ہے کہ خضر آج بھی زندہ ہیں اور بات مجمہور علما کی طرف منسوب کیا ہے مگر یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ الغرض صحیح رائے محمد ثین کی ہے کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں۔ قوسی زادہ نے روح المعانی میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور طرفین کے دلائل بھی ذکر کئے ہیں۔5 یعنی اوسطہ وحی کے ہم نے ان کو تعلیم دی۔ عام اس سے کہ وہ وحی ظاہری ہو یعنی فرشتے کی زبن سے سخی ہو یا اشارہ اور الہام کے طور پر حاصل کی ہو جسے حدیث میں نفث فی الروع “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس آیت سے صوفیہ نے علم امدنی کا ثبوت پیش کیا ہے اور شریعت کے علم کو علم ظاہر قرار دے کر اس کو علم باطنی کا درجہ دیا ہے حتیٰ کہ بعض نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ علم باطن کے احکام علم شریعت اور ظاہر کے خلاف ہوتے ہیں مگر محقین صوفیہ نے اس کا انکار کیا ہے اور لکھا ہے علم تصوف کا زہد و تو نتیجہ یہ کتاب و سنت پر عمل کا شریعت کے مخلاف کیسے ہوسکتے ہیں اور مخلوق کو جو علم بھی حاصل ہوا ہے وہ علم ظاہرہی ہے ورنہ علم باطن تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے اس سے کہا کیا میں تریے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ جو بہتر علم تجھ کو سکھایا گیا ہے وہ مجھ کو تو سکھلائے6

ف 6 یعنی اگر اجازت ہو تو چند روز آپ کے ساتھ رہ کر اس علم کا کچھ حصہ حاصل کرلوں جو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے حضرت موسیٰکو اولوالعزم پیغمبر تھے لیکن بعض جزئیات کا جو علم حضرت خضر کو دیا گیا تھا وہ حضرت موسیٰ کو حاصل نہیں تھا کیونکہ ان موسیٰ کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا پیغمبر اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے مگر جن باتوں کا تعلق اس پیغمبر کی شریعت سے نہیں ہوتا ان کا نہ جاننا اس پیغمبر کی شان کے خلفا نہیں ہوتا۔ اسی بنا پر آنحضرت نے فرمایا …………پھر جو علوم حضرت موسیٰ کو ملے تھے ان کا حضرت خضر کو نہ تھا جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں تصریح ہے۔ علامہ درانی نے حواشی جدید میں اس کی خوف تحقیق کی ہے۔ (روح المعانی)
Ayahs 18:67–68

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

خضر نے کہا تجھ سے میرے ساتھ ہرگز صبر نہ ہو سکے گا

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور (بات یہ ہے) جس چیز سے تجھ کو پوری خبر نہ ہو اس پر تو کیسے صبر کرسکتا ہے7 ہے

ف 7 آپ یقینا اس کے ظاہری پہلو کو دیکھ کر اس پر اعتراض کردیں گے۔
Ayahs 18:69–70

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اللہ چاہے تو مجھ کو صبر کرنے والا پائے گا اور میں کسی کام میں تیری نافرمانی نہیں کرنے کا

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

خضر نے کہا اچھا اگر میرے ساتھ رہتا ہے تو اس وقت تک کوئی بات مجھ سے نہ پوچھ جب تک میں (خود) اس کا ذکر تجھ سے شروع نہ کروں8

ف 8 کیونکہ ہوسکتا ہے کہ میں کوئی ایسا کام کروں جو بظاہر آپ کو دی جانے والی شریعت کے خلاف ہو
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

آخر حضرت موسیٰ نے یہ شرط منظور کی اور دونوں (ساتھ مل کر) چلے9 جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوگئے تو خضر نے (ایک بسولا لیا) کشتی کو پھاڑ ڈالا (اس کا ایک تختہ نکال ڈالا) موسیٰ کہہ بیٹھا تو نے کیا اس لئے کشتی کو پھاڑ ڈالا کہ کشتی والوں کو ڈبو دے یہ تو تو نے بڑا سخت (خسرناک مروت کے خلاف) کام کیا

ف 9 چلتے چلتے دریا پر پہنچے پیمانہ تھا اتنے میں ایک کشتی آگئی کشتی والوں نے حضرت خضر کو پہچان کر بےکرایہ ان کو سوار کرلیا اور یہ جو تختہ نکالا تو کنارے کے قریب پہنچ کر تاکہ لوگ ڈوبنے سے بچ جائیں۔
Ayahs 18:72–73

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

خضر نے کہا (وہی بات ہوئی نام میں نے (پہلے ہی) نہیں کہا تھا تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا بھول چوک پر مجھ کو مت پکڑ اور میرے کام کو مشکل میں نہ ڈال13

