12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم اپنے باپ پاس لوٹ جائو اور اس سے کہو باوا ہم کیا کریں تیرے بیٹے بنیامین نے چوری کی اور ہم نے تو اس پر وہی گواہی دی جو ہم نے یقین کیا16 اور ہم کو آئندہ ہونے والی بات کیا معلوم تھی17

ف 16 ۔ یعنی ہم نے جو بنیامین کے چور ہونے کو تسلیم کرلیا وہ اس بنا پر کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے چوری کا کٹورا اس کے سامان سے نکلتا دیکھا یا ہم نے جو عزیز مصر۔ یوسف ( علیہ السلام) ۔ کو مسئلہ بتایا کہ چور کی سزا یہ ہے کہ اسے غلام بنا لیا جائے تو وہ آپ کی اور آپ کے باپ دادا ہی کی شریعت کے مطابق تھا۔ (از وحیدی) ۔ 17 ۔ کہ بنیامین مصر میں جا کر چوری کرے گا۔ ورنہ ہم اسے اپنے ساتھ کیوں لے جاتے یا آپ کو یہ پختہ عہد کیوں دیتے کہ اسے اپنے ساتھ ضرور واپس لائیں گے۔ (کذافی الروح) ۔
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو ہمارا اعتبار نہ آئے تو اس بستی والوں سے پوچھ لے جہاں ہم تھے18 اور اس قافلوں والوں سے جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں

ف 18 ۔ جہاں چوری کا یہ واقعہ پیش آیا۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

یعقوب نے1 بنیامین نے کبھی چوری نہ کی ہوگی بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات بنا لی ہے2 ہے تو میں عمدہ صبر کروں گا3 مجھ کو تو امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا4 مجھ سے ملا دے گا) بیشک وہ جاننے والا ہے حکمت والاف 5

ف 1 ۔ یعنی جب بڑے بھائی کی تجویز کے مطابق باقی بھائیوں نے کنعان پہنچ کر اپنے والد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سے یہ سب کچھ بیان یا تو انہوں نے کہا۔ (وحیدی) ۔ 2 ۔ یہ جو کہتے ہو کہ بنیامین نے چوری کی اور وس اس کی سزا میں گرفتار کرلیا گیا، صرف یہی بات نہیں ہے کہ بلکہ اس میں تمہاری تسویل نفسانی کو بھی کچھ دخل ہے۔ وہ یہ کہ تم نے بنیامین کے غلام بنائے جانے کا خود ہی فتویٰ دیا اور پھر اس کے بھائی پر بھی چوری کی تہمت لگائی وغیرہ۔ (از روح) ۔ 3 ۔ صبر جمیل (عمدہ صبر) سے مراد وہ صبر ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی پر مطمئن اور قانع ہو اور بندوں سے کوئی گلہ شکوہ نہ کرے اور نہ جزع و فزع سے کام لے۔ (دیکھئے آیت 81) ۔ 4 ۔ یعنی یوسف ( علیہ السلام) ، بنیامین اور بڑے بھائی کو جو شرمندگی کے مارے مصر میں رہ گیا تھا۔ (روح) 5 ۔ اب کی بار انہوں نے بیشک سچ کہا تھا مگر پہلے کی بےاعتباری کی وجہ سے حضرت یعقوب نے بیٹوں کا اعتبار نہ کیا مگر حضرت یعقوب ( علیہ السلام) اس میں سچے بھی تھے کہ بیٹوں کی بنائی ہوئی بات تھی حضرت یوسف ( علیہ السلام) بھی تو آخر بیٹے ہی تھے۔ (کذافی الموضح) ۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور یعقوب نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور یوسف یاد کر کے) کہنے لگا ہائے یوسف اور غم کے مارے اس کی دونوں آنکھوں پر سفیدی چڑھ گئی اندھے ہوگئے بینائی جاتی رہی اور وہ اندر ہی6 اندر دل میں گھٹتا رہا

