17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

وہ (خدا وند ہر عیب اور نقص سے) اپاک ہے جو اپنے بندے2(محمد) کو راتوں رات ادب والی مسجد (خانہ کعبہ) سے دور کی مسجد3 (بیت المقدس میں لے گیا جس کے گرد ہم نے برکت کر رکھی ہے اس لئے کہ ہم محمد کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھلائیں بشک4 وہی خدا ہے جو (ہر بات کو اور ہر چیز کو سنتا اور دیکھتا ہے

ف 2 ” عبد “ (بندہ) کا لفظ اس محبت اور تعلق کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے آخری پیغمبر محمد ﷺ سے ہے اہل قلم کہتے ہیں کہ اگر پیار و محبت کے اظہار کے لئے اس سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا لفظ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس مقام پر اسی کو استعمال فرماتا۔ (روح)3 اسی اسرار “ کو معراج بھی کہا جاتا ہے مگر دراصل اسراء اور معراج دو سفر ہیں جو ایک ہی رات میں ہوئے۔ مکہ سے بیت المقدس تک سفر کا نام ” اسراء “ ہے جس کا تذکرہ یہاں فرمایا ہے۔ پھر بیت المقدس سے آسمانوں کے لئے جانے کو معراج کہا جاتا ہے جس کی تفصیلات کتب حدیث اور سیر میں مذکور ہیں …“ مسجد حرام “ سے مراد مکہ یا پورا حرم ہے کیونکہ جس رات معراج ہوئی آنحضرت ام ہانی “ کے گھر میں سوئے ہوئے تھے وہاں سے آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور پھر حطیم سے براق پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے اور بیت المقدس سے بذریعہ معراج کے اوپر ساتوں آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہی تک پہنچے راستہ میں آسمانوں پر متعدد جلیل القدر انبیاء سے ملاقاتیں ہوئیں اور آپ نے جنت دوزخ کا مشاہدہ بھی کیا۔ بالاخر سدرۃ المنتہی پر پہنچ کر اپنے رب سے ہم کلام بھی ہوئے اور یہیں آپ کو پنجگانہ نماز کا حکم ملا۔ پھر پلٹ کر بیت المقدس آئے جہاں آپ نے امام بن کر تمام انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ نماز ادا کی حافظ ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن قاضی عیاض وغیرہ کا خیال ہے کہ انبیاء کی امامت آپ نے واپسی پر نہیں بلکہ معراج کو جاتے ہوئے کو رائی ہے۔ بہرحال اس کے بعد مسجد حرام واپس تشویف لائے۔ سفر کا یہ واقعہ بہت سی احادیث سے ثابت ہوتا ہے اور تقریباً تیس صحابہ سے مروی ہے۔ گو بعض جزئیات میں اختلاف ہے علماء سلف و خلف کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں روح اور جسم سمیت پیش آیا اور قرآن میں لفظ عبدہ سے بھی اس کی شہادت ملتی ہے پھر اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو کافر قریش اس کی تکذیب نہ کرتے اور نہ قرآن ہی سبحان الذی کی تمہید کے ساتھ اسے بیان کرتا کیونکہ ان تمہیدی الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم اور خرق عادت واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ بعض علماء نے آیت کریمہ :” وما جعلنا الروبا التی اریتاک آلایۃ میں لفظ رئویا سے استدلال کیا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے۔ مگر محققین علمائے لغت نے تصریح کی ہے کہ لفظ رویا بیداری میں مشاہدہ عینی پر بھی بولا جاتا ہے اور یہاں پر یہی معنی مراد ہیں۔ کما صرح بہ ابن عباس (بخاری) پس اس آیت سے ان کا یہ استدلا لصحیح نہیں ہے، تمام صحابہ روایتہ اس پر متفق ہیں کہ آنحضرت کو معراج بحالت بیداری ہوئی اور جسم کے ساتھ ہوئی اور یہی اہل حدیث کا متفقہ فیصلہ ہے۔ صرف حضرت عائشہ اور معاویہ سے یہ مروی ہے کہ معراج خواب میں ہوئی مگر ایک تو یہ روایت سند منقطع ہے اور پھر ان کی اپنی رائے اور آیت کریمہ وما جعلنا الرویا سے استدلال ہے جو صحابہ کے متفقہ فیصلہ کے سامنے ناقابل التفات سمجھا گیا ہے۔ (از شوکانی ابن کثیر) اکثر روایات کے بیان کے مطابق یہ قصہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔ ابن حزم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ملا امین عمری نے اس کو قطعی قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں تین سال قبل بھی مذکور ہے۔ صرف حضرت انس سے شریک بن ابی نمرہ کی ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ قبل از نبوت کا ہے مگر شریک کی یہ روایت شاذ اور منکر سمجھی گئی ہے۔ حافظ عبدالحق الجمع بین الصحیحین بھی لکھتے ہیں : قد زادفیہ زیادۃ مجھولۃ واتی بالفاظ غیر معروفۃ اور پھر شریک علماء حدیث کے نزدیک ” حافظ “ بھی نہیں ہے۔ بہرحال صحیح یہی ہے کہ ہجرت سے کچھ عرصہ قبل کا واقعہ ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ اس وقت زندہ تھیں اور انہوں نے پنجگانہ نماز ادا کی ہے اور ان کی وفات ہجرت سے تین سال پیشتر ہوئی ہے۔ واللہ اعلم (روح)4 ظاہری اور مادی برکات بھی ہیں کہ وہاں چشموں، نہروں اور ہر قسم کے پھلوں کی بہتات ہے اور باطنی اور روحانی اعتبار سے بھی وہ خطہ یا برکت ہے کہ بہت سے انبیاء و رسل کا مسکن اور مفدن ہے اور دنیا میں دوسری مسجد ہے اور یہ ان تین مساجد میں شامل ہے جن کی زیارت کے لئے سفر کو مشروع قرار دیا گیا ہے۔ اور دنیا میں چار مواضع وہ ہیں جن میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔ یعنی حرمین، اقصی اور طور شرفاً و برکتہ
Ayah 17:2

