13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ آیتیں ہیں قرآن کی یا سورت کی اور تیرے مالک کی رف سے جو تجھ پر اترا وہ حق ہے سر تا پاسج ہے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے2

ف 2 ۔ یعنی نظر و تامل نہ کرنے کی وجہ سے اس کی حقانیت پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ بطور وصف فرمایا ہے نہ کہ بطور خبر۔ (روح)
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہ قدرت والا ہے جس نے آسمانوں کو بےسہارے اونچا کھڑا کیا تم دیکھ رہے ہو3 پھر عرش کے چڑھا اور چاند اور سورج کو کام پر لگایا ہر ایک ٹھہری مدت تک چل را ہے4 سارے جہان کا انتظام کرتا ہے اپنی قدرت کی نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے اس لئے کہ تم کو اپنے مالک سے ملنے کیا قین ہو5

ف 3 ۔ یعنی تم ان آسمانوں کو دیکھ رہے ہو کہ ان میں کوئی ستون نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مھض اپنی قدرت اور امر سے انہیں تھام رکھا ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : ویمسک السماء ان نفع علی ا الرض الا باذنہ۔ اور وہ آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے روکے ہوئے ہیں مگر اس کی اجازت سے۔ (حج :56) اس صورت میں ” ترونھا “ میں ھا ضمیر کا مرجع سمٰوٰت ہوں گے اور یہ جملہ مستانفہ ہوگا یا حال مقدرہ۔ اور اگر اسے عمد (ستونوں) کے لئے قرار دیا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا “ بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظرآئیں “۔ مطلب یہ ہے کہ ستون تو ہیں مگر تمہیں نظر نہیں آتے علمائے تفسیر نے آیت کے دونوں مفہوم بیان کئے ہیں واللہ اعلم (ابن کثیر۔ روح) ۔ 4 ۔ یعنی قیامت تک یا اپنا دورہ مکمل کرنے تک واضح رہے کہ سورج اپنا دورہ ایک سال میں اور چاند ایک ماہ میں پورا کرتا ہے۔ قرآن نے جن حقائق کو ضمنی طور پر ذکر کیا ہے موجودہ سائنسی تحقیقات پر ان کو نہیں پرکھ سکتے۔ سائنسی نظریات میں تو آئے دن تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور قرآن و صحیح حدیث میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ غیر متبدل اور لاریب فیہ ہے۔ 5 ۔ یعنی تم یہ سمجھ لو کہ جس خدا نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو پیدا کیا، اس کے لئے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور اسی خدا نے زمین کو پھیلایا اور اس میں تھامنے والے پہاڑ اور دریا بنائے6 دریا اکثر پہاڑوں سے نکلتے ہیں اور ہر قسم کے میووں اور پھلوں کا ایک ایک جوڑ دو دو7 کا (یعنی ایک نر ایک مادہ) اس میں پیدا کیا رات سے8 دن کو چھپا لیتا ہے بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں میں (خدا کی قدرت کی) جو سونچتے بچاتے ہیں9

ف 6 ۔ اوپر عالم علوی کا تذکرہ فرمایا۔ اب یہاں عالم سفلی میں اپنی قدرت و حکمت کے دلائل بیان فرمائے (ابن کثیر) ۔ دریائوں کے بننے اور بہنے کا سبب پہاڑ ہی ہیں اس لئے دونوں کا ایک ساتھ ذکر فرمادیا۔ (روح) ۔ 7 ۔ جیسا کہ نباتات سے متعلق جدید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ ہر قسم کے درختوں میں نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ یوں جوڑ بااعتبار کم و کیف اور طعم و لون بھی مراد ہوسکتا ہے مثلا گرم و سرد، چھوٹا و بڑا سیاہ وسفید کٹھا و میٹھا وغیرہ ذالک۔ (روح) ۔ 8 ۔ یعنی ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ زمان و مکان پر ہر قسم کا تصرف اللہ تعالیٰ کے قبضۃ قدرت میں ہے۔ 9 ۔ موضح میں ہے۔ رنگا رنگ چیزیں بنانا نشان ہے کہ اپنی خوشی سے بنایا۔ اگر ہر چیز خاصیت سیہوتی تو ایک سی ہوتی۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں قرآن میں جہاں عالم فسلی کے دلائل ذکر فرمائے ہیں۔ اس کے آخر میں ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون۔ یا اس کے ہم معنی جملہ لایا گیا ہے جس سے اشارہ ہے کہ ان چیزوں پر غور و فکر سے نتیجہ نکل سکتا ہے کہ یہ ا اختلاف طبعی اسباب کے تحت نہیں ہے۔ (کبیر) ۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور خود زمین میں طرح طرح کے ٹکڑے ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ ہیں اور کھیت میں اور کھجور کے درخت دو شاخے (اور جڑ ایک) اور الگ الگ جڑ والے سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور10 باجود اس کے ہم مزے میں ایک دوسرے سے بڑھاتے ہیں11 بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے خدا کی قدرت کی نشانیاں ہیں12 جو عقل رکھتے ہیں

ف 10 ۔ یعنی وہ پانی تاثیر کے اعتبار سے ایک ہی قسم کا ہے۔ 11 ۔ معلوم ہوا کوئی صانع حکیم اور قادر مدبر ہے جس کے تصر سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ قرآن نے ان دلائل کا ذکر مختل مقامات پر کیا ہے۔ (از روح) ۔ 12 ۔ یعنی جو عقل سے کام لیتے ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کے لئے کوئی نشانی نہیں ہے۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر تو تعجب کرے13 تو کافروں کا یہ کہنا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے کہ جب ہم گل سڑک کر خاک ہوجائیں گے تو کیا پھر ہم نے سرے سے پیدا ہوں گے1 یہی لوگ میں جنہوں نے اپنے مالک کی قدرت کو2 مانا اور یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق پڑیں گے3 اور یہی لوگ دوزخی ہیں وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

