11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں جانچ لی گئی ہیں3 پھر حکمت والے (خبردار خدا) کی طرف سے کھول کر بیان کی گئی ہیں4

ف 3 ۔ یعنی خوب پختہ اور اٹل ہیں جن میں کوئی عیب اور نقص نہیں ہے اور نہ ہو۔ مجموعی اختیار سے۔ توراۃ انجیل کی طرح منسوخ ہیں اور پھر معارضہ سے بھی بالا ہیں۔ (کذافی الوحیدی) ۔ 4 ۔ یعنی نہایت واضح کہ کس آیت کے مفہوم میں ابہام اور پیچیدگی نہیں ہے۔ (شوکانی) ۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

اس لئے کہ تم خدا کے سوا اور کسی کو نہ پوجو5 میں اسی کی طرف سے تم کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں6

ف 5 ۔ یا زندگی میں اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ 6 ۔ یعنی اس کے عذاب سے ڈرانے والا اور اس کے ثواب کی خوشخبری دینے والا۔ (شوکانی)
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور اس لئے کہ تم اپنے مالک سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو پھ راس کی درگاہ میں تو یہ کرو7 وہ تم کو ایک مدت معین یعنے موت تک اچھی طرح دنیا کے مزے اٹھانے والے8 جس نے زیادہ عباادت کی ہے اس کو زیادہ اجر ملے گا9 اور اگر اس کے حکم سے منہ موڑو گے تو مجھے یہ ڈر ہے کہ بڑے دن کا عذاب تم پر نہ ہو10

ف 7 ۔ یعنی جو گناہ کرچکے ان کی معافی چاہو اور آئندہ کے لئے توبہ کرو کہ پھر گناہ نہ کریں گے یا ہر طرف سے منہ موڑ کر اسی کی طرف پلٹ آئو۔ 8 ۔ یعنی اس کی نعمتوں سے سرفراز ہوجائو گے زندگی میں چین اور آرام نصیب ہوگا اور زندگی بھر عزت و شرف سے رہو گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ استغفار سے بلائیں دور ہوتی ہیں اور توبہ سے خدا کی ایسی مہربانی حاصل ہوتی ہے کہ زندگی امن چین اور خوشحالی سے بسر ہوتی ہے۔ عمل صالح، اور استغفار کی برکات کے لئے دیکھئے سورة نحل آیات 89، سورة نوح آیت 11 ۔ (کذافی الوحیدی) ۔ 9 ۔ یعنی جو اطاعت اور نیک اعمال کرنے میں جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی اسے دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں میں اجر زیادہ ملے گا۔ اللہ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اس کا قاعدہ ہے کہ جو کوئی برائی کرتا ہے اس کے لئے ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور جو نیکی کرتا ہے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ 10 ۔ یعنی قیامت کے دن کا عذاب جو بہت سخت ہے۔ (وحیدی) ۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم کو اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے11

ف 11 ۔ اگر تم توبہ و استغفار نہ کرو گے تو وہ تمہیں عذاب بھی دے سکتا ہے۔ تم اس کی گرفت سے باہر نہیں ہو۔ (وحیدی) ۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

(اے پیغمبر) سن رکھ یہ کافر اپنے سینوں کا حال چھپانے کے لئے اپنے سنیے موڑ لیتے ہیں2 سن لے یہ جس وقت اپنے کپڑے اوڑھ لیتے ہیں اور اپنا سارا بدن چھپالیتے ہیں13) اس وقت بھی جو کام یہ چھپا کر کرتے ہیں یا کھلم کھلا اللہ اس کو جانتا ہے وہ تو دلوں تک کے بھید جانتا ہے14

ف 12 ۔ اوپر فرمایا کہ اگر اعراض کرو گے تو بڑے دن کے عذاب میں گرفتار ہوجائو گے۔ اب یہاں بتایا کہ باطنی اعراض بھی ظاہری اعراض کی طرح ہے (کبیر) ۔ سینے کو لپیٹینا ایک محاورہ ہے جس سے مراد ہے اعراض کرنا، یا غلط سوچنا، بےاصل شبہات سے اپنے دل کو تسلی دینا عقائد حقہ سے اعراض کرنا وغیرہ کیونکہ یہاں صدور سے مراد علوم صدر ہیں۔ (فتح الرحمن) ۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے سینوں میں جو کفر وعناد رکھتے ہیں اور اسے چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ان کے راز ہائے بستہ کی اطلاع نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) ۔ 13 ۔ یعنی جب اپنا سارا بدن چھپا کر اپنے دروازے بند کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارے اصل حال کی اطلاع کون پاسکتا ہے ؟ کپڑے لپیٹنا کنایہ ہے رات کو کپڑے اوڑھ کر بستروں پر سونے سے۔ اس حالت کو خاص طور پر اس لئے بیان فرمایا کہ ایسے وقت میں ہی عموماً خیالات اور وساوس دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ (رازی) ۔ 14 ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : کافر کچھ مخالفت کی بات گھر میں کہتے، اس کا جواب قرآن میں اترتا۔ تب سے ایسی بات کہتے، تو کپڑا اوڑھ کر دوہرے ہو کر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل کیا۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر جو جانور چلتا پھرتا ہے اس کی روزی اللہ پر ہے1 اور وہی جانتا ہے کہ کہاں رہے گا اور کہاں مرے گا2 سب کھلی کتاب لوح محفوظ میں موجود ہے

