16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

(اے کافرو) اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا 3 تو اس کی جلدی نہ مچائو (ف 4) اللہ تعالیٰ کی ذات ان کیش رک سے پاک اور برتر ہے (ف 5)

ف 3 یعنی اس کے آنے میں کوئی دیر نہیں ہے یہاں ” امر “ سے مراد قیامت ہے اور مشرکوں پر مختلف انواع کے عذاب کے نزول کا وقت بھی ہوسکتا ہے۔ (روح) 4 مشرکین کو جب عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو وہ استہزاء کے طور پر اس کے فوراً آجانے کا مطالبہ کرتے۔ (دیکھیے انفال :22) یہاں ان کو تنبیہ کی گئی ہے۔ 5 عذاب کی جلد ہی نہ آنے کی وجہ سے وہ اللہ کی طرف عجز و احتیاج کی نسبت کرتے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس قسم کے امور کی نسبت کرنا شرک کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اس قسم کی مشرکانہ باتوں سے بلندو برتر ہے۔ (روح)
Ayahs 16:2–3

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی اپنے حکم سے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے (وحی یہ ہے) کہ (لوگوں کو) جتلادو میرے سوا کوئی سچا خدا نہیں ہے تو مجھ سے ڈرتے رہو

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اس نے آسمان اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا وہ ان کے شرک سے برتر ہے (ف 6)

ف 6 اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خالق ہے اور زمین و آسمان کی ہر ہستی اور ہر چیز مخلوق، پھر خالق و مخلوق یکساں کیسے ہوسکتے ہیں۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اس نے آدمی کو نطفے سے پیدا کیا (اس وقت کیسا کمزور تھا) پھر (طاقت آتے ہی) ایک دم سے وہ کھلا جھگڑالو بن گیا (ف 7)

ف 7 اور اپنی حقیقت بھول گیا اور لگا قدرت کا انکار کرنے اور کہنے لگا کہ ” مرنے کے بعد بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت کے دونوں حصوں سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر استدلال مقصود ہو یعنی نطفہ سے پیدا کیا اور پھر سا میں کامل طور پر قوی اور راکیہ اور قوت گویائی پیدا کردی کہ حجت و استدلال کے ساتھ بحث کرنے کے قابل ہوگیا۔ (روح)
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور اس نے چوپایہ جانوروں کو پیدا کیا ان کی (کھال) اور اون میں تمہاری جڑا دل8 ہے اور بھی کئی طرح کے فائدے ہیں9 اور انہیں ( کے گوشت اور چربی) کو کھاتے ہو

ف 8 کہ سردی سے بچنے کے لئے ان کی اون اور بالوں سے خیمے اور مختلف قسم کے لباس تیار کرلیتے ہو۔ (روح) 9 کسی کا دودھ پیتے ہو اور کسی پر سواری کرتے ہو اور کسی سے ہل چلاتے اور پانی کھینچتے ہو غیرہ
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور تم کو ان سے رونق ہوتی ہے جب شام کو (چرا کر واپس) لاتے ہو اور جب صبح کو (چروانے) لے جاتے ہو (ف 10)

ف 10 یہ دو وقت خوب رونق اور چہل پہل کے ہوتے ہیں اس لئے ان کو خاص طور پر ذکر فرمایا۔
Ayahs 16:7–8

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور یہ جانور تمہارے سے بوجھ ایسے (دور) شہر کی طرف اٹھا کرلے جاتے ہیں کہ (اگر جانور نہ ہوتے) تم وہاں پہنچ ہی نہ سکتے مگر جان تو بڑی مصیبت اور تکلیف سے پہنچتے تو پہنچتے بیشک تمہارا مالک بڑی شفقت والا مہربان ہے

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو تمہاری سواری اور رونق کے لئے پیدا کیا اور وہ چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے (ف 1)

ف 1 یعنی ان جانوروں کے علاوہ جن کا ابھی ذکر ہوا، اللہ تعالیٰ تمہارے فائدے کے لئے وہ چیزیں پیدا کرتا ہے اور کرتا رہے گا جن کی تمہیں خبر بھی نہیں ہے۔ اس میں قیامت تک جو سواریاں بنتی رہیں گی ان سب کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر ہے (ف 2) اور کوئی راہ ٹیڑھی بھی ہے (ف 3) (کفر اور گمراہی کی) اور جو خدا چاہتا تو تم سب کو سیدھی راہ پر لگا دیتا (ف 4)