ف 13 ۔ کہ ان کافروں نے اتنی نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود آپ ﷺ کو جھٹلایا۔ (روح) ۔ 1 ۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو معمولی علم اور معمولی عقل رکھتا ہے باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے مشکل ہے اور یہ کہ جس خدا نے انسانوں کو پہلی بار پیدا کیا اس کے لئے انہیں دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 2 ۔ یعنی جب انہوں نے آخرت سے انکار کیا تو تو یا خدا کی قدرت سے انکار کی اور یہ کہا کہ خدا اتنا عاجز اور درماندہ ہے کہ انہیں دوبارہ پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ (العیاذ باللہ) ۔ 3 ۔ جیسے قیدیوں اور مجرموں کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے آگے ہی برائی کی جلدی مچاتے ہیں4 حالانکہ ان سے پہلے دوسرے کافروں پر کئی بلائیں گزر چکی ہیں5 اور بیشک تیرا مالک لوگوں سے درگزر کرتا رہتا ہے وہ گناہ کئے جاتے ہیں اور سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا اور اس میں بھی شک نہیں کہ تیرے مالک کا عذاب6 جب وہ اترتا ہے تو بہت سخت ہوتا ہے

ف 4 ۔ یعنی استہذا اور تکذیب کے طور پر کہتے ہیں کہ اس تندرستی اور عافیت کی بجائے عذاب اور بلا کیوں نہیں نازل ہوتی۔ مشرکین کے اس قسم کے مطالبے کا قرآن نے متعدد آیات میں ذکر کیا ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 5 ۔ جن میں انے لئے عبرت کا کافی سامان موجود ہے۔ موضح میں ہے کہ پہلے ہوچکی ہیں کہاوتیں یعنی عذاب ویسے کہ ان کی کہاوتیں چلی ہیں۔ 6 ۔ معلوم ہوا کہ اسلامتی اور امن کی راہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید بھی رکھے اور اسکے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ سعید ؓ بن المسیب سے ایک (مرسل) روایت میں ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ کا عفو و درگزر نہ ہو تو کسی شخص کی زندگی خوشگوار نہ ہو اور اگر اس کے عذاب کا ڈر نہ ہو تو ہر شخص بےکھٹکے گناہ کرے۔ (روح) ۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر یہ بھی کہتے ہیں اگر یہ سچا پیغمبر ہوتا تو اس پر اس کے مالک کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری7 تو تو اے پیغمبر صرف خدا کے عذاب سے ڈرانے والا ہے8 اور ہر قوم کو ایک راہ بتانے والا گزر چکا ہے

ف 7 ۔ جسے دیکھ کر ہمیں پتلا چل جاتا کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ 8 ۔ ی سے خلفاء اربعہ ؓ اور سلف (رح) کہ اس امت کے بادی ہو گزرے ہیں۔ مستدرک حاکم میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں منذر ہوں اور تو ہادی ہے۔ “ مگر یہ روعایت صحیح نہیں ہے پھر خلافت بلافصل پر اس سے استدلال بھی غلط ہے۔ کما لا یخفی (روح) ۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہر مادہ جو اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے اور پیٹ جو گھٹتے بڑھتے ہیں9 اور اس نے ہر چیز کا اندازہ باندھ رکھا ہے10

ف 9 ۔ یعنی حمل قرار پانے سے لے کر زمانہ ولادت تک کا خدا کو علم ہے اور یہ علم ” مافی الارھام “ خاص طور پر صفاتِ الیہ میں سے ہے۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : گیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ کسی کو علم نہیں ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے اور رحم (پیٹ) یا کم کرتے ہیں اور کیا زیادہ۔ بارش کب ہوگی۔ انسان کہاں مرے گا اور یہ کہ قیامت کب آئے گی۔ (بخاری) ۔ 10 ۔ یعنی وہی جانتا ہے کہ کون سی چیز کیسی اور کتنی ہوگی اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

چھپی اور کھلی دونوں طرح کی چیزوں کو جانتا ہے اور وہ سب سے بڑا ہے بلند11

ف 11 ۔ ہر چیز پر اپنے علم سے احاطہ کئے ہوئے ہے (ابن کثیر) ۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں جو کوئی چپکے سے بات کہے اور جو پکار کر کہے دونوں اس کے نزدیک) برابر وہ ہر ایک بات سن لیتا ہے اور اسی طرح جو کوئی اندھیری رات میں چھپ رہا12 ہو اور جو دن دہائی کھلا پھرتا ہے

ف 12 ۔ یہ سب اس کے علم میں برابر ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

آدمی کے ساتھ آگے اور پیچھے باری باری سے فرشتے لگے رہتے ہیں جو خدا کے حکم سے اس کو بچاتے ہیں13 بیشک خدا کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا یا کسی قوم پر سے اپنی نعمت اٹھا نہیں لیتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں14 اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو تباہ کرنا چاہے تو کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا اور اللہ کے سوا کوئی ان کا والی نہیں جو تباہی سے ان کو بجائے (ف 1)

