12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

یہ آیتیں جو اس سورت میں ہیں کھلی کتاب قرآن کی ہیں2

ف 2 ۔ کھلی کتاب یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے یا جس کا خدائی کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔ (روح) ۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس کتاب کو اتارا جو عربی زبان میں پڑھی جاتی ہے اس لئے کہ تم سمجھو3

ف 3 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کتاب صرف اہل عرب کے لئے ہے۔ دوسروں کے لئے نازل نہیں کی گئی ہے۔ کیونکہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے جو کتاب اتاری جائے گی وہ کسی ایک ہی انسانی زبان میں ہوگی اور فطری طریقہ یہ ہے کہہ یا تو اس کتاب کی زبان سیکھی جائے یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے چناچہ یہی طریقہ قرآن کے بارے میں ملحوظ رکھا گیا۔ اس لئے عربوں سے جو اس کے اولین مخاطب میں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری اپنی زبان میں نازل کی ہے۔ کسی اور زبان میں نہیں اتاری کہ تم اس کے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکنے کا عذر پیش کرسکو۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم یہ قرآن تیرے پاس بھیج کر اچھے سے اچھا ایک قصہ تجھ کو سناتے ہیں4 اور تو اس سورت کے اترنے) سے پہلے (اس قصہ سے) بیخبر تھا

ف 4 ۔ جس میں عقل رکھنے والوں کے لئے عبرت کا بڑا سامان ہے۔ ” القصص “ یہ قص یقص کا مصدر ہے قصہ کی جمع نہیں ہے۔ (دیکھئے جواب اہل العلم ص 1 ۔ 029 بنا برایں مطلب یہ ہوا کہ یہ واقعہ ہم بہترین انداز میں بیان کر رہے ہیں۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر وہ قوت یاد کر) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا5 باوا میں نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ تارے اور سورج اور چاند مجھ کو سجدہ کر رہے ہیں

ف 5 ۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) جو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پوتے تھے۔ حدیث میں ہے الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم۔ یوسف ( علیہ السلام) بن یعقوب ( علیہ السلام) بن اسحاق ( علیہ السلام) بن ابراہیم ( علیہ السلام) ۔ (موضح) ۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

یعقوب نے کہا بیٹا (کہیں) اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا پھر تیری خرابی کے لئے کوئی فریب کی چال کر بیٹھیں کیونکہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے6

ف 6 ۔ یعنی اس کی تعبیر سنتے ہی سمجھ لیں گے گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ، ایک ماں، ان کی طرف محتاج ہوں گے۔ پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) ۔ تعبیر حضرت یعقوب ( علیہ السلام) تو سمجھ گئے تھے اس لئے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں سے ہوشیار رہنے اور انہیں اپنا خواب نہ بتانے کی تلقین فرمائی۔ ایسا نہ ہو کہ وہ خواب کی تعبیر سمجھ جائیں اور ازراہِ حسد انہیں کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی جیسا کہ روایت میں ہے ہر خواب بیان کرنے میں احتیاط کی تعلیم دی ہے۔ فرمایا : لاتحدث بہ الاحبیبا اولبیبا (مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی) ۔ یعنی خواب کسی خیز اندیش یا سمجھ دار کے سامنے ہی بیان کرو۔ دوسری حدیث میں فرمایا : اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطانی وسوسہ۔ اگر کوئی شخص اچھا خواب دیکھئے تو صرف اس کو بتائے جو اس کا اپن ادوست اور خیر خواہ ہو اور جب برا خواب نظر آئے تو تین دفعہ اعوذ باللہ من شرھا پڑھتے اور بائیں طرف تھوک دے انشاء اللہ اس کا کچھ نقصان نہ پہنچے گا۔ ایک روایت میں یہ بھی فرمایا کہ کروٹ بھی بدل دے۔ (بخاری) ۔ اور یہ کچھ مستعبد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہر قسم کے ضرر سے سلامتی کا سبب بنادے جیسا کہ صدقہ و خیرات مصائب دور کرنے سبب بن جاتے ہیں۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور ایسے ہی تیرا7 رب اپنے بندوں میں سے) تجھ کو چن لے گا8 اور خوابوں کی تعبیر تجھ کو سکھلائے گا اور جس طرح اس نے اپنا احسان تیرے دو دادوں ابراہیم اور اسحاق پر اگلے زمانہ میں پورا کیا (ان کو پیغمبری عطا فرمائیض ایسے ہی وہ اپنا احسان تجھ پر اور یعقوب کی اولاد پر پورا کرے گا9 بیشک تیرا مالک خوب جانتا ہے حکمت والاف 10