ف 2 یعنی اپنے بندوں کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنا اللہ ہی کے ذمے ہے یا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے والا ہے۔ “ اس میں اشارہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے جسمانی ضروریات پوری کرنے کا سامان بہم پہنچایا ہے اسی طرح اس کی ہدایت کا راستہ بھی متعین کردیا ہے۔ 3 یا بعض لوگ سیدھی راہ چھوڑ کر حق سے انحراف کر رہوے ہیں اس میں تمام گمراہ قرے داخل ہیں موضع میں ہے کہ : اللہ تعالیٰ کی قدر میں (کے دلائل) دیکھ کر اس کی خوبیاں صاف نظر آتی ہیں مگر جس کی عقل میں کجی ہو وہ بہکا ہی رہتا ہے 4 مگر اس سے خلق کا اصل مقصد جو ابتلا ہے وہ فوت ہوجاتا ہے اس لئے کہ جس حد تک ہدایت کی راہ دکھانے کا تعلق تھا وہ تو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں اتار کر پورا کردیا مگر اس راہ پر چلنا انسان کے اختیار پر چھوڑ دیا تاکہ اس کے اعمال پر جزا مرتب ہو سکے۔
Ayahs 16:10–11

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا اس میں سب کچھ تمہارے پینے کا ہے اور کچھ ایسا ہے جس سے درخت اگتے ہیں جن میں (جانوروں کو) چراتے ہو (گھاس چارے وغیرہ کے درخت)

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے خدا تمہارے لئے کھتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر طرح کے میوے اگاتا ہے جو لوگ سوچتے ہیں ان کے لئے اس میں (خدا کی قدرت کی) نشانی ہے (ف 5)

ف 5 کہ ایک ہی پانی ایک ہی سورج ایک ہی زمین اور ایک ہی ہوا سے کیسے رنگ برنگ کے پھل پھول پیدا ہوتے رہتے ہیں ان میں غور و فکر کے اور بھی طریقے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ علم کے وقدرت کے کمال پر استدلال ہوسکتا ہے۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی خدا نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگایا اور تارے بھی اس کے حکم سے تابعدار ہیں (ف 6) بیشک جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لئے ان چیزوں میں (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

ف 6 اور جس کام کے لئے ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس میں لگے ہوئے ہیں۔ اس آیت سے ان نجومیوں کا روہوا جو سمجھتے ہیں کہ تاروں کی حرکت سے دنیا میں طرح طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں حالانکہ تارے بیچارے کیا کرسکتے ہیں وہ تو حکم کے تابع ہیں جو کچھ ہوتا ہے خدا کے حکم سے ہوتا ہے۔ (فتح البیان) موضع میں پہلی (پہلی) چار چیزوں سے تو بندوں کے کام صریح طور پر وابستہ نظر آتی ہیں۔ مگر ستاروں سے انسانی فوائد کا متعلق ہونا صریح نہ تھا۔ اس لئے ان کو جدا کردیا۔ فتدبر 12
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو چیزیں اس نے زمین میں تمہارے لئے پیدا کی ہیں کئی رنگ کی (ف 7) ان میں بھی (اس کی قدرت کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں

ف 7 یعنی انواع و اصناف جیسا کہ جمہور مفسرین نے کہا ہے (مع) مطلب یہ کہ زمین میں طرح طرح کی شکل و صورت رنگ و بو اور مزہ اور خاصیتوں والی چیزیں ہیں کہ سب تمہارے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ ان میں حیوانات، نباتات، جمادات اور مرکبات و عناصر شامل ہیں۔ ہمہ از بر تو سرگشتہ و فرمانبردار شرط انصاف نباشد کہ توفرفماں نبری (گلستان سعدی)
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور اسی خدا نے سمندر کو (بھی) تمہارے کام میں لگادیا اس لئے کہ اس میں سے (شکار کرکے) تازہ تازہ گوشت کھائو اور اس میں سے زیور (موتی مونگا وغیرہ) نکال کر پہنو (ف 8) اور تو دیکھتا ہے کشتیاں (پانی کو) چیرتی ہوئی اس میں چلتی ہیں اور اور اس لئے کہ تم خدا کا فضل تلاش کرو (ف 9) (سمندر میں یہ بھی فائدہ ہے) اور اس لئے کہ تم (اس کی نعمتوں کا شکر کرو)