ف 1 ۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت و احاطہ کا بیان تھا کہ انسان کے ظاہر اور پوشیدہ احوال کیا وہ تو دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ اس آیت میں اسی پر دلیل پیش کی ہے کہ ہر جاندار کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے روزی پہنچ رہی ہے۔ پھر اگر اللہ کا علم وسیع نہ ہوتا تو یہ روزی کا بندوبست کیسے ممکن تھا۔ (رازی) ۔ اصل میں رزق کے تمام خزانے تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے مگر کسب کی حد تک انسان وسائل ِ رزق کو کام میں لاسکتا ہے بلکہ اس کا مکلف ہے۔ لیکن ان اسباب کو موثر نہ سمجھے بلکہ اصل بھروسا اللہ تعالیٰ پر ہو۔ اسی کا نام توکل ہے۔ مقصد یہ کہ رزق کے حصول کے لئے اسباب و وسائل کو کام میں لانا تو کل کے منافی نہیں ہے بلکہ حدیث میں ہے۔ اعقل و توکل کہ پہلے اونٹ کو گھٹنا باندھ دیجئے اور پھر اللہ پر تو کل کیجئے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے : ” کوئی متفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنی عمر اور رزق جو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے پورا نہ کرے۔ لہٰذا تم کو چاہیے کہ کسب معاش کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جائز طریقوں سے روزی حاصل کرو “۔ اور پھر یہ ذہن بھی غلط ہے کہ طلب و سعی کے بغیر رزق نہیں ملتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی مخلوق وہ ہے جن کو مباشرت اسباب کے بغیر رزق پہنچ رہا ہے۔ (روح) ۔ 2 ۔ یہ بھی اسی دلیل کا تتمہ ہے۔ ” مستقر “ اور ” مستودع “ کی تفسیر میں علما سے مختلف اقوال مروی ہیں۔ ذہن پر انسان چلتا پھرتا ہے آخر جہاں پہنچ کر اس کی سیر کا منتہیٰ ہوگا وہ اس کا ” مستقر “ ہے اور پھر جہاں ٹھکانا کرتا ہے وہ ” مستودع “ ہے۔ (ابن کثیر) شاہ ولی اللہ (رح) لکھتے ہیں جو حالت انسان کے اختیار رہنے سہنے کی ہے اسے اس کا ” مستقر “ کہا جائے گا اور اس سے قبل جو ٹھکانے (مقر) غیر اختیاری تھے جیسیصلب پلدورحم م اور ان تمام اطوار کو اس کا ” مستودع “ کہا جائے گا۔ (فتح الرحمن) موضح میں ہے ” مستعز “ جہاں ٹھہرتا ہے یعنی بہشت و دوزخ۔ ” مستودع “ جہاں سونپا جاتا ہے اس کی قبر۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا علم انسان کی اس زندگی پر بھی حاوی ہے اور موت کے بعد کے تمام حالات بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے خدا جس نے چھ دن میں آسمان اور زمین کو بنایا3 اور اس کا تخت آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر تھا4 اس نے دنیا کو اسلئے بنایا کہ تم کو آزمائے کون تم میں اچھے کام کرتا ہے5 اور اے پیغمبر اگر تو ان کافروں سے کہے تم بیشک مرنے کے بعد جی اٹھو گے تو وہ کافر ضرور کہیں گے یہ تمہاری بات تو ایک کھلے جادو کی طرح ہے اور بس

ف 3 ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے کامل علم کا اثبات تھا اور اس آیت میں کمال درت کا بیان ہے۔ آسمان و زمین کی چھ دنوں میں تخلیق کے بارے میں دیکھئے سورة اعراف آیت 45 ۔ (کبیر) ۔ 4 ۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ (ابن کثیر) ابتداء آفرینش کے متعلق مختلف روایات آتی ہیں۔ صحیح اور مشہور روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے سوال کیا گیا ہے کہ پہلے پہل خلق کی ابتدا کیسے ہوئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کان اللہ قبل کل شئی وکان عرسہ علی الماء وکتب فی اللوح الحفوظ زکر کل شئی کہ ہر چیز سے پہلے اللہ تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا ذکر لکھ دیا۔ “ دوسری حدیث میں ہے کہ آسمان و زمین کی آفرینش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی سب تقدیریں لکھ لی تھیں۔ (صحیح مسلم و بخاری) سنن کی بعض روایات میں ہے این کان ربنا قبل ان یخلق الخلق۔ خلق کی پیدائش سے قبل پروردگار کہاں تھا ؟ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کان فی عمائما تحتہ ھواء وما قوتہ ھوا “۔ مگر امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور اس باب میں صرف مشہور حدیث سے ہی استدلال ہوسکتا ہے۔ (کبیر) پانی اور عرش کے بعد ” سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا۔ “ یہی صحیح ہے اور ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا مگر یہ روایت ضعیف ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے ابتدء آفرینش کے متعلق خطبہ دیا جس میں ابتداء عالم سے لے کر قیام قیامت تک کہ تمام چیزیں بیان کردیں۔ “ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء آفرینش کے متعلق صحابہ ؓ سے جو آثار مروی ہیں وہ سب کے سب اسرایلیات سے نہیں لئے گئے۔ (احسن الفوائد) ۔ 5 ۔ یعنی تم میں سے کون اس کے دئیے ہوئے اختیار اور قوت تمیز سے فائدہ اٹھا کر سیدھی راہ اختیار کرتا ہے اور کون غلط راہ پر چلتا ہے۔ احسن عمل یا عمل صالح وہ ہے جو ” خالص اللہ کے لئے ہو اور شریعت کے مطابق “۔ اگر ان دو شرطوں میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی جائے تو وہ عمل باطل اور ضائع ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 11:8–9

