12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

قیدیو تم میں سے ایک تو (جو ساقی ہے چھوٹ کر) اپنے صاحب کو شراب پلائے گا (پھر اپنی قدیم خدمت پر مقرر ہوجائے گا) اور دوسرا جو ہے نانبائی وہ سولی دیا جائے گا پھر پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے جس بات کو تم دونوں دریافت کرتے تھے اس کا فیصلہ (خدا کے پاس سے) ہوچکا1

ف 1 ۔ یعنی یہ قضائے الٰہی ہے جو ٹل نہیں سکتی۔ یہاں پر لفظ ” قضی “ سے معلوم ہوتا ہے کہ ظن بمعنی یقین ہے بعض نے لکھا ہے۔ خواب کی تعبیر اجتہادی تھی لہٰذا ظن اپنے اصلی معنی میں ہے۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔ موضح میں ہے ” ظن “ فرمایا : معلوم ہوا کہ تعبیر خواب یقین نہیں اتکل ہے مگر پیغمبر اٹکل کرے تو ” بیشک “ ہے۔ (موضح) ۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور جس کو یوسف نے سمجھا کہ وہ چھوٹنے والا ہے اس سے کہا اپنے پاس صاحب کے پاس (کسی موقع پر) میرا ذکر (خیر) کرتا ہے لیکن شیطان نے اس کو بھلا دیا کہ اپنے صاحب سے اس کا ذکر کرے2 آخر کئی برس تک یوسف قید خانہ میں پڑا رہا3

ف 2 ۔ کشفِ شدائد میں گو دوسروں سے مدد لینا جائز ہے جیسا کہ آیت وتعاونوا علی البر الخ “ سے بھی معلوم ہوتا ہے مگر یہ عزیمت اور شان پیغمبر کے خلاف ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کی کوشش کی کہ میرا تذکرہ بادشاہ کے پاس کرنا مگر وہ بھول گیا تاکہ پیغمبر کا دل اسباب پر نہ ٹھہرے۔ (از موضح) ۔ 3 ۔ ” بضع “ (چند یا کئی) کا اطلاق عربی زبان میں تین سے نو تک مگر زیادہ ترسات پر ہوتا ہے اس لئے اکثر مفسرین : کا کہنا یہی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سات سال تک جیل میں رہے۔ (معالم) بعض علمائے تفسیر (رح) نے فانساہ میں ” ہ “ کی ضمیر حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لئے مانی ہے اور معنی یہ کئے ہیں کہ ” شیطان نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو اپنے رب کی یاد بھلا دی “ اور اس کی تائید میں ایک ایک روایت بھی پیش کی ہے کہ ” اگر یوسف ( علیہ السلام) اللہ کو چھوڑ کر دوسروں پر رہائی کی امید نہ رکھتے تو تو اتنی لمبی مدت قید میں نہ ٹھہرے ‘ مگر یہ روایت نہایت ضعیف ہے لہٰذا یہ معنی صحیح نہیں ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور ایسا اتفاق ہوا کہ ایک روز بادشاہ ریان بن ولید نے دربار میں کہا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات گائیں موٹی تازی ہیں ان کو سات دہلی سوکھی گائیں کھائے جاتی ہیں اور سات بالایں سبز ہیں اور باقی (سات) سوکھی ہیں4 درباریو اگر تم خواب کی تعبیر دینا جانتے ہو تو میری اس خواب کی تعبیر بیان کرو

ف 4 ۔ اور سوکھی بالیوں نے ہری بالیوں پر لپٹ کر انہیں اپنے اندر چھپالیا۔ یہ خواب بادشاہ نے کئی برس کے بعد دیکھا اور یہی حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی رہائی کا سبب بنا (ابن کثیر) ۔
Ayahs 12:44–45

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

وہ کہین لگے یہ تو پریشان خوابوں کے پگھلے ہیں اور ایسے پریشان خوابوں کی تعبیر ہم کو نہیں معلوم

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور اتفاق سے وہاں بادشاہ کا وہ ساقی بھی موجود تھا جو ان دو قیدیوں میں سے چھوٹ گیا تھا اس نے کہا اور ایک مدت (سات برس) کے بعد اس کو خیال آیا میں تم کو اس کی تعبیر بتلاتا ہوں مجھ کو بھیجو تو سہی (لینے قید خانے تک جانے کی اجازت دو )5

ف 5 ۔ چناچہ اس شخص کو اجازت مل گئی اور اس نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے کہا…
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

یوسف تو بڑا سچا آدمی ہے (یا خواب کی تعبیر بہت سچی دیتا ہے بھلا اس خواب کی تو تعبیر ہم کو بتلا سات موٹی تازی گائیں ہیں جن کو سات دہلی سوکھی گائیں کھائے جاتی ہیں اور سات بالیاں (اناج کی) ہری ہیں اور باقی (سات) سوکھی شاید میں (درباری) لوگوں تک پھر پہنچ سکول اور شاید (تیرا حال) ان کو معلوم ہو6