ف 7 ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ خواب دکھایا اور اس طرح کا خواب کسی دوسرے کو نہیں دکھایا اسی طرح۔ 8 ۔ شاہ صاحب کا ترجمہ ہے ”: نوازے گا تجھ کو “۔ پھر اللہ کا بندے کو نوازنا یہ ہے کہا سے اپنے فضل و رحمت کے لئے خاص کرے کہ بغیر کسی کوشش کے اس پر طرح طرح کے فتوحات ہوں یہ درجہ انبیا کو حاصل ہوتا ہے صدیقین، شہدا اور صالحین کو۔ (روح) ۔ 9 ۔ ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسحاق ( علیہ السلام) کا نام لیا اپنا نہ لیا عاجزی سے۔ (موضح) ۔ یہ دونوں ” ابویک “ سے عطف بیان ہیں۔ (روح) ۔ 10 ۔ کہ اس کے بندوں میں کون سرفرازی کے لائق ہے۔ (کذافی الروح) ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” نوازش اللہ کی سجدے سے سمجھے اور ” تاویل الاحادیث “ (کل بٹھائی باتوں کی) ۔ یعنی اس میں داخل ہے خوابوں کی تعبیر ان کے ذہن کی رسائی سے اور لیاقت سے کہ ایسا موزوں خواب دیکھا چھوٹی عمر میں۔ (از موضح) ۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں11

ف 11 ۔ منقول ہے کہ قریش ہونے نے یہود کے اشارے پر۔ امتحاناً آنحضرت ﷺ سے یہ سوال کیا کہ حضرت ابراہیم ﷺ کا وطن شام تھا تو بنی اسرائیل مصر میں کیسے آباد ہوگئے حتیٰ کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے دور میں فرعون سے نجات حاصل کی۔ اس پر یہ سورت اتری اور فرمایا کہ سوال کرنے والے کیلئے اس قصہ میں بہت سی نشانیاں ہیں انہوں نے ایک بھائی پر حسد کیا تو آخر کا۔ اسی کے متحاج ہوئے۔ اسی طرح یہود و حسد کی رہے ہیں اور قریش نے آنحضرت ﷺ کو وطن سے نکالا تو آخر کار اسی کا عروج ہوا۔ (کذافی الموضح) مگر یہ روایات اسرائیلی ہیں۔ حافط ابن کثیر (رح) نے ان کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے بالمقابل دوسری ایک دو روایت بحوالہ ابن جریر بیان کی ہیں کہ صحابہ ؓ کے سوال پر یہ سورت نازل ہوئی۔ بہرحال اگر اسرائیلی روایات کو معتبر مان لیا جائے تو نشانیوں سے مراد آنحضرت ﷺ کی نبوت ﷺ کی نشانیاں ہیں اور پوچھنے والوں سے مراد یہودی یا کفار مکہ اور اگر ان کا اعتبار نہ کیا جائے تو آیات سے مراد وہ عبرتیں ہیں جو حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے قصے میں پائی جاتی ہیں۔ اور پوچھنے والوں سے مراد وہ لوگ جو اللہ کی آیات کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ صاحب عالم ان عبرتوں کو خوب تفصیل سے لکھا ہے۔ (ابن کثیر۔ معالم) ۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب یوسف کے بھائیوں نے کہا12 یوسف (اس کے بھائی (بنیامین) کو ہمارا باپ ہم سے زیادہ چاہتا ہے حالانکہ ہم جو ان مضبوط ہیں1 بیشک ہمارا باپ ضرور کھلی غلطی کر رہا ہے2

ف 12 ۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے سے کہا۔ 1 ۔ یعنی ہم وقت پر کام آنے والے ہیں اور یہ لڑکے ہیں چھوٹے۔ ایک ان کا سگا بھائی تھا اور سب سوتیلے۔ (موضح) ۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف اور اس کا بھائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے اس کے کسی کام نہیں آسکتے اور ہم ایک جتھا ہیں۔ اس بدوسی ماحول میں وقت پر کام آسکتے ہیں۔ (روح۔ شوکانی) ۔ 2 ۔ یعنی رائے کی غلطی جو دنیوی معاملات میں ہوتی ہے۔ یہاں ضلالت سے دینی ضلالت مراد نہیں ہے ایسا کہتے تو یہ لوگ کافر ہوجاتے۔ (وحیدی) ۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف کو مار ڈالو یا کسی ملک میں لے جا کر پھینک آئو تو تمہارے باپ کا رخ تمہاری ہی طرف رہے گا اور یوسف کے (چلے جانے کے) بعد پھر تم لوگ اچھے رہو گے3

ف 3 ۔ یعنی اپنے باپ کی نظر میں پسندیدہ ہوجائو گے یا بعد میں توبہ کرکے نیک بن جانا۔ بعض نے خیال کیا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے یہ بھائی بھی بعد میں نبی ہوگئے تھے جیسا کہ آیت قولوا امنا باللہ میں والا سباط کے کلمہ سے شبہ وہتا ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ ” الاسباط “ سے بنی اسرائیل کے بارہ سبط (قبیلے) مراد ہیں اور ان قبیلوں سے جو نبی ہوئے ہیں وہ مراد ہیں۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی صلبی اولاد مراد نہیں ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ ان بھائیوں کو صحابیت کا شرف حاصل ہوگیا تھا۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والا کہنے لگا اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو ایسا کرو یوسف کو جان سے نہ مارو (خیر اتنا ہی رحم کیا اس کو اندھیرے کنوئیں میں ڈال دو کوئی راہ چلتا (مسافر) اس کو نکال لے گا4 جب یہ صلاح ہوچکی