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ہم گنتی کے چند روز ان پر عذاب اتارنے میں دیر کریں تو کہیں گے کیا ہوا عذاب کیوں رک گیا سن لے جس دن عذاب ان پر آپہنچے گا پھر وہ کسی کے ٹالے ان سے ٹل نہیں سکتا اور جس عذاب کا ٹھٹھا اڑاتے تھے وہی ان کو گھیر لے گا

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم آدمی کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھا کر پھر اس کو چھین لیتے ہیں تو وہ ناامید نا شکرا بن جاتا ہے6

ف 6 ۔ یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ جب اسے کوئی معمولی سی مصیبت بھی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی پچھلی تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ یہی اس کی ناشکری ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو اس تکلیف کے بعد جو اس پر آئی تھی پھر آرام کا مزہ چکھائیں تو کہنے لگتا ہے اب سب دلدر مجھ سے دور ہوئے اور پھول کر مست بن جاتا ہے7

ف 7 ۔ اترانے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب تمام مصیبتیں اور سختیاں ختم ہوگئیں۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر (اللہ کے بندے) صابر ہیں اور نیک کام کرتے ہیں8 انہی ولگوں کے واسطے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور بڑا اجر ہے

ف 8 ۔ یعنی وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب تکلیف آتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور جب خوشحالی اور نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں تو شکر بجا لاتے ہیں۔ حدیث میں ہے ” مومن کے لئے ہر حالت خیرو برکت کا سبب بنتی ہے اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر بجا لاتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) کیا تو اس وحی میں سے جو تجھ پر آتی ہے کچھ چھوڑ دینا چاہتا اور کیا تیرا دل اس بات پر خفا ہے کہ6 کہ وہ کہہ اٹھیں (اگر یہ سچا پیغمبر ہوتا) تو اس پر ایک خزانہ کیوں نہ اترتا یا ایک فرشتہ اس کے ساتھ کیوں نہ آتا ( جو اس کی تصدیق کرتا جاتا) تو تو اور کچھ نہیں صرف اللہ کے عذاب سے ان کو ڈرانیوالا ہے1 اور باقی سب چیزیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں2

ف 9 ۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے شبہات، مطالبات اور طعن وتشنیع سے تنگ آکر کبیدہ خاطر نہ ہوجائیں بلکہ مشرک کی مذمت اور توحید کے اثبات کے متعلق جو وحی بھی آئے اسے بلا کم وکاست ان تک پہنچاتے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وحی کا وہ حصہ حذف کردیں جس میں بتوں کی عیب جوئی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 1 ۔ یعنی آپ ﷺ نے عذاب سے ڈرانے ولا بنا کر بھیجا ہے لہذا بلو خوف لومۃ لائم آپ ﷺ اس فریضہ کو سرانجام دیتے ہیں۔ (از وحیدی) ۔ 2 ۔ یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے تو آپ ﷺ کا ایک خزانہ کیا روئے زمین کے تمام خزانے دے دے گا اور ایک فرشتہ کیا آپ ﷺ پر سینکڑوں فرشتے اتار دے گا۔ بہرحال جیسی اس کی مصلحت و حکمت ہوگی ویسا ہی کرے گا۔ آپ ﷺ کو ان چیزوں سے کیا غرض۔ آپ ﷺ تو اللہ کا جو حکم آئے بےدھڑک ان کو مناتے رہیں۔ (کذا فی الوحیدی) ۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

بلکہ وہ کافر کہتے ہیں کہ اس نے یعنی پیغمبر نے قرآن کو جھوٹ بٹ لیا ہے کہہ دے اگر تم سچے ہو تو قرآن کی طرح دس بٹی ہوئی سورتیں بنا کرلے آئو اور خدا کے سوا تم اپنی مدد کے لئے جن جن کو بلا سکتے ہو بلا3 پھر اے مسلمانو اور پیغمبر اگر یہ کافر جو تم نے چاہا

ف 3 ۔ یعنی اگر تمہیں اس قرآن کے خدا کا کلام ہونے میں شک و شبہ ہے تو تم سب جمع ہو کر اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کرو۔ واضح رہے کہ قرآن میں متعدد مرتبہ عرب کی تحدی کی گئی ہے۔ سورة اسراء (آیت 88) میں پورے قرآن کے لئے چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہاں سے سورتوں کے لئے تحدی کی گئی ہے اور سورة یونس (آیت 82) اور سورة بقرہ (آیت 32) میں ایک ہی سورة بنالانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ لیکن عرب پورا قرآن یا دس سورتیں تو کیا ایک سورة بھی بنا کر پیش نہ کرسکے۔ یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ (ابن کثیر) ۔ واضح رہے کہ قرآن کا معجز ہونا جیسے اس کی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ہے اسی طور پر وہ اپنے اسلوبِ بیان ور تناقض پر مشتمل نہ ہونے کے اعتبار سے بھی معجز ہے۔ (کبیر۔ ابن کثیر) ۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

