11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

کہنے لگے لوط ہم تیرے مالک کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں وہ ہرگز تیرے پاس تک پھٹک نہ سکیں گے5 تو ایسا کر اپنے گھ رکے لوگوں کے لے کر کچھ رات ہی (یہاں سے) چل دے اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے6 مگر تیری جورو7 اس کو بھی وہی عذاب ہوگا جو ان لوگوں کو ہوگا8 ان (کی ہلاکت) کا وعدہ صبح کو ہے کیا صبح نزدیک نہیں (یعنی بالکل قریب ہے)9

ف 5 ۔ یعنی جب فرشتوں نے دیکھا کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) بالکل عاجز آگئے ہیں اور اپنی قوم کے بدکاروں کو رونہ نہ سکنے کی وہج سے سخت رنجیدہ ہیں تو انہوں نے ظاہر کردیا کہ ہم فرشتے ہیں۔ 6 ۔ پیچھے سے عذاب کی بنا پر شور اور دھماکوں کی آواز بھی آئے تب بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھو بلکہ اس علاقے جلد از جلد نکل جانے کی فکر کرو۔ 7 ۔ اسے ساتھ نہ لے جائو کیونکہ وہ کافر ہے یا وہ پیچھے مڑ کر دیکھے گی۔ (وحیدی) ۔ 8 ۔ علمائے تفسیر کا بیان ہے کہ جب حضرت لوط ( علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے چل دئیے تو ان کی بیوی بھی ساتھ تھی لیکن جب عذاب نازل ہونے کی آوازیں آنے لگیں تو وہ پیچھے مڑ کر اپنی قوم کی تباہی پر افسوس کرنے لگی۔ ایک پتھر اس پر بھی آکر گرا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگئی۔ یہ ملطب اس صورت میں ہوسکتا ہے جب ” الامریک کا استثنا “ لا یلتفت سے ہو مگر اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ وہ ساتھ ہی نہیں گئی اور اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہوگئی۔ اس صورت میں یہ استثناء ” فاسر باھلک “ سے ہوگا۔ (ابن کثیر) ۔ 9 ۔ ہمارے حضرت ﷺ کو مکہ فتح ہوا صبح کے وقت، شاید وہی اشارہ ہو۔ (موضح) ۔
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارا عذاب آن پہنچا ہم نے اس کے اوپر کا غصہ تلے کر ڈالا اور ہم نے اس پر کھڑنجے کے پتھر تہ10 بر نہ (یا پے در پے) تیرے مالک کے پاس بنے ہوئے (یا نشان کئے ہوئے) برسائے11

ف 10 ۔ یعنی پختہ اینٹوں کے روڑے یا کھنگر۔ 11 ۔ ” نشن لگے ہوئے۔ “ یعنی ان میں سے ہر پتھر پر کوئی علامت بنائی گئی تھی کہ اس سے کس شخص کو ہلاک کرنا ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

اور ایسے پتھر برسنا ظالموں سے دور نہیں ہے12

ف 12 ۔ یعنی آج جو لوگ ظلم کی روش پر چل رہے ہیں ( جیسے کفار مکہ) ان پر بھی نزول عذاب بعید قیاس نہیں۔ عذاب اگر قوم لوط پر آسکتا تھا تو ان پر بھی آسکتا ہے۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور ہم نے مدین کی طرف اس کے بھائی ہم قوم شعیب کو بھیجا13 اس نے کہا بھائیو اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی سچا خدا نہیں ہے اور ماپ اور تول میں فرق نہ کرو (گھٹائو نہیں) میں تو دیکھتا ہوں تم آسودہ ہو1 اور اگر تم اس حرکت سے باز نہ آئو گے) تو مجھ کو تم پر ایسے عذاب کا ڈر ہے جو (تم سب کو) گھیرے گا2