ف 4 ۔ نکال کر اپنے دیس میں لے جائے گا۔ یوسف ( علیہ السلام) کی جان بھی بچ جائے گی اور تمہارا مطلب بھی پورا ہوجائے گا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 12:11–12

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

تو سب نے مل کر کہا باوا تو یوسف کے لئے ہم پر بھروسا کیوں نہیں کرتا اور ہم نے اس کی بھلائی چاہتے ہیں

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اس کو ہمارے ساتھ کر دے5 ہم جنگل کی سیر کریں گے وہ بھی کچھ کھانے پئے کھیلے کو دے گا اور ہم اس کے نگہان رہیں گے

ف 5 ۔ بکریاں چرانے کو جنگل جاتے تھے۔ (موضح) ۔
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

یعقوب نے کہا (نہیں بات یہ ہے) اکثر تم اس کو کہیں لے جائوتو مجھ رنج ہوتا ہے اور (دوسرے یہ بات ہے کہ) مجھ کو ڈر ہے تم غافل ہوجائو اور بھیڑیا (لانڈ کا) اس کو کھالے6

ف 6 ۔ ان کو بھیڑئیے کا بہانہ کرنا تھا وہ ہی ان کے دل میں خوف آیا۔ (موضح) ۔ یا حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے بھیڑیے کا ذکر کرنے کی وجہ سے وہی بہانہ کرلیا۔ (روح) ۔
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اگر یوسف کو ہم اتنے بہت ہوتے ہوئے بھیڑیا کھاجائے تو پھر ہم کسی کام کے ہی نہیں7

ف 7 ۔ پھر ہمارا زور کس روز کام آئے گا۔ ہم دس مضبوط جوان ہیں۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

خیر جب وہ یوسف کو لے گئے اور راہ میں سب نے یہ ٹھہرا لیا کہ اس کو اندھیرے کنوئیں میں ڈال دیں تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور ہم نے اسی وقت یوسف کو وحی بھیجی (ایک روز ایسا آئے گا) تو ضرور ان کو اس برے کام پر جتلائے گا اور وہ بیخبر ہوں گے8

ف 8 ۔ تمہیں پہنچان نہ رہے ہوں گے۔ دونوں حالتوں میں تفاوت کی وجہ سے یا زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے۔ واقعہ آگے آرہا ہے۔ (روح) ۔
Ayahs 12:16–17

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور اندھیرا ہوئے پر یعنے رات کو روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے باوا ہم شرط کے طور پر دوڑنے لگے9 اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا اتنے میں آ کر کیا دیکھتے ہیں) کہ بھیڑیا اس کو کھا یا اور ہم سچے بھی ہوں تو بھی تجھ کو ہماری بات کا یقین نہ آئے گا

ف 9 ۔ کہ کون آگے نکلتا ہے، یا تری اندازی کرنے لگے کہ کس کا یہ دور جاتا ہے۔ کذا فی الروح الاول عن السدی والثانی عبرو الزجاج۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور یوسف کے کرتے پر جھوٹ لوٹ کا خون بھی لگا لائے ایک بکری کا خون لگا دیا1 یعقوب نے کہا2 بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات بنا لی ہے خیر میں عمدہ صبر کرتا ہوں3 اور تم جو باتیں بناتے ہو ان پر اللہ ہی کی مدد چاہتے ہوں (اللہ ضرور تمہارا فریب کھولے گا)

ف 1 ۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ کرتا صحیح وسالم تھا، کہیں سے پھٹانہ تھا اس لئے حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ سب ان کی مکاری وحیلی ساز ی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے ان سے کہا : یہ بھیڑیا بھی عجیب قسم کا دانا تھا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو کھا گیا مگر اس کا کرتہ نہ پھاڑا۔ (فتح القدیر) ۔ 2 ۔ بھیڑئیے نے ہرگز یوسف ( علیہ السلام) کو نہیں کھایا ” بلکہ “… 3 ۔ عمدہ صبر یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور سے گلہ شکوہ نہ کیا جائے بلکہ ٹھنڈ سے دل سے مصیبت کر برداشت کیا جائے اور اللہ کی تقدیر پر شاکر رہے۔ (وحیدی) ۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ایک قافلہ اس کنوئیں کے پاس آیا انہوں نے اپنا بہشتی پانی لانے کے لئے بھیجا اس نے جونہی اپنا ڈول ڈالا4 بہشتی کہنے لگا واہ واہ یہ تو لڑکا اور بہشتیوں نے اس کو دولت (بڑی پونجی) سمجھ کر قافلہ والوں سے چھپایا5 اور اللہ خوب جانتا تھا جو وہ کر رہے تھے

