14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) قرآن ایک کتاب ہے جو تجھ پر ہم نے اس لئے اتاری کہ تو لوگوں کو ان کے مالک کے حکم سے کفر اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لائے یعنی اس زبردست خوبیوں والے خدا کے راہ پر جس خدا کا1

ف 1 ۔ یعنی اسلام اور اس کی شریعت پر۔ ” باذن ربھم “ میں اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی مبلغ، چاہے وہ نبی ﷺ ہی کیوں نہ ہو، لوگوں کو اگر اسلام کی راہ راست کی طرف لاسکتا ہے تو اللہ ہی کی دی ہوئی توفیق سے لاسکتا ہے۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں (اسی کی ملک ہے اسی کی مخلوق ہے) اور کافروں کی ایک سخت عذاب سے خرابی ہونے والی ہے2

ف 2 ۔ یعنی قیامت کے روز جہنم کے عذاب سے ان کی شامت آنے والی ہے۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو دنیا کی زندگی کو اور (دنیا کے مزوں کو) آخرت پر پسند کرتے ہیں آخرت کی کچھ پرواہ نہیں کرتے) اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں ان کو ایمان لانے سے منع کرتی ہیں اور اس میں عیب نکالتے ہیں3 یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں (راہ سے بہت دور بھٹک گئے ہیں)

ف 3 ۔ یعنی اللہ کی راہ جو بالکل سیدھی اور بےعیب ہے۔ کافر اس میں عیب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ٹیڑھی بتاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس کے اختیار کرنے سے باز رکھ سکیں۔ (از ابن کثیر) ۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

ور ہم نے جب کوئی پیغمبر بھیجا تو اس کی قوم کی بولی والا اپنی قوم کی زبان کا ناکہ ان کو سمجھا سکے4 ا پر بھی اللہ تعالیٰ جس کو چاہنا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ پر لگاتا ہے5 اور وہ زبردست ہے حکمت والا

ف 4 ۔ اور وہ چھی طرح سمجھ سکیں اور ان پر حجت قائم ہوسکے۔ آنحضرت ﷺ سے قبل جتنے پیغمبر بھیجئے گئے وہ ایک ایک قوم کی طرف بھیجئے گئے اور ہر قوم کی طرف اسی قوم کا ایک فرد بھیجا گئے اور ہر قوم کی طرف اسی قوم کا ایک فرد بھیجا گیا جو اسی کی زبان بولتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت گو عام تھی اور قیامت تک کے تمام انسانوں بلکہ تما جن و انس کے لئے تھی لیکن چونکہ آپ ﷺ کی قوم جس میں آپ ﷺ پیدا ہوئے اور جو آپ ﷺ کی اولین مخاطب تھی عربی زبان بولتی تھی اس لئے طبعی ترتیب کے مطابق آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام سب سے پہلے عربی زبان میں ان کو پہنچایا۔ مقصد یہ تھا کہ پہلے یہ قوم اس پیغام کو سمجھے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچائے اور سمجھانے کا ذریعہ بنے۔ اگر قرآن تمام زبانوں میں نازل کیا جاتا تو تنازع اور اختلاف اور تحریف احکام کے دروازے کھل جاتے اور اسلامی دعوت کے لئے کسی مقام پر بھی مرکزیت قائم نہ ہوسکتی۔ (از روح) ۔ 5 ۔ یعنی گوہر پیغمبر اپنی دعوت اسی زبان میں پیش کرتا ہے جسے ساری قوم سمجھتی ہے تاہم ہدایت و ضلالت کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے۔ آج بھی بہت سی عجمی قومیں اسلام کی حامی اور مددگار نظر آتی ہیں اور عرب ممالک باوجود عربی زبان کی خدمت و اشاعت کے اسلام سے منحرف اور دور ہو رہے ہیں۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم موسیٰ کو اپنی (نو) نشانیاں دے کر بھیج چکے ہیں6 (ہم نے اس کو حکم دیا تھا) کہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو کفر کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لا اور اللہ کی نعمتیں ان کو یاد دلا7 کیونکہ ان میں8 ہر ایک صبر اور شکر کرنے والے کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں9