ف 6 ۔ اور اس کا اظہار نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ مصیبت پر رونا اور آنسو بہانا جائز ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت کا صاجزادہ ابراہیم فوت ہوا تو آنحضرت ﷺ کی چشم مبارک سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا : آنکھ بہہ رہی ہے اور دل پر صدمہ ہے مگر ہم اپنے پروردگار کی مرضی کے خلاف نہیں کہہ سکتے۔ ابراہیم ! ہم کو تمہارے فراق پر بہت صدمہ ہے (صحیحن) ہاں مصیبت کے وقت نوحہ کرنا گریبان چاک کرنا اور منہ پہ طمانچے مارنا سخت ممنوع ہے۔ (روح) ۔
Ayahs 12:85–86

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

یوسف نے بھائی کہنے لگے (باوا) اللہ کی قسم تو یوسف ہی کی یاد میں لگا رہے گا یہاں تک کہ تو گل گل کر مرجانا (مرنے کیقریب) ہوجائیگا یا مرجائے گا

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

یعقوب نے کہا میں کیا کروں) اپنے دل کا درد اور غم اللہ تعالیٰ ہی پر کھولتا ہوں تم سے یا اور لوگوں سے تو نہیں کہتا اور میں اللہ تعالیٰ ہی پر کھولتا ہوں تم سے یا اور لوگوں سے نہیں کہتا اور میں اللہ کے فضل سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے7

ف 7 ۔ یعنی یہ کہ یوسف زندہ ہیں اور ایک دن ایسا آئے گا کہ میرے اور تمہارے سجدہ کرنے کا خواب جو انہوں نے دیکھا تھا سچا ہوگا۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ میری یہ امید برلائے گا۔ (ازروح) اس آیت پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی تم کیا مجھے صبر سکھائو گے۔ بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔ (از موضح) ۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا جائو پھر یوسف اور اس کے بھائی کا پتہ لگائو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو اس کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں8

ف 8 ۔ جو اس کی رحمت اور قدرت کا صحیح علم نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس مومن کی خواہ کیسے ہی حوصلہ شکن اور مایوس کن حالات پیش آئیں وہ کبھی اپنے مالک کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ ” یاس من رحمتہ اللہ “ کافر کی صفت ہے ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ مایوس ہونے والا کافر ہوجاتا ہے۔ (روح)
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب یوسف کے پاس پہنچے تو کہنے لگے اے عزیز (مصر کے وزیر) ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر قحط کی مصیبت پڑی ہے اور ہم تھوڑی سی پونجی کچھ کھوٹے روپے یا چمڑا یا گھی وغیرہ لیکر محلہ خریدنے کو آئے میں تو ہم کو پوری ماپ غلہ دلوا دے اور ہم کو خیرات دے کیونکہ اللہ خیرات دینے والوں کو اس سے اچھا بدلہ دیتا ہے9

ف 9 ۔ یعنی ہماری یہ پونچی اس قابل نہیں ہے کہ کوئی ہمیں اس کے بدلے غلہ دے سکے۔ تاہم اگر آپ ہم پر احسان فرمائیں کہ اس کی قیمت کا جتنا غلہ بنتا ہے اس سے زیادہ دے دیں یا اس کے ناقابلِ قبول ہونے سے چشم پوشی فرمائیں تو یہ آپ کا ہم پر صدقہ ہوگا۔ کہتے ہیں کہ اب کی بار وہ اون، پنیر وغیرہ لائے تھے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو رحم آگیا اور حقیقتِ حال ظاہر کردی۔ کذافی الموضح۔ (روح) ۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

یوسف نے کہا کیا تم کو معلوم نہیں جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ سلوک کیا10 جب تم جاہل تھے11

ف 10 ۔ دونوں میں جدائی ڈالی اور دونوں سے بیر رکھا۔ استفہام زجرو توبیخ کے لئے ہے۔ (شوکانی) ۔ 11 ۔ یعنی جو کچھ تم نے کیا اس کی وجہ تمہاری نادانی و بیوقوفی تھی۔ گویا حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بھائیوں کو ان کی حرکت تو یاد دلائی مگر اس خیال سے کہ وہ شرمندہ نہ ہوں خود ہی ان کے لئے معذرت کا پہلو نکال دیا یہ انتہائی مروت کا مقام ہے جس کی توقع ایک نبی ﷺ سے ہی ہوسکتی ہے۔ (ازروح) ۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ کہنے لگے جب یوسف کا چہرہ دیکھا اور ان کی باتوں سے بھی سمجھ گئے کیا تو ہی یوسف ہے یوسف نے کہا وہاں میں یوسف ہوں اور یہ بنیامین میرا سگا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان کیا1 اس لئے کہ جو کوئی اللہ سے ڈرے اور صبر کرے2 تو اللہ ایسے نیک لوگوں کا حق برباد نہیں کرتا3