ف 4 ۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) اس کی رسی سے لٹ گئے اور اوپر آگئے۔ 5 ۔ ان سے یہ نہیں کہا کہ یہ لڑکا ہمیں کنویں سے ملا ہے بلکہ یہ کہا کہ اس کنویں کے مالکوں نے ہمیں یہ لڑکا اس لئے دیا ہے کہ اسے کہیں لے جا کر فروخت کردیں۔ اس صورت میں ” اسروہ بضاعۃ “ میں فاعل کی ضمیر سقاء (وارد) کے لئے ہوگی۔ اور اگر اس کا مرجع حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے بھائی قرار دیئے جائیں تو اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ ” یوسف کے بھائیوں نے اس کے پیسے کھرے کرنے کے لئے کنویں میں چھپائے رکھا اس خیال سے کہ اگر کوئی قافلہ اسے نکالے گا تو اس سے کہیں گے یہ تو ہمارا غلام ہے جو کئی روز ہوئے ہمارے ہاں سے بھاگ آیا تھا پھر اسے اس کے ہاتھ فروخت کردیں گے۔ مگر آیت کے یہ دونوں مفہوم مبنی بر تکلف ہیں اور دوسرا مفہوم تو اسرائیلی روایات سے ماخوز ہے اور بائیبل کے بیان کے مطابق ہے۔ آیت کا سیدھا سادہ مفہوم یہ ہے کہ قافلہ والوں نے اسے پونچی سمجھ کر لوگوں سے چھپالیا تاکہ ارد گرد کے رہنے والوں میں کوئی شخص اسے ان کے پاس دیکھ کر یہ دعویٰ نہ کردے کہ یہ ہمارا لڑکا ہے۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور یوسف کے بھائیوں نے (یا بہشتیوں نے) اس کو بہت کم قیمت گنتی کے روپوں پر بیج ڈالا6 اور وہ اس کی خواہش نہیں رکھتے تھے یا (اس سے بیزار تھے7

ف 6 ۔ یا قافلہ والوں نے۔ یہ بات سیاق قرآن سے معلوم ہوتی ہے گو حافظ ابن کثیر (رح) نے پہلے مطلب کو اقوی قرار دیا ہے اور اسی کو ہمارے زمانے کے بعض اصحاب حواشی نے ” والظاہر الاول “ کہا ہے جس کی بنیاد حافط ابن کثیر (رح) کے قول پر ہے اور اہل کتاب کے بیان کے مطابق ہے۔ 7 ۔ وہ اس سے جلا خلاصی حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا شخص نمودار نہ ہوجائے جو انہیں اس جرم میں پکڑ لے کہ وہ اس کے آزاد بیٹے کو غلام بنا کر پکڑ لائے ہیں۔ (وحیدی) ۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور جس شخص نے مصر والوں میں سے اس کو خرید8 اس نے اپنی جورو (زلیخا) سے کہا اس کو اچھی طرح آبرو اور امام کے ساتھ رکھ شاید کسی دن ہمارے کام آئے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور اسی طرح ہم نے یوسف کو مصر کے ملک میں جواباً9 اور مطلب یہ تھا کہ اس کو خوابوں کی تعبیر دینا سکھائیں (یا آسمانی کاتبوں کی تفسیر کرنا) اور اللہ زبردست ہے جو کام چاہتا ہے پورا کرتا ہے11 مگر اکثر لوگ نہیں جانتے12

ف 8 ۔ قرآن نے اس شخص کے نام اور عہدے کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ البتہ آگے چل کر مصر کی عورتوں نے ” عزیز “ کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے اور یہی لقب بعد میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر کے بادشاہ کا وزیراعظم تھا۔ بائیبل میں ہے کہ وہ بادشاہ کے باڈی گارڈوں کا افسر اور جیل خانوں کا منتظم تھا۔ اس کی بیوی کے نام ” زلیخا “ کا بھی قرآن نے کہیں ذکر نہیں کیا البتہ بعض مفسرین نے یہ نام لکھا ہے اور وہ بھی غالباً اسرائیلی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے۔ کیونکہ یہود کے تلمود میں اس کا اسی نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین (رح) نے اس کا نام ” راعیل “ بھی لکھا ہے۔ کما ھو مروی عن مجاھد۔ 9 ۔ یعنی جیسے اسے پہلے بھائیوں کے شر سے بچایا اور کنویں سے نکلوایا، اسی طرح…(شوکانی) ۔ 10 ۔ مصر میں عزیز مصر (بادشاہ کے وزیر) نے اسے خرید لیا۔ اس طرح مصر میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے قدم مضبوط ہوگئے اور ان کو امتیاز و مرتبہ حاصل ہوگیا پھر ان کی وجہ سے بنی اسرائیل وہاں آباد ہوگئے اور یہ بھی منظور تھا کہ سرداروں کی صحبت دیکھیں تارمزو اشارہ سمجھنے کا سلیقہ کمال پکڑیں اور علم خدائی پورا پاویں۔ (از موضح) ۔ 11 ۔ شاہ صاحب کا ترجمہ ہے ” اور اللہ جیت رہتا ہے “۔ یعنی بھائیوں نے چاہا کہ ان کو گرادیں اسی میں یہ چڑھ گئے۔ (موضح) ۔ 12 ۔ کہ ہر قسم کا ختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس واقعہ میں تقدیر الٰہی یہ تھی کہ مصر میں یوسف ( علیہ السلام) کو غلبہ حاصل ہو مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں سے آگاہ نہیں۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب یوسف اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اس کو حکومت دی اور علم دیا13 اور ہم نیکیوں کو انکی نیکی کا ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