ف 13 ۔ تشریح کے لئے دیکھئے سورة اعراف رکوع۔۔۔ ف۔ 1 اچھے خاصے خوشحال ہو پھر اس قسم کی بےایمانی اور فریب کاری کی تمہیں کیا ضرورت ہے ؟ 2 ۔ یعنی آخرت کا عذاب یا دنیا ہی کا عذاب جس سے کوئی نہ بچ سکے گا۔
Ayahs 11:85–86

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور بھائیو ماپ اور تول انصاف سے پورے کرو (نہ زیادہ لو نہ کم دو ) اور لوگوں کو سودا سلف میں ان کی چیزیں کم نہ کردو اور ملک میں فساد مچاتے مت پھرو

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

(ہر ایک3 کا حق ادا کر کے) جو اللہ (حلال سے) بچا دے وہ تمہارے لئے دغا بازی اور حرام کے ماں سے) بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو اور میں تمہارے اوپر کروڑی تو ہوں نہیں4

ف 3 ۔ نقل ہے کہ امانت کا روپیہ۔۔ لیتے تھے۔ (موضح) ۔ ابن کثیر میں ہے وہ لوگ ڈاکتے ڈالتے تھے۔ 4 ۔ یعنی تم پر نگران تو نہیں ہوں جو ہر وقت تمہاری ناپ تول کو دیکھتا رہوں میرا کام تو تمہیں سمجھا دینا اور خدا کے عذاب سے ڈرا دینا ہے۔ ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اے شعیب کیا تیری نماز نے تجھے یہ سکھلایا کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ بیٹھیں ان کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے یا اپنے مال میں جو ہم چاہیں جس طرح تصرف ہم کو منظور ہوا وہ نہ کریں5 دوسرے کے حکم پر چلیں تو تو اپنے نزدیک بڑا برباد اور نیک چلن تھا6

ف 5 ۔ یعنی کیا تو اپنی نماز کا دائرہ عمل اس قدر وسیع سمجھتا ہے کہ دوسروں کے مذہبی و مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگا ہے۔ ہماری مرضی ہے جس کی چاہیں پوجا اور جس کی چاہیں بندگی کریں اور یہ مال جو ہمارے اپنے ہیں ان میں جس طرح چاہیں تصر فکریں۔ جائز ناجائز جیسے چاہیں کمائیں۔ کوئی ہمیں کیوں ٹوکے ؟ 6 ۔ پھر تو ایسی نادانی کی باتیں کرنے لگا ہے ؟ یا بس تو ہی ایک عقلمند اور نیک چلن آدمی رہ گیا ہے۔ باقی ہم اور ہمارے باپ دادا جائل اور احمق ہی رہے ! یہ بات انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) سے استہزا اور تمسخر کے انداز میں کہی۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکیوں کے کام آپ نہ کرسکیں تو انہیں کو لگیں چڑانے، یہی خصلت ہے کفر کی۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

شعیب نے کہا بھائیو بھلا بتائو تو سہی اگر میں اپنے مالک کی طرف سے ایک کھلی سند رکھتا ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے فضل سے حلال روزی دی ہو7 اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تم کو تو ایک کام سے منع کروں پھر خود اس کو کرنے لگوں8 میں تو چاہتا ہوں جہاں تک مجھ سے ہو سکے تم کو مسلمانوں9 اور خدا ہی نے مجھ کو یہ توفیق دی ہے10 اسی پر میں بھروسا کرتا ہوں اور اسی کی طرف اپنا دل لگاتا ہوں