ف 1 ۔ جو مصیبت سے نجات دے کر دونوں کو ملا دیا اور اس بلند مرتبہ پر پہنچا دیا، جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوَ (روح) 2 ۔ یعنی گناہوں سے بچتا رہے اور لوگوں کو ایذا سانی پر صبر کرتا رہے۔ 3 ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو اور گھبراوے نہیں تو آخر بلا سے زیادہ عطا ہے۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

کہنے لگے خدا کی قسم بیشک اللہ نے تجھ کو جم پر بزرگی دی ہے اور بیشک ہم گنہگار (خطا وار) تھے4

ف 4 ۔ یعنی تقویٰ ور صبر کی وجہ سے تمہیں اللہ نے فضیلت دی اور ہم نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا اس میں ہم قصوروار ہیں۔ (روح) ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں : تیرا خواب سچا تھا اور ہمارا حسد غلط (موضح) ۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف نے کہا (جب تم اپنے قصور کا اقرار کرتے ہو اور معافی چاہتے ہو تو آج میں تم پر کوئی الزام نہیں لگاتا5 (میں نے تو اپنا حق معاف کردیا اب اللہ کا گناہ یا اللہ تم کو بخشنے اور وہ سب رحم کرنیوالوں سے زیادہ رحم کرنیوالا ہے6

ف 5 ۔ تمہیں ہرگز کوئی ملامت نہیں کرتا اور نہ کسی حرکت پر گرفت کرتا ہوں۔ یہاں ” الیوم “ تقلید کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ مطلق زمانہ کے لئے ہے (روح) ۔ 6 ۔ یہ ہے شان نبوت۔ اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا ہے تو ایسے قصورواروں پر قابو پالینے کے بعد انہیں ہرگز معاف نہ کرتا۔ یہی سلوک نبی ﷺ نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے رہنے والوں سے فرمایا۔ چناچہ تفاسیر میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ آج میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں ؟ وہ بولے ” ابن عم کریم “ (آپ ﷺ تو ہمارے سخی اور رحم دل چچا کے بیٹے ہیں) فرمایا : ” لا تتریب تو علیکم یغفر اللہ لکم “ یعنی جائو، تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ تمہیں معاف فرمائیے۔ (در منشور) ۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جائو اور اس کو میرے باپ کے منہ پر ڈال دو وہ سب چیزیں دیکھنے لگے گا پھر بینائی آجائے گی7 اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آئو (جو ستریا ترانوے آدمی تھے)

ف 7 ۔ یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے۔ ایک شکص کے فریق میں یعقوب ( علیہ السلام) کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔ اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہوگئیں۔ یہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی کرامت تھی۔ (موضح) اور شدت فرح سے بینائی میں قوت پیدا ہوجانا طبی طرو پر بھی ثابت ہے۔ (رازی) ۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ مصر سے نکلا تو ان کے باپ نے جو کنعان میں تھا منزلوں کے فاصلے پر اپنے گھروالوں سے کہا میں یوسف کی بو سونگھ رہا ہوں8 اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے

ف 8 ۔ اس سے انبیا کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ادھر قافلہ مصر سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا کرتا لے کر چلتا ہے اور ادھر حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کو اس کی خوشبو آنے لگتی ہے لیکن اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انبیا کی یہ قوتیں ان کا ذاتی کمال نہ تھیں بلکہ سراسر اللہ تعالیٰ کی عطا کردی تھیں۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) قریب کے جنگل میں کنویں میں پڑ رہے اور پھر برسوں تک مصر پر حکمران رہے مگر کبھی حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کو ان کی خوشبو نہ آئی۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ کہنے لگے خدا کی قسم تو تو اسی اپنے پرانے محبط میں ہے9