ف 8 اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کے لئے موتی دنگا اور دوسرے سمندری جواہرات کا پہننا حرام نہیں ہے بشرطیکہ انہیں ایسے طریقہ پر نہ پہنا جائے جس سے عورتوں سے مشابہت ہوئی ہو۔ (شوکانی) ہوسکتا ہے کہ نسبت مجازی ہو اور مقصد یہ کہ تمہاری عورتیں پہنتی ہیں۔ عورتوں کے تزین سے چونکہ مرد بھی متمتع اور لذت اندوز ہوتے ہیں اس لئے پہننے کو ان کی طرف منسوب کردیا ہے ورنہ مرد کے لئے تو زیور پہننا جائز نہیں ہے۔ (روح) 9 یعنی سمندروں اور دریائوں میں سفر کر کے حلال طرقہ سے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی خدا نے زمین میں بھاری بھرکم پہاڑ گاڑے ایسا نہ ہو وہ ادھر ادھر تم کو لے کر جھکے (ف 10) اس میں تم کو راہ ملنے کے لئے ندیاں اور رستے بنائے

ف 10 معلوم ہوا کہ اگر سطح زمین پر یہ اونچے اونچے پہاڑ ابھرے ہوئے نہ ہوتے تو زمین کے گھومنے میں وہ سکون و انضباط نہ ہوتا جواب ہمیں محسوس ہوتا ہے بلکہ شاید وہ ادھر ادھر جھومتی رہتی ! اس آیت میں پہاڑوں کا یہی ایک فائدہ و فکر کیا گیا ہے۔ یوں پہاڑوں کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں جو انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (بہت سی) نشانیاں (ف 11) اور ستاروں سے بھی ان کو رستہ ملتا ہے (ف 1)

ف 11 جیسے ٹیلے، جھاڑیاں، اور جنگل وغیرہ مطلب یہ کہ اگر زمین میں دریا، قدرتی راستے اور یہ دوسری نشانیاں نہ ہوتیں بلکہ ساری زمین بالکل یکساں ہوتی تو لوگ راستہ بھول جاتے اور کہیں کے کہیں جا پڑتے۔ ان قدرتی راستوں اور نشانیوں کی قدر آدمی کو پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں خاص طور پر محسوس ہوتی ہے۔ 1 یعنی رات کے وقت سمندر یا خشکی میں جہاں دوسری نشانیاں کام نہیں دیتیں لوگ ستاروں کے ذریعے راستہ معلوم کرتے ہیں اور راستوں کے علاوہ سمت قبلہ اور اوقات کی معرفت بھی ستاروں سے حاصل ہوتی ہے۔ پس ابتدا کے تحت یہ چزیں بھی داخل ہیں۔ (روح)
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو کیا جو (خدا اتنی بہت چیزیں) پیدا کرے وہ اس کے برابر ہے جو کچھ نہیں پیدا (ف 2) کرتا کیا تم غور نہیں کرتے

ف 2 بلکہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس میں استفہام برائے تکبیت ہے اور اس سے شرک کا ابطال مقصود ہے۔ (روح)
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر خدا کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ان کو پورا گن نہ سکو گے (ف 3) بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے (ف 4)

ف 3 کجا کہ تم ان کا شکر ادا کرسکو۔ 4 یعنی یہ اس کی بخشش اور مہربان ہے کہ تمہاری ناشکری کے باوجود تمہیں لاکھوں نعمتیں عطا کرتا ہے اور توبہ وانابت کے بعد تمہارے تمام گناہ معاف کردیتا ہے۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور خدا تو جو تم چھپاتے ہو اور جو تم کھولتے ہو (سب) جانتا ہے (ف 5)