ف 6 ۔ یعنی وہ جان لیں اور پھر اپنے علم کے مقتضیٰ کے مطابق عمل کریں یا یہ کہ انہیں تیری قدر معلوم ہو اور احساس ہو کہ کتنے بڑے ذی علم اور لائق آدمی کو انہوں نے جیل میں ڈال رکھا ہے۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف نے (اسی وقت) کہہ دیا تم معمول سے سات برس تک کھیتی کرو گے1 پھر جب فصل کاٹو تو اناج کو بالیوں ہی میں رہنے دو (کھلیان نہ کرو) مگر تھوڑا سا اپنے کھانے کے موافق نکال لو2

ف 1 ۔ یا سات سال تک لگا تار کھیتی کرو گے۔ (ابن کثیر) ۔ 2 ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ غلہ خراب نہ ہوگا اور اس کے چھلکے بھی جانوروں کے لئے محفوظ رہیں گے۔
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

ان سات برسوں کے بعد ایسے برس آئیں گے جن میں سخت قحط ہوگا جن کو تم نے ان برسوں کے لئے آگے سے کو چھوڑا تھا اس کو چٹ کر جائیں گے3 مگر تھوڑا سا (بیج کے لئے کچھ) بچا رکھو گے

ف 3 ۔ یعنی ان میں سے تم لوگ چٹ کر جائو گے۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر ان سات بریں) کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کے لئے برسات (اچھی ہوگی (یا ان کا رنج سب جاتا رہے گا) اور اس سال رس بھی (خوب) نچوڑیں گے4

ف 4 ۔ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے جیسے انگور، زیتون اور لیموں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارہ ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے ” یعصرون “ کے معنی یحلبون “ کہے ہیں۔ یعنی خوب دودھ نکالیں گے۔ (ابن کثیر) ۔ یہ بات حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بذریعہ وحی خواب کی تعبیر سے زائد بتائی جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ سے مروی ہے۔ (روح) اور قحط کا مقابل کرنے اور غلہ محفوط رکھنے کے لئے جو طریق اختیار کیا جائے وہ بھی واضح فرمادیا۔ نیز اس کے بعد دوبارہ خوشحالی کی خوش خبری بھی دے گی۔ (از ابن کثیر وغیرہ) اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر بھی سچے خواب دیکھ لیتا ہے۔ یہ تاویل بظاہر اس حدیث کی خلاف ہے جس میں آیا ہے ” الرویا علی جناح طائر مالم تعبر فا فاذا عبرت وقعت “ یعنی خواب کی جو تعبیر ہوجائے اسی پر ہوتا ہے کیوں کہ انہوں نے ” اضغاث احلام “ کا حکم لگا کہ تعبیر بیان کردی تھی مگر حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے اس کے بعد صحیح تعبیر بتائی : فلم یکن علی ما عبرت اولا : ابن العربی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اس تعبیر کے ساتھ خاص ہے جس کا رویا میں احتمال ہو اوعر ان کا ” اضغاث احلام “ کہنا درآسل تعبیر نہ تھی بلکہ تعبیر کے قابل نہ ہونے کی طرف اشارہ تھا لہٰذا حدیث ان الرویا علی ما عبرت اولا اور اس آیت میں منافات نہیں ہے۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

دربارہ بادشاہ نے کہا5 یوسف کو میرے پاس لے آئو جب بادشاہ بھیجا ہوا شخص یوسف کے پاس آیا (اس کے لے جانے کو تو وہ نہ کما لو) اس نے کہا اپنے مالک کے پاس لوٹ جا اور اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے مجھ کو دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے بیشک میرا خدا ان کا چلترا (خوب) جانتا ہے6

ف 5 ۔ یعنی جب ساقی نے جا کر تعبیر بتائی تو بادشاہ نے کہا۔ 6 ۔ وہی قصہ یاد دلایا جس سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ بادشاہ کو میرے مقدمہ کی تحقیق کرنی چاہیے تاکہ سب کے سامنے میرا پاک دامن اور بےقصور ہنا پوری طرح واضح ہوجائے۔ معلوم ہوا کہ مواقع تہمت سے بچنا بھی واجب ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا، من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلا یقضن مواقف التھم۔ کہ جس شخص کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان ہے اسے اتہام کی جگہوں سے دور رہنا چاہیے۔ صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی کسی بیوی کے پاس کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک شخص گزرا، آنحضرت ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا :” یہ میری بیوی ہے “۔ اس نے عرض کی اللہ کے رسول ! آپ ﷺ پر بدگمانی کیسے ہوسکتی ہے ؟ اس پر آنحضرت نے فرمایا : ان الشیطان یجری من ابن ادم معجری الدم (روح) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی و نے (حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی بلند ہمتی اور عقلمندی کی داد دیتے ہوئے) تواضعا فرمایا : اگر میں اتنی مدت جیل میں ٹھہرتا جتنی مدت یوسف ( علیہ السلام) ٹھہرے تو بادشاہ کے بلانے پر چلنے کو تیار ہوجاتا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے کہا7 (سج کہو) تمہارا کیا حال گذرا جب تم نے یوسف کی ذات سے اپنی خواہش بجھانا چاہی8 وہ کہنے لگیں ماش اللہ ہم کو تو اس کی کوئی برائی معلوم ہی نہیں ہوئی عزیز کی بی بی زلیخا یہ حال دیکھ کر) کہنے لگی اب (چھپانے سے کیا فائدہ) حق بات تو کھل گئی میں نے خود اس کی ذات سے اپنی خواہش بجھانا چاہی تھی اور بیشک وہ سچا ہے میں جھوٹی تھی اپنے قصور کا اقرار کرتی ہوں9