ف 13 ۔ حکم دیا یعنی عقل سے مشکل باتیں حل کرتے اور علم سے مراد دین ہے۔ قرآن میں ان دونوں لفظوں سے مراد عموماً نبوت ہوتی ہے دیکھئے قصص آیت 41 ۔ (کذافی ابن کثیر) ۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور جب یوسف جو ان ہوا تو جس عورت کے گھر میں رہتا تھا (یعنے زلیخا کے) اس نے اپنی خواہش اس کی ذات سے بجھانا چاہی اور دروازے امکان کے سب) بند کردیئے سات تھے اور کہنے لگی لے آجا (یا جلدی) آ یوسف نے کہا (اس برے کام سے) اللہ کی پناہ وہ تو (جس نے مجھ کو خریدا میرا مالک ہے اس نے مجھ کو اچھی طرح عزت سے رکھا1 کیونکہ نمک حرام لوگ کبھی نہیں پنپ سکتے

ف 1 ۔ یعنی اس کے ناموس میں کیونکر داخل کروں ؟ (موضح) اکثر مترجمین اور اصحاب تفسیر ؓ نے یہی مفہوم مراد لیا ہے کہ ” ربی “ سے مراد عزیز مصر ہے۔ سدی (رح) اور مجاہد (رح) سے بھی مضی منقول ہے لیکن بعض نے ” ربی “ سے اللہ تعالیٰ مراد لیا ہے۔ (فتح البیان) اور یہ دوسری رائے صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ بات کسی نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب کہے۔ (کذافی البحر) اس مفہوم کے حق میں ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ ھو ربی میں ھو کا مرجع قریب تر ” معاذ اللہ “ میں الہ کا لفط ہونا چاہیے نہ کہ عزیز۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور ہوا یہ کہ زلیخا نے یوسف کا قصد کیا اور یوسف نے زلیخا کا اگر وہ اپنے مالک کی قدرت کی نشانی نہ دیکھتا2 اسی طرح ہم نے یوسف کے دل کو مضبوط کیا تاکہ ہم برائی اور بدکاری سے اس کو دور رکھیں بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں تھا یعنی پیغمبروں میں سے)

ف 2 ۔ آیت کا یہ مطلب اگرچہ اکثر مفسرین (رح) نے بیان کیا ہے مگر انسب ترجمہ جسے بہت سے محقق مفسرین نے بیان کیا ہے یہ ہے ” اور یوسف (بھی) اس (عورت) کا قصد کرلیتا اگر وہ مالک کی (قدرت کی) نشانی نہ دیکھ لیتا۔ ” یہ “ برہان رب کیا چیز تھی اس کی تعیین میں آنحضرت ﷺ سے صحبت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں ہے البتہ مفسرین (رح) نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ہوسکتا ہے کہ ایک نبی ﷺ کے اخلاق کی بلندی اس کی اجازت نہ دیتی ہو کہ زنا جیسے منکر فعل پر اقدام کرے اسی کو یہاں ” برہان ربی “ سے تعبیر فرمایا ہو۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں بھاگتے ہوئے دروازے کی طرف چلے3 اور زلیخا نے یوسف کا کرتہ پکڑ پایا اس کو پیچھے سے چاک کردیا اور دونوں نے دروازے پر عورت کے خاوند کو پایا کہنے لگی جو شخص تیری بی بی کے ساتھ برا کام کرنا چاہے اس کی یہی سزا ہے کہ قید ہو یا تکلیف کے مار پڑے

ف 3 ۔ علما نے لکھا ہے کہ اس جملہ کا تعلق لقد ھمت الخ کے ساتھ ہے اور ” کذلک ‘ درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو حضرت یوسف کی نزاہت کو ثابت کرنے کیلئے لایا گیا ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورت نے زنا کا عزم کیا مگر حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے انکار کیا چناچہ اسی کشمکش میں وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے۔ آگے حضرت یوسف ( علیہ السلام) اور پیچھے عزیز کی بیوی، حضرت یوسف ( علیہ السلام) اس لئے کہ جلدی سے دروازہ کھول کر بھاگ جائیں اور عزیز کی بیوی دوڑی کہ انہیں دروازہ کھول کر بھاگنے نہ دے۔
Ayah 12:26