ف 6 ۔ وہ نو معجزات مراد ہیں جو موسیٰ ( علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے یعنی طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون ی عصا، یدِ بیضا، قحط اور پیداوار کی کمی یا ان سے آیات توراۃ مراد ہیں۔ دیکھئے اعراف آیت 331 ۔ (روح) ۔ 7 ۔ یا اللہ کی قدرت کے وہ واقعات جو تاریخ میں گزر چکے ہیں۔ ” ایام “ کا لفط عموماً انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن ترجمہ میں دئیے ہوئے معنی یہاں انسب ہیں۔ (روح) ۔ 8 ۔ یعنی اس تذکیر میں یا ان واقعات میں۔ (روح) ۔ 9 ۔ کیونکہ وہی ان نشانیوں سے صحیح طور پر عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ بےصبرے اور ناشکرے لوگ کسی نشانی سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ (قرطبی) ۔
Ayahs 14:6–7

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد کر جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب اس نے فرعون کے لوگ سے تم کو نجات دی وہ تم کو سخت تکلیف دیا کرتے تھے (بڑی بڑی محنت اور مشقت کے کام تم سے کراتے تھے) اور تمہارے بیٹوں کو کاٹ ڈالتے اور بیٹیوں عورتوں کو جیتا چھوڑ دیتے اور اس معاملہ میں تمہارے مالک کی طرف سے تم پر بڑا احسان ہوا10

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور (موسیٰ نے یہ بھی کہا) جب تمہارے مالک نے تم کو جتلا دیا اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ نعمتیں دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یہ سمجھ رکھو کہ میرا عذاب سخت ہے

ف 10 ۔ کہ تم کو غلامی کی ذلت سے نکالا اور آزادی کی نعمت سے مالا مال کیا۔ یا ” اس میں تمہارے مالک کی طرف سے تمہاری سخت آزمائش تھی۔ “ کہ ایسی مصیبت پر صبر کرتے ہو یا نہیں۔ لفظ ” بلاء “ کے اس موقع پر ” احسان “ اور آزمائش دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (روح) ۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے یہ بھی کہا (اے بنی اسرائیل) اگر تم اور ساری زمین پر جتنے لوگ ہیں سب مل کر ناشکری کرنے لگیں تو بھی اللہ کو کچھ پروا نہیں بیشک وہ بےنیاز اور سراسر تعریف کے لائق ہے1

ف 1 ۔ یعنی ناشکری کا نقصان خود تمہی کو پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اسے نہ تمہارے شکر کی ضرورت اور نہ تمہاری ناشکری کی پروا۔ وہ بہرحال ستودہ صفات ہے چاہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ ایک حدیث قد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس سب کے سب ایک اعلیٰ درجہ کے متقی شخص کے نمونہ پر ہوجائیں تو اس میری بادشاہی میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس سب کے سب ایک بدترین انسان جیسے ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر کمی نہیں ہوگی۔ اسے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس سب کے سب ایک میدان میں جمع ہوجائیں اور پھر مجھ سے (جو جی چاہے) مانگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مانگی ہوگئی چیز دے دوں تو اس سے میری بادشاہی میں ہرگز کمی نہیں آئے گی مگر اتنی جتنی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکال لینے سے اس کے پانی میں آتی ہے۔ (صحیح مسلم) ۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والے جن کو اللہ ہی جانتا ہے2 ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں (معجزے) لیکر آئیتو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ تک پہنچایا3 اور کہنے لگے ہم تو جو تم خدا کی طرف سے دے کر بھیجے گئے ہو (یعنی جیسا تم سمجھتے ہو) اس کو نہیں مانتے اور جس دین کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو اس میں ہم کو ایسا شک ہے جس سے دل ہی نہیں جمتا

ف 2 ۔ وہی ان کی تعداد اور تمام حالات سے واقف ہے اور ان کے نسب کو بھی صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (قرطبی) ۔ 3 ۔ یعنی غصے کے مارے اپنے ہاتھ کاتنے لگے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : عضوا علیکم ولا نابل من الغیظ۔ (آل عمران) ۔ یا ہنسی اور تعجب کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ تھے۔ یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہو۔ مگر پہلے اسناد اور محاورہ کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہیں۔ (از قرطبی) ۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا گیا تم کو خدا میں ابھی شک ہے4 جو آسمانوں اور زمین کا انوکھا پیدا کرنے والے وہ تم کو ایمان اور توحید کی طرف بلاتا ہے اس لئے کہ تمہارے گناہ معاف کر دے اور ایک مقرر مدت تک تم کو مہلت دے5 وہ کہنے لگے تم تو اور کچھ نہیں ہماری طرح ایک آدمی ہو6 تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن پوجتے رہے ان سے یعنی ان کی عبادت سے ہم کو روک دو اگر تم سچے ہو تو ایک کھلی نشانی جیسے ہم چاہتے ہیں ہم کو لا دکھائو