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب توریت5 دی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا اور ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ہمارے سوا کسی کو اپنے نام سے نہ سونپو6

ف 5 آسان کے عجائبات جیسے جنت دوزخ بیت المعمور وغیرہ جن کا حادیث میں ذکر آیا ہے۔ 6 یعنی جس طرح آنحضرت کو معراج کا شرف بخشا اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو الکتاب (توراۃ) سے نوازا۔
Ayah 17:3

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

تم ان لوگوں کی نسل ہو جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کرلیا تھا وہ یعنی نوح حق ماننے والا شکر گزار بندہ تھا7

ف 7 یعنی میرے سوا کسی اور پر اعتماد اور بھروسا نہ کرو اور نہ میرے سوا کسی سے ہدیات اور مد طلب کرو۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل سے اس کتاب توریت میں صاف کہہ دیا تھا کہ تم دو بار ملک میں یعنی شام کے ملک میں) فساد مچائو گے اور دونوں بار لوگوں پر) بڑی چڑھائی کرو گے8 (ستائو گے ظلم اور زیادتی کرو گے)

ف 8 تو تم بھی نوح کی راہ اتخیار کرو
Ayah 17:5

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

تو جب پہلے فساد کے بدلہ لینے ض کا وقت آن پہنچا ہم نے اپنے کئی بندوں کو جو بہت جنگی تھے (بڑے لڑنے والے) تم پر بھیج دیا وہ (تمہارے) شہروں کے بیچ میں پھیل9 گئے اور یہ وعدہ (ضرور) پورا ہونے والا تھا

ف 9 پہلی مرتبہ فساد سے مراد حضرت شعیا کا قتل یا حضرت ارمیا کو قید کرنا ہے اور یا پھر توراۃ کے احکام کی خلاف ورزی مراد ہے اور دوسری مرتبہ سے مراد ان کے بادشاہ ہیر و ڈریس کا ایک فاحشہ عورت کے مطالبہ پر حضرت یحییٰ (یوحنا) کو قتل کرنا اور حضرت عیسیٰ کے قتل کا منصوبہ بنانا ہے۔ (شوکانی) یوحنا کے قتل کا واقعہ توراۃ میں مذکور ہے۔
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

(قضائے مبر) تھی جو رک نہیں سکتی) پھر ہم نے تم کو (سو برس کے بعد) ان پر غلبہ دیا10 (تمہارے دن پھیرے) اور ہم نے مال اور بیٹوں سے تم کو زور بخشا (پھر تم ویسے ہی زور آور ہوگئے جسے پہلے تھے) اور تمہارا جتھا (پہلے سے بھی) بڑھا دیا اور تمہارا جتھا دشمن سے بھی زیادہ کردیا )

ف 10 یعنی تاکہ تمہیں ڈھنڈ ڈھونڈ کر قتل کریں، لوٹ مار کریں اور قیدی بنائیں۔ یہاں ” عبادا “ سے بابل کے بادشاہ بخت نصر اور انکے ساتھی مراد ہیں۔ یا جالوت اور اس کے فوجی انہوں نے بنی اسرائیل کو خوب قتل کیا تو رات کو جلا ڈالا اور بیت المقدس کی مسجد مسمار کردی اور پھر ستر ہزار یہودیوں کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم اچھا کرو گیتو اپنے لئے اچھا کرو گے11(تمہاری ہی بھلا ہوگا) اور جو برا کر دے گے تو اپنے لئے برا کرو گے (تمہارا ہی خرابا ہوگا) پھر جب دوسرے وعدے کی سزا کا وقت آن پہنچا تو ہم نے دوسرے بندوں کو تم پر بھیج دیا کہ اتارتے مارتے تمہارے منہ بگاڑ دیں تم اداس ہوجائو اور پہلی بار کی طرح پھر مسجد میں گھس جائیں (یعنی بیت المقدس کی مسجد کو دوبارہ خراب کریں اور جس چیز پر قابو پائیں اس کو برباد کردیں1