ف 5 لہذا یہ نہ سمجھو کہ تمہارے شرک و کفر کے باوجود جو تم پر رحم فرما رہا ہے اور تمہیں نعمتوں پر نعمتیں دے رہا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے ناواقف ہے بلک ہبایں ہمہ اس کی مہربانی اس لئے ہے کہ شاید تمہاری آنکھیں کھلیں اور اپنے کرتوتوں سے باز آجائو۔ اس میں کافروں کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ معبود تو وہی ہونا چاہیے اور ہوسکتا ہے جو ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ہو۔
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن معبودوں کو یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں اور وہ کچھ نہیں پیدا کرسکتے بلکہ وہ خود (دوسرے کے) پیدا کئے ہوئے ہیں (ف 6)

ف 6 یعنی ان کے وجود کو تو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے۔ گویہ تراشے خراشے ان کے ہیں۔ یا خلق بمعنی تخت “ (تراشنا) ہی ہو۔ جیسا کہ سورة صافات (آیت 95) میں ہے۔ العبدون ماتحبون کہ تم ان بتوں کی پوجا کرتے ہو، جن کو تم خود اپنے ہاتھ سے تراشتے ہو۔ (کذافی الروح)
Ayah 16:21

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

مردے ہیں ان میں (آدمی کی طرح بھی) جان نہیں ہے اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب زندہ ہوں گے (ف 7)

ف 7 یعنی ان بتوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے پوجنے والے مرنے کے بعد دوبارہ کب زندہ ہوں گے ؟ اس مفہوم کے اعتبار سے ” یشعرون “ میں ” ھم “ ضمیر معبودوں کے لئے اور یبعثون کی ضمیر ان کے پوجنے والے کافروں کے لئے ہوگی۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں : شاید یہ ان کو فرمایا جو مرے بزرگوں کو پوجتے ہیں۔ (موضح) اس صورت میں دونوں ضمیریں معبودوں کے لئے ہوں گی۔ معلوم ہوا کہ معبود کے لئے یوم بعث کا جاننا ضروری ہے۔ (کذافی الروح)
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

(لوگو) تم سب کا خدا ایک ہی خدا ہے پھر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے دل میں انکار پس گیا ہے (ہزار دلیلیں بیان کرو سمجھائو وہ خدا کے قائل نہیں ہوتے) اور وہ غروری (مگرے) ہیں (ف 8)

ف 8 اس غرور میں آ کر نہ وہ اللہ کو مانتے ہیں اور نہ رسول کو یہ ان کے انکار آخرت کا لازمی نتیجہ ہے۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

(وہ بچ کے کہاں جائیں گے) سچی بات تو یہ ہے کہ وہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ کھولیتے ہیں اللہ اس کو جانتا ہے (تو ان کو ضرور بدلہ لے گا) وہ غرور والوں (گروں) کو پسند نہیں کرتا (ف 9)

ف 9 وہ یقیناً ذلیل و خوار ہوں گے اور جہنم ان کا ٹھکانا ہوگی۔ تکبر کی مذمت اور تواضح و انکسار کی تعریف میں متعدد احادیث بھی آئی ہیں۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہے اور آگ میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے۔ (مسلم ابودائود)
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان (بےایمانوں) سے کوئی کہتا ہے تمہارے مالک نے کیا اتارا تو کہتے ہیں (اجی) اگلوں کی کہانیاں (ف 10) ہیں

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے بلکہ محمد (ﷺ) نے پچھلے لوگوں کے کچھ قصے کہیں سے سن لئے ہیں انہی کو جوڑ جاڑ کر اللہ کے کلام کے نام سے لوگوں پر پیش کر رہے ہیں۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

آکر وہ اپنے (گناہوں کے) پورے بوجھ قیامت کے دنا ٹھائیں گے (کیونکہ ان کا کوئی گناہ معاف تو ہوگا نہیں) اور جن لوگوں کو بےجانے بوجھے گمراہ کرتے ہیں (ف 11) ان کے (گناہوں کے بھی) کچھ بوجھ اٹھائیں گے سن لو کیا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں ان سے پہلے جو (کافر) گزر گئے

ف 11 اس مضمون کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں یوں فرمایا ہے :” جو شخص لوگوں کے لئے کسی اچھے طریقے کی رسم چھوڑ جائے اس کے لئے اپنا اجر ہے اور جتنے لوگ اس کی پیروی کریں گے اس کا بھی اسے اجر ملے گا اور جو شخص بری رسم کی بنیاد ڈالے گا اسے اس کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر پڑے گا جو اس پر عمل کریں گے۔ (ابن کثیر)
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