وہ نہ کرسکیں تو تم یقین کرلو4 قرآن اللہ کا علم لے کر اترا ہے5 اور یہ بھی سمجھ لو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے تو کیا اب بھی تم مانتے ہو (یا نہیں6

ف 4 ۔ یستجوا میں ضمیر ” ھم “ کفار کے لئے ہے اور ” لکم “ میں ” کم “ کے مخاطب آنحضرت ﷺ اور مسلمان ہیں۔ یعنی اگر وہ کفار تمہارے سامنے اس چیلنج کا جواب پیش نہ کریں۔ اور اگر ” ھم “ تمہارے سامنے اس چیلنج کا جواب پیش نہ کریں۔ اور اگر ” ھم “ ضمیر کا مرجع ممن، موصولہ ہو اور ” لکم “ سے مراد کافر ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ جن کو تم اللہ کے سوا مدد کے لئے پکارتے ہو بلائو اگر وہ تمہاری دعوت قبول نہ کریں۔ (شوکانی) ۔ 5 ۔ تو سمجھ لو اور یقین کرلو کہ اس میں سی کے دئے ہوئے احکام ہیں۔ کسی بندے کے بس میں نہیں کہ اس قسم کے احکام دے سکے۔ (شوکانی) ۔ 6 ۔ یہ بھی کافروں سے خطاب ہے یعنی تمہیں چاہیے کہ اسلام میں داخل ہو کر اس کے احکام و شرائع کی اتباع اختیار کرلو۔ اور اگر اس کے مخاطب مسلمان قرار دئیے جائیں تو معنی یہ ہونگے ” کیا اب بھی تم اسلام پر ثابت قرار ہوئے یا نہیں “ ؟ مگر پہلا احتمال گونہ راحج ہے کیونکہ اس سے ضمائر میں اتساق پیدا ہوجاتا ہے۔ (شوکانی) ۔
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ اچھے کام کر کے دنیا کی زندگی اور رونق چاہتے ہوں تو ہم ان کے کاموں کا بدل دنیا ہی میں ان کو پورا بھر دیں گے اور وہ دنیا میں گھاٹا نہ اٹھائیں گے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے آخرت میں دوزخ کے سوا اور کچھ نہیں اور دنیا میں جو (اچھے کام) کیے تھے وہ سب اکارت ہوئے اور ان کا کیا کرایا سب ہوا ہوگیا7

ف 7 ۔ یہ آیتیں کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں کیونکہ بعد میں لیس لھم الا النار ہے کہ ان کے لئے آخرت میں آگ ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لئے صدقہ خیرات وغیرہ نیک عمل کرتے ہیں جن کا تعلق رفاہِ عامہ سے ہے انہیں ان کاموں کا بدلہ دنیا میں ہی پورا پورا دے دیا جاتا ہے لیکن یہ بدلہ ملنا مشئیت الٰہی پر موقوف ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے۔ عجلنا لہ ما نشاء لمن نرید ( سورة اسراء آیت 81) آخرت میں بعض کفار جیسے ابو طالب کے متعلق آیا ہے کہ اس کو ہلکا عذاب ہوگا تو یہ خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ نیکی کی وجہ سے ہے۔ ورنہ آخرت میں نیک عمل کی قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے۔ علما تفسیر نے ان دو آیتوں کو عام بھی مانا ہے اور لکھا ہے کہ اس میں منافق اور ریاکار بھی شامل ہیں کہ ان کے عمل بھی آخرت میں اکارت جائیں گے۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ایک شہید کو لایا جائے گا وہ کہے گا یا اللہ ! میں نے لڑتے لڑتے تیری راہ میں جان دے دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم جھوٹے ہو تم نے محض اس لئے جنگ کی تھی کہ لوگ تمہیں بہادر کہیں چناچہ تمہیں یہ دلو مل گئی۔ پھر حکم ہوگا کہ اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دو ۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ریاکارقاری اور ریاکار دولت مند کے متعلق بھی یہی بیان فرمایا۔ (مسلم) ۔ واضح رے کہ اگر اس آیت کو عام رکھا جائے تو لیس لھم الا النار “ کی تاویل کی جائے گی کہ کفار اور منافقین کے لئے تو دائمی جہنم ہے مگر مسلمان گنہگار۔ سزا کے بعد جہنم سے نکل آئیں گے اور بعض کو اللہ تعالیٰ معاف بھی کردے گا اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

کیا جو شخص اپنے مالک کی طر سے ایک دلیل رکھتا ہو یعنے عقل سلیم اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گواہ بھی اس کو پہنچا ہو جبرئیل یا قرآن مجید یا حضرت محمد8 اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب توریت شریف اس کو راہ دکھانیوالی اور رحمت ہوچکی ہو9 ایسے لوگ10 وہی قرآن پر بھی ایمان لائیں گے اور ان کافروں کے فرقوں میں سے جو کوئی اس کو یعنے قرآن یا پیغمبر کو نہ مانے تو اس کے لئے دوزخ کا وعدہ ہے11 تو (اے پیغمبر) قرآن میں شک مت کر12 وہ سچ ہے بیشک تیرے مالک کی طرف سے اترا ہے) لیکن اکثر لوگوں کو یقین نہیں