“7 ۔ تو میرے لئے یہ کیسے جائز ہے کہ میں تمہیں نیکی کا حکم نہ دوں اور برائی سے منع نہ کروں ؟ اس آیت میں ” رزق حسن “ کا لفط دوہرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک نبوت اور علم حق کے معنی میں اور دوسرے حلال روزی (ذریعہ زندگی) کے معنی میں، کہتے ہیں کہ حضرت شعیب ؓ خود ایک مالدار آدمی تھے۔ (فتح القدیر) ۔ 8 ۔ یعنی یہ جو میں تمہی ناپ تول میں بےایمانی کرنے سے روک رہا ہوں، اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمہیں تو اس سے باز رہنے کی تلقین کروں اور خود اس کا ارتکاب کرکے خوب نفع اٹھادوں بلکہ میں تم سے جو بات بھی کہتا ہوں، پہلے خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) اور اس امت کے سلف صالح کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔ (از بن اکثیر) ۔ 9 ۔ تاکہ تمہارا دنیا و آخرت میں بھلا ہو۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہ خصلت ہے خد ا کے نیک لوگوں کی کہ چڑانے سے برا نہ مانا اور اپنے مقدور بھر سمجھاتے رہے۔ 10 ۔ کہ آج تم کو یہ نصیحت کر رہا ہوں جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کی کامیابی کا دار و مدار اللہ ہی کی توفیق پر ہے۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور بھائیو کہیں میرے ساتھ ضد کرنا تم کو اس (آفت میں نہ ڈال دے جو آفت نوح کی قوم پر پڑی وہ سب گئے) یا ہود کی قوم پر آندھی سے تباہ ہوئے) یا صاح کی قوم پر صچھٹکارا سے سب مرگئے) اور لوط کی قوم بھی تم سے دور نہیں1

ف 1 ۔ یعنی ابھی تو قوم لوط ( علیہ السلام) کے واقعہ کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور وہ تمہارے قریب ہی کے علاقہ میں پیش آچکا ہے۔ واضح رہے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا زمانہ ہود ( علیہ السلام) سے تقریباً چھ سات سو سال بعد کا ہے اور جغرافیائی اعتبار سے بھی مدین کا علاقہ اس زمین سے متصل واقع تھا جہاں حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم بستی تھی۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے مالک سے ض اپنے گناہوں کی) بخشش مانگو پھ راس کی درگاہ میں توبہ کرو (کہ آئندہ گناہ نہ کریں گے بیشک میرا مالک مہربان ہے محبت کرنے والاف 2

ف 2 ۔ یعنی اپنے بندوں سے اسی لئے تمہیں پہلے سے خبردار کرنے کا انتظام فرمایا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے شعیب جو تو کہتا ہے اس میں سے بہت باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں3 اور ہم دیکھتے ہیں تو ہم لوگوں میں کمزور ہے4 اور جو تیرے کنے کے لوگ نہ ہوتے5 تو ہم کب کے تجھ پر پتھرائو کرچکے ہوتے اور تو ہمارے سامنے کوئی چیز نہیں6

ف 3 ۔ یہ بات انہوں نے یا استہزا اور تحقیر کے انداز میں کہی یا خدا کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے تھے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی سیدھی باتیں بھی واقعی ان کے ذہن میں نہ آتی تھیں حالانکہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نہ کسی غیر زبان میں گفتگو کرتے تھے اور نہ ان کا انداز بیان ہی پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا بلکہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اپنی فصیح البیانی کی وجہ سے ” خطیب الانبیاء ( علیہ السلام) “ کے لقب سے پکارے جاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ 4 ۔ نہ تیرے پاس فوج ہے، نہ حکومت اور نہ کرو فر۔ 5 ۔ جو ہمارے دین پر ہیں لیکن تیری پشت پناہی کر رہے ہیں۔ 6 ۔ جس زمانہ میں یہ آیات نازل ہوئیں، بالکل وہی صورت حال نبی ﷺ کو مکہ معظمہ میں درپیش تھی۔ قریش آپ ﷺ کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور ہر ممکن طریقے سے آپ ﷺ کی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے لیکن چونکہ بنی ہاشم آپ ﷺ کی پشت پر تھے اور خاص طور پر آپ ﷺ کے چچا ابو طالب آپ ﷺ کی پوری طرح حفاظت کر رہے تھے اس لئے قریش کو آپ ﷺ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوسکی۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شعیب نے کہا بھائیو کیا تم کو خدا سے زیادہ میرے کنبے کا خیال ہے اور خدا کو تو تم نے اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا (ذرا بھی اس سے نہیں ڈرتے) خیر مرے مالک کا علم تمہارے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے7