ف 4 ۔ کہ وہ موجود بھی ہے یا نہیں اور اگر موجود ہے تو آیا تنہا ہے یا کئی ایک ہیں ؟ یا کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی شک و شبہ ہے۔ بہر صورت یہاں استفہام انکار ہی ہے۔ (قرطبی) ۔ 5 ۔ یعنی دنیا میں موت کے وقت تک تمہیں عذاب سے محفوط رکھے۔ (قرطبی) ۔ 6 ۔ یعنی ظاہری ہیت و صورت کھانے پینے اور دیگر لوازمات بشریہ کے اعتبار سے تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے پاس اس کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ (وحیدی) ۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا یہ تو تم سچ کہتے ہو بیشک ہم اور کچھ نہیں تمہاری طرح آدمی ہیں فرشتے یا جونی نہیں ہیں خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے پیغمبری سے سرفراز فرماتا ہے7 اور اب وہی نشانی نشانی بغیر خدا کے حکم کے ہم تمہارے پاس نہیں دیکھتے دکھلا نہیں سکتے اور ایمانداروں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسا کریں

ف 7 ۔ یعنی سند دیکھے سے ایمان نہیں آتا اللہ کے دئیے سے آتا ہے۔ (موضح) ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی (اللہ کی دین) ہے کسی آدمی کی ریاضت اور محنت سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ بعض فلاسفہ اور ان سے متاثر لوگوں کا خیال ہے، یا ” احسان کرنے “ کے یہ معنی ہیں کہ وہ تلاوتِ قرآں اور اس کے فہم کے جسے چاہے تو فیق دیتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ساعت اپنے بندوں پر احسان کرتا رہتا ہے۔ اور سب سے بڑا احسان اس کا یہ ہے کہ بندے کے دل میں اپنا ذکر الہام کردے۔ (قرطبی) ۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کو کیا ہوا جو ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں حالانکہ وہ ہم کو ہمارے ہدایت کے رستے بتاچکا اور تم نے جو ہم کو تکلیف دی ہے ہم کو جھوٹا بنایا طرح طرح سے ستایا، بیشک ہم اس پر صبر کئے رہیں گے اور بھروسا کرنے والوں کو اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے1

ف 1 ۔ یعنی اگر تم ہم سے دشمنی کرنے پر تلے ہوئے ہو تو ہمارا بھروسا اللہ تعالیٰ پر ہے۔ تمہارے مقابلے میں وہی ہماری حفاظت فرمائے گا۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور افروں نے اپنے پیغمبروں سے کہا ہم تم کو اپنے ملک سے ضرور نکال باہر کرینگے تو یا تو نکلنا گوارا کرو یا پھر ہمارے دین میں لوٹ آئو2 تب وہ پیغمبر اور ان کے ساتھی بہت پریشان ہوئے آخر وحی بھیجی کہ تم کیوں اندیشہ کرتے ہو ہم ان ظالموں کو برباد کریں گے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور تم کو ان کے بعد اس ملک میں بسائیں گے جو شخص میرے سامنے قیامت کے دن حساب کے لئے کھڑے ہونے سے مارے اور میرے عذاب کا خوف رکھے اس کو یہی انعام ملے گا

ف 2 ۔ ان کا یہ کہنا ان کے اپنے زعم کے مطابق ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہا انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے۔ بلکہ انہوں نے نبوت سے قبل انبیاء کے ان کے بتوں کی تردید سے خاموش رہنے کی بنا پر بطور خود یہ سمجھ لیا تھا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دین میں داخل ہوجائو۔ (دیکھئے اعراف آیات 88) ۔ یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (رازی) ۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور انہوں نے یعنی پیغمبروں نے اللہ سے فتح مانگی3 اور ایسا ہوا کہ ہر ایک گھمنڈ والا ضدی تباہ ہوا4

ف 3 ۔ یا فیصلہ چاہا ” استفتحوا “ کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں اور قرا ان کی مختلف آیات میں ان معنوں میں یہ استعمال ہوا ہے۔ مدد مانگنے کے معنی میں ہو تو اس سے مراد پیغمبر ﷺ ہیں اور فیصلہ چاہنے کے معنی ہیں ہو تو اس سے مراد کفار ہوں گے۔ (رازی) ۔ 4 ۔ یعنی پیغمبروں کا اللہ تعالیٰ کو پکارنا تھا کہ مدد آئی اور ان کے تمام دشمن تباہ و برباد ہوگئے۔ نہ وہ رہے اور نہ ان کا گھمنڈ۔ یہ تو ان کا دنیا میں حشر ہوا۔ (قرطبی) ۔
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اور آخرت میں اس کے سامنے5 جہنم ہے اور وہاں پیپ کا پانی اس کو پلایا جائے گا