ف 7 ۔ یعنی بادشاہ نے مقدمہ کی تحقیق کے سلسلہ میں عزیز مصر کی بیوی اور دوسری عورتوں سے پوچھا۔ 8 ۔ سب کی طرف فریب کی نسبت اس لئے کہ دوسری عورتیں بھی عزیز مصر کی بیوی کی مددگار تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ بادشاہ نے پوچھ کیا تم نے یوسف ( علیہ السلام) میں کوئی برائی دیکھی پھر آخر کیا وجہ ہے کہ اسے غیر معین عرصہ کے لئے جیل میں ڈال دیا گیا ؟ 9 ۔ یعنی جب جیل میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو مقدمہ کے سلسلہ میں تحقیقات سے مطلع کیا گیا تو انہوں نے خود فرمایا۔ یہ (سب جھگڑا)…
Ayahs 12:52–53

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ (سب جھگڑا) اس لئے کیا عزیز زلیخا کا خاوند اچھی طرح جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کے غائب ہیں اس کی چوری نہیں کی اور چوروں کا مکر اللہ چلنے نہیں دیتا

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور یوسف نے یہ بھی کہا میں اپنے نفس کو برائیوں سے پاک نہیں کہتا بیشک نفس تو برے کام کے لئے ابھارتا ہے مگر جب میرا مالک رحم کرے1 بیشک میرا مالک بخشنے والا مہربان ہے2

ف 1 ۔ تو نفس مطیع ہوجاتا ہے اور برے کام کی خواہش نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ برائی سے میرا بچ نکلنا اپنے بل ہوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے تھا۔ ” ما “ کے مصدر یہ ہونے کی صورت میں مستثنیٰ منقطع ہوگا اور مصدر یہ ظرفیہ ہونے کی صورت میں متصل۔ (کذافی الروح) ۔ 2 ۔ بعض مفسرین (رح) ۔ جیسے ابنی تیمیہ (رح) اور ابن کثیر۔ نے ” ذلک لیعلم “ سے ” ان ربی غفور رحیم “ کو بھی عزیز مصر کی بیوی ہی کا کلام قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہی انسب اور اشھر سے اور سیاق کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت میں گویا عزیز مصر کی بیوی کنا یہ چاہتی ہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اپنے خاوند کی کوئی بڑی خیانت نہیں کی بیشک میں نے یوسف ( علیہ السلام) کو پھسلانا چاہا تھا مگر کامیاب نہ ہوسکی۔ ہاں میں اپنے آپ کو پاک باز قرار نہیں دیتی مجھ سے جتنی غلط ہوئی اور اس کا قرار و اعتراف کرتی ہوں۔ نفس کی شرارتوں سے تو وہی مھفوظ رہ سکتا ہے جس پر اللہ کی خاص رحمت ہو۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لے آئو میں اس کو عزیز کے پاس سے نکال کر خاص اپنے کام پر لکھوں گا جب بادشاہ نے یوسف سے گفتگو3 کی تو کہنے لگا آج سے تو ہمارے پاس بڑے مرتبے والا ہے4 امانتدار

ف 3 ۔ یا حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بادشاہ سے گفتگو کی۔ (روح) ۔ 4 ۔ اب سے عزیز کا علاقہ موقوف کیا اپنی صحبت میں رکھا (موضح) ۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

نہ یوسف نے کہا مجھ کو ملک کے سب روپیہ اور غلوں کے خزانوں کے انتظام پر مقرر کردیئے5 میں ان کی حفاظت کرسکتا ہوں اور حساب کتاب سے بھی خبر دار ہوں