ف 9 ۔ یوسف ( علیہ السلام) کی محبت میں غرق ہے۔ تجھے تو ہر آن یوسف ہی نظرآتا ہے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب خوشخبری دینے والا یہودا قافلہ سے آگے بڑھ کر آن پہنچا تو کرتا یعقوب کے منہ پر ڈال دیا جس طرح پہلے دیکھتا تھا دیکھنے لگا10 یعقوب نے (گھر والوں سے) کہا (کیوں) میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی طرف سے میں دو باتیں جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے11

ف 10 ۔ مفسرین (رح) کا بیان ہے کہ جب قافلہ کنعان کے قریب پہنچا، تو سب سے بڑے بھائی یہودا نے کہا ” میں ہی ابا جان کے پاس یوسف ( علیہ السلام) کا خون سے بھرا ہوا کرتا لے کر گیا تھا۔ لہٰذا آج تم مجھی کو یہ کرتا لے کر آگے جانے دو ، تاکہ انہیں اسی طرح خوش کروں جس طرح اس دن رنجیدہ کیا تھا۔ (فتح القدیر) موضح میں ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے کرتا بھیجا اپنے غلام کے ہاتھ اس نے آکر کرتا منہ پر ڈالا اور خوشخبیر دی اس وقت آنکھیں کھل گئیں۔ 11 ۔ مثلاً یہ کہ یوسف ( علیہ السلام) زندہ ہے اور اللہ تعالیٰ اسے جرور واپس لائے گا، یا یہ کہ مجھے یوسف ( علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 12:97–98

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

اتنے میں اور بھائی بھی آن پہنچے کہنے لگے باوا ہمارے گناہ اللہ سے بخشوا اور دعا کر اپنے قصور کا اقرار کیا بیشک ہم گنہگار خطاوار تھے

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

یعقوب نے کہا ٹھیرو (میں تمہارے لئے اپنے مالک سے بخش چاہوں گا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے12

ف 12 ۔ یعنی دعا قبول ہونے کی گھڑی آنے دو ، میں تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ بعض صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کو تہجد کے وقت کا انتظار تھا اور بعض کہتے ہیں کہ جمع کی شب کا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب یوسف سے ہے13 تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی14 اور کہنے لگا خدا چاہے تو اب مصر میں بےکھٹکے داخل ہو15

ف 13 ۔ یعنی کنعان سے روانہ ہو کر مصر پہنچے اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے ملے، کہتی ہیں کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے شہر سے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا۔ (ابن کثیر) ۔ موضح میں ہے کہ وہیں کہا : ادخلو امصر انشاء اللہ امنین۔ 14 ۔ یعنی اپنے خیمہ میں ماں سے مراد اکثر مفسرین (رح) حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی سوتیلی والدہ ( جو ان کی خالہ تھیں) لیتے ہیں کیونکہ ان کی والدہ کا بنیامین کی ولادت کے وقت انتقال ہوگیا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ ان کی والدہ زندہ تھیں اور وہی حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے ساتھ مصر پہنچی تھیں۔ (معالم) ۔ ابن جریر نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر نے اس کی تائید کی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 15 ۔ یعنی اب کوئی اندیشہ نہ کرو اور انشاء اللہ یہاں مصر میں نہایت امن سے رہو گے۔ بعض نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے یہ الفاظ مصر میں داخل ہونے کے بعد کہے۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھلایا اور سب نے ماں باپ اور بھائیوں نے یوسف کو سجدہ کیا1 اور یوسف نے کہا باوا جو خواب میں نے چالیس برس2 پہلے دیکھا تھا اس کی یہ تعبیر ہے اللہ تعالیٰ نے آج اس کو سچ کر دکھایا اور اس کے سوا مجھ پر یہ احسان کیا کہ مجھ کو قید خانہ سے نکالا (چھڑایا) اور شیان نے جو مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا اس کے بعد گائوں سے (یا جنگل سے) تم سب کو لایا اور مجھ سے ملایا بیشک اللہ جو چاہتا ہے (بری) باریکی اور حکمت سے اس کو پورا کرتا ہے یا بڑی عنایت اور مہربانی سے3 سے بندوں کے مطلب برلاتا ہے کیونکہ وہ سب کچھ جانتا ہے حکمت والا

