15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 15:80

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور (اسی طرح) حجر کے11 رہنے والے بھی پیغمبروں کو جھٹلا چکے ہیں12

ف 11 اس سورة میں یہ چوتھا قصہ ہے۔ حجر قوم ثمود کا مرادی شہر تھا جو اب ” مدائن صالح “ کے نام سے مشہور ہے اور وہاں اس قوم کے تباہ شدہ آثار اب بھی موجود ہیں۔ یہ علاقہ ” العلا “ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاز سے جو قافلے شام جاتے ہیں وہ لازماً اس سے گزر کر جاتے ہیں اور یہ اس ریلوے لائن کا ایک سٹیشن بھی ہے جو مدینہ سے دمشق کو جاتی ہے۔12 ایک پیغمبر کیت کذیب چونکہ سب کی تکذیب ہے اس لئے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ (روح)
Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں (ف 1) پھر بھی انہوں نے ان پر کچھ خیال نہ کیا (ف 2)

ف 1 اونٹنی کا معجزہ کسی معجزوں پر مشتمل تھا اس لئے اس کو آیات فرمایا اور ان سے مراد وہ دلائل عقلیہ بھی ہوسکتے ہیں جو توحید پر دال ہیں۔ (روح) 2 یعنی کوئی عبرت حاصل نہ کی بلکہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور حضرت صالح کو چیلنج دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لے آئو۔
Ayahs 15:82–84

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر ایسے گھر بناتے تھے جن میں ان کو ڈر نہ رہتا

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

آکر صبح کے وقت ان کو چنگھاڑنے آدابا پھر جو کچھ وہ کرتے تھے

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

(یعنی مضبوط گھر، کھیتی، مال و دولت وغیرہ) کچھ ان کے کام نہ آیا (ف 3)

ف 3 ان پر عذاب کی تفصیل کے لئے دیکھتے اعراف رکوع 10 سورة ہود رکوع 7
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے (بڑی) حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور قیامت ضرور آئے گی تو (اے پیغمبروں کافروں اور مشرکوں سے) اچھی طرح درگذر کر (ف 4)

ف 4 یعنی یہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ صبر اور درگزر سے کام لیجیے وقت آنے پر ان کو ضرور بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

بیشک تیرا مالک سب کا بنانے والا ہے جاننے والا (ف 5)

ف 5 تو پھر اس کے لئے انہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے (اے پیغمبر) تجھ کو سات (سورتیں یا آیتیں) دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور بڑا قرآن دیا (ف 6)

ف 6 ” سبع مثانی “ اور ” بڑے قرآن “ سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ ابوسعید بن العلی سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : (الحمد للہ رب العلمین یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا اور یہی اکثر صحابہ اور بعد کے مفسرین کا قول ہے۔ بعض نے سبع طوال یعنی سات لمبی سورتیں (بقرہ تا) العا و توبہ) مراد لی ہیں۔ مگر جب صحیح حدیث میں اس سے سورة فاتحہ مراد ہونے کی تصریح ہے تو کوئی دوسری تفسیر اختیار کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کذافی شو فی۔ اس کی تفسیر میں اور بھی اقوال سقول ہیں۔ (دیکھیے المعانی)
Ayahs 15:88–91

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

تو اپنی آنکھیں بھی، ان چیزوں کی طرف مت اٹھا جو ہم نے کئی قسم کے کافروں کو مزہ اٹھانے کو دی ہیں اور نہ (ان کے ایمان نہ لانے کا) رنج کر اور ایمان والوں کے لئے اپنا بازو جھکا دے

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دے میں تم کو کھول کر (اس عذاب سے) ڈرانے وال ہوں

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

جیسا (عذاب) ہم نے ان قسم کھانے والوں (یا بانٹ لینے والوں) پر اتارا

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

جنہوں نے قرآن کے تکے بوٹیاں کرلیں (ف 7)