ف 5 ۔ یا اس کے بعد یعنی اس کے ہلاک ہونے کے بعد جہنم ہے۔ (قرطبی) ۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

چس کے لے کر اس کو پئے گا6 اور پھر بھی گلے سے اتارنا مشکل ہوگا اور وہ سختی ہوگی گویا ہر طرف سے7 موت اس پر چلی آرہی ہے حالانکہ وہ مر نہیں سکتا8 اور اس عذاب کے سوا اس کے آگے یا پیچھے ایک اور سخت عذاب ہے9

ف 6 ۔ یعنی اسے آرام و سکون سے نہیں پئے گا جیسے پانی یا شربت پیا جاتا ہے بلکہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا کیونکہ وہ انتہائی کڑوا اور بدمزہ ہوگا۔ حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ اس آیت کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : وہ (پیپ کا پانی) اس کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے ناک بھوں چڑھائے گا جب وہ اس کے قریب دے گا اور جب وہ اسے پئے گا تو اس کی آنتیں کٹ کر پیچھے سے نکل پڑیں گی۔ (ترمذی۔ نسائی) ۔ 7 ۔ یا ہر عضو سے موت کا سماں محسوس ہوگا۔ (ابن کثیر) ۔ 8 ۔ کیونکہ وہاں موت ہوگی ہی نہیں، جو اگر آجائے تو راحت مل جائے۔ (وحیدی) ۔ 9 ۔ یعنی ایک عذاب ختم نہ ہوگا کہ اس سے بھی سخت دوسرا عذاب پہلے سے تیار ہوگا۔ (کذافی القرطبی) ۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے ملک خدا کو نہ مانا ان کے اعمال کا حال اس راکھ کی طرح ہے جس پر آندھی کے دن زور کی ہوا چلے10 وہ جو انہوں نے دنیا میں کیا اس میں کچھ آخرت میں نہ11 پائیں گے یہی لے سرے کی تباہی ہے

ف 10 ۔ تو جس طرح اس راکھ کو کوئی ذرہ ہاتھ میں آنا مشکل ہے اسی طرح کافروں کے نیک اعمال۔ خیرات وغیرہ۔ بیکا رہیں۔11 ۔ کیونکہ نہ ان کا خدا پر ایمان تھا اور نہ انہوں نے اپنے اعمال سے آخرت چاہی تھی۔
Ayah 14:19

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ بنایا ہے1 وہ اگر چاہے تو ابھی تم کو میٹ دے اور نئی خلقت لا کر بسائے اور

ف 1 ۔ یعنی اس صحیح اندازے کے مطابق جس کے مطابق اسے ہونا چاہیے تھا اور جو اپنے خالق کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ (شوکانی) ۔
Ayah 14:20

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کو یہ کچھ مشکل نہیں ہے2

ف 2 ۔ اس کے لئے کوئی چیز شکل نہیں ہے۔ وہ چاہے تو ایسے کروڑوں عالم دم بھر میں مٹا کر نئے پیدا کردے۔ (وحیدی) ۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور قیامت کے دن سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے تو جو دنیا میں کمزور و غریب تھے وہ بڑے آدمیوں سے کہیں گے مرید اپنے مرشدوں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابعدار2 تھے تو کیا خدا کے عذاب سے تم اس وقت کچھ ہمارے کام آسکتے ہو اس کے عذاب کو کچھ ہٹا سکتے ہو وہ کہیں گے اگر اللہ ہم کو دنیا میں راہ پر لگاتا و ایمان کی توفیق دیتا تو ہم بھی تم کو سیدھی راہ بتاتے4 اب خواہ ہم روئیں پیٹیں خواہ صبر کریں دونوں برابر عذاب سے ہم چھٹ نہیں سکتے

