15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 15:40–41

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

مگر ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں چنے ہوئے ان کو میں گمراہ نہ کرسکوں گا

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا یہی تو سیدھی راہ ہے جو مجھ کو کرنا ہے7

ف 7 ۔ یعنی یہی کہ میرے مخلص بندوں کو تو گمراہ نہ کرسکے گا درست بات ہے جیسے بعد میں فرمایا : ان عبادی لیس لک علیھم سلطان۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھذا سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے۔ (کذافی الروح) ۔
Ayah 15:42

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

اور جو میرے مخلص اور مقبول بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہ چلے گا مگر جو تیری راہ چلیں گمراہوں میں سے ان پر تیرا بہکانا اثر کرے گا8

ف 8 ۔ گویا یہ پہلے کلام کی تقریر ہی ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر ” عباد “ سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہوگا۔ مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔ (روح) ۔
Ayahs 15:43–44

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور ان سب لوگوں کے لئے جو تیری راہ چلیں گے جہنم کا وعدہ ہے

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے ساتھ دروازے ہیں9 (یعنی سات طبقے) ہر دروازے کے لئے ایک فرقہ بٹا ہوا ہے10

ف 9 ۔ خبر لان او مستانفہ۔ حضرت علی ؓ اور ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین سے مروی ہے کہ وہ طبقے ایک دوسرے کے اوپر ہوں گے۔ ان طبقات کے نام بھی مروی ہیں جن میں ایک طبقہ کا نام جہنم بھی مذکور ہے مگر کسی صحیح اثر سے یہ ثابت نہیں ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین نے ” سبعہ ابواب ‘ سے مراد سات دروازے ہی لئے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جہنم کے ساتھ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائیں۔ (ترمذی) ۔ آگ کی صفت میں بہت سی احادیث اور آثار مروی ہیں۔ (شوکانی) ۔ 10 ۔ بٹے ہوئے فرقہ سے مراد بدکاروں کا بٹا ہو افرقہ ہے، یعنی جس طرح ایک خاص عمل والے لوگ جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوں گے اسی طرح برے عمل والے لوگ بھی اپنے اعمال کے مطابق جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہوں گے۔ جیسے فرمایا : ” ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار۔ “ (دیکھئے النساء آیت 541) ۔ شاہ عبد القادر فرماتے ہیں : شاید بہشت کا ایک دروازہ زیادہ اس لئے ہے کہ بعض موحدین نرے فضل سے جنت میں جائیں گے بغیر عمل کے۔
Ayahs 15:45–47

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

جو پرہیز گار ہیں (شرک اور کفر سے بچتے ہیں) وہ باغوں اور چشموں میں ہونگے

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

ان سے جاتے وقت فرشتے کہیں گیتم ان میں سلامتی کے ساتھ بےکھٹکے جائو یا ایک دوسرے کو سلام کرتے ہوئے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور جو کچھ دنیا میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے رنج تھا وہ ہم نکال ڈالیں گے بھائی بھائی کی طرح تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہونگے1

ف 1 حضرت ابوسعید خدری سے صحیح روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : مومنوں کو جہنم سے نکال کر جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا تاکہ کے درمیان آپس کی زیادتیوں کی بنا پر جو کدورتیں پیدا ہوگئی تھیں وہ ان کے دلوں سے نکال دی جائیں۔ چناچہ جب وہ ان کدرتوں سے پاک صاف ہوجائیں گے انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔ حضرت علی فرماتے ہیں ” مجھے امید ہے کہ میں طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر)
Ayah 15:48

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

ان کو بہشت میں نہ کسی طرح کی تکلیف ہوگی نہ وہ کبھی اس میں سے نکالے جائیں2 گے بلکہ ابدلا بادو میں چین اڑاتے رہیں گے

ف 2 جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے اور تم ہمیشہ زندہ ہو گے تمہیں کبھی موت نہ آئے گی اور تم ہمیشہ جو ان رہوں گے اور تم پر کبھی بڑھاپا نہ آئے گا اور ہمیشہ قیام پذیر رہو گے کبھی اس سے کوچ کی ضرورت نہ ہوگی۔ (ابن کثیر)
Ayahs 15:49–50

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو خبر کر دے کہ میں بخشنے والا وہ لوگ شرک اور کفر سے بچے رہیں ان پر مہربان ہوں۔

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور میرا عذاب بھی بڑی تکلیف کا عذاب ہے3

ف 3 لہٰذا نہیں چاہیے کہ نہ خدا کی رحمت سے مایوس ہوں اور نہ اتنے دلیر کہ اس کے عذاب کا کوئی ڈرا ان کے دلوں میں نہ ہو۔ یہی رجاء و خوف کا وہ مقام ہے جس کی قرآن و حدیث میں متعدد مواضع پر تلقین کی گی ہے۔ حدیث میں ہے : اگر بندے کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی قدر عفو و درگزر کرنے والا ہے تو وہ کبھی گناہ سے پرہیز نہ کرے اور اگر اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کس قدر سخت ہے تو (آہ و بکا سے) اپنے آپ کو بلاک کر ڈالے۔ (ابن کثیر)
Ayah 15:51