ف 11 جب بخت نصر قتل ہوا یا حضرت دائود نے جالوت کو قتل کی۔ (شوکانی) فوائد صفحہ ہذا 1 ان سے مراد رومی ہیں جنہوں نے بیت المقدس کو ویران کیا اور ہزاروں یہودیوں کو قتل اور قید کیا اور جو رہ گئے قیصر روم کی رعت بن کر رہے۔ (وحیدی)
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

اب بھی اے بنی اسرائیل اگر تم توبہ کرو تو اللہ کی مہربانی کی امید رکھو اور اگر تم پھر ویسی ہی شرارتیں کرو گے اور حضرت محمد کو ساتئو گے تو ہم پھر وہی صعذاب) کریں گے2 اور ہم نے کافروں کے لئے جہنم کو قید خانہ بنایا ہے (یا بچھونا) ب

ف 2 یعنی قتل اور قید ہوگئے اور جلا وطنی یا جزیہ کی ذلت برداشت کرنا پڑیگی۔ چناچہ بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو مسلسلمانوں کے ہاتھوں میں سزا ملی۔
Ayahs 17:9–11

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

ے شک یہ قرآن وہ راہ تاتا ہے جو بہت ٹھیک ہے (یعنی اسلام کی راہ) اور جو ایماندار لوگ نیک کام کرتی ہیں ان کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو آخرت میں بڑا اجر ملے گا یعنی بہشت

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور اس بات کی بھی خبر دیتا ہے کہ جو لوگ آخرت کا یقین نہ رکھتے ان کے لئے ہم نے تکلیف کا عذاب تیار رکھا ہے

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور یہ آدمی اپنی بیوقوفی سے رنج اور غصہ کی حالت میں اسی طرح بد دعا کرنے لگتا3 ہے جس طرح بھلائی کی دعا کرتا ہے اور آدمی بڑا جلدباز ہے4

ف 3 یعنی اپنے لئے یا اپنی اولاد اور گھر والوں کیلئے 4 اس لئے جو منہ میں آتا ہے اپنے رب سے مانگن یلگتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا اس پر بڑا فضل و کرم ہے جو اس کی بد دعا کو فوراً قبول نہیں کرتا اور اگر کہیں قبول کرے تو تو وہ تباہ و برباد ہوجائے۔ (رازی)
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن کے دو نمونے بنائے5 پھر رات کا نمونہ تاریک رکھا اور دن کا نمونہ روشن رکھا اس لئے کہ تم دن میں اپنے مالک کا فضل چاہو یعنی کمائی کرو) اور اس لئے تم برسوں کی گنتی اور حساب جان لو6 اور ہر چیز کو ہم نے کھول کر بیان کردیا ہے7

ف 5 نمونے اس لحاظ سے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور کاریگری کا پتا چلتا ہے رات دن کو بطور دلیل اور نعمت کے قرآن نے متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے۔6 یعنی اگر رات دن نہ ہوتے تو ہمیشہ ایک جیسا موسم رہتا اور سال اور مہینوں کا کچھ پتا نہ چلتا اور نہ حساب رکھا جاسکتا۔ پس اس میں دینی اور دنیوی دونوں قسم کے فوائد مضمر ہیں۔ (راز) شاہ صاحب لکھتے ہیں : گھبرانے سے فائد انہیں ہر چیز کا وقت اور انداز ہ مقرر ہے جیسے رات اور دن کسی کے گھبرانے اور دعا سے رات کم نہیں ہوجاتی، اپنے وقت پر آپ صبح ہوجاتی ہے۔ (موضح)7 یعنی ہر وہ چیز جس پر تمہاری دنیا و آخرت میں فلاح کا انحصار ہے اسے ہم نے کھول کر بیان کردیا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : مافرظنا فی الکتاب من شی انعام 38 تبنانالکل شفعہ (النحل 89 (کذا فی المازی)
Ayah 17:13

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

ار ہم نے ہر آدمی کی قسمت ( برا بھلا جو ہونا ہے) اس کی گردن میں لٹکا دی ہے8 اور قیامت کے دن ہم اس کو ایک کتاب نکال کردکھائیں گے جس کو وہ کھلی ہوئی پائے گا9