ف 13 ۔ یعنی خدا نے حکم کی بنا پر اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ دو فرشتے دائیں بائیں اس کے نیک اور بد اعمال کا ریکارد جو انسان کی حفاظت و نگرانی پر مقرر ہیں۔ ان میں سے ایک اس کے آگے اور ایک اس کے پیچھے رہتا ہے۔ گویا کہ وہ ہر آن چار فرشتوں کے درمیان رہتا ہے۔ دن کے فرشتے اور ہوتے ہیں اور رات کے اور۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ان فرشتوں کی باری صبح اور عصر کے وقت تبدیل ہوتی ہے۔ اس حقیقت کے اظہار سے مقصد یہ ہے کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور حفاظت میں رہتا ہے اور اس کی کوئی حرکت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ 14 ۔ یعنی جب تک نیکی کی بجائے برائی اور اطاعت کی بجائے نافرمانی نہ کرنے لگیں البتہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمت چھین لیتا ہے اور ان پر اپنا عذاب نارمل کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں قوموں کی تباہی کا قانون بیان کیا گیا ہے افراد کا نہیں۔ کسی قوم کی چھپی یابری حالت کا تعین اس لحاظ سے کیا جائے گا کہ آیا اس میں اچھے لوگوں کا غلبہ ہے یا برے لوگوں کو ؟ رہے افراد تو یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک شخص گناہ کرے تبھی اس پر عذاب نازل ہو بلکہ ایک بےگناہ شخص دوسروں کے گناہ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ صحابہ ؓ نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہم نیک لوگوں کے رہنے کے باوجود ہلاک ہوسکتے ہیں۔ فرمایا :” ہاں جب برائی بہت ہوجائے۔ (از فتح تقدیر) ۔ 1 ۔ چاہے وہ کوئی پیر ہو یا بزرگ یا بت یا جن یا فرشتہ۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی خدا ہے جو تم کو بجلی کی چمکدکھلاتا ہے ڈرانے (کہیں ایسا نہ ہو زمین پر گرے) اور امید دلانے کو شاید (پانی سے بھرے ہوئے) بادلوں کو پیدا کرتا ہے۔ (ف 2)

ف 2 ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایسے نشان بیان فرمائے ہیں جو بیک وقت امید و ہم کے حامل ہیں جو رحمت کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں اور موجبِ زحمت بھی۔ مثلاً جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی۔ مگر ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں تباہی کا موجب نہ بن جائے۔ بادل دیکھ کر بارا رحمت کی امید بندھ جاتی ہے مگر ساتھ ہی یہ اندیشہ بھی دامنگیر رہتا ہے کہ کہیں سیلاب نہ آجائے پس انسان کو چاہیے کہ اللہ کی رحمت کا امیدوار رہے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا ہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور گرج و کڑک) اس کی تعریف کی تسبیح پڑھتی ہے۔ (ف 3) اور فرشتے بھی ڈر کے مارے (اس کی تسبیح پڑھتے ہیں) اور (وہی خدا) کڑاکے بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان کو گراتا ہے اور وہ (کافر) اللہ کے مقدمے میں جھگڑتے ہیں۔4 حالانکہ اللہ کی پکڑ (بہت) سخت ہے۔5۔

ف 3 ۔ یعنی اپنی زبان حال، یا قال سے اس کی تسبیح پڑھتی ہے جیسا کہ سورة اسراء (آیت 44) میں ہے : وان من شئی الا یسبح بحمدہ۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جو حمد سمیت اس کی تسبیح بیان نہ کرتی ہو۔ روایات میں آیا ہے کہ گرج کی آواز سن کر ” یسبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خیفتہ “ پڑھنا چاہیے۔ (ابن کثیر) ۔ 4 ۔ یعنی اتنا نشانیاں دیکھنے کے باوجود اللہ کی بارے میں جھگڑتے ہیں۔ کبھی اس کے کمال علم وقدرت اور تفر و بالالوہیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زندہ کیسے کرے گا۔ اور کبھی اس کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور کبھی اس کے عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ (روح) 5 ۔ یا اس کی چال بڑی زبردست ہے جس کا توڑ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کی (پکار) بھی پکار ہے۔6) اور جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں (بت اوتار اولیا وغیرہ) وہ ان کا کچھ کام نہیں نکال سکتے مگر ایسا ہی (نکال سکتے ہیں) جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے اور اس کے سامنے گڑگڑائے تاکہ پانی اس کی دعا سن کر اور اس کے گرگڑانے پر رحم کرکے خود کرو، اس کے منہ تک پہنچ جائے7 حالانکہ پانی (ایسا کرنے سے) کبھی اس کے منہ تک آنے والا نہیں اور کافروں (مشرکوں) کا پکارنا عبادت یا دعا کرنا محض لغو ہے

ف 6 ۔ یعنی اپنی حاجتیں اور مرادیں پوری کرانے کے لئے اسی کو پکارنا برحق ہے۔ کیونکہ وہ ہر ایک کی سنتا اور اسے پورا کرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ 7 ۔ جس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : کافر جن کو پکارتے ہیں۔ بعض خیال ہیں اور بعض جن ہیں اور بعض چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں لیکن اپنے خواص کے مالک نہیں پھر کیا حاسل ان کا پکارنا ؟ جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں یہ اس کی مثال فرمائی۔ (موضح) ۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور صبح اور شام اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں (یعنی درحقیقت اس کے اختیار میں ہیں، جو آسمان میں ہیں (یعنی فرشتے اور زمین میں ( یعنی آدمی اور جن خوشی سے اور زور سے8 اور ان کے سائے (پرچھائیاں) بھی9،

ف 8 ۔ مومن خوشی سے اور کافر و منافق زور سے یعنی مجبوراً ۔ 9 ۔ یعنی ان کے سایوں کو گھٹنا بڑھنا بھی اسی کے ارادہ اور مشیت سے ہے۔ صبح و شامل کا ذکر اس لئے کیا ان وقتوں میں زمین پر ہر چیز کا سایہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور عبادت کے لحاظ سے یہ دونوں عمدہ وقت ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : صبح اور شام کے وقت پر چھائیں زمین پر پسر جاتی ہیں یہی ان کا سجدہ ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

اے پیغمبران لوگوں سے پوچھ آسمان اور زمین کا مالک کون ہے (وہ کیا جواب دیں گے تو خود ہی کہہ دے اللہ ہے اور کون، کہہ دے پھر کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا مالک بنا لیا جو اپنی ذات کے نفع اور نقصان کا (بھی) اختیار نہیں رکھتے (تو تمہارے نفع نقصان کا ان کو کیا اختیار ہوگا) کہہ دے کیا اندھا اور اکھیارا برابر اور مومن اور کافر برابر یا قدرت والا سچا خدا اور یہ جھوٹے خدا برابر) کیا اندھیرا اور اجالا برابر ( کفر اور ایمان برابر) کیا ان کافروں نے ان لوگوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا ہے جنہوں نے خدا کی طرح کچھ پیدا کیا ہے10 اور اس پیدائش سے ان کو شبہ پُر گیا کہہ دے اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ اکیلا ہے (اس کا کوئی شریک نہیں، زبردست1