انہوں نے بھی (اللہ کے خلاف) دائو کیا۔ اللہ نے ان کے (دائوں کی) عمارت کی جڑ سے خبر لی اور (دھڑ دھڑا کر) اوپر سے چھت آرہا (مکر کی ساری عمارت بیٹھ گئی) اور جدھر سے ان کو خیال (بھی) نہ تھا ادھر سے عذاب آن پہنچا (ف 1)

ف 1 اس میں ان کافروں کو وعید سنائی گئی ہے جو نبی ﷺ کو نیچا دکھانے کے لئے مکر و فریب کی عمارتیں کھڑی کر رہے تھے کہ ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے جو پہلے لوگوں کا ہوا۔ لہٰذا وہ یا تو اپنی شرارتوں سے باز آجائیں یا اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے لئے تیار رکھیں (روح)
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن خدا تعالیٰ ان کا رسوا کرے گا اور فرمائے گا میرے وہ شریک (یعنی جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے) کہاں ہیں جن کے مقدمے میں تم (ایمان والوں سے) جھگڑا کیا کرتے تھے (ف 2) جن لوگوں کو (دنیا میں) علم دیا گیا تھا (پیغمبر یا اور نیک لوگ) بول اٹھیں گے آج کے دن تو رسوائی اور برائی کافروں کی ہوگی

ف 2 یعنی انبیاء اور ان کے متعبین سے وہ تمہیں لاکھ سمجھاتے مگر تم اس کے برعکس انہیں اپنا معبود ہی سمجھتے ان کے سامنے ہاتھ رگڑنے اور ان کے آستانوں پر نذرانے چڑھانے پر مصر رہتے تھے۔
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

جن کی (دنیا میں) فرشتوں نے جب جانیں نکالیں تھیں وہ اپنے پر آپ ظلم کررہے تھے (شرک میں مبتلا تھے) پر (مرتے وقت) صلح کی لینے لگے (سب جھگڑا بھول گئے اور کہنے لگے) ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے (فرشتوں نے کہا) کیوں نہیں (ف 3) بیشک اللہ کو معلوم ہے جو تم دنیا میں کرتے تھے (ف 4)

ف 3 تم تو سب سے برا کام یعنی شرک کیا کرتے تھے۔ (وحیدی) 4 اب انکار کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ ساری عمر تو ایمان والوں سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ اب عاجز آگئے تو لگے صلح کی پیشکش کرنے (وحیدی)
Ayahs 16:29–30

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

اب جہنم کے دروازوں میں گھسو ہمیشہ اسی میں رہو گے غروری لوگوں کا کیا بھرا ٹھکانہ ہے (اب یہ سب غرور ناک کی راہ نکل جائے گا)

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیز گار (مومن ہیں ان سے کہا گیا کہ تمہارے سے مالک نے کیا اتارا تو کہنے لگے اچھا (اتارا) جنہوں نے بھلائی (ف 5) کی ان کو اس دنیا میں بھی، بھلائی ملے گی (ف 6) اور آخرت کا گھر تو ان کے لئے کہیں بہتر ہے دنیا سے بہت زیادہ ان کو چین ملے گا اور پرہیز گاروں کا گھر کیا اچھا ہے

ف 5 یعنی کفار تو قرآن کو ” اساطیر الاولین “ کہ کر اس کی تکذیب کرتے ہیں مگر مومن اس کو سراپا خیر و برکت سمجھ کر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ 6 دنیا میں ان کی زندگی سکھ اور چین سے گزرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کی روزی میں خیر و برکت عطا فرمائے گا، یا آخرت میں انہیں بہتر ثواب ملے گا۔
Ayahs 16:31–32

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

رہنے کے لئے باغ ہیں جن میں جاویں گے ان کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں جو چاہیں گے وہ ان کے لئے وہاں حاضر اللہ پرہیز گاروں کو (جو شرک اور کفر اور گناہوں سے بچتے ہیں) ایسا ہی بدلہ دے گا

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جن کی جانیں فرشتے جب نکالتے ہئیں تو وہ (کفر اور شرک سے پاک ہوتے ہیں فرشتے) کہتے ہیں تم سلامت رہو (مزے سے) اپنے (نیک) کاموں کے بدل بہشت میں1 جائو