ف 3 ۔ تمہارے کہنے پر چلتے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اللہ سے کفر کیا۔ 4 ۔ ہم تو خود گمراہ رہے تمہیں سیدھی راہ کیسے لگاتے۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور5 اور جب لوگوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا بیشک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا8 اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھا9 وہ تو خلاف کیا تھا10 اور میرا کیا کچھ تم پر زور تھا11 مگر یہی کہ میں نے تم کو گمراہی کی طرف بلایا تم نے میرا کہا مان لیا اور حق تعالیٰ کا فرمان نہ سنا تو مجھ کو الزام نہ دو اپنے کو آپ الزام12 دو (خود تم نے بیوقوفی کی کہ میرا کہا مانا میں تمہاری فریاد کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے13 ہو تم جو اس سے پہلے یعنی دنیا میں مجھ کو خدا کا شریک بناتے14 تھے اب میں اس کا انکار کرتا ہوں بیشک نافرمانوں کو تکلیف کا عذاب ہوگا نہ تم نہ وہ عذاب سے بچ سکتے ہو نہ میں بچ سکتا ہوں

ف 5 ۔ حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، دوزخی پہلے رونے پیٹنے کی صلاح کریں گے چناچہ وہ پانچ سو برس تک خوب روئیں پیٹیں گے لیکن جب دیکھیں گے کہ کوئی فائدہ نہیں ہوا تو صبر کرنے کی صلاح کریں گے چناچہ پانچ سو برس تک صبر کئے رہیں گے۔ پھر جب دیکھیں گے کہ اس سے بھئی کوئی فائدہ نہیں ہوا تو کہیں گے۔ سواء علینا اجر عنا اور صبرنا مالنا من محیص۔ (قرطبی) ۔ 6 ۔ ان لوگوں کو جو اسے الزام دیں گے کہ تو ہی نے ہمیں آف میں پھنسایا۔ حسن (رح) سے مروی ہے کہ ابلیس قیامت کے دن جہنم میں آگے کے منبر پر کھڑا ہو کر یہ اعلان کرے گا اور تمام مخلوقات سن رہی ہوگی۔ (قرطبی) ۔ 7 ۔ یعنی دوزخی دوزخ میں اور جتنی جنت میں جا چکے ہوں گے۔ (دیکھئے سورة مریم آیت 92) ۔ 8 ۔ کہ آخرت آئے گی اور اس میں حساب کتاب ہوگا اور پھر نیک لوگوں کو نیک اور برے لوگوں کو برا بدلے ملے گا۔ (قرطبی) ۔ 9 ۔ کہ آخرت و اُخرت کوئی چیز نہیں ہے اور نہ کوئی حساب و جزا ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے، چند روز زندہ رہ کر فنا ہوجانا ہے اس لئے جتنا عیش کرنا ہے یہیں جی بھر کے کرلو۔ (وحیدی) ۔ 10 ۔ یعنی وہ تو محض فریب کاری تھی جس کے پورا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک روایت میں ہے کہ ابلیس ؓ بلند آواز سے یہ پکارے گا اور اس کی مجلس عفونت سے لبریز ہوگی (قرطبی) ۔ 11 ۔ کہ میں نے تمہیں زبردستی کفر وشرک کے راستے پر لگا دیا ہو۔ 12 ۔ کہ بلا دلیل ہی میرے پیچھے چلتے رہے۔ ایسے لوگوں کو بھی غور کرنا چاہیے جن کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت کی دلیل ہوتے ہوئے اس کے خلاف دوسری شخصیتوں کے اقوال و آراء کی پیروی کرتے ہیں کیا وہ بھی تو اس باطل کی پیروی نہیں کر رہے ہیں جس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے۔ اللھم غفرا۔ (شوکانی) ۔ 13 ۔ اب نہ میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں اور نہ تم میرے کسی کام آسکتے ہو۔ (شوکانی) ۔ 14 ۔ ظاہر ہے کہ شیطان کو اللہ کا شریک بنانا یہ نہیں ہے کہ اسے سجدہ کیا جائے اور معبود سمجھا جائے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اسی کے طور طریق اختیار کئے جائیں۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ بہشت کے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے تلے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی وہ اپنے مالک کے حکم سے ان میں ہمیشہ رہیں گے15 ملاقات ان کی وہاں سلام ہوگی16

ف 15 ۔ یعنی اس کی توفیق اور مہربانی سے۔ 16 ۔ یعنی آپس میں ملتے وقت السلام علیکم کہیں گے یا فرشتے ان سے سلام علیکم کہیں گے۔ یعنی ” تم پر سلامتی ہو “۔ اس میں مبارک باد کا مفہوم بھی ہے اور دعا کا بھی۔ (کذافی الوحیدی) ۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تو نے اس پر خیال نہیں کیا اللہ نے کلمہ طیبہ (اچھی بات) کی مثال کیسی بیان کی ایک پاکیزہ درخت کی سی جن کی جڑ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں یعنی اوپر کی طرف1