ف 10 یعنی مجھ سے چوک ہوگئی اور مجھے طے کردہ شرط یاد نہیں رہی لہٰذا مجھ پر کوئی گرفت نہ کیجیے اگر آپ بھول چوک پر گرفتار کریں گے تو میرا آپ کے ساتھ رہنا مشکل ہوجائے گا۔
Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

خیر یہ بات گئی گذری) پھر دونوں (کشتی سے اتر کر کنارے پر) چلے (راہ میں) جب ان کو ایک لڑکا ملا تو حضرت خضر نے اس کو مار ڈالا موسیٰ (سے نہ رہا گیا) کہنے لگا تو نے ایک معصوم جان کو مار ڈالا (وہ بھی ناحق) کسی جان کے بدلے نہیں تو نے بڑا خراب کام کیا۔

ف 11 پہلے سے بھی زیادہ خراب کیونکہ کشتی کا تختہ تو پھر بھی جوڑا جاسکتا تھا مگر اس لڑکے کی گئی ہوئی جان کہاں سے آئے گی۔
Ayahs 18:75–76

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

خضر نے کہا میں نے کیا تجھ سے نہیں کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا (آخر ویسا ہی ہوا جو میں نے کہا تھا)

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ نے (شرمندہ ہو کر) کہا اگر میں اب اس کے بعد تجھ سے کچھ پوچھوں ( تجھ پر کچھ اعتراض کروں) تو مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھ تجھ کو میری طرف سے (پوا) عذر مل گیا۔1

ف 1 یعنی میرا ساتھ چھوڑ دینے کے لئے آپ کو پورا عذر مل گیا۔ اس میں خضر کی انتہائی تعریف ہے۔ (کبیر)
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

خیر پھر دونوں چلے چلتے چلتے جب ایک گائوں والوں کے پاس پہنچے تو ان سے کھانا مانگا (دونوں بھوکے تھے) انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کیا (کھانا تک نہ کھلایا) ھ پر دونوں اس گائوں میں دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہی تھی (جھک گئی تھی) خضر نے اس کو سیدھا کردیا۔ موسیٰ سے نہ رہا گیا، کہہ اٹھا اگر تو چاہتا تو اس دیوار اٹھانے کی (ان گائوں والوں سے خاصی مزدوری لے سکتا تھا۔

ف 2 یعنی انہوں نے تو ہمیں کھانا تک نہ دیا مگر آپ ہیں کہ ان کی دیوار سیدھی کردی اور کوئی اجرت طلب نہ کی اگر اجرت لیتے تو ہم کچھ کھا پی ہی لیتے اس بستی کا نام بعض نے ایلہ اور بعض نے انطاکیہ لکھا ہے۔ (کبیر)
Ayahs 18:78–79

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

خضر نے کہا (بس میرا تیرا ساتھ ہوچکا اس بات نے مجھ کو اور تجھ کو جدا کردیا (یا میری تیری جدائی کا وقت آگیا، جن باتوں پر تجھ سے صبر نہ ہوسکا اب میں ان کی حقیقت تجھ سے بیا نکئے دیتا ہوں۔

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ کشتی تو چند محتاجوں کی تھی جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے۔3 میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اس لئے ایک تختہ نکال ڈالا کیونکہ ان کے آگے کی طرف ایک بادشاہ تھا (ظالم) جو ہر ایک کشتی کو زبردستی پکڑ لیتا4

ف 3 یعنی ان کی ساری پونچی صرف یہی کشتی تھی اس کو وہ کرایہ پر چلاتے اور اپنی روزی کماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فقیر بہ نسبت مسکین کے زیادہ تلاش ہوتا ہے۔ (شوکانی)4 یعنی میں نے اس کشتی کا تختہ اس لئے نکال دیا کہ جب یہ آگے جائے تو اس ظالم بادشاہ کی دست برد سے محفوظ رہے اور اسے عیب زدہ سمجھ کر چھوڑ دے۔ معلوم ہوا کہ کسی کی خیر خواہی کے لئے اس کے مال میں بلا اجازت صرف جائز ہے۔ (کبیر)
Ayah 18:80

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ لڑکا تو اس کے ماں باپ دونوں ایماندار تھے ہم ڈر گئے (ایسا نہ ہو یہ لڑکا بڑا ہو کر) وہ اپنے ماں باپ کو بھی شرارت اور کفر میں ڈھانپ دے5

ف 5 یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ اپنے مومن والدین کو کفر و سرکشی میں اپنے ساتھ شامل کرلے اور اس کی محبت میں وہ بھی مرتد ہوجائیں اگر یہ غلام بالغ ہو تو کافر بالغل کا قتل جائز ہے اور اگر نابالغ ہو جیسا کہ مشہور ہے تو خصر کی شریعت میں یہ جائز تھا کیونکہ جمہور کے نزدیک حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے قتل کیا تھا جیسا کہ آخر میں وما فعلتہ عن امیر سے معلوم ہوتا ہے۔ (شوکانی)