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف نے کہا اس عورت نے خود مجھ سے اپنی خواہش بجھا چاہی4 اور زلیخا کے لوگوں میں سے (یعنے اس کے علاقہ داروں میں سے) ایک گواہ نے گواہی دی (یعنے یہ رائے ظاہر کی) اگر یوسف کا کرتہ سامنے سے چاک ہے تب تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹا ہے

ف 4 ۔ اور میں اس سے بچنے کے لئے بھاگا اور اس نے پیچھے سے میرا کرتا کھینچ کر پھاڑ دیا۔
Ayah 12:27

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا کرتاپیچھے سے چاک ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچا ہے5

ف 5 ۔ اس عورت کا ایک ناتے دار دودھ پیتا لڑکا یہ بول اٹھا۔ (موضح) ۔ جیسا کہ مسند احمد اور مستدرک حاکم کے حوالے سے معتبر سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے۔ کہ مہد یعنی جھوٹے میں چار بچوں نے کلام کی ہے ایک تو فرعون کی بیٹی کی ماسطہ کے لڑکے نے، اور دوسرے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے شاہد نے، تیسرے مصاحب جریج نے اور چوتھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے۔ یہ حدیث حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت کی ہے اور لکھا ہے کہ صحیح علی شرط الشیخین مگر چار لڑکوں میں حصر محل نظر ہے کیونکہ صحیحن میں ایک اور بچے کا ذکر بھی ہے جو دودھ پی رہا تھا۔ نیز مسلم میں اصحاب اخدود کے قصہ میں مذکور ہے کہ اس بچے نے کلام کی الحاصل جھولے میں کلام کرنے والے بچوں کی تعداد علما نے گیارہ تک پہنچائی ہے۔ (روح) ۔
Ayahs 12:28–29

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

اور جب خاوند نے دیکھا کہ یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو (زلیخا اور اس کے ساتھ والیوں سے) کہنے لگا یہ تمہاری ہی چلتر ہے بیشک عورتوں کا چلتر غضب کا ہوتا ہے

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف تو اس کا کچھ خیال نہ کر6 اور (زلیخا) تو اپنا گناہ بخشوا7 بیشک تو گنہگار تھی

ف 6 ۔ یعنی حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے کہا کہ اس معاملہ سے درگزر کرو تاکہ بات نہ پھیلے بلاشبہ تمہاری صداقت اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 7 ۔ اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ (موضح) ۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتوں نے چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام سے خواہش بجھانا چاہتی ہے اس کی محبت میں دیوانی ہوگئی ہے ہم تو سمجھتی ہیں کہ وہ صاف بہک گئی ہے1

ف 1 ۔ کہ اپنے غلام کے عشق میں دیوانی ہو رہی ہے۔ (از بن کثیر) ۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب زلیخا نے ان عورتوں کے طعنے سنے تو زلیخا نے ان کو بلا بھیجا (مہمان بلایا) اور ایک محفل کی تیاری کی2 اور ان میں سے ہر ایک عورت کو ایک ایک چھری دی اور (عین وقت پر) یوسف سے کہا اب ان کے سامنے نکل آ جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو حسن و جمال اور نبوت کے جب سے سہم گئیں اور دہشت میں ترنج کے بدل اپنے ہاتھ کاٹ لئے3 اور (بےاختیار) ابول اٹھیں ماشا اللہ سبحان اللہ خلاق تیری قدرت یہ آدمی کا ہے کو ہے یہ تو اچھا خاصہ فرشتہ ہے

ف 2 ۔ یعنی ایک ایسی محفل جس میں ٹیک لگانے کے لئے تکیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ (از ابن کثیر) ۔ 3 ۔ یعنی چھریاں دی تھین پھل کھانے کو لیکن ان کا حسن دیکھ کر ایسے بےخود ہوگئیں کہ چھریاں ہاتھوں پر چل گئیں اور وہ کٹ گئے۔ (کذافی الروح) ۔ بعض نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہاں ” اکبرنہ ‘ کے معنی حیض آنا کے ہیں یعنی شدت شہوت کی وجہ سے انہیں حیض آنا شروع ہوگیا۔ چناچہ واحدی فرماتے ہیں کہ جب عورت کے اندر جنسی خواہش زور پکڑتی ہے تو اسے حیض آنے لگتا ہے ابو عبیدہ، طبری اور دیگر محققتین (رح) نے اسی معنی کا انکار کیا ہے کہ آفت میں یہ معنی معروف نہیں ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت ضعیف ہے اور جو شاہد پیش کیا گیا ہے وہ بناوٹی ہے۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

