15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

یہ کتاب اور کھلے قرآن کی آیتیں ہیں10

ف 10 ۔ الکتاب یعنی وہ عظیم الشان کتاب جس کے علاوہ کوئی کتاب ” الکتاب “ کہلانے کی مستحق نہیں اور قرآن مبین یعنی وہ قرآن جس کا مدعا نہایت واضح اور صاف ہے۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

بہت بار کافر یہ آرزو کریں گے کاش وہ دنیا میں مسلمان ہوتے1

ف 1 ۔ ” یعنی موت کے وقت یا قیامت کے دن “۔ یا جب اللہ تعالیٰ گنہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا اور کافروں کو اس میں رہنے دگا۔ مطلب یہ کہ جب کافروں پر حقیقت حال واضح ہوجائے گی تو وہ پچھتا پچھتا کر آرزو کریں گے کہ کاش ہم نے اپنی غلط روش شے توبہ کرکے اسلام دعوت قبول کرلی ہوتی۔ مگر اس وقت ان کا پچھتانا اور یہ آرزو کرنا ان کے کسی کام نہ آسکے گا۔ بظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت حال واضح ہوجانے کے بعد کفار ہر لحظہ یہ آرزو کرتے رہیں گے۔ (کذافی الشوکانی)
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے وہ کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے ہیں اور دنیا کی آرزو ان کو غفلت میں رکھے اب قریب ان کو معلوم ہوجائے گا2

ف 2 ۔ کہ وہ کس غلط روش پر چل رہے تھے اور یہ کہ انہوں نے دعوت حق کو ٹھکرا کر کسی اور کا نہیں خود اپنا ہی نقصان کیا ہے۔
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے جس بستی کو تبا کیا اس کی مدت مکھی ہوئی تھی3

ف 3 ۔ جب تک یہ مدت باقی رہی اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلت دی۔ لیکن جوں ہی مدت پوری ہوئی فوراً انہیں گرفت میں لے لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول (محمد ﷺ ) کیساتھ تکذیب و استھذا کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ہم نے تاحال گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا ہے کہ تمہاری گرفت میں لے لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول (محمد ﷺ ) کے ساتھ تکذیب و استھزا کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ہم نے تاحال گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا ہے کہ تمہاری گرفت ہوگی ہی نہیں۔
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم اپنی معیاد سے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے4 ہے

ف 4 ۔ یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ (نیز دیکھئے سورة انعام آیت 2) ۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کے کافر ہنسی ٹھٹھے سے تجھ کو کہتے ہیں اے وہ شخص جس پر قرآن اترا یعنی اس کے گمان کے موافق تو5 تو تو دیوانہ ہے

ف 5 ۔ کفار کی تہدید کے بعد اب ان کی سرکشی کا بیان ہے۔ نیز اوپر کی آیا تمہیں کفر بالکتاب کا بیان تھا اب کفر بالرسالت کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (شوکانی) ۔ آنحضرت ﷺ کو استہزا کے طور پر مجنون کہتے تھے اور قرآن اور پیغمبر کے ساتھ یہ استہزا کفر کی شدید ترین قسم ہے۔
Ayah 15:7

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

بھلا اگر تو سچا ہے تو فرشتوں کو ہمارے سامنے کیوں نہیں لاتا6 فرشتوں کو

ف 6 ۔ کہ وہ سامنے آکر گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ کا سچا پیغمبر ہے اس کی پیروی اختیار کرو جیسا کہ سورة انعام آیت ٌ میں ہے : وقالو لو لا انزل علیہ ملک اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ان کو عذاب سے ڈراتے تو انہوں نے لوما تاتینا بالملائکۃ کہہ کر عذاب کا مطالبہ کیا ہو۔ (کبیر) ۔
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

تو ہم عذاب دے کر اتارتی ہیں اور اگر فرشتیاتریں اس وقت ان کو مہلت نہ ملے گی7

ف 7 ۔ یعنی فرشتے تو عین اس وقت نازل ہوتے ہیں جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا قطعی فیصلہ ہوجائے۔ اس کے بعد انہیں مہلت نہیں دی جاتی۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک قرآن کو ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں8

ف 8 ۔ اب رہا ” یہ ذکر “ جس کے لانے والے کو تم دیوانہ کہہ رہے ہو تو یہ ہمارا ہی نازل کردہ ہے۔ جس طرح قرآن اپنے نظم اور معنی کے اعتبار سے معجز ہے کہ جن و انس جمع ہو کر بھی اس جیسی ایک سورة نہیں بناسکتے۔ اسی طرح اس کا یہ بھی اعجاز ہے کہا اس میں ردو بدل نہیں ہوسکے گا۔ قرآن کی حفاظت کا یہ وعدہ حیرت انگیز طریقہ پر پورا ہوا اور ہو رہا ہے۔ قرآن کے علاوہ دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جو چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود اس طرح محفوط ہو کہ اس کے کسی ایک حرف میں ردو بدل نہ ہوا ہو اور دنیا بھر میں قرآن کے جتنے نسخے موجود ہیں ان میں ادنیٰ سا بھی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ یہ ہے قدرت کی طرف سے حفاظت جو کسی اور کتاب کو نصیب نہیں ہوئی اور قرآن کی اس طرح حفاظت کے مخالفین بھی معترف ہیں۔
Ayahs 15:10–11