ف 1 ۔ یہ بات ان کی شریعت میں جائز تھی کہ جب کسی بڑے آدمی کو سلام کریں تو اسے سجدہ بھی کریں۔ یہ رواج حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک جاری رہا پھر ہماری شریعت میں اسے حرام قرار دے دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ نے شام سے واپس آکر نبی ﷺ کو سجدہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” معاذ ؓ ! کہ کیا کر رہے ہو ؟ کہنے لگے میں نے شام میں دیکھا کہ لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ ﷺ زیادہ حقدار ہیں کہ آپ ﷺ کو سجدہ کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی ؓ نے جو ابھی حال ہی میں اسلام لائے تھے نبی ﷺ کو سجدہ کرکے سلام کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! اے سلمان ؓ مجھے سجدہ نہ کرو بلکہ اس زندہ ذات کو سجدہ کرو جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ (ابن کثیر) موضح میں ہے : پہلے وقت میں سجدہ تعظیمی تھا۔ فرشتوں نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کیا ہے۔ اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا ہے۔ ” وان المساجد للہ (الایۃ ) ۔ اس وقت پہلے رواج پر چلنا ویسا ہے کہ کوئی اپنی بہن سینکاح کرے کہ حضرت آدمی ( علیہ السلام) کے وقت ہوا ہے۔ (موضح) 2 ۔ یہ بعض مفسرین (رح) کا خیال ہے بعض نے اسی تک بھی کہا ہے۔ تفاسیر میں دیگر اقوال بھی منقول ہیں۔ (دیکھئے ابن کثیر) ۔ 3 ۔ جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر کئے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے ان کو منہ پر نہ لائے مجمل سنا دیا۔ (موضح) ۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

مالک میرے تو نے مجھ کو حکومت میں سے کچھ دیا4 اور خوابوں کی تعبیر بھی کچھ سکھلائی اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی میرا والی ہے، سب کا موں کا بنانے والا کریم کار ساز (دنیا اور آخرت دونوں میں مجھ کو اپنا تابعدار رکھ کر دنیا سے اٹھا لے5 اور نیک بندوں سے مجھ کو ملا دے

ف 4 مراد یا تو ” تعبیر رویا “ کا علم ہے اور یا کتب الہٰہ کے اسرار و دقائق کا فہم (روح) ۔ 5 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں جلد موت کی تمنا کی، ہوسکتا ہے یہ ان کی شریعت میں جائز ہو جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے قرب موت کے وقت اس قسم کے اشتیاق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ اللھم فی الرقیق الاعلی “ اے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملادے۔ (ابن کثیر) آیت کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی مجھے موت آئے تو اس حال میں آئے کہ میں مسلمان ہوں۔ اکثر مفسرین نے یہی مفہوم مراد لیا ہے و بین السطور ترجمہ سے پہلے مفہوم مترشح ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ کوئی مصیبت یا تکلیف سے گھبرا کر موت کی تمنا نہ کرے۔ البتہ جب دین میں تفنہ کا خوف ہو تو تمنا کرسکتا ہے جیسا کہ فرعون کے جادوگروں نے اسلام لانے کے بعد دعا کیـ: ربنا افرغ علینا صرا وتوقنا مسلمین۔ اور حضرت مریم ( علیہ السلام) نے کہا : بایتینی مت قبل ھذا وکنت نسا مستا۔ ایک دعا میں ہے۔ واذا اردت بقوم فنۃ فاقبضنی عیس مفتون الیک۔ (اے خدا) جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو فتنہ سے بچا کر مجھے اٹھا لے۔ (مسند احمد۔ ترمذی) ۔ حضرت علی ؓ نے اپنی خلافت کے آخری دور میں جب حالات بگڑتے دیکھے تو دعا کی۔ اللھم خزالی الیک فقد سمئتھم۔ امام بخاری کو جب امیر خراسان سے جھگڑا پیش آیا تو انہیں یہ دعا کرنی پڑی۔ اللھم نوفنی الیک ! مجھے اپنی طرف بلالے (مختصر از بن کثیر) ۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ غیب کی چند خبریں تھیں جو ہم نے تجھ کو بھیجیں اور تو تو اس وقت ان کے یوسف کے بھائیوں کے پاس نہ تھا جب انہوں نے مل کر ایک بات ٹھیرا لی تھی کہ یوسف کو کنوئیں6 میں ڈال دیں اور وہ فریب کر رہے تھے (کرتے پر بکری کا خون لگا کر لائے)