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ابراہیم کے مہمانوں کا حال ان کو سننا4

ف 4 اس قصہ میں اس بات کی شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب درد ناک ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ یہ فرشتے تھے جو مہمان بن کر حضرت ابراہیم کے پاس پہنچے اور پھر قوم لوط کو بلاک کرنے کے لئے سدوم میں پہنچ گئے۔
Ayah 15:52

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ ابراہیم کے پاس پہنچے تو سلام کیا ابراہیم نے5 کہا ہم کو تو تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے6

ف 5 پہلے حضرت ابراہیم نے سلام کا جواب دیا پھر مہمانداری کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ لیکن جب دیکھ دکھانے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھاتے تو گھبرا کر یہ کہا جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ (قرطبی) 6 معلوم نہیں تم کون لوگ ہو اور کس نیت سے آئے ہوئے۔ دیکھئے سورة ہود۔
Ayahs 15:53–56

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

وہ کہنے لگے نہیں ڈر نہیں ہم تو تجھ کو ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

یعنی اسحاق کی ابراہیم نے کہا واہ کیا خوشخبری مجھ کو سناتے ہو میں تو بوڑھا ہوچکا ہوں اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

انہوں نے یعنی فرشتوں نے کہا نہیں ہم تجھ کو سچی خوشخبری سناتے ہیں تو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ میں بڑی قدرت ہے ابراہیم نے کہا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تو وہی جو گمراہ ہیں اور کون ناامید ہوتے ہیں7

ف 7 یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔ (قرطبی شو کانی)
Ayah 15:57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا غیر یہ تو ہوا اب یہ بتائو تم کس کام پر بھیجے گئے ہو8

ف 8 غالباً حضرت ابراہیم قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوشخبری دینا نہیں ہے بلکہ کوئی بڑی مہم ہے جس کے لئے انہیں بھیجا گیا ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 15:58–60

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم تو چھ گہنگار لوگوں کی طرف ان پر عذاب اتارنے کو بھیجے گئے ہیں

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے خاندان کو ہم بالکل بچا دیں گے ان میں سے کوئی عذاب میں گرفتار نہ ہوگا

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

مگر ان کی بی بی ہم نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے9

ف 9 یعنی عذاب میں باقی رہنے والے کافروں کے ساتھ مبتلائے عذاب ہوگی۔ بظاہر یہ فرشتوں کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ کرنے آئے تھے اس لئے ممکن ہے انہوں نے بوجہ قرب و اختصاص کے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اپنے فیصلہ کے لفظ سے تعبیر کردیا۔ (شوکانی)
Ayahs 15:61–62

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے خاندان کے پاس آئے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

لوط نے کہا تم تو بیگا نے10 (اجنبی) معلوم ہوتے ہو

ف 10 اس علاقے کے رہنے والے نہیں ہو اس لئے مجھے تم سے ڈر لگتا ہے۔
Ayahs 15:63–64

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ کہنے لگے (نہیں ڈٹے کا کوئی سبب نہیں ہے) بلجہ خوشی کرو) جس عذاب) میں یہ لوگ شک کرتے تھے

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

ہم یہ عذاب لیکر آئے ہیں اور ہم ہونے والی بات لے کر تیرے پاس آئے ہیں1 اور ہم سچے ہیں

ف 1 جس کے ہونے میں کوئی شک نہیں اور وہ ہے حق تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا اٹل فیصلہ۔ (شوکانی)
Ayah 15:65

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو کچھ راترہی اپنے گھر والوں کو یہاں سے لیکر چل دے اور تو سب کے پیچھے چلو (تاکہ ان کو دیکھتا پائے تھے اور اطمینان سے کسی کے رہ جانے کا ڈر نہ ہو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے یا تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے اور جہاں تم کو حکم ہی2 وہیں سیدھے چلے جائو

ف 2 یعنی ملک شام کی طرف یا کسی امن کی جگہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر فرمائی ہوگئی۔ بعض نے ” اردن “ بھی لکھا ہے (روح)
Ayah 15:66

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو اس بات کا فیصلہ کہلا بھیجا کہ صبح کو ان لوگوں کی جڑ بنیاد کٹ جائے گی3

ف 3 سب بلاک کردیئے جائیں گے۔ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچے گا۔ (شوکانی)
Ayah 15:67

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور شہر (سدوم) والے لوگ ان خوبصورت لڑکوں کا آنا سن کر) خوشیاں4 مناتے آئے