ف 5 ۔ لفظ ” خزائن الارض “ (زمین کے خزانے) سے مراد روپیہ اور غلوں کے خزانے نہیں ہیں بلکہ سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار ہیں۔ قرآن حکیم میں خزائن کا لفظ عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ” وللہ خزائن السموات والارض “۔ مطلب یہ ہے کہ جب حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ بادشاہ کی نگاہ میں ان کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے اور وہ انہیں ہر طرح اختیارات سونپنے کو تیار ہے تو اپنی اہلیت پر اعتماد کرتے ہوئے یہ پیشکش مناسب سمجھی کہ سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار میرے حولاے کر دئیے جائیں اور جب انسان کو اپنی اہلیت پر اعتماد و یقین ہو اور کوئی دوسراشخص قومی امانت کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو تو اپنے آپ کو عہدہ کے لئے پیش بھی کرسکتا ہے۔ (ابن کثیر) ۔ بلکہ آئندہ آیات (100 ۔ 101) سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار مصر میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) ہی تخت نشین ہوگئے تھے اور پھر حضرت یوسف ( علیہ السلام) اللہ کے نبی و تھے اس لئے ملک کے تمام اختیارات پر قبضہ ان کے لئے ضروری تھا تاکہ توحید کی تبلیغ و اشاعت پر قبضہ ان کے لئے ضروری تھا تاکہ توحید کی تبلیغ و اشاعت اور شرک کا استیصال کرسکیں۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے اس طرح سے مصر کے ملک میں سوف کو جمایا جہاں وہ چاہتا تھا6 دیا جس طرح سے چاہتا تھا اس ملک میں رہتا تھا ہم اپن بندوں میں سے جس پر چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچاتے ہیں اور نیکوں کی محنت ہم برباد نہیں ہونے دیتے7

ف 6 ۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو سلطنتِ مصر میں ہر قسم کے اختیارات حاصل تھا اور وہ ایک کافر بادشاہ کے وزیر اور ملازم نہ تھے۔ ہوسکتا ہے کہ بادشاہ (ریان بن ولید) نے ازخود ہی زمام حکومت ان کے سپرد کردی ہو۔ بعض روایات میں ہے عزیز مصر کی بیوی سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی شادی ہوگئی تھی۔ مگر محدثین (رح) کے نزدیک یہ روایات قابل اعتبار نہیں ہیں۔ (روح) ۔ 7 ۔ یعنی دنیا و آخرت دونوں میں انہیں اپنے نیک اعمال کا بدلہ ملتا ہے۔ اس آیت کے سلسلے میں شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، یہ جواب ہوا ان کے سوالوں کا کہ اولادِ ابراہیم ( علیہ السلام) اس طرح شام سے مصر آئی۔ اور بیان ہوا کہ بھائیوں نے یوسف ( علیہ السلام) کو گھر سو دور پھینکا تا ذلیل ہو۔ اللہ نے زیادہ عزت دی اور ملک پر زیادہ اختیار دیا۔ ویسا ہی ہمارے حضرت کے ساتھ ہوا۔ (موضح) ۔
Ayahs 12:57–58

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

ایماندار و پرہیز گار لوگوں کے لئے دنیا کے فائدہ کے علاوہ آخرت کا ثواب بہتر ہے

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور جب تمام اطراف کے ملکوں میں قحط پڑا (تو) یوسف کے بھائی جو شام کے ملک کنعان میں رہتے تھے غلہ مول لینے کے لئے اس کے پاس مصر میں آئے یوسف نے ان کو پہچان لیا اور انہوں نے یوسف کو نہ پہچانا8

ف 8 ۔ کیونکہ بہت مدت گزر گئی تھی چھوٹی عمر میں ان سے الگ ہوگئے تھے اور اب جو ان ہوچکے تھے۔ دوسرے یہ چیز تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ جس بھائی کو وہ کنویں میں ڈال گئے تھے وہ آج مصر کا مختار مطلق ہوگا۔ (کذافی الروح) ۔
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب یوسف نے ان کے سفر کا سامان تیار کردیا محلہ وغیرہ تو کہنے لگا اب کے اگر تم آئو تو اپنے بےمات بھائی کو بھی لے کر آئو9 کیا تم نہیں دیکھتے میں کسی پوری ماپ غلہ دیتا ہوں اور میں (مہمانوں کو) سب سے اچھی طرح اتارتا ہوں۔

ف 9 ۔ یعنی بنیامین کو، جو حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے سگے بھائی اور سب بھائیوں سے چھوٹے تھے، بلوانے کے لئے ان سے کہا۔ (از روح) ۔
Ayah 12:60

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

پھر اگر تم اس کو نہ لائو تو میرے پاس سے تم کو کچھ غلہ نے ملے گا میں کوئی معاملہ تم سے نہ کروں گا اور نہ میرے پاس پھٹکنا10

ف 10 ۔ ممکن ہے انہوں نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے اپنے چھوٹے بھائی کا ذکر کیا ہو یا اپنے علاوہ ان کے حصے کا غلہ بھی مانگا ہو ور اس طرح حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو انہیں یہ حکم دینے کا موقع مل گیا ہو کہ آئندہ جب تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لائیں ورنہ غلہ نہیں ملے گا۔ (از روح)
Ayah 12:61