ف 6 ۔ تو پھر یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر کیسے معلوم ہوسکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو یہ واقعات کیونکر معلوم کرسکتے تھے اور تمہیں کیسے سنا سکتے تھے۔ نیز اشارہ ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں ہیں۔ ابن کثیر روح) ۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اکثر لوگ ایسے ہیں7 جو ایمان نہ لائیں گے تو کتنی ہی حرص کرے

ف 7 ۔ مگر ان کفار کی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ آپ ﷺ کی صداقت پر اتنے واضح دلائل دیکھنے کے بعد بھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ (کذافی الروح) ۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تو ان سے قرآن سنانے پر اللہ کا حکم پہنچانے کو نیک نہیں مانگتا بلکہ خالص خدا کے لئے سناتا ہے قرآن تو اور کچھ نہیں سائے جہان کے لئے نصیحت ہے8

ف 8 ۔ یعنی مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے آپ ﷺ ان کے رویہ سے رنجیدہ نہ ہوں۔
Ayahs 12:105–106

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں خدا کی قدرت کی بہتری نشانیاں ایسی ہیں جن پر یہ لوگ کافر گزرتے رہتے ہیں ان کو دیکھتے ہیں اور ادھر خیال بھی نہیں کرتے

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور اکثر لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں مگر پھر بھی شرک کرتے ہیں9

ف 9 ۔ اس آیت کے مفہوم میں ہر وہ شخص داخل ہے جو زبان سے اللہ تعالیٰ کے خالق، مالک اور رازق ہونے کا اقرار کرے مگر اس کے باوجود مشرک کا مرتکب ہو جیسے قبر پرستی، تعزیہ پرستی وغیرہ ریاکار مسلمان بھی اس میں داخل ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ریاکاری شرک خفی ہے۔ (روح) ۔ افسوس کہ ہمارے زمانے میں بھی بہت سے نام کے مسلمان شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں جو تعویز گنڈے پر اعتقاد رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس ان میں شفا ہے۔ (از سلفیہ) ۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس کا ڈر نہیں رہا کہ اللہ کا عذاب ان پر ایسا آئے جو چھا جائے1 یا ایک ہی ایکا قیامت ان پر آن پہنچے اور ان کو خبر نہ ہو اس وقت شرک کا کیا جواب دیں گے

ف 1 ۔ جیسے زلزلہ، طاعون وغیرہ۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میری راہ یہ ہے میں تم کو اللہ کی طرف سمجھ بوجھ کر بلاتا ہوں (دلیل رکھ کر) اور جو میری پیروی کرے2 اور اللہ کی ذات تمام برائیوں اور خیبوں اور شرک سے پاک ہے اور میں شک کرنیوالوں میں نہیں ہوں

ف 2 ۔ یعنی وہ بھی لوگوں کو دیل کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو شخص نبی ﷺ کی پیروی کرتا ہے اسے چاہیے کہ دعوت توحید و اصلاح میں آنحضرت کے نقش قدم پر چلے۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے تجھ سے پہلے جو پیغمبر بھیجے وہ مرد ہی تھے فرشتے پا جن نہ تھے نہ عورتیں بستیوں کے رہنے والے3 کیا یہ لوگ کافر ملک میں نہیں پھرے اگر پھرتے تو وہ آنکھ سے دیکھ لیتے کہ اگلے گنہگار لوگوں کا انجام کیسا ہوا جنہوں نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا اور اس میں شک نہیں کہ پرہیز گاروں کے لئے (جو شرک سے بچتے ہیں) آخرت کا گھر دنیا کے گھر سے کہیں بہتر ہے کیا تم کو عقل نہیں ہے