ف 8 ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : یعنی دل میں اس کا نور اور مزہ پاتا ہے اور قرآن کی حلاوت۔ (موضع) 9 ۔ وہ شخص اس کی طرح ہوگا جس کے پیش نظر دنیا اور اس کی خوشحال اور فارغ البالی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں کی حالت یکساں نہیں ہوسکتی۔ (ازوحیدی) ۔ 10 ۔ جو لوگ عقل سلیم سے کا لیتے ہیں اور خدا کا گواہ بھی ان کو پہنچ چکا ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ توراۃ میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا بشارتیں اور علامات بیان کی گئی ہیں۔ (وحیدی) ۔ 11 ۔ یہ وعید تمام گروہوں (اہلِ ایمان) کے لئے ہے جو بھی قرآن سے روگردانی اور اس کے احکام سے انکار کرے گا خواہ نام کے اعتبار سے مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ (ت۔ ن) ۔ 21 ۔ بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور مراد دوسرے لوگ ہیں۔ (قرطبی) ۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا1 یہ لوگ (قیامت کے دن) اپنے مالک کے سامنے لائے جائیں گے اور گواہ گواہی دیں گے انہی لوگوں نے اپنے مالک پر جھوٹ بولا تھا سن لو اللہ تعالیٰ کی ظالموں پر پھٹکار ہے

ف 1 ۔ مثلا بتوں کو اللہ کے حضور سفارشی سمجھے یا فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے۔ (قرطبی) ۔ موضح میں ہے کہ خدا پر جھوٹ باندھنا کئی طرح ہے مثلا علم میں غلط نقل کرنا، خواب بنا لینا یا دریت و عقل کو دین کے معاملات میں درمیان میں لے آنا یا دعویٰ کرنا کہ کشف رکھتا ہوں یا اللہ کے مقرب ہوں۔
Ayahs 11:19–20

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں کجی (عیب) نکالنا چاہتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت کو بھی نہیں مانتے

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا میں خدا کو تھکا نہیں سکتے اگر خدا ان کو عذاب کرنا چاہے) اور نہ خدا کے سوا ان کا کوئی حمایتی ہے قیامت کے دن3 ان کو اوروں سے دونا عذاب ہوگا نہ وہ سچی بات سن سکتے تھے ایسے کفر و حسد میں غرق تھے اور نہ سیدھا رستہ دیکھ سکتے تھے ایسے اندھے بن گئے تھے4

ف 2 ۔ ان کے پیغمبر یا فرشتے جو عمل لکھتے ہیں اور علما جنہوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کی۔ یہ سب گواہ کفار کے متعلق اعلان کریں گے کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے (ابن کثیر۔ کبیر) امام رازی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی تو سب کی ہوگی مگر ان کو رسوا کرنے کے لئے پیش کیا جائے گا۔ (کبیر) ۔ 3 ۔ جو انہیں اللہ کے عذاب اور پکڑ سے بچا سکے۔ (کبیر) ۔ 4 ۔ یعنی اللہ پر بہتان باندھا۔ ان کو کیسے معلو ہوا کہ فلاں فلاں بت یا بزرگ ان کو بچالیں گے ؟ نہ غیب کی انہوں نے سنیں نہ غیب دیکھا۔ (وقریبا من ھذافی الروح) ۔
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو تباہ کیا اور (دنیا میں) جو جھوٹی باتیں بناتے تھے وہ سب ہوا ہوگئیں (گئی گذریں)5

ف 5 ۔ یعنی جھوٹے دعوے آخرت میں گم ہوگئے۔ مثلاً یہ جو کہا کرتے تھے کہ ہمارے یہ بت یا بزرگ یا پیرو مرشد۔ خدا سے ہماری سفارش کریں گے اور ہم اس کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ (کذافی الوحیدی) ۔
Ayahs 11:22–24

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

ضرور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ گھاٹے میں پڑیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور اپنے مالک کے سامنے عاجزی کرتے رہے وہی جنتی ہیں جو ہمیشہ جنت میں رہیں گے

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فرقوں مسلمانوں اور کافروں کی مثال ایسی ہے جیسے اندھے بہرے اور دیکھتے سنتے کی کیا دونوں کا حال برابر ہے کیا تم غور نہیں کرتے6

ف 6 ۔ مسلمان دیکھتا سنتا ہے اور کافر اندھا بہرا ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔
Ayah 11:25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا7 اس نے کہا میں تم کو خدا کے عذاب سے صاف صاف ڈرانیوالا ہوں

ف 7 ۔ جن حالات میں نبی و مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ ﷺ سے پہلے دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) کو پیش آچکے تھے۔ اس لئے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء ( علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ایک طرف آنحضرت ﷺ کی ہمت بندھے اور دوسری طرف کفار مکہ کو تہدید اور تنبیہ ہو۔ (کبیر) ۔
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

میں یہ کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو کیونکہ میں ڈرتا ہوں تم کو تکلیف کے دن قیامت کا عذاب نہ ہو1