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم جاتے ہی اس کے باپ سے خواہش کریں گے کہ اس بھائی کو ہمارے ساتھ روانہ کردیں اور ہم یہ ضرور کام کرینگے11

ف 11 ۔ یعنی ہم سے جس طرح بھی بن پڑے گا اسے اپنے ساتھ لانے کی کوشش کریں گے۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

یوسف نے (بھائیوں) کے چلتے وقت اپنے غالموں یا خادموں سے کہا یہ12 یہ جو پونجی ساتھ لائے تھے وہ پھر ان کے سامان میں رکھ دو اس لئے کہ جب یہ لوٹ کر اپنے گھر پہنچیں تو اپنی پونجی پہچان کر شاید پھر آئیں

ف 12 ۔ جس رقم کے عوض انہوں نے غلہ خریدا وہ بطور احسان کے اناج کی بوریوں میں چھپا کر رکھ دی گئی۔ (از موضح) ۔
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب1 وہ لوٹ کر اپنے باپ پاس پہنچے تو کہنے لگے باوا اگر تم بھائی کو ہمارے ساتھ نہ کرو تو) غلہ کا لانا اب بند ہوگیا بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے ہم غلہ پھر لاتے ہیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں آپ اندیشہ نہ کئے2

ف 1 ۔ کیونکہ جب ان کے پاس غلہ خریدنے کے لئے پونچی ہوگی تو آنے کی راہ میں رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ (کذافی الروح) ۔2 ۔ یونی یوسف کی طرح اس کے بارے میں فکر نہ کیجئے۔ ہمیں پورا احساس ہے اس لئے ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

باپ یعقوب نے کہا کیا میں اس پر بھی تمہارا ایسا ہی بھروسا کروں جیسے پہلے اس کے بھائی یوسف پر تمہارا بھروسا کرچکا ہوں3 ضد سب سے بہتر نگہبان ہے اور وہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور4

ف 3 ۔ تم جب یوسف ( علیہ السلام) کو لے گئے تھے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ ہم اس کی حفاظت کریں گے پھر تم نے اس کی اچھی حفاظت کی کہ آج تک اس بےچارے کی کوئی خیر خبر نہیں۔ ایسی ہی حفاظت اب تم اس بھائی کی کرنی چاہتے ہو۔ (ابن کثیر) ۔ 4 ۔ یعنی میں اسے بحالت مجبوری غلہ کی ضرورت کے پیش نظر تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ سو میں اسے تمہاری حفاظت میں نہیں بلکہ اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں۔ وہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ (ابن کثیر) ۔ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو بھائیوں کے ساتھ بھیجتے وقت صرف یہ کہا تھا۔ انی خاف ان یاکلہ (مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں بھیڑیا اسے نہ کھاجائے) اس لئے آزمائش میں ڈال دئیے گئے۔ اب جو بنیامین کو فاللہ خیر حافظا وھو ارحم الرحمین۔ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں دیا تو نہ صرف بنیامین بلکہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) بھی مل گئے۔ (ازوحیدی) ۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

جب انہوں نے یوسف کے بھائیوں نے اپنا سامان کھولا دیکھا تو ان کی پونجی اسی میں ہے جو ان کو لوٹا دی گئی خوش ہو کر کہنے لگے اور اب ہمیں اور کیا چاہیے یہ پونجی بھی ہے جو ہم کو پھیر دی گئی ہے اور اپنے گھروالوں کے لئے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی خبر داری کرینگے اور (دوسرا فائدہ بھائی کے لے جانے سے یہ ہوگا کہ) اونٹ بھر غلہ اور لائینگے5 اس کے حصے کا اب کے جو لائے میں وہ تھوڑا سا غلہ ہے

ف 5 ۔ یا اس طرح ایک اونٹ بھر زائد غلہ لانا آسان ہی معاملہ ہے۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

باپ نے کہا میں تو ہرگز اس کو تمہارے ساتھ بھیجنے والا نہیں جب تک تم خدا کی قسم کھا کر مجھ سے عہد نہ کرو کہ تم ضرور میرے پاس اس کو لیکر آئو گے ہاں اگر تم سب مارے جائو (یا مجبور ہوجائو) تو یہ اور بات ہے جب انہوں نے یہ عہد کرلیا تو باپ نے کہا جو ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر گواہ ہے6

ف 6 ۔ وہ سب سن رہا ہے لہٰذا جس نے خیانت اور بدعہدی کی وہ اس کے ہاں سخت سزا کا مستحق قرار پائے گا۔ یا ہم جو کہہ رہے ہیں اسے پورا کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے یہ کہہ کر گویا ایک طرف ظاہری اسباب کے اعتبار سے وثوق حاصل کرلیا اور دوسری طرح بھروسا اللہ تعالیٰ پر کیا اور اللہ پر توکل کا صحیح مطلب بھی یہی ہے۔ (کذافی الموضح) ۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور یعقوب نے جب سب بیٹے چلنے لگے تو کہا بیٹا جب تم مصر میں پہنچو تو شہر میں ایک ہی دروازے سے سب نہ جائو ایسا نہ ہو تم کو نظر لگ جائے بلکہ الگ الگ دروازوں میں سے جانا اور میں یہ تدبیر بتا کر اللہ کے حکم کو تو تم پر سے ذرا بھی ٹال نہیں سکتا حکم تو بس اللہ ہی کا چلتا ہے اور کسی کا نہیں چلتا اسی پر میں نے بھروسا کیا ہے اور بھروسا کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے9