ف 4 اور لوط سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو بدکاری کے لئے ہمارے حوالہ کردو۔ گویا ان کی پوری آبادی میں کوئی ایسا عنصر باقی نہ رہا تھا جو اس قسم کی غنڈہ گردی کے خلاف آواز اٹھاتا۔ اس سے ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
Ayahs 15:68–70

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

اور (بدفعلی کا قصہ کیا) لوط نے (ان شریروں سے) کہا یہ میرے جان ہیں تو مجھ کو روسا نہ کرو

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور خدا سے ڈرو مجھ کو نصیحت نہ کرو

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا ہم تجھ کو جہان کے لوگوں سے منع نہیں کرچکے ہیں5

ف 5 یعنی ہم تمہیں رسوا نہیں کر رہے بلکہ تم خود اپنے آپ کو رسوا کر رہے ہو۔ کیا ہم آپ کو منع نہیں کرچکے کہ ہمارے مقابلے میں کسی حمایت نہ کریں۔ یا اپنے ہاں اجنبی مسافروں کو بطور مہمان نہ ٹھہرایا کریں۔ (کنا فی الوحیدی)
Ayah 15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

لوط نے کہا اگر تم کو ایسا ہی کرنا ہے تو یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں6

ف 6 تم ان سے فطری طریقہ پر نکاح کر کے اپنے شہوانی جذبات کی تسکین کرو۔ ظاہر ہے کہ ” بیٹیوں “ سے مراد خود ان لوگوں کی اپنی عورتیں ہیں۔ کیونکہ نبی اپنی قوم کی عورتوں کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے۔ (دیکھیے سورة )
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیری زندگی قسم ہے7 بیشک وہ اپنی مستی میں دیوانے ہو رہے تھے

ف 7 جمہور مفسرین کا یہی خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی زندگی کی قسم کھائی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتوں کا کلام ہو اور انہوں نے حضرت لوط کی زندگی کی قسم کھائی ہو۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا منع ہے۔ صحیح احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے۔ (وحیدی و کذافی الروح)
Ayahs 15:73–76

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

پھر سورج نکلتے ان کو چنگاڑنے آدبوچا

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

حضرت جبریل نے ایک چیلنج ماری پھر ہم نے اس بستی کو الٹ کر) اوپر تلے کردیا اور لاوپر سے ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس قصے میں ٹوہ لگانے والوں کو (یا غور و فکر کرنے والوں کو حق تعالیٰ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور یہ بستی تو سیدھے رستے پر ہے8

ف 8 یعنی جو قافلے حجاز سے شام یا عرقا سے مصر جاتے ہیں یہ بستی ان کے راستے میں پڑتی ہے۔ مگر لوگ ہیں کہ اس میں تباہی کے آثار دیکھ کر کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ جدید محققین کا خیال ہے کہ یہ بستی سجرمیت کے (جسے بحر لوط بھی کہتے ہیں) جنوب مشرق میں واقع تھی بلکہ اس زمانہ میں اردن کی حکومت سحرمیت کے جنوبی حصہ سے اس کے تباہ شدہ آثار برآمد کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ (تنبیہ) اس عذاب کے وقت کے متعلق تین الفاظ آئے ہیں ” مشرقین، مصبحین اور بکرۃ “ صبح سے مراد صبح عرفی ہو تو یہ اشراق و بکرۃ کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے بعض نے لکھا ہے کہ صبح یعنی طلوع فجر سے عذاب شروع ہوا اور اشراق یا بکرہ تک ان کا تقصہ تمام کردیا گیا۔ نیز قرآن نے تین طرح کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔ پہلے صیحتہ کا عذا۔ آیا پھر ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا۔ اور سب سے آخر میں ان پر پتھروں کا مینہ برسایا گیا۔ (کذافی قرطبی)
Ayahs 15:77–78

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک جو ایمان دار ہیں ان کے لئے تو اس قصے میں (خدا کی قدرت کی بڑی) نشانی ہے

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور (لوط کی قوم کی طرح) بن میں رہے9 دانے بھی شریر تھے

ف 9 مراد ہیں اس علاقے کے رہنے والے جہاں اب شہر تبوک واقع ہے۔ اس علاقے میں ” ایکہ “ یعنی ایک گھنا جنگل تھا، اس لئے ان کو ” اصحاب ایکہ “ (بن والے) کہا گیا یہ اور اصحاب مدین دو الگ الگ قومیں تھیں اور ان دونوں کی طرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ ایک حدیث سے بھی ثابت ہے۔ (قرطی کبیر)
Ayah 15:79

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

آخر ہم نے ان سے بدلہ لیا اور یہ دونوں بڑے رستے پر تھیں10 (کھلی سڑک پر)

ف 10 قوم لوط اور اصحاب ایکہ کا علاقہ قریش دن دونوں سے گزر کر شام آتے جاتے تھے۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ (قرطبی)