ف 8 یہاں ” عنق “ کا لفظ لزوم سے کنایہ ہے مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے عمل اچھے ہوں یا برے کم ہوں یا زیادہ ہم نے محفوظ کردیئے ہیں جو کبھی ضائع نہیں ہوسکتے (رازی)9 مراد ہے انسان کا اپنا اعمالنامہ
Ayah 17:14

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

اور ہم اس سے کہیں گے اپنی کتاب عملوں کی پڑھ لے آج تو خود اپنا حساب لینے کے لئے آپ ہی کافی ہے10

ف 10 کسی اور محاسب کی ضرورت نہیں اس کتاب میں ہر چیز درج ہے۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص سیدھے رستے پر چلا (اچھے کام کئے) تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے سیدھا راستہ چلتا ہے اور جو شخص (سیدھے رستے سے) بھٹک گیا اور برے کاموں میں پھنس گیا تو اس کا مال اسی کو بھگتنا ہوگا1 (دوسرے کا کچھ نقصان نہ ہوگا اور کوئی بوجھ اٹھانیوالا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائیگے گا2 اور ہم اس وقت پر اسی کو عذاب کرنیوالے نہیں ہیں جب تک کوئی پیغمبر نہ بھیجیں3

ف 1 مطلب یہ ہے کہ جو شخص اچھے عمل کرتا ہے وہ کسی پر احسان نہیں کرتا بلکہ اس کا فائدہ اس کو پہنچتا ہے اور اگر برے عمل کرتا ہے تو ان کا بوجھ بھی اسی پر ہوگا۔2 یعنی دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا بلکہ وہ اسے خود ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ سورة نحل اور عنکبوت میں جو یہ آیا ہے کہ اڈہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے بھی جن کو بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے ہیں۔ “ تو یہ دراصل دوسروں کا بوجھ نہیں ہے بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے خود ان کا اپنا بوجھ ہے۔ (نیز دیکھیے نحل :25 عنکبوت :13)3 جو ان تک اللہ کے احکام پہنچا دے اور تمام حجت ہوجائے۔ جمہور علمائے تفسیر نے اسے عذاب دنیوی پو محمول کیا اور مراد عذاب اخروی بھی ہوسکتا ہے۔ (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کی چھوٹی اولاد معذب نہ ہوگی بلکہ حدیث ” کل مولود یولد علی الفطرۃ “ (کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت میں جائے گی بعض دوسری روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور حدیث ھم من اباء ھم “ کہ وہ اپنے آباء کے تابع ہوں گے پہلی حدیث یعنی کل مولود کے معارض نہیں ہے۔ کیونکہ یہ آپ نے اس وقت فرمایا تھا جب آپ کو ان کے جنتی ہونے کا علم نہ تھا۔ (ماخوذ ابن کثیرہ رازی)
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم کسی بستی کو برباد کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے چین اڑانے والوں کو حکم دیتے ہیں پھر وہ اس بستی میں بد کاریاں کرنے لگتے ہیں4 آخر اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ بستی عذاب کے لائق ہوجاتی ہے تب اس کو اکھا ” کر ہم پھینک دیتے ہیں5

ف 4 یہاں ” امر “ سے مراد امروحی ہے یعنی شریعت الٰہی جو پیغمبروں کی معرفت بھیجی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب پیغمبر آتے ہیں اور مترفین یعنی خوشحال طبقہ کو اتباع وحی کا حکم دیا جاتا ہے مگر وہ پیغمبروں کی نافرمانی کرتا ہے اور ملک بھر میں فسق و فجور پیا کردیتا ہے تو ہمواری طرف سے ان پر عذاب ثابت ہوجاتا ہے بعض نے امرنا بمعنی ” اکثرنا “ بکھی لکھا ہے۔ (قرطبی)5 یعنی ہم ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں تباہ و برباد کردیتے ہیں۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے6 بعد کتنی امتوں کو تباہ کر ڈالا (جیسے عاد اور ثمود اور دین والے) اور اے پیغمبر) تیرا مالک اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے کے لئے بس ہے7

ف 6 عینی ان امتوں پر جو تباہی آئی وہ اسی قاعدہ اور عام اصول کے تح تآئی۔ کوئی امت بےقصور نہیں پکڑ گی۔ (انعام 131)7 اس سے کسی کا بگاڑ اور شرارت پوشیدہ نہیں ہے۔ اس سے مقصود کفار قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ تم بھی اگر محمد ﷺ کی تکذیب کرو گے اور زمین پر فسق و فجور کا ارتکاب کرو گے تو جس طرح پہلی امتوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اسی طرح تم بھی تباہ کردیئے جائو گے۔ پس ابھی وقت ہے کہ اپنی اصلاح کرلو۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا کی بھلائی چاہتا ہو تو جتنا ہم چاہتے ہیں اس کو جلدی8 سے دنیا میں دے دیتے ہیں9 پھر (آخرت میں تو) ہم نے اس کے لئے دوزخ ٹھیرا رکھی ہے جس میں برے حالوں مردود ہو کر اس کو جانا10 ہے