ف 10 یعنی اگر ایسا ہوتا کہ دنیا میں کچھ چیزیں تو اللہ نے پیدا کی ہوتیں اور کچھ دوسروں نے تب تو ان مشرکوں کے شرک کی کوئی بنیاد ہوسکتی تھی کہ یہ خالق ہونے کی وجہ سے مستحق عبادت ہیں۔ مگر جب یہ خود مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ اور صرف اللہ ہی تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک قرار دیں۔ (وحیدی) ۔ 1 ۔ سب پر غالب ہے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے2۔ پھر پھولا ہوا جھاگ بھیانے (پانی کے ریلے نے) اپنے اوپر اٹھا لیا3 اور جن چیزوں کو زیور یا دوسرے سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں ( مثلاً سونا چاندی تانبا پیتل وغیرہ) ان میں بھی پانی کی جھاگ کی طرح چھین (کھوٹ) نکلتا ہے4، اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے تو پھین (جو باطل کی طرح ہے) وہ سوکھ سکھا کر مٹ جاتا ہے (یا بہ بہبا کرمٹ جاتا ہے) اور جو لوگوں کے کام آتا ہے (صاف پانی یا خالص دھاتی زمین میں قائم رہتا ہے5 اللہ تعالیٰ (لوگوں کو سمجھانے کے لئے) ایسی ہی مثالیں بیان فرماتا ہے6

ف 2 ۔ یعنی جو نالہ جتنا بڑا تھا اتنا ہی اس میں زیادہ پانی بہا اور جتنا چھوٹا تھا، اتنا ہی اس میں کم پانی بہا۔ 3 ۔ یعنی وہ جھاگ پانی کے اوپرہی ہو نیچے پانی خالص ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہو۔ 4 ۔ اور تپانے سے اوپر آجاتا ہے۔ یہ حق و باطل کی دوسری مثال ہے۔ 5 ۔ یعنی دیرپا ہوتا ہے اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 6 ۔ ان دونوں مثالوں میں حق (قرآن) کو پانی سے تشبیہ دی ہے اور نالوں سے مراد انسانوں کے دل ہیں جو اپنے اپنے طرف و استعداد کے مطابق حق سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ یا وہ حق زیور ہے جس سے نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور لوگ معاش و نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور وہ لوگ معاش و معاد میں اس سے انواع و اقسام کے منافع اور فوائد حاصل کرتے ہیں اور باطل کی مثال جھاگ کی ہے جو حق سے کشمکش کے موقع پر وقتی طور پر ابھر کر اوپر آجاتا ہے۔ مگر آخر کار مٹ جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جو علم و ہدایت دے کر مجھے مبعوث کیا ہے اس کی مثال بارش کی ہے جو زمین پر برسے۔ پھر جو زرخیز اور قابل ہوتی ہے اس پر گھاس چار اگ آتا ہے۔ اور اس میں گڑھے ہوتے ہیں جو پانی کا روک لیتے ہیں۔ لوگ گھاس چراتے اور پانی پلاتے ہیں۔ بہرحال وہ مفید ہے لیکن جو زمین چٹیل اور شور ہوتی ہے، اس میں نہ پانی ٹھہرتا ہے اور نہ سبزہ اگتا ہے۔ پہلی مثال ان لوگوں کی ہے جو علم دین حاصل کرتے ہیں خود بھی مستفید ہوتے ہیں اور ان سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسری شور زمین کی مثال ان لوگوں کی ہے۔ جنہوں نے ہدایتِ الٰہی کی طرف نہ آنکھ اٹھائی اور نہ اسے قبول کرنے کی کوشش کی۔ (روح۔ ابن کثیر) ۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے مالک کا کہا مانا (یعنی مومن ان کے لئے بھلائی7 (جنت) اور جن لوگوں نے اس کا کہا نہ مانا (یعنی کافر) اگر ان کے پاس ساری زمین کی دولت ہو اور اتنا ہی اور تو وہ (قیامت کے دن) اپنی چھڑائی میں دے ڈالیں8 یہی لوگ ہیں جن سے بُر طرح حساب لیا جائے گا9 اور ان کا ٹھکانا (آخر میں حساب و کتاب کے بعد) دوزخ ہے اور دوزخ بُر مقام ہے۔

ف 7 ۔ ای المثوبہ الحسنی مبتد، موخر،۔۔ مجرور خبر مقدم۔ 8 ۔ الموصول مبتدا اوالجملہ الشرطیہ خبرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے عناد رکھتے ہیں قیامت کے دن جو ان پر مصیبت آئے گی وہ اس سے رہائی کے لئے اس قدر مال و دولت کی بھی پروانہ کریں گے اور فدیہ میں دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ (از روح) ۔ 9 ۔ یہ ” الحسنی “ کے مقابلہ میں ہے۔ ای والذین لم یستجیبو الہ لھم سوء الحساب۔ یعنی ان کو کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی اور ان کے ایک ایک گناہ پر بری طرح محاسبہ ہوگا۔ یہی مناقشہ فی الحساب ہے جس کا حدیث میں ذکر ہے۔ من نوقش الحساب عذب۔ کہ جن کے حساب میں چھان بین کی جائے گی ان کو ضرور عذاب ہوگا۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر، بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ تیرے مالک کی طرف سے جو تجھ پر اترا (یعنی قرآن) وہ حق ہے ( اور اس پر ایمان لاتا ہے) وہ اس شخص کی طرح ہے جو دل10 کے اندر کا کا علم رکھتا ہے نہ ایمان، قرآن سے وہی لوگ نصیحت لیتے ہیں جو سمجھ دار ہیں