ف 1 ۔ اس ” عذاب الیم “ سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور طوفان کا عذاب بھی۔ (روح المعانی) یہ وہی ابت ہے جو اس سے پہلے سورة کے آغاز میں آنحضرت کی زبان سے ادا ہوئی۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تب اس کی قوم کے سردار جو کافر تھے (نوح سے) کہنے لگے ہم تو یہی دیکھتے ہیں تو ہماری طرح ایک آدمی ہے2 اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں رذالے ہیں3 وہ بھی اوپر کی عقل سے4 اور ہم تو تم کو کسی بات میں اپنے سے زیادہ پاتے5 بلکہ تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں6

ف 2 ۔ مکہ کے لوگ بھی آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہاری طرح کا بشر ہو جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا اور بال بچے رکھتا ہو آخر وہ اللہ کا رسول ﷺ کیسے ہوسکتا ہے۔ (دیکھئے سورة قرآن آیت 7) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور یہ کہ ان دونوں کا ایک شخص میں اجتماع محال ہے۔ 3 ۔ یعنی اس وہ سے بھی آپو کو ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے کہ کچھ لوگ آپو کے متبع ہوگئے ہیں کیونکہ وہ تو ہمارے رذالے ہیں جن کا کسی شخص کی اتباع کرنا کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ بعینہ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے سردار نبی ﷺ کے بارے میں کہا کرتے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ (دیکھئے آیت 45 تا 45) ۔ 4 ۔ یعنی بلا سوچے سمجھے۔ یا وہ اس قسم کے لوگ ہیں جو گہری سمجھ کے مالک نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر غور و فکر کرتے اور ذرا تامل سے کام لیتے تو تمہاری اتباع نہیں کرسکتے تھے۔ اگر یہ (بادی الرای) ’ نزاک “ کی ظرف ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کی رذالت بالکل واضح ہے۔ (کذا فی الرضا) ۔ 5 ۔ یعنی تم لوگون کو۔ یہ خطاب حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کے ماننے ولوں سے ہے۔ 6 ۔ تم جو یہ کہتے ہو کہ نوح (علیہ السلام) خد ا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

نوح نے کہا بھائیو بتلائو تو سہی اگر میں اپنے مالک کی طرف سے جو دلیل آئی اس پر قائم ہوا اور اس نے اپنی مہربانی سے مجھ کو سرفراز کیا پیغمبری دی اور تم سے وہ چھپی رہی7 تو کیا ہم زبردستی تم پر نہیں چاہتے مگر اس کو تمہارے گلے چیپ سکتے ہیں8

ف 7 ۔ یعنی وہ دلیل تمہیں نظر نہ آئی یا وہ رحمت (نبوت) تم سے مخفی رہی۔ اور تم اسے اپنی بےوقوفی سے سمجھ نہ سکے۔ یہ ان کے پہلے اعتراض کا جواب ہے کہ ” تم ہماریجی سے بشر ہو۔ “ (روح) ۔۔ 8 ۔ یعنی کیا ہم زبردستی تمہیں اس دلیل کا قائم کردیں حالانکہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور اس سے بھاگتے ہو۔ (روح) ۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور بھائیوں میں تم سے اس سمجھانے اور نصیحت کرنے پر کچھ روپیہ نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس اللہ ہی پر ہے اور میں ایمانداروں کو (اپنے پاس سے) نکال نہیں سکتا9 وہ آخرت ایک روز اپنے مالک سے ملنے والے ہیں10 اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تم لوگ بیفائدہ جہاللت کرتے ہو11

ف 9 ۔ جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے وہ چونکہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں اس لئے انہیں اپنے پاس سے دھکے دے کر نکال دوں۔ یہ بھی اسی قسم کا مطالبہ تھا جو قریش کے سردار نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے۔ (از شوکانی) ۔ 10 ۔ یعنی میں اگر ان کو ستائوں یا اپنی مجلس سے نکال دوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا انصاف چاہیں گے اس کا میں کیا جواب دوں گا یا یہ کہ وہ لوگ تو اللہ کے ہاں عزت پالیں گے اور اس بارگاہ عالی میں ایمان و عمل کے باعث ان کو یار ملے گا۔ پھر تمہارے ذلیل سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ یہ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ آپ ﷺ (نوح علیہ السلام) کے مقبع ہمارے رذالے ہے۔ (رازی) ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : کافروں نے مسلمانوں کو رذال ٹھہرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں اور بات سنیں۔ سو فرمایا کہ دل کی بات اللہ تحقیق کرے گا جب اسے ملیں گے۔ میں اگر مسلمانوں کو ہانکوں تو اللہ سے کون چھڑوائے مجھ کو اور رذالا ٹھہرایا اس پر کہ وہ کسب کرتے تھے۔ کسب سے بہتر کمائی نہیں اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو۔ (کذافی الروح) ۔ 11 ۔ یعنی کسی بات کو بھی صحیح طور پر نہیں سمجھتے اور تمہاری نظر صرف ظواہر پر ہے اور انجام پر غور نہیں کرتے۔ (کبیر۔ روح) بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ فلاں شخص نیچ قوم کا ہے اس لئے اسے اپنے پاس بیٹھنے نہ دو ؟ اللہ کے نزدیک اسی شخص کی عزت ہے جو ایماندار اور پرہیز گار ہے۔ بےایمان اور بدکار کتنے ہی شریف خاندان کا ہو اللہ کے نزدیک چوہڑے اور چمار سے بھی بدتر ہے۔ (وحیدی) ۔
Ayahs 11:30–31