ف 1 ۔ ” کلمہ طیبہ “ (اچھی بات) سے مراد لا الہ اللہ اللہ ہے یا تسبیح وتحمید یا ہر اچھی بات ہے۔ (شوکانی) ۔
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے مالک کے حکم سے ہر موسم پر میوہ دیتا ہے2 اور اللہ تعالیٰ لوگوں سے مثالیں اس لئے بیان کرتا ہے کہ وہ سوچیں سمجھیں

ف 2 ۔ اس طرح کلمہ طیبہ بھی مومن کو ہر آن بہشت کے میوے کھلائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اس درکت کے پتے نہیں گرتے اسی طرح مومن کی دعا بھی ضائع نہیں جاتی۔ (قرطبی) ۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور کلمہ خبیثہ کی (ناپاک گندی بات شرک اور کفر کی) مثال اس چند درخت بی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جاتا ہے اس کا جمائو ہی نہیں3

ف 3 ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں اس درخت سے مراد حنظلہ (اندرائن) ہے۔ (ترمذی) ۔ یہی حال شرک و کفر کا ہے جس کی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے نہ دل پر اس کا اثر ہوتا ہے نہ اس سے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی عمل قبول ہوتا ہے۔ بودی اتنی ہوتی ہے کہ ذرا سے غور و فکر سے اس کا بےحقیقت ہونا واضح ہوجاتا ہے۔ (کذافی الوحیدی) ۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

جو لوگ ایماندار ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ٹھیک بات یعنی کلمہ شہادت پر دنیا کی زندگی میں قائم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی4 اور بدکاروں (کافروں) کو خدا تعالیٰ بھٹکا دیتا ہے5 اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ چوں و چرا کرے)

ف 4 ۔ یعنی دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں کلمہ شہادت اور عقیدہ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے بعض مفسرین (رح) نے ” دنیا کی زندگی “ سے مراد قبر کا اور آخرت سے مراد قیامت کے دن کا حساب لیا ہے یعنی قبر میں جب مومن سے عقیدہ توحید اور دین کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو وہ بدوں کسی تردد کے نہایت یقین اور پختگی سے جواب دیتا ہے اور کافر و منافق کی طرح ھالا ادری (افسوس میں نہیں جانتا) نہیں کہتا۔ قبر میں منکر و نکیر (فرشتوں) کا آنا، ان کا مردوہ سے اس کے عقیدہ کے بارے میں سوال کرنا اور اس موقع پر مومن کا ” عقیدہ توحید “ پر ثابت قدم رہنا صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً براء ؓ بن عازب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ یہی مراد ہے اس آیت : ویثبت اللہ الخ سے۔ (صحین) تنبیہ۔ امام سیوطی (رح) نے شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور “ میں یہ سب حدیثیں جمع کی ہیں۔ 5 ۔ وہ قبر میں اور آخرت کے روز فرشتوں کے سوالات کا صحیح جواب نہیں دے سکیں گے بلکہ ہائے وائے کرتے رہیں گے۔ یہ مضمون بھی متعدد احادیث سے ثابت ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : قبر میں جو کوئی مضبوط بات کہے گا ٹھکانا ٹھیک پاویگا، اور جو بچلی (غلط) بات کرے گا خراب ہوگا۔ (موضح) ۔
Ayahs 14:28–29

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا وہ ان کے حال پر نظر نہیں کی جنہوں نے اللہ کے احسان کے بدل ناشکری کی اور نتیجہ یہ ہوا کہ6 اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں نے جاتا رہا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

اور وہ تباہی کا گھر کیا ہے جہنم اس میں اتریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

ف 6 ۔ ان سے مراد کفار و مشرکین کے سردار ہیں۔ خصوصاً رؤسائے قریش، جن پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ ان کی رہنمائی کے لئے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا، قرآن اتارا اور انہیں سارے عرب میں سرداری عطا کی مگر انہوں نے اس احسان کا بدلہ یہ دیا کہ ناشکری پر کمربستہ ہوگئے، آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا اور آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اس طرح دوسروں کے لئے بھی رکاوٹ بن گئے اور ان کو ہلاکت کے گڑھے میں لاڈالا۔ من جملہ اس کہے یوم بدر کا عذاب بھی ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) ۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی ٹھہرے7 اس لئے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سچے رستے توحید سے بھٹکا دیں (اے پیغمبر) کہ دے چند روز دنیا کے مزے اٹھا لو پھر تو تم کو دوزخ میں8 میں ہی جانا ہے