ف 10 ۔ یعنی ان دونوں کا یکساں ہونا قطعی ناممکن ہے۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو عہد ہوا ہے11 اس کو پورا کرتے ہیں اور دل شکنی نہیں کرتے12

ف 11 ۔ یعنی ہر وہ عہد جس کے پورا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یا خاص کر وہ عہد جو ازل میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے لیا تھا کہ وہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ دیکھئے اعترا آیات 271 (روح) ۔ 12 ۔ یعنی وہ ان منافقین کی طرح نہیں ہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب سے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اپنا اقرار نہیں توڑتے اور جس چیز کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو جوڑے رکھتے ہیں13 اور اپنے مالک سے ڈرتے ہیں14 اور قیامت کے دن بری طرح حساب ہونے سے خوف کرتے ہیں1

ف 13 ۔ یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں یا اللہ، رسول ﷺ ، عام مسلمانوں، ہمسایوں، رشتہ داروں، دوستوں، یتیموں، بیوائوں، الغرص ہر ایک کا حق پہنچانتے اور ادا کرتے ہیں۔ (وحیدی تبصرف) 14 ۔ اس کے عائدہ کردہ فرائض کو بجالاتے اور اس کے منع کردہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ (وحیدی) ۔ 1 ۔ لہٰذا وہ اس وقت سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے مالک کی خوشی کے لئے (اللہ کے حکم بجا لانے پر اور گناہ سے باز رہنے پر)2 صبر کیا اور نماز کو درستی سے (اپنے وقت پر شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کیا اور جو ہم نے ان کو (مال) دیا اس میں سے چھپے اور کھلے (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا3 اور زکوٰۃ دی اور برائی کے بدل (لوگوں سے) بھلائی4 کی انہی لوگوں کو پچھلا گھر ملے گا

ف 2 ۔ یعنی ریاکاری یا شہرت کے لئے نہیں بلکہ محض رضائے الٰہی کی طلب کے لئے۔ ” صبر کیا “۔ اور نیک اعمال پر ثابت قدمی دکھائی۔ 3 ۔ اگر ریاکاری کا اندیشہ نہ ہو تو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا افضل ہے اور حدیث میں ” سرا “ صدقہ دینے والے کو ان لوگوں میں شمار کیا گیا ہے جن کو قیامت کے دن عرش کے سایہ میں جگہ ملے گی۔ (روح) ۔ 4 ۔ یعنی کوئی ان پر کتنا ہی ظلم کرے وہ اس کے جواب میں عدل و انصاف ہی کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے : تم اپنے عمل کو لوگوں کے تابع نہ بنائو اور یوں نہ کہو : اگر وہ ہم سے بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر وہ ہم پر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے بلکہ اس طریقہ پر کاربند ہوجائو کہ اگر لوگ بھلائی کریں، تب تو تم بھلائی کرو اور اگر وہ برائی کریں تب بھی تم ظلم و زیادتی نہ کرو یا اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ نیک عمل کرکے برے عمل کو مٹادیتے ہیں جیسے فرمایا : ان الحسنات یذھبن السیات۔ کہ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اذ عملت سیئۃ اعمل بعجبھا حسنہ لمعھا السر بالسرا والعلابۃ بالعلانیۃ۔ جب تم کوئی برا کام کرو تو اس کے بعد نیک کام کرو وہ اسے مٹا دے گا، پوشیدہ گناہ کو پوشیدہ نیکی سے اور ظاہری گناہ کو ظاہری نیکی سے مٹائو۔ (معالم، روح) ۔
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(وہ کیا ہے) رہنے کے باغ ہیں5 جن میں وہ (خود) جائیں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے6 اور جنگ کے ہر ایک دروازے سے فرتے ان کے پاس آئیں گے۔

ف 5 ۔ بدل کل من عقبہ الدار یہ ترجمہ اس لحاظ سے ہے کہ ” عدن “ کے معنی رہنے کے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ عدن جنت میں ایک مقام کا آنا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق ” جنات عدن “ کا ترجمہ ” عدن کے باغ “ ہوگا۔ اس صورت میں یہ عقبی الدار سے بدل البعض ہوگا۔ (از روح) ۔ 6 ۔ وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے نیک ہونا بہرحال شرط ہے صرف رشتہ داری کا تعلق کافی نہیں۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(کہیں گے، تم سلامت رہو7 (یہ جو تم کو ملا) تمہارے صبر کا بدلہ ہے تم کو یہ پچھلا گھر مبارک

ف 7 ۔ یعنی ہر مصیبت، رنج و غم اور پریشانی سے محفوظ ہوگئے۔
Ayahs 13:25–26

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ سے پکا قول کرکے پھر اس کو توڑ ڈالتے ہیں اور اللہ نے جس کے جوڑنے کا حکم دیا (مثلاً ناطہ جوڑنے کا) اس کا پھوڑ ڈالتے ہیں (ناطے والوں سے بدسلوکی کرتے ہیں) اور ملک میں (ناحق) دھند مچاتے ہیں۔ لوٹ مار، خرابی، ظلم، بدعت) انہی لوگوں پر لعنت پڑے گی (اور رہنے کی برا گھر ملے گا (یعنی دوزخ)

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت سے روٹی دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے اس کو تنگی سے دیتا ہے8 اور یہ لوگ (مکہ کے کافر، دنیا کی زندگی پر پھولے ہوئے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کے سامنے کچھ نہیں مگر بےحقیقت9