ف 3 ۔ یعنی شہروں کے رہنے والے مہذب، سنجیدہ اور بااخلاق نہ کہ جنگلی یادیہاتی قسم کے اجڈ، سنگدل۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہا کرتے تھے۔ لولا انزل علیہ ملک۔ اس۔ رسول ( علیہ السلام) ۔ پر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک جتنے لوگ بھیجے ہیں وہ سب شہری لوگ تھے اور وہ بھی مرد۔ اس آیت میں ان لوگوں کا بھی رد ہے۔ جو کہتے ہیں کہ چار عورتیں پیغمبر ہوئی ہیں۔ حوا، آسیہ، ام موسیٰ اور حضرت مریم ( علیہ السلام) ۔ حافظ بن کثیر لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتے کے ذریعہ وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر یہ نبوت کو مستلزم نہیں (عرفا) نبی کی طرف وحی تشریعی کا ہونا لازم ہے اور اس قسم کی وحی (تشریعی) کسی عورت پر نازل نہیں ہوئی۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے4 اور ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ پیغمبر جھوٹے ہیں5 ایک ہی ایکا ہماری مدد ان کے پاس آن پہنچی6 پھر جس کو ہم نے چاہا بچا دیا اور گنہگار لوگوں پر سے ہمارا عذاب ٹل نہیں سکتا7

ف 4 ۔ یعنی اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔ (روح) ۔ 5 ۔ جو انہیں خدا کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ عذاب ہرگز آنے والا نہیں ہے۔ اگر آنا ہوتا تو کبھی کا آچکا ہوتا۔ آیت کا یہ ملطب اس صورت میں ہے جب ” ظنو “ (سجھنے لگے) کا فاعل خود پیغمبروں کو قرار دیا جائے اور اگر اس کا فاعل خود پیغمبروں کو قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے اور ان کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ عذاب یا مدد دنیا میں نہیں آئے گی یعنی لاچاری کے عالم میں۔ (دیکھئے بقرۃ آیت 204) ۔ حضرت عائشہ ؓ کی قرآن میں کذبوا ہے وہ فرمایا کہ تیس کہ بھلا پیغمبر اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ گمان کس طرح کرسکتے تھے کہ ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے اس لئے کذبوا کی بجائے کذبوا تشدید زال کے ساتھ ہے اور معنی یہ ہیں کہ پیغمبروں نے گمان کیا کہ ان کے ماننے والے شاید ان کی تکذیب کر رہے ہیں جیسا کہ بخاری میں مذکور ہے۔ لیکن اگر ظن بمعنی وسوسہ ہو جیسا کہ اوپر مذکور ہوا تو اس میں کچھ بعد نہیں ہے۔ کذاقال ابن تیمیہ (رح) ۔ (روح) شاہ صاحب لکھتے ہیں (رح) : یعنی وعدہ عذاب کو دیر لگی یہاں تک کہ رسول لگے ناامید ہونے کہ شاید ہماری زندگی میں نہ آیا پیچھے آوے اور ان کے یار خیال کرنے لگے کہ شاید وعدہ خلاف تھا۔ اتنے خیال سے آدمی کافر نہیں ہوتا اگر جانتا ہے کہ یہ خیال بد ہے۔ (موضح) ۔ 6 ۔ یعنی پیغمبروں کو ہماری مدد پہنچ گئی۔ 7 ۔ لہٰذا اب عذاب کے موخر ہونے سے دھوکا نہ کھائو۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

جو لوگ عقل والے ہیں ان کو بیشک ان لوگوں کے قصوں سے عبرت ہوتی ہے8 قرآن کوئی بٹی ہوئی بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ قرآن اگلی کتابوں کا سچا کرنے الا ہے اور ہر چیز کو کھول کر بیان کرنے والا ہے9 اور ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

ف 8 ۔ یعنی رسولوں اور گذشتہ قوموں کے قصوں سے۔ 9 ۔ یعنی ہر اس چیز کو کھول کر بیان کرنے والا ہے جس کا بیان کرنا انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ضروری ہے۔