زلیخا نے کہا یہی تو وہ غلام ہے بھی کی محبت) میں تم مجھ پر طعنے مارتی تھیں اور سچ تو یہ کہ میں ہی نے اس کی خواہش کی اس نے نہ مانا اور (خیر) اگر (اب بھی) میرے کہے پر نہ چلے گا تو ضرور قید ہوگا اور ضرور ذلیل ہوگا4

ف 4 ۔ ان کے روبرو یہ بات کہی تا وہ بھی سمجھا دیں اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) ڈر کر قبرل کریں۔ (موضح) ۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لئے یہ سخت امتحان کا وقت تھا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ میں مصر کے اونچے طبقہ کی اخلاقی حالت کیا تھی۔ عزیزِ مصر کی بیوی نے جن عورتوں کو اپنے ہاں دعوت دی وہ عام گھرانوں کی معمولی عورتیں نہ ہوں گی بلکہ امراء روسا اور بڑے افسروں کی کھاتی پیتی بیگمات ہی ہوں گی۔ دعوت کے بہانے وہ ان عورتوں کو یوسف ( علیہ السلام) کے حسن کا قاتل کرنے کے کوشش کرتی ہے پھر وہ بیگمات بھی ایسی ہی تھیں کہ انہوں نے عزیز مصر کی بیگم کو معذور سمجھا۔ یہی نہیں بلکہ عزیز مصر کی بیگم اسے برملا دھمکی دیتی ہے کہ اگر وہ اس کی خواہشات کا کھلونا نہ بنا تو اسے ذلیل ہونا پڑے گا اور جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔
Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف نے دعا کی مالک میرے جو کام یہ عورتیں مجھ سے کرانا چاہتی ہیں اس سے توقید میں رہنا مجھے کہیں پسند ہے5 اور اگر تو ان کا چلتر مجھ سے نہ روکے گا (مجھ کو عفت اور پاکدامنی پر مضبوط نہ رکھے گا اور انہیں (نفس اور شیطان کے قریب میں آ کر ان عورتوں) کی طرف پھسل جائوں گا (ان کا کہا مان لوں گا)6

ف 5 ۔ ” یہاں صیغہ تفضیل (احب) اپنے اصلی معنی میں نہیں ہے بلکہ دو مصیبتوں میں سے ” اہوں “ کو اختیار فرما رہے ہیں۔ “ یہ ہے اصل تقویٰ ۔ حدیث میں ہے کہ سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس دن کہ اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عادل حکمران، وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں نشوونماپائی۔ وہ شخص جو مسجد سے جب بھی باہر جاتا ہے اس کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہے یہاں تک واپس آجائے۔ وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ ہی کی رضا جوئی کے لئے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کی، اسی محبت پر جمع ہوئے اور اسی محبت پر جدا ہوئے۔ وہ آدمی جس نے اپنا صدقہ اس قدر چھپا کردیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نہ کیا دیا۔ وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور وہ آدمی جسے کسی باثر و رسوخ خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا مگر اس نے کہاَ ” انی اخاف اللہ “ کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (بخاری مسلم) ۔ 6 ۔ کیونکہ جب کوئی شخص اپنے علم مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ اور جاہل برابر ہیں یا جہالت بمعنی سفاہت ہے۔ یہ ہے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی پیغمرانہ شان، اپنی طہارت اور پاک دامنی کا قطعاً دعویٰ نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز قرار دیتے ہوئے یہی فرمایا : کہ عفت و پاکدامنی پر ثابت قدم رکھنا للہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اگر توفیق نہ دے گا تو میں نفس اور شیطان کے فریب میں آکر گناہ کی طرف مائل ہوجائوں گا۔ (وحیدی) ۔
Ayah 12:34

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

اور نادان بن جائوں گا پھر مالک نے اس کی دعا قبول کی اور ان عورتوں کا چلتر اس پر سے روک دیا بیشک وہ سب کی سنتا (سب کچھ) جانتا ہے7

ف 7 ۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مانگے یہ قید پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی قبول فرمایا کہ ان کا فریب دفع کیا اور قید ہونا تھا قسمت میں، آدمی کو چاہیے کہ گھبرا کر اپنے حق میں برائی نہ مانگے پوری بھلائی مانگے گو کہ وہی ہوتا ہے جو قسمت میں ہوتا ہے۔ (موضح) ۔ منقول ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی کی : یوسف ( علیہ السلام) تم نے خود ہی اپنے اوپر زیادتی کی ہے کہ جیل کو پسند کیا۔ اگر تم یہ دعا کرتے کہ اللہ مجھے عافیت محبوب ہے تو تمہیں عافیت مل جاتی۔ ترمذی میں حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دعا کی : اللھم اسئلک الصبر “۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا : میاں تم نے اللہ تعالیٰ سے مصیبت کا سوال کیا ہے اب اللہ سے عافیت طلب کرو۔ (روح) ۔
Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کو اتنی نشانیاں دیکھنے پر بھی یہی سوجھا (مناسب معلوم ہوا)8 کہ یوسف کو ایک مدت تک قید رکھیں9