ف 7 یعنی کفار مکہ کے چالی یا سولہ آدمی جنہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم سے حج کے موقع پر مکہ کے راستے بانٹ لئی تھے کہ آنحضرت تک کسی کو نہ پہنچنے دیں گے اور قرآن کی تکابوٹی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ کسی نے قرآن کو سحر کہا اور کسی نے شعراء اور کسی نے پہلوان کی کہانیاں الغرض اس طرح انہوں نے قرآن کی تکذیب کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے اور مختلف عنوانوں سے اسے باطل کرنے کی کوشش کی۔ یہ مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن کے حصے کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مرضی کے موافق ہوا اسے مان لیا اور جسے اپنی مرضی کے خلاف پایا اس سے انکار کردیا اور پہلے انبیاء کی مخالفت کی وجہ سے ان پر مختلف عذاب آچکے تھے اس صورت میں قرآن سے مطلق کتاب الٰہی بھی مراد رکھتی ہے۔ افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض کذافی روح) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مقتسمین کے معنی قسمیں کھانے والے میں یعنی پہلی امتیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب پر قسمیں اٹھا رکھی تھیں۔ مثلاً صالح کی قوم کہ انہوں نے حضرت صالح اور ان کے اہل کو راہ کچھ وقت قتل کردینے کیلئے قسمیں کھائیں۔ (دیکھئے نمل آیت 49) اور پہلی امتوں نے قرآن یعنی کتب سماویہ کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے مطلب یہ کہ جیسے ہم نے ان پر عذاب اتارا اسی طرح کے عذاب سے انگوٹھی ڈرا دیجیے (کذافی الوحیدی)
Ayahs 15:92–94

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تو قسم تیرے مالک کی ہم ان سب سے پرش کریں گے

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ (دنیا میں) کرتے تھے

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

تو جو حکم تجھ کو ملا ہے اس کو کھول کر سنادے اور مشرکوں کا کچھ خیال نہ کر (ف 8)

ف 8 یعنی ان کی کوئی پرواہ نہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی اور مددگار ہے۔ شروع شروع میں آنحضرت دین کی تبلیغ و اشاعت خفیہ طریق پر کرتے تھے لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ علانیہ وعظ نصیحت کرنے لگے۔ (شوکانی)
Ayah 15:95

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم نے تیری طرف ٹھٹھامارنے والوں کا کام تمام کردیا (ف 9)

ف 9 ہم ان سے نبٹ لیں گے آپ بےخوف و خطر دعوت تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے مفسرین کا بیان ہے کہ مراد کفار کے پانچ سردار ہیں (ولید بن مغیرہ) عاص بن وائل اسود بن مطلب، سود بن عبدالغیوث اور حارث بن طلہ طلہ) اللہ تعالیٰ نے ان سب کا ایک ہی دن میں کام تمام کرڈ الا۔ (فتح القدیر)
Ayahs 15:96–99

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود کو شریک کرتے ہیں اب آگے چل کر ان کو (اس ٹھٹھے اور شرک کا جو انجام ہے) معلوم ہوجائے گا

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ کافر جو باتیں کرتے ہیں اس سے تیرا دل تنگ ہوتا ہے (تجھ کو رنج ہوتا ہے)

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو اپنے مالک کی خوبیاں بیان کر (تسبیح اور تحمید کر) اور سجدہ کرنیوالوں میں شریک رہ

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

(نمازیوں میں) اور مرنے تک اپنے مالک کو پوجتا رہ (ف 1)

ف 1 اس کی عبادت پر قائم رہیں اور موت کو یقین اس لئے کہا ہر متنفس کے لئے اس کا آنا ضروری ہے۔ (روح) قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ” یقین “ کا لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے ” حتی اتانا الیقین “ یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا مدثر آیت 47) اس لئے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت لیا ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیرا اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو نماز، روزہ عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ تلعب کے مترادف ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں آنحضرت کو حاصل نہ ہوسکا کہ آپ آخر وقت تک نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی پابندی کرتے رہے۔ بہرحال آیت میں یقین سے یقین قلبی مراد لینا الحاد سے خالی نہیں۔ (کذافی الروح)