ف 7 ۔ وہ تمہاری مکاریوں اور حیلہ سازیوں سے واقف ہے۔ اس لئے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور بھائیو اچھا تم اپنی جگہ جو کرتے ہو کرتے رہو میں بھی جو کرتا ہوں وہ کر رہا ہوں آگے چل کر تم جان لوگ گے رسوائی کا عذاب کس پر آتا ہے اور کون جھوٹا تھا8 اور وقت کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

ف 8 ۔ میں یا تم ؟
Ayahs 11:94–95

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (یا عذاب) آن پہنچا اس کا وقت آگیا تو ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ والے ایمانداروں کو تو اپنی مہربانی سے بچا دیا اور گنہگاروں کو چھنگاڑنے آرہا (ایسی زور کی آواز نکالی معاذ اللہ پھر اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (مر گئے اور ایسے مرمٹے)

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے سن لو مدین کے لوگ بھی اسی طرح دھتکارے گئے جیسے ثمود کے لوگ9

ف 9 ۔ سورة اعراف اور عنکبوت میں ہے کہ انہیں ” رجفہ “ یعنی زلزلے نے آدبایا اس لئے اخلب یہ ہے کہ پہلے ” صبحۃ “ (چنگھاڑ) یا سخت چیخ بلند ہوئی ہوگی اور پھر زلزلہ آیا ہوگا۔ آج بی ” مدین “ کے علاقے میں سینکڑوں میل تک جو پہاڑ پائے جاتے ہیں ان پر زلزلے کے آثار ہیں تمام پہاڑ اس طرح سے پھٹے ہوئے ہیں جیسے کسی زبردست زلزلے نے انہیں کھیل کھیل کردیا ہو۔
Ayahs 11:96–97

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور کھلا معجزہ دے کر

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون10 اور اس سے سرداروں کی طرف بھیج چکے ہیں لیکن انہوں نے فرعون کا کہنا سنا اور فرعون کی چال ٹھیک نہ تھی (وہ پکا شریر اور گمراہ تھا)

ف 10 ۔ کھلے معجزے سے مراد عصا اور نشانیوں سے مراد وہ دوسری نونشانیاں ہیں جو سورة اسراء (آیت 101) اور سورة نحل (آیت 12) میں مذکور ہیں۔
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن آگے آگے اپنی قوم کو لئے ہوئے دوزخ میں ان کو پہنچا دے گا1 اور برا گھات ہے جس پر یہ لوگ پہنچیں گے2

ف 1 ۔ یعنی جس طرح دنیا میں اپنے لوگوں کو پیشوا تھا سی طرھ آخرت میں بھی ان پیشوا ہوگا اور وہ اسی کی رہنائی میں چل کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔ یہی حال ان تمام لوگوں کو ہوگا جو کسی قوم کی رہنمائی کفر و معصیت کی طرف کرتے ہیں کہ وہ انہی کی قیادت میں چل کر جہنم میں داخ (رح) ہوں گے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ” قیامت کے روز جاہلیت کے تمام شعرا کا جھنڈا امرئو القیس نے اٹھا رکھا ہوگا جو اس کی قیادت میں چل کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ (ابن کثیر) ۔ 2 ۔ گھاٹ پر تو لوگ پیاس بجھانے جاتے ہیں مگر وہاں پانی کی بجائے آگ سے ان ی مہمانداری کی جائے گی۔ العیاذ باللہ (وحیدی) ۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور یہاں دنیا میں لعنت ان کے پیچھے لگ گئی اور قیامت کے3 دن (بھی) برا انعام ہے جو ان لوگوں کو دیا گیا ہے