ف 8 یعنی وہ نیک اعمال محض اس لئے کرتا ہو کہ اسے دنیا کا فائدہ اور اسی کی خوشحالی حاصل ہو جیسے منافق یا ریا کار9 یعنی اس کا مقصد پورا کردیتے ہیں مگر اتنا نہیں جتنا وہ خود چاہتا ہے بلکہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ پہلے گزر چکا ہے کہ سورة ہود کی آیت نوف الیھم اعمالھم اس آیت کے ساتھ مقید ہے۔ (ہود :15)10 آخرت میں ان کے عمل کسی طرح بھی قبول نہیں کئے جائیں گے۔ (قرطبی)
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص (اچھے عمل کر کے) آخرت کی بھلائی چاہتا ہو اور اسی کے لئے جیسے کوشش کرنا چاہیے ویسے کوشش کرے اور ایماندار ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش (خدا کی درگاہ میں قبول ہوگی11

ف 11 یعنی وہ اس کا پھل ضرور پائے گا اور ان کے اعمال کا کئی گنا بدر دیا جائے گا حدیث میں ہے : الحسنہ بعشر امثالھا الی سبع مائۃ ضعف کہ نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ملے گا۔ “ ہوسکتا ہے کہ ” مشکوراً “ سے اسی طرف اشارہ ہو
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

دنیا چانے والے اور آخرت چاہین والے ہر ایک کو ہم تیرے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں12 اور تیرے مالک کی بخشش کسی پر بند نہیں ہے

(قرطبی)12 دونوں کو رزق اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتے ہیں۔ ایسا نہیں کرتے کہ کسی کی معصیت کی وجہ سے اس کا رزق بند کردیں۔ کیونکہ اس دارالعمل میں ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کرنا ضروری ہے تاکہ کسی کے لئے عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک کو اس کی صلاحیت کے مطابق دنیا کا سامان میسر ہوجائے۔ (رازی)
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

(اے پیغمبر) دیکھو ہم نے دنیا میں ایک کو دوسرے پر کیسے بڑھا دیا ہے13 اور آخرت تو بیشک (دنیا سے) کئی درجے بڑی ہے اور وہاں کی بڑھوتری بھی بہت ہے14

ف 13 یعنی کوئی مالدار ہے اور کوئی نادار اور اس میں کافر و مومن کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ (نیز دیکھیے سورة انعام :165 زخروف 32) یہ خطاب آنحضرت سے یا ہر اس شخص سے ہے جو عقل سمجھ اور غور نہ فکر کی صلاحیت رکھتا ہے۔14 یعنی یہاں دنیا میں فضیلت کو آخروی تفاضیل سے کچھ بھی نہیں ہے۔ جیسے فرمایا : اصحاب الجنۃ یومئذ خیر مستقرار بلند مراتب والے بھی اہل علیین کو اتنا نچا دیکھیں گے جیسے تم افق میں غروب ہونے والے تارے کو دیکھتے ہو (ابن کثیر)
Ayahs 17:22–23

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر) خدا کے سوا کسی کو معبود نہ بنا (یعنی اور کسی کی پوجا نہ کر اگر ایسا کرے تو) پھر تو لوگوں میں اور فرشتوں میں نکو (بدنام اور خدا کی رحمت سے) محروم ہو کر بیٹھے گا

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تیرے15 مالک نے یہ چکوتا کردیا14 کہ اس کے سوا اور کسی کو نہ17 لو جو اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے (یعنی تیری زندگی میں) ان میں سے ایک ماں باپ یا دونوں بڑھاپے تک پہنچ جائیں1 بوڑھے ہوجائیں) تو ان سے گھر کے طور پر ہوں تک نہ کرنا2 اور نہ جھڑکنا اور (بات کرنا تو) نرمی سے ان سے بات کرنا3 ادب سے اور مہربانی سے