ف 8 ۔ یعنی دنیا میں رزق کی فراوانی یا تنگی کوئی معیار نہیں ہے جس کے لحاط سے کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ یا غیر پسندیدہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ بسا اوقات وہ کافر کو خوب سامان عیش دیتا ہے اور مومن پر تنگدستی وارد کرتا ہے تاکہ دونوں کی آزمائش کی جائے۔ مومن اپنے صبر وشکر کی وجہ سے آخرت میں بلند درجات پاتا ہے اور کافر ناکام رہتا ہے۔ اس لئے آخرت میں اس کا ٹھکانا برا ہوتا ہے لہٰذا گمراہ لوگوں کی ان بداعمالیوں کے باوجود ان کے عیش و عشرت سے کسی کو دھوکا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ محض مہلت ہے جو کافر کو دنیا میں دی جاتی ہے۔ (روح) ۔ 9 ۔ یا ایک تھوڑی دیر کا سامان۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک چٹائی پر آرام فرما رہے تھے جب اٹھے تو آپو کے پہلوئوں پر چٹائی کا نشان تھا ہم نے عرض کیا : کہا ہم آپ ﷺ کے لئے ایک نم بستر بنادیں ؟ فرمایا کیا کرنا ہے میں تو دنیا میں ایک راہ چلتے مسافر کی طرح ہوں جس نے ایک درخت کے نیچے تھوڑی دیر کے لئے آرام کیا اور پھر آگے چل دیا۔ (ترمذی)
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کافر کہتے ہیں اس کے مالک کی طرف سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری،10 کہہ دے اللہ تعالیٰ جن کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع ہوتے ہیں ان کو اپنی راہ بتاتا ہے11

ف 10 ۔ جسے دیکھ کر اسے ہم خدا کا رسول مان لینے پر مجبور ہوجاتے مثلاً یہ کہ مکہ کے پہاڑ سونے کے ہوجاتے یا کوئی فرشتہ سامنے آجاتا۔ 11 ۔ یعنی نشانی کے اترنے سے کچھ نہیں ہوتا کیونکہ تمہارے اب تک ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہیں ہے کہ تم نے کوئی نشانی نہیں دیکھی۔ نشانیاں تو بےحد و حساب موجود ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ تم راہ حق کی جستجو نہیں رکھتے اگر تمہاری خواہش اور جستجو ہوتی تو صرف قرآن کی نشانی کو دیکھ کر راہ حق کو پالیتے کیونکہ یہ کتاب واضح دلائل سے لبریز ہے۔ (از ابن کثیر۔ روح) ۔
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(وہ کون لوگ ہیں) جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسلی ہوتی ہے سن لو اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو چین آتا ہے1

ف 1 ۔ یہ ایمان کے خالص اور پختہ ہونے کی علامت ہے کہ ذہن خواہ کتنی ہی فکروں میں الجھا ہوا ہو لیکن جو نہی نماز شروع کرے یا اللہ کو یاد کرے تو تمام …ہوجائیں اور انسان حقیقی اطمینان قلب سے بہرہ ور ہوجائے۔
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو (آخرت میں) خوشی مبارک باد2 اور اچھا ٹھکانا ہے

ف 2 ۔ خوشی یا مبارک باد ” طوبیٰ “ کے لفظی معنی ہیں۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ” طوبیٰ “ جنت کے ایک درخت کا نام بھی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ جیسے ہم نے اور پیغمبروں کو بھیجا ہے ؟ ؟ تجھ کو بھی ایک گروہ کی طرف بھیجا جس سے پہلے کئی گروہ گزر چکے ہیں اس لئے کہ تو ان کو وہ (قرآن) پڑھ کر سنا دے جو ہم نے (وحی کے ذریعہ سے) تجھ کو بھیجا حالانکہ وہ ؟ ؟ ؟ (خدا) کو نہیں مانتے3 اے پیغمبر ﷺ کہہ دے رحمن اسی خدا کی ایک صفت ہے، وہ میرا مالک ہے اس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں اسی پر میرا بھروسا ہے اور اسی کی طرف مجھ کو لوٹ جانا ہے (یا اسی کی نگاہ میں میں توبہ کرتا ہوں

ف 3 ۔ یعنی اللہ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں پر کرم فرمایا کہ آپ ﷺ کو ان کی طرف رسول ﷺ بنا کر بھیجا مگر ان کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ اس کا حق پہچاننے سے منکر ہوگئے ہیں۔ کفار مکہ اللہ کے خالق ہونے کا تو اقرار کرتے تھے مگر اس کے ” رحمان “ ہونے کے منکر تھے بلکہ جب اللہ تعالیٰ کے ” رحمن “ ہونے اور اسے اس نام سے پکارنے کی دعوت دی جاتی تو اس سے چڑتے اور کہتے۔۔۔ رحمن کیا چیر ہے ؟ اور اس سے ان کی نفرت بڑھ جاتی۔۔۔ یہ حدیبیہ کے صلح نامہ پر جب نبی ﷺ نے۔۔۔ لکھوانا چاہا تو وہ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ رحمن ورحیم کیا ہیں ؟ بروایت بکاری۔ (ابن کثیر) ۔۔۔” الرحمن “ اسما حسنیٰ میں سے ہے۔ حدیث میں ہے اللہ کے نزدیک سب سے پیارے نام ” عبداللہ “ اور ” عبدالرحمن “ ہیں۔ (مسلم)
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس سے پہاڑ سرک جاتے یا زمین پھٹ جاتی (یا اس کی مسافت طے ہوجاتی یا مردے بات کرنے لگتے4 بلکہ (بات یہ ہے، سب اعتبار اللہ کا ہے5 کیا ابھی تک مسلمان یہ نہیں6 سمجھے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو راہ پر لگا دیتا۔ کچھ نشانی کی بھی حاجت نہ رہتی اور مکہ کے کافروں کو ان کے اعمال کی سزا میں کوئی نہ کوئی آفت پہنچتی رہے گی8 یا ان کی بستی کے نزدی آفت اترے گی9 یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آلگے (موت یا قیامت یا فتح مکہ) بیشک اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا10