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور بھائیوں اگر میں ان لوگوں کو (بےقصور) نکال دوں تو اللہ کے سامنے (جب وہ میرے اوپر غصہ کریگا کون میری مدد کو کھڑا ہوگا کیا تم سونچتے نہیں

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ خدائی خزانے میرے پاس ہیں اور نہ میں غیب کی بات جانتا ہوں اور نہ میں اپنے تئیں فرشتہ کہتا ہوں12 اور جو لوگ تمہاری آنکھوں میں حقیر ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ ان پر اپنا فضل نہیں کرنے کا13 اللہ خوب جانتا ہے ان کے دلوں میں کیا ہے14 اگر ایسی باتیں میں کروں تو میں بھی ظالموں میں شریک ہوجائوں گا15

ف 12 ۔ یہ اس بات کا جواب ہے جو ان لوگوں نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم اپنے جیسے ایک انسان نظرآتے ہو اور یہ کہ ہم تم کو کسی بات میں اپنے سے زیادہ نہیں پاتے۔ اس پر حضرت نوح فرماتے ہیں کہ وہاں میں واقعی تم ہی جیسا ایک بشر ہوں نہ میرے پاس اللہ کے خزانے میں نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں۔ یعنی اس قسم کی کوئی فوقیت مجھ میں نہیں ہے۔ میرا جو بھی دعویٰ ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس نے اپنے سیدھے راستے کی مھے ہدایت بخشی ہے میرا یہ دعویٰ ناقابلِ تردید ہے۔ اس کی تم جس طرح چاہو آزمائش کرلو۔ (از وحیدی) ۔ 13 ۔ یعنی مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ محض تمہیں خوش کرنے کے لئے ان لوگوں کے بارے میں اس قسم کی جاہلانہ بات کہوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اوصاف کا وجود اولازم نبوت میں سے نہیں ہے کہ ان کے بغیر نبوت مل ہی نہیں سکتی اور نہ ان اوصاف کا عدم ہی خیر سے مانع ہے کہ جو شخص مالدار نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خیر بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ قادرِ کریم ہے کہ ناتوانوں کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو دم بھر میں ذلیل کردیتا ہے۔ اس وقت بھی یہ لوگ اپنے رب پر ایمان اور اس کے رسول کی پیروی کی بدولت تم سے زیادہ باعزت اور شریف ہیں۔ (از روح۔ وحیدی) ۔ 14 ۔ اگر ان کے دلوں میں ایمان و اخلاص ہے تو اللہ کے ہاں ضرور اجر پائیں گے۔ تم اور میں مل کر بھی انہیں اس اجر سے محروم نہیں کرسکتے۔ (از وحیدی) ۔ 15 ۔ یعنی اگر میں انہیں خواہ مخواہ ذلیل قراردوں۔ اشارہ ہے کہ تم ان کو رذالے کہنے میں ظالم ہو یا یہ کہ اگر میں خزائن الٰہی کو جمع کرنے، غیب کے جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرون تو۔۔۔۔
Ayahs 11:32–35

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

وہ کہنے لگے نوح تو نے ہم سے بحث کی اور بہت بحث کی (اب ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے یہی بات باقی ہے) اگر تو سچا ہے تو جس عذاب کا ہم سے وعدہ کرتا ہے اس کو لے کر آ

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا اللہ اگر چاہے گا تو وہ عذاب تم پر لے آئے گا اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے اس سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میں تمہاری بھلائی بھی کرنا چاہوں تو میری نصیحت تم کو کچھ فائدہ نہ دے گی اگر اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہے وہی تمہارا مالک ہے اور اسی کے پاس تم کو لوٹ جانا ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا وہ (یعنی نوح کی قوم والے) کہتے ہیں کہ نوح نے یہ سب جھوٹ بنا لیا ہے1 اے نوح کہہ دے اگر میں نے یہ اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر ہوگا

ف 1 ۔ کہ میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں اور اس نے یہ یہ احکام مجھئے دئیے ہیں۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور تم جو گناہ کرتے ہو اگر سچ کو جھوٹ کہتے ہو اس سے مجھ کو غرض نہیں2 اور نوح کو وحی بھی کہی کہ تیری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں بس اب ان کے سوا کوئی ایمان نہ لائے گا تو ان کے کاموں پر جو یہ کرتے ہیں تو رنج مت کر3