ف 3 ۔ یعنی آگے کے عذاب کے علاوہ ہم نے انہیں یہ سزا بھی دی کہ رہتی دنیا تک لوگ ان پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے اور قیامت کے دن ان پر جو پھٹکار پڑے گی اس کا حال تو معلوم ہی ہے۔ ان آیات میں فرعون کے دوزخی ہونے پر تنصیص کی ہے۔ شیخ اکبر (رح) کی بعض عبارتوں سے فرعون کو مومن ہونا مفہوم ہوتا ہے کہ مگر یہ عبارتیں مدسوس ہیں۔ ” فتوحات “ کے صحیح نسخے ان عبارتوں سے خالی ہیں بلکہ فتوحات کے باب 26 میں شیخ اکبر (رح) نے فرعون کے دوزخی ہونے کی تصریح کی ہے۔ (کذافی الروح وقد مرفی سورة یونس) ۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ چند خبریں ہیں بستیوں کی جو ہم تجھ سے بیان بیان کرتے ہیں ان میں کچھ بستیاں تو اب تک قائم ہیں4

ف 4 ۔ وہ آباد ہیں یا ان کے نشان باقی ہیں جیسے قوم ثمود کہ اس کے آثار موجود تھے۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور کچھ بالکل مٹ گئیں اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بےقوصر ہلاک نہیں کیا لین انہوں نے خود اپنے اوپر آپ ظلم کیا5 پھر جب تیرے مالک کا عذاب آیا ان کے وہ (جھوٹے) م عبود جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے تھے کچھ ان کے کام نہ آئے بلکہ زیادہ تباہی کے باعث ہوئے6

ف 5 ۔ انہوں نے ہمارے رسولوں ( علیہ السلام) کو جھٹلایا اور کفر کی روش اختیار کی۔ اس کی انہیں سز املی۔ (ابن کثیر) ۔ 6 ۔ اس لئے کہ انہی کی پیروی کی بدولت ان پر تباہی و بربادی آئی۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تیرا مالک جب ظالم بستی ولاوں کو پکڑتا ہے تو اسی طرح (جیسے ان بستویں کو پکڑا) اس کی پکڑ ہوا کرتی ہے بیشک اس کی پکڑ (بہت) تکلیف کی سخت ہے7

ف 7 ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن آخر کار جب اسے پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن کثیر) ۔ یہ آیت ہر زمانہ میں ہر ظالم کو شامل ہے۔ ایک بزرگ نے کہا ہے کافر کی سلطنت قائم رہتی ہے ظالم کی نہیں رہتی۔ (وحیدی) ۔
Ayahs 11:103–107

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان واقعات میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے اس کو ایمان ہے) آخرت کا دن وہ ہے جس دن سب لوگ (ایک میدان میں) اکٹھا ہوں گے اور وہ دیکھنے کا دن ہوگا (سب وہاں حاضر ہوں گے)

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم جو اس دن کے لانے میں دیر کر رہے ہیں تو معین مدت پوری کرنے کے لئے

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب یہ دن آئے گا تو کوئی شخص بات تک نہ کرسکے گا مگر خدا کے حکم سے اور ان میں کچھ بدبخت ہوں گے کافر اور مشرک کچھ نیک بخت

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

پھر جو لوگ بدخت ہوں گے وہ دوزخ میں رہیں گے وہاں چل پون مچائیں گے (چیخیں چلائیں گے پکاریں دھاڑیں گے)

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

ہمیشہ اسی میں رہیں گے جب تک آخرت کے آسمان اور زمین میں قائم رہیں گے8 مگر جن لوگوں کو تیرا مالک چاہے گا بیشک تیرا مالک جو چاہے وہ کر گزرتا ہے

ف 8 ۔ دائمی عذاب سے کنایہ ہے کہ کیونکہ جب کسی چیز کی ہمشیگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عربمادامت السموات والارض کا محاورہ استعمال کرتے ہیں ورنہ تعلیق نہیں ہے اور اگر آسمان و زمین سے آخرت کے آسمان و زمین مراد ہوں یا جنس سماء و ارض مراد ہو تو تعلیق بھی ہوسکتی ہے کیونکہ آخرت کے آسمان و زمین ابدی ہوں گے اور ان پر کبھی فنا نہیں آئے گی۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو لوگ نیک بخت ہوں گے وہ جنت میں رہیں گے ہمیشہ اسی میں جب تک (جنت کے) آسمان اور زمین قائم رہیں گے مگر جن کو تیرا مالک چاہے1 یہ جنت تیرے مالک کی ایسی بخشش ہے جس کی کوئی انتہا نہیں (کبھی آخر نہ ہوگی)