ف 15 بظاہر خطاب تو آنحضرت کو ہے لیکن مراد آپ کی امت کو سمجھاتا ہے کہ شرک معاف نہیں ہوگا اور ہر مشرک اللہ کے ہاں ذلیل و خوار ہوگا۔16 یعنی قطعی حکم دیا اور فیصلہ کردیا ہے۔17 یا اس کے سوا کسی کے بندے بن کر نہ رہو۔ اسلام میں عبادت کا مفہوم پوجا کا بھی ہے اور بندگی کا بھی۔ 1 ماں باپ چاہے بوڑھے ہوں یا جوان، ہرحال میں ان کا ادب کرنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا فرض اور انہیں جھڑکنا گناہ ہے۔ مگر چونکہ بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہوجاتا ہے بلکہ بسا اوقات زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے اس لئے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر فرمای اگیا۔2 جو اکتاہٹ اور بےادبی کا ہلکے سے ہلکا لفظ ہے۔ پھر اس سے زیادہ کوئی سخت لفظ بولنا کیسے جائز ہوسکتا ہے3 سعید بن مسیب فرماتے ہیں : ان سے ایسے بات کر جیسے ایک خطا کار نوکر اپنے سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے۔ (معالم التنزیل)
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اپنے عاجزی کا بازو ان کے لئے جھکا دے4 اور دعا کر مالک میرے ان پر رحم کر جیسے ان دونوں نے (مجھ پر رحم کر کے) جھپٹنے میں مجھ کو پالا5

ف 4 یعنی نہایت عاجزی اور تواضح سے ان کی خدمت بجالاتا رہ۔5 اور پال پوس کر اتنا بڑا کیا، ماں باپ کی خدمت اور ان سے نیک سلوک کرنے کی تاکید میں بہت سی احادیث بھی ثابت ہیں۔ مثلاً حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا، میری خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ فرمایا : ” تیری ماں، تیری ماں، تیری ماں، پھر فرمایا : تیرا باپ اور پھر تیرا رشتہ دار جو تجھ سے زیادہ قریب ہے۔ (بخاری مسلم) نیز ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے تین مرتبہ فرمایا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو (یعنی وہ ذلیل ہو کر رہے) صحابہ نے پوچھا کس کی ؟ اے اللہ کے رسول ؟ فرمایا ” جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر وہ ان کی خدمت کرے کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم)
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا مالک خوب جانتا ہے جو تمہارے جی میں ہے (کہ ماں باپ کی اطاعت کریں گے یا نافرمانی) اگر تم دل سے) نیک6 ہو تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنیوالوں کو بخش دیتا ہے

ف 6 مگر تم سے ان کی اطاعت اور خدمت میں کوئی قصور ہوگیا جس سے تم نے توبہ کرلی۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ناطے والے کا حق ادا کر جیسے بھائی بہن ماموں خالہ بھانجا بھتیجا وغیرہ) اور مسکین کا اور مسافر کا انکو کھانا دے اور راہ خرچ وغیرہ اگر ہو سکے) اور بےجا مت اڑا پڑا (مال7

ف 7 بےجا اڑانے سے مراد یہ ہے کہ ناجائز کاموں میں خرچ کیا جائے (چاہے ایک پیسہ ہی ہو) یا جائز کاموں میں بےسوچے سمجھے اتنا خرچ کیا جائے جو حقداروں کے حقوق ضائع کرنے اور حرام کا ارتکاب کرنے کا سبب بنے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بےجا اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں8 ہیں شیطان کے دوست اور اس کے تابع ہیں) اور شیطان اپنے مالک کا ناشکرا ہے9

ف 8 اسی ” تبذیر “ کو یہاں سراف فرمایا اور مسرفین کو شیطان کا بھائی قرار دیا۔ کیونکہ جو شخص اپنے ملا کے دیئے ہوئے مال کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرتا ہے وہ شیطان ہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔9 یعنی مال بڑی نعمت ہے اللہ کی جس سے خاط رجمع ہو عبادت میں اور درجے بڑھیں بہشت میں اس کو بےجا اڑانا ناشکری ہے۔ (موضح)
Ayahs 17:28–29

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تو ان غریبوں ناطے والوں اور مسکین اور مسافروں کی اپنے مالک کے فضل کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہو خبر نہ لے سکے تو خیر بات تو ان سے نرمی کر

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور10 اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ بھی نہیں کہ گردن میں باندھ دے (ایک پیسہ خرچ نہ کرے) اور نہ اتنا پھیلا دے بالکل پھیلا (کہ جو کچھ تیرے پاس ہے سب اڑا دے) پھر تو جگ سے برا یا (خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ11 ہے

ف 10 یعنی انہیں نرمی اور خوش اسلوبی سے سمجھا دو کہ بھائی ذرا انتظار کرلو جونہی کچھ آگیا تمہیں ضرور دوں گا یہ نہیں کہ ان پر خفا ہونے لگو اور انہیں سخت جواب دو چناچہ آنحضرت کے پاس جب سائل آتا اور آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو فرماتے یرزقنا اللہ وایاکم من فضلہ (قرطبی)11 یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو سب الزام دیں گے کہ کنجوس مکھی چوس ہے اور جب سب کچھ اڑا دوں گے اور خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے تو ممکن ہے بھیک مانگنے تک نوبت پہنچ جائے۔ اس لئے ہمیشہ اعتدال کی راہ اختیار کرو جسے ہمیشہ نبھایا جاسکے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ماعال من اقتصد وہ شخص فقیر نہ ہوا جس نے خرچ کرنے میں اعتدال کی راہ اختیار کی۔ (مسند احمد)
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیرا مالک جس کو چاہتا ہے فراغت کے ساتھ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہیتنگی سے دیتا ہے وہی اپنے بندوں کو جانتا دیکھتا ہے12