ف 1 ظاہری سبب کے اعتبار سے عمل کو نجات یا جنت میں داخل ہونے کا سبب قرار دے دیا۔ ورنہ حقیقت میں داخل ہونے کا سبب تو اللہ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہوگا۔ چناچہ ایک صحیح حدیث میں ہے۔ ” راست روی اور میانہ روی اختیار کرو اور یہ جان لو کہ تم میں سے کسی کا عمل اسنے جنت میں داخل نہ کرے گا۔ ” صحابہ نے عرض کی “ اور نہ آپ کا عمل آپ کو جنت میں داخل کرے گا ؟ فرمایا ” ہاں ! میرا عمل بھی نہیں الایہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے ڈھانپ لے۔ (شوکانی)
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

تو یہ (کافر) کیا اس کی راہ دیکھتے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے کو آموجود ہوں یا تیرے مالک کا عذاب آپہنچے (یا قیامت) ان سے پہلے جو لوگ گذر چکے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا3 اور اللہ تعالین نے ان پر (عذاب بھیج کر) ظلم نہیں کیا وہ اپنے پر آپ ظلم کرتے تھے4

ف 2 تب وہ ایمان لا کر اپنی حالت درست کریں گے حالانکہ اس وقت ایمان لانا یا توبہ کرنا انہیں کچھ فائدہ نے دے گا۔ 3 کفر کی روش اختیار کی اور انبیاء کو جھٹلایا۔ شوکانی 4 وہ خود ایسے برے عمل کرتے تھے جن کی سزا عذات تھی۔ (کذافی وحیدی)
Ayahs 16:34–35

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

آخر (جیسے برے) کام کرتے تھے انہیں کی برائیاں ان پر پڑگئیں (یعنی ان کا بدلہ ملا) اور جس عذاب پر ٹھٹھا مارتے تھے اسی نے ان کو آگھیرا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک کہتے ہیں (ہمارا کیا قصور ہے) اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے سوا اور کسی چیز5 کون ہپوجتے اور نہ ہم اللہ کے بغیر حرام کئے اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ان سے پہلے جو کافر گذر رہے ہیں انہوں نے بھی ایسا ہی حیلہ اور حوالہ کیا پیغمبرو سے کج بخشی کی تو پیغمبروں کے ذمہ کچھ کام نہیں صرف کھول کر اللہ کا حکم پہنچا دینا ہے6

ف 5 کفار اپنے شرک اور اعمال کفر مثلاً بحیرہ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کی حرمت کے جواز کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا لیتے اور اس بہانے سے رسالت پر طعین کرتے اور کہتے کہ اگر یہ شرک اور تحریکات اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتے تو ہم نہ کرتے اور ہمیں روک دیا جاتا۔ جب اللہ نے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہم اس کی مشیت کے تحت کر رہے ہیں مگر اولاً تو یہ بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے اس شرک اور اعمال پر راضی ہوتا تو ان سے منع کرنے کے لئے نہ پیغمبر بھیجتا اور نہ کتابیں نازل کرتا۔ جب مسلسل پیغمبروں کے ذریعہ ان باتوں سے منع کیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں اس کی مرضی کے خلاف ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر گرفت نہ ہونے کو سند جواز نہیں بنا سکتے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ہے مزید دیکھئے سورة انعام آیت 47
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم تو ہر قوم میں ایک پیغمبر بھیج چکے ہیں (یہ حکم دے کر) کہ اللہ تعالیٰ کو پوجو اور طاغوت سے بچے7 رہو (طاغوت جو اللہ کے سوا پوجا جاوے) تو پیغمبروں کے سمجھانے سے) کسی کو اللہ نے راہ پر لگا دیا اور کسی پر گمراہی جم گئی تھی8 تو (اے قریش کے کافرو) ذرا ملک میں سیر کرو دیکھو (پیغمبروں کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا9