ف 1 ۔ دونوں آیتوں میں استثنا کا تعلق گہگار اہل توحید سے ہے۔ اوپر کی آیت میں مطلب یہ ہوگا کہ موحد مومن گنہگار جب اپنی سزا بھگت لیں گے تو انہیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا جیسا کہ بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔ جمہور صحابہ ؓ وتابعین (رح) سے اس کی یہی تفسیر منقول ہے۔ گو بعض نے اس سے دوزخ کے بالآخر فنا ہوجانے پر استدلال کیا ہے اور اس سلسلہ میں ایک حدیث ضعیف اور کچھ غریب اقوال بھی نقل کئے ہیں مگر یہ مطلب قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے جن میں جہنمیوں کے متعلق ” خالدین “ اور ” ابدا “ کے الفاظ مذکور ہیں۔ دوسری آیت میں اہل جنت کے متعلق بھی ” الاماشاء ربک “ کا تعلق اصحاب معاصی کے ساتھ ہے۔ یعنی جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے تاہم کچھ لوگ مشیٔت الٰہی کے تحت دوزخ سے نکال کر جنت میں لائے جائیں گے۔ گویا وہ ہمیشہ جنتیں نہ رہے مگر جنت میں داخل ہونے کے بعد چونکہ کوئی بھی اسے نہیں نکلے گا اس لئے آخر میں ” عطاء غیر مجذوذ “ فرمادیا اور دوزخ سے کچھ لوگ نکال کر جنت میں لائے جائیں گے اس لئے اس کے آخر میں ” ان رب فعال لما یرید “ فرمایا۔ (کذافی الروح) ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) اپنے فوائد میں لکھتے ہیں : اس کے یعنی آیت (مادامت السموات والارض الا ماشاء ربک) کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ رہیں گے آگے میں جتنی دیر رہ چکے ہیں آسمان و زمین دنیا میں مگر جتنا اور چاہے تیرا رب، وہ اسی کو معلوم ہے۔ دوسرے یہ کہ رہیں گے آگ میں جب تک رہے آسمان و زمین اس جہاں کا یعنی ہمیشہ مگر جو چاہے رب تو موقوف کردے لیکن چاہ چکا کہ موقوف ن ہو۔ اس کہنے میں فرق نکلا اللہ کے ہمیشہ رہنے میں اور بندے کے کہ بندہ گوہ ہمیشہ ہے ساتھ یہ بات لگی ہے کہ اللہ چاہے تو فنا کردے۔ (موضح 9 ۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) یہ (مشرک) جن بتوں کو پوجتے ہیں تجھ کو ان سے شک نہ پیدا ہو تو2 انہوں نے اپنی عقل سے کچھ کام ہی نہیں لیا جیسے ان کے بابپ دادا بتوں کو پوجتے رہے یہ بھی اسی طرح پوجتے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے عذاب کا حصہ ان کو پورا پورا پہنچا دیں گے کچھ کم نہ ہوگا

ف 2 ۔ یعنی ان کے باطل ہونے یا ان بتوں کے نفع و نقصان کا مالک نہ ہونے یا ان کی بد انجامی میں شک پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خطاب آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہر انسان سے ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب توریت شریف دی تھی پھر لوگ اس میں اختلاف کرنے لگے4 اور اگر تیرے مالک کی ایک بات نہ ہوچکی ہوتی ( کہ قیامت ہی میں پوری سزا ملے گی) تو اب تک کب کا ان کا فیصلہ ہوجاتا اور5 یہ لوگ قرآن میں شک رکھتے ہیں جو ان کا دل نہیں جمنے دیتی6