ف 7 ۔ نہ تو آیت کے الفاظ میں اس چیز کی تصریح ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی سے اس کا پتا چلتا ہے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ حکم کیوں دیا کہ وہ ایک دروازے سے نہیں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں۔ البتہ حضرات ابن عباس ؓ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ انہیں نظر بد نہ لگ جائے حضرت شاہ صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں، یہ ٹوک (نظر بد) سے بچائو کا طریقہ بتایا اور توکل اللہ پر کیا۔ ٹوک لگنی غلط نہیں اور نظر بد سے بچائو کرنا درست ہے۔ (اھ) صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔ المین حق۔ یعنی نظر بد کا لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ عہد نبوی میں بہت سے لوگوں کو نظر بد سے نقصان کو پہنچنا ثابت ہے۔ ایک حدیث میں نظر بد کی شدت تاثیر کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : لوکان شئی سابق القدر لسبقتۃ۔ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرسکتی تو نظر بدسبقت لے جاتی۔ (شوکانی۔ روح) ۔ 8 ۔ بلکہ اس نے جو کچھ تمہاری تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ ہو خرابی سے بچنے کی تدبیر کرے۔ اگرچہ اصل بھروسا تدبیر پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت پر ہونا چاہیے کیونکہ اسباب کی تاثیر بھی اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف ہے۔ پس تدبیر اصل اللہ تعالیٰ سے اسی کی طرف فرار کو دوسرا نام ہے۔ (کذافی الروح) ۔ 9 ۔ یعنی میری طرح تم بھی اسی پر بھروسا کرو اور اپنی تدبیر پر غرور نہ کرو۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ مصر میں اسی طرح جدا جدا دروازوں سے جیسے باپ نے ان کو حکم دیا تھا داخل ہوئے تو اللہ کے سامنے تو یہ تدبیر کچھ ان کو کام نہ آسکتی تھی وہ تو بس یعقوب کے دل کی ایک آرزو تھی جو اس نے پوری کرلی اولاد کی مامتا ہر ایک کو وتی ہے اور بیشک یعقوب کو جو ہم نے سکھلایا وہ اس کو (خوب) جانتا تھا (کہ اللہ کی تقدیر سے کوئی بغیر روک نہیں سکتی لیکن اکثر آدمی یہ نہیں1 جانتے

ف 1 ۔ یعنی اس سر الٰہی (تقدیر) کی حقیقت کو نہیں جانتے اور اپنی تدبیر پر نازاں رہتے ہیں۔ یا پھر اللہ پر بھروسا کرنے کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ سرے سے کوئی تدبیر اختیار ہی نہ کی جائے جیسا کہ بعض متاخرین متصوفہ سے منقول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اگر تدبیر اور توکل کے مفہوم کو صحیح طور پر سمھے کر اپنے بیٹوں کو نصیحت کی تھی تو وہ دراصل ہماری اس تعلیم کا نتیجہ تھا جو ہم نے اسے دی تھی یعنی بذریعہ وحی کے۔ (کذافی الروح) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں : تقدیر پھر بھی ان پر آگئی۔ دفع نہ ہوئی، سو جن کو علم ہے ان کو تقدیر کا یقین اور اسباب کا بچائو دونوں ہوسکتے ہیں۔ اور بےعلم سے ایک ہی تو دوسرا نہ ہو۔ (۔۔ )
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ یوسف کے بھائی دوبارہ یوسف پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس اتارا اور2 دوسرے بھائیوں سے چھپا کر اس سے کہا میں تیرا سگا بھائی یوسف ہوں تو یہ لوگ جو آج تک3 تیرے ساتھ کرتے رہے اس کا رنج مت کر

ف 2 ۔ کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے دو دو کو ایک ایک جگہ ٹھہرایا۔ اس طرح جب بنیامین اکیلے رہ گئے تو انہیں اپنے پاس ٹھہرایا۔ (فتح القدیر) 3 ۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت یوسف ( علیہ السلام) بنیامین کے ساتھ علیحدہ ہوئے ہوں گے اور اسے بتایا ہوگا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں تو بنیامین نے اپنے سوتلے بھائیوں کی بدسلوکی کے قصے بیان کئے ہوں گے اس پر حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے انہیں تسلی دی کہ اب تم اپنے بھائی کے پاس پنچ گئے ہو لہٰذا ان بھائیوں کی بدسلوکی کا رنج نہ کرو۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تمام غم غلط ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عزت و راحت عطا فرمائے۔ (از وحیدی) ۔
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب یوسف ان کا سامان سفر کا تیار کردیا تو پانی پینے کا کٹورہ4 اپنے بھائی بنیامین کے سامان رکھوا دیا5 اور اب وہ لوگ چلے پھر یوسف کے اشارے سے ایک لگانے والے نے پکارا قافلہ والو تم بیشک چور ہو6