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم تجھ سے پہلے اگلے کئی فرقوں میں پیغمبر بھیج چکے ہیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی پیغمبر آیاتو وہ اس سے ہنستے رہے9

ف 9 ۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ ان کے تکذیب و استہزا سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ہر زمانہ میں کفار نے انبیاء کی اسی طرح ہنسی اڑائی ہے۔
Ayah 15:12

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

ایسے ہی ہم ان بدکاروں مکہ کے کافروں کے دلوں میں بھی کفر اور ٹھٹھا مذاق ڈال دیتے ہیں10

ف 10 ۔ ” نسلکہ “ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔ یعنی جب بدکاری سے باز نہیں آتے تو اس کی سزا یہدیتے ہیں کہ انہیں قرآن اور رسول کے ساتھ کفر و استہزا کا عادی بنادیتے ہیں۔
Ayah 15:13

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

وہ قرآن پر ایمان نہ لائیں گے اور یہی طریقہ اگلوں سے ہوتا چلا آیا ہے11

ف 11 ۔ کہ وہ اپنے پیغمبروں کو جھٹلاتے اور اس کی پاداش میں تباہ کئے جاتے۔
Ayahs 15:14–16

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور ان کافروں کا تو یہ حال ہے اگر ہم ان پر آسمان کا ایک دروازہ کھول دیں اور اوپر چڑھنے کا سامان کردیں) پھر وہ دن دہاڑے اس پر چڑھتے رہیں تو بھی ایمان لانیوالے نہیں

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

ضرور کہیں گے کچھ نہیں ہماری آنکھیں متوالی ہوگئی ہیں نہیں ہم لوگوں پر جادو ہا ہے

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور12 اور دیکھنے والوں کے لئے آسمان کو ستاروں سے آراستہ کیا

ف 12 ۔ رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (رازی) ۔ ” برج “ عربی زبان میں قلعہ یا منزل کو کہتے ہیں۔ کہاں برجوں سے مراد وہ منزلیں ہیں جن سے سورج اپنی گردش کے دوران میں گزرتا ہے اور وہ تعداد میں بارہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ برج وہ آسمانی قلعے ہیں جن میں فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ (شوکانی) ۔
Ayahs 15:17–18

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ہر ایک شیطان مردودوں کے وہاں جانے سے بچا رکھا ہے (فرشتے چوکیدانر کرتے ہیں)

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر جو کوئی چوری پیسے کوئی بات سن بھاگیتو اس کے پیچھے کھلا چمکتا ہوا شعلہ لگتا ہے1

ف 1 ۔ اور جس پردہ شہاب جا لگتا ہے وہ یا تو جل جاتا ہے یا زخمی ہوجاتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری (رح) اور حجرت ابوہریرہ ؓ سے روایت لائے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ آسمان میں جب کوئی حکم صادر کرتا ہے تو اس کا کلام سُن کر فرشتے اظہار طاعت کے لئے اپنے بازو پھڑ پھڑانے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر کے پھسلنے یارگڑنے کی آواز۔ جب فرشتوں کو خوف جاتا رہتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ” تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے جو فرمایا حق فرمایا اور وہ بلند اور بڑا ہے۔ اس وقت بات کے چرانے کے لئے شیاطین بھاگتے ہیں۔ اور یہ تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں اور یوں وہ ایک آدھ کلمہ سن کر اپنے دوست نجومی یا کاہن کے کان میں پھونک دیتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بیان کرتا ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں بوجھل پہاڑ رکھے اور ہر چیز اس میں یا پہاڑوں میں انداز کے ساتھ اگائی یا پیدا کی2

ف 2 ۔ دلائل سماوی کے بعد اب قدرت کے ان دلائل کا بیان ہے جو زمین پر ہیں۔ (رازی) ۔ یعنی ہر چیز اتنی اگائی اور پیدا کی جتنی اسکی ضرورت تھی نہ کسی چیز کو بلا ضرورت پیدا کیا اور نہ ایک خاص حد سے بڑھنے دیا۔ یا ” فیھا میں ” ھا “ کی ضمیر جبال کے لئے ہے یعنی پہاڑوں کے اندر ہر چیز یعنی معدنیات پورے اندازے سے پیدا کیں۔ (شوکانی) ۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور زمین میں ہم نے تمہاری گزر کے سامان بنائے کھانے پینے رہنے کے اور ان کے جن کو تم روزی نہیں دیتے3