ف 3 ۔ یعنی ان کی بت پرستی کی بنیاد سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کچھ نہیں ہے۔ (ابن کثیر) ۔4 ۔ اہل سعادت و شقاوت کا حال بیان کرنے کے بعد آکر میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر آج یہ لوگ آپو پر نازل شدہ کتاب قرآن کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں تو آپ ﷺ بدل اور کبیدہ خاطر نہ ہوں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے توراۃ کے ساتھ بھی لوگ یہی معاملہ کرچکے ہیں۔ (شوکانی) ۔ 5 ۔ یا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میرے رحمت میرے غصے پر غالب ہے تو اب تک ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں “ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ دنیا میں سچ اور جھوٹ صاف نہ ہو۔ (از موضح) ۔ 6 ۔ یعنی سخت خلجان میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 11:111–112

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تیرا مالک ان سب لوگوں کو ان کے کاموں کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا وہ ان کے کاموں سے خبردار ہے

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) تجھے جیسا حکم ہوا ہے اس پر چلے جا اور تیرے ساتھ جن لوگوں نے (شرک اور کفر سے) توبہ کی7 ہے وہ بھی اسی پر چلتے رہیں اور حد سے مت بڑھو8 بیشک وہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

ف 7 ۔ یعنی اللہ کے حکم اور شریعت پر قائم رہیں۔ ” استقامت “ ایک نہایت ہی جامع لفظ ہے جو شریعت کے پورے نظام کی پابندی سے عبارت ہے۔ ایک صحابی ؓ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتلا دیئے جس کے بعد مجھے آپ ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے سے دریافت کی ضرورت نہ رہے۔ “ فرمایا : قل امنت باللہ ثم استقم کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختیا کرو۔ (فتح البیان) یہ آیات شامل ہے عقائد و اعمال اور اخلاق کو عقائد میں استقامت یہ ہے کہ تشبیہ و تعطیل اور اہل ذریغ کی تاویل سے اجتناب کیا جائے اور اعمال میں زیادت و نقصان، بدعات اور تقلید رجال و آراء سے احتراز لازم ہے۔ اخلاق میں افراط ق تفریط سے دور رہنا ضروری ہے اور یہ پابندی نہایت کٹھن ہے۔ اسی صعوبت کی طرف آنحضرت ﷺ نے اشارہ کرتے کرتے فرمایا ہے۔ ” تشیبتنی ھود “ کہ سورة ہود کی اس آیت نے تو مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ (کذافی الشوکانی) ۔ 8 ۔ یعنی شریعت کی اطاعت کے لئے اللہ اور اس کے رسول ( علیہ السلام) نے جو حدیں مقرر کردی ہیں اپنے آپو کو انہی کے اندر رکھو۔ ان سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کرو۔ سارے معاملاتِ زندگی میں ان حدوں سے تجاوز کرنا حرام ہے۔ حدیث میں ہے میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، رات کو قیام کرتا ہوں اور نہیں بھی کرتا، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہٰذا جو شخص میری سنت سے بےرغبت کا اظہار کرتا ہے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں ان کی طرف مت مجھ کو8 پھر اگر ایسا کرو گے یا تم کو دوزخ کی آگ چمٹ جائے گی اور اللہ تعالیٰ کی سوا تو تمہارا کوئی مددگار نہیں پھر جب تم ظالموں کے شریک ہوں گے تو تم کو اللہ کی طرف سے10 مدد نہ ملے گی