ف 4 ۔ جو اکثر مفسرین (رح) کے قول کے مطابق چاندی کا تھا۔ بعض کہتی ہیں کہ سونے کا تھا جس پر جواہر لگے تھے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ کوئی قیمتی پیالہ تھا۔ (کبیر) ۔ 5 ۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے کٹورا رکھوانے کا یہ فعل اپنے بھائی کی رضا مندی سے اور اس کے علم میں لا کر کیا ہوگا جیسا کہ اوپر والی آیت سے اندازہ ہوتا ہے واللہ اعلم۔ 6 ۔ وہ اس لحاط سے واقعی چور تھے کہ انہوں نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو باپ سے چرا کر کنویں میں پھینک دیا تھا۔ یا یہ پکارنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اشارے اور حکم سے تھا ہی نہیں بلکہ جب لوگوں نے وہ کٹورا نہ پایا تو اسی قافلہ والوں پر چوری کا الزام لگایا جو اس وقت وہاں موجود تھا۔ یہی انسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے پیالہ رکھنے کا تذکرہ اپنے غلاموں یا نوکروں سے کردیا تھا۔ (وحیدی) ۔
Ayahs 12:71–75

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

ہو ان لوگوں نے پکارنے والے کی طرف رخ کیا اور پوچھا کیوں کیا چیز تمہاری گم ہے

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم کو بادشاہ کا کہوڑہ جس سے غلہ ماپتے تھے انہیں ملتا اور جو شخص اس کو لیکر آئے اس کو ایک اونٹ بھر غلہ و انعام ملیگا اور میں اس کا ضامن ہوں (یہ پکارنے والے نے کہا)

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

یوسف کے بھائی کہنے لگے قسم خدا کی تم تو جان چکے ہو ہم دوبارہ تمہارے پاس رہ چکے ہیں ہم نے اپنے ملک سے نہیں آنے میں کو مصر میں فساد مچائیں چوری چکاری کریں اور نہ ہم چور ہیں

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بادشاہی لوگ کہنے لگے اگر تم جھوٹے نکلے تو چور کی کیا7

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

سزا ہے یوسف کے بھائی کہنے لگے چوری کی سزا ہماری قوم میں تو یہ ہے کہ جس کے سامان میں یہ کہو وہ ملے وہی اس کے بدل دے دیا جائے ہم ظالموں چوروں کو یہی سزا دیتے ہیں8

ف 8 ۔ مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان میں چور کی یہی سزا مقرر تھی کہ وہ ایک برس تک اس شخص کی غلامی میں دیدیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہو۔ (فتح القدیر) ۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر یوسف نے اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے دوسروں کی خرچیاں رکھنی شروع کیں بعد اس کے وہ کہ وہ اپنے بھائی کی خرجی سے نکلوایا ہم نے اس طرح سے یوسف کو بنیامین کے رکھ لینے کی تدبیر بتائی9 وہ مصر کے بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو رکھ نہیں سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہتا2 ہم جس کے چاہتے ہیں اس کے درجے بلند کرتے ہیں3 اور دنیا میں ہر ایک عالم سے بڑھ کر دوسرا عالم ہے4

ف 9 ۔ یا اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کے لئے (بنیامین کو رکھ لینے کی) تدبیر کی۔ 1 ۔ کیونکہ مصر کا شاہی قانون یہ تھا کہ چور کو پیٹا جائے اور اس سے چوری کے مال کے علاوہ اتنا ہی مال اور لے کر اس شخص کو دے دیا جائے جس کا مال چوری ہوا ہے۔ اس قانون کی رو سے چور کو غلام نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ۔ 2 ۔ یعنی یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خود بھائیوں سے دریافت کیا کہ اگر تم چور نکلو تو تمہاری کیا سزا ہونی چاہیے اور پھر یہ جو ان بھائیوں کی زبان سے نکلا کہ جس کے پاس ہوا سے غلام بنا لیا جائے، یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اللہ نے ایسا چاہا اور اسی نے تدبیر فرمائی۔ ورنہ اگر اللہ نہ چاہتا تو نہ حضرت یوسف اپنے بھائیوں سے چور کی سزا دریافت کرتے نہ بھائی بتاتے اور نہ حضر یوسف ( علیہ السلام) اپنے بھائی بنامین کو اپے ہاں رکھ سکتے۔ 3 ۔ یعی جسے چاہتے ہیں علم عطا فرما کر اس کے درجے بلند کرتے ہیں۔ جیسے دوسر بھائیوں کے مقابلے میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے درجے بلند کئے۔ 4 ۔ یہاں تک کہ تمام جاننے والوں کے اوپر وہ ذات پاک ہے جسے عالم الغیب والشھادۃ کہتے ہیں۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