ف 7 ۔ ان کو پوجا کرنے لگے اور دکھ درد میں انہیں پکارنے لگے۔ 8 ۔ یعنی اچھا ! اگر تم باز نہیں آتے تو چند روز دنیا کے مزے اڑالو مگر کب تک ؟ آخر کار تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا ہے۔ یہ ڈرانے اور متنبہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر) میرے ایماندار بندوں سے کہہ دے نماز کو درستی سے ادا کرتے رہیں اور جو دنیا کا مال و اسباب ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پیچھے اور کھلے خرچ کرتے رہیں اس دن کے آنے سے پہلے جس دن نہ بیوپار ہوگا نہ دوستی9

ف 9 ۔ مراد ہے قیامت کا دن، جس میں نیک اعمال خریدے جاسکیں گے نہ کسی کی دوستی اور محبت کام آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا سکے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی نیک عمل بکتے نہیں اور کوئی دوستی سے رعایت نہیں کرتا۔
Ayah 14:32

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ1 جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی برسایا پھر تمہارے کھانے کے لئے اس پانی سے میوے نکالے اور کشتیوں کو تمہارے اختیار میں دیا کہ اس کے حکم سے سمندر میں چلیں اور ندیاں تمہارے اختیار میں دیں2

ف 1 ۔ یعنی وہ اللہ جس کی ناشکری پر تم کمربستہ ہو، جس کی اطاعت اور بندگی سے روگردانی کر رہے ہو اور جس کے ساتھ بلا دلیل شرک بنا رہے ہو اس کے احسانات پر غور کرو۔ وہ تو وہ ذات ہے… 2 ۔ تم ان سے اپنی کھیتیاں سیراب کرتے ہو اور ان میں جہاز اور کشتیاں چلاتے ہو۔
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگایا وہ دونوں اپنے دستور پر چل رہے ہیں3

ف 3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لئے جو نظام اور ضابطہ مقرر کردیا ہے اس پر لگاتار چلے جا رہے ہیں نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی یا زیادتی ہوتی ہے۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور رات اور دن کو بھی تمہارے4 کام میں لگایا اور جو تم نے اس خدا سے مانگا وہ سب اس نے تم کو دیا5 اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گنو تو پورا گن نہ سکو گے6 بیشک آدمی بڑا بےوفا یا بڑا بےانصاف بڑا ناشکرا ہے7

ف 4 ۔ دن کو کام کام کرتے ہو اور رات کو سوتے اور آرام کرتے ہو۔ 5 ۔ یعنی اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے تمہیں جن اسباب و وسائل کی ضرورت تھی اور جو تمہارے تقاضے تھے وہ سب اس نے فراہم کردئیے۔ 6 ۔ یعنی اجمالی طور پر بھی گن نہیں سکو گے چہ جائیکہ تفصیلی طور پر ان کا احصاء ہوسکے تو سوچو تم اس کا شکر کیونکہ ادا کرسکتے ہو۔ (شوکانی) 7 ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں اور ہر آن ہوتے رہتے ہیں مگر وہ ہے کہ ذرا سی تکلیف پہنچتی ہے تو ناشکری پر اتر آتا ہے۔ ظلوم سے یہی مراد ہے۔ (از وحیدی) ۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور اے مکہ کے کافرو وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے8 دعا کی مالک میرے اس شہر کو یعنی مکہ کو امن کی جگہ کر دے اور مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بتوں کی پوجا سے بچا رکھ

ف 8 ۔ عام احساناتن کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کا ان کے جدِ اعلیٰ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کن تمنائوں کے ساتھ تمہیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اپنے اور بیٹوں کے لئے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی۔ مگر آج تم ان تمام احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو پہنا دین قرار دے لیا۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

مالک میرے ان بتوں نے بیشک بہت آدمیوں کو گمراہ کردیا ہے9 تو جو میری راہ پر توحید پر چلے وہ میرا ہے اور جو کوئی میرا کہا نہ مانے اور شرک کرے تو تو بخشنے والا مہربان ہے10

ف 9 ۔ یعنی تیری سیدھی راہ سے پھیر دیا۔ بت چونکہ بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے اس لئے مجازی طور پر گمراہ کرنے کے فعل کو ان کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔ اس جملہ میں دعا کی علت کی طرف اشارہ ہے۔ (شوکانی) ۔ 01 ۔ شاید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا اس وقت کی جب انہیں مشرک کے لئے استغفار کرنے کا حکم معلوم نہ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ شاید دوسرے گناہ مراد ہیں۔ یا ” تو بخشنے والا مہربان ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ ” تو اسے توبہ کی توفیق دینے والا ہے۔ “ (شوکانی) ۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