ف 9 ۔ یعنی جو لوگ فاسق و بدکار ہیں ان سے کوئی دوستی اور محبت نہ رکھو چاہے وہ کافر ہوں یا نام کے مسلمان۔ (کذافی الشوکانی) ۔ 10 ۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم اگر ظالم اور بدکار ہو تو اس کی بھی اطاعت نہیں کرنا چاہیے۔ پس دوسری آیات و احادیث میں جو مسلمان حاکم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی وقت تک ہے جب تک کہ وہ شریعت کے خلاف حکم نہ دے۔ اگر وہ شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ الایہ کہ ان کے ضرر سے بچنے کے لئے بظاہر اطاعت کا اظہار کرے اور دل میں اسے برا سمجھے۔ احادیث میں ہے کہ مسلمان امراء کی اس وقت تک اطاعت کرو جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں، اور ان سے کھلم کھلا کفر کا ظہور نہ ہو۔ اور وہ خدا کی نافرمانی کا حکم نہ دیں۔ (نیز دیکھئے سورة نساء آیت 95) ۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) دن کے دونوں سروں کناروں پر نماز کو درستی سے ادا کر11 اور رات کے ٹکڑوں میں12 کیونکہ نیکیاں برائیوں کو میٹ دیتی ہیں13 یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت مانتے ہیں

ف 11 ۔ دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر یا فجر اور مغرب کی نماز ہے۔ (کذافی ابن کثیر) ۔ 12 ۔ یا رات کے ابتدائی حصہ میں مراد ہے عشا یا مغرب و عشا دونوں کا وقت۔ غالباً یہ آیت اس زمانے میں نازل ہوئی جب نماز کے لئے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کئے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا جس میں پنج وقتی نماز فرض ہوئی۔ قرآن میں نماز کے اوقات کا ذکر نہیں ہے۔ ہاں سبق آیات سے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اوقات کی تعیین اور تفصیل صرف سنت میں ملتی ہے۔ یوں علما نے لکھا ہے کہ اس آیت سے نماز پنجگانہ ثابت ہوتی ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) ۔ 13 ۔ حدیث میں ہے اتبع السیٔۃ الحسنۃ تمھحا کہ برائی کے بعد نیکی کرو وہ برائی کے اثر کو زائل کردے گی۔ نماز بھی ایک ایسی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ایک شخص نے کسی اجنبی عورت سے بوس و کنار کیا پھر ازراہ ندامت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کرنے لگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح، جو نیکیاں کرے اس کی برائیاں معاف ہوں اور جو نیکیاں پکڑے اس سے خو برائی کی چھوٹے اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت آوے اور گمراہی مٹے۔ لیکن تینوں جگہ وزن غالب چاہیے جتنا میل اتنا صابون۔ (موضح) ۔ فوائد صفحہ ہذا۔
Ayahs 11:115–118

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) صبر کر کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکوں کا (نمازیوں کا) بدلہ برباد نہیں کرے گا

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تو ان قوموں میں جو تم سے پہلے گذر چکیں اور اللہ کے عذاب سے ہلاک ہوئیں) ایسے اچھے لوگ کیوں نہ پیدا ہوئے جو ملک میں فساد مچانے سے منع کرتے ہوئے مگر تھوڑے سے ان کو ہم نے (عذاب آتے وقت) بچا دیا اور ظالم گنہگار لوگوں نے تو وہی دنیا کے مزے اختیار کئے جن میں مست ہو رہے تھے اور وہ بدکار قصور وار تھے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تیرا مالک ایسا نہیں کہ ظلم سے بستیوں کو تباہ کر دے اور وہاں کے رہنے والے نیک ہوں

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تیرا مالک چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راہ پر لگا دیتا لیکن وہ ہمیشہ (قیامت تک) اختلاف کرتے رہیں گے1

ف 1 ۔ یعنی یہ مکتلف ادیان، مذاہب اور طریقوں پر چلتے رہینگے۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر تیرا مالک فضل کرے اور اسی اختلاف یا فضل و کرم کے لئے ان کو پیدا کیا2 اور تیرے مالک کا فرمانا پورا ہوا کہ میں دوزخ کو جنوں اور آدمیوں سب سے ضرور بھروں گا

ف 2 ۔ یا اسی آزمائش کے لئے انہیں پیدا کیا کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر نیکی یا برائی کی راہ اختیار کریں۔ جیسا کہ سورة مائدہ میں ہے۔ ولکن لیبلوکم فیما اتاکم۔ تاکہ وہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تمہیں دی ہے۔ (ابن کثیر) ۔