ف 8 ۔ یعنی حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی عفت و نزاہت اور پاکدامنی کے نشان اور دلائل و شواہد۔ 9 ۔ یعنی غیر معین عرصہ تک۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور یوسف کے ساتھ قید خانہ میں دو (بادشاہی) غلام یا خدمت گار10) اور گئے ایک نے کہا (جو ساقی تھا) میں (خواب میں) دیکھتا ہوں جیسے شراب (کے لئے انگور) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا (جونانبائی تھا) میں (خواب میں) دیکھتا ہوں اپنے سر پر روٹیاں لا دے ہوں پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں یوسف ان خوابوں کی تعبیر ہم کو بتلا دے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ تو نیک آدمی ہے1 یوسف نے کہا (خواب کی تعبیر کیا چیز ہے)

ف 10 ۔ ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی یعنی شراب قلقہ تھا۔ اور دوسرا نائبائی۔ مگر اس نے خلاف ِ عادت دیکھا کہ جن اور سر سے نوچتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ کو زہر دینے کی تہمت میں قید ہوئے تھے آخر ننابائی پر ثابت ہوئی۔ (کذافی الموضح) ۔ 1 ۔ یا تو خواب کی تعبیر خوب کرتا ہے یا یہ کہ تو قیدیوں سے احسان (نیک سلوک) کرنے والا ہے۔ لفظ محسن کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

میں تو تم سے جو کھانا تم کو (بادشاہ سے) ملتا ہے (یا تمہارے گھر سے آتا ہے) اس محاسب حال (کہ وہ کس قسم کا کھانا ہے کیسا ہے کتنا ہے) اس کے آنے سے پیشتر بیان کرسکتا ہوں یہ وہ علم ہے جو میرے مالک نے مجھ کو سکھلا دیا اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ) میں نے ان لوگوں کا طریق چھوڑ دیا جو اللہ تعالیٰ پر یقین نہیں رکھتے (یعنے اس کی توحید پر) اور آخرت کو بھی وہ نہیں مانتے2

ف 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے قید میں یہ حکمت رکھی کہ ان کا دل کافروں کی محبت سے ٹوٹا تو دل پر اللہ کا علم روشن ہوا۔ چاہا کہ اول ان کو دین کی بات سناویں پیچھتے تعبیر خواب کہیں اس واسطے تسلی کردی تا نہ گھبراویں۔ کہا کھانے کے وقت تک وہ بھی بتلا دوں گا۔ (کذافی الموضح) ۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں اپنے باپ دادوں کے طریق پر چلتا ہوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے جو سب کے سب پیغمبر اور ٹھیک راہ پر تھے) ہمارا یہ کام نہیں (یا ہم سے نہیں ہوسکتا کہ) اللہ ہو کے ساتھ کسی کو شریک کریں3 یہ ایمان اور توحید) اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ہم برادر (دوسرے) لوگوں پر (بھی) لیکن اکثر آدمی (اس بڑے فضل کا) شکر نہیں کرتے4

ف 3 ۔ یعنی آدمی ہو یا فرشتہ، جن ہو یا بھوت اور پری بت ہو یا قبر یا پتھر ہو یا درخت، کسی کو خدا کا سانجھی نہ ٹھہرائیں۔ (وحیدی) ۔ 4 ۔ بلکہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک گردانئے ہیں اور ان کی عبادت کرکے اپنے آپ کو ذلت کے گڑھے میں گرات ہیں۔ (وحیدی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ہمارا اس دین (توحید) پر رہنا سب لوگوں کے حق میں فضیلت ہے تاکہ ہم سے راہ سیکھیں۔ (از موضح) ۔ مطلب یہ کہ نبی ﷺ پر تو یہ فضل و عنایت بلا واسطہ ہوتا ہے لیکن لوگوں پر نبی و کے واسطہ سے۔ (روح) ۔
Ayahs 12:39–40

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

قیدیو (یا قید خانہ کے رفیقو) جدا جدا مالک اچھے یا ایک (مالک) اللہ تعالیٰ اکیلا زبردست

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو پوجتے ہو وہ نرے نام ہیں (جن کی حقیقت کچھ نہیں) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو ان کے پوجنے کی کوئی سند نہیں اتاری اللہ کے سوا کسی کو حکومت نہیں ہے (اسی کا قول سند ہوسکتا ہے) اس نے تو یہ حکم دیا ہے کہ سوا اس کے کسی کو نہ پوجو یہی (یعنے ایک خدا کو صرف پوجنا) سیدھا راستہ ہے مگر اکثر نہیں جانتے5

ف 5 ۔ اس لئے وہ شرک کے گورکھ دھند سے میں پڑے ہوئے ہیں۔ (وحیدی) ۔