مالک ہمارے میں نے اپنی کچھ اولاد یعنی اسمعیل کو ایک ایسے میدان میں لا کر بسایا جس میں کھیتی نہیں ہوتی وہاں کی زمین ریتلی اور شور ہے تیرے ادب والے گھر کے پاس11 مالک ہمارے یہاں میں نے ان کو اس لئے بسایا کہ وہتیرے گھر کے پاس نماز کو درستی سے ادا کریں تو ان کی گذر کے لئے ایسا کر دے کہ کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھک جائیں12 اور ان کو طرح طرح کے میرے کھلا تاکہ وہ شکر کریں1

ف 11 ۔ یعنی خانہ کعبہ کے پاس۔ یہ دعا خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد کی ہے جیسا کہ دعا کے الفاط سے معلوم ہوتا ہے۔ یا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے وحی کے اشارہ سے وہاں حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کو بسایا ہو کہ یہاں کعبہ تعمیر ہوگا اور اس بنا پر دعا میں یہ الفاط کہدئے ہوں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ۔ 12 ۔ وہ تیرے اس گھر کا حج اور عمرہ کرنے کے لئے اس کی طرف کشاں کشاں آنے لگیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ” افئدۃ من الناس “ کہا کہ کچھ لوگوں کے دل اس طرف جھک جائیں اور اگر افئدۃ الناس۔ (لوگوں کے دل) کہتے تو ایرانی، رومی الغرض سب لوگ لپکے پڑتے اور مکہ میں جگہ نہ ملتی۔ (ابن کثیر) ۔ 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی، چناچہ ہر سال دنیا بھر کے لاکھوں آدمی مکہ معظمہ کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔ پھر یہ بھی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اس دعا کی برکت ہے کہ ہر زمانے میں طرح طرح کے پھل اور غلے وہاں پہنچتے رہتے ہیں حالانکہ خود وہاں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی۔ اس میں اشارہ ہے کہ مومن کو چاہیے کہ اسبابِ دنیا کے حصول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عبادتِ الٰہی کو اپنا مفصد بنائے۔ (رازی) ۔
Ayah 14:38

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

مالک ہمارے تو جانتا ہے جو ہم اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں اور جو ہم کھولتے ہیں2 اور اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز چھپی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں

ف 2 ۔ یعنی جو کچھ ہم زبان سے ادا کرتے ہیں اسے بھی تو سنتا ہے اور جو خیالات و جذبات ہم زبان سے ادا نہیں کرتے یا نہیں کرسکتے بلکہ ہمارے دل کہ گہرائیوں میں مستور ہیں ان سے بھی تو خوف واقف ہے ہوسکتا ہے کہ ظاہر میں سب اولاد کے لئے دعا کی ہو اور دل میں داعیہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے لئے دعا کا ہو۔ (از کذافی الموضح) ۔
Ayah 14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

شکر اس خدا کا جس نے بڑھاپے میں مجھ کو اسماعیل اور اسحاق دو بیٹے عنایت فرمائے بیشک میرا مالک (اپنے بندوں کی) دعا سنتا ہے قبول کرتا ہے3

ف 3 ۔ یعنی بڑھاپے کے عالم میں ہاجرہ کے بطن سے اسماعیل ( علیہ السلام) اور سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) غیر متوقع طور پر عنایت فرمائے۔ اب جس طرح میری پہلی دعا : رب ھب لی من الصالحین۔ “ ( اے میرے پروردگار مجھے نیک اولاد عنایت فرما) قبول فرمائی ہے اسی طرح میری یہ دعا بھی قبول فرما۔ ہوسکتا ہے کہ میری معت کے بعد ان دونوں اور ان کی اولاد ی اعانت فرماتا رہے اسی طرح الحمد اللہ “۔ کی پہلی دعا سے مناسبت بھی ظاہر ہوجاتی ہے۔ (رازی) ۔
Ayah 14:40

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

مالک میرے مجھ کو نماز کا پابند کر دے4 اور میری اولاد میں سے بھی کچھ5 لوگوں کو مالک ہمارے میری عبادت قبول کر6

ف 4 ۔ یعنی مجھے یہ توفیق دے کہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور آداب کے ساتھ اس کے اوقات پر پابندی سے ادا کرتا رہوں۔ 5 ۔ اسی طرح نماز کا پابند بنا۔ 6 ۔ یا میری پوری دعا جو میں نے تجھ سے مانگی ہے، قبول فرمایا۔