ف 6 لہٰذا اگر کا فریج بحثی یا ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور ایمان نہ لائیں تو پیغمبروں سے اس پر باز پرس نہ ہوگی ہدایت و گمراہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا۔ آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں پھر وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں جواب مجمل فرمایا کہ رسول تو برے کاموں سے منع کرتے آئے ہیں مگر جس کی قسمت تھی اس نے ہدایت پائی جس کو خراب ہونا تھا خراب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہی ہوا ہے۔ (از موضح) 7 طاغوت کا لفظ طغیان سے مشتق ہے جس کے معنی اپنی حد سے بڑھنے کے ہیں۔ یہ شیطان معبود باطل اور ہر اس شخص پر بولا جاسکتا ہے جو ضلالت کی طرف داعی ہو۔ شوکانی شاہ صاحب لکھتے ہیں جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے کچھ سند نہ رکھے ایسے کو طاغوت کہتے ہیں۔ بت شیطان اور زبردست ظالم سب ہی ہیں۔ (از موضح) 8 ینی ہر پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے اور طاغوت سے بچتے رہنے کی دعوت دی۔ پھر بعض نے تو دعوت کو قبول کرلیا اور ہدایت پا گئے مگر بعض نے اپنے کفر و شرک پر اصرار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر گمراہی ثبت کردی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کی اس کے امر سے موافقت ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان کا حکم تو سب کو دیتا ہے مگر اللہ کی ارادہ کے مطابق ہدایت بعض کو ہوتی ہے۔ (شوکانی) 9 یعنی ان کے تباہ شدہ آثار دیکھ کر بتائو کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آیا۔ لہٰذا یہ سمجھنا انتہائی حماقت ہے کہ کفر و شرک کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی رضا مندی کا راستہ بتایا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے پیغمبروں کی پیروی ضروری ہے۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر تجھ کو ان کے راہ پر لانے کی حرص ہے ( تو تیرے حرص کرنے سے کچھ نہ ہو اگ) کیونکہ اللہ نے جن کو گمراہ کرنا چاہا ہے وہ راہ پر نہیں آسکتے اور نہ کوئی راہ پر لانے کے لئے ان کی مدد کرسکتا ہے1 ہے

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستے واضح کردیئے۔ اب جو لوگ اس کی عطا کردہ استعداد سے کام نہ لیں اور حق پر باطل کو ترجیح دیں اور اللہ انہیں باطل میں پڑا رہنے کی سزا دے تو آپ کا ان کی ہدایت پر حرص کرنا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور ان کافروں نے اللہ کی قسمیں کھائیں زور کی قسمیں جو کوئی مرجائے پھر اللہ اس کو زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا2 (اے پیغمبر کہہ دے) کیوں نہیں ( ضرور اللہ اٹھائے گا) سچا وعدہ ہے اس پر (جس کا پورا کرنا اس کو ضروری ہے) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے3

ف 2 یعنی مرنے کے بعد نہ کوئی دوسری زندگی ہے اور نہ حساب و کتاب اس لئے عذاب کا کیا ڈر ؟ 3 یعنی تمہارے انکار کرین اور زور دار قسمیں کھانے سے اللہ کا پکا وعدہ ٹل نہیں سکتا۔ وہ تو ضرور پورا ہو کر رہے گا البتہ تم ایسی واضح حقیقت کا انکار کر کے اپنی جہالت کا ثبوت دے رہے ہو۔
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ان کو پھر زندہ کر کے) اس لئے (اٹھائے گا) کہ جن باتوں میں وہ دنیا میں اختلاف کرتے رہے ان پر کھول دے حق کیا ہے وہ ظاہرہ جائے) اور اس لئے کہ کافر یہ جان لیں وہ جھوٹے تھے4

ف 4 جو قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور یہ کہ حساب و کتاب جنت و دوزخ سب بےحقیقت چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب دنیا میں سب باتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سب اختلاف کو دور کرنے کے لئے دوسرے جہان یعنی آخرت کا ہونا لا ابدی ہے کہ حق و باطل میں امتیاز ہوجائے اور منکرین اپنا کیا پاویں۔ (کذافی الموضح)
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

(مرنے بعد پھر جلا کر اٹھانا ہم کو کیا مشکل ہے ہم تو جب کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا کہنا یہی ہوتا ہے کہتے ہیں ہوجاوہ ہوجاتا ہے5

ف 5 یعنی جس کی قدرت کا یہ حال ہو اس کے لئے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