ف 3 ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ روزی دیتا ہے اور جو تمہاری خدمت کرتے ہیں۔ اس سے مراد مربوط ہیں نوکرچاکر اور جانور وغیرہ جن کا رازق درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (شوکانی) ۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں یعنی ہر چیز افراط موجود ہے اور ہم ایک ٹھہرے ہوئے انداز سے اس کو اتارتے ہیں4

ف 4 ۔ یعنی ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن ہم بندوں کو ضرورت کے پیش نظر اسے ایک خاص مقدار میں آسمان سے اتارتے یا زمین سے پیدا کرتے ہیں۔ ہر چیز کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اکثر مفسرین (رح) کا خیال ہے کہ یہاں خزائن سے مراد بارش ہے کیونکہ دنیا میں تمام تر رزق و معیشت کا مدار اسی پر ہے مگر اولیٰ یہ ہے کہ اسے عموم پر رکھا جائے۔ (شوکانی) ۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم نے پانی بھری ہوائیں چلائیں پھر ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور تم کو وہ پانی پلایا اور تم تو اس کو روک کر رکھ بھی نہیں سکتے5

ف 5 ۔ یعنی نہ اوپر آسمان میں بارش کا خزانہ تمہارے قبضہ میں ہے اور نہ نیچے زمین میں کنوئوں، چشموں، تالابوں کے خزانہ پر تمہارا کوئی اختیار رہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پانی کو جس مقدار میں چاہتا ہے رکھتا ہے۔ وہ جب چاہے بارش برسائے تم اسے روک نہیں سکتے یا جب چاہے روک لے تم اسے پانی مرضی سے برسا نہیں سکتے۔ اسی طرح اگر وہ چاہے تو چشموں اور کنوئوں میں تمامجمع شدہ پانی زمین میں جذب ہوجائے اور تمہیں ایک قطرہ بھی پینے کو نہ ملے۔ (از وحیدی وغیرہ) ۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی لوگوں کو اور تمام جانداروں کو جلاتے ہیں اور مارتے ہیں اور ہم ہی سب کے وارث ہیں6

ف 6 ۔ یعنی سب فنا ہوجائیں گے۔ مال و متاع جو کچھ بچ رہے گا وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ (موضح) ۔
Ayahs 15:24–26

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں جو قوم سے پہلے گزرے اور ہم جانتے ہیں جو بعد کو قیامت تک پیدا ہونگے

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بیشک تیرا مالک قیامت کے دن ان سب کو اکٹھا کریگا وہ حکمت والا خبردار ہے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے آدمی کو یعنی آدم کو کھٹکھٹاتے کالے سڑے گارے سے پیدا کیا7

ف 7 ۔ اس سورة میں آیت : ’ ولقد جعلنا فی السماء برزجا الک “ سے دلائل توحید کا بیان چلا آرہا ہے۔ جب اوپر کی آیت میں حیوانات کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر کیا تو اب انسان کے پیدا کئے جانے کو بطور دلیل ذکر کیا جا رہا ہے۔ الغرض دلائل توحید میں یہ ساتویں قسم دلیل کی ہے۔ (کبیر) ۔ عربی زبان میں خشک مٹی کو تراب کہتے ہیں جب اسے بھگو دیا جائے تو وہ سین کہلاتی ہے پھر جب خوب گوندھ دینے کے بعد اس میں سے بو آنے لگے تو اسے ” حماء مسنون “ کہا جاتا ہے۔ پھر تب خشک ہو کر کھن کھن بولنے لگے تو وہ صلصال کہلاتی ہے اور اسے جب آگے میں پکا دیا جائے تو فخار کہتے ہیں۔ آیت میں الفاظ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہوئے گار سے حضرت آدم ( علیہ السلام) کا پتلا تیار کیا گیا ہوگا پھر جب وہ سوکھ کر کھن کھن بولنے لگا تو اسمیں روح پھونکی گئی ہوگی۔ (کبیر) ۔ یہی مضمون ایک مرفوع حدیث سے بھی ثابت ہے۔ (ترمذی) ۔
Ayah 15:27

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جان8 یعنی جنوں کے باپ یا شیطان ابلیس کو ہم نے پہلے ہی سے یعنی آدم سے پہلے بہت گرم آگ سے پیدا کیا9

ف 8 ۔ مگر جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں ” الجان “ سے مراد ابو الجن (جنوں کا باپ) ہی ہے۔ 9 ۔ ” سموم “ دراصل گرم ہوا (لو) کو کہتے ہیں۔ پس ” نار السموم “ کا ترجمہ بعض مفسرین (رح) نے ” ہوا طی ہوئی لطیف آگے “ یا تیز حرارت “ بھی کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں جس سموم سے اللہ تعالیٰ نے ” الجان “ کو پیدا کیا یہ باد سموم اس کا سترواں حصہ ہے۔ (رزی) ۔
Ayahs 15:28–29