ف 12 ہر ایک کی مصلحت خوب سمجھتا ہے کہ کسے دیا جائے اور کسے نہ دیا جائے ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میرے بعض بندے ایسے ہیں جن کو اگر فقیر کر دوں تو ان کا دین بگڑ جائے اور بعض فقیری میں اچھے رہتے ہیں اگر میں انہیں مالدار کر دوں تو ان کا دین بگڑ جائے۔ (ابن کثیر) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان رزق کی تقسیم میں جو فرق رکھا ہے وہ ایک فطری چیز ہے جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ کے علم میں ملے اس نے مصنوعی طریقوں سے زبردستی ختم کرنا فطرت سے جنگ کرنا ہے جو کبھی پائیدار اور فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی۔ البتہ اس فرق کا اعتدال پر رہنا ضروری ہے۔ اس بنا پر اسلام نے ایک طرف تو ناجائز طریقوں سے استحاصل کو حرام قرار دیا ہے اور دوسری طرف جائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کو زکوۃ صدقات میراث اور دوسرے احکام کے ذریعے معاشرے میں پھیلا دنیے کا حکم دیا ہے۔ ان احکام پر عمل کرنے کی صورت میں معاشرے میں امیری غریبی میں اعتدال قائم رہے گا، نہ تو سرمایہ داری کے مظالم پیدا ہو سکیں گے اور نہ ہی اس فطری فرق کو زبردستی اور مصنوعی طریقوں سے ختم کرنے سے وہ خرابیاں پیدا ہونگی جو روس، چین اور دوسرے کمیونسٹ ممالک میں پیدا ہوچکی ہیں اور جن کے بعد انسان انسانیت کے مرتبہ سے گر کر حیوانت سے بھی نیچے پہنچ گیا ہے اور عوام کو ان کی فطری آزادی سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور محتاجی (افلاس) کے ڈر سے اپنے بچوں کو مار نہ ڈالو13 ہم ان کو اور تم کو دونوں کو روزی دیتی ہیں کچھ روزی تمہارے ذمے نہیں ہے) بیشک ان کا مار ڈالنا بڑا گنا ہے14

ف 13 چاہے نہیں زندہ دفن کر کے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں بعض عرب قبائل کیا کرتے تھے اور چاہے ایسے مصنوعی طریقہ اختیار کر کے ان کی پیدائش کو ہی روک دیا جائے جیسا کہ منصوبہ بندی اور برتھ کنٹرول کو یہ بھی خشیتہ املا کے پیش نظر وادخفی کی ایک صورت ہے۔14 یعنی قطع نظر اس سے کہ رازق سب کا اللہ تعالیٰ ہے یہ فعل بذات خود بہت بڑا گناہ بھی ہے۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس نہ بھٹکو بیشک زنا1 بےشرمی (بیحیائی) اور برا چلن2 ہے

ف 1 یعنی یہی نہیں کہ زنا سے بچو بلکہ ان کاموں سے بھی بچتے رہو جو اس کی طرف لے جانے والے ہیں اور اس کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں جیسے اجنبی عورت کی طرف دیکھنا یا اس کے ساتھ نتہائی اختیار کرنا، یا اس سے بوس و کنار میں مبتلا ہونا وغیرہ۔2 حدیث میں ہے : لایزنی الزانی حین یزنی وھو مومن کہ زانی زنا کی حالت میں مومن نہیں رہتا۔ بہرحال یہ کبائر میں سے ہے۔ اور اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرنا اکبر الکبائر میں داخل ہے اور بعض نے شرک کے بعد زنا کا درجہ رکھا ہے۔ (روح)
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے3 اس کو مت مارو مگر حق پر4 اور جو شخص ناحق مار ڈالا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو (قصاص لینے یا دیت قبول کرنے یا معاف کرنے کا) اختیار (زور) دیا ہے (اب اگر وہ قصاص لینا چاہے) تو خون کرنے میں زیادتی نہ کرے5 ہے اس کو تو مدد ملی6 ہے