جب بنیامین کی خرجی سے کٹورا نکلاتی یوسف کے بھائی کہنے لگے اگر اس نے چوری کی تو کچھ تعجب نہیں اس کے بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی5 یوسف نے اس بات کو دل میں چھپالیا یعنی پی گئے اور ان سے کچھ کھولا دل میں کہا تم تو (یوسف) بدتر ہو7 اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم اپنے بھائی کی چوری بیان کرتے ہو8

ف 5 ۔ یہ اشارہ حضرت یوسف کی طرف تھا۔ پہلے کہہ چکے کہ ہم چور نہیں ہے لیکن اب جو دیکھا کہ بنامین کے پاس چوری کا مال نکل آیا ہے تو اپنی خفت مٹانے اور اپنی پاکبازی ظاہر کرنے کے لئے فوراً اپنے آپ کو بنیامین سے الگ کرلیا اور اس کے جرم کو بہانہ بنا کر اس کے بھائی پر بھی چوری کی جھوٹی تہمت لگا دی۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے گم ہوجانے کے بعد بنیامین کے ساتھ یہ بھائی کیا سلوک کرتے رہے ہونگے۔ 6 ۔ کیونکہ اگر ظاہر کرتے تو وہ سمجھ لیتے کہ یہی یوسف ( علیہ السلام) ہے اور ابھی یہ راز کھولنے کا وقت نہ آیا تھا۔ 7 ۔ یعنی یوسف ( علیہ السلام) نے چوری کی ہو یا نہ کی ہو مگر تمہارے چور ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ تم نے اسے باپ سے چرا کو کنویں میں پھینک دیا۔ اس پر غضب یہ کہ اُ (رح) ٹا اپنے آپ کو پاکباز اور یوسف ( علیہ السلام) کو جھوٹا بتاتے ہو۔ 8 ۔ یعنی تم جو یوسف ( علیہ السلام) پر چوری کا الزام لگا رہے ہو اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ تم جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کو دھوکا نہیں دے سکتے۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

کہنے لگے اے عزیز مصر کے وزیر اس بنیامین کا ایک باپ ہے بہت بوڑھا تو ہم میں سے (اس کے بدل) ایک کو تو رکھ لے ہم دیکھتے ہیں تو لوگوں سے احسان کیا کرتا ہے9

ف 9 ۔ اس کا باپ بوڑھا ہے وہ اس کی جدائی برداشت نہ کرسکے گا۔ پہلے بھی تم نے ہم پر بہترے احسانات کئے ہیں بس اب اتنا احسان اور کرو کہ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی بجائے رکھ لو۔ امید ہے تم ہمیں اپنے کرم سے مایوس نہیں کرو گے۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسف نے کہا اللہ کی پناہ کہ ہم کسی ناحق پکڑ رکھیں مگر جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی اسی کو ہم پکڑ رکھیں گے ایسا کریں تو ہم ظالم ٹھیرے10

ف 10 ۔ اور ظلم ہم کو نہیں سکتے۔ بنیامین حقیقت میں چور نہیں تھے اس لئے حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے یہ کہا کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب یہ لوگ یوسف کے بھائی یوسف سے11 ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر مصلحت کرنے لگے12 ان میں جو13 بڑا تھا کہنے لگا بھائیو کیا تم کو معلوم نہیں تمہارے باپ نے تم سے چلتے وقت خدا کی قسم دے کا پکا اقرار لیا تھا14 اور پہلے تم یوسف کے باب میں ایک قصور کرچکے ہو تو میں تو جب تک میرا باپ مجھ کو اجازت نہ دے یا اللہ تعالیٰ اور کوئی تدبیر15 نہ نکالے اس ملک سے سرکنے والا نہیں اور اللہ بہتر فیصلہ کرنیوالا ہے

ف 11 ۔ یعنی اس کی بہتری منت سماجت کی کہ بنیاین کو چھوڑ کو ہم میں سے کسی کو گرفتار کریں مگر وہ کسی طرح نہ مانے۔ 12 ۔ یعنی مشورہ کرنے لگے۔ 13 ۔ یعنی دوسرے بھائیوں کو اس نے رخصت کردیا خود اس توقع پر رہ گیا کہ شاید عزیز مصر کا دل پسج جائے۔ (از موضح) ۔ 14 ۔ کہ بنیامین کو اپنے ساتھ ضرور واپس لانا۔ (وحیدی) ۔ 15 ۔ خواہ میری موت کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو یا بنیامین کی رہائی کی کوئی صورت نکل آئے۔ (روح) ۔