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد کر جب تیرے مالک نے فرشتوں سے کہا میں کھنکھٹاتے کالے سڑے کیچڑ سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی جان پھونک دوں1 وہ زندہ ہوجائے تو تم سب اس کی تعظیم کے لئے سجدے میں گرپڑنا

ف 1 ۔ اولا ً انسان کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر فرمایا۔ اب اس کے بعد اس کا قصہ ذکر فرمادیا۔ (رازی) یہاں آدم میں جو روح پھونکی گئی اس کی ” روحی “ فرما کر اپنی طرف نسبت کیا ہے تو یہ نسبت صرف تشریف و تکریم اور انسانی روح کا امتیاز ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح حضرت صالح کیا انٹنی کو ” ناقہ اللہ “ اور خانہ کعبہ کو ” بیت اللہ “ کہا گیا۔ (کذافی الشوکانی) ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” اپنی جان “ یعنی خاص جس میں نمونہ ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کا، علم اور تدبیر اور یاد حق کی اور لگائو اللہ سے۔ (از موضح) ۔
Ayah 15:30

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا اور اس میں جان پھونکی تو سب فرشتوں نے2 سجدہ کیا

ف 2 ۔ سجدہ کے معنی کسی کے سامنے عاجزی کرنے اور جھکنے کے ہیں چاہے وہ زمین پر سر رکھ کر ہو یا سر اور کمر جھکا کر۔ اور وہ دو طرح ہوتا ہے ایک بطور عبادت اور دوسرا بطور سلام و تعظیم۔ فرشتوں کا حضرت آدم کو سجدہ کرنا بطور۔ سلام و تعظیم تھا نہ کو بطور عبادت۔ جیسا کہ حضرت یوسف کو ان کے والدین اور بھائیوں نے سجدہ کیا تھا کیونکہ فرشتوں کی صفت میں مذکور ہے۔ ولہ یسجدون۔ (اعراف آیت 602) ” کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں “ یہ تعظیمی سجدہ پہلی امتوں میں جائز تھا مگر ہماری شریعت میں حرام کردیا گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :” اگر میں کسی بشر کو دوسرے بشرے کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (دیکھئے بقرہ) ۔
Ayahs 15:31–33

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس نے یہ نہ مانا کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شریک ہو

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس ! تو سجدہ کرنے والوں میں شریک نہیں ہوتا

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

اور میرا حکم کیوں نہیں سنتا اور غرور اور تکبر کی راہ سے) کہنے لگائیں تو ایک بشر کو جس کو تو نے کھٹکھٹاتے کالے سڑے کیچڑ سے بنایا سجدہ کرنے والا نہیں3

ف 3 ۔ سورة اعراف میں ہے کہ ابلیس نے کہا :” میں اس سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ “ (دیکھئے اعراف آیت 21) ۔
Ayahs 15:34–36

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو چل دور ہو جنت سے نکل جا (یا اس مرتبے سے جو تجھ کو دیا گیا ہے تو مردود ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور قیامت کے دنتک تجھ پر پھٹکار ہے اس کے بعد سخت عذاب ھبی ہوگا

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

ابلیس نے کہا مالک میرا ہے جب تو نے مجھ کو مردود ہی کردیا تو مجھ کو اس دن تک مہلت دے زندہ رکھ تین دن تک لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے4

ف 4 ۔ یعنی دنیا کے خاتمے تک مہلت دے۔
Ayah 15:37

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا اچھا تجھ کو مہلت ہے5

ف 5 ۔ یعنی پہلے صورتک جمہور مفسرین نے یہی معنی مراد لئے ہیں کیونکہ پہلے صور کے وقت تو شیطان بھی مرجائے گا اور دوسرے صور یعنی چالیس برس تک دوسروں کے ساتھ مرا رہے گا۔ نیز دیکھئے اعراف آیت 51 و ص :83 ۔ (روح) ۔
Ayahs 15:38–39

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

ٹھہرے ہوئے وقت کے دن تک

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

کہنے لگا مالک میرے جیتے تو نے مجھ کو بےراہ کردیا6 میں بھی ضرور ان کو یعنی آدم کی اولاد کو زمین میں گناہ پا دینا کے ساز و سامان بھلے کر دکھائوں گا اور میں ضرور ان سب کو بےراہ کر دوں گا

ف 6 ۔ یا ” بما “ میں با بمعنی قسم ہے اور یہ عزت کی قسم کے منافی نہیں ہے کیونکہ اغوا بھی فی الجملہ عزت و سلطان کے آثار سے ہے گویا شیطان نے دونوں کی قسم کھائی مگر سبیت کے معنی ادنیٰ ہیں۔ (شوکانی) ۔