ف 2 ۔ یعنی اس کا وبال خود تم پر پڑے گا۔ اس آیت کے بارے میں مفسرین (رح) کا اختلاف ہے۔ بعض اسے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے قصے ہی سے متعلق سمجھتے ہوئے اس میں خطاب حضرت نوح سے قرار دیتے ہیں ( جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے) اور بعض اسے حضرت نوح کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیتے ہیں اور اس کو مشرکین مکہ کا قول ٹھہرا کر آنحضرت ﷺ کو مخاطب مانتے ہیں یعنی کیا (مکہ کے کافر) کہتے ہیں کہ (محمد ﷺ ) نے اس (قرآن) کو اپنے دل سے گھڑ لیا ہے۔ (اے محمد ﷺ ) کہ دے اگر میں نے اسے اپنے دل سے گھڑ لیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور تم جو گناہ کرتے ہو میں اس کی ذمہ داری سیبری ہوں۔ پہلی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور ” جملہ معترضہ “ کا قول مقاتل (رح) کا ہے۔ علمائے تفسیر (رح) میں سے امام رازی اور ان کیبالتبع امام شوکانی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے اور لکھا ہے کہ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حافظ ابن کثیر (رح) اور صاحب ــکشف “ نے دوسری تفسیر کو راحج قرار دیا ہے اور یہی رائے شاہ عبد القادر (رح) کی ہے۔ (ایضا ملتقط من الروح) ۔ 3 ۔ جب قوم کی تکذیب اور ایذا رسانی ھد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو یہ وحی کی جس کا بیان اس آیت میں ہے اور نوح کو قوم سے کلیتہ مایوس کردیا تو نوح (علیہ السلام) نے اللہ کے حضور التجا کی کہ میں بےبس ہوں ان سے مرای بدلہ لے۔ (القمر) اور بد دعا کی : رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیار۔ اے پروردگار روئے زمین پر کافروں کا ایک گھر باقی نہ چھوڑ۔ (نوح)
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم کے موافق کشتی تیار کر اور ظالموں کے مقدیم میں مجھ سے مت بول4 وہ ضرور ڈوبیں گے

ف 4 ۔ یعنی ان کے بارے میں تاخیر عذاب کی سفارش مت کر یا ان میں سے کسی کے بارے میں سفارش مت کر۔ بیشک انتقام کا وقت آپہنچا ہے اب مہلت نہیں ہے۔ (وحیدی) ۔
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ (یعنے نوح) کشتی بنانے لگا اور جب اس پر اس کی قوم کا ایک گرو گذرتا تو اس سے ٹھٹھا کرتا نوح نے ان سے کہا اگر تم ہم پر آج ٹھٹھے مارتے ہو تو مارلوکل) ہمت م پر ماریں گے جیسے تم ٹھٹھے مارتے ہو5

ف 5 ۔ وہ اس پر ہنستے کہ خشک زمین پر غرقابی کا بچائو کر رہے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) اس پر ہنستے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ ایمان و اطاعت کے ذریعہ عذاب الٰہیے بچائو حاصل کریں الٹے کفر و معاصی پر اصرار کرکے اور خدائی نشانات کا مذاق اڑا کر عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے جواب کو برسبیل مشاکلت ” سخریہ “ کہ دیا ہو۔ جیسا کہ جزاء سیہ سیتہ مثلھا میں مذکور ہے۔ (روح المعانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ (یعنی نوح علیہ السلام) ہنستے اس پر کہ موت سر پر کھڑی ہے اور یہ ہنستے ہیں۔ (از موضح) ۔
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

تو اب قریب میں تم کو معلوم ہوجائے گا کس ر (ہم پر یا تم پر دنیا میں روسائی کا عذاب آن پڑتا ہے اور ہمیشہ کا عذاب کس پر اترتا ہے6

ف 6 ۔ یعنی آخرت میں جہنم کا عذاب جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آن پہنچا اور تنور نے جوش مارا7 ہم نے (نوح سے) کہہ دیا ہر قسم کے (جانوروں میں سے) دو دو جوڑا ایک نر ایک مادہ1 اور اپنے گھر والوں کو ان کے سوا جن کے لئے (ہلاکت) کا حکم ہوچکا2 اور ایمانداروں کو اپنے ساتھ کشتی میں سوار کرتے اور تھوڑے ہی سے آدمی اس پر ایمان لائے تھے3

ف 7 ۔ تنور (بروزن تفعول) تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے گھر میں، طوفان کا نشان بتا رکھا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلے تب کشتی میں سوار ہوجائو۔ (موضح 9 جمہور مفسرین (رح) نے تنور سے یہی عام تنور مراد لیا ہے۔ لیکن حسب تفسیر ابن عباس ؓ ” تنور “ سے مراد روئے زمین ہے یعنی ساری زمین چشمہ آب بن گئی اور پانی ابلنے لگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ و فجرنا الارض عیونا (القمر 12) ۔ حتیٰ کہ تنورجو آگ کی جگہ ہوتے ہیں، پانی کے فوارے بن گئے۔ (ابن کثیر۔ روح) امرنا سے مراد عذاب کا حکم ہے کہ آسمان سے موسلا دھار پانی برسنے لگا اور زمین سے چشموں کی طرح پانی ابلنا شروع ہوگیا دونوں طبقے مل گئے اور زمین غرقاب ہوگئی۔ (ت۔ ن) 1 ۔ موضح میں ہے یعنی ہر جانور کا ایک جوڑا۔ (جیسا کہ ” اثنین “ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے) رکھ لیا کشتی میں جس کی نسل رہنی مقدر تھی۔ (کذافی الروح) ۔ 2 ۔ یعنی ان کی بیوی جس کا ذکر سورة تحریم میں آیا ہے اور ان کا بیٹا جس کے غرق ہونے کا ذکر آرہا ہے۔ 3 ۔ وہی جن کو قوم نے رزالے کہا۔ قرآن و حدیث میں ان کی تعداد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