ف 4 ۔ تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ اتنی عبارت مخدوف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ سے کہا اے محمد ﷺ اگر آپ ﷺ اپنے دعوائے نبوت میں سچے ہیں تو ہمارے اسلاف کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لاکھڑا کریں تاکہ ہم ان سے بات چیت کریں اور مکہ کے ان پہاڑوں کو جنہوں نے ہمیں بھینچ رکھا ہے ذرا سرکادیں تاکہ جگہ کھل جائے۔ بعض مسلمانوں کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کا مطالبہ پورا ہوجائے۔ شاید ایمان لے آئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر کسی قرآن سے یہ کام ہوئے ہوتے تو اس قرآن سے پہلے ہوجاتے۔ اس سے مقصد قرآن کی عظمت کو ظاہر کرنا ہے۔ (ابن کثیر۔ روح) 5 ۔ یعنی جن نشانیوں کا یہ لوگ مطالبہ کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دکھانے پر قادر ہے کیونکہ اسے ہر چیز کا اختیا رہے مگر اس موقع پر ان نشانیوں کا دکھاتا بےسوہ ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اتنے سرکش اور ضدی ہیں کہ یہ نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ 6 ۔ یا کیا ابھی تک مسلمان ان کے ایمان لانے سے مایوس نہیں ہوئے حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ 7 ۔ یعنی ہدایت تو مشئیت الٰہی پر موقوف ہے جو ان نشانات کے دکھائے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔ (۔۔۔ ) 8 ۔ یعنی یہ کفار مکہ نشانیوں کو دیکھ کر مان لینے والے نہیں ہیں۔ یہ مانیں گے تو اس طرح کہ ان کے کرتوتوں کی سزا میں آئے دن کوئی نہ کوئی آفت ان پر نازل ہوتی رہے جیسے قتل، قید، قحط یا بیماری وغیرہ۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : لیکن کافر مسلمان یوں ہوں گے کہ ان پر آفت پڑتی رہے گی ان پر پڑے یا ہمسایہ پر۔ جب تک سارے عرب ایمان میں آجائیں۔ یہی وہ آفت تھی جہاد مسلمانوں کے ہاتھ۔ (موضع) 9 ۔ یعنی وہ آفت ان کے آس پاس والوں پر اترے گی اور وہ ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ 10 ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا۔ قریش میں سے بعض لوگ مارے گئے بعض قید ہوئے یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوا یعنی مکہ فتح ہوا۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تجھ سے پہلے بھی کئی پیغمبروں پر ٹھٹھا اڑ چکا ہے پھر میں نے کافروں خو (چند روز تک) ڈھیلا چھوڑ دیا پھر ان کو دھر پکڑا تو میرا عذاب کیسا (سخت) تھا11

ف 11 ۔ اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ﷺ ان کافروں کو بولیوں ٹھٹھوں سے بددل نہ ہوں۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

پھر کیا جو (یعنی خداوند کریم) ہر شخص کے کاموں کی خبر رکھتا ہے۔ برا بھلا سب دیکھتا ہے1 اور اس کی بھی خبر رکھتا ہے کہ ان کافروں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں (اے پیغمبر) کہہ دے بھلا ان کے نام تو بتائو یا کیا تم خدا کو وہ بات بتلاتے ہو جو (ساری) زمین میں (کہیں) وہ نہیں جانتا یا (فقط) اوپرہی اوپر (محض لغو)3 ایک بات کہتے حو ہے یہ کہ ان (کافروں) کو اپنا کفر اچھا معلوم ہوتا ہے (شیطان نے ان کو بھکا دیا ہے اور (سچی) راہ سے روک دیئے گئے ہیں4 اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا

ف 1 ۔ کیا وہ تمہارے جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ؟ اتنی عبارت محذوف ہے۔ 2 ۔ حالانکہ سے زمین کے چپے چپے کی خبریہ۔ تو اگر ان شرکاء کا کہیں وجود ہوتا تو وہ انہیں ضرورجانتا۔ اس تفسیر کی رو سے یعلم میں ھو کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوگی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” لایعلم “ میں ضمیر ” ما “ کے لئے ہو اور مطلب یہ ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ کو ان بےجان بتوں کے معبود ہونے کی خبر دیتے ہو جن کو ذرہ بھر بھی علم نہیں ہے۔ صاحب روح للمعانی لکھتے ہیں ” اس سے مقصود تو زمین و آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا ہے لہٰذا ” فی الارض “ کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ کفار اپنے بتوں کے ” اللھم الارض “ کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ کفار اپنے بتوں کے ” الھۃ الارض “ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ (ازروح۔ ابن کثیر) ۔ 3 ۔ جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ مراد ہے ان کا اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا۔ 4 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ہدایت نہیں لکھی۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب رکھا ہوا ہے5 اور آخرت کا عذاب تو بیشک دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے اور اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں

ف 5 ۔ یعنی عنقریب قتل، قید اور ذلیل ہوں گے۔
Ayahs 13:35–36

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا پرہیز گاروں کے لئے وعدہ ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے تلے (پانی کی) نہریں پڑی یہ رسی میں (تو کیسا شاداب اور پربہار باغ ہوگا ہمیشہ (ہر فصل میں) اس کا میوہ تیار (کبھی فنا یا کم نہ ہوگا) اور سایہ بھی ہمیشہ قائم، پرہیزگاروں کا انجام یہ ہے اور کافروں کو انجام دوزخ ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جمع لوگوں کو ہم نے (پہلے) کتاب سے (توریت اور انجیل) دی تھی اور وہ تجھ پر بھی ایمان لائے) وہ جو تجھ پر اترا (قرآن شریف)6 اس سے خوش ہوتے ہیں اور ان گروہوں (یود اور نصاریٰ ) میں ایسے بھی ہیں جو قرآن کی بعض باتوں کو نہیں مانفتے7 (اے پیغمبر ﷺ کہہ دے تجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پوجوں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائوں میں اسی کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہوں (نہ اور کسی کی طرف) اور اس کی طرف مجھ کو لوٹ جانا ہے8