ف 3 مراد ہے ہر اسنانی جان حتی کہ آدمی کی اپنی جان بھی اسلام نے خود کشی کو بھی حرار قرار دیا ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث میں وارد ہے۔4 جس کیلئے شریعت نے جان لینا جائز قرار دیا یہ۔ حدیث میں ہے : لایحل دم امری مسلم الاباحدی ثلاث النفس بالنفس والثیب الرزانی والتاروں ولدینہ کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے الایہ کہ قصاص میں قتل کیا جائے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے۔ یا مرتد ہوجائے۔ مگر یہ حصر حقیقی نہیں ہے، بلکہ بعض دوسرے جرائم میں بھی قتل کا جواز ثابت ہے۔ (روح)5 مثلاً قاتل کو عذاب دے کر قتل کرے یا جوش انتقام میں اس کے عالوہ اس کے عزیزوں کو بھی مار ڈالے۔6 اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے قصاص کا قانون مقرر کیا ہے اور اسلامی حکومت کے کارفرمائوں کو اس کی مدد اور داد رسی کا حکم دیا ہے۔
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جائو (اس میں تصرف نہ کرو) مگر اس طرح جو اس کے حق میں بہتر ہو7 یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے8 اور (اپنا) قرار پورا کرو9 بیشک (قیامت کے دن) اقرار کی پرسش ہوگی10

ف 7 مثلاً یہ کہ کسی جائز اور نفع بخش کاروبار میں لگا دو ۔8 تباس کا مال اس کے حوالے کردو یا اس سے اجازت لے کر کاروبار کرو۔ (نیز دیکھیے سورة بقرہ آیت :220)9 اس میں ہر وہ اقرار شامل ہے جو اللہ تعالیٰ یا اس کے بندوں سے کیا جائے۔10 اور جو اقرار توڑے گا اسے سزا ملے گی۔ منافق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ (بخاری مسلم)
Ayahs 17:35–36

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب ماپ کرو تو پوری ماپ دو اور جب تول کردینا چاہو تو) ٹھیک ڈنڈی سے تولو یہ اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور جو بات تو نہیں جانتا اس کے پیچھے نہ پڑ11 اس لئے کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب سے (قیامت کے دن) پوچھ ہوگی12

ف 11 یعنی بےتحقیق کسی بات کی اندھا دھند پیروی نہ کر اس میں جھوٹی گواہی غلط تہمت سنی سنائی باتوں پر کسی کی برائی کرنا سب شامل ہیں۔ نیز اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی دلیل کے ہوتے ہوئے کسی کی شخص رائے اور قیاس پر عمل کرنا ممنوع ہوگا۔ (ت ن)12 اللہ تعالیٰ انہیں گویائی دے گا اور وہ آدمی کے خلاف گواہی دیں گے۔ (فعلت :23-2)
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑتا (یا اتراتا ہوا) نہ چل کیونکہ تو زمین کو پھاڑ نہیں سکے گا (یا ساری زمین کو طے نہیں کرسکے گا کتنا ہی زور دے کر چلے) اور نہاپہاڑوں کے برابر لمبا ہو13 سکے گا (کتنا ہی تن کر چلے )

ف 13 احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اکڑ کر چلنا کبیرہ گناہ ہے۔ صاحب روح لکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں تو جسے وہ مسئلے آتے ہوں یا اس کے سامنے دو طالب علم بیٹھے ہوں وہ بھی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور نہایت تکبر سے چلتا ہے۔
Ayahs 17:38–39

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

جو جو (اچھی اور بری) باتیں اوپر بیان ہوئیں ان میں جو بری ہیں وہ تیرے مالک کو پسند نہیں ہیں

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ وہ حکمت (دانشمندی) کی باتیں ہیں جو تیرے مالک نے تجھ کو (وحی کے ذریعہ سے) بھیجیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے کسی کو معبود نہ بنا (اور کسی کی بندگی نہ کر اگر ایسا کریگا) تو جگ سے برا (خدا کی رحمت سے) محروم ہو کر جہنم میں پڑیگا14

ف 14 بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر مراد ہر انسان ہے اور اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرتا ہے کہ شرک ایسی بری چیز ہے کہ اگر بالرفض آنحضرت جیسے مقرب بندے بھی اس کا ارتکاب کر بیٹھیں تو دوزخی بن جائیں اور ذلیل و خوار اور راندہ درگاہ ہوجائیں۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو یہ بھی کوئی بات ہے کیا خدا نے تمہارے لئے بیٹے چن لئے اور اپنے لئے بیٹیاں1 یعنی فرشتے یہ تو تم بڑی (غلط) بات کہہ رے ہو2

ف 1 جیسے فرمایا : وجعلو الملائکۃ الذین ھم عبادالرحمٰن انا شاء (زخروف 19) کہ فرشتوں کو جو اللہ کے قرب بندے ہیں مونث قرار دیتے ہیں۔2 یعنی سخت گستاخی کی بات ہے جو منہ سے نکال رہے ہو۔