ف 6 ۔ کیونکہ اس کے متعلق ان کی کتابوں میں شواہد اور بشارتیں موجود ہیں۔ (روح) ۔ 7 ۔ یعنی اس سے ناراض اور سیخ پا ہوتے ہیں۔ ان سے مراد وہ باتیں ہیں جو قرآن نے ان کی خود ساخت شریعت اور اہوا و اغراض کے خلاف بیان کی ہیں۔ 8 ۔ تو جو شخص نہیں مانتا وہ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت سے انکار کرتا ہے۔ (وحیدی) ۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور ایسے ہی ہم نے قرآن کو9 حکمت سے بھر ہوا عربی زبان میں اتارا10 ہم نے اس کو عربی زبان کرکے اتارا اور اگر (اے پیغمبر، علم تیرے پاس آجانے کے بعد بھی پھر تو ان کی خواہشوں پر چلے تو اللہ تعالیٰ سے تیرا حمایتی اور بچانے والا کوئی نہ ہوگا11

ف 9 ۔ یعنی جس طرح ہم نے پہلی کتابیں ہر امت پر اس کی اپنی زبان میں اتاریں، اسی طرح… 10 ۔ کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت کو تمام جن و انس کے لئے ہے لیکن اس کے اولین مخاطب وہ لوگ ہیں جن کی زبان عربی ہے۔ 11 ۔ یہ خطاب بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا طالب اور اس کے غصہ سے ڈرنے والا ہو اور اس میں وعید ہے ان علما کے لئے جو جانتے بوجھتے سنت کی راہ چھوڑ کر بدعت و ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تجھ سے پہلے کئی پیغمبر بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور اولاد دیں12 اور کسی پیغمبر سے یہ نہیں ہوسکا کہ کوئی نشانی دکھلائے مگر خدا تعالیٰ کے حکم سے1 ہر چیز کی معیاد لکھی ہوئی ہے (ہر کام کی مذمت2 مقرر ہے )

ف 12 ۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت پر مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے کہ یہ عجیب پیغمبر ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح عورتوں سے نکاح کرتے ہیں حالانکہ پیغمبر کو ان باتوں سے کیا واسطہ بعض روایات میں ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ کے کثرت ازواج پر اعتراض کیا۔ ّ (لیس ھمہ الا النساء) ۔ اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت عورتوں سے نکاح کے منافی نہیں ہے۔ آپ ﷺ سے قبل اللہ کے جتنے پیغمبر ہو گزرے ہیں سب بشر ہی تھے اور ان میں اکثریت پیغمبروں کے ہے جو بیوی بچے رکھتے تھے لہٰذا اعتراض سرے سے لغو ہے۔ حدیث میں ہے ؟ نکاح کرنا بھی سنن انبیاء میں سے ہے۔ “ نیز فرمایا کہ جو میری اس سنت سے اعراض برتے لگا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (روح۔ ابن کثیر) ۔ 1 ۔ مخالفین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر یہ (محمد ﷺ ) واقعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں توہ ہماری طلب کے مطابق معجزے اور نشانیاں کیوں نہیں لاتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ پہلے پیغمبر جتنے معجزے لائے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکم سے لائے ہیں۔ اب اگر اللہ کا حکم ہوگا تو وہ اپنے پیغمبر سے بھی معجزے کا صدور کر ادیگا ورنہ پیغمبر ہیں از خود یہ ہمت کہاں ہے کہ اپنی مرضی سے جو معجزہ چاہے ظاہر کردے۔ یہی حال اولیا کی کرامتوں کا ہے۔ کہ وہ اپنی مرضی سے کرامت دکھلانے پر قادر نہیں ہوتے۔ (وحیدی) یہاں آیت سے مراد قرآن کی آیت بھی ہوسکتی ہے جس میں ان کی مرضی کے مطابق کوئی حکم نازل ہوجائے۔ (ابن کثیر) ۔ 2 ۔ اسی طرح ہر زمانہ کے لئے معین احکام ہوتے ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ تقاضائے حکمت کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ اس میں ان کے نسخے اعتراض کا جواب ہے۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

(پھر جو تقدیر اللہ نے لکھ رکھی ہے اس میں سے جو اللہ چاہتا ہے میٹ دیتا ہے اور جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے3 اور اصل کتاب نوح کا محفوظ اسی کے پاس ہے4

ف 3 ۔ پس اپنی حکمت یہ مطابق جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ قرار دیدتا ہے اور جن کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ (روح) ۔ 4 ۔ یا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے جس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں ہوتا۔ نیز جملہ احادیث و آثار کو سامنے رکھ کر علما نے لکھا ہے کہ قضائے مبرم میں تغیر و تبدیل نہیں ہوتا جو ” جف القالم بما ھو کائن “ سے عبارت ہے۔ ہاں تبدیلی جو کچھ ہوتی ہے اور محواثبات (جن میں نسخ احکام بھی داخل ہے) جو کچھ ہوتا ہے وہ تقدیر معلوم میں ہوتا ہے۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ جب اللہ چاہیے، ان کی تاثیر انداز سے کم زیادہ کردے اور جب چاہے ویسی ہی رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور گولی سے بچتا ہے۔ اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے وہ ہرگز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ دو تقدیریں ہوئیں، ایک بدلتی ہے (یعنی علم الٰہی) کذافی الموضح وللمتفصیل مقام آخر۔ (دیکھئے رازی) ۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور ہم کو اختایر ہے جس جناب کا وعدہ ہم ان کافروں سے کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تجھ کو تیری زندگی ہی میں دکھلا دیں یا تجھ کو عذاب آنے سے پہلے اٹھا لیں بات یہ ہے کہ تیرا کام صرف5 اللہ کے حکم پہنچا دینا ہے اور ان سے حساب لنیا ان کے اعمال کا بدلہ دینا ہمارا کام ہے

ف 5 ۔ یعنی ان کے اعمال پر محاسبہ اور مواخذہ ہمارے ذمہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ کچھ وعدے وعید تو آپ ﷺ کی زندگی میں پورے ہوں گے اور کچھ آپ ﷺ کی وفات کے بعد۔ لہٰذا آپ ﷺ کو اس کے لئے جلدی نہیں کرنی چاہیے اور ان کو چاہے کہ بےفکر اور غافل نہ ہوں۔ (از رازی) ۔